| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 940
|
||||
| 12 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (20-04-11), فاروق سرورخان (20-04-11), ھارون اعظم (20-04-11), محمدعدنان (20-04-11), مرزا عامر (22-04-11), حیدر (20-04-11), راجہ اکرام (20-04-11), رضی (24-04-11), شمشاد احمد (20-04-11), طاھر (20-04-11), عبداللہ آدم (20-04-11), عبداللہ حیدر (21-04-11) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تھوڑی سی تبدیلی کی اجازت چاہوں گا
مسلمان ایک "قوم "نہیں ہیں۔ بلکہ مسلمان ایک "جماعت" ہیں۔ مجھے یاد نہیں پڑتا قرآن میں کہیں بھی مسلمانوں کے لیے لفظ"قوم" استعمال کیا گیا ہو۔ قوم یا نیشن عموماً جغرافیائی حدود میں پابند افراد کو کہا جاتا ہے۔ قوم کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں پیدا ہونے والا ہر فرد بہر طور اسی قوم سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ چناچہ جغرافیائی اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ "مسلمان اور ہندو دونوں ہی پاکستانی ہیں اور ان کی شناخت پاکستان ہے"۔ اس کے بر عکس جماعت جغرافیائی حدود کی پابند نہیں ہوتی۔ دنیا کا کوئی بھی فرد جماعت کا حصہ ہوسکتا ہے۔ مثلاً پیپلز پارٹی میں پاکستانی بھی ہو سکتے ہیں اور اگر کوئی انگریز چاہے تو وہ بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہو سکتا ہے۔ جو پیپلز پارٹی میں شامل ہوا وہ کسی دوسری پارٹی میں شامل نہیں ہو سکتا۔ اور اس میں ضروری نہیں کہ اگر پیپلز پارٹی والے کے گھر میں جو بچہ پیدا ہو، وہ بھی "پیپلیا" ہی ہو۔ جب ہم دین کی بات کرتے ہیں تو یہاں پر یہی پرابلم سامنے آ جاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ چونکہ مسلمان ایک جماعت بھی ہیں اس لیے دنیا کا ہر مسلمان ہماری جماعت کا حصہ ہے۔ خوہ وہ مسلمان ہندوستان میں ہو یا پھر امریکہ میں۔ "اگر تو ہمیں سچ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا تو اس لحاظ سے دنیا کا ہر مسلمان پاکستان کا شہری ہے ۔خواہ وہ کہیں بھی رہتا ہو" چناچہ ایک ہندو ضرور بالضرور پاکستانی ہو سکتا ہے اور اسکی اس حیثیت پر کوئی انگلی نہیں اُٹھا سکتا۔ لیکن وہ امت محمدیہ کا حصہ نہیں ہو گا۔ اور دنیا کا ہر غیر مسلم پاکستانی نہیں ہو گا۔پاکستانی ہونے کی حیثیت سے اس کو کئی ذمہ داریوں کا بار اُٹھانا پڑ سکتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ امت محمدی کا حصہ نہیں ہے اس لیے وہ کئی ذمہ داریوں سے سبکدوش بھی کر دیا جاتا ہے جبکہ وہی ذمہ داریاں اسلامی جماعت کے ارکان پر لازم ہوتی ہیں۔ |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (20-04-11), محمد عاصم (22-04-11), محمدعدنان (20-04-11), مرزا عامر (22-04-11), آبی ٹوکول (20-04-11), راجہ اکرام (20-04-11), رضی (24-04-11), شمشاد احمد (20-04-11), عبداللہ آدم (20-04-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,212
شکریہ: 1,155
6,271 مراسلہ میں 14,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دو قومی نظریہ کی یہ تعریف ہم بچپن سے پڑھتے آرہے ہیں ۔ میرے ذہن میں بار بار یہ سوال آتا تھا کہ
کیا دو قومی نظریہ کا وجود صرف غیر منقسم برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ہی تھا ۔ کیا دو قومی نظریہ کا مقصد صرف پاکستان کا حصول تھا ۔ دو قومی نظریہ سراسرحقیقت ہے اور اس وقت تک قائم رہے گا جب تک اس خطے میں ہندواورمسلمان قومیں آباد ہیں۔ اور دو قومی نظریہ صرف پاکستان کی اساس نہیں اس خطے میں رہنے والے ہر مسلمان اور ہندو کے پاسپورٹ کا دیباچہ ہے۔ سقوط ڈھاکہ سے صرف مملکت کے دوحصے ہوئے تھے ملت کے نہیں۔ دو قومی نظریہ پاکستان اوربنگلہ دیش دونوں کے لئے یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ میرے خیال سے تویہ تفریق کرتا ہے مسلمان اور ہندو کی نا کہ پاکستانی اور ہندوستانی کی۔ ہماری پچھلی نسل کی باقی کوتاہیوں کے ساتھ ایک کوتاہی یہ بھی ہے کہ انہوں نے ہم کو نطریات کی وسعت نہیں دی ۔ اور ہمیشہ ماضی میں قید رہے سحرسسٹرآپ کس طرح کہہ سکتی ہیں کہ ہمیں نظریات کی وُسعت عطا نہیں کی گئی؟ یہ سچ ہے کہ ہم ہمیشہ ماضی میں قید رہے لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ زمانہ حال میں رہ کر مستقبل کے لائحے عمل کیلئے بھی اکثرکوشاں رہے یہ اوربات ہے کہ ایسے لوگوں کی تعدادکم ہے جنکونظریات کی وُسعت ملی۔ قوم کے لیڈر یا دانشوروں کا کام قوم کو مستقبل دکھانا ہے نا کہ ماضی میں قید کرنا ۔ قائداعظم اور علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کو مستقبل دکھایا اور پہر اس مستقبل کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی ۔ جب قوم کے لیڈر خود سو رہے ہوں تو اُن سے مستقل کیلئے قوم کیا توقعات وابستہ کرے اوروہ خود کیا کریں اس سلسلے میں قوم کیلئے۔ البتہ اِتنا ضرورہے کہ ایک قوم خود کو مستقبل میں کہاں دیکھتی ہے یہ سوچنا شروع کر دے تو ماضی کی قید سے نہ صرف چھٹکاراممکن ہے بلکہ مستقبل کیلئے بہترسے بہتر کرنے کی سوچ بھی مثبت و فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اب قوم کوعلامہ اقبال اورقائدِ اعظم جیسے لوگ ملنے سے تو رہے لہذٰا لیڈرروں پر رہنے سے بہترقوم کو خودپرانحصار کرنا چاہیے۔ پاکستان بننے کے بعد پوری نسل صرف تحریک پاکستان کے قصے سناتی رہی ۔ کسی نے نئی نسل کو آگے جدوجہد کرنے کے لیے رہنمائی نہیں کی یہ آپکے پورے دھاگے کا مین پوائنٹ ہے بلکہ آپکے اپنے دل کی بات جوآپ کہنا چاہتی ہیں۔ واقعی ہی میں ایسا ہوا ہے اوراب تک ہو رہا ہے۔ کسی بھی سٹینڈرڈ کی مطالعہ پاکستان کی کتاب کو پڑھیں تو ہرطرف دو قومی نظریہ، اسکی اہمیت وضرورت، اسکے مقاصد نظرآئیں گے لیکن کہیں یہ نہیں لکھا گیا کہ نئی نسل اس سلسلے میں یا اسکوآگے بڑھانے میں کیا کرداراَدا کرے۔ نئی نسل اب تک دوقومی نظریے کی اہمیت، مقاصد وغیرہ کے گردچکرکھا، رٹہ لگا کراور امتحان دے کر سرخروہو جاتی ہے لیکن آگے کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔ معذرت یہاں "باب ختم شُد" ہو جاتا ہے، کلاس میں طالبلعموں کا نعرہ ہُرااااااا۔۔ اسطرح ماضی کی یادیں ماضی کی باتیں ماضی کا حصہ بن کر رہ جاتی ہیں۔ چلیں ایک بات یہاں باب ختم ہو جاتا ہے تو کیا ہم نئی نسل کی رہنمائی کیلئے کچھ نہیں کر سکتے؟ کیونکہ ہم بھی تو وہی کرتے آئے ہیں جوآج کی نسل کر رہی ہے تو کیوں نہ نئی نسل کی راہنمائی کرنے اورماضی بتاکرمستقبل کیلئے تیار کرنے میں ہم پہل کریں۔ دوقومی نظریے کی اہمیت، مقاصد بتا کر اُنکو بتائیں کہ آگے کیا کرنا ہے۔ کیا پہلا قدم ہم(جس میں بھی استطاعت ہو) نہیں اُٹھا سکتے؟ بے شک اُٹھا سکتے ہیں اوراپنی نئی نسل کو ماضی کی راہوں میں بھٹکے رہنے سے بچاکر مستقبل کا روشن چہرہ دیکھا سکتے ہیں۔ دیرصرف قدم اُٹھانے کی ہے۔ کچھ ہم کہیں، کچھ تم کہو ہربات سے اک نئی بات کیلئے
وہ بات جواپنے ملک کی ہو، وہ بات جواپنے دیس کی ہو ماضی کی تاریک گلیوں سے نکال کرلے جائیں ہم اگر مستقبل کی روشن وادیوں میں نئے مقصد کی ملاقات کیلئے
__________________
![]() |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (20-04-11), مرزا عامر (22-04-11), حیدر (20-04-11), رضی (24-04-11), شمشاد احمد (20-04-11) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
2 قومی نظریہ کو فروغ دے کر ہم کو کیا فوائد حاصل ہوں گے؟ جو کرنے کا کام ہے وہ ہے اسلامی نظریہ حیات کا فروغ اور ترویج۔ اور میں نے تو خیر سے دونوں پر ہی کام نہیں کرنا۔ میں ریسٹ پر ہوں
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (22-04-11), مرزا عامر (22-04-11), آبی ٹوکول (20-04-11), راجہ اکرام (20-04-11), رضی (24-04-11) |
|
|
#7 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں نے ماضی کی نہیں مستقبل کی ہی بات کی ہے ۔ اور اپنی نئی نسل کو اسلامی نظریہ دینے کی کوشش کی ہے بس میرا طریقہ کار ذرا مختلف ہے ہم ببحیثیت مسلمان صرف برصغیر یا پاکستان تک محدود نہیں ہیں پاکستان ہماری پہچان ضرور ہے لیکن ہمارے مد مقابل پوری دنیا ہے صرف ہندو مسلم کونسپٹ دے کر ہم اپنی قوم کی سوچ کو محدود کردیں گے ۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اسی کونسپٹ کو میں ذرا مختلف طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے قوم جغرافیائی حدود کی پابند ہوتی ہے تو پہر غیر منقسم ہندوستان میں رہنے والے مسلمان اور ہندو دونوں کو ایک ہی قوم ہونا چاہیے تھا آپ کی اس تعریف کے مطابق قائداعظم کا دو قومی نظریہ کہاں فٹ ہوتا ہے ؟ میں یہی سمجھانا چاہ رہی تھی کہ جیسے حضور اکرم صلئی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قبائل تھے ایک قبیلے سے مسلمان اور کافر دونوں کا تعلق ہوتا تھا لیکن امت محمد میں تمام مسلمان شامل تھے مدینہ بھی اسلامی ریاست تھی لیکن مدینے میں رہنے والے کفار کو مدینہ کا ہی باسی شمار کیا جاتا تھا ۔ مسلمان کی نظر میں امت اور ملک کی حیثیت واضع ہونی چاہیے ۔ اسلام کے نام پر پاکستان بنانے کا مطلب یہ نہین کہ تمام مسلمان پاکستانی ہونگے جس طرح مدینہ میں اسلامی ریاست کے قیام کا مطلب یہ نہیں کہ یجاشی بھی مدنیہ کا تصور کیا جائے ۔ Last edited by سحر; 20-04-11 at 02:21 PM. |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (22-04-11), آبی ٹوکول (20-04-11), حیدر (20-04-11), راجہ اکرام (20-04-11), رضی (24-04-11), شمشاد احمد (20-04-11) |
|
|
#9 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#10 | ||
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
غیر منقسم ہندوستان میں ہندو مسلمان ایک قوم ہوئے ۔ |
||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جماعت بمقابلہ قوم کا تصور پچھلی صدی سے ہی سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن چونکہ قوم فی زمانہ اسان لگتا ہے اس لیے کوئی لفظ جماعت پر کان نہیں دھرتا اور جو دھرنے کی کوشش کرتا ہے وہ نامانوس ہونے کی وجہ سے سمجھ نہیں پاتا ![]() قائد اعظم کے مطابق "ہندو مسلمان ایک قوم ہوں نا ہوں" میرے مطابق ایک قوم ضرور ہیں۔ اپنی میموری کو ریوائینڈ کیجیے اور اسلامی مباحث میں "دارالاسلام اور دارلحرب" کی بحثوں اور انکی وجوہات پر غور کیجیے کہ کئی علما کے مطابق اسلام کیوں کر مسلمانوں کو دارلحرب میں رہنے سے منع کرتا ہے۔ آپ کو پتا چل جائے گا کہ جغرافیائی اعتبار سے دونوں ایک ہی قوم بن جاتے ہیں۔ میں نے دو قومی نظریہ پڑھا تو نہیں ہے ۔ ۔ ۔ لیکن اس بارے میں میری رائے کے دو اجزا ہیں 1: قائد اعظم کی کوئی بات میرے لیے قرآن نہیں ہے۔ 2:یاد رکھیے گا محمد علی جناح ایک سیاسی لیڈر تھے ، دین کے عالم نہیں۔ انکے سامنے اسلامی فتاویٰ کے انبار نہیں بلکہ مسلمانوں کے موجودہ اور مستقبل کے مسائل کے امنڈتے پہاڑ تھے۔ ان کے سامنے افراد کا ایسا انبوہ عظیم تھا جو دینی کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم سے بھی عاری تھا۔ ایسے میں اگر وہ "جماعت و قوم" کی اسطلاحات میں پھنس جاتے تو جو عظیم مقصد تھا وہ کھڈے لائن لگ جانا تھا۔ چناچہ انہوں نے اُس وقت کے مسلمانوں کی حالت زار کو مد نظر رکھتے ہوئے سادہ سی بات کہی ہوگی کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں ۔ جس کو اپنے نظریات اور تعلیمات کی عملی تصویر حاصل کرنے کے لیے الگ خطہ درکار ہے۔ یعنی انہوں نے "قوم بمعنی جماعت" ہی استعمال کیے ہوں گے۔ یعنی ہم مسلمان ہندوستان کی ایک ایسی جماعت ہیں جن کو اپنے نظریات اور تعلیمات اور منشور کی عملی تصویر اور تعبیر حاصل کرنے کے لیے الگ خطہ درکار ہے۔ (یاد کیجیے کہ اُس وقت کے کئی علما نے "مسلمان قوم" کے لفظ کی مخالفت کی تھی۔ میں انکا نام نہیں لوں گا کیونکہ ان کے نام سے کئی افراد کی تیوریاں چڑھ جاتی ہیں) اب قوم بمعنی قوم لیں یعنی افراد کا ایسا گروہ جو جغرافیائی اعتبار سے پابند ہو۔ قوم میں کسی دوسرے جغرافیہ کا فرد داخل نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی قومیت اختیار کرتا بھی ہے تو بھی وہ جتنا مرضی زور لگا لے "فرسٹ کلاس شہری نہیں بن سکتا"۔ کوئی شخص پاکستان میں رہتے ہوئے انگلینڈ کی قوم کا رکن نہیں بن سکتا۔اگر انگلینڈ پر فرانس حملہ کر دے، تو پاکستانیوں کو کوئی دُکھ یا تکلیف نہیں ہو گی۔ اس کے بر عکس جماعت میں کسی بھی جغرافیہ کا فرد داخل ہو سکتا ہے۔ جماعت میں شمولیت اختیار کرتے ہی اس کے حقوق و فرائض وہی ہو جاتے ہیں جو سینئر موسٹ ممبر کے ہوتے ہیں۔ وہ جماعت کا فرسٹ کلاس رکن بن جاتا ہے۔ اور اسلامی جماعت کی عمل داری پر کوئی حملہ ہو تو ہر کوئی دُکھ محسوس کرتا ہے۔ یاد کیجیے کہ علی و معاویہ (ر) کے درمیان جنگوں کے دوران حضرت امیر معاویہ کو جب قیصر روم نے خط لکھا کہ تم علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف لشکر کشی کرو میں تمہارا ساتھ دوں گا۔ تو حضرت امیر معاویہ نے غضب ناک ہو کر قیصر کو جواب دیا کہ اگر تم نے علی (رضی الہہ تعالی عنہ) کی طرف نظر اُٹھا کر بھی دیکھا تو میں انکی فوج کا عام سپاہی بن کر تمہارئے خلاف جنگ کروں گا۔ یہ تھی جماعتی سوچ۔ ورنہ اگر قومیت بھری سوچ ہوتی تو شام کے لیے نادر موقع تھا عراق سے بدلہ چکانے کا۔ قومیت میں محض جغرافیائی حدود میں رہنے والے افراد کو اہمیت دی جاتی ہے۔ "سب سے پہلے پاکستان" اسی قومیت کا شاخسانہ تھا۔ اقبال کا یہ کہنا کہ آج کے بتوں میں سب سے بڑا خُدا وطن ہے۔ اسی نظریہ قومیت کی نفی کرتا ہے۔ جب ہم بطور قوم سوچتے ہیں تو افغانستان پر حملے میں امریکہ کا ساتھ ٹھیک ہی لگتا ہے۔ہم نے ایک قوم کو دوسری قوم پر "پریفر" کیا۔ لیکن جب ہم ایک جماعت ہو کر سوچتے ہیں تب ہم کو تکلیف ہونے لگتی ہے کہ افغانستان میں ہمارے ہی جماعت کے بندے مر رہے ہیں۔ ج ہم قوم بن کر سوچتے ہیں تو کہتے ہیں کہ مصر یا لیبیا میں جو ہو رہا ہے اس سے ہمارا کوئ تعلق نہیں۔ لیکن جب ہم ایک جماعت ہو کر سوچتے ہیں تو ہمیں دُکھ ہوتا ہے کہ ہمارے بھائی ہمارے جماعتی ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ جب ہم پر نطریہ قومیت کا غلبہ ہوتا ہے تو ہم "پاکستان، پاکستان" چلاتے ہیں۔ جب ہم پر "نظریہ امت و جماعت" غالب آ جاتا ہے تب ہم "اسلام غالب آئے گا۔ اسلام غالب آئے گا" کے نعرے بلند کرتے ہیں۔ قوم کو بمعنی جماعت استعمال کیا تو جا سکتا ہے۔ لیکن عارضی طور پر۔ جب ہم مستقل طور پر خود کو قوم کہنا شروع ہو جاتے ہیں تولا شعوری طور پر ہم پر "جغرافیہ" غالب انے لگتا ہے۔ یہ اُسی نظریہ قومیت کا گلبہ ہوتا ہے کہ ہم میں سے کئی افراد "ادھر تم ، اُدھر ہم"، "سب سے پہلے پاکستان"، "ہندو طوائف کے پاس مت جاؤ ۔کیونکہ اس طرح مسلمانوں کا پیسہ ہندوؤں کے پاس چلا جاتا ہے " جیسے نامعقول خیالات جنم لیتے ہیں۔ میں نے ایک کوشش کی ہے جماعت کو قومیت سے الگ کر کے سمجھانے کی۔ لیکن اس معاملے میں میرے پاس الفآظ کی سخت قلت ہے۔ |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ننھا بچہ (04-09-11), مرزا عامر (22-04-11), رضی (24-04-11), سحر (21-04-11), عبداللہ آدم (21-04-11), عبداللہ حیدر (21-04-11) |
|
|
#12 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حیدر
میں اپ کی بات کا مطلب سمجھ گئی ہوں میں بھی یہی سمجھانا چاہ رہی ہوں ۔ کہ ہم الفاظ کے گھن چکر میں پھنسنے کے بجائے اصل مقصد کو سمجھیں ۔ آپ کی بات کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے آسان الفاظ میں کہ غیر منقسم بندوستان میں مسلمان اور ہندو دونوں ہی ہندوستانی تھے ۔ اب ان کو ایک قوم کہیں یا کچھ اور مسلمان ایک الگ امت ہیں ، میں بھی مسلمانوں کے لیے قوم کا لفظ استعمال نہیں کرتی ، کیونکہ اسلام میں مسلمانوں کو قوم نہیں امت کہا ہے ۔ قائد اعظم کے بھی دو قومی نظریہ کا مقصد یہی تھا ۔ ہندو مسلمان ہندوستانی تو ہیں لیکن مسلمان الگ امت ہیں ۔ دو قومی نظریہ کی بنیاد اسلام ہی تھی ۔ میں نے اسی نظریے کو وسعت دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ نظریہ پاکستان ببنے کے بعد امت محمد میں بدل جانا چاہیے کہ امت محمد اور غیر مسلم ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ پاکستان کی حیثیت ہماری پہچان سے ذیادہ نہیں ۔ امت محمد کو قوانین ، معاہدات وغیرہ میں اللہ کے قانون کا پابند ہونا ہے |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | ننھا بچہ (04-09-11), مرزا عامر (22-04-11), آبی ٹوکول (21-04-11), حیدر (21-04-11), رضی (24-04-11), عبداللہ آدم (21-04-11), عبداللہ حیدر (21-04-11) |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آبی ٹو کول بھائی۔۔۔میرا بھی شکریہ ادا کریں مندرجہ بالا مراسلے میں۔کیونکہ میری اور سحر کی بات ایک ہی تھی۔ یہ بات غلط ہے کہ ۔۔۔۔انکا شکریہ اور مجھے محض ٹھینگا
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یقین کیجیئے حیدر بھائی میں آپ دونوں زرخیز دماغوں سے اپیل کرنے ہی والا تھا کہ برائے مہربانی لفظی نزاع میں بات کو الجھانے سے گریز کریں اور تعمیری بحث کریں مگر سحر سسٹر کہ آخری مراسلہ نے مجھے میرے الفاظ کہنے سے روک دیا کیونکہ اس میں انھوں نے وہ تمام باتیں کہہ دیں جو میں عرض کرنا چاہ رہا تھا لہذا ان کاشکریہ فقط اس لیے کیا کہ انھوں نے میری زباں پر آئی بات پر سبقت کی اور آپ کا اس لیے نہیں کہ آپ کا مراسلہ ابھی تک پورے کا پورا پڑھا ہی نہیں یاد رکھیے میں ہمیشہ شکریہ اسی مراسلہ کا کرتا ہوں کہ جسے پورا پڑھ لوں ۔ ۔ ۔ والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیکرِ دلرُبا بن کے آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
مین خود پریشان تھا کہ............... دونوں حضرات(اوہ سوری( بات ایک ہی کرنا چاہ رہے ہیں............بلکہ کر رہے ہیں پھر بھی جواب پر جواب آئے جا رہے ہیں
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, ہوتے, ہوتا, ہندو, فرض, پہلے, پہچان, پاکستان, وقت, قید, قائداعظم, نام, مقصد, مسلمان, مسلمانوں, آبادی, اللہ, بچپن, بار, ثابت, دی, دنیا, سال, علامہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|