واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


دینی مدارس پر پولیس کے چھاپے ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-06-11, 04:05 PM   #1
دینی مدارس پر پولیس کے چھاپے ؟
سیفی خان سیفی خان آف لائن ہے 01-06-11, 04:05 PM

السلام علیکم

دینی مدارس جو کہ 1 بہت ہی اہم فریضہ ادا کر رہے ہیں ۔ اس مادیت کے دور میں علماء ، صلحا ء پیدا کر رہے ہیں۔ دینی مدارس کی تاریخ تمام اہل علم کے علم میں ہے ۔ میں یہاں پر وہ نہیں دھرانا چاہتا بلکہ میں صرف 1 ایسی بات آپ سب سے کرنا چاہ رہا ہوں جو کہ مجھے بہت پریشان کیے ہوؤے ہے

کچھ دنوں سے تقریباً پورے پنجاب میں ہی علوم اسلامیہ کے ان مراکز پر پولیس گردی جاری ہے ۔ روزانہ مدارس پر چھاپے مارے جا رہے ہیں ۔ اساتذہ اور طلباء کرام کو ہراساں کیا جا رہا ہے ۔
ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟
کیا دینی مدارس میں پڑھنے والے طلباء پاکستان کے شہری نہیں ہیں ؟
کیا دینی مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ کرام پاکستان کے شہری نہیں ہیں ؟

اگر ایسا ہے اور واقعی ایسا ہے تو پھر کیوں حکومت ان کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کر رہی ہے ؟

کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ایک سازش کے تحت یہ سب ہو رہا ہو تا کہ دینی مدارس کو حکومت ، پولیس اور فوج کے خلاف کھڑا کیا جا سکے ؟

وفاق المدارس کے ذمہ داران کب سے یہ دہائی دے رہے ہیں کہ ہم پاکستان میں ہر قسم کی دہشت گردی کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس کے باوجود ایسا برتاؤ ۔ ۔؟

کیوں ۔ ۔ ۔ایسا کیوں ہے ۔ ۔ ؟

ہمارے حکمران کب ہوش کے ناخن لیں گے ۔ ۔ ؟

دینی مدارس نے ہمیں کیا کچھ نہیں دیا ۔ ۔؟

علماء ، صلحاء ، مقرر، خطیب ، مبلغ ، محدث ، مفسر ،امام ، مؤذن ۔

اور ہم نے دینی مدارس کو کیا دیا ۔ ۔

دہشت گردی کا طعنہ ۔

رات کے 1 بجے پولیس کا چھاپہ ۔

خوف ۔ ہراس ۔
۔ ۔ ۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان حضرات کی حب الوطنی ہے کہ جو یہ سب کچھ برداشت کر کے بھی حب الوطنی کا درس دیتے ہیں ۔ ۔
اگر ہمارے حکمرانوں نے اب بھی اغیار کی چالوں کو نہ سمجھا تو میں چشمِ تصور سے وہ منظر دیکھ رہا ہوں کہ جب ان دُرویشوں کا تصادم ہمارے اداروں سے ہو گا ۔ ۔

میرے مالک میرے ملک کی حفاظت فرما اٰمین ۔ ۔
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/

 
سیفی خان's Avatar
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 656
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (01-06-11), skjatala (01-06-11), فخر بٹ (01-06-11), فرحان دانش (01-06-11), قاسمی (02-07-11), احمد بلال (01-06-11), ارشد کمبوہ (02-06-11), حیدر (02-06-11), راجہ اکرام (01-06-11), شمشاد احمد (01-06-11), عبداللہ خراسانی (02-06-11), عروج (09-06-11)
پرانا 01-06-11, 04:46 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,212
شکریہ: 1,155
6,271 مراسلہ میں 14,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لاہور…بیت اللہ محسود کی موت کی اطلاعات کے بعدکسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے لاہور پولیس نے شہرکے دینی مدارس اور درس گاہوں میں چھاپے مارے ہیں اور درجن سے زائد مشتبہ طلبہ کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیاہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی اطلاعات اور اعلیٰ حکام کی ہدایات پر پولیس نے بند روڈ،شیرا کوٹ،بادامی باغ، نوانکوٹ، ہنجر وال ، مسلم ٹاؤن،گرین ٹاؤن،کوٹ لکھپت اورکاہنہ میں مذہبی درسگاہوں میں رات گئے سرچ آپریشن کیا اور شناختی کارڈز اوردیگر دستاویزات نہ ہونے پر درجن سے زائد طلبہ کو حراست میں لے لیا۔اس موقع پر درس گاہوں کی مکمل تلاشی لی گئی جبکہ زیرحراست طلبا کوپوچھ گچھ کیلئے نامعلوم مقام منتقل کر دیا گیا ہے۔لاہور پولیس نے شیرا کوٹ کے علاقے سے پچاس سے زائد مشتبہ افغان شہریوں کو بھی حراست میں لے لیا ہے اوران سے تفتیش کی جارہی ہے۔
سورس:
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-06-11, 04:46 PM   #3
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,212
شکریہ: 1,155
6,271 مراسلہ میں 14,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حالیہ دنوں میں دینی مدارس پر چھاپوں کا ملک گیر سلسلہ شروع ہوا۔ اس سلسلے کا آغاز اسلام آباد کے مدارس پر چھاپوں سے ہوا ور بعد ازاں لاہور اور فیصل آباد سے ہوتا ہوا یہ سلسلہ کراچی کے مدارس تک پھیل گیا۔ اس آپریشن کے دوران بیسیوں مدارس پر چھاپے مارے گئے لیکن کہیں سے نہ تو اسلحہ برآمد ہوا اور نہ ہی کسی مشکوک شخص کی گرفتاری عمل میں آئی۔ پولیس نے اپنی ناکامی اور سبکی مٹانے کے لیے عجیب اوچھے ہتھکنڈوں سے کام لیا۔ آپ کراچی کے مدرسہ رحمانیہ بفرزون کی مثال لے لیجئے، اس ادارے میں قریبی تھانے کے پولیس اہلکار آئے انہوں نے پوچھا ”کیا آپ کے ہاں غیر ملکی طلباءزیر تعلیم ہیں؟“ ادارے کی انتظامیہ نے کہا ”جی ہاں! بالکل ہیں مگر ان کے پاس مکمل سفری اور قانونی دستاویزات، این او سی اور نادرا کارڈ موجود ہیں۔“ پولیس اہلکاروں نے کہا کہ ”بہت اچھی بات ہے، آپ مہربانی فرماکر ان طلباءکو ہمارے ساتھ بھیج دیں، ہم اپنے ہاں ان کے کوائف کا اندراج کرنا چاہتے ہیں۔“ مدرسہ انتظامیہ نے ان طلباءکو پولیس کے ہمراہ بھیج دیا لیکن پولیس نے ان کے کوائف کا اندراج کرنے کے بجائے میڈیا کے نمائندوں کو تھانے بلالیا اور ان معصوم، مظلوم اور مہمان طلباءکو دہشت گردوں کے روپ میں میڈیا کے سامنے پیش کردیا اور ان کی گرفتاری ڈال دی۔ ان طلباءکو اگلے دن جب عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے ان کے کاغذات کو تسلی بخش اور قابل قبول قرار دیتے ہوئے انہیں بری کردیا لیکن میڈیا کے ذریعے جو ڈھنڈورا پیٹا جاچکا تھا اس کا ازالہ ممکن نہ تھا۔ اسی طرح کے اوچھے ہتھکنڈے دوسری جگہوں پر بھی بروئے کار لائے گئے۔

یہاں یہ بات یاد رہے کہ مدارس کی انتظامیہ اور تمام مدارس کے نمائندہ وفاقوں نے ہمیشہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون بھی کیا اور اپنے اداروں کو کھلی کتاب کی مانند قرار دیا، یہ مدارس کبھی بھی نو گو ایریا نہیں رہے کہ ان پر پورے لاﺅ لشکر سمیت یلغار کی ضرورت پیش آئے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وقفے وقفے سے ان مدارس کو مشقِ ستم بنایا جاتا ہے اور معمول کی چیکنگ ، کوائف وغیرہ کے حصول، خفیہ نگرانی کے مسلسل اور مربوط سلسلے کے ہوتے ہوئے سمجھ نہیں آتی کہ کیوں کچھ عرصے بعد مدارس پر اس انداز سے چڑھائی کردی جاتی ہے جیسے اسرائیلی فوج غزہ یا بھارتی افواج کشمیر پر چڑھائی کیا کرتی ہےں۔ حالیہ دنوں میں مدارس کے خلاف جن حالات میں کریک ڈاﺅن کیا گیا ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان چھاپوں کے لیے ڈوری کہیں اور سے ہلائی گئی تھی۔ کیری لوگر بل میں چونکہ مدارس کی مشکیں کسنے کی شرط بھی شامل تھی اس لیے اس بل کی وفاقی کابینہ سے منظوری ہوتے ہی مدارس کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کردیا گیا اور عین اس موقع پر جب سینیٹر جان کیری اور جنرل پیٹریاس پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے مدارس پر چھاپے مارے گئے اور لاہور کے مدارس کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب بعض ”اہم مہمانوں“ کی لاہور آمد آمد تھی۔ مدارس کے ذمہ داران نے ایک بات بطور خاص نوٹ کی کہ چھاپے مارنے سے قبل پورے میڈیا کو باقاعدہ اطلاع دے کر ان کی حاضری کو یقینی بنایا جاتا تھا اور پھر اس چھاپہ مار مہم کا خوب ڈھنڈورا پیٹا جاتا تھا۔ اس سے لگتا ہے کہ یہ آپریشن مدارس کے میڈیا ٹرائل اور ایک منظم مہم کا حصہ تھا۔ ان چھاپوں کے بعد ایک اور بات یہ نوٹ کی گئی کہ بعض نجی چینلز کے بعض اینکر پرسنز نے مداس کو آڑے ہاتھوں لیا اور بعض نام نہاد دانشوروں اور قلم کاروں نے مدارس کے خلاف مزید کارروائی کے لیے ہلہ شیری دی اور بتدریج مدارس کے خلاف ماحول بنایا جانے لگا۔ یہ سب کچھ ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں لگتی ہیں۔

ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے تناظر میں مدارس پر چھاپے مار کر جہاں اس عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے ڈانڈے مدارس سے ملانے کی کوشش کی گئی وہیں حکومتی اداروں نے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے بھی مدارس کو ہی اپنا ہدف بنایا۔ ہمارے ہاں یہ عجیب ماحول بن گیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتیں کروانے والی اصل قوتوں کو بے نقاب کرنے کے بجائے ”مرے کو مارے شاہ مدار“ کے مصداق ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے دینی مدارس پر چڑھ دوڑتے ہیں اور اپنے نمبر بنانے اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسری طرف اصل تخریب کاروں کو افغانی بھیس، جعلی نمبر پلیٹ، ناجائز اسلحہ سمیت گرفتار کرکے اپنے ”صوابدیدی اختیارات“ کی بنیاد اور ایک فون کال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

مدارس کے خلاف یہ کریک ڈاﺅن ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب وطن عزیز تاریخ کے انتہائی نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کے گلے شکوے دور کئے جائیں اور مختلف ناراض طبقات کے خدشات کے ازالے کی فکر کی جائے جبکہ ہمارے ارباب اختیار الٹا نت نئے محاذ کھول رہے ہیں اور مدارس کے لاکھوں طلباءہزاروں علما اور مدارس کے ملک بھر میں پھیلے معاونین اور متعلقین میں تشویش و اضطراب پیدا کرکے وطن عزیز کو مزید بدترین حالات اور بحرانوں سے دوچار کررہے ہیں، موجودہ حالات میں مدارس کے خلاف چھاپے جہاں غلامانہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں، وہیں بدترین نا عاقبت اندیشی کے زمرے میں بھی آتے ہیں۔ اس وقت اعلیٰ سرکاری حکام کو سوچنا چاہیے کہ کہیں کوئی ایسی خاص قسم کی لابی تو نہیں جو دانستہ طور پر حالات کو بگاڑنا چاہتی ہے اور حکومت اور دینی قوتوں کے مابین محاذ آرائی کے لیے راہ ہموار کررہی ہے۔

مدارس پر حالیہ چھاپے مدارس کے خلاف امتیازی سلوک بھی ہے کیونکہ وہ عصری ادارے جہاں سے آئے روز اسلحہ برآمد ہو رہا ہے، جہاں قتل و غارتگری اور طلباءکے مابین تصادم روز کا معمول بن گیا ہے ان کے خلاف کریک ڈاﺅن کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی اور سارا نزلہ صرف مدارس پر گرایا جاتا ہے۔ اسی طرح نجی ہاسٹلز، ہوٹلوں اور دوسری جگہوں پر کریک ڈاﺅن نہیں ہوتا صرف مدار س کے خلاف ہی کیوں ہوتا ہے؟

دینی مدارس جہاں سے ہر وقت قال اﷲ و قال الرسول اﷲ کی صدائیں گونجتی ہیں، جہاں ملک کے استحکام و سالمیت کے لیے قرآن کریم کا ختم، سورہ یٰسین کی تلاوت اور آیت کریمہ کا ورد کیا جاتا ہے، وہاں اس طرح چھاپے مار کر ان اداروں کا تقدس پامال کرنا نہایت افسوسناک ہے۔ بعض جگہوں سے یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ پولیس اہلکار جوتوں سمیت مسجدوں میں گھس گئے، بعض جگہوں پر بچیوں کے مدارس میں چادر اور چار دیواری کا تقدس بھی پامال کیا گیا۔ یہ کس قدر شرمناک بات ہے؟ پاکستان کے عوام یہ سمجھ رہے ہیں کہ دینی مدارس کو اس لیے نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ وہ مراکز جو اسلام کی حفاظت کے قلعے ہیں ان میں نقب لگائی جائے اور جو ادارے لوگوں کے دین سے وابستگی اور حصول علم کا ذریعہ ہیں ان کو بدنام کردیا جائے اس لیے اس قسم کے کریک ڈاﺅن کا سلسلہ فی الفور بند ہونا چاہیے تاکہ عوامی تشویش و اضطراب کا خاتمہ ہوسکے۔

میں نے ان چھاپوں کے بعد تقریباً ہر مدرسہ کی انتظامیہ اور مہتمم صاحبان سے رابطہ کیا، ان کی حوصلہ افزائی اور دلجوئی کی، اس دوران یہ بات بڑی شدت سے محسوس کی کہ اس قسم کی کارروائیوں سے ملک بھر میں بہت زیادہ اشتعال اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ان چھاپوں کے بعد راولپنڈی ، اسلام آباد کے علماءکرام نے تمام اہم سرکاری شخصیات اور اعلیٰ حکام سے وفد کی صورت میں ملاقاتیں کیں، اسی طرح کراچی کے علماءنے گورنر سندھ سمیت دیگر لوگوں سے گفتگو کی اور خود میں نے وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک، سیکریٹری داخلہ آئی جی پنجاب ، ہوم سیکریٹری، چیف کمشنر اسلام آباد اور دیگر تمام اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ ان لوگوں میں سے کوئی بھی مدارس کے خلاف ہونے والے کریک ڈاﺅن کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ ہر ایک دوسرے پر ڈال رہا ہے اور زبانی طور پر مدارس کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی جاتی ہے لیکن عملاً پھر مدارس پر چڑھائی کردی جاتی ہے۔ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ تعلیم و تعلم میں مصروف لوگوں کے غم و غصہ اور مدارس کے طلباءکے اشتعال کو آخر کب تک کنٹرول کیا جاسکتاہے اور ہم یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس صورتحال کو کیا نام دیا جائے؟ …. قول و فعل کا تضاد کہا جائے یا کسی تیسری قوت کی کارستانی؟ …. اسلام دشمنی سمجھا جائے یا استعماری قوتوں کی غلامی؟ …. اور متاثرہ فریق کو صبر و تحمل کی ترغیب دیں یا لانگ مارچ کی تیاری؟…. کیوکہ اس ملک میں لانگ مارچ کے بغیر نہ تو کوئی مطالبہ منوایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اپنا حق حاصل کیا جاسکتا ہے۔

مولانا محمد حنیف جالندھری
جنرل سیکریٹری وفاق المدارس العربیہ پاکستان
سورس: ماہنامہ الابرار
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (02-07-11), ارشد کمبوہ (02-06-11)
پرانا 01-06-11, 04:51 PM   #4
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,221
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دینی مدارس پر پولیس کے چھاپے پڑوانے میں شریف برادران کا ہاتھ ہے۔
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-06-11, 04:51 PM   #5
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,513
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شئیرنگ کا شکریہ زارا سسٹر

جزاک ِ اللہ
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
سیفی خان کا شکریہ ادا کیا گیا
قاسمی (02-07-11)
پرانا 01-06-11, 04:56 PM   #6
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,513
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ شریف برادران کو اور کوئی کام نہیں ۔ ۔ ۔ سوائے اچھے کاموں کو روکنے کے
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
سیفی خان کا شکریہ ادا کیا گیا
قاسمی (02-07-11)
پرانا 01-06-11, 06:42 PM   #7
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 67
کمائي: 1,877
شکریہ: 1,115
56 مراسلہ میں 117 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ھورکم کوئی کرن دے تے فرانا
شھزادباجوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
شھزادباجوہ کا شکریہ ادا کیا گیا
قاسمی (02-07-11)
پرانا 01-06-11, 06:56 PM   #8
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,680
شکریہ: 873
1,314 مراسلہ میں 2,842 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دینی مدارس میں چیکنگ کیلئے چھاپے حکومت کا بہت اچھا اقدام ہے اگر یہ کام صحیح طریق پر ہو تو بہت زود اثر ہوں گے
__________________
اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو (جس کی بدولت تمہیں اس کا قُرب حاصل ہو ) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (المائدہ 35)
ندامت میں جھکے ہوئے سر سے اطاعت میں جھُکا ہوا سر بہتر ہے
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
مہتاب کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (02-06-11)
پرانا 01-06-11, 07:44 PM   #9
Senior Member
 
فخر بٹ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 812
کمائي: 5,892
شکریہ: 2,351
408 مراسلہ میں 663 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ شریف برادران کا کام ہے کیا اس کا کوئی ثبوت ہے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
فخر بٹ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-06-11, 08:43 PM   #10
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,513
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہتاب مراسلہ دیکھیں
دینی مدارس میں چیکنگ کیلئے چھاپے حکومت کا بہت اچھا اقدام ہے اگر یہ کام صحیح طریق پر ہو تو بہت زود اثر ہوں گے
دینی مدارس کے مقابلے میں اگر کالج، یونیورسٹیز پہ چھاپے مار جائیں تو زیادہ اسلحہ برآمد ہو سکتا ہے ۔ ۔

کیا تمام دہشت گرد ڈاڑھی والے اور مدرسے والے ہی ہوتے ہیں ۔ ۔؟
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
سیفی خان کا شکریہ ادا کیا گیا
قاسمی (02-07-11)
پرانا 01-06-11, 09:10 PM   #11
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 67
کمائي: 1,877
شکریہ: 1,115
56 مراسلہ میں 117 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دینی مدارس کی چیکنگ ھونی چاہے کیوں کہ یہاں چیکنگ کمزورں کی ہی ہوتی ہے چا ہےموڑ سایکل پرجاغریب کی چیکنگ ہوں ہماری پولیس کے جوان اُس کی چیکنگ بھی کرے گےاورگالیوں کا بنڈل بھی دےگے مگرکسی بڑی گاڑی پہ سوارڈاکو کی چیکنگ نہیں ھوں گی چاہے وہ قوم کی ساری دولت یو رپ کے بنکوںمیں جمع کرا دے امریکہ سے ڈالر لے کر ملک بچ دے وا جی وا کیا انصاف ،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شھزادباجوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
شھزادباجوہ کا شکریہ ادا کیا گیا
قاسمی (02-07-11)
پرانا 01-06-11, 10:44 PM   #12
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,680
شکریہ: 873
1,314 مراسلہ میں 2,842 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سیفی خان مراسلہ دیکھیں
دینی مدارس کے مقابلے میں اگر کالج، یونیورسٹیز پہ چھاپے مار جائیں تو زیادہ اسلحہ برآمد ہو سکتا ہے ۔ ۔

کیا تمام دہشت گرد ڈاڑھی والے اور مدرسے والے ہی ہوتے ہیں ۔ ۔؟
جتنے بھی دہشت گردوں کا سراغ ملا وہ سب داڑھی والے نہیں مگر ان کو آپریٹ کرنے والوں میں اکثریت داڑھی والے اور مدرسوں والے ہیں
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-06-11, 10:52 PM   #13
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

داڑھی تو طاہرالقادری کی بھی ہے اور وہ مدرسے بھی چلاتے ہیں تو کیاسمجھا جائے ؟؟
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (02-06-11)
پرانا 01-06-11, 11:07 PM   #14
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,680
شکریہ: 873
1,314 مراسلہ میں 2,842 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سب کی تلاشی لی جائے
دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا
مگر پریشانی کی بات نہیں ، جہاں سے اسلحہ نکلے گا اسے لال مسجد کی طرح معصوم ثابت کر دینگے
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
مہتاب کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (02-06-11)
پرانا 01-06-11, 11:23 PM   #15
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہاں تلاشی کی بات نہیں ہورہی ہے
تلاشی اگر کالجوں‌ اور یونورسٹیوں کی لی جائے تو شاید کسی اسلحہ ڈپو کا انکشاف ہوجائے
بہر حال
آپکے بیان کے پیرائے میں آپ سے سوال کیا ہے ؟
اقتباس:
جتنے بھی دہشت گردوں کا سراغ ملا وہ سب داڑھی والے نہیں مگر ان کو آپریٹ کرنے والوں میں اکثریت داڑھی والے اور مدرسوں والے ہیں
اقتباس:
داڑھی تو طاہرالقادری کی بھی ہے اور وہ مدرسے بھی چلاتے ہیں تو کیاسمجھا جائے ؟؟
تلاشی سب کی لی جائے میں اس پر متفق ہوں
مدرسوں کی ، کالجوں کی ۔ سیاسی اور مذہبی تنظیموں کی
کسی ایک کے خلاف کاروائی تو نا انصافی ہی کہلائے گی


دوسری عرض یہ ہے کے داڑھی کے خلاف بیان دیتے وقت احتیاط کرنی چاہئے
کچھ لوگ داڑھی کے خلاف پروپگینڈہ کرنے میں مصروف عمل ہیں اورکہیں ہم نادانستگی میں ان کے آلہ کار تو نہیں بن رہے ؟
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (02-07-11), حیدر (02-06-11), حیدر Rehan (02-06-11)
جواب

Tags
فوج, گے, پیدا, پولیس, پورے, پاکستان, پریشان, واقعی, چاہتا, ملک, منظر, ماں, مالک, السلام, ادا, اداروں, حرام, حضرات, خلاف, دیکھ, دے, طلباء, علوم, علماء, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نشئی بیوروکریٹ نے پولیس کو جوتے مار کر ایس ایس پی سندھ بدر کرا دیا جاویداسد خبریں 2 25-02-12 06:59 AM
ایک بچہ اپنی ماں سے بچھڑ گیا پولیس والے نے اسے روتے دیکھا تو پوچھا “تمھاری ماں کی پہچان کیا ہے“ بچے The Great قہقہے ہی قہقے 1 28-01-11 02:55 PM
چیف جسٹس کی برہمی پر وکلاءپر پولیس تشدد کی تمام ایف آئی آرز بحال ،بے قابو پولیس کسی کی نہیں سنتی جاویداسد خبریں 0 24-11-10 05:25 PM
پنجاب پولیس کے اشتہار میں بھارتی پولیس کا مونو گرام محمدعمر خبریں 1 19-03-10 09:38 PM
راشد رؤف فرارکیس میں ملوث پولیس اہلکاروں کے جسمانی ریمانڈ میں2 روز کی توسیع عبدالقدوس خبریں 0 25-12-07 01:43 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:46 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger