تحریک پاکستان کے ممتاز نظریاتی کارکن‘ کلمہ حق کہنے والے صاحب قلم صحافی اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی کی قیادت میں نظریہ پاکستان کی تبلیغ‘ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے دفاع کے لئے نظریاتی سفر میں ذہنی تربیت کا ایک اور مرحلہ تکمیل پذیر ہوا۔ تین دن تک اس کانفرنس میں پاکستان کے چاروں‘ آزاد کشمیر اور بیرون ملک سے 3217 نمائندہ وفود نے شرکت کی۔ آخری نشست پاکستانیت سے لبریز انہی ذہنوں کے افکار و خیالات سے روشن تھی۔ اہم بات یہ کہ زیادہ نمائندگی خواتین کی تھی۔ ان کے خیالات اور جذبات پکار پکار کر کہہ رہے تھے....
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
ایک بات پر سب متفق تھے کہ اساتذہ کو اپنے طالب علموں کے لئے ”رول ماڈل“ بننا چاہئے‘ اپنے وژن کو وسیع کرنا چاہئے‘ عالمی سطح پر آنے والی ان تبدیلیوں پر نظر رکھنی چاہئے جن کا تعلق انسان اور اس دنیا سے ہے اور اس کا تجزیہ کرنا ہو گا کہ کھرا‘ کھوٹا‘ سچ‘ جھوٹ‘ نفع نقصان‘ سب سامنے آجائے۔
گلوبلائزیشن کے حوالے سے ایک خاتون استاد نے کہا‘ ”گلوبلائزیشن کا نام دے کر دراصل دیہات کے پس منظر سے استفادہ کیا گیا ہے۔ دیہات اتنی قریبی آبادی والی جگہ کہ کسی گھر میں ساگ پکے تو اس کی خوشبو سے سب کو پتہ چل جاتا ہے۔ ہم تو گلوبلائزیشن کے قائل ہیں کہ ایک دوسرے کے قریب رہو لیکن ”ایک“ ہو کے رہو۔ اسلام کے مطابق ”ایک اللہ‘ ایک رسول‘ ایک قرآن“۔ ہمیں مغربی سامراجی انداز فکر نہیں چاہئے۔
تجویز آئی کہ اسلامی جمہوری فلاحی مملکت کا نظام چلانے کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔ اس کے ڈھانچے کا خاکہ تیار کرنا چاہئے۔ ایک تجویز آئی کہ نئے صوبے بنائے جائیں تو لسانی بنیاد پر نہیں‘ انتظامی ضرورت کے تحت بنائیں جائیں‘ ہر علاقائی زبان اور ثقافت کی ترویج ترقی ہونی چاہئے لیکن اسے تعصب نہیں بنایا جائے“۔
نشان دہی کی گئی کہ نرسری سے لے کر سکول کلاسز‘ اس کے بعد کالج اور یونیورسٹی کلاسز تک پڑھانے والوں کے انداز منتقلی علم میں مطابقت اور ارتقاءنہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کالجوں اور سکولوں کے اساتذہ کی مشترکہ تربیتی ورکشاپ منعقد کرے تاکہ ”کوارڈی نیشن“ ہو اور انداز ابلاغ و حصول میں مثبت‘ موثر ربط قائم ہو جائے۔
شکوہ کیا گیا کہ صرف کشمیر کی بات کیوں کرتے ہیں‘ جموں و کشمیر کی بات کریں جو ہمارا مطالبہ ہے۔
تجویز دی گئی کہ تحریک پاکستان سے متعلق مختصر مگر موثر اور دلچسپ دستاویزی فلمیں بنائیں جائیں کہ تصاویر فوری اثر پذیر ہوتی ہے۔
سب شرکائ‘ نظریہ پاکستان کی تبلیغ و ترویج کے قائد جناب مجید نظامی کو ان کی عظیم قومی خدمات پر خراج تحسین بھی پیش کر رہے تھے اور ان کی درازی عمر کے لئے دعاگو بھی تھے۔ ماحول اس درجہ جذباتی اور نظریاتی تھا کہ معروف شاعر اور سابق رکن مغربی پاکستان تابش الوری کو وہیں الفاظ کی آمد ہوئی اور یہ قطعہ بن گیا۔ ....
ملے گی صدا‘ نظریاتی سلامی
تواریخ میں‘ ان کا رُتبہ دوامی
صحافت کی دنیا کا اسم گرامی
مجید نظامی‘ مجید نظامی
اس کی وجہ وہ ایمانی حدت اور حرارت تھی جو ”اس ایوان میں چند منٹ پہلے‘ گورنر پنجاب لطیف کھوسہ صاحب کی موجودگی میں مجید نظامی صاحب کے دل سے بزبان ادا ہوئے سیدھے سیدھے‘ سادہ سادہ لفظوں سے پیدا ہوئی تھی۔ جب وہ خطاب کر رہے تھے تو جہاں ایوان تالیوں اور نعروں سے گونج رہا تھا وہاں شدت جذبات سے گورنر لطیف کھوسہ کا چہرہ بھی تمتا رہا تھا کہ آخر بیٹے تو وہ بھی پاکستان کے ہیں۔
مجید نظامی نے قیام پاکستان کی تحریک کے دوران اپنے سفر کشمیر کا ذکر کیا جب وہ طالب علم تھے اور پہل گام تک گئے۔ انہوں نے کشمیر‘ پاکستان کی شہہ رگ اور پاکستان کے لئے بہتے دریاوں کا پانی بند کرنے کی بھارتی پاکستان دشمن‘ شیطانی منصوبے اور ناپاک سازشوں کا ذکر کیا اور براہ راست گورنر صاحب کو مخاطب کر کے بات دہرائی کہ جناب‘ آپ کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے جہاں پہلے ہی پانی کم تھا۔ اس وقت لاہور میں بھی پانی کی سطح کم ہو گئی ہے۔ ہندوستان‘ پاکستان کو ریگستان بنانا چاہتا ہے۔ آپ حکومت سے کہیں‘ میں تو اکثر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہم نے ایٹمی گھوڑے تیار کر رکھے ہیں۔ بھارت کو بتایا جائے‘ اوئے اُلو کے پٹھے تیار ہو جاو‘ اگر تم نے یہ حرکتیں بند نہیں کیں تو پھر نتیجہ بھگتنے کے لئے تیار رہو۔ جناب‘ اگر معاملہ لڑنے مرنے کا ہو جاتا ہے تو ہمیں ایٹم بم استعمال کرنے کی دھمکی دینی چاہئے‘ ضرورت پڑے تو استعمال بھی کر لینا چاہئے۔ گورنر صاحب‘ آپ حکومت کے اعلیٰ رکن ہیں‘ اوپر والوں کو سمجھائیے کہ بھارت کو ”چتاونی“ دیں۔ اگر باز نہ آئے تو مزائل مار کر ان کے ڈیموں کو تباہ کر دیں“۔
پیپلز پارٹی بھی دوسری جماعتوں کی طرح محب وطن ہے۔ براہ کرم پاکستان کی شہ رگ کو بچائیے۔ ان کے گدھے اٹھنے سے پہلے محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری کی طرح اپنے گھوڑے پہلے ان پر چڑھا دیں۔ کشمیر کی آزادی کے بغیر بھارت سے تجارت کا مطلب ”سرنڈر“ ہے۔ یہ ”سرنڈر“ مومن کی شان نہیں‘ ہمیں یہ نہیں کرنا چاہئے۔
ہم نے ابھی اپنے مشرقی پاکستان والے بھائیوں کو بھی رضامند کرنا ہے کہ اب کوئی فوجی حکومت نہیں۔ جمہوریت جیسی بھی ہو‘ ہم نہیں چاہیں گے کہ اب فوجی آئیں۔ میں نے یہی بات جنرل کیانی کی طرف سے ایڈیٹروں کو دی گئی دعوت میں بھی کہی تھی‘ کیانی صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ کہ موقعہ ملنے کے باوجود آپ نے ”میرے عزیز ہم وطنو!“ نہیں کہا‘ اللہ کرے وہ کبھی ایسا نہ کہیں۔
رفیق عالم
والسلام
زارا