واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


جمہوریت۔ ایک مذاق!...سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-05-11, 06:45 PM   #1
جمہوریت۔ ایک مذاق!...سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان
آبی ٹوکول آبی ٹوکول آن لائن ہے 09-05-11, 06:45 PM

اسلام علیکم !
آج کہ روزنامہ جنگ میں محسن پاکستان محترم جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کا ایک کالم پڑھا جو کہ پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں جمہوریت کی ناکامی کہ اسباب پر مدلل روشنی ڈالتا ہے ڈاکٹر صاحب نے مختصر مگر جامع انداز میں ان اسباب و علل اور معاشرتی رویوں کی ناشاندہی کی ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں جمہوری نظام کی ناکامی کا بنیادی سبب ہیں کالم کی افادیت کی پیش نظر آپ سب کی خدمت میں بھی حاضر کیئے دیتا ہوں ۔ ۔ ۔والسلام

جمہوریت۔ ایک مذاق!...سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان

مغربی ممالک کی تقلیدمیں ہم نے جمہوری نظام اختیار کرلیا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں، ہمارے عوام میں تعلیم کا فقدان یا کمی اور ہماری قوم اور ملک میں خاندانی، صوبائی روایات نے اس نظام کو بالکل ناکام بنا دیا ہے۔ شاید علامہ اقبال علیہ رحمہ نے اپنی دُوراندیشی سے اس چیز کو محسوس کرلیا تھا اور کہا تھا:
گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کارے شَو
کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی آید
یعنی ”اے عقلمند، قدیمی غلام جمہوری نظام سے دور رہ کیونکہ دو سو گدھوں کی عقل انسانی عقل کے برابر نہیں ہوتی“۔ ایک اور جگہ ووٹر کی نااہلی بیان کی ہے۔ ”بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے“ تولنے سے مطلب ان کی عقل و فہم و تعلیم کو مدّ ِنظررکھنا اور اہمیت دینے سے ہے۔
بدقسمتی سے وہ نظام مغربی ممالک میں کثرت تعلیم اور سمجھ بوجھ کی وجہ سے کامیاب ہوا وہ تمام غیر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں بالکل ناکام رہا۔ ہندوستان اور پاکستان میں تو یہ ایک مذاق بن گیا ہے۔ ہندوستان کے مشہور دانشور خشونت سنگھ نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا تھا کہ جمہوریت کا اس سے بڑا مذاق اور کیا ہوگا کہ بین الاقوامی سطح پر مشہور مسلمہ عالمانہ شخصیت من موہن سنگھ الیکشن میں ناکام ہوگئی اور بدنام زمانہ ڈاکو عورت پھولن دیوی الیکشن میں کامیاب ہوگئی اور ایک اور جگہ ایک خواجہ سرا الیکشن جیت گیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب من موہن سنگھ وزیر اعظم نہیں بنے تھے۔ پھولن دیوی کو پولیس، خفیہ ایجنسیاں قانون کے کٹہرے میں نہ لاسکیں مگر جب وہ ڈیل کرکے آزاد ہوئی، لوک سبھا کی ممبر منتخب ہوگئی تو انہی لوگوں نے ایک ’نرم ٹارگیٹ‘ سمجھ کر دہلی میں گھر کے باہر قتل کردیا۔
مغربی ممالک میں یا دوسرے چند ممالک میں جہاں جمہوری نظام کامیاب رہا ہے وہاں شرح خواندگی یعنی پڑھے لکھے عوام کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان ممالک میں عموماً تین چار سیاسی پارٹیوں سے زیادہ پارٹیاں نہیں ہوتی ہیں اور الیکشن کے بعد نفاق ختم ہوجاتا ہے۔ جہاں ملکی مفاد ہو وہ سب مل جاتے ہیں خواہ یہ قانونی ہو یا غیر قانونی سب ایک ہیں۔ اندرونی معاملات پر اختلاف ہوں تو یہ کشتی پارلیمنٹ میں لڑی جاتی ہے۔ آپکے سامنے بش کے الیکشن کی مثال موجود ہے۔ سن دو ہزار میں جو الیکشن ہوئے تھے اس میں یہ ہار گیا تھا اور آخری ریاست میں دوبارہ گنتی اس کی یقیناً شکست کا باعث بن جاتی لیکن سپریم کورٹ نے جس کے کئی جج اس کے باپ نے دس سال پیشتر متعین کئے تھے اس کے حق میں فیصلہ دے کر دوبارہ گنتی رکوادی اور اس طرح اَل گور جیتا ہوا الیکشن ہارگیا۔ یہ تبدیلی توڑ پھوڑ یا ہڑتالوں سے نہیں آئی بلکہ قانون کے ذریعہ آئی۔ اگرچہ لوگ اس سے ناراض تھے لیکن کسی نے قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔
ہمارے ملک میں جمہوریت نام کا پرندہ عنقا ہے ۔ یہ پرندہ بے چارہ غلام محمد کے ہاتھوں 1953 میں قتل ہوا اور دفن ہوگیا۔ اس وقت سے صرف نام نہاد جمہوریت رہی ہے جو بھی حکمران بنا اس نے یک شخصی حکومت قائم کی، درباریوں کا جمگھٹا لگایا اور من مانی کی۔ مخالف لوگوں کو جیلوں میں ڈالا، قتل کرایا اور تمام سرکاری ادارے اسی کام میں لگا دیے۔ بدقسمتی سے متاثرین کو عدلیہ سے بھی کوئی ریلیف نہیں ملا۔ کہانی غلام محمد سے شروع ہوئی اور اسکندر مرزا، ایوب خان، یحییٰ خان، بھٹو، ضیاء الحق، بینظیر، نواز شریف، مشرف اور اب زرداری اور گیلانی تک جاری ہے۔ صرف دکھاوے کے لئے تھوڑا سا میک اپ بدل جاتا ہے اور حکمران عوام کی ضروریات اور خواہشات کی پروا کئے بغیر من مانی کررہے ہیں۔ پارلیمنٹ ربر اسٹیمپ ہے اور مخالف پارٹیاں ذاتی مفاد اور خودغرضی کاشکار ہیں اور ”دوستانہ مخالفت“ کا ڈھونگ رچائے ہوئے ہیں۔ عوام کی خواہشات کو تو چھوڑیے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا کھلے عام مذاق اور تمسخر اُڑایا جارہا ہے ۔ ان پر عمل نہیں ہورہا اور عدلیہ بھی خاموش تماشائی ہے اور سخت اقدام نہیں اُٹھاتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ عوام مصیبتوں اور ظلم کا شکار ہیں۔

ہمارے ملک میں جمہوری نظام کے قیام اور موجودگی کے بارے میں بھنگڑے تو ڈالے جاتے ہیں لیکن کسی بھی پارٹی میں جمہوریت کا وجود نہیں۔ تمام ماتحت لوگ پارٹی کے سربراہ کی مرضی کے خلاف ایک لفظ نہیں بولتے اور نہ ہی بول سکتے ہیں اور اپنے سربراہوں کے ہر جائز، ناجائز کام کی حمایت میں میدان میں کود جاتے ہیں اور ترجمان بن جاتے ہیں۔ آپ ہر پارٹی میں دیکھ لیجئے، جس نے اختلاف کی جرأت کی وہ راندہ درگاہ اور گمنام ہوگیا۔ یہی قانون پی پی، نواز لیگ، ایم کیو ایم، اے این پی، جے یو آئی سب ہی پارٹیوں میں نافذ ہے۔
آپ جمہوری نظام اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کی مثالیں دیکھ لیجئے کہ حکومت ان کی کیا قدر کرتی ہے۔ اسی نام نہاد جمہوری حکومت کی جمہوری پارلیمنٹ نے متفقہ قرار داد منظور کی کہ ڈرون حملے بند کئے جائیں کہ یہ خود مختاری کے خلاف ہیں، بے گناہ افراد مارے جارہے ہیں اور ہماری فضائی سرحدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔اس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے ایک اٹھارہ کروڑ کی آبادی والا ملک جو ایٹمی اور میزائل قوت بھی ہے وہ ایک بنانا ری پبلک بن گیا ہے۔ لاکھوں افراد پر مشتمل فوج جو ہر سال اربوں روپیہ اپنے اوپر خرچ کراتی ہے اور اپنے حلف کے تقدس کا لحاظ نہیں رکھتی اور ہمیں تو صرف انہیں اپنے ہی افراد کو قتل کرتے دکھایا جاتا ہے اور اس کے صلہ میں تمغے اور ترقیاں ملتی رہتی ہیں اور باہر کے دورے لگتے رہتے ہیں۔ عام انسان دیکھے تو کس جانب دیکھے ۔ حکومت ہر طرح کے ظلم اور بدانتظامی کی مرتکب ہے اور عدلیہ اور افواج پاکستان خاموش تماشائی ہیں۔ لوگ انقلاب کی بات کررہے ہیں۔ ہمارے مختلف صوبوں، مختلف کردار کے عوام کی وجہ سے یہ مشکل نظر آتا ہے لیکن اگر کسی مسیحا نے یہ کام کردیا تو سب ”چرخ کہن“ نیست و نابود ہوجائے گا اور ایران والا واقعہ دہرایا جائے گا۔
ہمارے بے چارے سیدھے سادھے عوام کی اکثریت کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے وہ تماشہ بن کر رہ گئے ہیں۔ ہمارے ملک کی حکمران پارٹی اور اپوزیشن پارٹیوں نے عوام کو بیوقوف بنانے کے نِت نئے طریقہ جات ایجاد کر لئے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیاں دھواں دھار تقریریں کرتی ہیں۔ اپنے ڈیمانڈ (شرائط) زور شور سے پیش کرتی ہیں اور پھرچپ چاپ حکومت سے مل کر وہی حلوہ پوری۔ حکومت جب کوئی کام پارلیمنٹ سے کرانا چاہتی ہے تو ملی بھگت کے تحت اپوزیشن پارٹیاں نام نہاد احتجاجی واک آؤٹ کرکے حکومت کو کھلی آزادی دے دیتی ہیں۔ جس طرح روس اور چین نے سیکیورٹی کونسل میں ووٹ میں شرکت نہ کرکے امریکہ اور اس کے حواریوں کو جواز مہیا کیا کہ وہ لیبیا پر جارحانہ حملے کریں، تباہی پھیلائیں اور قتل عام کریں۔ جمہوریت کو بچانے کا ڈھونگ رچانے والی ن۔لیگ جمہوریت کے قتل کا وسیلہ بن کر کرپٹ اور نااہل حکومت کو موقع دیتی ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے۔ یہی وتیرہ ایم کیو ایم نے اختیارکر رکھا ہے۔ اگرچہ پی پی پی حکمراں جماعت ہونے کی وجہ سے خرابیوں کی جڑ ہے مگر ن۔لیگ، ایم کیو ایم اور اے این پی بھی فرشتے نہیں ہیں۔ ان پر بھی ان خرابیوں کی بڑی ذمّہ داری عائد ہوتی ہے۔
مڈٹرم الیکشن کی بات ہوتی ہے تو سب ہی حلوہ پوری کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ مڈٹرم الیکشن سے نہ ہی ملک کی بنیادیں ہلتی ہیں اور نہ ہی کمزور ہوتا ہے۔ ابھی ہمارے سامنے آسٹریلیا، جاپان، کینیڈا کی مثالیں ہیں۔ یورپ کے کئی ممالک میں باقاعدگی سے مڈٹرم الیکشن ہوتے رہتے ہیں اور اس عمل سے جمہوریت بے حد مضبوط ہے نا کہ کمزور۔
ہمارے ملک کے نااہل اصحاب اقتدار یہ فضول گوئی کرتے ہیں کہ ٹیکنوکریٹ عوام کے حالات نہیں جانتے اور ان کے مسائل کو حل نہیں کرسکتے۔ انہیں یہ جاننا چاہئے بلکہ سمجھناچاہیئے (اگر سمجھنے کی ان میں صلاحیت ہوتو) کہ ہم لوگوں کو تمام تربیت مشکل سے مشکل پرابلم کو ہر زاویہ سے دیکھنے، ا س کو جلد آسان طریقہ سے اور کفایت شعاری سے حل کرنے کی دی جاتی ہے۔ دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک میں اسکی ترقی و خوشحالی کی بنیاد ٹیکنوکریٹ ہی رکھتے ہیں۔ سیاست دان ان کی محنت و مشقت کا پھل کھا کر عیاشی کرتے ہیں۔ دنیا بھر کے دورے کرتے ہیں، مہنگی گاڑیوں اور بنگلوں میں رہتے ہیں۔ میں نے ملک کو اپنے رفقائے کار کی مدد سے ایٹم بم اور ان کو دشمن کے علاقہ میں ہدف تک پہنچانے کیلئے میزائل مہیا کئے، کیا میرے پرانے رفقائے کار عیاشی کررہے ہیں یا نااہل، راشی حکمران اس ملک کولوٹ رہے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تمام ترقی ، خوشحالی معاشی، ٹیکنوکریٹس کی مرہون منت ہے مگر جہاں حکمرانوں میں تعلیم ، عقل و فہم اور دور بینی کا فقدان ہو وہاں یہ اہم بات کہاں سمجھ میں آسکتی ہے۔ آپ ذرا دوسرے ترقی یافتہ ممالک (اب اس میں ہندوستان بھی شامل ہے) کے حکمرانوں اور عوامی نمائندوں کی تعلیم و قابلیت کا ہمارے جعلی ڈگری والے، رشوت خور، نااہل اصحاب اقتدار سے مقابلہ کیجئے تو ملک کی موجودہ بدحالی، بدانتظامی اور دوسری تمام لعنتوں کی موجودگی کی وجہ سمجھ میں آجاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم جیسے پسماندہ اسلامی ممالک میں یہ جمہوریت جو ہم اپنائے ہوئے ہیں ایک ڈھکوسلا ہے۔ ہمارے لئے براہ راست صدر کا انتخاب پہتر ہوگا۔ ہمارے تہذیب وتمدن اور خصلت اسکی عادی ہے۔ ایک ایسا لیڈر جو ملک کے عوام کی اکثریت سے آئے (نہ کہ پارلیمنٹ کے چور دروازہ سے) وہ ملک کے قابل ترین افراد کو اہم ذمہ داریاں سونپے اور عوامی نمائندے اسکی سربراہی اور مشورہ سے قانون سازی کریں تو ہمارے ملک کی حالت بہتر ہوسکتی ہے۔ اسطرح یہ صدر کسی پارٹی سے بلیک میل نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی حکومت گرا سکتا ہے۔ موجودہ نظام ملک کو بد سے بدتر اور کمزور سے کمزور کرتا چلا جائیگا اور اسکا شیرازہ بکھیر دیگا۔ چور اور ڈاکو باربار آتے رہینگے اور اس کمزور لاغر اور مریل جانور کا گوشت کھاتے رہینگے اور مار کر دم لیں گے۔
ربط
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

 
آبی ٹوکول's Avatar
آبی ٹوکول
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 232
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (09-05-11), فیصل ناصر (09-05-11), مہتاب (14-05-11), محمدعدنان (10-05-11), مرزا عامر (09-05-11), حیدر (10-05-11), شمشاد احمد (10-05-11)
پرانا 10-05-11, 12:13 AM   #2
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آخری جملے بتاتے ہیں کہ داکٹر صاحب خود صدر بننے کی سوچ رہے ہیں............. یہ طریقہ کار اپنایا جائے تو ان کے علاوہ کون بن سکتا ہے؟؟
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (10-05-11), حیدر (10-05-11), شمشاد احمد (10-05-11)
پرانا 10-05-11, 01:59 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 762
کمائي: 15,424
شکریہ: 2,138
583 مراسلہ میں 1,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
آخری جملے بتاتے ہیں کہ داکٹر صاحب خود صدر بننے کی سوچ رہے ہیں............. یہ طریقہ کار اپنایا جائے تو ان کے علاوہ کون بن سکتا ہے؟؟
میرے خیال میں انہوں نے براہ راست صدر کے انتخاب کو بہتر قرار دیا ہے۔ اور میں خود بھی براہ راست صدر کے انتخاب کے حق میں‌ہوں۔
اور اگر فرض کیا کہ وہ خود صدر بننے کے خواہاں ہیں۔ تو بھی وہ فخر پاکستان ہیں اگر صدر بن کے آئیں گے تو ان سے کچھ نہ کچھ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ پاکستان کے لئے کچھ کر جائیں۔
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com
dxbgraphics آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے dxbgraphics کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (10-05-11), حیدر (10-05-11), عبداللہ آدم (11-05-11)
پرانا 10-05-11, 11:02 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جو وجوہات انہوں نے بیان کی ہیں۔ اُس کی موجودگی میں صدراتی نظام سے اُمیدیں لگانا۔۔۔ایسا کام ڈاکٹر قدیر جیسے زندان میں قید افراد ہی کر سکتے ہیں۔
جو پھولن دیوی (بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے)ممبر پارلیمنٹ بن سکتی ہے وہ صدر بھی بن سکتی ہے۔
جو زرداری ممبران پارلیمنٹ کے ذریعے منتخب ہو کر آ سکتا ہے، وہی انہی کے ذریعے عوام کا ووٹ پھر بھی حاصل کر سکتا ہے۔
الغرض جو زرداری جمہوریت میں صدر بن سکتا ہے ، وہ "ان وجوہات کے موجود ہوتے ہوئے" خلیفہ بھی بن سکتا ہے۔

ضرورت تبدیلی کی "عوام" میں ہے۔ عوام کو تبدیل کر دو ۔۔۔یہ لوگ بدل جائیں گے۔ خود ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یہی جمہوریت مغرب میں تعلیم کی وجہ سے کامیاب ہو گئی ہمارے معاشرے میں ناسُور بن گئی۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (10-05-11), آبی ٹوکول (11-05-11), عبداللہ آدم (11-05-11)
پرانا 14-05-11, 08:54 AM   #5
Senior Member
مقبول
 
مسلم بھائی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 103
کمائي: 3,273
شکریہ: 1,019
96 مراسلہ میں 322 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ لوگ ابھی تک جمہوریت کی جہالت کو نہیں سمجھے کیا
یہ بیہودہ نظام نے اس نے ہم پاکستانیوں کو کوئی اچھا لیڈر نہیں دیا ہے تو آگے کیا خاک دے گا
نظام وہی اچھا ہے جو اللہ ہم کو دیا ہے باقی نظام باطل ہیں جو اسلام کے نظام کے مقابل ہیں اس لیئے ان کا بائیکاٹ ہم پر لازم ہے مگر افسوس کہ ہم نے کفار کے نظام کو اپنا کر اللہ کے نظام کو چھوڑا ہے جو بہت دکھ والی بات ہے اس کا نقصان ابھی ہم محسوس نہیں کرسکتے وہ تب ہی محسوس ہوگا جب اللہ کی عدالت میں کھڑے ہوں گے
__________________
اسی(اللہ) نے پہلی کتابوں میں تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی مسلم ہی رکھا ہے۔(الحج آیت 7تو بھائیوں لوگوں کی پسند کے ناموں کو چھوڑو اللہ کی پسند کو اپناؤ اور تفرقہ بازی ختم کرو۔
مسلم بھائی آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مسلم بھائی کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (14-05-11), آبی ٹوکول (14-05-11)
جواب

Tags
search, کورٹ, پاکستان, وزیر, چین, چور, نظر, موجودہ, مقابلہ, مسائل, آبادی, ایٹم بم, ایران, امریکہ, اسلام, اسلامی, تعلیم, جیت, جلد, خلاف, خان, زرداری, سیاست, عورت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اللہ پاک کی خوب و خُشیت۔ kutkutariyaan اپکے کالم 7 29-12-10 11:56 AM
نیلم کو بلا مقابلہ جیتنے پر مبارک ہو ایس اے نقوی آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 15 30-12-09 10:56 PM
جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیا خرم شہزاد خرم میر تقی میر 1 08-09-09 07:07 PM
ٌلوک گیت۔۔۔۔۔! شیراز احمد گپ شپ 2 24-02-09 08:05 AM
مودریشن کی صلاحیت۔ ندیم رفیع Computer Certifications 3 28-12-07 06:21 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:12 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger