واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


خلافت ،ملوکیت یا ففٹی ففٹی۔۔۔۔۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-07-10, 06:39 PM   #1
خلافت ،ملوکیت یا ففٹی ففٹی۔۔۔۔۔
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 22-07-10, 06:39 PM

السلام علیکم: خلافت کی مدت کے بارے میں دو موقف سننے کو ملے ہیں:::

1:خلافت راشدہ تو 4 خلفاء تک ہی تھی اور بعد میں بھی خلافت ہی تھی،اگرچہ وہ خلافت راشدہ نہیں تھی لیکن تھی خلافت ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلامی خلافت یعنی بنو عباس و بنو امیہ وغیرہ کے ادوار۔

2:دوسرا نظریہ مولانا مودودی اور ڈاکٹر اسرار مرحوم والا ہے کہ 4 خلفاء کے بعد ملوکیت شروع ہوگئی اور خلافت ختم ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ا ور یہی نظریہ بڑی شدومد کے ساتھ خلافت و ملوکیت میں بیان کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اس بارے میں خاصا کنفیوز ہوں کیوں کہ اسلامی حکومت ہونے کے بنیادی لوازمات تو 4خلافت راشدہ کے بعد بھی من حیث المجموعی نافذ تھے۔۔۔۔اس طرح یہ خلافت ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ ایک ہی خاندان میں حکومت رہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس طرح یہ ملوکیت ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جبکہ بیعت بھی باقاعدہ ہوتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب یہ پھر خلافت کی خصوصیت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خلافت؟؟؟ ؟؟؟؟۔۔۔۔۔ملوکیت؟؟؟؟؟؟؟یا ففٹی ففٹی؟؟؟؟؟؟؟؟؟

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 818
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-04-12), ھارون اعظم (24-07-10), محمد عاصم (23-07-10), مرزا عامر (22-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), آبی ٹوکول (23-07-10), حیدر (22-07-10), سحر (22-07-10)
پرانا 22-07-10, 08:23 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خلافت بھی ایک ہی خاندان کے لیے مختص کی گئی ہے، خاندان قریش
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-04-12), کنعان (24-07-10), مرزا عامر (22-07-10), آبی ٹوکول (23-07-10), حیدر (22-07-10), عبداللہ آدم (22-07-10)
پرانا 22-07-10, 09:46 PM   #3
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

"جمہوریت دین ابلیس" سے ابھی جان کہاں چھٹی ہے بھائی یہ ایک ہی طرح کے 2 تھریڈ ھو جائیں گے۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-04-12), کنعان (24-07-10), حیدر (22-07-10)
پرانا 22-07-10, 11:20 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں کچھ بولوں کہ نہ بولوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔(نہ بولو نہ بولو)
محترمہ سحر سے رابطہ کریں ۔تشفی بخش جواب ملے گا انشا اللہ
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-04-12), کنعان (24-07-10), مرزا عامر (23-07-10), عبداللہ آدم (23-07-10)
پرانا 22-07-10, 11:37 PM   #5
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
خلافت بھی ایک ہی خاندان کے لیے مختص کی گئی ہے، خاندان قریش
تو پھر تو خلافت ہی خلافت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب خلفاء صحیح شرعی حکمران تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-04-12), محمد عاصم (23-07-10), مرزا عامر (23-07-10)
پرانا 22-07-10, 11:39 PM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
خلافت بھی ایک ہی خاندان کے لیے مختص کی گئی ہے، خاندان قریش
یہ بھی ایک تفصیل طلب بات ہے۔
کیا خلافت ہمیشہ صرف قریش کے لیے مختص تھی/ہے؟
کیا خلافت ہر صورت صرف قریش کے لیے مختص تھی/ہے؟
اگر دونوں سوالوں کا جواب ہاں ہے تو اسلام کا نظام مساوات کہاں ہے جو ایک غلام زادے کو امیر زادے کے برابر لا بٹھاتا ہے؟

اور بھی بہت کچھ ۔ ایک بریک کے بعد
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-04-12), فیصل ناصر (22-07-10), کنعان (24-07-10), مرزا عامر (23-07-10), آبی ٹوکول (23-07-10), عبداللہ آدم (23-07-10)
پرانا 22-07-10, 11:47 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 983
کمائي: 32,018
شکریہ: 1,331
738 مراسلہ میں 2,352 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی واقعی ہے تو بہت کچھ ، کہ قیامت تک ہمیں‌صرف 12 خلفاء‌ہی صیح‌ملیں‌گے باقی تو اللہ ہی بہتر جانے
ابرارحسین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-04-12), مرزا عامر (23-07-10)
کمائي نے ابرارحسین کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
30-04-12 rana ammar mazhar قیامت تک ہمیں‌صرف 12 خلفاء‌ہی صیح‌ملیں‌گے باقی تو اللہ ہی بہتر جانے 10
پرانا 22-07-10, 11:49 PM   #8
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خلافت اور ملوکیت بالکل الگ ٹوپک ہے ۔
خلافت کے بنیادی اصول جن پر خلافت راشدہ قائم تھی ۔
حاکمیت الہیہ
خلیفہ خود کو نامزد نہیں کرتا تھا اور نا اپنے آپ کو پیش کرتا تھا ۔
خلیفہ کی حیثیت اللہ کے قانون کو نافذ کرنا تھا ۔ اور اس کا ہر فیصلہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع تھا ۔
بیت المال امت کی امانت ہوتی تھی خلیفہ اپنی مرضی سے اس میں‌سے کچھ بھی خرچ نہیں‌کرسکتا تھا۔
خلیفہ کی تقری اہل الرائے یا مجلس شوریٰ کرتی تھی ۔
خلافت میں‌ ولی عہد کا کوئی نظام نہیں‌ تھا

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اہل مدینہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا تھا ۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خود کو حکمران نامزد کیا ۔ اہل شام نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن ان کی حکومت اس وقت تک لیگلائز نہیں ہوئی جب تک حضرت حسن رضی اللہ عنہ ان کے حق سے دستبردار نہیں ہوگئے ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے دستبردار ہونے کا مطلب کہ اہل مدینہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکمران قبول کرلیا ۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت میں ایک شرط تو پوری ہوئی کہ اہل مدینہ نے قبول کرلیا لیکن
باقی شرائط کے پورا نا ہونے کی وجہ سے ان کوخلیفہ نہیں‌کہا جاتا ہے
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید بن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنی زندگی میں‌ولی عہد بنانے اور بیعت دلوانے کی اہل مدینہ نے بھرپور مخالفت کی ۔
اس مخالفت کی وجہ یزید کا کردار نہیں‌بلکہ ولی عہد کا نظام تھا جو اب رائج ہونے جارہا تھا ۔

بنو امیہ حالانکہ قریش سے تعلق رکھتے تھے ۔
لیکن یزید بن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اہل مدنیہ تسلیم نہیں‌کیا اور بیعت نہیں کی ۔ اور اہل مدینہ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا ۔
مروان بن حکم کا بھی قریش سے تعلق تھا لیکن اہل مدنیہ نے بیعت نہیں کی
عبدالملک بن مروان کا بھی قریش اور بنو امیہ سے تعلق تھا لیکن اہل مدینہ نے بیعت نہیں‌کی
اور اہل مدینہ نے عبدالملک بن مروان کے دور میں حجاز کا خلیفہ حضرت عبداللہ بن زبیر کو بنایا ۔ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف و حجاز کا گورنر بناکر بھیجا ۔
حضرت عبداللہ بن زبیر کی حجاج بن یوسف سے جنگ ہوئی اور حضرت عبداللہ بن زبیر شہید ہوئے ۔

اب بتائیں ،
کیوں صحابہ رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد کسی حکمران کے ہاتھ پر بیعت نہیں‌ کی اگر وہ خلافت ہوتی تو کیا اہل مدینہ بیعت نا کرتے ۔

بنو امیہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اہل مدینہ نے خلیفہ تسلیم کیا ۔
اور انہوں نے خلافت کے بنیادی اصولوں پر خلافت قائم کی ۔ اس لیے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو پانچویں خلیفہ کہا جاتا ہے ۔

جب بنو امیہ ہی خلافت نہیں‌تھی ، تو بنو عباس اور عثمانیہ کو خلافت کیسے کہا جاسکتا ہے ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے

Last edited by سحر; 23-07-10 at 12:34 AM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-04-12), مرزا عامر (23-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), آبی ٹوکول (23-07-10), احمدنواز (23-07-10), حیدر (23-07-10), عبداللہ آدم (23-07-10)
پرانا 23-07-10, 12:00 AM   #9
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
یہ بھی ایک تفصیل طلب بات ہے۔
کیا خلافت ہمیشہ صرف قریش کے لیے مختص تھی/ہے؟
کیا خلافت ہر صورت صرف قریش کے لیے مختص تھی/ہے؟
اگر دونوں سوالوں کا جواب ہاں ہے تو اسلام کا نظام مساوات کہاں ہے جو ایک غلام زادے کو امیر زادے کے برابر لا بٹھاتا ہے؟

اور بھی بہت کچھ ۔ ایک بریک کے بعد
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے
کہ حکومت یا امارت قریش میں رہے گی جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے اور جو کوئی ان سے دشمنی کرے گا اللہ اس کو اوندھے منہ جہنم میں گرائے گا۔ (بخاری: کتاب الاحکام۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-04-12), مرزا عامر (23-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), عبداللہ آدم (23-07-10)
پرانا 23-07-10, 12:15 AM   #10
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم:

سحرآپی یہ اہل مدینہ کے ہر دفعہ بیعت نہ کرنے اور حضرت حسین کو منتخب کرنا میرے علم میں آج آرہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ مستند کتابوں میں موجود ہیں؟؟؟؟؟؟کوئی حوالہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں تو حاکمیت الٌہیہ بھی قائم تھی اوربیت المال کا نظام بھی قائم تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو اس طرح تو ساری شرائط کم از کم ان کے دور میں تو پوری ہو گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور اگلے ادوار میں بھی اکثر حاکمیت الٰہیہ اور بیت المال قائم رہے ہیں تو کیا ہم انہیں بادشاہی اسلامی حکومتیں کہیں‌ گے؟؟؟؟؟؟؟؟

والسلام

Last edited by عبداللہ آدم; 23-07-10 at 12:20 AM.
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-04-12), محمد عاصم (23-07-10), مرزا عامر (23-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), سحر (23-07-10)
پرانا 23-07-10, 12:31 AM   #11
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم:

سحرآپی یہ اہل مدینہ کے ہر دفعہ بیعت نہ کرنے اور حضرت حسن کو منتخب کرنا میرے علم میں آج آرہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ مستند کتابوں میں موجود ہیں؟؟؟؟؟؟کوئی حوالہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں تو حاکمیت الٌہیہ بھی قائم تھی اوربیت المال کا نظام بھی قائم تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو اس طرح تو ساری شرائط کم از کم ان کے دور میں تو پوری ہو گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور اگلے ادوار میں بھی اکثر حاکمیت الٰہیہ اور بیت المال قائم رہے ہیں تو کیا ہم انہیں بادشاہی اسلامی حکومتیں کہیں‌ گے؟؟؟؟؟؟؟؟

والسلام
اہل مدینہ کے بیعت نا کرنے کی دو مثال تو میں نے آپ کو دی ہیں‌۔
ایک یزید بن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا واقعہ۔ اسی وجہ سے وقع پذیر ہوا کہ انہوں نے بیعت نہیں‌کی تھی ۔
اور عبدالملک بن مروان کے دور میں‌حضرت عبداللہ بن زبیر کی جنگ اور شہادت کی وجہ بھی بیعت نا کرنا تھیں ۔
باقی ادوار کا میں ریفرنس ایک دو دن میں دیتی ہوں ۔

دیکھیں‌
بات یہ نہیں‌ہورہی کہ بنو امیہ ، بنو عباس وغیرہ کیسے حکمران تھے ، انہوں نے اللہ کا نظام نافذ کیا تھا یا نہیں‌
بات ہورہی ہے کہ وہ خلافت تھی یا نہیں‌۔

اگر ‌کوئی عادل بادشاہ ہو ۔
اس کے اختیار میں ہے کہ وہ اللہ کا قانون نافذ کرتا ہے یا نہیں ۔
لیکن خلافت خود ایسا نظام ہے جس میں خلیفہ کو اختیار نہیں ہوتا کہ آیا وہ اللہ کا قانون نافذ کرتا ہے یا نہیں ۔
بلکہ خلیفہ کا کام اللہ کے نظام کو نافذ کرنا ہی ہے

بنو امیہ کے دور میں بیت المال حکمران کے تصرف میں ہوتا تھا ۔ مطلب اگر حکمران اس میں‌سے خرچ کرنا چاہے تو وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہے ۔

عباسی دور میں‌ہارون رشید اور مامون رشید بہت عادل حکمران گزرے ہیں
ان کے دور میں‌مسلمانوں نے بہت ترقی کی ۔ لیکن صرف اس وجہ سے اس کو خلافت نہیں کہا جاسکتا ہے ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-04-12), مرزا عامر (23-07-10), عبداللہ آدم (23-07-10)
پرانا 23-07-10, 01:48 AM   #12
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اہل مدینہ کے بیعت نا کرنے کی دو مثال تو میں نے آپ کو دی ہیں‌۔
ایک یزید بن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا واقعہ۔ اسی وجہ سے وقع پذیر ہوا کہ انہوں نے بیعت نہیں‌کی تھی ۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں‌تو پرھتے ہیں کہ انہیں کوفہ والوں نے خطوط بھیج بھیج کر خلافت کے لیے ابھارا تھا اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ان کی سواری کے آگے لیٹ گئے تھےکہ اپ نہ جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اسی طرح وہ 3 یا 4 شرائط جو انہوں نے ابن زیاد کے سامنے پیش کی تھیں ان میں بھی کہیں یہ ذکر نہیں تھا کہ مجھے اہل مدینہ نے منتخب کیا ہے اور نہ انہوں نے اپنی بیعت کرنے کی طرف توجہ دلائی جو ایسی صورت میں ہونی چاہیے تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
اسی لیے میں نے اس کا ریفرنس مانگا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امید ہے مائنڈ نہیں کیا ہو گا۔

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-04-12), محمد عاصم (23-07-10), مرزا عامر (23-07-10), حیدر (24-07-10)
پرانا 23-07-10, 01:53 AM   #13
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
حاکمیت الہیہ
خلیفہ خود کو نامزد نہیں کرتا تھا اور نا اپنے آپ کو پیش کرتا تھا ۔
خلیفہ کی حیثیت اللہ کے قانون کو نافذ کرنا تھا ۔ اور اس کا ہر فیصلہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع تھا خلیفہ کی تقری اہل الرائے یا مجلس شوریٰ کرتی تھی



اقتباس:
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خود کو حکمران نامزد کیا ۔ اہل شام نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن ان کی حکومت اس وقت تک لیگلائز نہیں ہوئی جب تک حضرت حسن رضی اللہ عنہ ان کے حق سے دستبردار نہیں ہوگئے ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے دستبردار ہونے کا مطلب کہ اہل مدینہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکمران قبول کرلیا
اسلام علیکم ڈئر سسٹر سحر
یہاں میرے آپ سے چند سوالات ہیں جب بقول آپکے خلیفہ خود کو خلافت کے لیے یش نہیں کرسکتا تو جو خود کو اس امر کے لیے پیش کرئے اسکا کیا حکم ہے ؟؟؟؟؟
پھر جب حضرت امیر معاویہ نے خود کو خلافت کے لیے پیش کردیا تو امام حسن رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے فرد کو خلافت کیوں دے دی کہ جو اس امر کے لیے خود کو پیش کررہا تھا کیا انکی نظر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ فرامین نہیں تھے کہ ہم اس امر کی طلبی کرنے والے کو یہ امر تفویض نہیں کیا کرتے ایسے میں میرے مزید سوالات یہ ہیں کہ پھرکیوں ایک خلیفہ برحق یعنی امام حسن رضی اللہ عنہ نے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو نافذ نہیں کیا جبکہ خلیفہ کا تو ہر فیصلہ ہی قرآن و سنت کے تابع ہونا چاہیے ایسے میں مجھے معلوم کرنا ہے کہ امام حسن رضی اللہ عنہ کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلافت دے دینا بغیر مجلس شورٰی سے مشورہ کے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کے تابع تھا یا نہیں ؟؟؟؟؟
اگر تھا تو کس دلیل سے اور اگر نہیں تو کیوں ؟؟؟؟؟
نیز میں یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ خلیفہ کے اپنے آپ کو امر خلافت پر پیش نہ کرنے کو خلافت کا متفقہ اسلامی اصول کہنا کس دلیل کی بنا پر ہے میرے علم میں تو سوائے مولانا مودودی کے اس اصول کو کسی نے اسلامی خلافت کا اصول نہیں قرار دیا اور وہ بھی متفقہ ؟؟؟ اگر ایسا ہے تو برائے مہربابی متقدمین علماء کی کتابوں سے چند حوالاجات درکار ہیں کہ جو اس امر خلافت میں اس اصول کو بنیادی اصولوں میں شمار کرتے ہوں اور وہ بھی متفقہ ۔ ۔ ۔ والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-04-12), کنعان (24-07-10), مرزا عامر (23-07-10), سحر (23-07-10), عبداللہ آدم (23-07-10)
پرانا 23-07-10, 11:36 AM   #14
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عابد بھائی
میں یہ بحث نہیں کرنا چاہتی ہوں ۔ کہ صحابہ رضی اللہ عنہ سے جو عمل ہوئے وہ صحیح تھے یا غلط ۔
ہم صرف یہ دیکھنا اور سمجھنا چاہ رہے ہیں کہ آیا خلافت کہاں تک قائم رہی ۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار ہونے کے بارے میں‌کہیں نہیں لکھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ کسی سے مشورہ کیے بغیر کیا تھا ۔
یہ امر بھی قابل غور ہونی چاہیے ، کہ اس فیصلے کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ نہیں رہے ۔

خلافت کے اصول جیسے کے اوپر لکھا ہے خلفائے راشدین کے منتخب ہونے اور ان کے خلافت کو قائم کرنے کے عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے وضع کیے گیے ہیں
آپ کی جہاں تک یہ بات ہے کہ دنیا کے حصول کی خواہش کے بغیر حکومت کی خواہش کی جاسکتی ہے ۔
تو اس بات کے سب سے ذیادہ حقدار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے ۔
اور اس وقت حالات بھی کچھ ایسے ہوگئے تھے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خود اپنے آپ کو پیش کرسکتے تھے ۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔

میں ابھی دو دن ذرا مصروف ہوں ۔
انشاءاللہ اگلی بار بات ریفرنسس کے ساتھ ہوگی ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-04-12), مرزا عامر (23-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), آبی ٹوکول (23-07-10), عبداللہ آدم (23-07-10)
پرانا 23-07-10, 12:00 PM   #15
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں‌تو پرھتے ہیں کہ انہیں کوفہ والوں نے خطوط بھیج بھیج کر خلافت کے لیے ابھارا تھا اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ان کی سواری کے آگے لیٹ گئے تھےکہ اپ نہ جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اسی طرح وہ 3 یا 4 شرائط جو انہوں نے ابن زیاد کے سامنے پیش کی تھیں ان میں بھی کہیں یہ ذکر نہیں تھا کہ مجھے اہل مدینہ نے منتخب کیا ہے اور نہ انہوں نے اپنی بیعت کرنے کی طرف توجہ دلائی جو ایسی صورت میں ہونی چاہیے تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
اسی لیے میں نے اس کا ریفرنس مانگا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امید ہے مائنڈ نہیں کیا ہو گا۔

والسلام
یزید بن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کا واقعہ تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں وقع پذیر ہوگیا تھا ۔
موالانا مفتی شفیع کی کتاب شہید کربلا
میں یہ واقعہ درج ہے ،


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کے موقعے پر مکہ میں

حضرت عبدللہ بن عمررضی اللہ عنہ ، عبدالرحمٰن بن ابی بکررضی اللہ عنہ ، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ،اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو

یزید بن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کرنے کو کہا ۔
ان سب نے انکار کیا ۔
ابن عمر نے فرمایا ۔

آپ سے پہلے بھی خلفاء تھے اور ان کی بھی اولاد تھی ۔ آپ کا بیٹا ان سے بہتر نہیں، مگر انہوں نے اپنے بیٹوں کے لیے وہ رائے قائم نہیں‌کی ۔ جو آپ اپنے بیٹے کے لیے کررہے ہیں ۔
بلکہ انہوں نے مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کو سامنے رکھا ۔

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ،اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا
آپ کے لیے یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ آپ اپنے بیٹے یزید کے لیے بیعت پر اصرار کریں ۔


دو دن ذرا میں مصروف ہوں
آگے بات ریفرنسس کے ساتھ ہوگی انشاءاللہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-04-12), محمد عاصم (23-07-10), مرزا عامر (23-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), عبداللہ آدم (23-07-10)
جواب

Tags
ہوگئی, ہونے, ہوتی, یہی, یا, ڈاکٹر, والا, وغیرہ, نظریہ, مولانا, ملے, مدت, مرحوم, السلام, بیان, بنو, حکومت, خلافت, خاندان, ختم, دوسرا, ساتھ, شروع, طرح, عباس


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پی ٹی سی ایل انٹرٹینمنٹ محمدعدنان ویب سائٹس کا جائزہ 7 02-09-09 08:14 PM
ٹیلفون کی گھنٹی بجی The Great قہقہے ہی قہقے 0 30-08-09 03:18 PM
پیپلز پارٹی جنرل مشرف کی بی ٹیم بن کر سابقہ حکومت کی پالیسیوں پر عمل پیرا عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 07:58 AM
پشاور: امریکی کمانڈر ایڈمرل ایرک ٹی اولسن کی کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد مسعود عالم سے ملاقات خرم شہزاد خرم خبریں 0 10-12-07 10:48 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:43 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger