یہ اپنا سامنا کرنے ، سچائی کا سراغ لگانے اور بنیادی فیصلے صادر کرنے کا وقت ہے ۔ یہ لمحہ اگر کھو دیا گیا تو ہر چیز ہم کھو دیں گے ۔ ہر سانحے میں سبق ہوتا اور ہر بحران میں مواقع چھپے ہوتے ہیں۔ قدرت کا اصول یہ ہے کہ گاہے صدمہ پہنچا کر وہ جگادیتی ہے ۔ اگر اس کے بعد بھی کوئی سویا رہے ؟
محض وزیر اعظم کی وضاحت سے کیا فائدہ کہ ہمیشہ وہ لیپا پوتی کرتے ہیں۔ صدر زرداری اور سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی نے جب اس تجویز پر صاد کیا تو سامنے کی اس حقیقت کو نظر انداز کیسے کر دیا کہ ان کی ساکھ ہی نہیں ۔ تحقیقات ہونی چاہئیے ، جنابِ والا اور ایسی تحقیقات کہ ساری قوم اعتبار کر لے اور ساری دنیا ۔ خدا کی زمین پر دائم آزمائش سے دوچار آدمی کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ابہام سے نجات کے لیے ادراک کا سفر طے کرے۔ From confusion to clarity ۔ قرآن کریم کی نادر آیات میں سے ایک آیت یہ کہتی ہے : شیطان کفار کا ولی ہے ، روشنی سے وہ انہیں تاریکی میں لے جاتا ہے اور اللہ مومنوں کا ولی ہے ، تاریکی سے وہ انہیں روشنی تک پہنچا دیتاہے ۔ عجیب لوگ ہیں ہم ، جب حادثہ ہو تو حقائق چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ، ایک دوسرے کو الزام دیتے ہیں ، یا دشمن ممالک کو ، جن میں سے بعض کو ہم دوست کہتے ہیں۔
اللہ نے آدمی کو فقط آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے "تاکہ ہم انہیں آزمائیں کہ ان میں سے کون احسن عمل کرنے والا ہے " انسان کی اولین ذمہ داری تو یہ ہے کہ وہ حیات اور کائنات پر غور کرتا رہے۔بالآخر طے کرے کہ زندگی کیونکر اور کس طرح بسر کرنی چاہئیے۔عمل کے مختلف دائروں میں پھر سوال اٹھتے رہتے ہیں ۔ فریضہ یہی ہے کہ سوچ سمجھ کر ، اخلاقی ذمہ داری اور اصولوں کی روشنی میں آدمی فیصلے صادر کرے۔ خاص طور پر تفویض کردہ ذمہ داریوں کے باب میں ۔ اللہ کے آخری رسول نے کہا تھا : تم میں سے ہر کوئی حکمران ہے اور ہر کوئی جواب دہ۔ کوئی ایک گھر میں ، کوئی ایک چھوٹی سی دکان یا دفتر اور کوئی ایک پوری قوم کے باب میں ۔ ارشاد یہ کیا تھا : زندگی ایک سوار ی ہے ، اگر تم اس پر سوار نہ ہوگے تو وہ تم پہ چڑھ جائے گی۔ آدمی کو پہل کرنی ہوتی ہے ، ورنہ ماحول اس پر چھا جاتا ہے ۔ زندگی گزارنی ہوتی ہے، وگرنہ زندگی آدمی کو گزارنے لگتی ہے ۔ شاعر منیر# نیازی نے فقط حیاتِ رفتہ کا ماتم نہ کیا تھا ، جب اس نے کہا تھا
میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا
بارہ سو برس ہوتے ہیں، اس عظیم درویش فضیل بن عیاض نے خلیفہ ہارون الرشید سے کہا تھا : اے خوبصورت چہرے والے تیرا کیا ہوگا۔ تجھے تو پوری امت کا حساب دینا ہے ۔زوا ل کی ابتدا تو بہت پہلے ہوئی تھی مگر تین چار صدیوں سے المیہ یہی ہے کہ عالم اسلام نے تباہ کرنے پر تلے دشمن کیلئے کبھی کوئی چیلنج پیدا نہ کیا بلکہ ایک کے بعد دوسرے چیلنج کا جواب دیتا رہا ، حتیٰ کہ اب وہ نڈھا ل ہے۔انگریزوں کا پہلا وفد اکبراعظم کے دربار میں اپنی ملکہ کا قصیدہ پڑھ چکا تو شہنشاہ نے فیضی# سے پوچھا"ایں جزیرہ نما کجا است؟" یہ جزیرہ نما ہے کہاں؟ ایران میں تب شاہ اسمٰعیل صفوی اور ترکی میں شاہ سلیمان کی حکومت تھی، یورپ جسے سلیمان ذی شان کہتا تھا ۔ عالم اسلام کی پہلی باوردی فوج ترکوں نے بنائی تھی اور پہلی باقاعدہ سول سروس بھی ۔ پتلون ترکی زبان کا لفظ ہے اور موسمِ سرما کی شدت میں نکٹائی بھی پہلی بار ترک شہسواروں نے پہنی تھی ۔
صدیوں کی تاریکی کے بعدمغرب انگڑائی لے کر کھڑا ہوا۔ ہم نے خود کو قدامت پسند علماء اور بادشاہوں کے حوالے کر دیا۔ رفتہ رفتہ ، بتدریج مغرب آگے بڑھتا رہا ۔ اس کے زیر اثر ہمارے ہاں الحاد کی تحریکیں اٹھیں ۔ اس طبقے نے جنم لیا، احساسِ کمتری اور مرعوبیت کی آخری حدوں پر کھڑا جو اپنی دنیا کو اجنبیوں کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ شرمندہ رہتا اور وہ اپنی قوم کو مطعون کرتا رہتا ہے ۔ پیہم جو اپنے سماج اور لوگوں ، حتیٰ کہ معاشرے کے بہترین لوگوں کو گالی دیتے ہیں۔ خود اپنے آپ سے جنہیں گھن آتی ہے ۔ ملّا اور ملحد ، دو انتہاؤں کے درمیان ہم کھڑے ہیں۔ اعتدال اور غور و فکر سے محروم۔ تمنا کہ گرد سے کوئی شہسوار اٹھے اور ہماری تقدیر بدل ڈالے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ جدو جہد کرنی پڑتی ہے اور پوری قوم کو جدوجہد۔ محمد علی جناح کی قیاد ت میں پاکستان اسی طرح وجود میں آیا تھا ۔ بنے گا بھی اسی طرح۔
صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
قائد اعظم کے ساتھ فقط نوجوان تھے ، لیڈر بعدمیں آئے اور ان میں سے اکثر ناقابلِ اعتماد ۔ اب بھی نوجوان ہی نمٹ سکتے ہیں ۔ بحران اتنا بڑا ہے کہ محض حکمرانوں ، جنرلوں او رسیاستدانوں پر ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے۔فقط وزیر اعظم پہ ہم کیسے بھروسہ کریں؟ کب غیر معمولی دانائی کا انہوں نے مظاہرہ کیا۔ سیلاب میں صدر فرانس سدھارے تھے اور اس تباہی میں وزیر اعظم ۔ سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا کو بھی اس سوال کا جواب دینا ہے کہ سات، ساڑھے سات برس تک اسامہ بن لادن پاکستان میں چھپے کیسے رہے ۔ اب تک سامنے آنے والی ان کی وضاحت ناکافی ہے اور یک طرفہ بھی ۔ جب تنازعہ اس قدر سنگین اورحاد ثہ اتنابڑا ہو تو انحصار صاحبِ معاملہ کی رائے نہیں بلکہ ثالث پر کیا جاتاہے ۔۔۔شفّاف تحقیقات پر ۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے جسٹس بھگوان داس جیسے کسی منصف ، سبکدوش عسکری اور انٹلی جنس ماہرین پر مشتمل کمیٹی۔ ہر چیز جو آشکار کردے ، کسی کا لحاظ روا نہ رکھے۔ بہت ہو چکا،لیاقت علی خان سے لے کرسانحہ مشرقی پاکستان تک ، جنرل محمد ضیاء الحق سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل تک، بہت ہو چکا۔ بس کر و، خد اکے لیے اب بس کرو۔ ابتدا کرو، اب انسانوں کی طرح جینے کی ابتدا کرو۔ حیاتِ اجتماعی کے اصول معلوم ہیں ، سبھی کو معلوم ہیں ۔سوال فقط یہ ہے کہ ان پر عمل کرنے کے لیے ہم تیار ہیں یا نہیں ۔ حالات کا سامنا کرنے ، آئینہ دیکھنے پر آمادہ یا نہیں ۔۔۔Face it، انگریزی میں کہتے ہیں Face it۔
ایک لعل ہی اگر کسی کا تمام سرمایہ ہو اور کھو جائے تو اس کے لیے تمام لوگ چور ہوتے ہیں ۔ ہمارا تو سبھی کچھ کھو گیا ۔ قومی وقار، معاشی خود مختاری ، مستقبل اور آنے والی نسلوں کے لیے آبرومندانہ زندگی کے امکانات، ہر چیزخطرے میں پڑی ہے ۔ معاف کرنے اور صبر کر لینے کے اب ہم متحمل نہیں ۔
عسکری اور سیاسی قیادت دونوں ذمہ دار ہیں ۔ فرق البتہ ہے ۔فوجی قیادت واشنگٹن کی مزاحمت کر رہی تھی ۔ ریمنڈ ڈیوس والے واقعہ کے بعد مسلّح امریکی کارندوں اور سی آئی اے کے ایجنٹوں کی وہ فہرست مانگ رہی تھی ۔ ا ن کی تعداد کم کرنے پہ مصر۔ جنرل شجاع پاشا نے سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا سے کہا تھا : ہمارے مفادات اگر مشترک ہیں تو آپکے لوگوں کی سرگرمیاں ہمارے علم میں ہونی چاہئیے۔ ادھر ایوان ِ صدر کو اصرار تھا کہ امریکہ کے ویزہ مانگنے والوں کی آئی ایس آئی مزاحمت نہ کرے۔ صدر کے فرمان پر وزیر اعظم نے سفیر حقانی کو حکم دیا اور ایک دن میں 492 ویزے انہوں نے جاری کر دئیے۔ پرلے درجے کی نالائقی الگ ، عسکری قیادت اسامہ کو چھپانے کی مرتکب بہرحال نہیں۔ امریکی دباؤ مگر اسی پر ہے۔ گالی پہ گالی ۔ الزام پہ الزام اور یہ ارشاد کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کی حفاظت فرمائینگے ۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ صدر زرداری ، وزیر اعظم گیلانی کی؟ امریکی اطاعت گزاری کا جن پر الزام ہے ۔ اسی طرح جیسے جنرل مشرف کی انہوں نے حفاظت کی ؟ چوہدری نثار اور شاہ محمود قریشی کی طرف سے ایسے میں صدر اور وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ پوری طرح قابلِ فہم ہے ۔ زیادہ اہم لیکن تحقیقات ہیں۔ شفاف اور قابلِ اعتبار تحقیقات۔ یہ اپنا سامنا کرنے ، سچائی کا سراغ لگانے اور بنیادی فیصلے صادر کرنے کا وقت ہے ۔ یہ لمحہ اگر کھو دیا گیا تو ہر چیز ہم کھو دیں گے ۔ ہر سانحے میں سبق ہوتا اور ہر بحران میں مواقع۔ قدرت کا اصول یہ ہے کہ گاہے صدمہ پہنچا کر وہ جگادیتی ہے ۔ اگر اس کے بعد بھی کوئی سویا رہے ؟
ربط