واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


زخمی رِشتے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-05-11, 03:29 PM   #1
زخمی رِشتے
محمدعدنان محمدعدنان آف لائن ہے 13-05-11, 03:29 PM

“اورواقعہ یہ ہے کہ مل جل کر ساتھ رہنے والے اکثرایک دوسرے پر ذیادتیاں کرتے رہتے ہیں، بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اورعمل صالح کرتے ہیں اورایسے لوگ کم ہی ہیں“۔ سورۃ ص

ہماری سماعت میں ابھی کافی دیرتھی۔ ایک عورت امی کے مقابل بیٹھی رو رہی تھی جسکے ساتھ ایک نوجوان لڑکی تھی۔ اُس نے نقاب کیا ہواتھا۔ اِتنے میں جج (جنکا نام مجھے یاد نہیں) کمرے میں داخل ہوا سب اُنکی تعظیم میں کھڑے ہو گئے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے اُس دن فلم و ڈرامہ سٹارقوی خان کی سماعت بھی تھی کیونکہ اُس دن وہ میری چھوٹی بہن کواورمجھے سارا وقت یعنی پیشگی سے پہلے اپنے پاس بیٹھائے ہوئے تھاجوخوف اورڈر کی وجہ سے کافی سہمی ہوئی تھیں۔ چونکہ پہلے اُس کا مقدمہ عدالت میں پیش ہونا تھااِسلئے اُس کووکیل کی پیروی میں جانا پڑااوروہ ہمیں بہنوں کو امی کے پاس بیٹھاکر تسلی دے کرکورٹ میں پیش ہوا۔ ہم سب اُسی کمرے میں تھے لیکن اِس کورٹ رُوم میں اورڈراموں میں دیکھائی گئی عدالت میں بہت فرق تھا۔ اِسلئے سب اپنی اپنی باتوں میں مگن تھے شاید اِنتظارکے لمحات ختم کرنے کیلئے یا پھراپنا غم کم کرنے کیلئے۔

اِتنے میں وہ عورت جو رورہی تھی چپ ہو چکی تھی اورامی سے مخاطب ہوئی کہ آپ کس سلسلے میں آئی ہیں۔ امی نے بتانا مناسب نہ سمجھا تو وہ اپنی بات بتانے بیٹھ گئی شاید اُسکو بھی دل کا بوجھ ہلکا کرنا تھا۔ وہ پیچاری اپنوں کے ہاتھوں زخم کھاکراِنصاف مانگنے آئی تھی جسکا سب اُسکے اپنے ماں جائے نے چھین لیا۔

اُسکے شوہر کی وفات کے تین ماہ بعد اُس کے بڑے بھائی نے اُسکی بیٹی کا رِشتہ مانگا اپنے بیٹے کیلئے۔ اُس سے پہلے بھی اُس کا بڑا بھائی رِشتہ مناگ چُکاتھا لیکن اُس کے شوہرنے نہ دیا کیونکہ اُسکا شوہرجدہ میں کسی سٹورپرسوپروائزرکے طورپرکام کرتا تھا اوروہیں اُس نے اپنے سالے لے بیٹے کو بھی جاب دِلوائی ہوئی تھی جسکا رِشتہ مانگا تھا لیکن وہ لڑکا غلط کاموں میں ملوث ہوگیا۔ پھپھاہونے کے ناطے جتنا وہ سمجھا سکتا سمجھا دیا لیکن کہتے ہیں نہ کہ جوانی پر نصیحتیں ایسے بے اثرہوتی ہیں جسے چکنے گھڑے سے پانی کی بوندیں پھسلتی ہیں۔ اِسلئے اُسکو اُسکے حال پر چھوڑ دیا۔ چھٹیاں گُزارنے وہ پاکستان تو آیا لیکن قدرت کوشاید کچھ اورمنظورتھا جو ایک ایکسیڈنٹ میں وہ جانبحق ہوگیا۔ 4 جوان ہوتی بیٹیاں اوروہ واحدعورت جو اپنے شوہر کی جائیداد سے اپنی بیٹیوں کے اِخراجات برداشت کر رہی تھی۔ بڑی بیٹی کی شادی کا مسئلہ اپنی جگہ تھا لوگوں کی جہیزکی ڈیمانڈزبہت تھیں اوروہ تنہا اُنکی ڈیمانڈزپوری کرنے سے قاصرتھی۔ اُسی بھائی نے دُوبارہ رِشتہ مانگا تواپنا سمجھ کر دے دیا کہ چلو بیٹی سُکھی تو رہے لیکن یہ اُس کی خام خیالی تھی۔

شادی کے کچھ ماہ تو آرام سے گُزرگئے۔ پھرایک روز بھائی کا فون آگیا کہ تمہارے دامادنے کاروبارشروع کرنا ہے اُسکی تھوڑی سی مالی اِمداد کر دو۔ اُس نے کہا وہ کہاں سے مدد کرے تین تین بیٹیاں جوان ہو رہیں بیاہنے والی ہیں اوردو کے سالانہ امتحان ہونے والے ہیں اُنکی فیس وغیرہ کا خرچ الگ۔ الغرض بیچاری نے بھائی کو دُہائی دی کہ وہ تو سب جانتا ہے لیکن اگلے دِن بیٹی کویعنی اپنی بھانجی کوگھربھیج دیا کہ جب کچھ پیسے لاؤتو ہی آنا ورنہ نہیں۔ بیٹی کا گھربچانے کی خاطرجومکان اُنکی آمدنی کا زریعہ تھا اورکرائے پرتھااُسکوفروخت کردیالیکن بھائی نے اُسی پر اکتفا نہ کیابلکہ اُس رقم سے آدھی سے ذیادہ رقم آہستہ آہتسہ کرکے اپنی بہن سے اینٹھ لی۔ کاروبارشروع کیا ہونا تھاوہ پیسے اُس نے اپنی بیٹی کی شادی پرلگادیئے۔ آئے دِن بہو(بھانجی) کو ماں کے گھربھیج دیتا کہ جاکراپنا خرچہ لے کرآؤ۔ وہ بیچاری ماں کی حالت سمجھتی تھی کہ اب اُس کے پاس کوئی زریعہ نہیں کمائی کا سوائے اسکے کہ وہ لوگوں کے کپڑے لالاکرسلائی کرے اوردِن میں ایک فیکٹری میں کام کرے جس سے اُسکی ماں کی حالت دِن بدن خراب ہوتی جا رہی تھی کیونکہ فیکٹری کا ماحول ناموافق تھا۔ ایک دن وہ بیچاری بول پڑی کہ میں آپکے بیٹے کہ ذمہ داری ہوں اب اُسکومیرا خرچ برداشت کرنا ہوگا۔ اُسکونہیں معلوم تھا کہ وہ بھینس کے آگے بین بجا رہی تھی جہاں ماموں نے ہاتھ اُٹھایا وہیں ممانی یعنی ساس کا حوصلہ بڑھا زُبان درازی کا کہہ کر مارنا شروع کر دیا اب بیٹا بھی کیوں پیچھے رہتا۔ اُس دِن اُنہوں نے صحیح معنوں میں رِشتوں کا خون کردیا۔ مارکھاکر بھی وہ بضد رہی کہ ماں کے پاس اُنکو تکلیف دینے نہیں جائے گی نہ اُن سے پیسے کی ڈیمانڈ کرے گی۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے، “اورتم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں سے حق میں سب سے اچھے ہوں“۔

اِتنا کہہ کروہ اُس نے رونا شروع کر دیا۔ اُسکی ہچکی بندھ گئی۔ امی نے اُسکوحوصلہ دیا۔ اِتنے میں اُسکی بیٹی پانی لے آئی۔ پانی پی کر کچھ دیر خاموش رہی پھرسلسلہ وہیں سے جوڑا جہاں سے ٹوٹا تھا۔

اُس دِن اُسکی بیٹی مارکھاکرچپ رہی کہ کب تک ایسا کریں گے۔ پھراُسکوچلتے پھرتے بے اولاد ہونے کے طعنے دینے لگے۔ اوریہی بات کرتے کہ اپنے بیٹے کی دوسری شادی کروا دیں گے۔ ایک روزپھرمار پیٹ کی اُس دن اچانک ہی اُسکی بہن کالج سے واپسی پراپنی بہن کے گھر گئی تو اپنی بہن کی حالت دیکھ کر حواس باختہ ہو گئی اوراُسکو مناکر، منت کرکے اپنے ساتھ سہارا دیکرگھرلے آئی۔ پہلے پہ توماں بیٹی نے اس کی شادی والی بات کو دھمکی سمجھاکہ غصے میں کہہ دی لیکن بعد میں اُنہوں نے تگ و دو شروع کردی اوراِلزام یہ لگایاکہ بہوکا کسی سے چکرتھا اِسلئے وہ گھرچھوڑ کر بھاگ گئی ہے۔ بہوپر بد چلنی کا اِلزام لگایااوریہ نہ سوچا کہ بہو سے پہلے وہ بھانجی ہے اورجسکابچپن اُنکی آنکھوں کے سامنے گُزرا ہے۔ کچھ دِن بعد ماں نے دِل پر پتھررکھ کر اُنکو خُلع کا نوٹس بھجوادیا۔ لیکن وہ طلاق دینے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ ایسی صورت میں اُنکو حق مہر جو کہ سوا لاکھ کے قریب رکھوایا تھا اُسکی ادائیگی کرنی پڑے۔ باتوں کے دوران ہی بتایا کہ آج ساتویں سُنوائی ہے اورشاید آج یا اگلی سُنوائی میں فیصلہ کر دیں۔ اِس دوران ایک بات جو سب سے ذیادہ تکلیف دہ تھی وہ تھی اُس عورت کے باقی ایک بہن اورایک بھائی کا ردِ عمل یعنی وہ بھی اُس اِنسان کیساتھ تھے جنہوں نے رِشتوں کا خون کیا لیکن باقی بہن بھائی نے تو اُسکولاوارثوں کی طرح بے حسی کی چادر ڈال کرمنومٹی تلے دفنادیا۔

اِتنے میں اُس عورت کا وکیل آیا اورکہا کہ اب اُسکی باری ہے۔ تھوڑی دیربعد قوی خان امی کے پاس آکربولا بہن آپ کہیں تو رُک جاتاہوں بچیوں کے پاس اگرکوئی گھر سے نہیں آیا تو۔ امی کوبہت آسراہوا لیکن کسی کا احسان لینا وہ گوارا بھی نہ تھا۔ اِسلئے امی نے منع کر دیابس اِتنا کہا کہ ہمارے جانے کا محفوظ بندوبست کروادیں کیونکہ آپکی سب سے جان پہچان ہے۔ اُس نے پولیس لباس میں ملبوس ایک آدمی کو ساری بات سمجھا دی اور امی کو کہہ گیا کہ آپ بےفکرہوجائیں بہن میں نے اِنکوہدایت کر دی ہے۔ امی نے اُسکا شُکری اَدا کیا اوربے فکر ہو گئیں۔

اُس عورت کی سماعت سُننے کیلئے امی سب سے آگے ہمیں لیکربیٹھ گئیں۔ عدالتی سوال جواب ہوئے۔ ماموں (سسر) نے بہوپرابُرے بُرے اِلزامات لگائے۔ پھراُس عورت کو بولنے کا موقع دیا گیا۔ اُس نے تمام رُودادسُنائی جو وہ امی کو سُنا چُکی تھیں لیکن جج نے دو تین بارٹوک کرکہا کہ ذیادہ گہرائی میں جانے کی بجائے آپ مختصراً بات بتائیں کیونکہ ساری باتیں تومعلوم ہو چُکی ہیں۔ پھرجب بیٹی نے اپنا نقاب اُتارا تواُسکے چہرے پر جا بجا نیل اورزخموں کے نشان تھے اوراُسکی ناک کی ہڈی بھی ٹوٹ چکی تھی شاید۔ پھرڈاکٹرزکی رپورٹ پیش کی گئی جسکے مطابق بے اولادی کی وجہ اُص کے شوہر کی طرف سے تھی نہ کہ لڑکی کی جانب سے۔ جج نے اپنی عینک اُتارکرصاف کی اورپھرلڑکے والوں سے پوچھا کہ لڑکی کی حالت کیا اُنکے سبب ہوئی ہے اوربے اولادی کا مرض کسی جان سے ہے؟ پہلے وہ ہڑبڑائے پھرصاف مُکرگئے لیکن اِس دوران خود کو صاف بچانے کے چکرمیں بہوپراِلزام تراشی جاری تھی اورایسے ایسے اِلزامات تھے جنکو سُن کر شریف آدمی غیرت سے زمین میں گڑھ جائے۔ اُس وقت اُس روم میں موجودہراِنسان جو اُس کی بات سُن رہا تھا، کی آنکھ نم تھی کہ کوئی بہن بھائی ساتھ نہ دے رہا تھا نہ کوئی اُس بیچاری کا آسراتھا۔ بہرحال شاید قُدرت اُس پر مہربان ہو گئی تھی جج تھوڑی دیر تک صفحے پر کچھ لکھتا رہا اورکچھ صفحات پلٹتا رہاپھرفیصلہ عورت کے حق میں سُنادیا۔

جب بھی یہ واقعہ میرے ذہن میں آتا ہے میں سوچتی ہوں کہ کیا یہ اُسکی جیت تھی یااُس سے جڑے رِشتوں کی ہار، رِشتوں سے ہار؟ وہ ہارکر جیتی تھی یا وہ مقدمہ جیت کر سب ہارگئی؟

میں اپنا سب ہار کے وی جیت گئی
میں غم نہ کراں گی کدی ہُن سائیاں
اے دُکھ تاں اونا دے سانجھی ہوسن
جنہاں رِشتیاں دا کیتا خون سائیاں

ہارجیت کے اِس کھیل میں جیت کسی کی بھی ہوئی ہو لیکن ہاراُن ظالموں کی تھی جنہوں نے رِشتوں کا بے دردی سے خون کیا۔ یہاں ہار اُن بہن بھائیوں کی تھی جنہوں نے بے سہارا اورمظلوم اورحق پرڈٹی بہن اوراُسکی بیٹی کی بجائے اپنے اُس بھائی بھابھی کا ساتھ دیا جنہوں نے رِشتوں کی بُنیاد ہی ہلا ڈالی لیکن اِنہوں نے اُنکا ساتھ دے کراُس بُنیاد کوہی مسمارکردیا۔

جانے کب لوگ رِشتوں کوپہچانیں گے اُنکی قدرکریں گے۔ چاردِن کی زندگی ہے محبتیں بانٹیں، خوشیاں پھیلائیں اوراپنوں کا یا کسی کے بھی دُکھ کی وجہ نہ بنیں۔ اللہ ہم سب کو سب سے محبت کرنے اورنیک نیت رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

والسلام
زارا
__________________
----------

 
محمدعدنان's Avatar
محمدعدنان
ناظم اعلی


تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 340
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا
لیاقت علی قصوری (14-05-11), نیلم خان (04-09-11), منتظمین (14-05-11), مرزا عامر (14-05-11), ایس اے نقوی (18-05-11), بزم خیال (19-05-11), عبداللہ آدم (19-05-11), عبداللہ حیدر (19-05-11), عروج (13-05-11), صبیحہ (13-05-11)
پرانا 13-05-11, 05:02 PM   #2
Senior Member
 
صبیحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: my home
مراسلات: 413
کمائي: 4,719
شکریہ: 431
333 مراسلہ میں 736 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تبصرہ کرنے کو کچھ ہے ہی نہین سوائے تعریف کے۔ کوشش کر کے اس پر بعد مین کمنٹ کرون گی پہلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
صبیحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے صبیحہ کا شکریہ ادا کیا
بزم خیال (19-05-11), عبداللہ آدم (19-05-11)
پرانا 13-05-11, 05:40 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ھم ا صل میں بیمار ذھنیت کے مالک بن چکے ھیں۔ لہٰذا کسی بھی رشتے کے تقدُّس کی پامالی سے ھمارا کچھ نہیں بگڑتا۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (04-09-11), بزم خیال (19-05-11), عبداللہ آدم (19-05-11), صبیحہ (13-05-11)
پرانا 13-05-11, 06:57 PM   #4
Senior Member
 
صبیحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: my home
مراسلات: 413
کمائي: 4,719
شکریہ: 431
333 مراسلہ میں 736 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہی اصل بات ہے عروج ۔
صبیحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے صبیحہ کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (04-09-11), بزم خیال (19-05-11)
پرانا 13-05-11, 11:30 PM   #5
Senior Member
 
روشنی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 389
کمائي: 6,365
شکریہ: 99
303 مراسلہ میں 791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چھوڑ دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسکا دل پتھر کا بنا دیتے ہیں،
اللہ ہم سب کو اپنی اچھی اور نیک سمجھ دے آمین۔
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"
اُس شخص کے لئے جنت کی خوشخبری ہے جس کے نامہ اعمال میں کثرت سے استغفار پایا گیا ۔
روشنی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے روشنی کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (04-09-11), بزم خیال (19-05-11)
پرانا 14-05-11, 10:53 AM   #6
Junior Member
اجنبی
 
لیاقت علی قصوری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مقام: kasur
مراسلات: 16
کمائي: 367
شکریہ: 11
11 مراسلہ میں 17 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت دردناک تحریرہے۔ جیسا روشنی نے کہاجو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چھوڑ دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسکا دل پتھر کا بنا دیتے ہیں۔ جسکا دل پتھرکا ہو جائے وہ رشتوں کو کہاں پہنچانتا ہے۔ تھنکس زارا اورعدنان
لیاقت علی قصوری آف لائن ہے   Reply With Quote
لیاقت علی قصوری کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (19-05-11)
پرانا 14-05-11, 01:03 PM   #7
Senior Member
 
صبیحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: my home
مراسلات: 413
کمائي: 4,719
شکریہ: 431
333 مراسلہ میں 736 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہماری گھر سے تین گھر چھوڑکر ایک گھرمیں ایک ادمی نے اپنے بھائی کے دونون بیٹون کو اپنی بیٹان دی ہوئی ہین اوردونون کی ناخوش ہین۔ ایک تو طلاق لیکربیتھ گئی ہے لیکن ایک کا شوہراچھا ہے تو وہ گزارا کر رہی ہے
صبیحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے صبیحہ کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (04-09-11), بزم خیال (19-05-11)
پرانا 18-05-11, 06:40 PM   #8
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,019
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شکریہ عدنان
اور شکریہ زارا
دردناک کہانی نہیں
معاشرے کی عکاسی ہے جس کو زبان دینے کی کوشش کی گئی ہے
ایک جاندار تحریر پر میری طرف سے مبارک وصول کریں
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (04-09-11), بزم خیال (19-05-11)
پرانا 19-05-11, 01:27 AM   #9
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سب سے بڑا رشتہ پیسہ ہے بھئی................ مادیت نے بھی کیا کیا احسان کیے ہیں ہم پر.
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (19-05-11)
پرانا 19-05-11, 12:26 PM   #10
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,426
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عدنان بھائی بہت سبق آموز تحریر شئیر کرنے کا شکریہ ۔
نہ جانے انسان بے کس اور کمزوروں کے مقابلے میں طاقتور کا ساتھ کیوں دیتے ہیں ۔ غریب سے ملنے کی امید نہیں شائد اس لئے ۔ امیر رشتہ داروں کے تلوے چاٹنا عزت سمجھتے ہیں ۔
میں نے اپنے نفع و نقصان کا خیال کئے بغیر منہ زور اور لالچی انسان کے مقابلے میں شریف النفس اور کمزور کا ساتھ دیا تھا ۔ جس کے لئے مجھے مالی نقصان اور معاشرتی لا تعلقی کا سامنا رہا ۔ مگر اللہ تعالی کی ذات بہت غنی ہے ایک در بند سو در کھول دیتی ہے ۔
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 04-09-11, 02:15 AM   #11
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,166
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی شئیرنگ ہے عدنان بھائ ۔
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کالج, پہچان, پولیس, پاکستان, لوگ, لڑکی, ماں, معلوم, آج, آدمی, ایمان, اللہ, امتحان, بھائی, جیت, جواب, حال, خون, خان, دل, زندگی, سوال جواب, طلاق, عورت, عدالت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:49 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger