روٹھے ہوئے لوگ....ناتمام…ہارون الرشید
بنیاد تو حسنِ نیت ہے ۔ لیڈر کو مگر عالی ظرف ، صابر اور صاحبِ حکمت بھی ہونا چاہئے۔کبھی انشاء اللہ قائد اعظم علیہ رحمہ کے واقعات عرض کروں گا۔ ڈسپلن میں سخت مگر کیسے فراخ حوصلہ اور کتنے کشادہ مزاج۔ وہی جوحیات کے رازداں اقبال علیہ رحمہ نے کہاتھا
نگہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز
پھانسی کی کوٹھڑی سے بھٹو مرحوم نے آخری خط میں اپنی نورِ نظر کو لکھا تھا: سیاستدان تلخی میں مبتلا رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس اصول پر خود ان دونوں نے کتنا عمل کیا ؟ تاریخ ایک دن اس سوال کا جواب دے گی ،جب عہدِ موجود کے تعصبات تحلیل ہوں گے۔
تلخ گوئی کا جو معیار مگر نون لیگ نے قائم کیا ہے ،تاریخ میں اس کی مثال مشکل سے ملے گی۔ میرے محترم دوست چوہدری نثار اس فن میں ایسے طاق ہیں کہ سبحان اللہ۔ ایک زمانے میں عمران خاں سے ان کی دانت کاٹے کی دوستی تھی۔ اب وہ انہیں ٹیسٹ ٹیوب سیاستدان کہتے ہیں ، جنہیں ان کے بقول ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل شجاع پاشا پر بھی وہ بے طرح برسے ہیں مگر دلیل انہوں نے کوئی نہیں دی اور شواہد قطعاً نہیں۔اللہ مغفرت کرے ، ایک یورپی ملک کے دارالحکومت میں نواب زادہ نصراللہ خاں مرحوم سے پوچھا گیا : ضرورت پڑی تو کیاپاکستان کی ایٹمی قوت بروئے کار آئے گی ۔ جواب یہ تھا: تو کیا یہ ہم نے روزِ قیامت کے لیے بنایا ہے ؟ لیگی لیڈر کہتے ہیں کہ موزوں وقت پر وہ ہر چیز آشکار کر دیں گے ۔ کون سا موزوں وقت؟ یہی ہے کہ ہرچیز واضح ہو۔ عید کے بعد پاجامے کی ضرورت کیا؟ ڈرون حملوں کے خلاف نون لیگ کے لانگ مارچ کی طرح جو شاید 2111ء میں رونما ہو۔
پرویز مشرف سے عمران خان کی ملاقات نری افواہ نکلی ۔ صاف صاف انہوں نے کہہ دیا کہ جون 2002ء کے بعد ، جب وزارتِ عظمیٰ کو انہوں نے لات ماری (اور پھر آئی ایس آئی نے ان کی جماعت پر یلغار کر دی ) وہ مشرف سے کبھی ملے ہی نہیں ۔ کتے کے تحفے والی کہانی اور بھی مضحکہ خیز ہے ۔ کپتان کا کہنا ہے کہ مشرف کی کتاب کے مصنف ہمایوں گوہر ایک پلّا لائے تھے، جو جنرل کی طرف سے اپنے مدّاح کو عطا کیے گئے سگ کا فرزندِ ارجمند تھا۔ انہوں نے کسی اور کو دے دیا۔ ایک معروف چینل کے سربراہ کو اس ملاقات کا پورا یقین تھا ، جو میرے ذاتی دوست اور قرابت دار ہیں۔ ان کے ایک ہم نفس نے،اور ان سے بھی پرانا تعلق ہے ، تفصیلات بتانے کا وعدہ کیا،مگر وعدہ ہی رہا۔ رہی جنرل پاشا سے عمران خان کی ملاقات تو ڈیڑھ ماہ قبل ٹیلی ویژن پر انہوں نے خود ہی انکشاف کر دیا تھا۔ وہی کیا، سبھی ان سے ملتے رہتے ہیں ۔بعض دعویٰ کرتے ہیں کہ قومی سلامتی کے امور پر تبادلہ ء خیال کے لیے ۔ یہ تو وہی جانتے ہیں کہ بات کیا ہوتی ہے ۔ خود چوہدری نثار اور میاں شہباز شریف بھی بارہا جنرلوں سے ملے ۔ اس کے باوجود اگر وہ ان سے اختلاف ہی نہیں بلکہ مذمت بھی کرتے ہیں تو عمران خان کے باب میں حسنِ ظن سے کیوں کام نہ لیا جائے، جس نے کبھی میچ فکس نہ کیا۔
نون لیگ ایک عجیب پارٹی ہے ۔ نواز شریف تو پرلے درجے کے غصیل ہیں ہی ۔ ان کے اردگرد بھی ماشاء اللہ ، ایک سے ایک جذباتی آدمی موجود ہے ۔ بتایئے کہ قاف لیگ کو دھتکارنے ، عسکری قیادت کی مخالفت اور تمام چھوٹی پارٹیوں پربرہمی سے انہیں ملا کیا۔ چوہدریوں نے بے شک بے وفائی کی لیکن سزا تو نون لیگ نے خود اپنے آپ کو دی۔ زیادہ سے زیادہ سال بھر کی ناراضی کے بعد اگر قاف لیگ کو واپس لے کر پارٹی میں الیکشن کرادئیے جاتے تو چوہدری گجرات تک محدود ہو جاتے۔ 1999ء کا مارشل لا نافذ ہوا تو اشفاق پرویز کیانی بریگیڈئیر تھے۔ ان سے بدگمانی کا مطلب، جب کہ فوج کا سربراہ بننے کے بعد انہوں نے دھاندلی روکی اور اس کا فائدہ نون لیگ کو پہنچا۔ لیگی لیڈروں کا موقف درست کہ فوج کو سیاست سے الگ رہنا چاہئیے۔ فوج کا رسوخ مگر تب بڑھتا ہے ، جب سیاستدان لوٹ مار اور من مانی پر تل جاتے اور امریکہ کے سامنے سجدے میں گرتے ہیں ۔ علاج سیاسی جماعتوں کی جمہوری تشکیل ، آزاد عدلیہ اور طاقتور میڈیا میں پوشیدہ ہے ۔ سیاست حکمت کا نام ہے ، روٹھ جانے کا نہیں ۔ نواز شریف کیا صلاح الدین ایوبی ہیں ۔ نظریہ نہ مسلک ، ان کی منزل اقتدار ہے اور وہ خود بھی فوج اور ایجنسیوں ہی کی پیداوار ہیں ۔ بجا کہ چوہدریوں نے فیلڈ مارشل ، جنرل محمد ضیا ء الحق اور پھر جنرل مشرف ، تینوں کا ساتھ دیا ۔ توہین کا فائدہ تومگر زرداری صاحب کو پہنچا۔ نواز شریف کیا اپنے جذبہ ء انتقام کی تسکین چاہتے ہیں یاکم از کم ایسی تبدیلی ، جس سے کسی قدر استحکام پیدا ہو۔ اقتصادی نمو اور استعمار کے اثرا ت سے ممکن حد تک محفوظ رہنے کے لیے یہی واحد راستہ ہے ۔ ممتاز نون لیگی لیڈروں سے کئی بار اس موضوع پر بات ہوئی۔ ذاتی گفتگو تھی ، تفصیل عرض نہیں کر سکتا۔ ان میں سے کسی کے پاس جواب مگر کوئی نہ تھا۔ اکثر نے کہا: کیاکریں ، میاں صاحب نہیں مانتے۔ نہ مانیں سورج کیا ان سے پوچھ کر طلوع ہو گا اور قدرت کیاان کے لیے اپنے قوانین بدل ڈالے گی؟
سینیٹر طارق چوہدری کا کہنا ہے : عمران خان کے خلاف مہم اور اس کی کردار کشی کے لیے سینیٹر پرویز رشید، خواجہ آصف اور احسن اقبال پر مشتمل کمیٹی بنی ہے اور دس کروڑ روپے خرچ کرنے کا ہدف ہے ۔ 1996ء میں بھی نون لیگ نے یہی کیا تھا ۔ مشاہد حسین بھی شریک تھے اوربیرون ملک تک پیسے بٹے تھے ۔ حقیقت کیا ہے ، اللہ ہی جانے۔ طارق چوہدری مگر بے پر کی نہیں اڑاتے۔ یہ بھی ہے کہ کپتان کے خلاف عرق ریزی سے افواہیں گھڑی اور پھیلائی جا رہی ہیں۔
کون سی جماعت ہے جس سے نون لیگ کے تعلقات خراب نہیں؟ ایم کیو ایم، جماعتِ اسلامی ، اے این پی، جمعیت علماءِ اسلام ۔ 2008ء میں دو بار بائیکاٹ کا قطعی وعدہ کر کے نیگرو پانٹے، رچرڈ باؤچر اور برطانوی ہائی کمشنر کے اصرار پر یو ٹرن لینے کے بعد سندھ اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں سے بھی ناراضی ہوئی اور برقرار ہے۔ہزارہ کھو دیا،جاوید ہاشمی کو کھو دیا،کراچی کو صوبہ بنانے کی بات کر کے بے سبب ایک مصیبت کھڑی کر لی ۔ اعتدال رخصت ہوا تودانائی بھی جاتی رہی۔چوہدری نثار سے کم از کم عمران خان کے باب میں بہتر روّیے کی توقع تھی کہ ہمیشہ وہ ذاتی دوست رہے ۔ اختلاف بجا، مقابلہ بھی مگر ابھی دو برس پہلے میاں شہباز شریف احسن رشید کے گھر پہنچے تھے کہ اگر اتحاد ہو سکے تو وہ عمران خان کو چیف ایگزیکٹو تک ماننے پر آمادہ ہیں۔ شوکت خانم کے لیے شریف خاندان نے 30لاکھ کا عطیہ دیا تھا اور بحالی جمہوریت کی تحریک کے ہنگام ، کپتان نے میاں نواز شریف سے کہا تھا کہ وہ ان کے جونئیر پارٹنر بننے پر آمادہ ہیں۔
دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، عمران خاں مجھ سے ناراض ہیں۔ ناراض کیا ، بچوں کی طرح روٹھے ہوئے۔ اول مجھے پیغام بھیجا کہ پشاور میں میری فتح کو تم نے شکست بنا دیا۔ جواب دیا :میرا کالم آپ نے پڑھا ہی نہیں۔ لکھ بھیجا: دھرنے کو تم نے کمتر دکھایا۔ واضح کیا:یہ پہلے دن کے بارے میں تھا اور وہی لکھا ، جو دیکھا تھا۔ اعتراض کپتان کا درست ہے کہ دوسرے دن خلقِ خدا امنڈ کر آئی ۔ نہ صرف معرکہ اس نے جیت لیا بلکہ تحریک انصاف کے نئے دور کا آغاز ہو گیا۔ انحصار اگرچہ آئندہ کی حکمتِ عملی پر ہے ۔ روٹھنا مگر کیسا؟ خوش ہو یا ناراض ، لکھنا تو مجھے سچ ہے ۔ اس کے محاسن بھی ، اندازِ فکر کی خامیاں بھی۔
بنیاد تو حسن نیت ہے ۔ لیڈر کو مگر عالی ظرف ، صابر اور صاحبِ حکمت بھی ہونا چاہئے۔کبھی انشاء اللہ قائد اعظم علیہ رحمہ کے واقعات عرض کروں گا۔ ڈسپلن میں سخت مگر کیسے فراخ حوصلہ اور کتنے کشادہ مزاج۔ وہی جوحیات کے رازداں اقبال#نے کہاتھا
نگہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز
ربط