| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 141
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-01-12), نبیل خان (17-01-12), محمدعدنان (03-01-12), مرزا عامر (17-01-12), بٹ جی (17-01-12) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,134
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نھیال میں اسلام
ننھیال کی پوری تفصیل معلوم نہ ہو سکی صرف نانا جان کے حالات معلوم ہو سکے نانا جان ضلع شملہ میں رہتے تھے ناناجان بھی جانوروں کی خرید وفروخت کا کاروبار کرتے تھےادھر بھی ابھی تک نام مسلمانوں کے اور کام اسی طرح کفار والے،، بتوں سے عقیدت ان کے نام کے چڑھاوے ۔۔ مگر جب اللہ کی طرف سے ہدایت کا فیصلہ ہو جاے تو اللہ اس کے لئے سبب پیدا فر مادیتا ہے ایک مرتبہ نانا جان بکریوں کی فروخت کےسلسلے میں منڈی گے جو 10،،،،،12،،میل دور تھی جب آپ واپس آے تو راستے میں رات پڑگئی تو آپ کو ایک واقف کار کے ہاں ٹھرنا پڑا اسی واقف کار کے ہاں اتفاقا ایک اور تاجر ٹھرے ہوے تھے جن کانام مولوی عبد اللہ تھا اور یہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیو بندی کے شاگرد تھے رات کو میرے نانا جان اور مولوی عبد اللہ صاحب دونوں ایک ہی کمرے میں سونے کےلئے لیٹ گئے اس طرح بات چیت حال احوال معلوم کرنے کے بعد دینی گفتگو چل پڑی جو ساری رات جاری رہی اور نانا جان نے ان کے ہاتھ پر شرکیہ اعمال سے توبہ کی داڑھی اور نماز کا وعدہ کیا اور مولوی صاحب کو اپنی بستی میں لے گے اسطرح ننھیال میں ایک دینی ماحول مولانا کی محنت کی وجہ سے پیدا ہوگیا مولانا عبد اللہ صاحب کئی کئی دن ناناجان کے پاس ٹھرتے اور ان کو دینی باتیں سکھاتے اسی طرح نانا جان نے ان سے کلمے اور نماز یاد کی اسی طرح چند سورتیں حفظ کیں ان میں سورۃ یسین بھی شامل ہے اسطرح نانا جان پکے نمازی بن گے اورآپ نے تہجد کی نماز سخت بیماری کی حالت میں بھی نہ چھوڑی روزانہ سورۃ یسین تھجد کے بعد اور ظھر کی نماز کے بعد پڑھتے آخری وقت آپ کا کراچی گذرا کیونکہ میرے ماموں جان کراچی میں مقیم ہوگےتھے اسطرح نانا جان کو بھی کراچی جانا پڑا ایک سو دس سال زندگی کے آپنے گزارے مگر نماز کی ادائیگی اور سورۃ یسین کی تلاوت کسی حال میں نہیں چھوڑی زندگی کی آخری نماز،،،، نماز عصر تھی نماز پڑھ کے چارپائی پہ لیٹے اور انگلیوں پہ تسبیح کرنی شروع کردی میری خالہ اور نانی جان اور دونوں ماموں قریب بیٹھے ہوے تھے نانا جان تسبیح کرنے میں مصروف ہوگےاور تسبیح کرتے کرتے ہی رو ح پرواز کر گئی جسکی پاس بیٹھنے والوں کو بھی خبر نہ ہوسکی جب کچھ دیر کے بعد دیکھا گیا تو آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملے تھے اسطرح ہندوستان سے سفر شروع ہوا اور پاکستان میں ختم ہوا داداجان کی شادی داداجان کانام جیون خان تھا اور یہاں ابھی وہی مشر کانہ نظریات تھے داداجان کی شادی میرے نانا جان کی کزن سے ہوئی اور میری دادی الحمد للہ نماز روزے اور تہجد کی پابند تھیں جب دادی جان اپنے سسرال میں آئیں یہاں کیونکہ ابھی تک لوگ نمازروزے کے عادی نہ تھے دادی جان نماز کی پابند تھیں جب پہلے دن ان نے اپنے سسرال میں نماز پڑھی تو دادی جان کی ساس نے انہیں رکوع کی حالت میں دیکھ کر دھکا دیدیا اور کہنے لگیں یہ کیا کررہی ہو یہاں یہ کام نہ چلے گا ایک مرتبہ دادی جان کا بھائی ملنے آیا اور دادی سے پو چھا نماز پڑھتی ہو یا چھوڑ دی ہے دادی نے کہا جب میں نماز پڑھنے لگتی ہوں تو میرا مذاق اڑایا جاتا ہے کبھی دھکے دیتے ہیں میں کس طرح نماز ادا کرسکتی ہوں تو بھائی نے کہا رات کو جب یہ سو جاتے ہیں تو اپنی اکھٹی نمازیں پڑھ لیا کرو اور صبح کی نماز ان کے اٹھنے سے پہلے ادا کرلیا کرو ،،جب دادا جان دوبارہ اپنے سسرال گے وہاں ان کی ملاقات مولوی عبد اللہ سے ہوئی انہوں نے دادا جان کو دین اسلام کے احکام سکھاے اور نماز کا طریقہ بتلایا مشرکانہ نظریات سے ان کی توبہ کروائی دادا جان نے آکر اپنی بستی میں نماز کا اہتمام کیا اور جمعرات کو جو ہندو پنڈت سے ختم دلواتے تھے اسے بند کروادیا اسطرح اپنے بیگانوں نے خوب مذاق اڑایا مگر اللہ جل شانہ نے آپ کو استقامت عطا فر مائی دادا جان کا اللہ جل شانہ نے چار بیٹے عطا فر ماے جن میں سب سے بڑے میرے والد محترم نورمحمد خاں دوسرے لال دین خان شہاب دین خان رحیم الدین خان دوچچا انتقال فر ماچکے ہیں اللہ انکی قبروں کو جنت کا گہوارہ بناے بقیہ میرے والد نورمحمد صاحب اور ایک چچا شہاب دین بقیہ حیات ہیں داداجان کھیتی باڑی کرتے تھے زمین بارانی تھی زیادہ تر فصلیں گندم مکئی باجرہ تھیں جب والد صاحب کی عمر 15 سال کی ہوئی تو آپ 1944 میں انگریزی فوج میں بھرتی ہوے جس کا نام 615 پنجاب رجمئنٹ تھا انہیں ایام میں انگریزوں اور جاپانیوں کی لڑائی آخری مراحل میں تھی والد صاحب کو برہما بھیج دیا گیا جہاں جاپانیوں کومختلف جگہوں سے گرفتار کرکے کیمپوں میں اکھٹا کرنا تھا جب وہاں سے فارغ ہوکرواپس آے تو پاکستان کی تحریک زورو شور سے جاری تھی پاکستان کابننا یقینی ہوگیا تھا بس اسکا اعلان باقی تھا اسوقت آپ انبالہ چھاونی میں تھے فوج میں یہ اعلان کیا گیا جو پاکستانی فوج میں جانا جاتا ہے وہ بھی اور جو ہندوستانی فوج میں رہنا چاھتا ہے وہ اپنے نام لکھوادیں والد صاحب فر ماتے ہیں جب میں اور میرا دوست قطب دین پاکستانی فوج میں شامل ہونے کے لئے نام لکھوانے کے لئے اپنے افسر کے سامنے گے اور اس سے کہا ہمارا نام پاکستانی فوج میں شامل کرلیا جاے تو وہ بڑی دیر تک پنسل منہ مین لے کر سوچتا رہا پھر مجھے مخاطب کرکے کہنے لگا آپ لوگوں نے پاکستان جاکر کیا کرناہے ،، والد صاحب نے کہا پاکستان کی بنیاد اسلام کی ترقی کے لیے رکھی جا رھی ھے اس لیے ھمیں وھاں مذہبی آزادی ملے گی اس لئے پاکستان ہمارا پسندیدہ ملک ہے آفیسر نے کہا یہ آپ کی بھول ہے وہاں تمھارے حالات بہت خراب ہونگے وہاں اسلامی کا قانون نہیں یہ ہی انگریزی قانون ہو گا وہاں حکومت صرف وڈیروں اوربڑے خاندانوں کی ہوگی،،،غربت وافلاس کا دور دورہ ہو گا والد صاحب نے فر مایا جب ہم اسلام کے نام پر ملک حاصل کر رہے ہیں تو ان شاء اللہ وہاں اسلام کا ہی بول بالا ہوگا جس پہ آفیسر نے ایک قہقہا لگایا اور ہمارا نام پاکستان کے کھاتے میں لکھ دیا |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Dec 2011
مراسلات: 37
کمائي: 1,069
شکریہ: 140
34 مراسلہ میں 112 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک اصلی کہانی میرے خیال میں سب ممبران کو اپنی کوئی اصلی کہانی لکھنی چاہئے،،،،،،،بہت شکریہ قادری صاحب ،،،،،،،،،،،،
|
|
|
|
![]() |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|