واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


جہاد اور جہادی لٹریچر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-10-11, 06:59 PM   #1
جہاد اور جہادی لٹریچر
شمشاد احمد شمشاد احمد آف لائن ہے 18-10-11, 06:59 PM

جہاد اور جہادی لٹریچر
مظفراعجاز

روزنامہ ایکسپریس میں،پرسش احوال،کے کالم نگارحمید اخترصاحب نے حال ہی میں ”جہادی لٹریچر“ کو موضوع بناکر نہ صرف جہاد بلکہ نظریہ پاکستان‘ دستوری اصلاحات‘ دینی واصلاحی تحریکات‘ دینی لٹریچر اور دین کاکام کرنے والی جماعتوں اور ان کے رہنماﺅں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے اپنا یہ کالم تین اقساط میں مکمل کیاہے۔ پہلی قسط کے شروع میں انہوں نے جہادکو موضوع بناتے ہوئے علمائے کرام سے ”صحیح جواب“ مانگا ہے کہ کیا اسلام میں جہاد کو اولین ترجیح دی گئی ہے یا کچھ دوسری ہدایات اور مقاصد بھی واضح طورپربیان کیے گئے ہیں ؟“ لیکن وہ دوسرے سانس میں ”مگر“ کہہ کر اپنا،نظریہ ضرورت پیش کرتے ہیں کہ ہماری مذہبی جماعتوں اور کچھ دوسرے سیاسی حلقوں نے اسلام کی بنیادی تعلیمات کو پس پشت ڈالتے ہوئے جہادہی کو اسلام کی شناخت کا واحد ذریعہ بنانے کی جوکوششیں شروع کی ہیں‘ وہ بظاہر درست نہیں ہیں....“

حمیداخترصاحب”صحیح جواب، سننے کے خواہشمند ہیں۔ اس سے ظاہرہوتاہے کہ جہاد گویاکوئی متنازعہ موضوع ہے۔ پھر اس ،صحیح جواب کے پیچھے جو خواہش جھلکتی محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ،اب اسلام میں جہاد بالسیف کی ضرورت نہیں رہی یا پھر یہ کہ یہ کوئی ثانوی چیز ہے اور اس کی کوئی چنداں ضرورت نہیں ہے۔“ ڈاکٹر محمداقبال ضرب کلیم میں جہاد کے عنوان سے اس شکست خوردہ ذہنیت کے بارے میں فرماتے ہیں:۔ فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہی دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر تیغ و تفنگ دستِ مسلماں میں ہے کہاں ہو بھی تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر حمید اختر صاحب کا کہناہے کہ انہیں جہادی لٹریچرپرمشتمل ایک فہرست ملی ہے جو دگنے سائزکے آٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔

ان کے بقول یہ ”فہرست پڑھ کر ہماری آنکھیں کھل گئی ہیں“۔ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ یہ ان کی آنکھیں کھولنے کا پہلا واقعہ ہے یا اس سے پیشتربھی کچھ واقعات‘ ملکی یا دنیاوی حالات مثلاً امریکی نیٹوماردھاڑ اور ڈرون حملوں سے بھی ان کی آنکھیں کھلی ہیں یا نہیں۔ ابھی حال ہی میں جرمنی کی چانسلر انجیلامرکل (Angela Merkel) نے یورپی یونین اورامریکا کا موازنہ کرتے ہوئے پوچھا کہ ”ہم ایک وسیع تراتحاد اور اصلاح احوال کے لیے اپنے بہت سے اختیارات سے دست بردار ہوئے ہیں۔ آخر امریکا ایساکیوں نہیں کرتا؟“ یہ صرف ایک بیان نہیں بلکہ ایک ایسا تقاضہ ہے جو آمریت نوازاوربحران ساز امریکا کی تاریخ کا چہرہ بے نقاب کرنا چاہتاہے۔

مرکل کے اس بیان پر حمید اختر صاحب کی آنکھیں کھل جانی چاہیے تھیں لیکن انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ امریکا عالمی پیمانے پر جس جنگی جنون میں مبتلا ہے اب اس کا پھل سمیٹ رہاہے۔ 5 نومبر کو فورٹ ہڈملٹری بیس میں ایک فلسطینی امریکی میجر نے فائرنگ کرکے اپنے تیرہ ساتھی ہلاک کردیے لیکن لگتاہے کہ اس پرحمید اختر صاحب نہیں چونکے۔ ٹی وی، مخرب اخلاق فلموں ، فحش وڈیوز اور ثقافت کے نام پر رنگین اخباری ایڈیشنوں نے نوجوانوں کو تعلیم سے بے ذوق کرکے انہیں جس آوارگی کے راستے پرڈالاہے، حمیداختر صاحب ان سے آنکھیں موندے ہوئے ہیں۔ وہ ہندوﺅں اورصہیونیوں سے صرف نظرکرکے امریکی روسی ویٹو کے شکار کشمیر اورفلسطین کا ذکر مناسب نہیں سمجھتے۔

حمیداختر صاحب کی ساری تان جہادی لٹریچر کی آڑمیں ان اخباروں، رسالوں، ہفت روزوں اور دینی رہنماﺅں پرآکرٹوٹتی ہے جو اسلام کا پرامن بقائے باہمی کا آفاقی پیغام پھیلانے میں مصروف ہیں۔ بریں عقل ودانش ببایدگریست! حمیداخترصاحب! جہاد ایک نظریے اور عمل کانام ہے۔ اس میں سیف وقلم بھی ہے اور خطابت بھی‘ اس میں اقامت ہے اور ہجرت بھی‘ اس میں خود احتسابی ہے اور ایثاروخدمت خلق بھی۔ جہاد محض قتال تو نہیں۔ جہاد کے بغیر اسلامی زندگی کا تصور بے معنی ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال جہادکو جہاد زندگانی کہتے ہیں۔ معلوم ہوتاہے کہ جہاد اور ”جہادی لٹریچر“ کے ذکرمیں حمیداخترصاحب نے سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کتاب ”الجہاد فی الاسلام “ نہیں پڑھی جو اس موضوع پر اردو میں اپنی نوعیت کی ایک مفصل کتاب ہے۔

اگر وہ یہ کتاب پڑھ لیتے تو جہاد کے بارے میں وہ ساری غلط فہمیاں جو ان کے دماغ میں ہیں خودبخود دورہوجاتیں۔ حمیداخترصاحب سیکولر ذہن کے مالک ہیں اورجوکچھ بھی ان کی سوچ ہے وہ اس میں آزاد ہیں۔ میں انہیں بتانا چاہوں گا کہ علم سیاسیات کی روسے سیکولرازم سوشلزم کی طرح کا ایک غیرجمہوری اور آمرانہ نظریہ ہے جو دعویٰ توغیرجانبداری اور مذہب سے لاتعلقی کاکرتاہے مگر ہرقسم کی مذہبی نشانیوں مذہبی طورطریقوں اور اس کے بنیادی نظریوں کو مٹادینا چاہتاہے۔ حمید اختر صاحب جہادی لٹریچر کا ذکر الاپ کر قائد اعظم سے لے کر حسرت موہانی تک اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے لے کر مرحومہ بے نظیربھٹو تک اور ترجمان القرآن سے لے کرمولانا مودودیؒ تک اپنے ڈھب کا ایک تانا بانا بنتے ہیں اور پھر اس میں سے ہر قسم کی قومی اور دستوری تحریکات کو طاق نسیاں پر رکھ کرسیکولرازم کی شکست وریخت کا رونا روتے ہیں اور نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ ”پاکستان کو ایک سیکولر‘ فلاحی اور جمہوری ریاست بنانے کا خواب ادھورا رہ گیا۔“

دوسرے لفظوں میں پاکستان فوج کے بل بوتے پر ترکی‘ تیونس اورفرانس کی طرح کا سیکولر ملک نہیں بن سکا۔ (اس ضمن میں بھارت کا ذکر فضول ہے کیونکہ اس کا سیکولر ازم ریاکاری سے زیادہ کچھ نہیں۔)حمید اختر صاحب سیکولرازم کی ناکامیوں کارونا روتے ہوئے کہتے ہیں ”اس جہادی رویے کی ابتدا تو 11 اگست 1947ءمیں اس وقت رکھ دی گئی تھی جب بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح کی دستور ساز اسمبلی میں کی جانے والی اس تقریرکو سنسرکرنے کی کوشش کی گئی جس میں انہوں نے مذہب کو سیاست سے الگ رکھنے کا عزم کیاتھا۔“تو جناب من ! یہ غیرسنسر شدہ پوری تقریر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ایڈیشن 2002ءصفحہ 27 تا 29 پرموجود ہے‘ کتاب کا نام ہے Jinnah Speeches and Statements 1947-1948 ذرا یہ تقریرپڑھیں اور پھر ایمان داری سے عام قارئین کے لیے اس کا اردو ترجمہ بھی پیش کردیں اور قائد اعظم کی مبینہ سیکولرازم والی نصیحت بھی ڈھونڈ لائیں تو ہم آپ کے ممنون ہوں گی! نہ ہمت‘ نہ قسمت‘ نہ دل ہے نہ آنکھیں نہ ڈھونڈا‘ نہ پایا‘ نہ سمجھا‘ نہ دیکھا۔

حمید اخترصاحب کے کالم کا تیسرا اور آخری حصہ زیادہ تر”مودودی صاحبؒ“ کے جہاد کشمیر کے موقف کے بارے میں ہے جسے وہ درست تسلیم کرنے پر مجبورنظرآتے ہیں۔ لیکن آگے چل کر پردہ دل کے پیچھے چھپ جاتے ہیں اور لکھتے ہیں ”بعد کے زمانے میں جب مذہب کے نام پر اقتدارکی دوڑ شروع ہوئی تو مودودی صاحب نے اپنا موقف بدل دیا اور اپنے خطبات میں یہ بھی فرمایاکہ”صالح بندوں کو آگے بڑھ کر خداکے باغیوں کو حکومت سے بے دخل کرکے اختیارات اپنے ہاتھ لے لینے چاہئیں“ یہ مولانا مودودیؒ کی مخالفت میں سرمستی کی انتہا ہے۔ میں حمید اخترصاحب کی معلومات کے لیے عرض کرنا چاہتاہوں کہ ”خطبات“ جس سے انہوں نے یہ اقتباس لیاہے جیساکہ نام سے ظاہرہے بعد کے دورکی کوئی تحریرنہیں بلکہ آزادی سے قبل کی ان تقریروں کے علاوہ ان قرآنی دروس پر مشتمل ایک اثر انگیز کتاب ہے جو مولاناموودیؒ نے پٹھان کوٹ میں قائم کی گئی مسجد میں وہاں کے عام دیہاتیوں کے سامنے دیے تھے۔

میں صرف اتنا عرض کرسکتاہوں بقول اقبالؒ:۔ چشم بینا بھی کر خدا سے طلب کہ آنکھ کا نور دل کا نور نہیں حمید اختر صاحب اپنے تیسرے کالم میں حسب معمول جہادی لٹریچرکے عنوان سے جال بکھیرتے ہوئے مولانامودودیؒ کے ایک کتابچے مسئلہ ملکیت زمین کو اپنا ہدف بناتے ہیں اور لکھتے ہیں ”انہوں نے زمین کی ملکیت کی کسی حدکو غلط کہا اور یہ فیصلہ سنایا کہ اسلام کی روسے کسی بھی شخص کو زمین کی ملکیت کی کسی حد کا پابند بنانا درست نہیں (دوسرا اورآخری حصہ) مولانا مودودیؒ اپنے عصر کے بہت بڑے عالم اور مفسرِ قرآن و حدیث ہیں۔ ”مسئلہ ملکیت“ نامی کتابچے میں انہوں نے ”اصلاح کے حدود اربعہ“ کے ذیلی عنوان سے جو چار نکات بیان کیے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہی:

(1) ذرائع پیداوارکو قومی ملکیت بنانے کا تخیل بنیادی طور پر اسلام کے نقطہ نظرکی ضد ہے۔ (2)اسلام دولت کی مساویانہ تقسیم کا قائل نہیں، منصفانہ تقسیم کا قائل ہے۔
(3) اسلام کمیونزم کی طرح کا کوئی بگٹٹ بے لگام فلسفہ نہیں ہے کہ چند آدمی بیٹھ کر اپنی جگہ اجتماعی فلاح وبہبود کا ایک خاص نظریہ قائم کریں۔
(4) ”اسلام کے حدود میں رہتے ہوئے ہم کسی کی جائز ملکیتوں پر اصولاً نہ تو تعداد یا مقدارکے لحاظ سے کوئی پابندی عائدکرسکتے ہیں اور نہ ایسی من مانی قیود لگاسکتے ہیں جو شریعت کے دیے ہوئے جائز حقوق کو عملاً سلب کرلینے والی ہوں۔“ اب آپ نوٹ فرمالیں کہ جائزملکیتیں وہی ہیں جو انسان نے حلال طریقوں سے اپنی کاوش ومحنت سے حاصل کی ہوں۔ وراثت میں ملنے والی جائدادکا بھی اصل ماخذ جائزنہ ہو تو وہ ناجائز قرار پاتی ہے۔

اب میں حمیداختر صاحب کے مرکزی موضوع کی طرف لوٹنا چاہتا ہوں۔ میں یہاں بتانا چاہوں گا کہ جہاد کا لغوی مادہ جہد ہے جوکہ عام فہم لفظ ہے۔ قرآن مجید میں یہ لفظ متعدد بارآیا ہے۔ مجاہدہ اور اجتہاد اسی مادے سے ہیں۔ اسلام میں جہاد ایک اصولی جنگ ہے جس کی حدود متعین ہیں۔ اسلام میں ریاست و خلافت کا اصولی نظام شامل ہے اور اس نظام کی حفاظت مسلمانوں پر فرض ہے۔ جہاد مسلمانوں کا اجتماعی فریضہ ہے۔ جہاد صرف قتال کا نام نہیں بلکہ استحکامِ ملت کے لیے جو بھی کوشش کی جائے اسے جہاد کہا گیا ہے۔ ایک جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا بھی جہاد ہے۔

مستشرقین اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والوں نے اسلامی جہاد کے خلاف بڑا پروپیگنڈا کیا ہے جو قرآنی حقائق اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور تاریخی واقعات کے خلاف ہے۔ جہاد کے تفصیلی احکامات قرآن، احادیث اور فقہ میں موجود ہیں۔ جہاد باطل قوتوں کے خلاف جنگ کا نام ہے۔ نپولین کے ایک جنرل ہنری جومینی (Henri jomini) کے مطابق جنگ ایک سائنس ہے۔ اس میں دفاعی اور جارحانہ جنگ شامل ہے۔ جومینی کو ایک ماہر اور جدید جنگ کے پہلے مصنف کی حیثیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے فرانسیسی میں اپنی کتاب ”عظیم جنگی حربے“(Traite de grande tectique) میں لکھا ہے کہ ”ہر جنگ فتح کے لیے لڑی جاتی ہی، اس میں ہتھیاروں کے علاوہ نفسیاتی حربے بھی استعمال ہوتے ہیں۔

جنگی آپریشن کے ساتھ مورال کا مستحکم ہونا ضروری ہے۔ فوج اور ہتھیاروں کی کثرت کے بجائے جنگی نتائج اہم ہوتے ہیں۔ جنگ میں مختلف فیصلہ کن مراحل آتے ہیں جو مجموعی طور پر فتح یا شکست پر منتج ہوتے ہیں۔ جنگ میں سب سے بڑا نکتہ نظریے کا ہوتا ہے جس کے لیے جان کی بازی لگائی جاتی ہے۔“جومینی کے خیالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ذرا غور کیجیے کہ امریکا نیٹوکا لاؤ لشکر لے کر اپنے وطن سے گیارہ بارہ ہزار میل دور عراق اور افغانستان میں آخرکیا کرنے آیا ہی؟ کیا اس کا مقصد صرف طالبان اور القاعدہ کا قلع قمع کرنا ہی؟ یا وہ اس کے علاوہ ہزاروں خواہشیں ایسی رکھتا ہے کہ جن کا حدو حساب نہیں۔ اس نے بے آف پگز(Bay of Pigs) کی ناکام مہم اور جنگ ویتنام سے کچھ نہیں سیکھا۔

لیکن اب محسوس ہونے لگا ہے کہ اوباما افغان مہم سے مایوس ہوچکے ہیں۔ حال ہی میں CNN سے اسی پس منظر میں گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا: میری ترجیح یہ ہوگی کہ میں دوسرے صدرکے لیے کسی قسم کے مسائل نہ رہنے دوں ۔ میں چاہتا ہوں کہ آنے والا صدر یہ کہے کہ مجھے کلین سلیٹ دی گئی ہے۔“ اگر ایسا ہوا تو یہ افغانستان کی دوسری آزادی ہوگی۔ بہتر ہوتا کہ جہاد اور جہادی لٹریچر پر تنقیدکرنے سے پہلے حمیداخترصاحب فلسطین‘ عراق‘ افغانستان اور کشمیر کے حوالے سے امریکا یاکم ازکم امریکی مندوب ہالبروک کو بھی دوچار سنادیتے۔ لیکن افسوس ہوتا ہے کہ انہیں ایسا کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ فوجی مہم جوئیوں کے نتیجے میں امریکی مورال کتنا گرچکا ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2007ءمیں 115 اور 2008ءمیں 128 امریکی فوجیوں نے خودکشی کی۔ ان کے علاوہ گزشتہ سال جتنے میرین سپاہیوں نے اپنے ہاتھوں اپنی جان لی ان کی تعداد41 ہے۔ (وائس آف امریکا‘ ایسوسی ایٹڈ پریس‘ 29جنوری 2009ئ)حلمی زواتی (Hilmi Zawati) انٹرنیشنل لیگل ایڈووکیسی فورم کے صدر اور حقوق انسانی کے وکیل ہیں۔

انہوں نے اپنی کتاب ”جنگ و امن اور حقوق انسانی اسلامی اور پبلک بین الاقوامی قوانین کی نظر میں“ میں لکھا ہے کہ ”جہاد جارحانہ مذہبی جنگ نہیں ہے جیساکہ عام طور پر سمجھا جارہا ہے۔“ حمیداختر صاحب کو اپنے کالموں میں ان دانش وروں سے بھی کچھ استفادہ کرنا چاہیی، کیونکہ یہ نہ تو اقبالؒ کے پیروکارہیں نہ مودودیؒ سے متاثر۔مصر اور خاص طور پر قاہرہ مسلمانوں کے ایک اہم اعصابی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اوباما نے حال ہی میں مسلمانوں کو یہاں سے خطاب کرکے انہیں امریکا کے حق میں ہموارکرنے کی کوشش کی‘ لیکن ناکام رہا۔ مصر اسلامی سوچ کے ایک ایسے محور کی حیثیت اختیار کرچکا ہے جس نے بادشاہت ،آمریت، ناصرازم، سوشلزم، عرب ازم اور پان امریکا ازم کو مسترد کردیا ہے۔ اپریل 2004ءکے آخر میں مسلم اسکالرز کی ایک میٹنگ قاہرہ میں ہوئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بحرانوں اور ناانصافیوں کے ازالے کے لیے شریعت کو بین الاقوامی قوانین کا حصہ بنایا جائے۔

کانفرنس کا عنوان تھا: ”اسلامی تہذیب میں برداشت کا حوصلہ“۔اس کانفرنس میں عبدالسلام اور محمد دسوقی جیسے بین الاقوامی قوانین کے پروفیسروں نے اسلامی شریعت کو بین الاقوامی قوانین کا حصہ بنانے کی سفارش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے اقوام متحدہ کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ کانفرنس کے شرکاءنے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان (امریکا‘ روس‘ چین‘ فرانس اور برطانیہ) کے ویٹو پاورکو عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر اور فلسطین جیسے نازک مسائل پر ویٹو کے استعمال سے کمزوروں کے حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔“ اسی طرح آرچ بشپ آف کنٹربری ڈاکٹر روون ولیمز معاشرے میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمات کے معترف ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ برطانوی مسلمانوں کے لیے ملکی قانون کے پہلو بہ پہلو شرعی قوانین کا نفاذ ہونا چاہیے۔

اگرچہ کئی لوگوں نے ان پر تنقیدکی ہے لیکن وہ اب بھی اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان موجودہ کشمکش کے ذمہ دار سیاست دان اور کچھ دوسرے عناصر ہیں۔“ (ڈان 30 مارچ 2009ءاور ڈان 8 فروری 2008ئ)حال ہی میں ایک مصنف نیازاے شاہ کی ایک کتاب انگریزی میں نیویارک سے چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہی: ”اسلامی اور بین الاقوامی قانون میں دفاع کا تصور“۔ اس میں دفاعی اور جارحانہ جنگ کے پہلوﺅں سے بحث کرتے ہوئے جہاد کی حمایت کی گئی ہے۔ دنیا بھر میں یہ جہادی لٹریچر حمید اختر صاحب کی راتوں کی نیند حرام کردے گا۔ مگر یہ تو ایک حقیقت ہے‘ آنکھیں بندکرنے سے کیا ہوتا ہی!حمید اخترصاحب! اسلام کا دہشت گردی اور خودکش حملوں سے کوئی تعلق نہیں۔ جن مجلات‘ رسائل اور اخبارات کا آپ نے حوالہ دیا ہے ان کے مضامین‘ تجزیے اور اداریے اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ پُرامن معاشرے میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کے واقعات کے خلاف کس قدر واضح موقف رکھتے ہیں۔

کاش ملک بھر میں پھیلے لاکھوں کیبل نیٹ ورکس اور ان پر پیش کیے جانے والے فحش، مخرب اخلاق پروگراموں کا بھی نوٹس حمیداختر صاحب اور ان کے ہمنوا لے سکتے۔ لیکن جس طرح سے امریکا اور اس کے حواریوں کے ایماءپر دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی گئی ہے، اس سے بدقسمتی سے ایسا زنجیری عمل شروع ہوا ہے جو اب تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اس کے اسباب پر غور کرنا ضروری ہے۔ دوسری وجوہات کے علاوہ جو سب سے بڑی وجہ فساد ہے وہ یہ ہے کہ ہم امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک ایسی جنگ لڑرہے ہیں جسے خود اُس کے 80 فیصد عوام مسترد کرچکے ہیں۔

ح
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

 
شمشاد احمد's Avatar
شمشاد احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 172
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (18-10-11), سیفی خان (19-10-11), عبداللہ آدم (18-10-11)
پرانا 18-10-11, 08:38 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,612
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,520 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ کے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔

اب لاکھوں حمید اختر زور لگا لیں کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔جہاد قیامت تک جاری رہے گا ان شاءاللہ
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (19-10-11)
پرانا 19-10-11, 08:05 AM   #3
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,513
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

الجھادُ ماضِِ الی یومِ القیامۃ
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (19-10-11), شمشاد احمد (19-10-11)
پرانا 19-10-11, 09:22 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حمید اختراب دنیا میں نہیں رہے وہ اپنا جواب دینے وہاں چلے گئے جہاں اپنے اعمال کا جواب بہر حال دینا ہی پڑتا ہے۔حمید اختر سکہ بند کمیونسٹ تھے،ساری عمر مارکس اور لینن کی تعلیمات کے مبلغ رہے۔کاش زندگی کی آخری شام انہوں نے جہاد کی مخالفت نہ کی ہوتی۔۔۔۔
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
فورم, فرض, نیند, مکمل, موت, موجودہ, مجید, محمد اقبال, مسائل, مسجد, معلوم, آپریشن, آوارگی, ایمان, اقوام متحدہ, اردو, اسلام, بادشاہت, حدیث, خودکشی, ذوالفقار علی بھٹو, سیاست, سائنس, طالبان, عقل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:13 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger