واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


خلافت ،ملوکیت اور جمہوریت میں فرق

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-06-10, 12:41 PM   #1
خلافت ،ملوکیت اور جمہوریت میں فرق
سحر سحر آن لائن ہے 21-06-10, 12:41 PM

خلافت
خلافت خالصتہً اسلامی اصطلاح ہے ۔ اس کی تعریف کچھ یوں ہوگی ۔ ایسا نظام حکومت جو اللہ کے قانون کو نافذ کرنے کا ذمہ دار ہو ۔
خلافت نظام حکومت میں امیر کو خلیفہ کہا جاتا ہے ۔
خلیفہ عربی زبان کا لفظ ہےجس کے لغوی معنی کسی کے پیچھے آنے یا کسی کو قائم مقام بننے یا کسی کا نائب ہو کر اس کی نیابت کے فرائض سرانجام دینے کے ہیں۔ اور اصطلاحی طور پر خلیفہ کسی نبی کی وفات کے بعد اس کا قائم مقام اور اس کی جماعت کا امام بنتا ہے ۔

خلافت اسلامی نظام حکومت ہے جو تمام نظاموں جن میں بادشاہت ، جمہوریت ، وغیرہ سے منفرد اور اپنی جداگانہ حیثیت رکھتا ہے ۔
اس میں بادشاہت کی طرح جبر نہیں اور جمہوریت کی طرح جاہلیت نہیں ۔

خلافت کے قیام کے چند بنیادی اصول

1 حاکمیت الہیہ
2 خلیفہ کی تقرری
3 خیلیفہ کی حیثیت
4 بیت المال
5 مجلس شوریٰ


حاکمیت الہیہ
خلافت نظام حکومت میں اللہ حاکم اعلیٰ ہے ۔ اللہ کا قانون سپریم لاء ہے ۔ اس نظام حکومت میں چھوٹے سے چھوٹا فیصلہ شریعت کے تابع ہے ۔ خیلیفہ یا حکومتی اہلکار شریعت کے باہر فیصلہ کرنے یا کوئی نیا قانون بنانے کے مجاز نہیں ہوتے۔

خلیفیہ کی تقرری
خلیفہ کی تقرری میں نا کوئی اپنے آپ کو نامزد کرتا ہے اور نا ہی اپنے آپ کو پیش کرتا ہے ۔
خلیفہ کو منتخب مجلس شوریٰ کے اعلیٰ کردار اور عقل و فہم کے حامل افراد کرتے ہیں ۔
نا کہ سادہ لوح عوام جن کو باآسانی بے وقوف بنایا جاسکتا ہے ۔
خلافت میں ولی عہد کا کوئی نظام نہیں ہے ۔
خلافت کسی ایک خاندان کی میراث نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ اہل تقویٰ کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔


خلیفہ کی حیثیت
خیفہ کی حیثیت اللہ کے نائب کی سی ہے جو اللہ کے احکامات کو نافذ کرنے کا پابند ہے ۔
خلیفہ اپنے چھوٹے سے چھوٹے فیصلے میں اللہ کے قانون کا تابع ہوتا ہے ۔
خلیفہ اللہ کے سامنے پہر مجلس شوریٰ اور ہر مسلمان کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے ۔
بیت المال اس کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتا اور وہ بیت المال سے اپنی مرضی سے کچھ خرچ نہیں کرسکتا ۔
اگر کوئی معاملہ ایسا ہو جس میں قرآن و سنت میں واضع حکم موجود نا ہو
تو خلیفہ مجلس شوریٰ سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرسکتا ہے ۔
مسلمان خلیفہ کی جائز یا اللہ کی حدود کے اندر رہتے ہوئے فیصلوں کو ماننے کے پابند ہوتے ہیں ۔

بیت المال
بیت المال کی حیثیت مسلمانوں کی امانت کی سی ہوتی ہے اور خلیفہ اس کا امین ہے ۔
بیت المال میں سے خلیفہ یا حکومت کا کوئی رکن اپنی مرضی سے کچھ بھی خرچ نہیں کرسکتے۔
بیت المال میں سے خلیفہ کو اور حکومت کے ارکان کو وظیفہ مقرر ہوتا ہے جو ایک عام شہری کی آمدنی کے برابر ہوتا ہے ۔

مجلس شوریٰ
خلافت میں مجلس شوریٰ کو بہت اہم حیثیت حاصل ہے ۔ یہ لوگ خلیفہ بھی منتخب کرتے ہیں ۔ اور خلیفہ کے مدد گار بھی ہوتے ہیں ۔
مجلس شوریٰ میں کون لوگ شامل ہوتے ہیں اور ان کا تقرر کیسے ہوتا ہے ۔
یہ بہت اہم سوال ہے ۔
مجلس شوریٰ میں پوری امت کے سب سے متقی افراد ہوتے ہیں جو عقل و فہم میں بھی دوسروں سے ممتاز ہوں ۔
ہر دور میں اللہ نے اپنے منتخب بندے پیدا کیے ہیں ۔
جو اپنی شہرت پر ایک پیسہ خرچ نہیں کرتے لیکن ان کو پوری دنیا جانتی ہے
ان کے تقویٰ اور کردار کا یہ عالم ہوتا ہے کہ برے سے برا شخص بھی ان کا نام عزت سے لیتا ہے ، حالانکہ نا ان کے پاس دنیاوی طاقت ہوتی ہے اور نا دولت ۔
یہ بے نیاز لوگ ہوتے ہیں ان کو اقتدار اور دولت کی چاہ نہیں ہوتی ہے ۔
بلکہ ان چیزوں سے کراہیت ہوتی ہے ۔




ملوکیت یا بادشاہت (مارشل لاء)

ملوکیت ایسا نظام ہے جس میں ایک شخص طاقت کے ذور پر اقتدار حاصلہ کرتا ہے ۔ اور عوام و خواص اس کو اپنا امیر تسلیم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔

ملوکیت کے قیام کے چند بنیادی اصول

1 امیر کی نامزدگی
2 امیر کی حیثیت
3 بیت المال
4 ولی عہد

امیر یا بادشاہ کی نامزدگی
بادشاہ یا تو طاقت کے ذور پر حکومت کو حاصل کرتا ہے اور جس کی حکومت کو عوام و خواص کو مجبوراً تسلیم کرنا پڑتا ہے ۔ اس کی حکومت یا اس ایک شخص کے خلاف کھڑے ہونے کی سزا موت ہوتی ہے ۔
یا ولی عہد اپنے باپ کے انتقال کے بعد بادشاہ بنتا ہے ۔ اس کی حکومت کو بھی عوام و خواص کو ہر حال میں تسلیم کرنا پڑتا ہے ۔

امیر کی حیثیت


امیر کی حیثیت مختار کل کی سی ہوتی ہے ۔ وہ اپنے ہر فیصلے میں آذاد ہوتا ہے ۔ اور قانونً کسی کے سامنے جوب دہ نہیں ہوتا ہے ۔
حکومت کے کسی رکن کے فیصلے کو رد کرنے کا اختیار بادشاہ کے پاس ہوتا ہے ۔
ہر قانون اور ہر فیصلہ پادشاہ کے حکم کا تابع ہوتا ہے ۔

بیت المال
بیت المال امیر کی ذاتی ملکیت ہوتا ہے اس کو وہ کسی طرح بھی خرچ کرے وہ کسی کو جواب دہ نہیں ہوتا ہے ۔

ولی عہد کا نظام
ولی عہد بادشاہ کا یا تو بادشاہ کا بیٹا یا بھائی بادشاہ کی زندگی میں ہی بنایا جاتا ہے ۔
سب کے علم میں ہوتا ہے کہ بادشاہ کے انتقال کے بعد یہ ولی عہد بادشاہ بنے گا ۔


جمہوریت

جمہوریت وہ نظام حکومت ہے جس میں عوام کے منتخب نمائندے حکومت بناتے ہیں ۔ یہ ایک مشترکہ حکومتی نظام ہے جس میں کسی ایک شخص کے پاس تمام اختیارات نہیں ہوتے ہیں ۔

1 نمائندوں کا انتخاب
2 پالیمنٹ کی بالادستی



نمائندوں کا انتخاب

نمائندوں کا انتخاب عوام ایلکشن کے ذریعے سے کرتی ہے ۔
نمائندے حکومت حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں اور حکومت حاصل کرنے کی تگ و دو نھی کرتے ہیں ۔
جس نمائندے کو جتنی ذیادہ عوام ووٹ دیتی ہے وہ نمائندہ پارلیمنٹ میں آجاتا ہے ۔

پارلیمنٹ کی بالادستی
جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کی بالادستی ہوتی ہے ۔ پارلیمنٹ کا بنایا ہوا قانون سپریم لاء ہوتا ہے ۔
جس کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا ہے ۔



خلافت و ملوکیت اور جمہوریت کا تقابلی جائزہ
خللافت اللہ کے قانون کو نافذ کرنے کا حکومتی نظام جس میں اللہ کا قانون سپریم لاءہے اور ہر فرد بشمول خلیفہ اللہ کے قانون کے تابع ہیں ۔ بادشاہت میں ایک انسان مختار کل ہے وہ چاہے تو اللہ کے قانون کو بھی توڑ سکتا ہے ۔ جمہوریت بھی بادشاہت کی ہی قسم ہے جس میں ایک فرد کے بجائے چند افراد پر مشتمل گروہ کو تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں ۔
خلافت میں خلیفہ کو مجلس شوریٰ میں شامل اہل تقوی اور عقل و فہم میں ممتاز افراد منتخب کرتے ہیں ۔ جمہوریت میں عام عوام کو نمائندے منتخب کرنے کا اختیار ہوتا ہے جو سمجھ بوجھ میں کم ہوتے ہیں اور جن کو بے وقوف آسانی سے بنایا جاسکتا ہے ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے

Last edited by سحر; 21-06-10 at 06:22 PM..

 
سحر's Avatar
سحر
Administrator
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1894
Reply With Quote
18 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (21-06-10), sahj (21-06-10), saimali (18-07-10), shafresha (29-06-10), ھارون اعظم (23-06-10), یاسر عمران مرزا (21-06-10), محمد عاصم (23-06-10), مرزا عامر (27-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), ام غزل (22-06-10), ابرارحسین (21-06-10), بلال اویسی (21-06-10), حیدر (21-06-10), راجہ اکرام (21-06-10), رضی (25-06-10), شعبان نظامی (03-02-12), عبداللہ آدم (23-06-10), عبداللہ حیدر (22-06-10)
پرانا 21-06-10, 03:03 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاء اللہ بہت ہی اہم موضوع کو آسان فہم انداز میں پیش کیا گیا ہے
اس سے خلافت اور دیگر نظامہائے ریاست و حکومت کو سمجھنے میں رہنمائی ملے گی۔

اسے سرورق پر پیش ہونا چاہئے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (21-06-10), saimali (18-07-10), ام غزل (22-06-10), حیدر (21-06-10), عبداللہ آدم (23-06-10)
پرانا 21-06-10, 06:26 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آج کل کی جمہوریت کو کس کھاتے میں ڈالیں گے؟ کیوں کہ کم از کم تحریری طور پر سہی لکھا تو ضرور ہوا ہے کہ اس ملک کا سپریم لا اللہ کا پیش کیا ہوا قانون ہے نہ کہ پارلیمنٹ۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
رضی (25-06-10), سحر (21-06-10), غلام مجتبی جان (03-08-10)
پرانا 21-06-10, 06:56 PM   #4
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی دستور میں ہم جیسوں کو خوش کرنے کے لیے لکھا تو ہوا ہے کہ اللہ کا قانون سپریم لاء ہے ۔
لیکن اللہ کا قانون نافذ کیوں نہیں ہوا ، اسی جمہوریت کی وجہ سے
کیونکہ پارلیمنٹ کھلم کھلا اللہ کے قوانین کے خلاف قانون بنالیتی ہے اور کوئی پارلیمنٹ کو چیلنج نہیں کرساکتا ہے ۔
جمہوریت نظام کی خرابی کی وجہ سے ہی یہ نظام کرپٹ بھی ہوگیا ہے ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (22-06-10), sahj (24-06-10), محمد عاصم (23-06-10), ام غزل (22-06-10), حیدر (21-06-10), راجہ اکرام (21-06-10), رضی (07-11-10), عبداللہ آدم (23-06-10), عبداللہ حیدر (22-06-10), غلام مجتبی جان (03-08-10)
پرانا 21-06-10, 07:03 PM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر یہ نہ سمجھیں کہ میں بحث کر رہا ہوں تو مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ یہی مسئلہ تو خلافت میں بھی آ سکتا ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (22-06-10), sahj (24-06-10), رضی (07-11-10), سحر (21-06-10)
پرانا 21-06-10, 07:07 PM   #6
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر ایسے حکمران آجائیں جو سپریم لاء اللہ اور قرآن کو ہی مانیں تو ۔۔۔ تو بھی اس جمہوریت سے سدھار آسکتا ہے ۔۔۔
کیونکہ عوام صرف نمائندے ہی منتخب کرتی ہے ( اگر وہ بھی شفاف عمل ہو تو ) باقی ٍفیصلے پارلیمنٹ میں ہوتے ہیں جو کہ منتخب نمائندے کرتے ہیں ۔۔
خیر جب اسلام میں خلافت ہی ہے تو اس کے لیے کم از کم ہمیں کوششیں تو کرنی چاہیئں ۔۔
سحر بہت اچھا تھریڈ بنایا ہے آپ نے ۔۔
جزاک اللہ
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں
آؤ۔۔۔
ARHAM آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-06-10), ام غزل (22-06-10), حیدر (22-06-10), راجہ اکرام (21-06-10), رضی (07-11-10), سحر (21-06-10), عبداللہ آدم (23-06-10)
پرانا 21-06-10, 07:09 PM   #7
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خلافت میں نیا قانون بنانے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ۔
اللہ کا قانون نافذ کرنا خلیفہ اور باقی لوگوں کا کام ہے ۔
خلیفہ کا مطلب ہی اللہ کا نائب ہے ۔ خلیفہ خود قانون وضع کرنے کا مجاز نہیں ہے ۔
جمہوریت اور خلافت میں یہ واضع فرق ہے

Last edited by سحر; 21-06-10 at 07:15 PM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (22-06-10), sahj (24-06-10), محمد عاصم (23-06-10), ام غزل (22-06-10), حیدر (22-06-10), راجہ اکرام (21-06-10), رضی (25-06-10), عبداللہ آدم (23-06-10), غلام مجتبی جان (03-08-10)
پرانا 21-06-10, 07:14 PM   #8
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ARHAM مراسلہ دیکھیں
اگر ایسے حکمران آجائیں جو سپریم لاء اللہ اور قرآن کو ہی مانیں تو ۔۔۔ تو بھی اس جمہوریت سے سدھار آسکتا ہے ۔۔۔
کیونکہ عوام صرف نمائندے ہی منتخب کرتی ہے ( اگر وہ بھی شفاف عمل ہو تو ) باقی ٍفیصلے پارلیمنٹ میں ہوتے ہیں جو کہ منتخب نمائندے کرتے ہیں ۔۔
خیر جب اسلام میں خلافت ہی ہے تو اس کے لیے کم از کم ہمیں کوششیں تو کرنی چاہیئں ۔۔
سحر بہت اچھا تھریڈ بنایا ہے آپ نے ۔۔
جزاک اللہ
ارحم یہیں ہم دھوکہ کھا جاتے ہیں ۔
جمہری نظام ہی صحیح نہیں ہے اس کے ذریعے چاہے جتنے نیک لوگ آجائیں
وہ معاملہ خلافت جیسا نہیں ہوسکتا ۔ بات اختیارات کی ہے ۔ جمہوریت میں پارلیمنٹ کے پاس اختیارات ہیں ۔ انسان کو جب خدائی اختیارات ملیں تو وہ کہیں نا کہیں بہکتا ضرور ہے
اسلام نے ہم کو ایک نظام دیا ہے تو ہم کمپرومائز کیوں کریں ۔
خلافت میں انسان کے پاس اختیارات نہیں ہیں ۔
اس کے پاس صرف اتنے اختیارات ہیں کہ وہ اللہ کا قانون نافذ کرسکے ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (22-06-10), sahj (24-06-10), محمد عاصم (23-06-10), آبی ٹوکول (26-06-10), حیدر (22-06-10), راجہ اکرام (21-06-10), رضی (25-06-10), عبداللہ آدم (23-06-10), عبداللہ حیدر (22-06-10)
پرانا 21-06-10, 07:20 PM   #9
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
اگر یہ نہ سمجھیں کہ میں بحث کر رہا ہوں تو مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ یہی مسئلہ تو خلافت میں بھی آ سکتا ہے۔
آپ اپنی واضع کریں گے ۔
کچھ سمجھ نہیں پائی ، آپ خلافت کو کس سے ملارہے ہیں ۔
بدر بھائی صحت مند بحث مباحثہ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (22-06-10), sahj (24-06-10), حیدر (22-06-10), رضی (07-11-10)
پرانا 21-06-10, 07:23 PM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ARHAM مراسلہ دیکھیں
اگر ایسے حکمران آجائیں جو سپریم لاء اللہ اور قرآن کو ہی مانیں تو ۔۔۔ تو بھی اس جمہوریت سے سدھار آسکتا ہے ۔۔۔
کیونکہ عوام صرف نمائندے ہی منتخب کرتی ہے ( اگر وہ بھی شفاف عمل ہو تو ) باقی ٍفیصلے پارلیمنٹ میں ہوتے ہیں جو کہ منتخب نمائندے کرتے ہیں ۔۔
خیر جب اسلام میں خلافت ہی ہے تو اس کے لیے کم از کم ہمیں کوششیں تو کرنی چاہیئں ۔۔
سحر بہت اچھا تھریڈ بنایا ہے آپ نے ۔۔
جزاک اللہ
حکمران جیسے بھی آ جائیں جب نظام خراب ہے تو چہرے بدلنے سے کیا ہوتاہے

ویسے علامہ اقبال نے سوشل ڈیماکریسی کو اسلام کی اصل پاکیزگی کہا ہے، قائد اعظم کو 28 مئی 1937 جو خط علامہ مرحوم نے لکھا اس میں اس چیز کا ذکر کیا ہے۔

اور ویسے بھی کارل مارکس کو بارہا انہوں نے خراج تحسین پیش کہا ہے اگر چہ و خراج تحسین غیر مشروط نہیں‌ہے۔
اس کو وہ "پیغمبر حق نا شناس" اور" پیغمبر بے جبریل"" بھی کہتے ہوئے ملتے ہیں۔
اور ایک جگہ کہتے ہیں کہ
قلب او مومن دماغش کافر است

اس حوالے سے کوئی بھی اگر کچھ اظہار خیال ہو جائے تو اسلامی نظام حکومت کو سمجھنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (22-06-10), محمد عاصم (23-06-10), حیدر (22-06-10), رضی (25-06-10), عبداللہ آدم (23-06-10)
پرانا 22-06-10, 09:10 AM   #11
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دیکھیے اگر ہم پہلی خلافت(راشدہ) اور پہلی باد شاہت (خلافت بنو امیہ) میں موجود واحد فرق کو دیکھیں تو وہ محض اختیارات کے استعمال کا ہی فرق تھا۔ اگر تو بنو امیہ کے بادشاہ/خلفا اپنے پاس موجود اختیارات کو بے جا اصراف سے استعمال نہ کرتے مثال کے طور پر حکومت میں خاندانی وراثت، بیت المال پر تصرف وغیرہ تو ان پر بھی خلیفہ ہونے کی تعریف لاگو ہو جانی تھی۔ (حضرت عمر بن عبدالعزیز خلفائے بنو امیہ میں سے ہوتے ہوئے بھی خلافت راشدہ کا پانچواں خلیفہ تصور کیے جاتے ہیں)
بعینہ اگر پاکستان کا کوئی بھی حکمران اگر اس بات کا مصمم ارادہ اور اپنے ارادے پر مصمم عمل کرے کہ وہ اسلامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرے گا ۔ ۔ ۔ جیسا کہ حضرت عمر بن عبدلعزیز نے کیا تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم وزیر اعظم کے عہدے کی جگہ خلیفۃ المسلمین کے عہدے کی ہی ضد کرتے رہیں۔یہ وزیر اعظم بھی خلیفۃ المسلمین ہی ہو گا یعنی اللہ کی طرف سے نائب۔

چناچہ بات محض اختیارات کے استعمال کی ہے ۔ اگر کوئی خلیفۃ المسلمین کا عہدہ رکھتے ہوئے بھی اپنے اختیارات غلط استعمال کرتا ہے تو وہ اللہ کا نائب ہونے کا حق دار نہیں۔اور اگر کوئی وزیر اعظم اختیارات/طاقت رکھتے ہوئے بھی ۔ ۔ ۔ اللہ کے حدود کی پابندی کرے تو وہ نام نہاد خلیفۃ المسلمین سے بدر جہا بہتر ہوگا۔
واللہ عالم
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (22-06-10), راجہ اکرام (22-06-10), رضی (25-06-10), سحر (22-06-10)
پرانا 22-06-10, 10:35 AM   #12
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدر بھائی
میں آپ کی بات سے ایک حد تک متفق ہوں ۔ لیکن میں نے یہاں شخصیات سے ذیادہ نظام کی بات کی ہے ۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز کو پانچویں خلیفہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے خلافت کے بنیادی اصول پر خلافت قائم کی تھی
پہلی یہ کہ عمر بن عبدالعزیز ولی عہد نہیں تھے
عمر بن عبدالعزیز نے نا اپنے آپ کو نامزد کیا اور نا اپنے آپ کو خلیفہ کے طور پر پیش کیا
عمر بن عبدالعزیز کو خلیفہ اہل مدینہ نے تسلیم کیا
بیت المال کو انہوں امت کی امانت بنایا
اور حکومت کو اللہ کے قوانین کا تابع بنایا ۔ جو بھی پہلے خلاف شریعت کام رائج تھے ان کو ختم کیا ۔

اس لیے ان کو پانچواں خلیفہ کہا جاتا ہے ۔

میرے کہینے کا مقصد یہ کہ کتنا بھی نیک بادشاہ ہو اسلام میں بادشاہت کا نظام جائز نہیں ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح جمہوریت بھی غیر اسلامی نظام ہے

اور جہاں تک خلیفہ کے برے ہونے کا سوال ہے
خلیفہ کے پاس پہلی بات اتنے اختیارات نہیں ہیں ۔ اور دوسری بات خلیفہ عدالت کے سامنے جواب دہ ہے
خلیفہ پر مقدمہ چلایا جاسکتا ہے اور اس کو سزا دی جاسکتی ہے
لیکن نا بادشاہ عدالت کے سامنے پیش ہوسکتا ہے
اورجمہوری نظام میں صدر پر عدالتی کاروائی نہیں ہوسکتی
اور اس نظام کی خرابی کی وجہ سے پارلیمنٹ کے ارکان کوئئ نا کوئی راہ نکال لیتے ہیں اپنے آپ کو سزا سے بچانے کے لیے
شکریہ

Last edited by سحر; 22-06-10 at 10:38 AM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (22-06-10), sahj (24-06-10), محمد عاصم (23-06-10), حیدر (22-06-10), راجہ اکرام (22-06-10), رضی (07-11-10)
پرانا 22-06-10, 02:33 PM   #13
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

چناچہ اب بات آ گئی کہ خلافت برپا کیسے ہو گی یعنی خلیفہ کا انتخاب کیسے ہو گا۔
کیا خلافت کی خصوصیات کسی اور نظام میں نہیں آ سکتیں وغیرہ
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (22-06-10), sahj (24-06-10), ھارون اعظم (23-06-10), راجہ اکرام (22-06-10), رضی (07-11-10), سحر (22-06-10), عبداللہ آدم (23-06-10)
پرانا 22-06-10, 02:46 PM   #14
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
چناچہ اب بات آ گئی کہ خلافت برپا کیسے ہو گی یعنی خلیفہ کا انتخاب کیسے ہو گا۔

خلافت اللہ کا قائم کردہ نظام ہے اور اس کو قائم بھی اللہ کے منتخب کردہ بندے یا یوں کہنا چاہیے اہل تقویٰ لوگ کریں گے ۔
جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اللہ کے منتخب بندے تھے ۔
لیکن ان کے مراتب میں فرق تھا ۔
وہ صحابہ رضی اللہ عنہ جو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت قریب تھے اور انہوں بالواسطہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت حاصل کی تھی ۔
وہ روحانی اعتبار سے باقیوں پر فوقیت رکھتے تھے ۔
یہی صحابہ رضی اللہ رعنہ مجلس شوریٰ میں شامل تھے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے آج یہ نظام کیسے قائم ہو ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیامت کی نشانیوں میں احادیث میں خلافت علی منہاج نبوۃ کے قیام کا ذکر ہے
قرین قیاس یہ کہ
حضرت مہدی رحمتہ اللہ علیہ خلافت علی منہاج نبوۃقائم کریں گے انشاءاللہ
اور وہ اللہ کے منتخب بندے ہونگے ۔
لیکن ہمارا کام اس نظام کے قیام میں مددگار ہونا ہے ۔
اور وہ ماحول بنانا ہے کہ جس میں خلافت قائم ہوگی ۔
خلافت ایک روحانی معاشرے میں قائم ہوتی ہے ۔
ہم کو اس معاشرے کو روحانی معاشرہ بنانا ہے ۔

Last edited by سحر; 22-06-10 at 06:46 PM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (22-06-10), sahj (24-06-10), محمد عاصم (23-06-10), حیدر (22-06-10), رضی (07-11-10), عبداللہ آدم (23-06-10), عبداللہ حیدر (22-06-10)
پرانا 22-06-10, 02:50 PM   #15
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
کیا خلافت کی خصوصیات کسی اور نظام میں نہیں آ سکتیں وغیرہ
خلافت کا نظام اللہ کا بنایا ہوا ہے
اور باقی نظام انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-06-10), حیدر (22-06-10), عبداللہ آدم (23-06-10), عبداللہ حیدر (22-06-10)
جواب

Tags
color, قرآن, لوگ, میراث, موت, مسلمان, اللہ, انسان, امیر, اسلامی, اعلیٰ, بھائی, بادشاہت, جواب, حکم, زندگی, سپریم, شخص, عہد, عوام, عقل, علم, عالم, عربی, عزت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 21-12-10 04:54 PM
مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل جاویداسد خبریں 15 22-10-10 12:49 PM
عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک جاویداسد خبریں 1 08-08-10 09:46 PM
آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ Zullu230 سیاست 6 29-06-10 12:18 AM
جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 11:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:43 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger