واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


زندگی اک سفر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-01-12, 07:45 PM   #1
زندگی اک سفر
حسن قادری حسن قادری آف لائن ہے 03-01-12, 07:45 PM

انسان ماں کی گود سے سفر شروع کرتا ہے اور اسکی زندگی سفر میں گزر جاتی ہے کبھی ایک شہر سے دوسرے شہر کبھی ایک ملک سے دوسرے ملک پھر قبر کی آغوش میں آرام کرتا ہے اور پھر میدان محشر کا سفر پھر اصلی ٹھکانہ جنت یا جھنم ایمان والوں کی آخری آرام گاہ جنت ہے اس طرح مسافر اپنے اصلی گھر میں جا ٹھرتا ہے انسان سوچے تو کتنی عجیب یہ زندگی ہے کہاں پیدا ہوا کدھر جاکے دفن ہوا مرے والد محترم جن کا اسم گرامی نورمحمد قادری ہے جوکہ مولانا احمد علی لاھوری رحمۃ اللہ کے خلیفہ و جانشین مولانا عبید اللہ انور رحمۃ اللہ کے مرید ہیں اور والد صاحب آجکل علیل ہیں رات کو تھجد کے لئے وضو کرنے کے بعد باہر نکل رہے تھے کہ پاوں پھسل گیا اور بازو ٹوٹ گیا تقریبا 80 سال کی عمرہے اب بھی اس پیرانہ سالی اور بیماری وتکلیف میں بھی اسی طرح عبادات جاری ہیں قرآن کی تلاوت زکر اللہ ،،،،،
اللہ ان کو صحت عطا فر ماے مجھے خبر ملی میں اتوار کو گھر پہنچا رات کو دیر تک پاس بیٹھا رہا میں نے مذاقاً کہا ذرا اپنی زندگی کے گزرے ہوے سفر کا ذکر کرئیں آپ کہاں رہتے تھے اور کیا کرتے رہے ان نے جو باتیں بتائیں کافی مزیدار بھی تھیں عبرتناک بھی سوچا آپ کیساتھ شئیر کرتا ہوں کہنے لگے میرے پردادا (والد صاحب کے( ضلع کا نگڑہ ہندوستان میں رہتے تھے وہ چار بھائی تھے مگر ایک بھائی مسلمان ہو گیا بقیہ بھائیوں نے انہیں اسلام کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایاکیونکہ وہ سب ہندو راجپوت تھے جو پردادا مسلمان ہوے ان نے تشدد سے تنگ آکر ایک بھائی کو قتل کردیا اور بھاگ کر ریاست بلاس پور آگے بلاس پور کے راجے کا اصول تھا کوئی بھاگ کر وہاں آجاتا اسے پھر کسی کے حوالے نہیں کرتا تھا بڑی کوششیں ہوئیں مگر اس نے انہیں حوالاے نہ کیا راجہ بہت رحم دل رعایا کا خیال رکھنے والا تھا راتوں کو گلیوں کے چکر لگاتا بھیس بد ل کے رعایا کا حال واحوال معلوم کرتا رشوت خوری سخت ممنوع تھی ایک مرتبہ راجے کے وزیرنے جوکہ اس کا ماموں تھا اسنے ایک آدمی سے رشوت لے لی جس کی اطلاع راجہ کو ہو گی راجے کے در بار میں جب وزیر مذکور آکر اپنی کرسی پر بیٹھ گے دربار بھرا پڑا تھا تو راجہ نے کہا ماموں جان آپکی صحت کافی اچھی ہے مگر پیٹ بڑھ گیا ہے پیٹ بڑھ گیا کو راجے نے دوتین مرتبہ دہرا یا حاضرین یہ اشارہ نہ سمھج سکے مگر وزیر سمھج گیا گھر جاکر اسنے بندوق کی گولی سے اپنا خاتمہ کرلیا کہ میں راجہ کی نظر میں گر چکا ہوں اور ہمارے راجے اور اس کے وزراکھا کھا کر تھکے نہیں خود کشی تو درکنار استعفی دینے کے لئے تیار نہیں ہیں اور رشوت تو قوم وملت کی خدمت سمھج کے قبول کرتے ہیں جب ہجرت کرکے لوگ پاکستان آنے لگے تو اس راجے نے تمام رعایا کو اکھٹا کیا اور کہا کسی ہندو نے کسی مسلمان کو قتل کیا یا لوٹا اسے سخت سزا ملے گی بہر حال ہمارے والد کے پردادا اسی ریاست کے باشندے بن گے اور جس گاوں میں قیام کیا اس کانام تھا چھتہ جسمیں صرف پانچ گھر مسلمانوں کے تھے
یہیں میرے دادا جاں (حسن قادری کے(جنکا نام تھا جیون خان پیدا ہوےیہاں کے مسلمانوں کو اتنی خبر تھی کہ ہم مسلمان ہیں باقی نماز روزہ دین کیا ہے اسکی کوئی خبر نہ تھی ہندوں کے ساتھ بتوں سے عقیدت چڑھاوے بتوں کے چرنوں پہ رکھنے یہں مسلمانوں نے ایک چپوترہ بنا رکھا تھا جسے وہ صاف ستھرا رکھتے وہیں تین چار پتھر رکھے ہوے تھے جن کے سامنے مسلمان سجدہ کرتے جمعرات کو میٹھی کھیر پکا کر ہندو پنڈت سے کچھ پڑھوا کر تقسیم کی جاتی
ایک دن ایک پٹھان اشیا بیچتا ادھر آنکلا وہ سمھجا یہ مسلمانوں نے مسجد بنا رکھی ہے اس نے وہاں آکرآذان دینی شروع کردی آذان کی آواز کیا تھی ہندو کے لے بم تھا پوری بستی کے ہندو لاٹھیاں کلھاڑیاں تلواریں لے کر آگے اور اس کو مارنا چاھا اسی بستی میں ایک مسلمان پہلوان بھی رھتا تھا جس کا نام تھا نتھے خان جنہیں لوگ نتھو پہلوان بھی کہتے تھے اور یہ راجہ کی طرف سے انعام یافتہ پہلوان تھے جب نتھے خان پہلوان کو پتہ چلا ہندو ایک مسلمان کو مارنے کے لئے اکھٹے ہوے ہیں تو یہ بھی تلوار لے کر پٹھان کی حمایت کے لئے میدان میں آنکلے اور ہندوں کو للکارا جب ہندوں نے انہیں دیکھا تو آہستہ آہستہ سب کھسک گے یہ پہلوان نتھے خان اللہ انکی قبر پہ رحمتیں نازل کرے مہاجر ہوکے ہمارے گاوں جوکہ سیالکوٹ کے قریب ہے آکے ٹھرے یہیں ان کی قبر ہے مجھ (حسن قادری سے(( سے بہت محبت کرتے تھے میرے والد کے دادا جانوروں کی خرید وفرخت کرتے تھے اور ساتھ ہی زمیندارہ بھی کرتے سستا دور تھا ایک بیل ایک روپے میں ملتا تھا اپنے گاوں سے کوئی دس میل دور ایک آدمی سے ایک روپے میں ایک بیل خرید کے لے آے ایک بیل پہلے سے موجود تھااسطرح اپنی زمین میں ہل چلا کرفصل بیچ دی کوئی 15 دنوں کے بعد وہ آدمی جس سے بیل خریدا تھا آیا اوراور میرے والد کے دادا جان کو کہا جناب یہ روپیہ تو کھوٹا ہے میں منڈی گیا تھا وہاں سے معلوم ہوا اس طرح وہ اپنا بیل واپس لے گیا ۔۔۔۔۔۔جاری ہے،،،

 
حسن قادری's Avatar
حسن قادری
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 141
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (03-01-12), نبیل خان (17-01-12), محمدعدنان (03-01-12), مرزا عامر (17-01-12), بٹ جی (17-01-12)
پرانا 16-01-12, 09:08 PM   #2
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,134
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default زندگی اک سفر

نھیال میں اسلام
ننھیال کی پوری تفصیل معلوم نہ ہو سکی صرف نانا جان کے حالات معلوم ہو سکے نانا جان ضلع شملہ میں رہتے تھے ناناجان بھی جانوروں کی خرید وفروخت کا کاروبار کرتے تھےادھر بھی ابھی تک نام مسلمانوں کے اور کام اسی طرح کفار والے،، بتوں سے عقیدت ان کے نام کے چڑھاوے ۔۔ مگر جب اللہ کی طرف سے ہدایت کا فیصلہ ہو جاے تو اللہ اس کے لئے سبب پیدا فر مادیتا ہے ایک مرتبہ نانا جان بکریوں کی فروخت کےسلسلے میں منڈی گے جو 10،،،،،12،،میل دور تھی جب آپ واپس آے تو راستے میں رات پڑگئی تو آپ کو ایک واقف کار کے ہاں ٹھرنا پڑا اسی واقف کار کے ہاں اتفاقا ایک اور تاجر ٹھرے ہوے تھے جن کانام مولوی عبد اللہ تھا اور یہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیو بندی کے شاگرد تھے رات کو میرے نانا جان اور مولوی عبد اللہ صاحب دونوں ایک ہی کمرے میں سونے کےلئے لیٹ گئے اس طرح بات چیت حال احوال معلوم کرنے کے بعد دینی گفتگو چل پڑی جو ساری رات جاری رہی اور نانا جان نے ان کے ہاتھ پر شرکیہ اعمال سے توبہ کی داڑھی اور نماز کا وعدہ کیا اور مولوی صاحب کو اپنی بستی میں لے گے اسطرح ننھیال میں ایک دینی ماحول مولانا کی محنت کی وجہ سے پیدا ہوگیا مولانا عبد اللہ صاحب کئی کئی دن ناناجان کے پاس ٹھرتے اور ان کو دینی باتیں سکھاتے اسی طرح نانا جان نے ان سے کلمے اور نماز یاد کی اسی طرح چند سورتیں حفظ کیں ان میں سورۃ یسین بھی شامل ہے اسطرح نانا جان پکے نمازی بن گے اورآپ نے تہجد کی نماز سخت بیماری کی حالت میں بھی نہ چھوڑی روزانہ سورۃ یسین تھجد کے بعد اور ظھر کی نماز کے بعد پڑھتے آخری وقت آپ کا کراچی گذرا کیونکہ میرے ماموں جان کراچی میں مقیم ہوگےتھے اسطرح نانا جان کو بھی کراچی جانا پڑا ایک سو دس سال زندگی کے آپنے گزارے مگر نماز کی ادائیگی اور سورۃ یسین کی تلاوت کسی حال میں نہیں چھوڑی زندگی کی آخری نماز،،،، نماز عصر تھی نماز پڑھ کے چارپائی پہ لیٹے اور انگلیوں پہ تسبیح کرنی شروع کردی میری خالہ اور نانی جان اور دونوں ماموں قریب بیٹھے ہوے تھے نانا جان تسبیح کرنے میں مصروف ہوگےاور تسبیح کرتے کرتے ہی رو ح پرواز کر گئی جسکی پاس بیٹھنے والوں کو بھی خبر نہ ہوسکی جب کچھ دیر کے بعد دیکھا گیا تو آپ اپنے خالق
حقیقی سے جاملے تھے اسطرح ہندوستان سے سفر شروع ہوا اور پاکستان میں ختم ہوا
داداجان کی شادی
داداجان کانام جیون خان تھا اور یہاں ابھی وہی مشر کانہ نظریات تھے داداجان کی شادی میرے نانا جان کی کزن سے ہوئی اور میری دادی الحمد للہ نماز روزے اور تہجد کی پابند تھیں جب دادی جان اپنے سسرال میں آئیں یہاں کیونکہ ابھی تک لوگ نمازروزے کے عادی نہ تھے دادی جان نماز کی پابند تھیں جب پہلے دن ان نے اپنے سسرال میں نماز پڑھی تو دادی جان کی ساس نے انہیں رکوع کی حالت میں دیکھ کر دھکا دیدیا اور کہنے لگیں یہ کیا کررہی ہو یہاں یہ کام نہ چلے گا ایک مرتبہ دادی جان کا بھائی ملنے آیا اور دادی سے پو چھا نماز پڑھتی ہو یا چھوڑ دی ہے دادی نے کہا جب میں نماز پڑھنے لگتی ہوں تو میرا مذاق اڑایا جاتا ہے کبھی دھکے دیتے ہیں میں کس طرح نماز ادا کرسکتی ہوں تو بھائی نے کہا رات کو جب یہ سو جاتے ہیں تو اپنی اکھٹی نمازیں پڑھ لیا کرو اور صبح کی نماز ان کے اٹھنے سے پہلے ادا کرلیا کرو ،،جب دادا جان دوبارہ اپنے سسرال گے وہاں ان کی ملاقات مولوی عبد اللہ سے ہوئی انہوں نے دادا جان کو دین اسلام کے احکام سکھاے اور نماز کا طریقہ بتلایا مشرکانہ نظریات سے ان کی توبہ کروائی دادا جان نے آکر اپنی بستی میں نماز کا اہتمام کیا اور جمعرات کو جو ہندو پنڈت سے ختم دلواتے تھے اسے بند کروادیا اسطرح اپنے بیگانوں نے خوب مذاق اڑایا مگر اللہ جل شانہ نے آپ کو استقامت عطا فر مائی
دادا جان کا اللہ جل شانہ نے چار بیٹے عطا فر ماے جن میں سب سے بڑے میرے والد محترم نورمحمد
خاں دوسرے لال دین خان شہاب دین خان رحیم الدین خان دوچچا انتقال فر ماچکے ہیں اللہ انکی قبروں کو جنت کا گہوارہ بناے بقیہ میرے والد نورمحمد صاحب اور ایک چچا شہاب دین بقیہ حیات ہیں
داداجان کھیتی باڑی کرتے تھے زمین بارانی تھی زیادہ تر فصلیں گندم مکئی باجرہ تھیں جب والد صاحب کی عمر 15 سال کی ہوئی تو آپ 1944 میں انگریزی فوج میں بھرتی ہوے
جس کا نام 615 پنجاب رجمئنٹ تھا انہیں ایام میں انگریزوں اور جاپانیوں کی لڑائی آخری مراحل میں تھی والد صاحب کو برہما بھیج دیا گیا جہاں جاپانیوں کومختلف جگہوں سے گرفتار کرکے کیمپوں میں اکھٹا کرنا تھا جب وہاں سے فارغ ہوکرواپس آے تو پاکستان کی تحریک زورو شور سے جاری تھی
پاکستان کابننا یقینی ہوگیا تھا بس اسکا اعلان باقی تھا اسوقت آپ انبالہ چھاونی میں تھے فوج میں یہ اعلان کیا گیا جو پاکستانی فوج میں جانا جاتا ہے وہ بھی اور جو ہندوستانی فوج میں رہنا چاھتا ہے وہ اپنے نام لکھوادیں والد صاحب فر ماتے ہیں جب میں اور میرا دوست قطب دین پاکستانی فوج میں شامل ہونے کے لئے نام لکھوانے کے لئے اپنے افسر کے سامنے گے اور اس سے کہا ہمارا نام پاکستانی فوج میں شامل کرلیا جاے تو وہ بڑی دیر تک پنسل منہ مین لے کر سوچتا رہا پھر مجھے
مخاطب کرکے کہنے لگا آپ لوگوں نے پاکستان جاکر کیا کرناہے ،، والد صاحب نے کہا پاکستان کی بنیاد اسلام کی ترقی کے لیے رکھی جا رھی ھے اس لیے ھمیں وھاں مذہبی آزادی ملے گی اس لئے پاکستان ہمارا پسندیدہ ملک ہے آفیسر نے کہا یہ آپ کی بھول ہے وہاں تمھارے حالات بہت خراب ہونگے وہاں اسلامی کا قانون نہیں یہ ہی انگریزی قانون ہو گا وہاں حکومت صرف وڈیروں اوربڑے خاندانوں کی ہوگی،،،غربت وافلاس کا دور دورہ ہو گا والد صاحب نے فر مایا جب ہم اسلام کے نام پر ملک حاصل کر رہے ہیں تو ان شاء اللہ وہاں اسلام کا ہی بول بالا ہوگا جس پہ آفیسر نے ایک قہقہا لگایا اور ہمارا نام پاکستان کے کھاتے میں لکھ دیا

حسن قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (17-01-12), مرزا عامر (17-01-12), بٹ جی (17-01-12)
پرانا 17-01-12, 02:35 PM   #3
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2011
مراسلات: 37
کمائي: 1,069
شکریہ: 140
34 مراسلہ میں 112 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک اصلی کہانی میرے خیال میں سب ممبران کو اپنی کوئی اصلی کہانی لکھنی چاہئے،،،،،،،بہت شکریہ قادری صاحب ،،،،،،،،،،،،
بٹ جی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بٹ جی کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (17-01-12), حسن قادری (18-01-12)
پرانا 17-01-12, 10:05 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,612
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,520 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شکریہ قادری صاحب ۔ ۔ ۔
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا
حسن قادری (18-01-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:49 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger