| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
دوستوں سلام،
آپ نے "ٹی وی 1" پر زید حامد کو ایک پروگرام "براس ٹیک" میںدیکھا ہوگا۔ وہ پاکستان کے دفاعی ادارے میں لیکچرز دیتے رہے ہیں اور آج کل اُن کا ٹی وی پر بڑا شُہرہ ہے۔ پچھلے دنوں رضی کے ایک تھریڈ: مسلمانوں کی تقدیر لکھی جاچکی ہے میںبھی اُن کا تذکرہ آیا اور ساتھ ہی یہ بات بھی کے ماضی میں اُن کا تعلق "یوسف کذّاب" نامی شخص سے رہا ہے۔ ذیل میں، میں مختلف ویب سائیٹ سے اکھٹا ہوا مواد "جوں کا توں" پیش کررہاہوں، اس پر آپ لوگوں کی رائے درکار ہے۔ چند سوال جنکے جوابات ملنے ضروری ہیں: 1۔ کیا زید حامد ماضی میںیوسف کذّاب کے "صحابی" تھے؟ 2۔ کیا زید حامد نےیوسف کذّاب کی حمایت کی تھی؟ 3۔ یوسف کذّاب کی جیل میںایک دوسرے قیدی کے ہاتھوں موت کے بعد زید حامد کہاں تھے؟ 4۔ کیا ا بھی زید حامد یوسف کذّاب کے "ایجنڈے" پر کام کررہے ہیں؟ ذیل میں یوسف کذّاب کی 1997 کی ایک تقریر اٹیچڈ ہے جس میں اُس نے زید حامد کو بطور صحابی کے متعارف کروایا ہے۔ یہ پوری تقریر درجِ ذیل لنک سے پوری سُنی جاسکتی ہے: speach_bait_e_raza_yosuf_ali_zaid_zaman_1997 - eSnips, share anything طوالت کے باعث میں اس "مواد" کو اس تھریڈ میںیکے بعد دیگرے پیش کروں گا۔ آپ تمام دوستوں سے گذارش ہے کے برائے کرم اپنے تبصرے بعد کے لیئے اُٹھا رکھیئے اور "مواد" کی اشاعت کے بعد کُھل کر تبصرے کیجیئے اور اپنی رائے دیجیئے گا۔ شکریہ والسلام شاہد علی صدیقی Last edited by shafresha; 15-08-09 at 12:56 PM. |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 19 صارفین نے shafresha کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | ALI-OAD (10-04-10), sahj (05-03-10), فیضان صديقی ,سندھ (06-03-10), فیصل ناصر (23-02-10), فاروق سرورخان (21-10-09), فرحان دانش (16-02-10), پاکستانی (09-03-10), یاسر عمران مرزا (21-10-09), نورالدین (04-03-10), مباح (04-03-10), اویسی (24-03-10), احمد بلال (16-02-10), اخترحسین (08-09-09), اسعد شاہ (29-03-10), حیدر Rehan (21-10-09), رضی (15-08-09), شاہ جی 90 (15-03-10), طارق راحیل (04-03-10), عدنان دانی (18-01-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
یوسف کذاب اور اس کے خلیفہ کی حقیقت گزشتہ دنوں ایک شخص زید حامد کے بارے میں جسارت میں مضامین شائع ہوئے جن پر ہمارے کچھ قارئین بالخصوص خواتین کے طبقے نے اعتراضات کیے۔ اعتراضات کرنے والوں میں ایسے بھی تھے جن کی دینی فہم اور اسلام سے محبت مستحکم ہے، لیکن لاعلمی کی بنیاد پر اعتراضات وارد کیے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ زید حامد کا سحر سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ٹی وی چینلز پر بہت اچھی گفتگو کرتے ہیں‘ ایسی گفتگو کہ دین دار طبقہ کہہ اٹھے کہ یہ تو اس کے دل کی آواز ہے۔ زبان کا ایسا ہی کمال ”جاہل آن لائن“ میں بھی نظر آتا ہے۔ خطابت کے زور پر ذہنوں کو مسحور کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ بھلا ہو ڈاکٹر فیاض عالم کا‘ جنہوں نے انکشاف کیا کہ زید حامد جھوٹے نبی یوسف کذاب کے خلیفہ تھے۔ لیکن شاید جسارت کے کئی قارئین نے اس پر توجہ نہیں دی۔ یوسف کذاب کا دعویٰ نبوت اور اس کا انجام زیادہ پرانی بات نہیں۔ اسے لاہور کی عدالت نے سزائے موت دی تھی اور زید حامد نے نہ صرف فیصلے کی مخالفت کی بلکہ اس کی ضمانت کی کوشش بھی کرتے رہے‘ مگر اسے کسی غیرت مند نے جیل میں ہی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ زید حامد نے جھوٹے نبی کی اطاعت سے توبہ کا اعلان نہیں کیا۔ وہ توبہ کرلیں تو ہمارے سر آنکھوں پر، لیکن تب تک ان سے متاثر ہونے والے ان کا پس منظر اپنے ذہن میں رکھیں۔ یوسف کذاب کون تھا، یادداشت تازہ کرنے کے لیے اس پر چلنے والے مقدمے کی تھوڑی سی روداد بیان کرنا مناسب ہوگا تاکہ زید حامد کا پس منظر بھی تھوڑا سا سامنے آجائے۔ سیشن جج لاہور کی عدالت میں چلنے والے اس اہم مقدمے کی پوری تفصیل ایک کتابی شکل میں شائع ہوچکی ہے جس کا عنوان ہے:'' of yousuf kazzab blasphemy Judgment case'' اسے جناب ارشد قریشی نے مرتب کیا ہے اور اس کاپیش لفظ سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ محمد اسماعیل قریشی نے لکھا ہے۔ قریشی صاحب ہی نے یوسف کذاب کے خلاف مقدمہ کی پیروی کی تھی جس کے نتیجے میں 5 اگست 2000ءکو جج میاں محمد جہانگیر نے مجرم کذاب کو موت کی سزا سنائی۔ اس فیصلے کو انہی زید حامد نے انصاف کا قتل قرار دیا۔ ان کے خیال میں توہینِ رسالت کا مرتکب اور خود نبوت کا دعویدار، اپنے دور کا کذاب ِعظیم ایک معزز صوفی اسکالر تھا۔ اب بھی وقت ہے کہ زید حامد یوسف کذاب سے برات کا اعلان کریں، جس نے بے شمار لوگوں کو اپنی خطابت کے سحر سے گمراہ کیا۔ اب آپ محمد اسماعیل قریشی کے قلم سے مقدمہ کی مختصر سی روداد اور تبصرہ ملاحظہ کریں۔ اللہ ہم سب کو دجالوں اور ابو جہل کے پیروکاروں سے محفوظ رکھے: ............٭ ٭............ میں فاضل سیشن جج لاہور میاں محمد جہانگیر کے تفصیلی فیصلے مجریہ 5 اگست 2000ءپر تبصرہ کرتے ہوئے جھجک رہا تھا جس میں فاضل جج نے یوسف علی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے جرم میں موت کی سزا دی ہے جب اس نے مدینہ منورہ سے اپنی واپسی پر نبوت کی آخری اور حتمی منزل طے کرلینے کا دعویٰ کیا تھا۔ مجرم کو سزائے موت کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر دھوکا اور جعلسازی کے گھنا?نے جرم کے ارتکاب کی سزا بھی دی گئی ہے۔ اس کو بلند مرتبت اہلِ بیت (علیہ السلام) اور صحابہ کرام کا تقدس مجروح کرنے کی سزا بھی دی گئی۔ دوسرے یہ کہ میں نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے اس لیے بھی گریز کیا کہ میں اس فیصلے کا حصہ ہوں اور میری کتاب ”ناموسِ رسالت اور قانون توہین ِ رسالت“ کا حوالہ مجرم نے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے سامنے بار بار دیا۔ دریں اثناء مجرم کے ایک نام نہاد صحابی زید حامد نے ڈان شمارہ 13 اگست 2000ءمیں فیصلے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا اور شر انگیزی کی اس پست ترین سطح تک گرگئے کہ اس فیصلے کو انصاف کا قتل قرار دے دیا اور مجرم کو ایک مہربان اور اسلام کے معزز صوفی اسکالر کے طور پر پیش کیا ہے۔ فیصلے کے بارے میں تبصرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانون کے بارے میں تبصرہ نگار کا علم کس قدر سطحی ہے۔ ان کے بیان کردہ حقائق سچائی کا مذاق اڑانے کے مترادف ہیں۔ اسی طرح ڈیلی نیوز لاہور میں اسی دن شائع ہونے والے مجرم کے بیان میں بھی مقدمے کے اصل متن کو مسخ کیا گیا ہے۔ اس گمراہ کن مہم نے مجرم کے ایک سابق قریبی ساتھی اور اسکالر جناب ارشد قریشی کو جو قادریہ صوفی سلسلے سے تعلق رکھتے ہیں‘ فاضل سیشن جج کا مقدمہ کتابی شکل میں شائع کرنے پر مجبور کردیا تاکہ عوام مجرم کا اصلی روپ اس تاریخی مقدمے کی روشنی میں دیکھ سکیں۔ انہوں نے مجھ سے اپنی اس زیرِ طبع کتاب کے لیے پیش لفظ لکھنے کی درخواست کی۔ اس کتاب کے مولف ایک اور کتاب ”فتنہ یوسف کذاب“ کے مصنف بھی ہیں جو تین جلدوں میں ہے۔ نہ صرف مقدمے کی سماعت کرنے والے فاضل جج بلکہ خود میرے اور ممتاز وکلا سردار احمد خان، ایم اقبال چیمہ، غلام مصطفی چوہدری، یعقوب علی قریشی اور میاںصابر نشتر ایڈووکیٹ پر مشتمل میرے پینل کے خلاف مجرم کی مسلسل ناجائز مہم جوئی کے پیش نظر میں نے یہ پیش لفظ لکھ کر عوام پر یہ بات واضح کرنا ضروری سمجھا کہ آدھا سچ صریح جھوٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ جج صاحبان خود اپنے فیصلوں کا دفاع نہیںکرسکتے بلکہ وہ اپنے فیصلوں کے ذریعے کلام کرسکتے ہیں۔ اس لیے جو معاملہ عدالت سے تعلق رکھتا ہے تو عدالت خود ہی اس توہین آمیز مواد پر گرفت کرے گی لیکن میں صرف مدعی کے وکلا کی اس کردارکشی کو زیربحث لا?ں گا جو بعض اخبارات کے ذریعے کی گئی ہے۔ جہاں تک مجرم کے طرزعمل اور کردار کا تعلق ہے تو اس نے عدالت میں پیش کردہ خود اپنی دستاویزات کے ذریعے ہی اپنی اصلیت ثابت کردی ہے کہ جدید مشینی طریقوں کے ذریعے انسانی ذہن اتنے بڑے فراڈ کو شاید ہی کبھی احاطہ خیال میں لاسکا ہو۔ اس نے ایک دستاویز پیش کی جسے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے سند ڈی 1 کے طور پر پیش کیا ہے اور جو اس کتاب کے شیڈول Iکا حصہ بھی ہے۔ اس دستاویز کے بارے میں اس لیے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ وہ سرٹیفکیٹ ہے جو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو براہِ راست بھیجا ہے جس کی رو سے اس کو خلیفہ اعظم قرار دیا گیا ہے۔ میری جرح پر اس کے اعتراف کے مطابق تمام انبیائ کرام کو خلفائ‘ زمین پر اللہ کے نائب مقرر کیا گیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلیفہ اعظم، نائبین کے سربراہ اعلیٰ ہیں‘ لہٰذا اس سرٹیفکیٹ کی رو سے اب وہ زمین پر خلیفہ اعظم ہے۔ جرح میں اس نے یہ بات بھی تسلیم کی کہ چاروں خلفاءمیں سے کوئی بھی خلیفہ اعظم کے مرتبے پر فائز نہیں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خلیفہ اعظم کا یہ سرٹیفکیٹ اس کو کراچی کے ایک بزرگ عبداللہ شاہ غازی کی وساطت سے ان کے لیٹر پیڈ پر کمپیوٹر کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کراچی کے مذکورہ بزرگ 300 سال قبل وفات پاچکے ہیں۔ نبی کریم کی جانب سے انگریزی زبان میں مذکورہ سرٹیفکیٹ میں مجرم کو خلیفہ اعظم حضرت امام الشیخ ابو محمد یوسف کے طور پر مخاطب کیا گیا ہے۔ مذکورہ سرٹیفکیٹ میں مجرم کو علم کا محور اور عقل و دانش میں حرف ِآخر قرار دیا گیا ہے۔ اس اعلان کی وضاحت کرتے ہوئے مجرم نے کہا کہ وہ قرآن پاک کا مفسر ہے۔ وہ حدیث اور فقہ کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔ وہ تصوف کا ماہر ہے اور دنیاوی سائنسی علوم سے بھی واقف ہے۔ اس کے ہمہ جہت علم و دانش کا اندازہ لگانے کی غرض سے میں نے اس سے دینی علم کے بارے میں جرح کی اور جدید سائنسی تحقیق کے بارے میں بھی سوالات پوچھے۔ میں یہاں بتانا چاہوں گا کہ مجرم نے عدالت میں یہ بیان دیا تھا کہ اس کو تمام پیغامات براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عربی یا انگریزی میں موصول ہوتے ہیں۔ میں نے اس سے قرآنی لفظ ”تقویٰ“ کی دلیل کے بارے میں سوال کیا لیکن وہ اس کا جواب نہیں دے سکا۔ میں نے اس سے خلیفہ اعظم سرٹیفکیٹ کی پیشانی پر تحریر الفاظ ”وسعت“ اور ”حشر“ کے معنی پوچھے مگر وہ ان الفاظ کے آسان معنی بتانے میں بری طرح ناکام رہا۔ یہاں تک کہ وہ صحاح ستہ کے نام سے مشہور اور قرآن کے بعد پوری دنیا کے لیے انتہائی محترم حدیث کی چھ کتابوں کے نام بتانے سے بھی قاصر رہا۔ آل رسول کا دعویدار ہونے کے باوجود اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلماور حضرت علی کے بارے میں مدینتہ العلم کی انتہائی مشہور حدیث کا بھی کوئی علم نہیں۔ اسکول سرٹیفکیٹ اور اس کے سروس ریکارڈ کے مطابق اس کا نام یوسف علی ہے۔ (شیڈول II) ریٹائرمنٹ کے بعد اس نے لوگوں کو دھوکا دینے اور نبی کریم کے نام پر جعلسازی کے ذریعے بے تحاشہ پیسہ حاصل کرنے اور لاکھوں روپے مالیت کی جائداد بنانے کے مذموم مقاصد کے پیش نظر اپنے نام میں ”محمد“ کا اضافہ کرلیا۔ یہ حقائق اس کے اپنے اعترافات اور پیش کردہ دستاویزات سے ثابت ہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے اقبال کا گہرا مطالعہ کیا ہے‘ لیکن وہ ان کے 6 خطبات سے نابلد ہے اور ان کی شاعری میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کا مطلب جانتا ہے نہ ہی وہ اقبال کے فلسفہ خودی کی وضاحت کرسکا۔ اس کا مولانا مودودی کے ساتھ منسلک رہنے کا دعویٰ بھی صریح غلط بیانی پر مبنی ہے اور جماعت اسلامی کی طرف سے اس کی تردید کی جاچکی ہے۔ اسی طرح وہ جدید سائنس کی الف، ب بھی نہیں جانتا اور ڈی این اے کا مطلب نہیں بتا پایا۔ اس نے یہ لفظ عدالت کے سامنے خود اپنے بیان میں استعمال کیا تھا۔ اپنے اس مذموم منصوبے کو تقویت بخشنے کی غرض سے اس نے نوجوانوں کی عالمی تنظیم ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ (WAMY) کا ڈائریکٹر جنرل ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس کا صدر دفتر جدہ میں ہے اور جس کے دفاتر پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ میں اس تنظیم کا ایسوسی ایٹ ممبر رہا ہوں لہٰذا میں نے فوری طور پر سیکریٹری جنرل ڈاکٹر مانج الجہنی سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے فوراً ہی فیکس کے ذریعے مجھے آگاہ کیا کہ ”وامی“ یوسف علی نام کے کسی شخص سے واقف نہیں ہے اور نہ ہی اس نام کے کسی شخص کو کبھی ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گےا تھا۔ مذکورہ خط میں واضح طور پر کہا گیا کہ اگر مذکورہ یوسف علی نے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویز یا کوئی دوسرا مواد پیش کیا ہو تو اسے غلط اور جھوٹ تصور کیا جائے۔ سیکریٹری جنرل وامی نے اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اور سزا دلانے کا اختیار بھی دیا۔ مذکورہ خط عدالت میں پیش کیا گیا اور یہ بھی شیڈول III کے طور پر منسلک ہے۔ مجرم نے اس جعلسازی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے خود کو سعودی عرب سے قبرص کے سفیر کے مرتبے پر بھی فائز کردیا اور ہزایکسیلنسی بن کر سابق چیف جسٹس حمودالرحمن اور جسٹس (ر) محمد افضل چیمہ کے ساتھ اپنی تصویر بھی کھنچوائی۔ (شیڈول IV)۔ تاہم جسٹس چیمہ نے اسلام آباد سے ٹیلی فون پر میرے استفسار پر ایسے کسی ہز ایکسیلنسی سے واقفیت کی تردید کی۔ مجرم نے اپنے بیان میں اس بات سے انکار کیا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو جانتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس نے بھی وہی طریقہ کار اختیار کیا جو قادیان کے اس مرزا نے اختیار کیا تھا۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ برطانوی حکومت نے بھارت کے مسلم حکمرانوں سے اقتدار غصب کرنے کے بعد انیسویں صدی میں توہینِ رسالت کا قانون منسوخ کردیا‘ جبکہ انگلینڈ میں اس وقت بھی یہ قانون آئین کا حصہ تھا۔ مرزا غلام احمد کو برطانوی حکومت کی طرف سے اسلام کے لبادے میں اپنے نئے مذہب کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ لیکن اپنے آقاﺅں کی اس یقین دہانی کے بعد کہ برطانوی حکومت اس کے خلاف کسی بھی مذہبی تحریک کو پوری سختی سے کچل دے گی اس نے یہ اعلان کردیا کہ جو کوئی بھی اس پر ایمان نہیں لائے گا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا۔ اس کا یہ اعلان مکتوبات مطبوعہ مارچ 1906ء(شیڈولVI) میں موجود ہے۔ اس پس منظر کے ساتھ مجرم یوسف علی بھی مرزا غلام احمد کے نقش قدم پر چلا اور اس نے زبانی اور دستاویزی شہادت کے ذریعے یہ ثابت کردیا کہ وہ بھی اپنے مشن اور نبوت کے جھوٹے دعویدار کا حقیقی جانشین ہے۔ پہلے اس نے مذہبی حلقوں میں اسلام کے مبلغ کی حیثیت سے رسائی حاصل کی، پھر مرد ِ کامل، اس کے بعد امام الوقت یعنی مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر خود کو خلیفہ اعظم قرار دے دیا۔ پھر اس نے ”غار حرا“ سے موسوم اپنے بیسمنٹ میں اپنے پیروکاروں کے سامنے اپنے نبی ہونے کا اعلان کردیا۔ وہ مرزا غلام احمد کی طرح اپنے اس جھوٹے دعوے پر بھی مطمئن نہیں ہوا اور اس نے خود کو نبی آخرالزماں سے (نعوذ باللہ) برتر ہستی ظاہر کرنے کے لیے یہ اعلان کردیا کہ 1400 سال قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمایک فریضہ سرانجام دے رہے تھے مگر دور حاضر میں اس نے نبوت اور اس کے حسن کو عروج کمال پر پہنچا دیا ہے۔ مجرم کے اس شرانگیز اور اشتعال انگیز دعوے کے ثبوت میں استغاثہ نے 14 گواہ پیش کیے جن میں کراچی سے بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر محمد اسلم (گواہ استغاثہ1)، محمد اکرم رانا (گواہ استغاثہ2 )‘ محمد علی ابوبکر (گواہ استغاثہ7) اور لاہور سے حافظ محمد ممتاز عدانی، (گواہ استغاثہ نمبر4)‘ میاں محمد اویس (گواہ استغاثہ5) شامل تھے جنہوں نے مجرم کی جانب سے نبوت اورختمی فضیلت کے جھوٹے دعوے کی براہِ راست عینی شہادتوں پر مبنی واقعات بیان کیے۔ سماجی اور مذہبی مرتبے کے حامل ان گواہوں کے ساتھ مجرم کی کوئی عداوت نہیں ہے۔ اس کے برعکس یہ لوگ اس کے اندھے عقیدت مند اور پیروکار تھے‘ بالخصوص محمد علی ابوبکر تو اس سے اتنا قریب تھا کہ اسے مجرم آقا سے مکمل وفاداری اور اس کے احکام کی تعمیل اور بھرپور اطاعت کی بناءپر ابوبکر صدیق کا خطاب دیا گیا تھا۔ کراچی کے اس مرید نے اس کو لاکھوں روپے مالیت کے چیک اور ڈرافٹ دیئے اور اس کے لیے آراستہ و پیراستہ محل تعمیر کیا جس میں غار حرا بھی بنایا گیا تھا۔ مجرم نے نقد یا چیک اور ڈرافٹ کی شکل میں رقم وصول کرنے کی حقیقت سے انکار نہیں کیا۔ اپنے اس نام نہاد نبی کے حق میں اپنی تمام جائداد سے دستبردار ہونے پر اس کے صحابی کو صدیق کا خطاب عطاکیاگیا تھا۔ اس طرح مجرم نے رسول پاک کے نام پر معصوم لوگوں کو اپنے جال میں پھنسایا اور انہیں مفلسی اور محتاجی سے دوچار کردیا۔ جب اس نے اپنے خلاف مسلمانوں کے غیظ وغضب اور شدید اشتعال کی کیفیت دیکھی تو اپنی گردن بچانے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح وہ بھی اپنے دعوے سے مکر گیا۔ اس کی تردید صریح دجل وفریب اور ”محمد“ ”آل رسول“ اور ”صحابہ“ کے مقدس الفاظ کی غلط ترجمانی کی عکاس تھی جیسا کہ ریکارڈ سے ظاہر ہے۔ یوسف علی نے مسلمان ہوکر بھی اپنے مذموم مقاصد کے لئے لوگوں کو دھوکا دینے اور مال ودولت اور جائداد کی خاطر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر معصوم لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیئے توہین رسالت کے سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔ (ایک ویب سائیٹ سے لیا گیا ایک مضمون) |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 9 صارفین نے shafresha کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | ALI-OAD (10-04-10), arshad khan (18-08-09), فیضان صديقی ,سندھ (06-03-10), فاروق سرورخان (21-10-09), یاسر عمران مرزا (21-10-09), اویسی (30-03-10), اسعد شاہ (29-03-10), رضی (15-08-09), عبداللہ آدم (16-02-10) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
رہبر کے روپ میں راہزن (پہلا حصہ) زید زمان المعروف زید حامد از حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت،پاکستان الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی! گزشتہ سال اکتوبر نومبر ۸۰۰۲ءمیں راقم الحروف نے قربِ قیامت کے فتنوں اور فتنہ پروروں کی نشاندہی کرتے ہوئے حدیث کی مشہور کتاب کنزالعمال کی ایک روایت کے حوالے سے انسان نما شیطانوں کے اضلال و گمراہی کی نشاندہی کی اور ضمناً ٹی وی کے ”نامور تجزیہ نگار“ زید حامد کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی طرف بھی اشارہ کیا تھا کہ کل کا زید زمان آج کا زید حامد ہے، اور یہ بدنام زمانہ اور مدعی نبوت یوسف کذاب کا خلیفہ اول ہے، جو یوسف کذاب کے واصل جہنم ہونے کے بعد ایک عرصہ تک منقار زیر پَر اور خاموش رہا، جب لوگ، ملعون یوسف کذاب اور اس کے ایمان ک±ش فتنہ کو قریب قریب بھول گئے تو اس نے زید حامد کے نام سے اپنے آپ کو منوانے اور متعارف کرانے کے لئے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل سے معاملہ کرکے اپنی زبان و بیان کے جوہر دکھلانا شروع کردیئے اور بہت جلد مسلمانوں میں اپنا نام اور مقام بنانے میں کامیاب ہوگیا، ...یہ بات بھی غلط ہے کہ براس ٹیکس نجی ٹی وی چینل کا پروگرام ہے، یہ پروگرام زید زمان کی اپنی کمپنی براس ٹیکس کا تیار کردہ ہے کیونکہ اسلام آباد میں مقیم ہمارے ایک باخبر دوست کے مطابق ایک اہم ادارے کا اسپانسر پروگرام ہے، ظاہر ہے کہ اس طرح کے پروگرام کی تیاری اور آن ایئر جانے پر خطیر رقم خرچ ہوتی ہے، (ڈاکٹر فیاض عالم، روزنامہ جسارت کراچی) بہرحال یہ سب کچھ اس کی چرب لسانی،تک بندی اور جھوٹی سچی معلومات کا کرشمہ ہے، ورنہ زید حامد کے پس منظر میں جھانک کر دیکھا جائے تو یہ ملعون یوسف کذاب کے عقائد و نظریات کا علمبردار اور اس کی فکر و سوچ کا داعی و مناد ہے ...اور ایسا کیوں نہ ہو کہ چشم بددور یہ اک اصحابی، خلیفہ، اس کا معتمد خاص، اس کا سفر و حضر کا ساتھی، مشکل وقت میں اس کا معاون و مددگار ،اس کے مقدمہ اور کیس کی پیروی کرنے والا اور طرف دار رہا ہے۔ راقم کی یہ تحریر جب ماہنامہ بینات کراچی اور ہفت روزہ ختم نبوت میں شائع ہوئی تو ہمارے بہت سے محترم و معزز احباب و رفقاءاور دین و مذہب سے وابستگی رکھنے والے مخلصین نے فون پر رابطہ کرکے میری فہمائش کرنا چاہی کہ: زید حامد تو بہت اچھا آدمی ہے بلکہ وہ اس دور میں مسلمانوں کا واحد ترجمان اور نمائندہ ہے کیونکہ جس طرح یہ یہودیوں اور امریکا کے خلاف اور جہاد افغانستان کے حق میں بولتا ہے، دوسرا کوئی اس کی ہمت و جرا ¿ت نہیں کرسکتا، بلکہ جس بے باکی اور بے خوفی سے یہ شخص بولتا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ یہ خالص ”طالبان“ ہے۔ اس کے علاوہ آج جب کوئی شخص اپنے اندر مسلمانوں، جہاد اور اسلام کے حق میں لکھنے اور بولنے کی ہمت و جرات نہیں پاتا، بلکہ جب سب لکھنے اور بولنے والوں کی زبان و قلم کا رخ اسلام، اسلامی شعائر، جہاد، مجاہدین اور طالبان کے خلاف ہے، بلاشبہ اس جیسے مردِ مجاہد کی زبان و بیان سے اسلام اور مسلمانوں کی ترجمانی، لق و دق صحرا میں کسی ہوا کے ٹھنڈے جھونکے یا شجرسایہ دار کے مترادف ہے؟ اگر ایسا ہے اور یقینا ایسا ہے تو اس مردِ مجاہد کی مخالفت کیوں؟ یوں تواس سلسلہ میں بہت سے حضرات نے نہایت اخلاص سے مجھے سمجھانے کی سعی و کوشش کی، مگر ہمارے بہت عزیز اور باقاعدہ سندیافتہ عالم دین مولانا محمد یوسف اسکندر سلمہ نے اس موقع پر خاصی جذباتیت کا مظاہرہ فرمایا، چنانچہ فرمانے لگے کہ: ”آپ حضرات بلا تحقیق کسی کو کافر و ملحد لکھنے اور باور کرانے میں ذرہ بھر تامل نہیں کرتے، مولانا! ایک ایسا شخص جو آپ کا، اسلام کا، مسلمانوں کا، جہاد کا، مجاہدین کا اور طالبان کا ترجمان ہے اور اس کی آواز دنیا بھر میں سنی جاتی ہے اور دنیا اس کے علم و فہم اور مبنی برصداقت تجزیوں اور یہود و امریکا کے خلاف بے لاگ تبصروں پر خراج اور تحسین کے ڈونگرے برساتی ہے، آپ نے بیک جنبش قلم اس کو مخالفین کے کیمپ اور پلڑے میں ڈال کر کوئی اچھا کام نہیں کیا۔ مولانا! آپ خود ہی اس کا فیصلہ فرمائیں کہ جو شخص اسلام دشمن ہوگا، وہ اسلام اور مسلمانوں کے حق میں کیوں کر بولے گا؟ اور جو امریکا اور یہودیوں کا ایجنٹ ہوگا وہ یہودیوں اور امریکا کے خلاف سرِ عام لب کشائی کیوں کرے گا؟ میں نے غور سے ان کی تقریر سنی اور عرض کیا: عزیز من! کسی آدمی کا اچھا مقرر ہونا، عمدہ تجزیہ نگار ہونا، وسیع معلومات سے متصف ہونا، کسی کی چرب زبانی اور طلاقت لسانی ،اس کے ایمان دار ہونے کی علامت اور نشانی نہیں ہے، کیونکہ بہت سے باطل پرست ایسے گزرے ہیں، جو ان کمالات سے متصف ہونے کے باوجود نہ صرف یہ کہ مسلمان نہیں تھے بلکہ وہ اپنے ان کمالات و اوصاف کو اپنے کفر، الحاد اور باطل نظریات کی اشاعت و تبلیغ اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، صرف ایک صدی پیشتر متحدہ ہندوستان کے غلیظ فتنہ، فتنہ قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی ابتدائی زندگی کا جائزہ لیجئے تو اندازہ ہوگا کہ شروع شروع میں اس نے بھی اپنے آپ کو مسلمانوں کا نمائندہ اسلام کا ترجمان اور آریوں اور عیسائیوں کے خلاف مناظر باور کرایا تھا، مگر یہ سب کچھ ایک خاص وقت اور ایک خاص مقصد کے لئے تھا ...وہ یہ کہ کسی طرح مسلمانوں میں اس کا نام اور مقام پیدا ہوجائے، اور بحیثیت مسلمان، اس کا تعارف ہوجائے، مسلمان اس کے قریب آجائیں اور مسلمانوں کا اس پر اعتماد بیٹھ جائے، چنانچہ جب اس نے محسوس کیا کہ ان مناظروں اور مباحثوں سے اس کے مقاصد حاصل ہوگئے ہیں، تو اس نے اپنے باطل افکار و نظریات کا اظہار کرکے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کردیئے، اس کے بعد اس نے جو گل کھلائے، وہ کسی باخبر انسان اور ادنیٰ مسلمان سے مخفی اور پوشیدہ نہیں۔ ٹھیک اسی طرح زید حامد بھی ایک خاص حکمت عملی کے تحت یہ سب کچھ کررہا ہے، لہٰذا جس دن اس کو اندازہ ہوجائے گا کہ اس کا مقصد پورا ہوگیا ہے، یا مسلمانوں میں اس کا اعتماد، مقام اور تعارف ہوگیا ہے، یہ بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح اپنے پوشیدہ افکار و عقائد کا اظہار و اعلان کردے گا۔ میرے خیال میں میری اس تقریر سے عزیز مولوی محمد یوسف سلمہ کا ذہن تو صاف نہیں ہوا، البتہ اس نے میری سفید داڑھی اور عمر کے فرق کا لحاظ کرتے ہوئے وقتی طور پر خاموشی اختیار کرلی۔ تاہم اس نے میرے مضمون میں دیئے گئے موصوف کے ویب سائٹ کے پتہ پر زید حامد سے رابطہ کیا، تو آگے سے اس نے بھی ٹھیک وہی تقریر جھاڑی کہ یہ میرے خلاف خواہ مخواہ کا غلط پروپیگنڈا ہے، اور مولوی مجھ سے خواہ مخواہ بغض رکھتے ہیں یا مجھ سے پرخاش رکھتے ہیں، وغیرہ وغیرہ، ورنہ میرا کسی یوسف کذاب سے کوئی تعلق نہیں رہا بلکہ میں ایسے کسی شخص کو نہیں جانتا۔ بہرحال ویب سائٹ پر ان کی بات چیت اور چیٹنگ جاری تھی کہ میرے رفیق کار مولانا محمد اعجاز صاحب نے انہیں ”یوسف کذاب“ نامی کتاب پیش کردی، اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے عزیز مولوی محمد یوسف اسکندر کو جنہوں نے نہایت غورو خوض سے اس کا مطالعہ کیا تو ان کی آنکھیں کھل گئیں اور ان پر حقیقت حال منکشف ہوگئی۔ چنانچہ انہوں نے حکمت و دانش مندی اور سلیقہ سے زید حامد کے ساتھ براہ راست سوال و جواب کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پوچھا کہ: اگر تمہارا یوسف کذاب سے کوئی تعلق نہیں تھا تو اس کتاب میں اور یوسف کذاب کے مقدمہ میں تمہارا نام کیوں ہے؟ اور تم نے اس کے مقدمہ کی پیروی کیوں کی تھی؟ اور تم نے اس مقدمہ کے فیصلہ کے بعد روزنامہ ڈان کراچی میں اس فیصلہ کو انصاف کے قتل سے کیوں تعبیر کیا ؟ اور مدعی نبوت یوسف کذاب کو ایک مہربان اور اسلام کے معزز صوفی اور اسکالر کے طور پر کیوں پیش کیا؟ وغیرہ وغیرہ۔ الغرض مسلسل سوالوں کے بعد اس نے بہرحال اتنا اعتراف کرلیا کہ جی ہاں میرا اس مقدمہ میں کسی حد تک کردار رہا ہے۔ چنانچہ اس کے اس اعتراف کے بعد مولوی محمد یوسف اسکندر صاحب کو زید حامد کی حقیقت سمجھ میں آگئی۔ خیر یہ تو ایک سمجھ دار عالم دین کا معاملہ تھا، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے دین دار حضرات کو میری اس تحریر پر اعتراض تھا اور ہے، چنانچہ بہت سے مخلصین نے یہ کہہ کر اس بحث کو ختم کردیا کہ سعید احمد جلال پوری کو یا تو غلط فہمی ہوئی ہے یا پھر اس کو صحیح معلومات نہیں دی گئیں۔ اسی طرح جناب حافظ توفیق حسین شاہ صاحب نے روزنامہ جنگ کراچی میں حامد میر کے جواب میں راقم الحروف کے مضمون کی اشاعت پر اپنے میسیج میں لکھا: ”حضرت مدنی سے متعلق بہترین جوابات بھی انہماک سے پڑھے ہیں، میں خاکسار آپ کی توجہ کے لئے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ٹی وی ون کے ایک پروگرام میں ایک زبردست مجاہد صحافی زید حامد صاحب نے گستاخ حامد میر کو ”را“ کا ایجنٹ قرار دیا ہے، فون:0300-3345123“ دیکھا آپ نے ان صاحب نے بھی زید حامد کو ”زبردست مجاہد صحافی“ لکھا، الغرض اس قسم کے دسیوں حضرات موصوف کے سحر میں گرفتار ہیں اور ان کی تقریر و بیان اور تنقید و تجزیوں کو اپنے دل کی آواز سمجھتے ہیں، صرف اس لئے کہ ان کے سامنے زید حامد کی تصویر کا ایک رخ ہے اور اس کی زندگی کا دوسرا بھیانک رخ ان کے سامنے نہیں ہے، جس میں وہ مدعی نبوت یوسف علی کذاب کا خلیفہ اول، ناموس رسالت کا غدار اور فلسفہ اجرائے نبوت کا قائل، یوسف کذاب کی فاشسٹ زندگی، اس کی زنا کاری و بدکاری، کالے کرتوتوں کا حامی بلکہ اس کے وکیل صفائی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، حد تو یہ ہے کہ وہ قوم کی عزت مآب ماؤں، بہنوں، بہوﺅں اور بیٹیوں کی عزت تار تار کرنے والے کو نعوذ باللہ نبی و رسول باور کراتا رہا ہے۔ جب یہ بات طے ہے کہ کل کے زید زمان اور آج کے زید حامد نے یوسف علی کذاب کے عقائد و نظریات سے توبہ نہیں کی، بلکہ وہ آج بھی اس کے خلاف عدالتی فیصلہ کو انصاف کا خون کہتا ہے تو یقینا آج بھی وہ کذاب یوسف علی کی روش، اس کے مشن اور عقائد و نظریات کا حامی و داعی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کل تک وہ کھل کر اس کا جانبدار اور وکیل صفائی تھا، مگر اب وہ حالات کا دھارا دیکھ کر وقتی اور عارضی طور پر اس کی وکالت و ترجمانی سے کنارہ کش، خاموش اور حالات کے سازگار ہونے کا منتظر ہے۔ اس لئے ضروری ہوا کہ اس مارِ آستین کی زہرناکی اور فتنہ سامانی سے قوم کو آگاہ کیا جائے اور اس کے خطرناک عزائم و ارادوں سے بھولی بھالی انسانیت کو آشنا کیا جائے، لہٰذا طے ہوا کہ زید حامد اور یوسف کذاب کے پرانے تعلق داروں سے رابطہ کرکے صحیح صورت حال معلوم کرکے اصل حقائق مسلمانوں تک پہنچائے جائیں، لہٰذا اس سلسلہ میں جب رابطہ مہم شروع کی گئی تو بحمداللہ! اچھا خاصا مواد اور اس حلقے کے کئی ایسے حضرات مل گئے جو زید حامد کو بچپن سے اب تک جانتے ہیں اور اس کی زندگی کے انقلابات اور قلا بازیوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ چنانچہ جب ان افراد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے نہایت ہی خلوص و اخلاص سے نہ صرف سارے حقائق اور معلومات مہیا کیں بلکہ دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی میں تشریف لاکر اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ہم اس سلسلہ میں ہر جگہ جانے بلکہ زید حامد سے بات چیت کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم زید حامد کے بارہ میں وہ دلائل و براہین اور قرائن و شواہد پیش کریں ...جن سے ثابت کیا جائے کہ زید حامد مدعی نبوت یوسف کذاب کا ...نعوذباللہ... صحابی، خلیفہ اول، اس کے عقائد و نظریات کا علمبردار اور اس کی فکرو فلسفہ کا داعی و مناد ہے... ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اپنا وہ مضمون اور تحریر بھی یہاں نقل کردی جائے جو زید حامد کے فتنہ سے آگاہی کا سبب اور ذریعہ بنی اور یہ اس لئے بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جن حضرات نے یہ تحریر نہیں پڑھی یا ابھی تک ان کی نگاہ سے نہیں گزری، ان کے دل و دماغ میں بڑی شدت سے یہ خیال آرہا ہوگا کہ آخر وہ کون سا مضمون اور تحریر ہے؟ جس کے ذریعہ اس نام نہاد ”مردِ مجاہد“ یا ”مسلمانوں، اسلام اور طالبان کے ترجمان“کے خفیہ پروگرام اور زیر زمین منصوبے کو چیلنج کیا گیا؟ یا اس کی ردائے باطنیت کو چاک کیا گیا ہے؟ لیجئے پہلے وہ تحریر پڑھئے: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہِ الٰہی سے اطلاع پاکر قیامت تک پیش آنے والے حالات و واقعات کی امت کو اطلاع دی ہے اورانہیں ممکنہ خطرات و اندیشوں سے آگاہ فرمادیا ہے۔ اسی طرح قرب قیامت میں جو جو فتنے ظہور پذیر ہوں گے یا جن جن طریقوں سے امت کو گمراہ کیا جاسکتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پیشگی اطلاع دے کر امت کو ان سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ چنانچہ اہل علم اور علماءجانتے ہیں کہ احادیث کی تمام متداول و مروّج کتب میں حضرات محدثین نے ”ابواب الفتن“ یا ”کتاب الفتن“ کا عنوان قائم کرکے ایسی تمام احادیث اور روایات کو یکجا کردیا ہے۔ یوں تو قرب قیامت میں بہت سے فتنے اٹھیں گے، مگر ان میں سب سے بڑا فتنہ دجال کا فتنہ ہوگا، جو انسانیت کو اپنی شعبدہ بازیوں سے گمراہ کرے گا۔ دجال اکبر تو ایک ہوگا، جس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر مقام ”لُدّ“ میں قتل کریں گے، مگر ایسا لگتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی چھوٹے چھوٹے دجال پیدا ہوں گے، جو امت کو گمراہ کرنے میں دجال اکبر کی نمائندگی کی خدمت انجام دیں گے۔ اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو اس بات کی طرف متوجہ فرمایا ہے کہ وہ ایسے ایمان ک±ش راہزنوں اور دجالوں سے ہوشیار رہے، کیونکہ قرب قیامت میں شیاطین انسانوں کی شکل میں آکر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے اور وہ اس کامیابی سے اپنی تحریک کو اٹھائیں گے کہ کسی کو ان کے شیطان، دجال یا جھوٹے ہونے کا وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔ چنانچہ علامہ علا الدین علی متقی نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف کنزالعمال میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان انسان نما شیاطین کے دجل و اضلال ،فتنہ پرور سازشوں اوردجالی طریقہ کار کا تذکرہ کرتے ہوئے نقل فرمایا ہے کہ: ”انظروا من تجالسون وعمن تا خذون دینکم، فان الشیاطین یتصّورون فی آخر الزمان فی صور الرجال، فیقولون:حدثنا، واخبرنا۔ واذا جلستم الی رجل فاسئلوہ عن اسمہ و اسم ابیہ وعشیرتہ، فتفقدّونہ اذا غاب۔“ (تاریخ مستدرک حاکم، مسند فردوس دیلمی، کنزالعمال، ص:۴۱۲،ج:۰۱) ترجمہ: ....”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ...تم لوگ یہ دیکھ لیا کرو کہ کن لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہو؟ اور کن لوگوں سے دین حاصل کررہے ہو؟ کیونکہ آخری زمانہ میں شیاطین انسانوں کی شکل اختیار کرکے ...انسانوں کو گمراہ کرنے ...آئیں گے... اور اپنی جھوٹی باتوں کو سچا باور کرانے کے لئے من گھڑت سندیں بیان کرکے محدثین کی طرز پر...کہیں گے: حدثنا واخبرنا...مجھے فلاں نے بیان کیا، مجھے فلاں نے خبر دی... وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا جب تم کسی آدمی کے پاس دین سیکھنے کے لئے بیٹھا کرو، تو اس سے اس کا، اس کے باپ کا اور اس کے قبیلہ کا نام پوچھ لیا کرو، اس لئے کہ جب وہ غائب ہوجائے گا تو تم اس کو تلاش کروگے۔“ قطع نظر اس روایت کی سند کے اس کا نفس مضمون صحیح ہے۔بہرحال اس روایت میں چند اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے، مثلاً: ۱:.... مسلمانوں کو ہر ایرے غیرے اور مجہول انسان کے حلقہ درس میں نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ کسی سے علمی استفادہ کرنے سے قبل اس کی پوری تحقیق کرلینا ضروری ہے کہ یہ آدمی کون ہے؟کیسا ہے؟ کس خاندان اور قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے، اور اس کا خاندانی پس منظر کیا ہے؟ ۲:.... اس کے اساتذہ کون سے ہیں؟ کس درس گاہ سے اس نے علم حاصل کیا ہے؟ ۳:.... اس کا علم خودرو اور ذاتی مطالعہ کی پیداوار تو نہیں؟ کسی گمراہ، بے دین، ملحد اور مستشرق اساتذہ کا شاگرد تو نہیں؟ ۴:.... اس شخص کے اعمال و اخلاق کیسے ہیں؟ اس کے ذاتی اور نجی معاملات کیسے ہیں؟ کہیں یہ شعبدہ باز اور دین کے نام پر دنیا کمانے والا تو نہیں؟ ۵:.... اس کا سلسلہ سند کیا ہے؟ یہ جھوٹا اور مکار تو نہیں؟ یہ جھوٹی اور من گھڑت سندیں تو بیان نہیں کرتا؟ کیونکہ محض سندیں نقل کرنے اور ”اخبرنا“ و” حدثنا“ کہنے سے کوئی آدمی صحیح عالم ربانی نہیں کہلاسکتا، اس لئے کہ بعض اوقات مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے کافر و ملحد بھی اس طرح کی اصطلاحات استعمال کیا کرتے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ ہر مقرر و مدرس ،واعظ یا ”وسیع معلومات“ رکھنے والے ”اسکالر“وڈاکٹر کی بات پر کان نہ دھریں، بلکہ اس کے بارہ میں پہلے مکمل تحقیق کرلیا کریں کہ یہ صاحب کون ہیں؟ اور ان کے علم و تحقیق کا حدود اربعہ کیا ہے؟ کہیں یہ منکر حدیث، منکر دین،منکر صحابہ،منکر معجزات، مدعی نبوت یا ان کا چیلہ چانٹا تو نہیں؟ چنانچہ ہمارے دور میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ ریڈیو، ٹی وی یا عام اجتماعات میں ایسے لوگوں کو پذیرائی حاصل ہوجاتی ہے، جو اپنی چرب زبانی اور ”وسعت معلومات“ اور تُک بندی کی بنا پر مجمع کو مسحور کرلیتے ہیں،جس کی وجہ سے بہت سے لوگ ان کے قائل، معتقد اور عقیدت مند ہوجاتے ہیں، ان کے بیانات، دروس اور لیکچر زکا اہتمام کرتے ہیں، ان کی آڈیو، ویڈیو کیسٹیں، سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز بنا بناکر دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ لیکن جب ان بے دینوں کا حلقہ بڑھ جاتا ہے اور ان کی شہرت آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہے تو وہ کھل کر اپنے کفر وضلال اور باطل و گمراہ کن عقائد و نظریات کا پرچار شروع کردیتے ہیں، تب عقدہ کھلتا ہے کہ یہ تو بے دین، ملحد، بلکہ زندیق اور دھریہ تھا اور ہم نے اس کے باطل و گمراہ کن عقائد و نظریات کی اشاعت و ترویج میں اس کا ساتھ دیا اور جتنا لوگ اس کے دام تزویر میں پھنس کر گمراہ ہوئے یا آئندہ ہوں گے، افسوس ! کہ ان کے گمراہ کرنے میں ہمارا مال و دولت اور محنت و مساعی استعمال ہوئی ہیں۔ اس روایت میں یہی بتلایا گیا ہے کہ بعد کے پچھتاوے سے بہتر ہے کہ پہلے اس کی مکمل تحقیق کرلی جائے کہ ہم جس شخص سے علم اور دین سیکھ رہے ہیں، یہ انسان ہے یاشیطان؟مسلمان ہے یاملحد؟مو ¿من ہے یامرتد؟ تاکہ خود بھی اور دوسرے بھی ایسے شیاطین و ملحدین کی گمراہی اور گمراہ کن دعوت سے بچ سکیں۔ حال ہی کی بات ہے کہ متعدد احباب نے پوچھا کہ زید حامد نام کا ایک اسکالر آج کل ٹی وی پر آرہا ہے، جس کی براس ٹیکس ڈاٹ کام (com. brasstacks ) کے نام سے ایک ویب سائٹ ہے، جس میں اس کا مکمل تعارف اور اس کی تقاریر موجود ہیں، اسی ویب سائٹ میں بتلایا گیا ہے کہ یہ شخص جہاد افغانسان میں بھی شریک رہا ہے۔ چونکہ آج کل وہ کھل کر امریکا اور یہودیوں کے خلاف بولتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس کے پاس جھوٹی سچی معلومات کا ذخیرہ ہے اور وہ نہایت ہی چرب لسان ہے، لہٰذا لوگ دھڑا دھڑ اس کے گرویدہ ہورہے ہیں۔ بتلایا جائے کہ یہ شخص کون ہے؟ اور اس کے عقائد و نظریات کیا ہیں؟ اس پر جب ہم نے اپنے طور پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ شخص ملعون یوسف کذاب ...جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اس کو گرفتار کراکے حوالہ زندان کیا تھا اور جیل ہی کے اندر ایک عاشق ِ رسول نے اس کا کام تمام کیا تھا... کا خلیفہ اول ہے اور اس کا اصل نام زید زمان ہے۔ چنانچہ روزنامہ خبریں لاہور کی خبر ملاحظہ ہو: ”ملتان (اسٹاف رپورٹر) نبوت کے جھوٹے دعویدار کذاب یوسف ...جو توہین رسالت کے الزام میں گزشتہ ۸ ماہ سے جیل میں بند ہے ... نے اپنی غیر موجودگی میں برنکس کمپنی اسلام آباد کے منیجر زید زمان کو خلیفہ اول مقرر کردیا ہے اور تمام چیلوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زید زمان کے احکامات کے مطابق کام کریں۔ زید زمان کو اس سے قبل ۸۲ /فروری کو کذاب یوسف کی نام نہاد ورلڈ اسمبلی آف مسلم یونٹی کے لاہور میں ہونے والے اجلاس میں خصوصی طور پر بلایا گیا تھا اور تقریباً ۰۰۱ افراد کی موجودگی میں کذاب یوسف نے اسے (اپنا) صحابی قرار دیتے ہوئے (نعوذباللہ) حضرت ابوبکر صدیق کا خطاب دیا تھا اور کہا تھا کہ ہم نے زید زمان کو حقیقت عطا کردی ہے۔ اس پروگرام کی ویڈیو اور آڈیو کیسٹ بھی تیار ہوئی، جو پولیس کے ریکارڈ میں محفوظ ہے اور مقدمہ کا حصہ ہے۔ اس اجلاس میں صحابی قرار پانے کے بعد زید زمان نے تقریر کی اور کذاب یوسف کی تعریف اور عظمت میں زمین و آسمان کے قلابے ملادیئے تھے۔ زید زمان ان دنوں کذاب یوسف کی رہائی کے سلسلہ میں سرگرم ہے اور عدالت میں ہر تاریخ پر موجود ہوتا ہے۔ کذاب یوسف کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اڈیالہ جیل میں اس نے عبادات ترک کردی ہیں اور آج کل خط و کتابت کے ذریعے روٹھے مریدوں کو منانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔“ (روزنامہ خبریں، لاہور، ۸/نومبر ۷۹۹۱ئ) چنانچہ جب یوسف کذاب جیل میں قتل ہوگیا، تو زید زمان از خود پس منظر میں چلا گیا، اور اپنے آپ کو منظر عام پر لانے کے لئے مناسب وقت کا انتظار کرنے لگا، ایک عرصہ بعد جب عام لوگوں کے ذہن سے یوسف کذاب کا قضیہ اوجھل ہوگیا اور لو گ یوسف کذاب اوراس کے چیلے زید زمان کی دینی اور مذہبی حیثیت سے قریب، قریب ناآشنا ہوگئے، تو اس نے اپنے باپ کے نام کے پہلے جز کے بجائے دوسرے جز کو اپنے نام سے ملایا اور زید زمان کی جگہ زید حامد کے نام سے اپنے آپ کو متعارف کرانے اور منوانے کا ناپاک منصوبہ شروع کردیا، اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس ملعون کا تعاقب کریں اور اس کے دام تزویر میں نہ آئیں اور دوسرے مسلمانوں کو بھی اس کے متعلق بتلائیں تاکہ امت مسلمہ کا دین و ایمان محفوظ رہ سکے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کو اس بات کابھی بطورِ خاص اہتمام کرنا چاہئے کہ مستند علمائ اور اکابر اہل ِ حق کے علاوہ کسی عام آدمی کو درس و تدریس کی مسند پر نہ بیٹھنے دیں اور نہ ہی اس کے حلقہ درس میں بیٹھیں، کیونکہ حجة الاسلام امام غزالی فرماتے ہیں کہ: ”وانما حق العوام ان یومنوا ویسلموا ویشتغلوا بعبادتہم ومعایشہم ویترکوا العلم للعلمائ، فالعامی لو یزنی ویسرق کان خیراً لہ من ان یتکلم فی العلم، فانہ من تکلم فی اللّٰہ وفی دینہ من غیر اتقان العلم وقع فی الکفر من حیث لایدری کمن یرکب لجة البحر وہو لایعرف السباحة۔“ ترجمہ: ... ”یعنی عوام کا فرض ہے کہ ایمان اور اسلام لاکر اپنی عبادتوں اور روزگار میں مشغول رہیں ،علم کی باتوں میں مداخلت نہ کریں۔ اس کو علمائ کے حوالے کردیں۔عامی شخص کا علمی سلسلہ میں حجت کرنا زنا اور چوری سے بھی زیادہ نقصان دہ اور خطرناک ہے، کیونکہ جو شخص دینی علوم میں بصیرت اور پختگی نہیںر کھتا وہ اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے مسائل میں بحث کرتا ہے تو بہت ممکن ہے کہ وہ ایسی رائے قائم کرے جو کفر ہو اور اس کو اس کا احساس بھی نہ ہو کہ جو اس نے سمجھا ہے وہ کفر ہے، اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو تیرنا نہ جانتا ہو اور سمندر میں کود پڑے۔“ (احیاءالعلوم، ص:۶۳، ج:۳) لہٰذا غیر مستند حضرات دین ومذہب میں دخل نہ دیںاور نہ ہی درس قرآن کی مسندوں پر بیٹھنے کی کوشش کریں،آج کل یہ فتنہ قریب قریب عام ہورہا ہے کہ ہرجاہل وعامی محض اردو کتب اورتراجم کی مدد سے درس قرآن دینے لگاہے، جبکہ یہ بہت ہی خطرناک ہے۔ اس سے دینی، مذہبی اور علمی اعتبار سے نوجوان نسل بہت ہی اضطراب کاشکارہورہی ہے، کیونکہ وہ دین و مذہب کے بارہ میں علما ¿ سے کچھ سنتے ہیں تو جدید اسکالروں سے کچھ اور،لہٰذا وہ اس کشمکش میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا؟ اس لئے ضروری ہے کہ اربابِ علم وعمل جگہ جگہ ایسے مستند مدرسین، واعظین اور مقررین کاانتظام کریں جو ہر اعتبار سے لائق اعتماد ہوں، تاکہ نئی نسل کی ذہن سازی ہو،اوروہ ان جہالت کے علَم برداروں کی گمراہی سے محفوظ رہ سکیں۔ وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین“ (ماہنامہ بینات محرم الحرام ۰۳۴۱ھ، مطابق جنوری ۹۰۰۲ئ) قدرت الٰہیہ کا اصول ہے کہ ہر شر میں کوئی نہ کوئی خیر کا پہلو نکل آتا ہے، چنانچہ ہماری اس مختصر سی تحریر کی اشاعت کے بعد اگرچہ اپنے ہی حلقہ کے کچھ حضرات کو اضطراب اور بے چینی ہوئی اور راقم کو ان کی تیز و تند تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس کی برکت سے ایک فتنہ اور فتنہ پرور کی سازش بے نقاب ہوگئی اور مستقبل میں اس کے خطرناک اور تباہ کن نقصانات کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کرنے کا موقع مل گیا، خدا کرے کہ ہماری یہ ادنیٰ سی کوشش مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت و صیانت کا اور زید زمان کی ہدایت و توبہ کا ذریعہ ثابت ہو۔ Last edited by shafresha; 17-08-09 at 12:27 PM. وجہ: ہجّوں کی تصیح |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 9 صارفین نے shafresha کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | ALI-OAD (10-04-10), arshad khan (18-08-09), فاروق سرورخان (21-10-09), یاسر عمران مرزا (21-10-09), مسافر (15-08-09), اویسی (30-03-10), اسعد شاہ (29-03-10), رضی (15-08-09), عبداللہ آدم (16-02-10) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
رہبر کے روپ میں راہزن (دوسرا حصہ)
زید زمان المعروف زید حامد از حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری جناب زید حامد اور اس سے اخلاص رکھنے والے مسلمانوں کی خدمت میں عرض ہے کہ مجھے نہ تو زید حامد سے کوئی ذاتی پرخاش ہے، اور نہ ہی میرا اس سے کوئی جائیداد یا خاندان کا جھگڑا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ میرا آج تک اس سے آمنا سامنا بھی نہیں ہوا، اس لئے اگر وہ آج اپنے ان عقائد و نظریات سے توبہ کرلے، یا کذاب یوسف علی پر دو حرف بھیج دے تو میں اس کو گلے لگانے کو تیار ہوں اور اپنی اس تحریر سے کھلے دل سے رجوع کا اعلان کردوں گا، تاہم جب تک وہ یوسف علی کذاب کے عقائد و نظریات سے منسلک ہے یا اس سے برا ¿ت کا اعلان نہیں کرتا، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا باغی اور غدار ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا باغی و غدار، اپنے اندر چاہے کتنا ہی خوبیاں اور کمالات کیوں نہ رکھتا ہو، وہ ہمارے اور کسی سچے مسلمان کے لئے ناقابل برداشت ہے، اس لئے ناممکن ہے کہ کوئی مسلمان اس کو اپنا یا مسلمانوں کا نمائندہ اور ترجمان باور کرے۔ الغرض ہماری معلومات اور تحقیق کے اعتبار سے زید حامد یوسف کذاب کا خلیفہ اول، اس کا جانشین، اس کا صحابی، اس کے عقائد و نظریات کا داعی، علمبردار اور اس کی فکر و فلسفہ کا پرچارک ہے، اور وہ آج بھی انہیں خطوط پر گامزن ہے جن پر مدعی نبوت یوسف کذاب اسے چھوڑ کرگیا تھا، فرق صرف یہ ہے کہ یوسف کذاب کی زندگی میں وہ کھل کر اس کا حامی تھا، اب جب اس نے دیکھ لیا کہ حالات سازگار نہیں ہیں، تو اس نے باطنیوں کی طرح اپنے عزائم و منصوبوں کی تکمیل کے لئے اپنی تحریک کو زیر زمین کردیا ہے، اور اس نے اپنی حکمت عملی کسی قدر تبدیل کرلی ہے۔ لہٰذا زید حامد کا یہ کہنا کہ میں کسی یوسف کذاب کو نہیں جانتا یا اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ”عذر گناہ بدتراز گناہ“ کے مترادف ہے، ہاں اگر وہ یہ کہتا کہ میرا اس سے تعلق تھا، مگر اب میں نے اس کے عقائد و نظریات سے توبہ کرلی ہے، پھر اپنی توبہ کے ثبوت کے طور پر توبہ نامہ اور توبہ کے گواہ پیش کردیتا، تو کسی کو کیا حق پہنچ سکتا تھا کہ وہ کسی توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول نہ کرتا؟ بہرحال ذیل میں ہم زید حامد کا تعارف، اس کے یوسف کذاب سے تعلق، اس کی صحابیت، اس کی خلافت، اس کی زندگی کے انقلابات اور قلا بازیوں کی مختصر روئیداد عرض کرنا چاہیں گے، لیجئے پڑھئے اور سر دھنیئے: ۱:.... زید حامد کے زمانہ طالب علمی کے اور شروع کے دوستوں کا کہنا ہے کہ زید حامد کا اصل نام زید زمان حامد ہے، اس کا شناختی کارڈ نمبریہ ہے: 3740510713477، اس کا باپ فوج کا ریٹائرڈ کرنل تھا، اس کا نام زمان حامد تھا، ۳۱۔بی بلاک ۶، پی ای سی ایچ سوسائٹی کراچی کے علاقہ نرسری میں چنیسر ہالٹ اور شاہراہ فیصل کے بیچ میں واقع کے ایف سی والی گلی میں پیچھے اس کی رہائش تھی، ۰۸۹۱ئ میں حبیب پبلک اسکول سے میٹرک کی، اسکول کی تعلیم کی تکمیل کے بعد اس نے کالج میں داخلہ لیا، کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نے ۳۸۹۱ئ میں این ای ڈی یونیورسٹی میں داخلہ لیا، این ای ڈی سے اس نے بی ای کی ڈگری حاصل کی، اس کے علاوہ اس نے پوسٹ گریجویشن، ایم ایس اور پی ایچ ڈی وغیرہ نہیں کی، اور نہ ہی وہ درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہا ہے، لہٰذا اسے ڈاکٹر یا پروفیسر وغیرہ کہنا اور لکھنا غلط ہے، جس زمانہ میں وہ این ای ڈی میں داخل ہوا، ایک ماڈرن نوجوان تھا، لیکن بہت جلد ہی اس کا اسلامی جمعیت طلبا کے ساتھ تعلق ہوگیا اور اسلامی جمعیت طلبا کے سرگرم کارکنوں میں سے شمار ہونے لگا، زید حامد جمعیت کے دوسرے کارکنوں کے مقابلہ میں نسبتاً لمبی داڑھی، سر پر پخول پہنے، سبز افغان جیکٹ کلاشنکوٹ زیب تن کئے دکھائی دیتا تھا، زید زمان شروع سے غیر معمولی ذہین و ذکی تھا، ان دنوں چونکہ جہاد افغانستان کا دور تھا، اس لئے تحریکی ذہن کا یہ نوجوان بھی عملی طور پر جہاد افغانستان کے ساتھ منسلک ہوگیا اور بڑھتے بڑھتے اس کا جہاد افغانستان کے بڑے لوگوں جلال الدین حقانی، حکمت یار اور احمد شاہ مسعود سے، تعلق ہوگیا اور عملی جہاد اور گوریلا جنگ کے تجربات کا حامل قرار پایا، اردو اس کی مادری اور انگلش اس کی تعلیمی زبان تھی جبکہ پشتو اور فارسی اس نے افغانستان میں رہ کر سیکھی تھی، اس لئے وہ اردو، انگلش، پشتو اور فارسی بے تکلف بولنے لگا۔ اسی دوران اس کو جلال الدین حقانی، حکمت یار اور احمد شاہ مسعود سے نہ صرف تقرب حاصل ہوگیا بلکہ حکمت یار اور ربانی کے پاکستانی دوروں کے موقع پر وہ ان کا ترجمان ہوتا تھا، اسی طرح دوسرے جہادی اور تحریکی راہنما?ں سے بھی اس کے قریبی مراسم ہوگئے۔تعلیم سے فراغت کے بعد یہ برنکس نامی ایک سیکورٹی کمپنی کا منیجر بن کر ۲۹۹۱ءمیں کراچی سے راولپنڈی چلا گیا، پھر کچھ عرصہ بعد اس نے برنکس کمپنی چھوڑکر براس ٹیکس کے نام سے اپنی کمپنی بنائی اور اسی کے نام سے ویب سائٹ بھی ترتیب دی، آج کل اس کی تمام سرگرمیاں اسی کمپنی اور ویب سائٹ کی مرہون منت ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق زید حامد اس وقت: مکان نمبر 777، عمار شہید روڈ، چکلالہ اسکیم III ، راولپنڈی میںر ہائش پذیر ہے، جبکہ اس کے شناختی کارڈ کی کاپی کے اعتبار سے اس کا پتہ یہ ہے: مکان نمبر 9-A اسٹریٹ 2، چکلالہ 2، راولپنڈی۔ ۲:.... جناب سعد موٹن صاحب بھی اسلامی جمعیت طلبا کے سرگرم کا رکن تھے، ان کا کہنا ہے کہ زید زمان سے میرا تعارف یوسف علی کے خاص مقرب رضوان طیب نے کرایا، یہ اس زمانہ کی بات ہے جب افغان جہاد کے آخری دن چل رہے تھے، اور طالبان کابل کو فتح کرکے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئے تھے، کراچی کے کچھ لوگ تیار ہوکر افغان جہاد میں حصہ لینے جارہے تھے، جب طالبان حکومت بنی تو کچھ لوگوں نے سوچا کہ کیوں نہ پاکستان میں طالبان طرز کی خلافت قائم کی جائے، مذہبی سوچ رکھنے والوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے یہی کہنا کافی تھا، رضوان طیب کے اسلامک سینٹر کے پلیٹ فارم پر زید زمان سے ملاقات ہوئی، پھر یہ دونوں ...زید زمان اور رضوان طیب....مسلم ایڈ کے لئے کام کرنے لگے اور میں بھی ان کے ساتھ کام کرنے لگا، مسلم ایڈ کا کارڈ آج بھی میرے پاس موجود ہے، میں ان کے ساتھ فنڈ اکٹھا کرتا تھا، ہم نے افغان جہاد کے حوالے سے ایک مووی قصص الجہاد کے نام سے تیار کی تھی، زید زمان اس کا ڈائریکٹر تھا، اس سی ڈی کی سیل اور فروخت کی ذمہ داری میری تھی، اس کے بعد زید زمان کی ملاقات یوسف کذاب سے ہوئی اور وہ اس کو کراچی لے آیا، رضوان طیب، سہیل احمد اور عبدالواحد کراچی میں ان کے شروع کے ساتھیوں میں سے تھے، ان لوگوں نے خلافت کا آسرا دے کر کراچی سے ایک تحریک کا آغاز کیا اور اسلامی جمعیت طلبا اور جماعت اسلامی کے لوگوں کو ٹارگٹ بنایا، ہر آدمی کو اس کے رجحان کے حساب سے گھیرنے کی حکمت عملی وضع کی گئی، اگر کوئی جہاد سے متاثر تھا تو اس کے حوالے سے اور اگر کوئی تصوف یا کسی دوسری فکر سے وابستہ تھا تو اس لائن سے اس کو قریب لانے کے لئے اس فکر کے قصیدے پڑھے گئے، یوں کل کا مجاہد زید زمان ایک صوفی اور ذکر کی لائن کا آدمی بن کر ابھرا اور اس کو یوسف کذاب کا اتنا قرب حاصل ہوا کہ وہ نعوذباللہ اس کا صحابی اور خلیفہ اول قرار پایا۔ ۳:.... یوسف کذاب کے مقرب خاص اور زید حامد کے دوست رضوان طیب کے بھائی منصور طیب کا فرمانا ہے کہ: میں زید حامد کو اس وقت سے جانتا ہوں جب اس کا یوسف علی سے تعلق نہیں تھا، زید حامد ۹۸،۸۸۹۱ءکے انتخابات میں بہت سرگرم تھا، ۹۸۹۱ءمیں اس نے ایک تصویری نمائش کا اہتمام کیا اور اس کے لئے ایک ویڈیو فلم بھی تیار کی، اس نمائش کا اہتمام سوسائٹی کے علاقہ میں مختلف مقامات پرکیا گیا، اس زمانہ میں یہ مختلف جہادی راہنماﺅں کے ترجمان کی صورت میں نظر آتا تھا، ہم اس کی شخصیت سے بہت متاثر تھے، اور یہ اپنے آپ کو ایک بہت بڑا جہادی راہنما سمجھتا تھا، اس زمانہ میں اس نے افغان جہاد کے حوالے سے ایک ویڈیو فلم قصص الجہاد بھی تیار کی ۳۹۹۱ئ میں جہاد افغان ختم ہوگیا، تو یہ وہ دور تھا کہ اس نے تمام مجاہد راہنما?ں کو گالیاں دینا شروع کردیں۔ ۴۹،۳۹۹۱ئ میں زید حامد لاہور سے اپنے ساتھ یوسف کذاب کو لے آیا اور اس کو سوسائٹی کے علاقہ کے تحریکی ساتھیوں سے متعارف کرایا اور کہا کہ یہ ایک بزرگ ہے جو صرف ذکر کی بات کرتا ہے، اگر کوئی سوا لاکھ درود شریف کا ورد کرے گا تو اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور دیدار ہوگا، میرے بڑے بھائی رضوان طیب یوسف علی سے منسلک ہوگئے اور ان کے خاص مقربین میں شامل ہوگئے، اس وجہ سے یوسف علی اور زید حامد میرے گھر آتے تھے، زید زمان جس کا پہلے سے ہمارے گھر آنا جانا تھا، یوسف علی کو ہمارے گھر لے آیا، اس زمانہ میں اسلامی جمعیت اور جماعت اسلامی سے متاثر تین درجن سے زائد افراد اس سے متاثر ہوئے، میرے بھائی تو اس حد تک متاثر ہوئے کہ انہوں نے ہماری دکان کا ایک حصہ بیچا اور یوسف کذاب کو ایک گاڑی خرید کر دی اور لاکھوں روپے نقد دیئے، زید حامد یوسف کذاب کا مقرب اول تھا اس لئے پیسوں کی وصولی وہ کرتا تھا، میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ زید زمان نے خود اپنی جیب سے ایک ہزار روپے بھی نہیں دیئے ہوں گے، زید حامد نے مجھے یوسف کذاب کے نظریات پر مبنی پمفلٹ دیئے اور مختلف مساجد کے باہر تقسیم کرنے کو کہا، لہٰذا اس کا یہ کہنا کہ میں کسی یوسف علی کو نہیں جانتا محض جھوٹ اور فریب ہے۔ ۴:.... اس سب سے قطع نظر ہم زید حامد سے پوچھنا چاہیں گے کہ اگر ان کا یوسف کذاب سے کوئی تعلق نہیں تھا یا نہیں ہے تو وہ یہ بتلانا پسند فرمادیں گے کہ یوسف کذاب کے خلاف لکھی گئی کتابوں: ”کذاب“ تالیف: میاں غفاراور ”فتنہ یوسف کذاب“ تالیف: ارشد قریشی میں ان کا یوسف علی کذاب کے مقدمہ میں بار بار تذکرہ کیوں آیا ہے؟ کیا وہ اس کا انکار کرسکتے ہیں کہ ”فتنہ یوسف کذاب“ کے بیس مقامات پر بایں الفاظ ان کا تذکرہ موجود ہے، ملاحظہ ہو: ۱:.... ”ورلڈ اسمبلی کے اجلاس میں یوسف علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سو سے زائد صحابہ کرام محفل میں بیٹھے ہوئے ہیں...اس نے...کراچی کے ایک صاحب زید زمان کو مجاہد کا لقب دیا۔ “ (ص:۳) ۲:.... ”ملعون نے اپنے انتہائی اہم مقربین کو لاہور ڈیفنس کینٹ میں واقع اپنی پرآسائش قیام گاہ میں طلب کرلیا، جن میں راولپنڈی سے زید زمان کے علاوہ کراچی سے سہیل نامی ایک شخص بھی شامل ہے۔“ (ص:۲۴) ۳:.... ”یوسف علی نے مذکورہ تردید جاری کرنے سے قبل سہیل اور زید زمان کے ذریعے ملک بھر کے تمام مریدوں سے ٹیلیفونک رابطے کئے۔“ (ص:۲۴) ۴:.... ”اطلاعات کے مطابق ان مریدوں کے لاہور پہنچنے سے قبل ہی وہاں زید زمان نامی ملعون کا ایک مرید پہلے موجود تھا۔“ (ص:۱۵) ۵:.... ”اطلاعات کے مطابق ایسے کسی بھی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری زید زمان کو سپرد کی جائے گی جو افغانستان کی جنگ میں براہ راست شریک ہونے کے باعث کمانڈو کی شہرت رکھتا ہے۔“ (ص:۱۵) ۶:.... ”اس سلسلہ میں زید زمان اور سہیل احمد خان نے کچھ سفارت خانوں سے بھی رابطہ کیا ہے۔“ (ص:۱۵) ۷:.... ”کراچی کا خلیفہ سہیل، راولپنڈی کا زید زمان...تھا۔ “ (ص: ۴۷) ۸:.... ”...پھر اسی محفل میں میں نے دو افراد عبدالواحد اور زید زمان کا بطور صحابی تعارف کروادیا۔ “ (ص:۷۷) ۹:.... ”ابوالحسین یوسف علی نے ۲۱ سال قبل ایک نام نہاد فرضی ورلڈ اسمبلی بنائی جس کا نام ورلڈ اسمبلی آف مسلم یونٹی ہے، ۸۲/ فروری ۷۹۹۱ءکو لاہور میں اس کا اجلاس ہوا، جس میں کذاب نے ۰۰۱ صحابہ کرام کی موجودگی کی بات کی اس اجلاس میں کراچی سے عبدالواحد، محمد علی ابوبکر، سیّد زمان...نے شرکت کی۔“ (ص:۰۱۱) ۰۱:.... ”ورلڈ اسمبلی کے دعوت نامہ میں بھی مذکورہ بالا افراد کے نام ہیں۔“ (ص:۶۱۱) ۱۱:.... ”یوسف کذاب کی اہلیہ نے نبوت کے جھوٹے دعویدار کو بعض کاغذات جیل میں پہنچائے ہیں، جو اس نے اپنے خاص آدمیوں زید زمان اور سہیل کے حوالے کردیئے، گزشتہ روز یہ افراد، وہ دستاویزات لے کر امریکی قونصلیٹ گئے اور کافی دیر تک وہاں موجود رہے۔“ (ص:۶۱۱) ۲۱:.... ”یوسف علی کو ملک سے فرار کرانے کی کوشش کی جائے گی، اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری زید زمان کے سپرد کی جائے گی، جو افغانستان کی جنگ میں براہ راست شریک ہونے کے باعث کمانڈو کی تربیت رکھتا ہے، اس سلسلہ میں زید زمان اور سہیل احمد خان نے کچھ سفارت خانوں سے بھی رابطہ کیا۔“ (ص:۶۰۳) ۳۱:.... ”یوسف کذاب کے گھر اور اہل خانہ کی حفاظت کی ذمہ داری برنکس کو دے دی گئی، فرم کے افسر زید زمان کو جھوٹے نبی نے اپنا خلیفہ مقرر کررکھا ہے۔ “ (ص:۳۱۳) ۴۱:.... ”یوسف کذاب کے گھر اور اہلِ خانہ کی سیکورٹی کی تمام تر ذمہ داری لاہور، راولپنڈی اور کراچی کی ایک مشہور سیکورٹی فرم برنکس کو دے دی گئی ہے۔ اس فرم کے ایک آفیسر زید زمان کو یوسف نے راولپنڈی اور اسلام آباد کا خلیفہ بھی مقرر رکھا ہے اور وہ ابھی تک اس جھوٹے نبی کے حصار میں ہے۔“ (ص:۴۱۳) ۵۱:.... ”...حاضرین محفل میں سے دو افراد عبدالواحد خان اور زید زمان کو اسٹیج پر بلاکر ان کا تعارف صحابی رسول کے طور پر کرایا۔“ (ص:۵۲۳) ۶۱:.... ”ملعون نے اپنے تمام مریدوں سے زید زمان اور سہیل احمد خان کے توسط سے رابطے کئے ہیں۔“ (ص:۳۶۳) ۷۱:.... ”کراچی کے سہیل احمد خان اورپشاور ...پشاور سہو کاتب ہے ورنہ وہ راولپنڈی کا خلیفہ تھا، ناقل...کے زید زمان نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور سفارت خانوں سے رابطے کئے۔“ (ص:۰۷۳) ۸۱:.... ”مولانا عبدالستار خان نیازی نے کہا...کہ زید زمان نامی کوئی لڑکا چند افراد کے ساتھ میرے پاس آیا اور بتایا کہ بعض افراد اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے بعض اکابرین ایک صحیح العقیدہ مسلمان اور رسول کریم کے شیدائی کو کافر قرار دے کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کرواچکے ہیں.... “ (ص:۰۹۳) ۹۱:.... ”کذاب یوسف نے برنکس کمپنی کے منیجر زید زمان کو خلیفہ اول مقرر کردیا۔“ (ص:۴۰۴) ۰۲:.... ”یوسف کذاب ...نے اپنی غیر موجودگی میں برنکس کمپنی اسلام آباد کے منیجر زید زمان کو خلیفہ اول مقرر کردیا ہے اور تمام چیلوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زید زمان کے احکامات کے مطابق کام کریں، زید زماں کو اس سے قبل ۸۲/فروری کو کذاب یوسف کی نام نہاد ورلڈ اسمبلی آف مسلم یونٹی کے لاہور میں ہونے والے اجلاس میں خصوصی طور پر بلایا گیا تھا اور تقریباً ۰۰۱ افراد کی موجودگی میں کذاب نے اسے صحابی قرار دیتے ہوئے ...نعوذباللہ... حضرت ابوبکر صدیق ? کا خطاب دیا تھا اور کہا تھا کہ ہم نے زید زمان کو حقیقت عطا کردی ہے۔ اس پروگرام کی ویڈیو اور آڈیو کیسٹ بھی تیار ہوئی، جو پولیس کے ریکارڈ میں محفوظ ہے اور مقدمہ کا حصہ ہے۔ اس اجلاس میں صحابی قرار پانے کے بعد زید زمان نے تقریر کی اور کذاب یوسف کی تعریف اور عظمت میں زمین و آسمان کے قلابے ملادیئے تھے۔ زید زمان ان دنوں کذاب یوسف کی رہائی کے سلسلہ میں سرگرم ہے اور عدالت میں ہر تاریخ پر موجود ہوتا ہے۔“ (ص:۷۲۴) الغرض کیا ان کا یوسف کذاب کو بچانے، اس کے مقدمہ کی پیروی، اس کی حفاظت، اس کو بیرون ملک فرار کرانے اور امریکی کونسل خانہ تک اپروچ کرنے اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کرنے وغیرہ مختلف حوالوں سے ان کا نام نمایاں طور پر نہیں لیا گیا؟ اگر ان کا اس ملعون کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا تو یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہوا؟ کیا انہوں نے کبھی اس سے اپنی برا ¿ت کا اظہار کیا؟ یا کرسکتے ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔ اسی طرح نبوت کے جھوٹے دعویدار یوسف کذاب کی کہانی پر مشتمل کتاب ”کذاب“ میں بھی بیس مقامات پر مختلف عنوانات اور خدمات کے ذیل میں بایں الفاظ ان کا تذکرہ ملتا ہے، پڑھئے اور سر دھنیئے: ۱:.... ”اس جلسے میں کذاب کا چیلا زید زمان جسے کذاب نے ”صحابی“ قرار دیا تھا، اسٹیج پر براجمان تھا۔“ (ص:۴۲) ۲:.... ”کذاب کو کم از کم اپنے ان دو ”صحابیوں“ عبدالواحد اور زید زمان ہی کو اپنی صفائی میں عدالت میں لانا چاہئے تھا۔“ (ص:۵۲) ۳:.... ”اپنی تقریر کے دوران اپنے دو چیلوں عبدالواحد خان اور زید زمان کو ”صحابی“ کی حیثیت سے متعارف کروایا وہ دونوں اس محفل میں موجود تھے۔“ (ص:۰۵) ۴:.... ”سب سے پہلے وابستہ اور وارفتہ ہونے والے سیّد زید زمان ہی تھے، آئیں سیّد زید زمان:“ (ص:۲۵) ۵:.... ”کراچی سے عبدالواحد، محمد علی ابوبکر ، سیّد زید زمان، سروش، وسیم، امجد، رضوان، کاشف، عارف اور اورنگزیب خان اور شاہد نے شرکت کی۔“ (ص:۴۶) ۶:.... ”راولپنڈی کا خلیفہ زید زمان، پشاور کا خلیفہ سابق ایئر کموڈور اورنگزیب تھا۔“ (ص:۱۹) ۷:.... ”اس دوران اس کے خاص کارندے زید زمان جو راولپنڈی میں برنکس نامی ایک سیکورٹی کی فرم میں آفیسر ہے، نے کذاب یوسف کے گھر پر سیکورٹی کا عملہ تعینات کردیا۔ “ (ص:۴۹) ۸: .... ”پھر اسی محفل میں ، میں نے دو افراد عبدالواحد خان اور زید زمان کا بطور صحابی تعارف کروایا۔“ (ص:۵۹) ۹:.... ”...حتی کہ عبدالواحد خان اور زید زمان بھی گواہی کے لئے نہ آئے جنہیں اس نے یتیم خانہ لاہور، بیت الرضا میں نعوذباللہ خلفائے راشدین کا درجہ دیا تھا۔“ (ص:۵۲۱) ۰۱:.... ”اس نے دو افراد زید زمان اور عبدالواحد کے صحابی ہونے کا اعلان کیا۔“ (ص:۵۷۱) ۱۱:.... ” اس ...یوسف علی...نے دو افراد جن کے نام زید زمان اور عبدالواحد تھے کو آگے بلایا اور ان کا تعارف صحابی رسول کی حیثیت سے کرایا۔“ (ص:۹۷۱) ۲۱:.... ”میں نے اجلاس میں شرکت کی تھی جہاں آڈیو اور ویڈیو کیسٹ تیار کی گئی تھی...ملزم یوسف نے عبدالواحد اور زید زمان کا اپنے صحابیوں کی حیثیت سے تعارف کرایا۔“ (ص: ۷۸۱) ۳۱:.... ”یہ درست ہے کہ ملزم یوسف نے عبدالواحد اور زید زمان کو اصحاب رسول کہا، اپنے صحابی نہیں کہا۔“ (ص:۶۹۱) ۴۱:.... ”پھر دوران تقریر یوسف علی ملزم نے دو اشخاص کو جن کے تعارف زید زمان اور عبدالواحد کرائے، ان کو بطور صحابی پیش کیا۔“ (ص:۱۱۲) ۵۱:.... ”حافظ ممتاز مذکورہ اجتماع میں موجود تھے...جس میں تم نے اپنے دو مریدوں زید زمان اور عبدالواحد کے صحابی ہونے کا اعلان کیا۔“ (ص:۰۳۲) ۶۱:.... ”کیا یہ درست ہے کہ...تم نے عبدالواحد اور زید زمان کو اپنے صحابی کی حیثیت سے متعارف کرایا اور ان دونوں افراد نے کسی حد تک خود بھی تقریریں کیں؟۔“ (ص:۸۳۲) ۷۱:.... ”...میں نے جس اجتماع میں اپنے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا، وہاں بیٹھے افراد میں سے اپنے مریدوں زید زمان اور عبدالواحد کے صحابی ہونے کا اعلان کیا۔ “ (ص:۷۹۲) ۸۱:.... ”مثال کے طور پر آڈیو کیسٹ بی، ا۔کاٹرنسکرپٹ ایگزیبٹ پی۔۰۱ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نے عبدالواحد اور زید زمان کے صحابی رسول ہونے کا اعلان کیا۔“ (ص:۴۳۳) ۹۱:.... ”یہاں موجود سو افراد اصحاب رسول ہیں، اس نے عبدالواحد اور زید زمان نامی دو افراد کا تعارف صحابی کی حیثیت سے اور اپنا پیغمبر اسلام کی حیثیت سے کرایا۔“ (ص:۰۴۳) ۰۲:.... ”ملزم یوسف نے مسجد میں اپنے ایک سو صحابیوں کی موجودگی کا ذکر کیا اور اس نے دو افراد عبدالواحد اور زید زمان کا اپنے صحابی کی حیثیت سے تعارف کرایا۔“ (ص:۳۴۳) خلاصہ یہ کہ کیا اس کتاب میں بھی مختلف عنوانات اور خدمات کے سلسلہ میں ان کا نام درج نہیں ہے؟ اگر جواب اثبات میں ہے اور یقینا اثبات میں ہے تو یہ سب کچھ بغیر کسی تعلق اور تعارف کے ہے؟ ۵:.... اسی طرح کل کے زید زمان اور آج کے زید حامد صاحب !اس آڈیو اور ویڈیو کیسٹ کے مندرجات کا انکار کرسکیں گے؟ جس میں ملعون یوسف کذاب نے لاہور کی مسجد بیت الرضا میں نام نہاد اپنے سو صحابہ کی موجودگی کا اعلان کیا، اور ان میں سے دو خاص الخاص صحابہ اور خلفائ کا تعارف بھی کرایا، پھر اس موقع پر آپ نے اور عبدالواحد نے حق نمک ادا کرتے ہوئے مختصر سا خطاب بھی کیا تھا۔ لیجئے! اس کیسٹ کے مندرجات اور اپنی تقریر بھی ملاحظہ کیجئے: ”کائنات کے سب سے خوش قسمت ترین انسانو! اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے خوش نصیب صاحبانِ ایمان۔ حضور سیّدنا محمد رسول اللہ سے وابستہ ہونے والو! ان پر وارفتہ ہونے والو! ان پر تن من دھن نثار کرنے والو! صاحبانِ نصیب انسانو! آپ کو مبارک ہو کہ آج آپ کی اس محفل میں القرآن بھی موجود ہے، قرآن بھی موجود ہے، پارے بھی موجود ہیں، آیات بھی موجود ہیں، آپ میں سے ہر ایک اپنی اپنی جگہ ایک آیت ہے، کچھ خوش نصیب اپنی اپنی جگہ ایک پارہ ہیں، جن کو اپنے پارے کا احساس ہے، ان کو قرآن کی پہچان ہے، اور جن کو قرآن کی پہچان ہے ان کو القرآن کی پہچان ہے، آج نور کی کرنیں بھی نچھاور کرنی ہیں، اور نور کے اس سفر میں جو لوگ انتہائی معراج پر پہنچ گئے ہیں، ان سے بھی آپ کا تعارف کروانا ہے، آج کم از کم یہاں اس محفل میں ۰۰۱ صحابہ موجود ہیں، ۰۰۱ اولیائ اللہ موجود ہیں، ہر عمر کے لوگ موجود ہیں۔ بھئی صحابی وہی ہوتا ہے ناں ،جس نے صحبت رسول میں ایمان کے ساتھ وقت گزارا ہو اور اس پر قائم ہو گیا ہو اور رسول اللہ ہیں ناں اور اگر ہیں تو ان کے صاحب بھی ساتھ ہیں، اس صاحب کے جو مصاحب ہیں وہی تو صحابی ہیں۔ ان صحابہ کے ذریعے کائنات میں ربط لگا ہوا ہے ان کے صدقے کائنات میں رزق تقسیم ہورہا ہے، ان کے صدقے شادی بیاہ ہورہے ہیں، ان کے صدقے پانی مل رہا ہے، ان کے صدقے ہوا چل رہی ہے، ان کے صدقے چاند کی چاندنی ہے، ان کے صدقے سورج کی روشنی ہے، یہ نہ ہوں تو اللہ بھی قسم اٹھاتا ہے کہ کچھ بھی نہ ہو گا۔ حتی کہ یہ جو سانس آرہا ہے یہ بھی ان کے صدقے ہے۔یہ ہیں وہ صحابہ، ان کا آپ کو علم ہے کہ دنیا کے کتنے بڑے ولی کیوں نہ ہوں، لاکھوں کروڑوں ان کے مرید کیوں نہ ہوں، ان صحابہ کے گھوڑے، الفاظ یہ ہیں: خدا کی قسم! ان کی سواری کے پیچھے جو گرد اڑتی ہے، اس کے برابر بھی وہ پیر، وہ ولی نہیں ہوسکتا، جس کے لاکھوں کروڑوں مرید ہیں، کیوں وہ پیر ولی ہیں، اللہ کو دیکھے بغیر، یہ ہیں دیکھ کر۔ ان صحابہ میں ایک ایک اپنی جگہ نمونہ ہے اور ایک ایک کا تعارف کروانے کو جی چاہتا ہے لیکن ہم صرف دو کا تعارف کروائیں گے عمر کے لحاظ سے دونوں نوجوان ہیں، حقیقت کے لحاظ سے دونوں نوجوان ہیں، ایک وہ خوش نصیب ہستی ہے، کائنات میں وہ واحد ہستی ہے نام بھی ان کا عبدالواحد ہے محمد عبدالواحد، ایک ایسے صحابی ایک ایسے ولی اللہ ہیں کہ جن کا خاندان پوری کائنات میں سب سے زیادہ تقریباً سارے کا سارا وابستہ ہے رسول اللہ سے وارفتہ ہے اور محمد الرسول اللہ سے وابستہ ہو کر محمد رسول اللہ کے ذریعے ذات حق سبحانہ و تعالیٰ تک پہنچا ہے۔ نعرئہ تکبیر کے ساتھ ان کا استقبال کیجئے! اور میں ان کو کہوں گا ،کچھ ہمیں کہیں؟ بسم اللہ ! اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم! آج سے ۵۲ سال پہلے مکہ معظمہ میں ایک بزرگ سے ایک شعر سنا جو صبح سے میرے کانوں میں گونج رہا ہے، انہوں نے فرمایا تھا: ”میں کہاں اور یہ نگہت گل! نسیم صبح یہ تیری مہربانی“ یہ شعر تو بہت پسند آیا، مگر اب پتہ لگا کہ ذاتِ حق کا کرم اور اس کی رحمت، اس کا خالص کرم کہ یہ نگہت گل بھی اور نسیم سحر بھی اور حصول بھی وہ سب اندر ہی اندر موجود ہیں، یہ ایک لباس میں چھپے ہوئے ہیں، ایک اور ہے بہت عرصہ پہلے علامہ اقبال نے بڑے تڑپ کے ساتھ ایک شعر کہا تھا: ”کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں کہ ہزار سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبین نیاز میں“ مبارک ہو کہ اب انتظار کی ضرورت نہیں، علامہ اقبال تو منتظر تھے، الحمدللہ ذات حق مل گیا، مبارک ہو۔ دوسرا تعارف اس نوجوان صحابی، اس نوجوان ولی کا کروا?ں گا جس کے سفر کا آغاز ہی صدیقیت سے ہوا ہے اور جس رات ہمیں نیابت مصطفی عطا ہوئی تھی، اگلی صبح ہم کراچی گئے تھے اور سب سے پہلے وابستہ ہونے اور وارفتہ ہونے والے سیّد زید زمان ہی تھے۔ آئین سیّد زیدزمان، نعرئہ تکبیر: برسوں ایک سفر کی آرزو رہی، کتابوں میں پڑھا تھا چالیس، چالیس سال پچاس پچاس سال چلے کئے جاتے تھے ریاضت اور مجاہدہ ہوتا تھا، میرے آقا سیّدنا علیہ صلوٰة والسلام کی انتہا سے انتہائی شدید انتہائی محبت کے بعد ایک طویل سفر، ریاضت کا مجاہدے کا گزارا جاتا تھا تو آقا کی زیارت ہوتی تھی ایک سفر کا آغاز، ہمیشہ سے یہ پڑھا اور سنا اور خوف یہ کہ کہاں ہم! کہاں یہ ماحول! کہاں یہ دور! کس کے پاس وقت ہے کہ برسوں کے چلے کرے، کس کے پاس وقت ہے کہ صدیوں کی عبادتیں کرے اور پھر صرف دیدار نصیب ہو، تڑپ تو تھی کہ صرف زیارت و دیدار ایسا نصیب ہو کہ صرف اس جہاں میں نہیں، صرف آخرت میں نہیں، صرف لامکاں میں نہیں، ثم الوریٰ، ثم الوریٰ، ثم الوریٰ، وصل قائم رہے، تو ایک راز سمجھ میں آیا کہ : ”نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں“ زہد ہزاروں سال کا اور پیار کی نگاہ ایک طرف، اپنے کسی ایسے پیارے کو دیکھو جو پیار کی نگاہ سے کہ صدیوں کا سفر لمحوں میں طے ہوجائے۔ نعرئہ تکبیر۔“ (منقول از کیسٹ بیت الذکر لاہور و کذاب، ص:۰۵ تا ۳۵) ۶:.... اگر زید زمان المعروف زید حامد کا، ملعون یوسف کذاب کے ساتھ تعلق نہیں تھا، تو اس نے مولانا محمد یوسف اسکندر کے بار بار کے استفسار پر یہ اقرار کیوں کیا کہ جی ہاں یوسف علی کے مقدمہ میں میرا بہرحال کسی قدر کردار رہا ہے؟ ۷:.... اگر زید زمان المعروف زید حامد کامدعی نبوت یوسف علی کذاب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ اس کو نہیں جانتا تو اس نے ۳۱/اگست ۰۰۰۲ئ کے روزنامہ ڈان میں مدعی نبوت ملعون یوسف علی کذاب کے خلاف عدالتی فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے یہ کیوں کہا کہ :”یہ عدل و انصاف کا خون ہے؟“ ۸:.... نوفل شاہ رخ کا کہنا ہے کہ :”میں زید حامد کو گزشتہ بیس سال سے جانتا ہوں، میری سب سے پہلی ملاقات زید حامد سے ۹۸۹۱ئ میں حکمت یار کے کراچی کے دورے میں ہوئی، جب وہ اس کے ترجمان تھے۔ میں اس روشن چہرے والے متحرک نوجوان این ای ڈی کے گریجویٹ انجینئر سے، جو بیک وقت روانی سے فارسی، انگریزی، پشتو اور اردو بول سکتا تھا بہت متاثر ہوا، اس وقت یہ زید حامد نہیں بلکہ زید زمان تھا اسی زمانہ میں زید زمان نے قصص الجہاد نامی ویڈیو تیار اور تقسیم کی جس میں افغان مجاہدین اور روسی افواج کا دوبدو مقابلہ دکھایا گیا تھا یہ ویڈیو اپنی قسم میں جدا اور یکتا تھی، اس زمانہ میں زید زمان ایک سحر انگیز شخصیت تھے مگر پھر کچھ عجیب سی باتیں ہوئیں، زید زمان ایک برطانوی بیس این جی اوز” مسلم ایڈ“ کے مالی اسکینڈل کا مرکزی نقطہ بنے، بعدازاں انہوں نے حکمت یار اور حقانی سے رابطہ توڑ کر احمد شاہ مسعود کے ساتھ تعلقات استوار کرلئے اور پھر بعد میں جہاد کو یکسر فراموش کرکے ”صوفی“ بن گئے، اسی دوران جب ملعون یوسف علی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو یہ اس سے منسلک ہوگیا اور اس کا صحابی اور خلیفہ اول قرار پایا اور کئی دفعہ اخبارات و رسائل میں اس کا نام یوسف علی کذاب کے صحابی اور خلیفہ کے نام سے چھپا۔“ (کاشف حفیظ، روزنامہ امت کراچی) اگر زید زمان المعروف زید حامد کا مدعی نبوت ملعون یوسف کذاب کے ساتھ کوئی دینی، مذہبی عقیدت و محبت، پیری، مریدی یا نبوت و خلافت کا کوئی رشتہ نہیں تھا تو اس نے ملعون یوسف کذاب کی بھر پور وکالت کرتے ہوئے اپنی ویب سائٹ پر بے شمار سائلین کے جواب میں ملعون یوسف کذاب کی صفائیاں کیوں دیں؟ اور اس کے خلاف مقدمہ کو جھوٹا مقدمہ کیوں کہا؟ اور یہ کیوں کہا کہ دراصل خبریں گروپ کے ضیائ شاہد اور یوسف کذاب کے درمیان جائیداد کا تنازعہ تھا، جس کی بنا پر اس کے خلاف سازش کی گئی تھی ورنہ وہ تو بڑا درویش صفت اور صوفی اسکالر تھا؟ ۹:.... زید زمان کی ویب سائٹ براس ٹیکس پر جاکر زید حامد سے یوسف کذاب سے متعلق سوالات کرنے والے بیسیوں سائلین کا کہنا ہے کہ اگر زید زمان المعروف زید حامد کا یوسف کذاب کے ساتھ کوئی دینی اور مذہبی رشتہ نہیں تھا یا نہیں ہے تو وہ یوسف کذاب کے غلیظ عقائد کے بارہ میں صاف صاف جواب کیوں نہیں دیتا اور یہ کیوں نہیں کہتا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا ہر دعویدار دجال و کذاب اور ملحد و مرتد ہے؟ اور وہ اس دجال کے عقائد سے متعلق پوچھے گئے ہر سوال کے جواب میں یہ کیوں کہتا ہے کہ اس کی کوئی بات تصوف کی تعلیمات کے خلاف نہیں ہے؟ |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 5 صارفین نے shafresha کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
رہبر کے روپ میں راہزن (آخری حصہ)
زید زمان المعروف زید حامد از حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری ۰۱:.... جو بھولے بھالے مسلمان اور مخلص و دین دار افراد زید زمان المعروف زید حامد کے دفاعی تجزیوں جہاد و مجاہدین کے حق میں اور یہود و امریکا کے خلاف بولنے اور کھلی تنقید کرنے کی بنا پر ان کو طالبان اور مسلمانوں کا نمائندہ یا ترجمان سمجھتے ہیں ان کو زید حامد کی ویب سائٹ براس ٹیکس پر انگریزی میں جاری کردہ رپورٹ: "What Really Happened "کا مطالعہ بھی کرلینا چاہئے، اگر کوئی شخص اس کی اس انگلش رپورٹ کو پڑھ کر سمجھ لے تو اس کو اندازہ ہو جائے گا کہ وہ طالبان، دین، دینی مدارس اور علماءکے بارے میں کتنا مخلص ہے؟ یا جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے شہداءاور اس قضیہ کے کرداروں کے بارہ میں ان کے دلی اور قلبی کیا جذبات و احساسات ہیں؟ چنانچہ اس رپورٹ کے آغاز میں انہوں نے اپنی ۸/جولائی ۷۰۰۲ءکی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے: ”(لال مسجد کے معاملے میں) حکومت کی ناموری، ستائش اور تذلیل کے درمیان ایک پاگل مولوی (Psychopath Cleric ) اور دہشت گردوں کا ایک گروپ کھڑا ہے جس نے لوگوں کو پاکستانی دارالحکومت کے قلب میں یرغمال بنایا ہوا ہے۔“ (رپورٹ اس طرح کے زہریلے الفاظ اور تجزیوں سے پ±ر ہے)۔ ٭.... (لال مسجد کے علماء اور طلبا و طالبات) منکرِ دین، بے وفا، فراری اوباش (Renegade ) جنگجوﺅں کا گروپ ہے جو ”تکفیری“ کہلاتے ہیں، یہ ان مسلمانوں پر جنگ مسلط کردیتے ہیں جو ان کے نظریات سے اتفاق نہیں کرتے، یہ نظریاتی طور پر حکومت دشمن، بدنظمی پسند، انتشاری اور شورش طلب (Anarchist ) اور معروف جہادی گروپس کے درمیان بے خانماں اور خارجی (Outcastes )لوگ ہیں۔ ٭.... میرے خیال میں (سانحہ میں) ہلاک و زخمی ہونے والوں کی کل تعداد 200سے250 ہوسکتی ہے بشمول 75جنگجوﺅں کے، اس تعداد کو حکومت نے بھی تسلیم کیا ہے، ملا دباﺅ بڑھا رہے ہیں یہ منوانے کے لئے کہ اندر 1000لوگ تھے، یہ بے معنی اور فضول بات ہے، جیسا کہ ان کے مرحوم لیڈر کہتے رہے کہ اندر 1800لوگ ہیں یہ (Bluff ) تھا۔ ٭.... جی ہاں! میڈیا کو جو ہتھیار دکھائے گئے، ان کا تعلق ان جنگجوﺅں سے تھا اور ان عمارتوں میں اسلحے کا بہت بڑا ذخیرہ موجود تھا جن میں مشین گنیں، راکٹ لانچرز، بارودی سرنگیں، ہینڈ گرنیڈز، گیس ماسک، مولوٹوو کوک ٹیلز اور خودکش حملے کی جیکٹس شامل تھیں، ہمیں کوئی شبہ نہیں کہ اس معاملے میں حکومتی موقف بالکل درست ہے، لال مسجد ایک عارضی اسلحہ (Weapons Dump ) تھی اور بلاشبہ ایک طویل جنگ اور مسلح بغاوت (Armed Rebellion ) کے لئے تیار مقام۔ ٭.... باوجود اس کے کہ مولوی مصر ہیں کہ مدرسے میں 1000سے زائد ہلاکتیں ہوئیں، ہمارے پاس اس بات کو تسلیم کرنے کی کوئی وجہ نہیں، یہ محض بڑے پیمانے پر پھیلائی جانے والی ڈس انفارمیشن ہے، کوئی ایک ،جی ہاں! ایک بھی کسی ثبوت کے ساتھ آگے نہیں آیا جس میں مدرسے میں داخل طلبا و طالبات کے نام، رول نمبر اور پتے درج ہوں اور نہ ہی کوئی حاضری رجسٹر پیش کیا گیا جس سے پتا چل سکے کہ مدرسے میں داخل طلبا و طالبات کی اصل تعداد کیا تھی۔ ٭.... ہمارے اپنے ذرائع سے حاصل کردہ مفصل شہادتیں موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ آپریشن کے دوران صرف چند سویلین (خواتین اور بچوں) کی ہلاکتیں ہوئیں، شاید صرف چند درجن، اس تعداد کو حکومت نے بھی اب تسلیم کرلیا ہے۔“ (کوئی بتلاﺅ کہ ہم بتلائیں کیا، از ڈاکٹر فیاض عالم) ۱۱:.... مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی فرماتے ہیں: یوسف کذاب نے نہ صرف جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا بلکہ اہانت رسول کا بھی ارتکاب کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین کے حکم پر بندہ نے کذاب کے خلاف کیس رجسٹرڈ کرایا۔ کذاب کے چیلوں میں سرفہرست دو نام تھے: ایک کا نام سہیل احمد خان ،دوسرے کا نام زید زمان تھا، جنہیں کذاب اپنا صحابی کہتا تھا۔ کذاب کے ساتھ عدالت میں جو لوگ آتے تھے ان میں بھی سرفہرست مذکورہ بالا دونوں افراد تھے۔ مذکورہ بالا افراد نے ترغیب و ترہیب غرض ہر لحاظ سے کوشش کی کہ بندہ کیس سے دستبردار ہوجائے۔ اللہ پاک کی دی ہوئی استقامت کے ساتھ مقابلہ جاری رکھا۔ موبائل ابھی عام نہیں ہوئے تھے، بندہ چھٹی پر شجاع آباد آیا ہوا تھا۔ زید زمان نے کسی طریقہ سے میرا رابطہ نمبر حاصل کیا، جو ہمارے پڑوس کے گھر کا نمبر تھا، ایک دن عصر سے تھوڑی دیر پہلے میرے پڑوسی نے دروازہ کھٹکھٹاکر پیغام دیا کہ آپ کا فون آنے والا ہے۔ بندہ نے گھنٹی بجنے پر ریسور اٹھایا کہ دوسری طرف سے آواز آئی کہ راولپنڈی سے زید زمان بول رہا ہوں۔ میں نے کہا فرمایئے! زید زمان نے کہا کہ آپ نے ہمارے حضرت (یوسف کذاب) کے خلاف کیس کیا ہوا ہے وہ واپس لے لیں۔ میں نے کہا ایسا نہیں ہوسکتا، اس کا انجام آپ کو معلوم ہے ؟ بندہ نے کہا کہ نفع و نقصان سوچ کر کیس کیا ہے۔ اس نے کہا کہ ہماری طرف سے پیشکش ہے، فرمایئے آپ کی ضروریات کیا ہیں؟ میں نے کہا کہ میری ضرورت میرا اللہ پوری کررہا ہے، اب اس نے پینترا بدلتے ہوئے کہا کہ ہمارے حضرت کی جماعت اگرچہ تھوڑی ہے، لیکن کمزور نہیں ہے، میں نے جواب میں کہا کہ ہمارے حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جماعت بہت بڑی ہے اور بہت مضبوط ہے، اس نے مزید گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنا چاہا تو بندہ نے کہا کہ بات عدالت میں ہوگی۔ چنانچہ کیس کی سماعت کے دوران زید زمان یوسف کذاب کے محافظین میں رہا بلکہ کیس کی سماعت کے دوران جب بندہ کا بطور مدعی بیان جاری تھا اور کذاب کا وکیل بندہ پر تابڑ توڑ حملے کررہا تھا اور وہ کیس سے غیر متعلقہ سوال کررہا تھا تو بندہ نے کہا کہ آپ کیس سے متعلق سوال کریں، غیر متعلقہ سوال نہ کریں تو عدالت نے مجھے کہا کہ وکیل جو سوال کرے آپ کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ اس دوران ایک سوال صحابی سے متعلق بھی ہوا کہ صحابی کی کیا تعریف ہے؟ بندہ نے تعریف بتلائی، اتفاقاً اس روز زید زمان سوٹ میں تھا، پینٹ، شرٹ اور ٹائی زیب تن کی ہوئی تھی، بندہ نے عدالت سے کہا کہ آپ نے صحابہ کرام کی سیرت کا مطالعہ کیا ہوگا، ایک رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام تھے جو آپ کی سیرت طیبہ کا پر تو تھے، ان کی وضع قطع چال ڈھال، لباس میں سیرت طیبہ نظر آتی تھی۔ نعوذباللہ! ایک یہ صحابی ہیں جن کا لباس اور وضع قطع دیکھ کر علامہ اقبال? یاد آتے ہیں، علامہ نے فرمایا: وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود اس پر زید زمان بہت شرمندہ ہوا ،زید زمان یوسف کذاب کی موت تک اس کا چیلہ بنا رہا، حتی کہ جب کذاب کی میت کو اسلام آباد کے مسلمانوں کے قبرستان سے نکالا گیا، تب بھی اس کی ہمدردیاں اس کے ساتھ تھیں۔ ۲۱:.... الغرض اگر زید زمان المعروف زید حامد، مدعی نبوت ملعون یوسف کذاب سے اپنی برا ت کرنا چاہتا ہے یا اس سے اپنا رشتہ برقرار نہیں رکھنا چاہتا تو وہ روزنامہ جسارت کراچی، روزنامہ امت کراچی، ماہنامہ بینات کراچی اور ہفت روزہ ختم نبوت میں شائع شدہ مضامین اور راقم الحروف سعید احمد جلال پوری، جناب کاشف حفیظ، جناب این خان، جناب ابو سعد، جناب نوفل شاہ رخ، جناب سعد موٹن، ڈاکٹر فیاض عالم وغیرہ کے کالموں اور جناب رانا اکرم اور منصور طیب، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی وغیرہ کی شہادتوں کی تردید میں کھل کر یہ کیوں نہیں کہہ اور لکھ دیتا کہ میرا اب مدعی نبوت ملعون یوسف کذاب کے ساتھ دینی، مذہبی اعتبار سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے، اور اس کے عقائد و نظریات اور ملحدانہ دعاوی کی بنا پر میں اس کو کافر و مرتد سمجھتا ہوں، بے شک میرا اس سے کبھی تعلق تھا، یا میں اس کا خلیفہ تھا، لیکن اب میں نے ان تمام کفریہ اور ملحدانہ عقائد سے رجوع کرکے ان سے توبہ کرلی ہے، لہٰذا آئندہ میرا اس کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہ جوڑا جائے اور کسی آدمی کے کفریہ عقائد سے توبہ کرلینے کے بعد اس کو توبہ سے قبل کے کفریہ اور ملحدانہ عقائد و نظریات کا طعنہ دینا قانوناً، اخلاقاً اور شرعاً ناجائز ہے، اللہ تعالیٰ میرے اس جرم کو معاف فرمائے نیز میں تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے اس جرم کو معاف فرمائے اور مجھے اس رجوع و توبہ پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ ہمارے خیال میں اگر زید زمان المعروف زید حامد اس طرح کی ایک تحریر یا اس طرح کا بیان مجمع عام میں لکھ کر یا بیان کرکے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردے یا کسی اخبار میں شائع کرادے تو اس سارے نزاع کا خاتمہ اور اس قضیہ کا بآسانی فیصلہ ہوسکتا ہے، اور آئندہ اس کے خلاف کسی قسم کی کوئی بدگمانی بھی راہ نہیں پاسکے گی، بلکہ اس تحریر و بیان کے بعد ان کے خلاف جو کوئی لب کشائی کرے گا وہ خود منہ کی کھائے گا، لیکن اگر وہ ان تمام شواہد و قرائن اور دلائل و براہین کے باوجود ...جن سے اس کا یوسف کذاب کے ساتھ مریدی، خلافت، صحابیت اور عقیدت کا گہرا تعلق ثابت ہوتا ہے...گومگو کی کیفیت میں رہے گا یا اس کی وکالت کرتے ہوئے اس کو صوفی اسکالر اور عاشق رسول ثابت کرنے کے ساتھ یہ کہتا رہے گا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا یا نہیںہے، تو اس کی اس بات کا کیا وزن ہوسکتا ہے؟ یا اس کی بات کو کوئی عقلمند تسلیم کرسکتا ہے؟ ۳۱:.... خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ زید زمان المعروف زید حامد کو ملعون یوسف کذاب کے ساتھ دیکھ چکے تھے یا ان کو معلوم تھا کہ یوسف کذاب نے اس کو اپنا خلیفہ بنایا تھا اور نعوذباللہ اس کو حضرت ابوبکر صدیق کا خطاب دیا تھا اور ان حضرات نے اسی دور میں اس کی تقریریں بھی س±نی تھیں، انہوں نے جب اس کی حقیقت سے پردہ اٹھانا چاہا یا علمائ کرام سے اس کے تعاقب کی درخواست کی اور ہماری طرح دوسرے حضرات نے اس کی عیاری کی نشاندہی کرنا چاہی تو اس نے صاف انکار کردیا کہ میں کسی یوسف کذاب کو نہیں جانتا، کیونکہ یوسف کذاب کا خلیفہ زید زمان تھا اور میرا نام تو زید حامد ہے، اس پر جب مزید تحقیق کی گئی تو بحمدللہ اس کی وہ کیسٹ بھی مل گئی جس میں اس نے اپنی خلافت کے موقع پر تقریر کی تھی ...جس کا مضمون اوپر نقل ہوچکا ہے... اور یوسف کذاب کے دام تزویر سے نکلنے والے متعدد حضرات مثلاً :ڈاکٹر اسلم، رانا محمد اکرم، ابوبکر محمد علی، سعد موٹن، نوفل اور منصور طیب صاحب وغیرہ نے یقین کے ساتھ باور کرایا کہ یہ ملعون وہی ہے۔ ان میں سے بعض حضرات کا کہنا ہے کہ زید حامد کا فتنہ یوسف کذاب کے فتنہ سے بڑھ کر خطرناک ثابت ہوگا، کیونکہ یوسف کذاب میڈیا پر نہیں آیا تھا اور لوگ اس کے اتنے گرویدہ نہیں ہوئے تھے، جتنا اس سے متاثر ہیں، یا یہ اپنا حلقہ بناچکا ہے۔ ش±نید ہے کہ زید زمان المعروف زید حامد آج کل لوگوں کو وضاحتیں پیش کرتا پھر رہا ہے کہ میرا یوسف کذاب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور میں چیلنج کرتا ہوں کہ جن لوگوں کے پاس ایسے کوئی ثبوت ہوں وہ میرے سامنے لائیں۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ ہم اس کا چیلنج قبول کرتے ہیں اور ایسے تمام حضرات، جو اِس کو ا±س دور سے جانتے ہیں، جب وہ افغانستان میں پہلے حکمت یار اور بعد ازاں احمد شاہ مسعود کے ساتھ تھا اور پاکستان میں ان کی ترجمانی کرتا تھا اور پھر یوسف کذاب کے ساتھ وابستہ ہوگیا، اس دور کی تمام باتیں یاد دلا کر اس کے جھوٹ اور دجل کو آشکارا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ ہماری نئی نسل اور بعض دین دار اس کے سحر میں گرفتار ہیں، بہرحال ہمارا فرض ہے کہ ہم امت کو اس کی فتنہ سامانی سے بچائیں۔ مکرر عرض ہے کہ جہاد افغانستان کے حق میں یا امریکا اور یہودیوں کے خلاف تقریریں کرنا، کسی ملحد کے مسلمان ہونے کی دلیل نہیں، اس لئے کہ ایسے ملحدین اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے دور رس منصوبے ترتیب دیتے ہیں، چنانچہ اہل ِ بصیرت خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ شروع شروع میں مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی ہندﺅں، آریوں اور عیسائیوں کے خلاف تقریریں، مناظرے اور مباحثے کرکے اپنی اہمیت منوائی تھی اور اپنے آپ کو اسلام اور مسلمانوں کا ترجمان باور کرایا تھا، لیکن جب اس کی شہرت ہوگئی اور اس کا اعتماد بحال ہوگیا تو اس کے بعد اس نے مہدی، مسیح اور نبی ہونے کے دعوے کئے تھے، ٹھیک اسی طرح یہ بھی اسی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو ایسے فتنہ پروروں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔ وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 10 صارفین نے shafresha کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | ALI-OAD (10-04-10), فاروق سرورخان (21-10-09), یاسر عمران مرزا (21-10-09), منتظمین (15-08-09), مباح (09-03-10), مسافر (15-08-09), اویسی (30-03-10), اسعد شاہ (29-03-10), رضی (15-08-09), عبداللہ آدم (16-02-10) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
جسارت کے ان صفحات پر ڈاکٹر فیاض عالم کے زید (زمان) حامد سے متعلق مضامین چھپے جن پر کچھ قارئین کا بہت سخت ردعمل آیا۔ جن دنوں یہ مضامین چھپے‘ ہمیں بھی دستیاب معلومات کی بنیاد پرکچھ لکھنے کا خیال آیا۔ لیکن زید حامد کے متاثرین کا، جن میں اکثریت خواتین کی ہے، سخت ردعمل دیکھتے ہوئے ارادہ ترک کردیا اور اس مسئلے پر تحقیق شروع کردی۔ ”یوٹیوب“ پر ان کے پروگرام بھی دیکھے اور مختلف ناموں سے چھپنے والے ان کے مضامین اور تجزیاتی رپورٹوں کا مطالعہ شروع کیا۔ زید حامد جو کچھ کہتے ہیں اس سے کلی طور پر اتفاق ممکن نہیں۔ تاہم ان کے ماضی اور اس کے صحیح ہونے پر اصرار کو دیکھتے ہوئے ان کی صحیح باتیں بھی تحقیق کی متقاضی ہیں۔ زید حامد کے خیالات سے متاثر جسارت کی ایک قاری کا استدلال ہے کہ ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ ”کون کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا کہہ رہا ہے“۔ یہ کلیہ غلط ہے‘ اگر غلط نہ ہوتا تو جب کفارِ مکہ نے یارِ غار سیدنا ابوبکر صدیق سے کہا کہ آپکے دوست محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ رہے ہےں کہ وہ رات کے ایک حصے میں مسجد حرام سے مسجداقصیٰ اور وہاں سے آسمانوں کی سیر کرکے آئے ہیں؟ ابوبکر صدیق نے بغیر کسی تامل کے یہ کیوں کہہ دیا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے ہیں تو سچ کہہ رہے ہیں۔ اس گواہی پر سیدنا ابوبکر کو قرآن نے صدیق کا لقب دیا۔ کیا اتنی بڑی گواہی دینے سے قبل ابوبکر ? نے اس دعوے کو عقل کی بنیاد پر پرکھا؟ یا یہ دےکھ کر گواہی دی کہ کون کہہ رہا ہے؟ خود اللہ نے ا±س وقت تک کسی نبی پر نبوت کی ذمہ داری نہیں ڈالی جب تک اس کے اخلاق اور کردار کی گواہی ا±س زمانے کے لوگوں نے نہیں دی۔ اور نبوت کے اعلان سے قبل نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مکہ کے سامنے جو سوال رکھا وہ بھی ہم سب کو یاد ہے۔ تو پھر ہم کس طرح سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے؟ ٹی وی ون کے ”مرد ِمومن“ کے یوسف کذاب ملعون کے ساتھ تعلق کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہےں۔ فی الوقت اس کالم کے ذریعے آپ کو یوسف کذاب، زید حامد اور ان کے فرقہ¿ باطنیہ کے دو نواجون تائبین سے ملواتے ہیں جنہوں نے برسوں اس فرقے کے لیے کام کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر خاص کرم کیا اور ان کو ہدایت نصیب ہوئی۔ یوسف کذاب کے مقرب خاص اور زید حامد کے دوست رضوان طیب کے بھائی منصور طیب کہتے ہیں: ”میں زید حامد کو ا±س وقت سے جانتا ہوں جب اس کا یوسف علی سے تعلق نہیں بنا تھا۔ زید 1988ءکے انتخابات میں بہت سرگرم تھا۔ 1989ءمیں اس نے ایک تصویری نمائش کا اہتمام کیا اور اس کے لیے ایک وڈیو فلم بھی تیار کی تھی۔ اس نمائش کا اہتمام علاقہ سوسائٹی میں مختلف مقامات پر کیا گیا۔ ا±س زمانے میں یہ مختلف جہادی رہنماﺅں کے ترجمان کی صورت میں بھی نظر آیا۔ اس کی شخصیت سے ہم بہت زیادہ متاثر تھے۔ یہ اپنے آپ کو بہت بڑا جہادی رہنما سمجھتا تھا۔ ا±س زمانے میں اس نے افغان جہاد کے حوالے سے ایک وڈیو فلم ”قصص الجہاد“ بھی تیار کی۔ پھر 1993ءمیں جہادِ افغانستان ختم ہوگیا۔ یہ وہ دور تھا جب اس نے تمام مجاہد رہنماﺅں کو گالیاں دینی شروع کردیں۔ 1993-94ءمیں یہ لاہور سے اپنے ساتھ یوسف کذاب کو لے آیااور اس کو علاقہ سوسائٹی کے تحریکی ساتھیوں سے متعارف کرایا اور کہا کہ یہ ایک بزرگ ہے جو صرف ذکر کی بات کرتا ہے۔ اگر کوئی سوا لاکھ دفعہ ورد کرے گا تو اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نصیب ہوجائے گا۔ میرے بڑے بھائی رضوان طیب‘ یوسف علی کے خاص مقربین میں شامل ہوگئے تھے اس وجہ سے یوسف علی اور زید زمان میرے گھر آتے تھے۔ زید زمان جس کا پہلے سے ہمارے گھر آنا جانا تھا‘ یوسف کذاب کو ہمارے گھر لے آیا تھا۔ ا±س زمانے میں علاقہ سوسائٹی کے جمعیت اور جماعت سے متاثر اور متعلق تین درجن سے زائد افراد اس سے متاثر ہوئے۔ میرے بھائی تو اس حد تک متاثر تھے کہ انہوں نے ہماری دکان کا ایک حصہ بیچا اور یوسف کذاب کو ایک گاڑی خرید کر دی اور لاکھوں روپے نقد دیئے۔ زید حامد یوسف کذاب کا مقرب اوّل تھا اس لیے پیسوں کی وصولی وہ کرتا تھا۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ زید زمان نے خود اپنی جیب سے ایک ہزار روپے بھی نہیں دیئے ہوں گے۔ یوسف کذاب کو جو رقم دی جاتی تھی اس کو مختلف وقتوں اور مواقع کے حساب سے کبھی تحفے کا نام دیا جاتا تھا اور کبھی نذر و نیاز کا۔ زید حامد نے مجھے یوسف کذاب کے نظریات پر مبنی پمفلٹ دیے اور مختلف مساجد کے باہر تقسیم کرنے کو کہا۔ ہمارا پورا گھرانا اس چکر میں پڑگیا تھا لیکن میرے بڑے بھائی رضوان طیب کے سوا سب یوسف کذاب اور زید زمان کے شر سے محفوظ رہے۔ میرا مولانا مودودی کے لٹریچر کا اچھا خاصا مطالعہ تھا۔ یہ مطالعہ شاید اس فتنے سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کروایا تھا۔ مجھ سے کبھی بھی زید زمان اور یوسف کذاب کی باتیں اور اس کی شخصیت ہضم نہیں ہوئی۔ ایک دفعہ کسی کے گھر پر نمازکی امامت کرتے ہوئے یوسف کذاب کی کال آئی۔ وہ نماز چھوڑ کرکافی دیر تک موبائل پر باتیں کرتا رہا، سب نمازی ہاتھ باندھ کر اس کا انتظار کرتے رہے‘ جب اس نے سکون سے بات مکمل کرلی تب آیا اور باقی نماز مکمل کی۔ اس کی جماعت میں خواتین اور حضرات ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے تھے۔ یہ اپنی طرز کی مخلوط نمازیں ہوتی تھیں۔ میرے بھائی کو بھی بالآخر اس بات کا احساس ہوگیا کہ یہ سب کچھ غلط تھا۔ سوچ سوچ ا±ن کی دماغی حالت خراب ہوگئی۔ آج بھی وہ زید زمان اور یوسف کذاب کو گالیاں دیتے ہیں۔ ان کا علاج ذہنی امراض کے معالج ڈاکٹر مبین اختر کے پاس چل رہا ہے۔ ہم تو فرقہ باطنیہ کے دست و بازو بن بیٹھے تھے‘ یہ تو اللہ کا کرم تھا کہ اس نے ہدایت دی۔ میری تمام مسلمانوں خصوصاً مذہبی فکر اور تحریکوں سے وابستہ لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ اس فتنے کا ادراک کریں اور زید زمان کی صورت میں یوسف کذاب کی دوسری انٹری کو ناکام بنادیں تاکہ لوگ گمراہ نہ ہوں۔“ سعد موٹن منصور طیب کے بڑے بھائی اور یوسف کذاب کے خاص مقرب رضوان طیب کا دوست تھا۔ علاقہ سوسائٹی سے تعلق رکھنے والا سعد شروع ہی سے مذہبی رجحان رکھتا تھا، اس لیے وہ رضوان طیب کے ذریعے اس فرقہ باطنیہ کے قریب آیا۔ اس کے ساتھ پانچ سال رہا لیکن اس کے دل نے کبھی اس فرقے کو دل سے تسلیم نہیں کیا‘ بلکہ ان لوگوں کی عجیب و غریب حرکتوں کی وجہ سے بالآخر وہ اس فرقے سے الگ ہوگیا اور پھر اللہ نے اس کو اس فرقے کے خلاف کام کرنے کی توفیق دی۔ سعد موٹن کہتا ہے: ”زید زمان سے میرا تعارف رضوان طیب نے کرایا تھا۔ یہ ا±س زمانے کی بات ہے جب افغان جہاد کے آخری دن چل رہے تھے اور طالبان کابل کو فتح کرکے وہاں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئے تھے۔ کراچی سے کچھ لوگ تیار ہوکر افغان جہاد میں حصہ لینے جارہے تھے۔ جب طالبان کی حکومت بنی تو کچھ لوگوں نے سوچا کہ کیوں نہ پاکستان میں بھی طالبان کی طرز پر خلافت قائم کی جائے۔ مذہبی سوچ رکھنے والوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے یہ کہنا ہی کافی تھا۔ اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے! رضوان طیب کی اسلامک سینٹر کے پلیٹ فارم پر زید زمان سے ملاقات ہوئی۔ پھر یہ دنوں مسلم ایڈ کے لیے کام کرنے لگے اور میں بھی ان کے ساتھ مل گیا۔ مسلم ایڈ کا کارڈ آج بھی میرے پاس موجود ہے۔ میں ان کے ساتھ فنڈز اکٹھا کرتا تھا۔ ہم نے افغان جہاد کے حوالے سے ایک مووی ”قصص الجہاد“ کے نام سے تیار کی تھی۔ زید زمان اس کا ڈائریکٹر تھا۔ اس سی ڈی کی سیل کی ذمہ داری میری تھی۔ اس کے بعد زید زمان کی ملاقات یوسف کذاب سے ہوئی۔ یہ اس کو کراچی لے آیا۔ رضوان طیب، سہیل احمد اور عبدالواحد کراچی میں اس کے شروع کے ساتھیوں میں سے تھے۔ ان لوگوں نے خلافت کا آسرا دے کر کراچی سے ایک تحریک کا آغاز کیا اور جمعیت اور جماعت کے لوگوں کو ٹارگٹ بنایا۔ ہر آدمی کو اس کے رجحان کے حساب سے گھیرنے کی حکمت عملی وضع کی گئی۔ اگر کوئی جہاد سے متاثر تھا تو اس کو اس حوالے سے راغب کرنے کی کوشش کی۔ کوئی کسی اور فکر سے وابستہ تھا تو اس کو قریب لانے کے لیے اس فکر کے قصیدے پڑھے گئے۔ مذہب کو بنیاد بنایا گیا اور تاثر دیا گیا کہ ان کا مقصد خلافت کا قیام ہے۔ اس کے بعد کراچی میں نشستوں کا انعقاد شروع کیا گیا۔ یہ لوگ یوسف کذاب کو حضرت کہتے تھے۔ اس کو ان نشستوں میں بلایا جاتا تھا۔ اس نے شروع میں اپنے آپ کو عاشقِ رسول کہنا شروع کیا۔ پھر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کی باتیں کرنے لگا۔ پھر کہنے لگا کہ محمد کا نور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک رہے گا۔ یہ نور کسی بشر کی صورت میں ظاہر ہوتا رہتا ہے جس کو دیکھنے کے لیے خاص بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے جو ایک خاص طریقہ کار سے حاصل ہوتی ہے۔ ا±س وقت تک اس نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ موجودہ دور میں وہ بشر (نعوذباللہ) وہ خود ہے۔ جو لوگ اس کی گرفت میں آجاتے تھے ا±ن کے متعلق وہ کہتا تھا کہ یہ آگے درجے کے ہوگئے ہیں۔ وہ اس موقع پر کہا کرتا تھا: اقبال تیری دید کی آج عید ہوگئی کہ یار لباسِ بشر میں آن ملا وہ دعویٰ کرتا تھا کہ یہ اقبال کا غیر مطبوعہ شعر ہے جس پر حکومت ِہند نے پابندی عائد کردی تھی۔ ایک خاص وظیفے کے بعد یہ اپنے پیروکار کو بشارت دیتا تھا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی عاجزی کو قبول فرمایا ہے، اس لیے وہ لباسِ بشر میں یعنی (نعوذباللہ) یوسف کذاب کی صورت میں حاضر ہے۔ اور اس طرح یہ خودکو محمد ظاہر کرتا تھا۔ مجھے کافی عرصے تک ذکر کرایا گیا۔ میرا تعلق چونکہ مذہبی گھرانے سے ہے اس لیے بہت ساری باتیں مجھ سے ہضم نہیں ہوتی تھیں۔ کئی مرتبہ مخلوط محفلوں پر اعتراض کی وجہ سے کہا گیا کہ اس کو نشستوں میں نہ لایا جائے۔ میرا دل کھٹکتا تھا کہ کہیں نہ کہیں گڑبڑ ہے۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ قرآن کے سات ترجمے اتارے گئے جس میں ایک صرف ان لوگوں کے پاس محفوظ ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا یوسف کذاب کے کام کے لیے پنڈی کے زید حامد اور کراچی کے رضوان طیب، سہیل احمد اور عبدالواحد کو خاص ذمہ داریاں سونپ دی گئی تھیں۔ ان کو (نعوذباللہ) صحابیوں کے درجوں سے نوازا گیا تھا۔ ان لوگوں کا اصل مقصد پیسے بٹورنا‘ عقائد کو بگاڑنا اور مریدوں کو خواتین کی طرف راغب کرنا تھا۔ ہر محفل مخلوط ہوتی تھی۔ حتیٰ کہ نمازیں بھی مخلوط ہوتی تھیں۔ خواتین اور مردوں کو ایک مقام دیا جاتا تھا۔ایلیٹ گھرانوں کی خواتین ان کی طرف راغب ہوتی تھیں۔ان محفلوں میں عشق و محبت کی باتیں ہوتی تھیں، عشقیہ اشعار سنائے جاتے تھے۔ اکثریت ان لوگوں کی تھی جو صاحب ِمال اور صاحب ِاثر و رسوخ تھے۔ بڑے بڑے تاجر، فوج اور بیوروکریسی کے لوگ اس کے جال میں پھنس چکے تھے۔ بیعت کرنے والوں کو اہلِ بیت کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ پابند ہوتے تھے کہ اپنے مال کا ایک حصہ جمع کرائےں۔ یوسف کذاب کی کراچی آمد پر ”جشنِ آمد ِ حضرت“ کے نام سے تقریب منعقد کی جاتی تھی۔ قیام و طعام کا اہتمام ہوتا تھا۔ قیمتی تحائف دینے پڑتے تھے۔ ایک خاص قیمت سے کم کے تحائف قبول نہیں کیے جاتے تھے۔ محفلوں میں عام لوگوں کو شرکت کی اجازت نہیں تھی۔ جو ان کے عقیدے سے اختلاف کرتا تھا وہ نقصان ا±ٹھاتا تھا۔ لوگ اس حد تک یوسف کذاب کے عشق میں مبتلا تھے کہ اپنی بیٹیاں اور بیویاں پیش کردی تھیں۔ تقریباً ڈھائی سو خواتین نے اپنے شوہروں سے طلاق لیے بغیر نئی شادیاں کرلیں۔ یوسف کذاب اپنے اہلِ بیت سے کہتا تھا کہ نکاح سے پہلے اپنی ہونے والی بیوی کو میرے پاس بھیجو۔ اس عمل کو معراج کے سفر کا نام دیا جاتا تھا۔ خواتین گھنٹوں ا±س کے ساتھ خلوت میں رہتی تھیں۔ اگر کوئی ان بے ہودگیوں کو دیکھ کر انہیں غلط کہتا تو اس کا انجام برا ہوتا تھا۔1994ءمیں ایک نوجوان نے علی الاعلان یوسف کذاب کو برا بھلا کہا۔ اس کا قتل ہوا۔ اس قتل کو ڈکیتی کہا گیا۔ لیکن یہ ایک ایسی ڈکیتی تھی جس میں اس نوجوان کے پیسے چھینے گئے اور نہ ہی اس کی موٹر سائیکل۔ جب بیت المکرم مسجد میں اس کی نمازہ جنازہ پڑھی جارہی تھی ا±س وقت یوسف کذاب ایک مقرب کی شادی میں شریک تھا۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس فرقے کا ہدف ہوا کرتے تھے۔ میرے دل ودماغ نے کبھی اس کو قبول نہیں کیا، لیکن پھر بھی پانچ سال تک ان لوگوں کے ساتھ رہا۔ شاید ڈر کی وجہ سے کہ کہیں مارا نہ جاﺅں، یا پھر شاید اللہ نے اس لیے مجھے ان کے ساتھ رکھا تاکہ ان کو قریب سے دیکھوں اور معاشرے پر یہ سب کچھ واضح کردوں کہ یہ لوگ کون ہیں۔ میں نے مختلف مکاتب فکر کے علماءسے رابطہ کیا، سب نے ان لوگوں کو گمراہ کہا۔ آخر میں اس کے جرائم افشا ہوئے اور تحریک ختم نبوت نے یوسف کذاب کے خلاف کیس کیا۔ مقدمہ چلا‘ اس مقدمے کے دوران یوسف کذاب کو بچانے کے لیے یہ زید حامد ہی دوڑ دھوپ کرتا رہا۔ کبھی بااثر لوگوں سے ملتا اور کبھی اخبارات میں خطوط لکھتا۔ یوسف کذاب کو عدالت نے سزائے موت سنائی، 13اگست 2000ءکو زید حامد نے روزنامہ ڈان میں ایک خط لکھا اور عدالت کے فیصلے کو انصاف کا قتل قرار دیا۔ اس کی ضمانت کی کوششیں جاری تھیں کہ ایک قیدی نے اس کو موت کے گھاٹ ا±تار دیا۔ یوسف کذاب کے ختم ہونے کے بعد زید زمان حامد غائب ہوگیا۔ اور پھر صرف زید حامد کے نام سے نمودار ہوا۔ اور پھر براس ٹیکس پروگرام میں سامنے آیا۔ آج اس کے ساتھیوں میں وہی لوگ شامل ہیں جو یوسف کذاب کے ساتھی تھے۔ آج انٹرنیٹ پر اس کو سپورٹ کرنے والے اور اس کی ویب سائٹ ”براس ٹیکس“ چلانے والے یہی لوگ ہیں۔ یہ بہت اچھی اچھی باتیں کرکے لوگوں کو راغب کررہا ہے۔ یوسف کذاب نے بھی یہی کیا تھا۔ کذاب نے اس کو اپنے صحابیوں میں ابوبکر کا درجہ دیا تھا۔ زید حامد کے اصل خیالات وہی ہےں۔ آج انٹرنیٹ اور ای امیل کے ذریعے جب اس سے یوسف کذاب سے تعلق اور اس کے موجودہ نظریات کے حوالے سے سوال کیا جاتا ہے تو یہ کوئی جواب دینے کے بجائے دھمکیوں پر اتر آتا ہے۔ اللہ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ میں نے صدق دل سے توبہ کی اور پھر ان لوگوں کے خلاف کام کیا۔ اللہ ہمیں معاف کردے اور ان دجالوں کے فتنوں سے محفوظ فرمائے۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ میرے دوست رضوان طیب کے لیے دعا کریں کہ اللہ اس کی ذہنی حالت ٹھیک کردے اور اس کو معاف فرمائے۔ آمین“ قارئین آپ نے منصور طیب اور سعد موٹن کی کہانی ان کی زبانی پڑھ لی۔ یہ لوگ آج بھی موجود ہیں۔ یوسف کذاب اور زید حامد کے ڈسے ہوئے اور بھی ہیں۔ موقع ملا تو ان کو بھی اس کالم کے ذریعے آپ سے مخاطب کرائیں گے۔ آپ کو ان سے کچھ پوچھنا ہو تو ای میل کرسکتے ہیں۔ بالمشافہ بھی مل سکتے ہیں۔ زید حامد کے یوسف کذاب سے تعلق کے ناقابل تردید شواہد بہت زیادہ ہےں۔ پھر کسی کالم میں لاہور کی عدالت میں دائر یوسف کذاب کے خلاف کیس کی سماعت کے اقتباسات درج کریں گے۔ اگر آپ اصل دیکھنا اور پڑھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور دورِحاضر کے دجالی فتنوں سے بچائے۔ آمین
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 6 صارفین نے shafresha کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | فاروق سرورخان (21-10-09), مسافر (15-08-09), احمدنواز (17-08-09), اسعد شاہ (29-03-10), رضی (15-08-09), عبداللہ آدم (16-02-10) |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
ناطقہ سربرگریباں ہے:—ڈاکٹر فیاض عالم بھارت کے معاشی دارالحکومت ممبئی میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کے چند دن بعد ایک نجی ٹی وی چینل کے ٹاک شو ”سیاست اور پاکستان“ کا خصوصی پروگرام پیش کیا گیا۔ پروگرام کے میزبان فیصل رحمان نے اپنے مہمان زید حامد سے ممبئی میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے سوال کیا۔ زید نے اس سوال کے جواب میں ایک نہایت جذباتی اور چونکا دینے والے انکشافات سے بھرپور تقریر فرمائی۔ اس تقریر سے درج ذیل اقتباس بغور ملاحظہ فرمائیے: ”آج ہم یہ بریکنگ نیوز دیتے ہیں، انڈین سورسز سے ہمیں کنفرم ہوا ہے، انڈین دلت، شودر اورکرسچن جو ان کی ملٹری انٹیلی جنس، پولیس انٹیلی جنس میں کام کرتے ہیں، وہاں سے ہمیں پتہ چلا ہے کہ وہ لوگ جو (دہشت گردی میں) Involveتھے، وہ (دراصل کون لوگ تھے)۔ (ٹی وی اسکرین پر ایک نوجوان کی تصویر دکھائی جاتی ہے)۔ وہ لڑکا جس کی تصویر (میڈیا کے ذریعے) بار بار دکھائی جا رہی ہے ، غور کیجئے اس کے ہاتھ پر ایک Saffron Band ہے۔ اس نے Saffron Band (زعفرانی بینڈ) پہنا ہوا ہے جو کہ بی جے پی کے دہشت گردوں کی خاص نشانی ہے۔ اس لڑکے کا نام امر سنگھ ہے۔ یہ سکھ ہے اور اس کے ساتھ جو دوسرا مارا گیا ہے اس کا نام ہیرا لال ہے۔ یہ دونوں ”را“ کے ایجنٹ تھے۔ یہ خبر ہم کو انڈین انٹیلی جنس کے اندر سے پہنچی ہے۔ یہ (خبر دینے والے) وہ لوگ ہیں جو پولیس سروسز کے ہیں اور انڈین ملٹری انٹیلی جینس کے خلاف Investigate کر رہے تھے۔ They have recognized this man۔ یہ سکھ ہے۔ سکھ ہے ، اور اس کے ساتھ جو دوسرا مارا گیا اس کی شکل اتنی خراب کر دی گئی کہ وہ اسے Recognizeنہیں کرسکے۔ ان سے بات یہ ہو ئی تھی کہ ان کو زندہ گرفتار کیا جائے گا۔ بعد میں جب کھیل غلط ہو گیا، پورے میڈیا نے پکڑ لیا۔ اتنی Mistakesکیں انہوں نے اس کو ہینڈل کرنے میں۔ پھر انڈین ایجنسیوں نے فیصلہ کیا کہ اسے Eliminateکر دیا جائے۔ اس پر اس نے Resistکیا۔ اس کو زندہ گرفتار کیا گیا ہے۔ آپ اس کو Analyseکیجئے۔اس کی شکل بھی پاکستانی نہیں ہے۔ کسی پاکستانی مسلمان کی شکل ایسی نہیں ہوتی!!“ زید نے فخریہ لہجے میں یہ بھی فرمایا کہ ان کا پروگرام براس ٹیکس انڈیا میں بھی مقبول ہوچکا ہے اور انڈیا کے اندر سے ان کی خفیہ ایجنسیوں کے لوگ ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے انہیں اندر کی خبریں دیتے رہتے ہیں۔ زید حامد نے ممبئی دہشت گردی کے بعد کئی نجی ٹی وی چینلز پر اپنے اس مو¿قف کا زور و شور سے اعادہ کیا اور پاکستان کے مضطرب لوگوں کو نہایت وثوق سے بتایا کہ انڈیا میں گرفتار نوجوان جس کی تصویر میڈیا کے ذریعے دنیا کو دکھائی گئی ہے وہ کوئی پاکستانی نہیں بلکہ ایک سکھ نوجوان ہے جس کا نام امر سنگھ ہے اور وہ انڈین خفیہ ایجنسی ”را“ کا ایجنٹ ہے۔ زید کے معصوم مداح ان کے اس انکشاف کو ناقابل تردید حقیقت سمجھتے رہے۔ لیکن یہ محض تصویر کا ایک رخ ہے۔ بین الاقوامی میڈیا حتیٰ کہ پاکستان کے سب سے بڑے نجی ٹی وی چینل ”جیو“ نے بھی اس حوالے سے جو انکشافات کیے ہیں وہ زید کے انکشاف کی ضد ہیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے صحافی علی سلمان نے سب سے پہلے یہ خبر دی تھی کہ ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے گرفتار نوجوان کا تعلق پاکستان کے شہر فرید کوٹ سے ہے۔ برطانوی اخبار آبزرور نے فرید کوٹ کے ووٹروں کی فہرست سے اجمل قصاب کے والدین کا پتہ معلوم کیا۔ جلد ہی روزنامہ ڈان کے نامہ نگار فرید کوٹ میں اجمل قصاب کے خاندان تک جا پہنچے اور اس کے والد امیر قصاب سے ملاقات کی۔ روزنامہ ڈان نے عوام کوبتایا کہ امیر قصاب نے تصدیق کر دی ہے کہ میڈیا میں جس نوجوان کی تصویر حملہ آور کے طور پر دکھائی جا رہی ہے وہ ان کا بیٹا اجمل ہے جو چار سال قبل کسی بات پر ناراض ہو کر گھر سے چلا گیا تھا۔ جیو ٹی وی نے اس حوالے سے ایک طویل رپورٹ نشر کی جس پر بعض حلقوں نے اس کی انتظامیہ کو ہدفِ تنقید بنایا اور اس رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ روزنامہ ڈان کی خبر کے مطابق امیر قصاب ایک غریب آدمی ہے جس کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ امیر قصاب کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں میں اجمل کے کردار میں ان لوگوں کا سب سے بڑا ہاتھ ہے جنہوں نے اس کو اس راہ پر گامزن کیا لیکن ان کو نہیں معلوم کہ وہ کون لوگ ہیں۔ (حوالہ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام، جمعہ 12دسمبر 2008ء ممبئی دہشت گردی تاحال ایک معما ہے جسے سلجھنے میں وقت لگے گا۔ ممکن ہے کہ ہندوستان، پاکستان کے عوام بہت سارے واقعات کی طرح کبھی یہ نہ جان پائیں کہ ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ کون تھا؟ کوئی فرد یا گروہ؟ پاکستان میں متحرک کوئی نان اسٹیٹ ایکٹر یا پھر ہندوستان میں فعال بہت ساری علیحدگی پسند اور دہشت پسند منظم گروپوں میں سے کوئی ایک اس بات کا امکان بھی کم ہے کہ گرفتار نوجوان سے کوئی مہذبانہ تفتیش کی جا رہی ہو۔ جنوب ایشیائی ملکوں کی پولیس اور خفیہ ایجنسیاں زیرحراست افراد سے کسی بھی قسم کا اعتراف کروانے میں مہارت رکھتی ہیں۔ لہٰذا یہ بات طے ہے کہ جب تک اجمل قصاب کو عدالت میں پیش نہ کیا جائے، اسے اپنی مرضی کا وکیل چننے کا اختیار نہ دیا جائے، مقدمے کو ٹرانسپیرنٹ انداز سے نہ چلایا جائے، ثبوت، گواہ اور شواہد نہ پیش کیے جائیں۔ محض بھارتی حکومت کے الزامات یا واویلے اور حکومت پاکستان کو پیش کردہ چند دستاویزات کی بنائ[L:4 R:4] پر اس مسئلے پر کوئی مثبت پیش رفت ممکن نہیں اورحکومت پاکستان محض الزامات کی بنیاد پر ٹھوس اقدامات نہیں اٹھا سکتی۔ فلاحی ادارے جماعت الدعو پر پابندی کے نتیجے میں حکومت پہلے ہی سخت تنقید کا نشانہ بن چکی ہے اور شدید دباﺅ کا شکار ہے۔ ہندوستان میں گرفتار نوجوان جسے ہمارے مایہ ناز دفاعی، معاشی، سیاسی اور جہادی ماہر اور تجزیہ نگار زید حامد نے اپنی مستند معلومات کی بنائ[L:4 R:4] پر ”را“ کا ایجنٹ اور امر سنگھ قرار دیا تھا۔ سات جنوری 2008ئ[L:4 R:4] کو حکومت پاکستان نے باضابطہ طور پر اسے پاکستان کے شہر فرید کوٹ کا رہائشی اجمل قصاب تسلیم کر لیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمن نے ہندوستانی ٹی وی چینل NDTVکو بتایا کہ حکومت تصدیق کرتی ہے کہ اجمل قصاب پاکستانی ہے اور اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم شیری رحمان نے واضح الفاظ میں تردید کی کہ اجمل کا کوئی تعلق پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں سے ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی سرکاری طور پر یہ بات تسلیم کر لی ہے لیکن ہندوستان کے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ریاستِ پاکستان کسی بھی طور پر ممبئی دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان خود کئی سال سے دہشت گردی کا شکار ہے اور انتہا پسندی کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کرتے ہوئے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ قربانیاں دے رہا ہے۔ اس پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام لگانا زیادتی ہے۔ ممبئی دہشت گردی کے بعد ہندوستانی حکومت کے اعلیٰ سطحی ذمہ داران کا جو رویہ رہا ہے اسے کسی بھی طور پر ذمہ دارانہ نہیں کہا جاسکتا۔ ان کے اشتعال انگیز بیانات اور دھمکیوں کے سبب دونوں پڑوسی ملکوں پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور سرحدوں پر فوج کی تیاریوں کی خبریں میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔ بی بی سی، آبزرور، روزنامہ ڈان اور جیو ٹی وی کی خبریں اور رپورٹس دیکھیں یاحکومت پاکستان کا سرکاری مو¿قف۔ یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ ہندوستان میںدہشت گردی کے حوالے سے زیرحراست نوجوان اجمل قصاب پاکستانی شہری ہے۔ جبکہ زید حامد نے کئی پروگرامز میں اسے ہندوستانی خفیہ ایجنسی ”را“ کا ایجنٹ امر سنگھ قرار دیا ہے۔ کس کا مو¿قف درست ہے؟ حکومت پاکستان کا یا زید حامد کا؟ کیا زید حامد نے اس حوالے سے جو داستان لوگوں کو سنائی وہ ابن صفی (مرحوم) کی عمران سیریز، جاسوسی دنیا یا الفریڈ ہچکاک کے کسی سنسنی خیز جاسوسی ناول کا کوئی پلاٹ تھا؟ ایک نہایت سنجیدہ، حساس اور اہم معاملے پر زید حامد آخر قوم سے اس قدر بڑا جھوٹ کس طرح بول سکتے ہیں؟ یوسف کذاب سے ان کی عقیدت اپنی جگہ لیکن اجمل قصاب کو امر سنگھ بتا کر انہوں نے اپنی تمام تر شہرت کو داﺅپر لگا دیا ہے۔ بطور دفاعی تجزیہ نگار اپنی ساکھ کے آگے سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ میں اِس کالم کے ذریعے ان سے ملتمس ہوں کہ برائے مہربانی کسی ٹی وی پروگرام کے ذریعے اس صورتحال کی وضاحت کریں اور قوم کوبتائیں کہ کیا وہ اب بھی اپنے مو¿قف پر قائم ہیںیا ان کے انکشافات محض ان کے ذہن کی اختراع تھے اور عوام کو مرعوب کرنے کے لیے گھڑی ہوئی ایک جھوٹی کہانی؟ ناطقہ سربہ گریباں ہے اسے کیا کہیے!—بشکریہ جسارت |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 8 صارفین نے shafresha کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | ALI-OAD (10-04-10), فاروق سرورخان (21-10-09), یاسر عمران مرزا (21-10-09), مسافر (15-08-09), اویسی (30-03-10), رضی (15-08-09), شاہ جی 90 (17-08-09), عبداللہ آدم (16-02-10) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
دوستوں اب آپ کے رائے درکار ہے!
(نوٹ) دوستوں اس طویل تھریڈ میںموجود "ہجّوں" کی تصیح انشاء اللہ جلد ہی کردوں گا۔ Last edited by shafresha; 15-08-09 at 01:27 PM. |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 6 صارفین نے shafresha کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | فاروق سرورخان (21-10-09), احمدنواز (17-08-09), اسعد شاہ (29-03-10), راجہ اکرام (16-08-09), رضی (15-08-09), شاہ جی 90 (17-08-09) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
لعنت اللہ علی کاذبین
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 5 صارفین نے مسافر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | فاروق سرورخان (21-10-09), مباح (19-04-10), راجہ اکرام (16-08-09), رضی (15-08-09), شاہ جی 90 (17-08-09) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنتچھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنتچھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنتچھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت چھوٹے پر خدا کی لعنت
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 5 صارفین نے مسافر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | فاروق سرورخان (21-10-09), وجدان (16-08-09), راجہ اکرام (16-08-09), رضی (15-08-09), شاہ جی 90 (17-08-09) |
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 8,076
کمائي: 51,135
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,831
4,449 مراسلہ میں 11,623 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر مزید مواد نہیں ہے تو پھر اس کو سرورق کے لیے پیش کرتے ہیں۔
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 4 صارفین نے منتظمین کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
شاہد بھائی بہت بہت شکریہ ۔ میں خود اس سے کافی متاثر تھا لیکن ایک بات ذہن میں کھٹک رہی ہے کہ اس کی کسی بھی تقریر یا تجزیہ سے یہ محسوس نہیں ھوتا کہ یہ کوئی مذہبی سکالر ہے یا رہا ہے اسکی کی تقاریر سن کر تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ پاکستان کو جو خطرات لاحق ہیں انکا تدارک پیش کر رہا ہے بحرحال شاہد بھائی کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اتنی تحقیق کی ہمیں بھی بتایا ۔
میں آئندہ ان باتوں کا خیال رکھا کروں گا اقتباس:
شاہد بھائی چند اور باتیں معلوم کرنا چاہوں گا ۔ یہ کہ مجھے یوسف کذاب کے بارے میں اس سے پہلے کچھ بھی معلوم نہیں تھا اور یہ تو بدر بھائی کے بتانے پر مجھے معلوم ھوا ۔ اور پھر اب آپ کی تحقیق سے۔ شاہد بھائی مزید یہ کہ کیا آپ اس بارے میں پہلے سے جانتے تھے یا آپ نے بھی بدر بھائی کے بتانے کے بعد تحقیق کی ہے۔ اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ زید صاحب یوسف کذاب سے جہاں بھی تردید کرتے ہیں تو لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ شاہد بھائی آپ سے درخواست ہے کہ یوسف کذاب اور اسکے فتنوں کے بارے میں یا کسی بھی طرح کی مزید تحقیق کریں تو مجھے ضرور بتائیے گا اور میں یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ نعمت اللہ شاہ ولی کی جن پیشن گوئیوں کے بارے میں جو کتابچہ ہے اس کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے کیا یہ درست ہیں۔ کیونکہ میں تو اس سے پہلے نعمت اللہ شاہ ولی کے بارے میں جانتا بھی نہ تھا بدر بھائی کے کہنے کہ مطابق تو اس طرح کی پیشن گوئیاں موجود ہیں ۔ میں نے جو کتابچہ منسلک کیا تھا آپ اس کو پڑھ کر مجھے ضرور بتائیے گا۔ ایک بار پھر شکریہ ۔
__________________
خودی میں ڈوب، زمانے سے نا امید نہ ہو-کہ اسکا زخم ہے درپردہ اہتمام رفو رہے گا تو ہی جہاں میں یگانہ و یکتا -اتر گیا جو تیرے دل میں ، لا شریک لہ
|
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 4 صارفین نے رضی کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
شاہد بھائی ایک تجویز ہے کہ اس تھریڈ میں کچھ باتیں تین تین دفعہ ریپیٹ کی گئی ہیں ان کو بہتر انداز سے مرتب کر دیں تاکہ پڑھنے والے کو دشواری نہ ہو۔
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 4 صارفین نے رضی کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 3 صارفین نے رضی کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
شاہد بھائی آپکا ذاتی خیال کیا ہے اس بارے میں ۔
آپ نے جو مواد لیا ہے میرے خیال میں وہ ختم نبوت تنظیم کی ویب سے لیا گیا ہے ۔ صرف ایک جگہ سے پڑھ کر سب کچھ سچ نہیں مانا جا سکتا ۔ آپ کیا کہتے ہیں اس بارے میں I am too confused |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 2 صارفین نے رضی کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | shafresha (16-08-09), فاروق سرورخان (21-10-09) |
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| azaan, com, come, comment, url, فتنہ یوسف کذاب, کرتا, ھوئی, پاکستان, چینل, مہیا, مولانا, ملاقات, منظور, were, آج, الزام, امریکہ, تفصیلات, خلاف, ختم نبوت, دعویٰ نبوت, زید حامد, سیاست, شاہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| چند سوالات | aruz | عمومی سائنس | 14 | 26-06-09 03:42 PM |
| چند معلومات | فیصل ناصر | گپ شپ | 11 | 18-06-09 10:29 PM |
| چند سوالات | مرزا محمد فاروق | ایمان | 8 | 17-06-09 11:43 AM |
| چند الفاظ | ایس اے نقوی | میری ڈائری | 2 | 26-02-09 09:46 AM |
| چند گھریلو نسخے | Atia jamali | فیشن اور بیوٹی ٹپس | 0 | 11-09-08 06:05 PM |