واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


زاویہ نظر کی طاقت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-09-11, 04:30 PM   #1
زاویہ نظر کی طاقت
حیدر حیدر آف لائن ہے 15-09-11, 04:30 PM

یہ خاص رضی بھائی کے لیے ہے۔ جنہوں نے ایک بات کہی تھی کہ "یہ سب ایسے ہیں۔ ایک مرتبہ ہم کسی بات پر بحث کر بیٹھے۔ لمبی لمبی پوسٹس لکھ ڈالیں۔ آخر میں پتا چلا کہ دونوں ایک ہی بات کر رہے ہیں"۔ یہ اقتباس گفت و شنید اور دوسرے کے زاویہ نظر کو سمجھنے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پاک نیٹ کے اہل علم کے لیے بطور خاص۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ "پاکستان کی آواز" میگزین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسٹیفن آر کووے:ایک بہت بڑا نام اورانتہائی پُر اثر شخصیت جن کو امریکہ کی موثر ترین شخصیات میں شامل کیا گیا اوران کی کتاب 7 Habits of Highely Effective peopleکو بیسویں صدی کی دو اہم ترین کتابوں میں سے ایک قرار دیا گیا۔اس کتاب کا 32 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چُکا ہے اور 75 سے زائد ممالک میں اس کی ڈیڑھ کروڑ کے نزدیک جلدیں بک چُکی ہیں، غیر قانونی تراجم الگ ہیں۔ اسٹیفن آر کووے اور سانڈرا اپنے بچوں کے ساتھ امریکہ کی ریاست یوٹاہ کے شہر پروو میں رہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ ہم پر اثر لوگوں کی ان سات عادات کوپوری طرح سمجھیں ،ہمیں پہلے اپنے‘‘زاویہ نظر’’ کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اپنے زاویہ نظر میں تبدیلی کیسے لائی جا سکتی ہے۔
زاویہ نظر کےمعنی ہیں زندگی کو ‘‘دیکھنے کا انداز’’۔محض آنکھوں سے دیکھنا نہیں بلکہ سمجھنے اور تشریح کے معنوں میں ۔
ہمارے مقصد کے لیے زاویہ نظر کو سمجھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اسے نقشے کے طور پر سمجھا جائے۔ہمیں معلوم ہے کہ ‘‘نقشہ بذات خود علاقہ نہیں ہوتا’’ نقشہ تو محض علاقے کے مختلف پہلووں کو اجاگر کرتا ہے۔زاویہ نظر بھی بالکل اسی طرح ہے۔
فرض کریں کہ آپ کو اندرون شکاگو کسی خاص مقام پر پہنچنا ہے۔ اس مقام پر پہنچنے کے لیے شہر کی گلیوں کا نقشہ بہت معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن فرض کریں کہ آپ کے ہاتھ میں غلط نقشہ آ گیا ہے۔ اور چھپائی کی غلطی سے جس نقشے پر شکاگو لکھا گیا ہے وہ درحقیقت ڈیٹرائٹ کا نقشہ ہے۔ کیا آپ کو اپنی مایوسی کا اندازہ کر سکتے ہیں جو آپ کو اپنی منزل پر نہ پہنچنے سے ہو گی۔
ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے رویے کو مثبت سوچ کے ذریعے بہتر بنانے کی کوشش کریں لیکن اس کے باوجود آپ اپنی منزل پر نہ پہنچ پائیں گے لیکن شاید آپ اس کی زیادہ پرواہ بھی نہ کریں۔ آپ کا سوچنے کا انداز اس قدر مثبت ہو گا کہ آپ جہاں بھی ہوں گے ، خوش ہوں گے ۔ لیکن درحقیقت آپ کھوئے ہوئے تو رہیں گے۔۔ بنیادی مسئلے کا آپ کے رویے یا سوچنے کے انداز سے کوئی تعلق نہیں۔
آپ کی جانفشانی تب رنگ لائے گی کہ پہلے آپ کے ہاتھ میں شکاگو کا اصل نقشہ ہو پھر آپ راستہ تلاش کرنے میں مشکلات کے دوران آپ کا مثبت رویہ آپ کا مددگار ہو سکتا ہے۔ لیکن پہلی اور سب سے اہم بات تو نقشے کا ٹھیک ہونا ہے۔
ہمارے حقیقی زندگی کے مسائل کی جڑ درحقیقت ہمارے زاویہ نظر ہی ہیں۔ اگر ہم دوسرے کے زاویہ نظر پر شک کرتے رہیں گے (یعنی خود ہمارا زاویہ نظر غلط ہو چُکا ہو گا) تو ہم ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے ہی رہیں گے۔
ہم اپنے تمام تجربات کی تشریحات انہی ذہنی نقشوں کی مدد سے کرتے ہیں اور ہم کبھی اپنے نقشوں کے درست ہونے پر سوال نہیں کرتے : بلکہ اکثر تو ہمیں ان کے ہونے کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ ہم تو بس فرض کر لیتے ہیں کہ چیزیں ویسی ہی ہیں یا انہیں ویسا ہونا چاہیے جیسا کہ وہ ہمیں نظر آتی ہیں۔ اور اسی فرض کر لینے کے تحت ہمارا رویہ اور سوچ تشکیل پاتے ہیں۔
مزید بات کرنے سے پہلے میں آپ کو ایک ذہنی اور جذباتی تجربے میں شامل ہونے کی دعوت دینا چاہتا ہوں ۔ چند سیکنڈ اگلے صفحے پر موجود(اب مراسلہ کے آخر میں) تصویر کو دیکھیے اور ذرا دھیان سے بتائیے کہ آپ نے کیا دیکھا ہے؟
کیا ااپ نے ایک عورت کی شبہد دیکھی ہے؟ آپ کے خیال میں اس عورت کی عمر کیا ہو گی؟ اور آپ اس کو کن مختلف کرداروں میں دیکھ سکتے ہیں؟
غالب امکان کہ آپ کہیں گے کہ دوسرے صفحے پر دکھائی گئی عورت کی عمر ۲۵ سال کے لگ بھگ ہے ۔ خوبصورت اور فیشن ایبل ، ظاہر داری کی شوقین، ننھے مُنے، پیارے ناک والی خاتون۔
آپ کے کیا جذبات ہوں گے اگر میں آپ کو یہ بتاوں کہ آپ کے اپنے اندازے بالکل غلط ہیں ۔ یہ ایک ساٹھ ستر سال کی بوڑھی عورت کی تصویر ہے جو بہت دُکھی نظر آتی ہے ۔ اس کا ایک بڑا سا ناک ہے۔ یہ ایک بیچاری بوڑھی خاتون کی تصویر ہے جس کی مدد کرنا آپ نیکی سمجھیں گے۔
آخر کون صحیح ہے؟تصویر کو ایک مرتبہ پھر دیکھیے۔ اگر آپ نے اُس تصویر میں کسی نوجوان لڑکی کو دیکھا تھا تو کیا آپ ایک بوڑھی خاتون کو دیکھ سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو کوشش جاری رکھیے۔ اور اگر آپ نے اس تصویر میں پہلے ہی بوڑھی عورت دیکھی تھی تو کیا آپ اس میں خوبسورت لڑکی تلاش کر سکتے ہیں؟ کیا آپ بڑی سی ناک دیکھ سکتے ہیں؟ اور شال؟
اگر میں اور آپ آمنے سامنے بیتھے ہوتے تو ہم اس تصویر پر بحث کر سکتے تھے۔ آپ جو کُچھ دیکھتے وہ مجھے بتاتے اور میں اپنا امشاہدہ آپ کو بیان کر سکتا تھا۔ ہم اُس وقت تک گفتگو جاری رکھ سکتے تھے جب تک آپ مجھے اچھے طریقے سے قائل نہ کر لیتے کہ آپ اس توتیر میں کیا دیکھ رہے ہیں ۔
یہ اہم بات ہے کہ آپ اس کو دیکھیں۔
پہلی مرتبہ مجھے کئی برس پہلے ہاورڈ بزنس سکول میں اس مشق سے سابقہ پڑا تھا۔ ہمارا استاد ہمیں بتا رہا تھا کہ ممکن ہے کہ دو افراد ایک ہی چیز دیکھ رہا ہوں مگر اپنے اپنے مشاہدے کے بارے میں ان میں اختلاف رائے پایا جائے لیکن اس کے باوجود دونوں سچے ہوں۔ یہ بات منطقی نہیں بلکہ نفسیاتی ہے۔
ہمارا استاد کلاس میں بڑے بڑے سائز کے کارڈز کے بنڈل لایا ان کارڈز میں سے نصف پر پہلی تصویر تھی اور باقی پر دوسری۔ اس نے کلاس کو دو حصوں میں بانٹ دیا اور انکو ایک ایک تصویر دے دی۔ اس نے ہم سے کہا کہ اپنے اپنے کارڈز کو دس دس سیکنڈ تک بوےر دیکھو اور پھر انہیں واپس کر دو۔ پھر اس نے بڑی سکرین پر وہی تصویر دکھائی اور طالب علموں کو دعوت دی کہ وہ اپنا مشاہدہ بیان کریں۔ کلاس دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ۔ آدھی کلاس کہے کہ اس تصویر میں جوان عورت ہے جبکہ آدھی کلاس بضد تھی کہ یہ تصویر ایک بوڑھی عورت کی ہے۔ پروفیسر نے طالب علموں کر اپس میں اپنا مشاہدہ شئیر کرنے کی اجازت دے دی۔ کلاس میں بحث چھڑ گئی۔
’’بوڑھی عورت؟ کیا مطلب ہے تمہارا؟ اس کی عمر تو کسی صورت بھی بیس بائیس سال سے زیادہ نہیں ہو گی‘‘
‘‘یار بس کرو۔ تم یقیناإ مذاق کر رہے ہو۔ اس کی عمر ستر برس یا شاید اسی برس تک ہو’’
’’بھئی تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ کیا تم اندھے ہو؟ یہ تو ایک انتہائی خوبصورت اور جوان اور پیاری عورت ہے۔ میں تو اس سے دوستی کرنا چاہوں گا‘‘
’’پیاری؟ یہ بوڑھی بدصورت ڈائن جیسی ہے’’
یہ بحث اسی طرح جاری رہی۔ ہر شخس اپنی رائے کے بارے میں پر یقین تھا اور اس بارے میں اسے کوئی مغالطہ نہیں تھا۔
اس ساری بحث میں طالب علموں کو کم ازکم یہ علم ضرور تھا کہ ان کے نقطہ نظر کے علاوہ بھی ایک نقطہ نظر موجود ہے۔اس علم کے باوجود یہ بحث پورے زور و شور کے ساتھ جاری تھی۔ ۔اکثر اوقات تو ہمیں یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ دوسرا نقطہ نظر بھی موجود ہے۔ لہذا ہمارے ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
آخر کار چند طالب علموں نے تصویر کو دوسرے حوالے سے بھی دیکھنا شروع کر دیا۔
آخر ایک طالب علم اُٹھا اور سکرین پر تصویر کی ایک لائن کی طرف اشارہ کر کے بولا ’’یہ دیکھو جوان عورت کا نیکلس‘‘ دوسرا بولا ‘‘نہیں یہ تو بوڑھی عورت کا منہ ہے’’آہستہ آہستہ وہ خاص اختلافات پر بات کرنے لگے اور آخر کار پہلے ایک اور پھر دوسرے اور پھر تقریباََسارے طالب علموں نے اچانک دونوں شبہیوں کو بیک وقت دیکھنا شروع کر دیا۔ مسلسل توجہ، خاص نقطوں پر بحث اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کی اہمیت محسوس کرتے ہوئے کمرے میں موجود تمام لوگ بالاخر ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کے قابل ہو سکے۔
یہ مشق سب سے پہلے تو یہ بات ثابت کرتی ہے کہ ہماری تربیت کس قدر بھرپور طریقے سے ہمارے ادراک اور چیزوں کو دیکھنے کے انداز کو متاثر کرتی ہے۔ ۔اگر دس سیکنڈ ہمارے دیکھنے کے انداز کو اس قدر گہرے طور پر متاثر کر سکتے ہیں تو پھر زندگی بھر کی تربیت کے بارے میں آُپ کا کیا خیال ہے؟خاندان، سکول، مذہب، کام کرنے کی جگہ، ماحول، دوست احباب، ، ساتھی اور مروجہ معاشرت اقدار مثلا شخصی اخلاقیات یہ تمام ہمارئ زندگیوں پر خاموش اور غیر شعوری طور پر اپنے اثرات چھوڑتے ہیں اور ہمارے چیزوں کو دیکھنے کے انداز ، زاویہ نظر اور ہمارے نقشوں کی تشکیل کرتے ہیں۔
اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ہمارا زاویہ نظر ہی ہماری رائے اور رویے کے پیچھے کار فرما ہوتا ہے۔ ادراک کی مشق سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا زاویہ نظر دوسروں کے ساتھ تعلقات کو کس قدر بھرپور انداز میں متاثر کرتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم انتہائی صاف اور بامقصد انداز میں چیزوں کو دیکھتے ہیں لیکن اب ہمیں یہ سمجھ آنا شروع ہو گئی کہ دوسرےبھی اسی قدر صاف انداز سے اور اسی قدر مقصدیت کے ساتھ چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں گو کہ انکا زاویہ نظر ہمارے زاویہ نظر سے یکسر مختلف ہو سکتا ہے۔
ہم میں سے ہر کوئی یہی سمجھتا ہے (یا سمجھنا چاہتا ہے ) کہ میں چیزوں کو بالکل ویسا ہی دیکھتا ہوں جیسی درحقیقت وہ ہوتی ہیں اور یہ کہ میں بہت مقصد پسند ہوں۔ ہم دنیا کو اس کے مطابق نہیں دیکھتے بلکہ اپنے مطابق دیکھتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ اپنی تربیت کے مطابق دیکھتے ہیں۔ ہم جو کچھ دیکھتے ہیں اسے بیان کرنے کے لیے جب لب کشائی کرتے ہیں تو دراصل ہم اپنے آپ کو ، اپنے ادراک کو اور زاویہ نظر کو بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ جب دوسرے لوگ ہم سے اختلاف رائے کا اظہار کرتے ہیں تو ہم فورا یہ سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں میں کوئی خرابی ہے ۔لیکن جیسا کہ اوپر بیان کی گئی مشق سے ثابت ہوا کہ مختلف اور صاف ذہن کے لوگ چیزوں کو اپنے مخصوص تجربات کی روشنی میں مختلف طریقوں سے دیکھتے ہیں ۔
اس کا قطعی مطلب یہ نہیں کہ حقائق ہوتے ہی نہیں اس مشق کے دوران وہ لوگ جنہوں نے پہلے مختلف تصویریں دیکھیں اور آخر ایک ہی تصویر اکھٹے دیکھی ، اسے دیکھنے کے دوران وہ دونوں ایک ہی طرح کے حقائق کا معائنہ کر رہے تھے۔ کالی لکیریں اور انکے درمیان سفید جگہیں اور یہ دونوں اسے ایک حقیقت کے طور پر مانیں گے لیکن اس حقیقت کو دونوں اپنے اپنے پچھلے تجربے کی روشنی میں بیان کریں گے۔ حقائق کے اپنے کوئی معنی نہیں ہوتے سوائے اس کے کہ ان کی تشریح کیسے کی جاتی ہے اور ان کو بیان کیسے کیا جاتا ہے۔
ہم جس قدر اپنے زاویہ ہائے نظر، اپنے نقشوں ، اپنے مفروضوں اور اپنے تجربات کے متعلق آگاہ ہوں گے ، اسی قدر ہم اپنے زاویہ نظر کے بارے میں زمہ دارانہ رویہ اختیار کریں گے ، انہیں پرکھیں گے، حقائق کے مقابل انہیں جانچیں گے، دوسروں کو سُنیں گے اور کھلے دل سے انکے ادراک کو سمجھیں گے اور اس طرح ایک بڑی تصویر کو دیکھ سکیں گے اور اپنے خیالات کو پہلے کی نسبت بہت زیادہ با مقصد بنا سکیں گے۔
اس ادراک کی مشق کا سب سے اہم سبق زاویہ نظر کی تبدیلی سے متعلق ہے۔ ایسے تجربات جن کے بارے میں ہم بے اختیار کہہ اُتھتے ہیں کہ ‘‘اچھا !!!!!!!!!!!’’ اور یہ تب ہوتاہے کہ جب ہم دونوں شبہیوں والی تصویر کو ‘‘دوسری طرح بھی دیکھنا‘‘ شروع کر دیتے ہیں۔ پہلے تجربے کا تاثر آپ کے ذہن پر جس قدر گہرا ہو گا اسی قدر زور سے آپ ’’اچھا ‘‘ کہیں گے۔یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے اچانک روشنی کا بٹن دب جائے اور آپ کے اندر ایک نئی طرح کی روشنی پھیل جائے۔ ہمارے زاویہ ہائے نظر ہی ہمارے رویوں اور رائے کی تشکیل کرتے ہیں اور ہمارے دوسروں کے ساتھ تعلقات بھی انہی پر منحصر ہوتے ہیں ۔
مجھے زاویہ نظر کی چھوٹی سی تبدیلی کا ایک واقعہ یاد ہے۔ اتوار کی ایک صبح نیو یارک میں ، میں زیر زمین ٹرین میں سفر کر رہا تھا، لوگ خاموشی سے بیھے ہوئے تھے، کُچھ اخبار کا مطالعہ کر رہے تھے اور کُچھ اپنی سوچوں میں گم تھے اور کُچھ آنکھیں موندے آرام کر رہے تھے۔ ایک بہت خاموش اور پر سکون ماحول تھا۔
پھر اچانک ایک آدمی اپنے بچوں کے ساتھ ٹرین میں داخل ہوا۔ بچے اس قدر پر شور اور ہنگامہ خیز تھے کہ ایک دم ٹرین کا ماحول بالکل ہی بدل گیا۔
وہ آدمی میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھ گیا ، اس نے آنکھیں بند کر لیں یوں کہ گویا اس کا اس ماحول سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ بچے اونچی آواز میں چیخ چلا رہے تھے، ایک دوسرے پر چیزیں پھینک رہے تھے ۔ حتیٰ کی لوگوں کے کاغذوں سے بھی چھیر چھار کر رہے تھے۔ یہ سب بہت تکلیف دہ تھا، لیکن اس کے باوجود وہ شخص میرے ساتھ آرام سے آنکھیں موندے اسی طرح بیھا تھا۔
نا ممکن تھا کہ کوئی بھی اس صورت حال سے غصے میں نہ آئے۔میرے لیے یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ کوئی شخص اتنا بے حس بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے بچے وحشیوں کی طرح اودھم مچا رہے ہیں اور یہ آرام سے بیٹھا ہے اور کُچھ بھی نہیں کر رہا ، اسے کسی قسم کی ذمہ داری کا احساس ہی نہیں۔ یہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کہ ڈبے میں بیٹھا ہر شخص ہی صورتحال سے پریشان تھا۔ بالاخر میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور میں اس شخص کو اُٹھا کر کہا کہ ‘‘سر !آپ کے بچے لوگوں کو بہت پریشان کر رہے ہیں ، میرا خیال ہے کہ آپ کو انہیں کنٹرول کرنا چاہیے’’
اس شخص نے یوں آنکھیں کھولیں جیسے ایک لمبے عرصے بعد ہوش آیا ہو۔ وہ آہستگی سے بولا ‘‘ہنہ ! آپ ٹھیک فرما رہے ہیں۔ میرا خیال ہے مجھے اس سلسلے میں کُچھ کرنا چاہیے ۔ دراصل ہم ابھی ہسپتال سے آ رہے ہیں جہاں انکی ماں ایک گھنٹہ قبل فوت ہو گئی ہے اور مجھے بالکل بھی کُچھ سمجھ نہیں آ رہی اور میرا خیال ہے انہیں بھی پتا نہیں چل رہا کہ اس صورت حال سے کیسے نبٹیں ’’
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اس وقت میری کیا کیفیت ہوگی؟ میرا زاویہ نظر یکسر تبدیل ہو گیا۔ اچانک میں چیزوں کو بالکل مختلف طریقے سے دیکھنے لگا اور میرا موقف بھی بالکل تبدیل ہو گیا۔ مجھے بچوں کے شور کی وجہ سے پیدا شدہ پریشانی بالکل بھول گئی اور مئیرادل اُس شخص کے لیے ہمدردی سے بھر گیا۔ میں جو بھی غصے سے بھرا بیٹھا تھا، ہمدردی اور غمگساری کے جذبات سے بھیگ گیا۔۔ ہر چیز ایک لمحے میں بالکل تبدیل ہو گئی
زاویہ ہائے نظر بہت طاقتور ہوتے ہیں ۔ یہ ہمیں وہ عدسے فراہم کرتے ہیں جن کے ذریعے ہم اس دنیا کو دیکھتے ہیں۔ زاویہ نظر کی تبدیلی انسانی ترقی اور بڑی تبدیلی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ چاہے وہ تبدیلی ایک دم ہو جائے یا آہستہ آستہ اور سوچے سمجھے طریقے سے لائی جائے۔

Attached Images
 


 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 684
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (15-09-11), فیصل ناصر (15-09-11), نورالدین (16-09-11), احمد نذیر (15-09-11), رضی (18-09-11), عبداللہ آدم (16-09-11)
پرانا 15-09-11, 04:54 PM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فرصت سے پڑھ کر تبصرہ کرنا پڑے گا
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 15-09-11, 05:01 PM   #3
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ تو ایک جوان عورت کی تصویر لگتی ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (16-09-11)
پرانا 15-09-11, 10:38 PM   #4
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس تصویر میں دھوکہ ہے کہ سچائی کو مکس کر دیا گیا ہے ، کسی کی نظر میں جوان اور کسی کی نظر میں بوڑھی۔ سورس ہمیں صحیح معلومات پہنچانے میں مخلص نہیں ۔ یہ بلکل ایسے ہی ہے جیسے بچپن میں بادلوں میں اپنی پسند کی شبّہہ بنالینا ۔
لیکن بعض چیزیں یا باتیں بہت واضح ہوتی ہیں اس میں مختلف نکتہ نظر کی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ معلومات کی سورس ہمیں شک شبہے میں رکھنا نہیں چاہتی۔ بلکہ سورس ہمیں واضح کر دینا چا ہتی ہے کہ اصل کیا ہے۔ زاویہ نظر صرف اسی صورت مختلف ہوتا ہے جب ہم سورس کو متنازع سمجھیں۔
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر
skjatala آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (17-09-11), حیدر (16-09-11), رضی (18-09-11)
پرانا 15-09-11, 11:08 PM   #5
Senior Member
 
محمدمبشرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: اسلام آباد
عمر: 23
مراسلات: 1,442
کمائي: 21,476
شکریہ: 2,638
1,002 مراسلہ میں 2,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدمبشرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدمبشرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ کوئی چھوٹی سی بچی ہے، جسے شائید سردی سے بچنے کے لئے یا روائتی کپڑے پہنا ئے گئے ہیں۔ ۔ ۔ ۔
__________________
سارےسنم مسمارکر، بس اک خداسےپیاکر
رکھ کرنبی کو سامنے، آرائش کردار کر
محمدمبشرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدمبشرعلی کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (16-09-11)
پرانا 16-09-11, 08:33 AM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
لیکن بعض چیزیں یا باتیں بہت واضح ہوتی ہیں اس میں مختلف نکتہ نظر کی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ معلومات کی سورس ہمیں شک شبہے میں رکھنا نہیں چاہتی۔ بلکہ سورس ہمیں واضح کر دینا چا ہتی ہے کہ اصل کیا ہے۔ زاویہ نظر صرف اسی صورت مختلف ہوتا ہے جب ہم سورس کو متنازع سمجھیں۔
نہیں ایسا ضروری نہیں ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ضروری نہیں ہوتا کہ "جب سورس کو متنازع سمجھا جائے تب ہی زاویہ نظر کے مختلف ہونے کی وجہ سے اختلاف رائے پیدا ہو"۔
ایک واضح چیز جو آپ کی نظر میں غریب کی خالی پلیٹ کی طرح صاف ہے ، ضروری نہیں دوسرے کے پاس بھی ایسا ہی ہو۔
عموماً ناکافی یا ادھوری معلومات بھی زاویہ نظر کو تبدیل کر دیتی ہیں۔

مثلاً مجھے زاویہ نظر کی تبدیلی کے ایک واقعہ سے گزشتہ دنوں سامنا ہوا۔
بچوں کو سکول چھوڑنے کے لیے میرا گزر ایک سڑک سے اکثر ہوتا ہے۔اُس سڑک پر ایک مرتبہ کسی وجہ سے کھدائی ہوئی ۔یہ کھدائی سڑک کو کراس کر کے کنارے سے قبل رک جاتی تھی۔ بعد میں اس پر مٹی پتھر ڈال کر بند کر دیا گیا۔ لیکن کھڈا سا بن گیا جس پر سے موٹر سائیکل گزارنا بُرا لگتا تھا۔ چناچہ ایک کنارہ ایسا تھا جہاں سڑک سلامت تھی ۔۔وہاں سے ہم بائیک گزار لیا کرتے تھے۔
عید کے بعد جب اُس روڈ سے گزرنے کا اتفاق ہوا تو دور سے نظر پڑی کہ سڑک کا وہ کنارہ جہاں سے ہم بائیک گزارا کرتے تھے، وہاں پر کسی نے بڑا سا پتھر رکھ دیا ہے۔ رحیم یار خان کی روٹین یہ ہے کہ سپیڈ بریکر بنا کر اس کے کناروں پر بھی پتھر وغیرہ رکھ دیتے ہیں تاکہ منڈے کھنڈے وہاں سے تیزی سے بائیک نہ گزار سکیں ۔
مجھے وہ پتھر دیکھ کر سخت غصہ آیا کہ اب یہاں کس کو تکلیف ہو گئی۔ مین روڈ ہے۔ یہاں بھی بندہ سپیڈ سے نا جائے تو کیا پیدل جائے۔ شاید غصے میں ، میں نے دل میں اُس نادیدہ شخص کو کوئی مغلظات بھی نکال دی ہوں۔
خیر جب میں نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ گزشتہ بارشوں کی وجہ سے سڑک کی اُس جگہ پر گہرا گڑھا بن گیا ہے ۔۔۔جس کی وجہ سے انجان آدمی کو نقصان کا اندیشہ تھا۔ کسی نے نیکی کی اور وہاں پر پتھر رکھ دیا تاکہ دور سے ہی علم ہو جائے اور احتیاط برتی جائے۔ میں دل ہی دل میں شرمندہ ہوا کہ کسی نے اپنا قیمتی وقت نکال کر دوسروں کو تکلیف سے بچایا ۔۔۔جبکہ میں اُس کو بُرا بھلا کہہ رہا ہوں۔

اب کیا ہے کہ یہ سورس یا حقیقت بالکل واضح تھی یعنی ایک بڑا پتھر۔ لیکن دور سے دیکھنے کی وجہ سے زاویہ نظر مختلف ہو گیا۔
اب اگر میں وہاں قریب نہ جاتا اور صرف دور سے دیکھ کر رہ جاتا ۔۔۔تو میرا زاویہ نظر کیسے تبدیل ہونا تھا؟ یہ معاملہ ہے سابقہ منفی تجربات اور ادھوری معلومات کا۔ ۔ ۔
تاہم کبھی کبھی واضح حقیقت پیچیدہ صورت بھی اختیار کر لیتی ہے۔ یہ تصویر اُسی پیچیدہ صورت کو پیش کر رہی ہے۔ عام دنیا میں تصویر سے ہٹ کر پیچیدہ صورت حال کی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ اس فورم پر بھی کئی پیچیدہ صورتحال موجود ہیں۔ مثلاً احادیث والا معاملہ۔
چناچہ ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے موقف کو مخلصانہ انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں اور سمجھنے کا پراسس یہی ہے کہ انسان پیچیدہ صورت حال میں چھوٹی چھوٹی جزیات پر غور کرے۔

Last edited by حیدر; 16-09-11 at 02:39 PM. وجہ: Editing a Line
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (16-09-11), فیصل ناصر (16-09-11), ھارون اعظم (16-09-11), نورالدین (16-09-11), منتظمین (16-09-11), رضی (18-09-11), عبداللہ آدم (16-09-11), عروج (18-09-11)
پرانا 16-09-11, 08:38 AM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مثلاً اگر تھریڈ پڑھا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہاں یونیورسٹی میں بھی اس تصویر کے معاملے میں دو یا دو سے زائد آرا تھیں۔ جس طرح فیصل بھائی کا کہنا ہے کہ اس تصویر میں جوان لڑکی ہے۔ اسکے برعکس مجھے پہلی مرتبہ بھی اور اب بھی اس میں بوڑھی عورت کی شبیہ نظر آتی ہے۔ مبشر بھائی کا کہنا ہے کہ چھوٹی سی بچی ہے۔

اب دو ہی صورتیں ہیں یا تو ہم ایک دوسرے کو جھٹلا دیں، دوسرے کی دماغی حالت پر شک کریں۔۔۔اور اپنی بات پر اڑ جائیں کہ نہیں میں ہی ٹھیک ہوں۔۔۔۔وہ غلط کہہ رہا ہے۔ یا پھر ہم اس تصویر کی چھوٹی چھوٹی جزیات پر غور کریں اور ایک دوسرے کو سمجھائیں۔۔۔۔
تب جا کر یا تو میں ان کو اس تصویر میں بوڑھی عورت دکھا دوں گا یا پھر یہ مجھے اس تصویر میں جوان لڑکی (اس معاملے میں میں تیز ہوں۔۔۔۔ڈھونڈ نکالی تھی۔ چھوڑنے والا نہیں۔ ۔۔۔شادی جو نہیں ہوئی)
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (16-09-11), فیصل ناصر (16-09-11), ھارون اعظم (16-09-11), نورالدین (16-09-11), رضی (18-09-11), عبداللہ آدم (16-09-11)
پرانا 16-09-11, 01:56 PM   #8
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ کی بات صحیح ہے حیدر بھائی
فرق صرف ایک نکتے میں ہے

جب ہم کسی بات پر بحث کرتے ہیں تو ہماری انا ہم کو دوسرا زاویہ دیکھنے ہی نہیں دیتے
مطلب یہ کے ہماری ہر بحث کا اصل مقصد کسی بھی بات کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے بجائے " میں ٹھیک ہوں اور تو غلط ہے " پر مبنی ہوتا ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
حیدر (16-09-11), رضی (18-09-11)
پرانا 16-09-11, 02:38 PM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
آپ کی بات صحیح ہے حیدر بھائی
فرق صرف ایک نکتے میں ہے

جب ہم کسی بات پر بحث کرتے ہیں تو ہماری انا ہم کو دوسرا زاویہ دیکھنے ہی نہیں دیتے
مطلب یہ کے ہماری ہر بحث کا اصل مقصد کسی بھی بات کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے بجائے " میں ٹھیک ہوں اور تو غلط ہے " پر مبنی ہوتا ہے
اور شاید یہی رویہ وجہ بنتی ہے کہ ہم بجائے اپنا موقف یا زاویہ نظر دوسروں کو "سمجھانے" کے۔۔۔"منوانے" پر تُل جاتے ہیں
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (16-09-11), فیصل ناصر (16-09-11), رضی (18-09-11), عبداللہ آدم (16-09-11)
پرانا 16-09-11, 10:27 PM   #10
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بحث کا احسن طریقہ یہی ہے کہ اس کو جدال یا ٹسل سے بچایا جائے((میں خود سو میں ننانوے دفعہ ایسا نہیں کر پاتا(( ، اور تجربہ بتاتا ہے کہ اسی صورت میں کسی درجے اس اصلاح کی امید کی جا سکتی ہے جو اگلے بندے سے مجھے مطلوب ہے............. !!!

جہاں تک احادیث یا مذہب کی دوسری باتوں کا معاملہ ہے تو یہاں پر لاجک سے زیادہ "منقول" چیزیں اہمیت رکھتی ہیں.......... اور ہم ہر ہر چیز کی کنہ کو پہنچ بھی نہیں سکتے اور نہ ہی ہم پر یہ ناروا بوجھ دالا ہی گیا ہے کہ ہر ہر حکم اور عمل کی علت تلاش کر کے اس پر عمل پیرا ہوں......... اس لیے ان معاملات میں زاویہ نظر کے ساتھ ساتھ اس بنیادی فرق کو بھی مد نظر رکھنے کی از حد ضرورت ہے .

والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
skjatala (16-09-11), حیدر (17-09-11), رضی (18-09-11)
پرانا 16-09-11, 11:10 PM   #11
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
جہاں تک احادیث یا مذہب کی دوسری باتوں کا معاملہ ہے تو یہاں پر لاجک سے زیادہ "منقول" چیزیں اہمیت رکھتی ہیں.......... اور ہم ہر ہر چیز کی کنہ کو پہنچ بھی نہیں سکتے اور نہ ہی ہم پر یہ ناروا بوجھ دالا ہی گیا ہے کہ ہر ہر حکم اور عمل کی علت تلاش کر کے اس پر عمل پیرا ہوں......... اس لیے ان معاملات میں زاویہ نظر کے ساتھ ساتھ اس بنیادی فرق کو بھی مد نظر رکھنے کی از حد ضرورت ہے .


جزاک اللہ ! عبداللہ ابنِ آدم بھائی۔
نظریہ “زاویہ نظر ” دین پر لاگو نہیں ہوتا ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “ میں تمہارے درمیان ایسا دین چھوڑ کر جا رہا ہوں جس کی راتیں بھی دن کی طرح روشن ہیں۔

Last edited by skjatala; 16-09-11 at 11:12 PM.
skjatala آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
حیدر (17-09-11), رضی (18-09-11)
پرانا 17-09-11, 09:08 AM   #12
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

او بھائی جان۔۔۔۔زاویہ نظر کا معاملہ اسلام میں ۔۔۔۔۔"منوانے اور سمجھانے" کی حد تک محدود ہے۔ میرا مراسلہ نمبر 9 اسی بات کو بیان کر رہا ہے کہ اسلام کی بات کرتے ہوئے ہم دوسروں کو سمجھانے کے بجائے ، منوانے پر تُل جاتے ہیں۔ اور یہی چیز مسائل پیدا کر دیتی ہے۔

اسی بات کو شاید قران میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ " اور تم کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا گیا"، " اور نہیں ہے تم پر کُچھ بھی مگر پہنچانا"، "اے نبی کیوں تم انکی فکر میں اپنی جان ہلکان کیے دے رہے ہو۔۔۔۔"(درست الفاظ یاد نہیں، مفہوم ہے) وغیرہ

یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جس طرح اس تصویر میں دونوں زاویہ نظر رکھنے والے افراد حق بجانب ہوں اسی طرح باقی معاملات میں بھی ہوتا ہو۔ کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں جہاں دو میں سے ایک زاویہ نظر غلط ہوتا ہے۔

لیکن زاویہ نظر کی طاقت کے اس ٹاپک کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ ہر موضؤع پر ایک سے زائد نظریات موجود ہو سکتے ہیں۔ اور ان نظریات کا مقابلہ تشدد یا جبر سے نہیں بلکہ دلائل سے کیا جا سکتا ہے۔ اور دلائل سے بات کرنے کے لیے آپ کو حوصلہ، تدبر، صبر، باریک بینی جیسے ہتھیاروں سے کام لینا پڑے گا۔

ورنہ مارا ماری میں آپ لوگ اپنے حمایتیوں کو بھی اپنے سے دور کر دیں گے۔

"آپ لوگ یہ زاویہ نظر سمجھ رہے ہو کہ نہیں؟"
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (17-09-11), فیصل ناصر (17-09-11), رضی (18-09-11)
پرانا 17-09-11, 11:24 AM   #13
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
"آپ لوگ یہ زاویہ نظر سمجھ رہے ہو کہ نہیں؟"
یہ نظریہ “ زاویہ نظر ” مسئلہ فیثا غورث کی ہی طرح ہے۔
لگ رہا ہے آپ بھی اب ہم پر وہی کچھ اپلائی کرنا چاہ رہے ہیں جس کا ذکر منذرجہ بالا سطور میں ہے-
ناراض نہ ہوں۔ آخر تھریڈ کو طول کیسے دیا جائے، جبکہ کافی دنوں کے بعد اچھا تھریڈ پڑہنے کو ملا ہے۔
اور آپ چاہتے ہیں کہ “ اچھی شئرنگ اور شکریہ” کی گرد تلے دب کر قصّہ پارینہ بن جائے۔ جیویں سائیں دی مرضی
skjatala آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
حیدر (18-09-11), رضی (18-09-11)
پرانا 17-09-11, 12:27 PM   #14
Senior Member
 
حسنین ایوب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 1,064
کمائي: 19,020
شکریہ: 1,708
625 مراسلہ میں 1,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ کوئی دوشیزہ جو اپنے عاشق سے کسی بات پر ناراض ہو کر منہ پھیر کر کھڑی ہے
حسنین ایوب آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حسنین ایوب کا شکریہ ادا کیا
حیدر (18-09-11), رضی (18-09-11)
پرانا 18-09-11, 07:39 AM   #15
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایسے مقامات پر میں کہا کرتا ہوں "نہ سمجھو ۔۔۔سانُوں کی۔۔۔۔۔۔"
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (18-09-11)
جواب

Tags
ہنگامہ, کتابوں, پیارے, پاک, پاکستان, پسند, لڑکی, نظر, ممکن, ماں, مسائل, معلوم, امریکہ, استاد, بھائی, بچوں, تلاش, تصویر, حال, خوش, دیکھو, راستہ, زندگی, شکاگو, عورت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘(ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ) umalbaneen اپکے کالم 2 24-09-11 10:25 AM
”ہماری سنگل ڈیکر نہیں چلتی، بھارتی ڈبل ڈیکر چلے گی“ جاویداسد خبریں 2 18-10-10 07:22 PM
کامن ویلتھ گیمز پر ڈینگی وائرس کا حملہ ، متعدد کھلاڑی ہسپتال پہنچ گئے ، گیمز ویلج پر مچھروں کا قبضہ جاویداسد خبریں 2 04-10-10 02:20 PM
جہازوں کی سائیڈ وینڈ لینڈینگ وجی دلچسپ اور عجیب 2 05-02-09 03:20 PM
حکومت پریس کونسل آرڈیننس اور نیوز پیپرز رجسٹریشن آرڈیننس مین ترمیم پر آمادہ عبدالقدوس خبریں 0 23-11-07 09:39 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:49 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger