| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 440
|
||||
| 9 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا | فرحان دانش (07-09-11), پاکستانی (07-09-11), نیلم خان (09-09-11), محمد یاسرعلی (07-09-11), ام احمد (09-09-11), احمد نذیر (07-09-11), حیدر (07-09-11), رضی (07-09-11), عروج (07-09-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,203
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جہیز دینا احسن قدم ہے بھائی ذرا اس نقطے کو تفصیل سے بیان کریں گے ؟
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا | نیلم خان (09-09-11), محمد یاسرعلی (07-09-11), احمد نذیر (07-09-11), حیدر (07-09-11), عبداللہ آدم (09-09-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ضروری اشیاء بیٹی کو دینے میں بیٹی کی سہولت کا خیال ھوتا ھے جبکہ لڑکے والوں کا مانگنا صرف کمینگی ظاھر کرتا ھے ۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,203
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا | نیلم خان (09-09-11), محمد یاسرعلی (07-09-11), حیدر (08-09-11), رضی (07-09-11), عبدالقدوس (07-09-11), عبداللہ آدم (09-09-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
میں نے نہیں لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا | فرحان دانش (07-09-11), نیلم خان (09-09-11), محمد یاسرعلی (07-09-11), حیدر (08-09-11), رضی (07-09-11), عبدالقدوس (07-09-11), عبداللہ آدم (09-09-11), عروج (07-09-11) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
جہیز ایک لعنت
ہمارے معاشرے میں جہیز کو لعنت کہنا غلط نہیں۔ لعنت کے ساتھ ساتھ یہ متوسط اور غریب طبقے خاندان کے لئے ناسور کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ جس کی وجہ سے بہت سی بچیاں ماں باپ کی دہلیز پر اپنے بال سفید کر کے بیٹھی ہوئی ہیں۔ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہنا تو پسند کرتے ہیں لیکن اپنے طور طریقے سے کہیں سے بھی ایسا ظاہر نہیں کرتے کہ ہم اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں۔ اگر آج ہم اپنے معاشرے میں سے منہ مانگنا جہیز مانگنا بند کر دیں تو بہت سے سفید پوش گھرانے کی بیٹیوں کی شادی ہو سکتی ہیں۔ ویسے ہی لڑکے اور لڑکیوں کا حساب کتاب نکالا جائے تو لڑکے لڑکیوں کے مقابلے میں کم ہیں اور سونے پر سوہاگہ پڑھے لکھے لڑکے ویسے بھی بہت کم ہیں اور جو لڑکا اچھا کمائی والا ہے تو اس کے ماں باپ کا دماغ عرش معلہ پر ہوتا ہے۔ وہ تو اپنے لڑکے کے لئے گویا لڑکی نہیں بلکہ چلتی پھرتی سونے کی کان خریدنے آئے ہوں۔ ہم اس تمام معاملے میں اس بے چاری لڑکی کے بارے میں اگر سوچیں کے آئے دن آنے والے مہمانوں کی چبتی ہوئی نظروں کا عتاب وہ کس طرح سہتی ہے اور جہیز کے نام پر بکنے والی لڑکی لڑکے کے گھر جا کر بھی خوشحال رہے گی اس بات کی بھی کیا گارنٹی ہے اور ایسے لالچی لوگوں کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا پہلے جہیز کے نام پر لڑکی کے گھر والوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے پھر بعد میں اس کو گھر سے نکال دینے کے ڈر سے۔ بہت سی لڑکیوں کو ان کے سسرال والے اسی بنا پر زندہ تک جلا دیتے ہیں کہ ان کی ڈیمانڈ لڑکی کے گھر والے پوری نہیں کر پاتے۔ ظالم یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ خود بھی بیٹی کے والدین ہیں۔ معاشرے میں تبدیلی آ سکتی ہے اگر نوجوان نسل چاہے تو سب ممکن ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کو بھی چاہئے کہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور اقدامات کریں۔ جو بھی بے جا جہیز لے اس کے لئے سزائیں مقرر کی جائیں اور ساتھ ہی ساتھ صرف وہی جہیز دینا مقرر کیا جائے جو اللہ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ہے۔ میں ان تمام لوگوں کے لئے دعا گو ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ میری سوچ نہایت فرسودہ ہے اور جو جہیز لینے کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے سے برائی کا خاتمہ کیا جائے اور اس کے پہلو پر نظر ڈالنا ہم سب کا فرض ہونا چاہئے اور جہیز کے لین دین کے اس سلسلے کو روکنے کے لئے ہمیں خود آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہ تحریر یہاں سے کاپی کی گئی ہے جہیز ایک لعنت
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب https://www.facebook.com/groups/pak.net دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔ |
|
|
|
|
|
#10 | ||
|
Senior Member
![]() |
ایک کی سمجھ نہیں آئی یہاںلکھا ہے کہ
اقتباس:
ابھی گوگل پہ سرچ کے دوران ایک پیرا گراف نگاہ سے گزرا یہ بھی دوستوں کے ساتھ شیئر کیے دیتا ہوں اقتباس:
Last edited by محمد یاسرعلی; 07-09-11 at 07:27 PM. |
||
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,203
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,221
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جہیز ایک لعنت ہے اس کو ختم ہونا چاہییے۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
میرا ایک دوست ہے محمد آجکل وہ اپنی شادی کی تیاری کر رہا ہے مجھے بتا رہا تھا کہ برتنوں کی خریداری چل رہی ہے۔ شادی سے پہلے ہی انہوں نے لڑکی کے خاندان کو کہہ دیا ہے کہ آپ نے کچھ تیاری نہیں کرنی کھانے پینے تک کی ذمہ داری ہماری ہے۔ حیرت ہوتی ہے اسے دیکھ کر ایک متوسط گھرانے سے تعلق اور اتنا بڑا دل۔ اللہ تعالٰی اسے صحت و تندرستی عطا کرے
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا | skjatala (08-09-11), نیلم خان (09-09-11), محمد یاسرعلی (07-09-11), wajee (07-09-11), ام احمد (09-09-11), حیدر (08-09-11), رضی (09-09-11), عبدالقدوس (08-09-11), عبداللہ آدم (09-09-11) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جہیز بھی برصغیر پاک و ہند کی ایک پالی ہوئی ایسی عادت ہے جو کہ اب ضرورت بن گئی ہے۔ حالانکہ بالکل نیوٹرل ہو کر دیکھا جائے تو جہیز ایک بنیادی ضرورت کی چند اشیاء اپنی خوشی سے دینا "سنت" ہے، یہ فرض ہر گز نہیں ہے۔ فرض اصل میں عورت کو جائداد میں حصّہ دینا ہے۔ انسان اپنی استطاعت کے مطابق اپنی بیٹی کو چاہے جو بھی دے ، وہ ہر گز کسی "فرض" کے زمرے میں نہیں آتا۔ لیکن یہاں ایک بہت بڑی بات آ جاتی ہے۔ اگر برا نہ لگے تو میں کہوں گا کہ معاشرے کی بے حسی کی بات آجاتی ہے۔ ایک امیر کی بیٹی تو ضروریات زندگی سے بڑھ کر جہیز کی حقدار ہوتی ہے لیکن اس گلی، محلے میں رہنے والا ، عام طبقے والا انسان ، اپنی بیٹی کی ضرورت کی چیز اکٹھی کرنے کے لیے جگہ جگہ خاک چھانتا ہے۔ یہ معاشرے کی وہ تفریق ہے جو انسان کو "بے حس" کرنے پر اکساتی ہے۔ اس میں تھوڑا سا عمل دخل مزہب کا بھی ہے جہاں پر عام طور سے "حقوق العباد" کی تلقین ہے۔ مطلب کہ اگر ہر انسان اپنے حقوق و فرائض احسن طریقے سے انجام دے تو، معاشرہ مثالی معاشرہ بن جائے جہاں بیٹی صرف امیر کی نہیں، غریب کی بھی ہو۔
__________________
نہیں ہوں پر میں قائل شدت پسندی کا
میں ترے عشق کی آخری حد چاہتا ہوں |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا | نیلم خان (09-09-11), محمد یاسرعلی (08-09-11) |
![]() |
| Tags |
| ہے۔, گے, ھے, ڈیمانڈ, واقعی, قدم, لیکن, لینا, نقطے, مطابق, احسن, بھائی, بیٹی, بیان, باقاعدہ, بری, تفصیل, جہیز, خیال, دینے, دینا, ذرا, سمجھتے, ضروری, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| شاعری چی ےءُ چیہ کن اَنت؟ | سیپ | بلوچی فورمز | 11 | 20-01-11 07:18 PM |
| چائنا موبائل کی خصوصیات؟ | عبداللہ حیدر | موبائل ہی موبائل | 26 | 16-07-10 06:00 PM |
| اسلامی حکومت یا مُلا کی حکومت؟ | حیدر | اپکے کالم | 15 | 09-10-09 01:21 PM |
| ہیکنگ کے بارے میںمعلومات؟ | محمدعدنان | کمپیوٹر سیکورٹی | 20 | 06-08-09 11:31 AM |