| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 818
|
||||
| 8 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), ھارون اعظم (24-07-10), محمد عاصم (23-07-10), مرزا عامر (22-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), آبی ٹوکول (23-07-10), حیدر (22-07-10), سحر (22-07-10) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خلافت بھی ایک ہی خاندان کے لیے مختص کی گئی ہے، خاندان قریش
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), کنعان (24-07-10), مرزا عامر (22-07-10), آبی ٹوکول (23-07-10), حیدر (22-07-10), عبداللہ آدم (22-07-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
"جمہوریت دین ابلیس" سے ابھی جان کہاں چھٹی ہے بھائی یہ ایک ہی طرح کے 2 تھریڈ ھو جائیں گے۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں کچھ بولوں کہ نہ بولوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔(نہ بولو نہ بولو)
محترمہ سحر سے رابطہ کریں ۔تشفی بخش جواب ملے گا انشا اللہ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ بھی ایک تفصیل طلب بات ہے۔
کیا خلافت ہمیشہ صرف قریش کے لیے مختص تھی/ہے؟ کیا خلافت ہر صورت صرف قریش کے لیے مختص تھی/ہے؟ اگر دونوں سوالوں کا جواب ہاں ہے تو اسلام کا نظام مساوات کہاں ہے جو ایک غلام زادے کو امیر زادے کے برابر لا بٹھاتا ہے؟ اور بھی بہت کچھ ۔ ایک بریک کے بعد |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), فیصل ناصر (22-07-10), کنعان (24-07-10), مرزا عامر (23-07-10), آبی ٹوکول (23-07-10), عبداللہ آدم (23-07-10) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 983
کمائي: 32,018
شکریہ: 1,331
738 مراسلہ میں 2,352 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی واقعی ہے تو بہت کچھ ، کہ قیامت تک ہمیںصرف 12 خلفاءہی صیحملیںگے باقی تو اللہ ہی بہتر جانے
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), مرزا عامر (23-07-10) |
| کمائي نے ابرارحسین کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 30-04-12 | rana ammar mazhar | قیامت تک ہمیںصرف 12 خلفاءہی صیحملیںگے باقی تو اللہ ہی بہتر جانے | 10 |
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خلافت اور ملوکیت بالکل الگ ٹوپک ہے ۔
خلافت کے بنیادی اصول جن پر خلافت راشدہ قائم تھی ۔ حاکمیت الہیہ خلیفہ خود کو نامزد نہیں کرتا تھا اور نا اپنے آپ کو پیش کرتا تھا ۔ خلیفہ کی حیثیت اللہ کے قانون کو نافذ کرنا تھا ۔ اور اس کا ہر فیصلہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع تھا ۔ بیت المال امت کی امانت ہوتی تھی خلیفہ اپنی مرضی سے اس میںسے کچھ بھی خرچ نہیںکرسکتا تھا۔ خلیفہ کی تقری اہل الرائے یا مجلس شوریٰ کرتی تھی ۔ خلافت میں ولی عہد کا کوئی نظام نہیں تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اہل مدینہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا تھا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خود کو حکمران نامزد کیا ۔ اہل شام نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن ان کی حکومت اس وقت تک لیگلائز نہیں ہوئی جب تک حضرت حسن رضی اللہ عنہ ان کے حق سے دستبردار نہیں ہوگئے ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے دستبردار ہونے کا مطلب کہ اہل مدینہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکمران قبول کرلیا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت میں ایک شرط تو پوری ہوئی کہ اہل مدینہ نے قبول کرلیا لیکن باقی شرائط کے پورا نا ہونے کی وجہ سے ان کوخلیفہ نہیںکہا جاتا ہے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید بن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنی زندگی میںولی عہد بنانے اور بیعت دلوانے کی اہل مدینہ نے بھرپور مخالفت کی ۔ اس مخالفت کی وجہ یزید کا کردار نہیںبلکہ ولی عہد کا نظام تھا جو اب رائج ہونے جارہا تھا ۔ بنو امیہ حالانکہ قریش سے تعلق رکھتے تھے ۔ لیکن یزید بن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اہل مدنیہ تسلیم نہیںکیا اور بیعت نہیں کی ۔ اور اہل مدینہ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا ۔ مروان بن حکم کا بھی قریش سے تعلق تھا لیکن اہل مدنیہ نے بیعت نہیں کی عبدالملک بن مروان کا بھی قریش اور بنو امیہ سے تعلق تھا لیکن اہل مدینہ نے بیعت نہیںکی اور اہل مدینہ نے عبدالملک بن مروان کے دور میں حجاز کا خلیفہ حضرت عبداللہ بن زبیر کو بنایا ۔ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف و حجاز کا گورنر بناکر بھیجا ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر کی حجاج بن یوسف سے جنگ ہوئی اور حضرت عبداللہ بن زبیر شہید ہوئے ۔ اب بتائیں ، کیوں صحابہ رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد کسی حکمران کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی اگر وہ خلافت ہوتی تو کیا اہل مدینہ بیعت نا کرتے ۔ بنو امیہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اہل مدینہ نے خلیفہ تسلیم کیا ۔ اور انہوں نے خلافت کے بنیادی اصولوں پر خلافت قائم کی ۔ اس لیے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو پانچویں خلیفہ کہا جاتا ہے ۔ جب بنو امیہ ہی خلافت نہیںتھی ، تو بنو عباس اور عثمانیہ کو خلافت کیسے کہا جاسکتا ہے ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے Last edited by سحر; 23-07-10 at 12:34 AM. |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), مرزا عامر (23-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), آبی ٹوکول (23-07-10), احمدنواز (23-07-10), حیدر (23-07-10), عبداللہ آدم (23-07-10) |
|
|
#9 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کہ حکومت یا امارت قریش میں رہے گی جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے اور جو کوئی ان سے دشمنی کرے گا اللہ اس کو اوندھے منہ جہنم میں گرائے گا۔ (بخاری: کتاب الاحکام۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم:
سحرآپی یہ اہل مدینہ کے ہر دفعہ بیعت نہ کرنے اور حضرت حسین کو منتخب کرنا میرے علم میں آج آرہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ مستند کتابوں میں موجود ہیں؟؟؟؟؟؟کوئی حوالہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں تو حاکمیت الٌہیہ بھی قائم تھی اوربیت المال کا نظام بھی قائم تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو اس طرح تو ساری شرائط کم از کم ان کے دور میں تو پوری ہو گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اگلے ادوار میں بھی اکثر حاکمیت الٰہیہ اور بیت المال قائم رہے ہیں تو کیا ہم انہیں بادشاہی اسلامی حکومتیں کہیں گے؟؟؟؟؟؟؟؟ والسلام Last edited by عبداللہ آدم; 23-07-10 at 12:20 AM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), محمد عاصم (23-07-10), مرزا عامر (23-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), سحر (23-07-10) |
|
|
#11 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ایک یزید بن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا واقعہ۔ اسی وجہ سے وقع پذیر ہوا کہ انہوں نے بیعت نہیںکی تھی ۔ اور عبدالملک بن مروان کے دور میںحضرت عبداللہ بن زبیر کی جنگ اور شہادت کی وجہ بھی بیعت نا کرنا تھیں ۔ باقی ادوار کا میں ریفرنس ایک دو دن میں دیتی ہوں ۔ دیکھیں بات یہ نہیںہورہی کہ بنو امیہ ، بنو عباس وغیرہ کیسے حکمران تھے ، انہوں نے اللہ کا نظام نافذ کیا تھا یا نہیں بات ہورہی ہے کہ وہ خلافت تھی یا نہیں۔ اگر کوئی عادل بادشاہ ہو ۔ اس کے اختیار میں ہے کہ وہ اللہ کا قانون نافذ کرتا ہے یا نہیں ۔ لیکن خلافت خود ایسا نظام ہے جس میں خلیفہ کو اختیار نہیں ہوتا کہ آیا وہ اللہ کا قانون نافذ کرتا ہے یا نہیں ۔ بلکہ خلیفہ کا کام اللہ کے نظام کو نافذ کرنا ہی ہے بنو امیہ کے دور میں بیت المال حکمران کے تصرف میں ہوتا تھا ۔ مطلب اگر حکمران اس میںسے خرچ کرنا چاہے تو وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہے ۔ عباسی دور میںہارون رشید اور مامون رشید بہت عادل حکمران گزرے ہیں ان کے دور میںمسلمانوں نے بہت ترقی کی ۔ لیکن صرف اس وجہ سے اس کو خلافت نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
اسی لیے میں نے اس کا ریفرنس مانگا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امید ہے مائنڈ نہیں کیا ہو گا۔ والسلام |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
یہاں میرے آپ سے چند سوالات ہیں جب بقول آپکے خلیفہ خود کو خلافت کے لیے یش نہیں کرسکتا تو جو خود کو اس امر کے لیے پیش کرئے اسکا کیا حکم ہے ؟؟؟؟؟ پھر جب حضرت امیر معاویہ نے خود کو خلافت کے لیے پیش کردیا تو امام حسن رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے فرد کو خلافت کیوں دے دی کہ جو اس امر کے لیے خود کو پیش کررہا تھا کیا انکی نظر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ فرامین نہیں تھے کہ ہم اس امر کی طلبی کرنے والے کو یہ امر تفویض نہیں کیا کرتے ایسے میں میرے مزید سوالات یہ ہیں کہ پھرکیوں ایک خلیفہ برحق یعنی امام حسن رضی اللہ عنہ نے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو نافذ نہیں کیا جبکہ خلیفہ کا تو ہر فیصلہ ہی قرآن و سنت کے تابع ہونا چاہیے ایسے میں مجھے معلوم کرنا ہے کہ امام حسن رضی اللہ عنہ کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلافت دے دینا بغیر مجلس شورٰی سے مشورہ کے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کے تابع تھا یا نہیں ؟؟؟؟؟ اگر تھا تو کس دلیل سے اور اگر نہیں تو کیوں ؟؟؟؟؟ نیز میں یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ خلیفہ کے اپنے آپ کو امر خلافت پر پیش نہ کرنے کو خلافت کا متفقہ اسلامی اصول کہنا کس دلیل کی بنا پر ہے میرے علم میں تو سوائے مولانا مودودی کے اس اصول کو کسی نے اسلامی خلافت کا اصول نہیں قرار دیا اور وہ بھی متفقہ ؟؟؟ اگر ایسا ہے تو برائے مہربابی متقدمین علماء کی کتابوں سے چند حوالاجات درکار ہیں کہ جو اس امر خلافت میں اس اصول کو بنیادی اصولوں میں شمار کرتے ہوں اور وہ بھی متفقہ ۔ ۔ ۔ والسلام |
||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), کنعان (24-07-10), مرزا عامر (23-07-10), سحر (23-07-10), عبداللہ آدم (23-07-10) |
|
|
#14 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عابد بھائی
میں یہ بحث نہیں کرنا چاہتی ہوں ۔ کہ صحابہ رضی اللہ عنہ سے جو عمل ہوئے وہ صحیح تھے یا غلط ۔ ہم صرف یہ دیکھنا اور سمجھنا چاہ رہے ہیں کہ آیا خلافت کہاں تک قائم رہی ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار ہونے کے بارے میںکہیں نہیں لکھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ کسی سے مشورہ کیے بغیر کیا تھا ۔ یہ امر بھی قابل غور ہونی چاہیے ، کہ اس فیصلے کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ نہیں رہے ۔ خلافت کے اصول جیسے کے اوپر لکھا ہے خلفائے راشدین کے منتخب ہونے اور ان کے خلافت کو قائم کرنے کے عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے وضع کیے گیے ہیں آپ کی جہاں تک یہ بات ہے کہ دنیا کے حصول کی خواہش کے بغیر حکومت کی خواہش کی جاسکتی ہے ۔ تو اس بات کے سب سے ذیادہ حقدار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے ۔ اور اس وقت حالات بھی کچھ ایسے ہوگئے تھے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خود اپنے آپ کو پیش کرسکتے تھے ۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ میں ابھی دو دن ذرا مصروف ہوں ۔ انشاءاللہ اگلی بار بات ریفرنسس کے ساتھ ہوگی ۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), مرزا عامر (23-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), آبی ٹوکول (23-07-10), عبداللہ آدم (23-07-10) |
|
|
#15 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
موالانا مفتی شفیع کی کتاب شہید کربلا میں یہ واقعہ درج ہے ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کے موقعے پر مکہ میں حضرت عبدللہ بن عمررضی اللہ عنہ ، عبدالرحمٰن بن ابی بکررضی اللہ عنہ ، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ،اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو یزید بن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کرنے کو کہا ۔ ان سب نے انکار کیا ۔ ابن عمر نے فرمایا ۔ آپ سے پہلے بھی خلفاء تھے اور ان کی بھی اولاد تھی ۔ آپ کا بیٹا ان سے بہتر نہیں، مگر انہوں نے اپنے بیٹوں کے لیے وہ رائے قائم نہیںکی ۔ جو آپ اپنے بیٹے کے لیے کررہے ہیں ۔ بلکہ انہوں نے مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کو سامنے رکھا ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ،اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ کے لیے یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ آپ اپنے بیٹے یزید کے لیے بیعت پر اصرار کریں ۔ دو دن ذرا میں مصروف ہوں آگے بات ریفرنسس کے ساتھ ہوگی انشاءاللہ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), محمد عاصم (23-07-10), مرزا عامر (23-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), عبداللہ آدم (23-07-10) |
![]() |
| Tags |
| ہوگئی, ہونے, ہوتی, یہی, یا, ڈاکٹر, والا, وغیرہ, نظریہ, مولانا, ملے, مدت, مرحوم, السلام, بیان, بنو, حکومت, خلافت, خاندان, ختم, دوسرا, ساتھ, شروع, طرح, عباس |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پی ٹی سی ایل انٹرٹینمنٹ | محمدعدنان | ویب سائٹس کا جائزہ | 7 | 02-09-09 08:14 PM |
| ٹیلفون کی گھنٹی بجی | The Great | قہقہے ہی قہقے | 0 | 30-08-09 03:18 PM |
| پیپلز پارٹی جنرل مشرف کی بی ٹیم بن کر سابقہ حکومت کی پالیسیوں پر عمل پیرا | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 02-07-08 07:58 AM |
| پشاور: امریکی کمانڈر ایڈمرل ایرک ٹی اولسن کی کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد مسعود عالم سے ملاقات | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 10-12-07 10:48 AM |