واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


خوشگوار زندگي کے تين اصول

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-07-10, 03:10 PM   #1
خوشگوار زندگي کے تين اصول
ابن آدم ابن آدم آف لائن ہے 15-07-10, 03:10 PM


عن ابی ایوب الانصاری قال : جاء رجل الی النبی فقال: عظنی واوجزاذا قمت فی صلاتک فصل صلاۃ مودع ولا تکلم بکلام تعتذر منہ واجمع الیاس مما فی ایدی الناس ۔

مسند احمد: ج5ص412 ۔ سنن ابن ماجہ :4171 الزھد


حضرت ابو ایوب انصا ری سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض پرداز ہوا : اے اللہ کے رسول " مجھے کوئی نصیحت کیجئے اور مختصر کیجئے ، رسول نے فر مایا : جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو تو ایسی نماز پڑھو کہ گویا تمھاری آخری نماز ہے ، اور کوئی ایسی بات نہ بولو جس سے کل معذرت کرنی پڑے ، اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے پوری طرح مایوس ہوجاوَ۔
مسند احمد ، سنن ابن ماجہ

نبی اکرم حضرت محمد مصطفی کو اللہ تعالی نے جن خصوصیا ت سے نوازا تھا ان میں ایک خصوصیت جوامع الکلم ہے یعنی آپ

- فداہ ابی وامی- مختصر سی عبارت میں معانی کا ایک سمندر پھر دیتے تھے اور سائل کے سوال کا جواب ایسے مختصر اور جامع الفاظ میں دیتے تھے کہ عموما اسے دوبارہ سوال کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی تھی ۔ انہیں جامع اور مختصر جوابوں میں سے ایک جواب زیر بحث حدیث میں بھی مروی ہے ، چنانچہ جب ایک صحابی آپ سے کچھ مختصر نصیحتی کلمات چاہتے ہیں تو اسکے جواب میں نبی کریم انہیں تین ایسی نصیحتیں فرماتے ہیں کہ انسان کی تمام کامیابی اور سعادت مندی کے اصول اسمیں بھر دئیے کہ اگر کوئی بندہ انکا اہتمام کر لے تو اسکے معاملا ت تمام ہوں اور وہ کام یاب ہو جائے ۔

1 : نمازکیلئے کھڑے ہو تو ایسی نماز پڑھو گویا یہ تمھاری آخری نماز ہے :

چونکہ نماز مسلمان پر سب سے پہلا اور اہم فرض ہے اور قیامت کے دن سب سے پہلے اسی سے متعلق سوال ہوگا ، اگر نماز درست نکلی تو اسکے دیگر اعمال کا حساب آسان ہوگا اور اگر نماز ہی کا معاملہ بگڑ گیا تو باقی دیگر اعمال کا انجام اور بھی برا ہو گا ، اسلئے آپ نے سائل کو حکم دیا کہ نماز کو مکمل طور پر ادا کرے ، اسے اچھے طریقےسے ادا کرنے کی پوری کوشش کرے اور ہر نماز پڑھتے وقت اپنا محاسبہ کرے کہ کیا اسکی تمام شرطوں ، فرضوں حتی کہ سنتوں کو پورا کررہا ہے ، کیا اسکی یہ کیفیت ہے کہ جس کے سامنے وہ کھڑا ہو رہا ہے وہ اسے گویا نظر آرہا ہے ، اگر نہیں تو یہ احساس ضرور رہے کہ وہ ذات اسے دیکھ رہی ہے ، وہ جو الفاظ ذکر و تلاوت و دعا اپنی زبان سے ادا کررہا ہے انکی ادائیگی کے وقت اسے احساس ہے کہ ان الفاظ میں وہ کس سےمخاطب ہے ؟ وہ اپنے قیام ، رکوع وسجود بلکہ ہر حرکت میں حق تعالی کے سامنے خشوع و خضوع کا اظہار کرہا ہے ؟ ظاہر بات ہے کہ اگر اسکی یہ کیفیت رہی تو اسکی نماز ضرور شرف قبولیت سے مشرف ہوگی اور بندگی کا مقصد ادا ہو گا ، بندے کی یہ کیفیت کب ہوگی اور یہ جذبات بندوں کے اندر کیسے پیدا ہوں گے،اسی حدیث میں نبی کریم نے اسکی طرف بھی اشارہ فرمایا دیا : یعنی بندہ یہ سوچ لے کہ شاید یہ میری آخری نماز ہو ، بہت ممکن ہے کہ اسکے بعد اب مجھے دوسری نماز پڑھنے کا موقع نہ مل سکے ، پھر جب بندے کو یہ احساس ہو جائے گا تو لا محالہ اسکی نماز ظاہری وباطنی حسن سے ہمکنار ہوگی ، یہی وہ نماز ہوگی جو بندے کو ہر برائی سے روکے گی اور ہر عمل خیر پر ابھارے گی نتیجۃ اسکا دل نور ایمان سے منور اور ایمان کی چاشنی سے لذت اندوز ہو گا ۔

2 : آج کوئی ایسی بات نہ کہو جس سے کل معذرت کرنی پڑے :

مقصد یہ کہ انسان اپنی زبان کی حفاظت کرے ، اس سے کیا ادا کر رہا ہے اس پرغور کرے کیونکہ زبان ہی پر انسان کے دوسرے اعضاء کی درستگی اور انکے معاملات کا دارومدار ہے ، چناچہ جب بندہ نے اپنی زبان پر کا بوپالیا تو دیگر تمام اعضاپر کابوپانا آسان ہے ، نبی کاارشاد ہے کہ جب انسان صبح کرتا ہے تو اسکے جسم کے تمام اعضا ء زبان سے نہا یت عاجزی سے عرض کرتے ہیں کہ ہمارے بارے میں اللہ تعالی ڈرتے رہنا ، اسلئے کہ ہمارا معاملہ تیرے ساتھ وابستہ ہے ، اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور تو بگڑ گئی تو ہم بھی بگڑ جائیں گے

{سنن الترمذی بروایت ابو سعید }

اللہ کے رسول نے اس حدیث میں بڑے بلیغانہ انداز میں زبان کی حفاظت کی نصیحت فرمائی اسلئے کہ جب انسان اپنی زبان پر قابوپاگیا تو گویا تمام اعضاء اسکے قبضے میں آگئے لیکن اگر اسکی زبان اس پر قابوپاگئی اور نامناسب باتیں اس سے نکلتی رہیں تو اسکی دنیا وآخرت بگڑسکتے ہیں اور پورے جسم کو اسکی سزابھگتنی پڑے گی ، یہی وجہ ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تو اپنی زبان سے کوئی ایسی بات نہ کہ جس پر تجھے شرمندہ ہونا پڑے اور لوگوں سے معذرت کرنی پڑے کیونکہ ایسا ہوا تو گویا تو اپنی زبان کا غلام ہے اور بہت ممکن ہے کہ اسکی وجہ سے تمہیں ایسا نقصان اٹھانا پڑے جسکی تلافی ناممکن ہو ۔

3 : لوگوں کے پاس جو کچھ بھی ہے اس سے مایوس ہو جاوَ :

اس جملے میں بنی نے بندے کی توجہ اس طرف دلائی کہ تمام دینی ودنیوی معاملات میں اسکا تعلق اللہ تعالی سے جڑا رہنا چا ہئے ، مانگے تو صرف اللہ تعالی سے مانگے ، امید رکھے تو صرف فضل الہی کی امید رکھے اور اسکے بر خلاف لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے مکمل مایوس ہو جائے ، اسلئے کہ جو شخص لوگوں کے پاس موجود چیزوں سے لاتعلقی اور لاپرواہی ظاہر کرے گا وہ ان سے مستغنی ہوجائے گا ، اسے چاہئے کہ وہ جسطرح اپنی زبان سے اللہ تعالی ہی سے مانگتا ہے اسی طرح اپنے دل کو اللہ تعالی ہی سے لگائے رکھے ، اسی کا حقیقی بندہ بنکررہے مخلوق کی عبودیت سے مکمل چھٹکارا حاصل کرے تا کہ عزت وشرف اسے حاصل ہو کیونکہ مخلوق سے امید رکھنا ذلت ورسوائی اور خالق سے تعلق عزت وشرف ہے ۔


آخرت کی کامیابی یہ ہے کہ انسان کی نماز درست اور سنت کے مطابق ہو ۔

بات کرتے وقت اسکے نتائج پر غور کرلینا چاہئے ۔

لوگوں سے بے نیازی اور خالق سے نیاز مندی خشگوار زندگی کا بہترین نسخہ ہے ۔
__________________
صراط الھدیٰ فورم
www.siratulhuda.com
اردو یونیکوڈ تحریر میں بنیادی دینی ، اخلاقی و اصلاحی تعلیمات اور سائینس و انفارمیشن ٹکنالوجی کی نفع مند معلومات کی ترسیل کا مرکز

 
ابن آدم's Avatar
ابن آدم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,100
شکریہ: 3,391
830 مراسلہ میں 2,404 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 116
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ابن آدم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (15-07-10), ایکسٹو (15-07-10), احمد بلال (15-07-10)
پرانا 15-07-10, 04:28 PM   #2
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ تعالٰی عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ ٰامین
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن آدم (15-07-10)
جواب

Tags
فرض, نماز, نظر, مکمل, موقع, ممکن, معذرت, آج, ایمان, اللہ, انسان, بہترین, بندگی, جواب, حکم, حدیث, حسن, خلاف, دل, دعا, زندگی, شخص, عزت, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
شيخ الاسلام امام احمد ابن تيميہ رحمہ اللہ ALI-OAD اسلام اور معاشرہ 1 12-12-10 03:10 PM
علامہ اقبال ٹاؤن ميں تين دھماکے فیضان صديقی ,سندھ پاکستان میں دہشت گردی 2 12-03-10 09:03 PM
تين سوال naeemuddin ایمان 1 25-02-09 07:08 PM
اجتماعي زيادتي۔۔ چاچا کمال عمومی بحث 5 18-04-08 08:22 AM
تين سوال ابن ضیاء اردو کہانیاں 4 11-04-08 09:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:44 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger