واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


سائنسی میدان میں مسلمانوں کی پسماندگی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-05-09, 02:33 AM   #1
سائنسی میدان میں مسلمانوں کی پسماندگی
طاھر طاھر آف لائن ہے 25-05-09, 02:33 AM

السلام علیکم،

مسلمانوں کی موجودہ زبوں حالی اور پستی کے اسباب کیا ہیں اور وہ کون سا راستہ ہے جس پر چل کر اسلام کی نشاة ثانیہ کی منزل حاصل کی جاسکتی ہے؟یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر مسلمانوں کے دورِ غلامی کی گزشتہ دو تین صدیوں کے دوران بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے‘ گیارہ ستمبر کے بعد کی دنیا میں عالم اسلام کو جس صورتحال کا سامنا ہے‘ اس میں یہ سوال بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ مسلمانوں کو موجودہ ”گلوبل ویلج“ میں عزت ووقار کے ساتھ رہنے کے لئے کون سا طرزِ فکر وعمل اختیار کرنا چاہئے؟

کچھ حلقے اس فکر کو آگے بڑھا رہے ہیں کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ عقلیت پسندی‘ تجدد اور آزادئ فکر سے بیزار رہنا اور سائنس وٹیکنالوجی کے حصول پر توجہ نہ دیناہے۔ اس ضمن میں یہ بات بھی پوری شدت کے ساتھ کہی جارہی ہے کہ مسلمانوں کو سائنس وٹیکنالوجی سے دور رکھنے کا ذمہ دار ”ملاّ“ ہی ہے جو سائنس‘ ٹیکنالوجی‘ ترقی اور عقلیت پسندی کا مخالف ہے۔ بعض ”دانشور“ تو اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر ترقی کے لئے مذہب سے جان چھڑانے کی ”ضرورت“ بھی اجاگر فرمارہے ہیں اور فکری آوارگی وانتشار کے ”چوراہوں“ پر حسنِ بیاں ”نثار“ کرنے والے بعض ”عبقری“ مذہب کو ”افیون“ قرار دے کر کارل مارکس کی بدروح کو خوش کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔ ”سویرے سویرے“ اندھیروں کا کاروبار کرنے والے بعض نابغے بھی تأثر دے رہے ہیں کہ سائنس وٹیکنالوجی کی موجودہ ترقی میں مسلمانوں کا کوئی حصہ ہی نہیں ہے اور اس وقت چونکہ سائنس وٹیکنالوجی میں مغرب کی ”امامت“ مسلم ہے‘ اس لئے مسلمانوں کو اپنے مذہب‘ تاریخ‘ کلچر اور تہذیب پر فخر اور اصرار ترک کرکے ”گلوبل تھنکگ“ اپنانی چاہئے اور زندگی کے تمام شعبوں میں اپنے آپ کو مغرب کے بنائے ہوئے سانچوں میں ڈھال کر مغربی معاشروں جیسی ”ترقی اور روشن خیالی“ اپنانی چاہئے۔

آئیے! دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی ترقی کی راہ میں ملاّ رکاوٹ ہے اور کیا اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے سائنسی ترقی کے راستے مسدود ہوجاتے ہیں؟ یہاں یہ وضاحت کرنے کی شاید ضرورت نہیں کہ سائنس اور ترقی کا باہمی تعلق وتلازم ایک مستقل موضوع ہے جس پر کئی حوالوں سے گفتگو کی جاسکتی ہے۔ ہمارے ہاں کا ”ترقی پسند“ طبقہ جس چیز کو ترقی سمجھتاہے اور اس کے حصول کے لئے جو راہ عمل تجویز کرسکتاہے‘ اس سے معروف معنوں میں بھی ترقی کا حصول ممکن نہیں ہے‘ یہ شاید طویل دورِ غلامی کا ایک نفسیاتی اثر ہے کہ ہمارے ہاں مغربی ترقی کے تلچھٹ کو ہی اصل ترقی سمجھا جاتاہے۔ ”خذ ما صفا ودع ماکدر“ (جو صاف ہو اس میں سے لے لو اور جو گدلاہو ا س کو چھوڑ دو) ایک آفاقی اصول ہے‘ لیکن ہمارے ہاں معاملہ بالکل الٹا چل رہا ہے‘ ہم مغرب کی سیاسی بالادستی سے خائف اور مرعوب ہوکر مغربی تہذیب کی تمام کدورتوں کو اپنانے کے لئے بے چین ہیں جبکہ مغرب کی سائنسی وفنی پیش رفت کا مقابلہ کرنے کے لئے جن بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے‘ ان کے قریب بھی نہیں بھٹکتے۔

جہاں تک اس سلسلے میں ”ملاّ“ کے کردار کا تعلق ہے تو ملاّ حقیقی سائنس وفنی ترقی کا مخالف کیسے ہوسکتاہے؟ جبکہ وہ قرآن وحدیث کی ان نصوص سے اچھی طرح واقف ہے جن میں انسانوں کے لئے زمین وآسمان کے مسخر کئے جانے کے بیان کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھر پور فنی صلاحیت‘ بالخصوص حربی قوت حاصل کرنے کا حکم دیا گیاہے۔ اسلامی تاریخ میں جن جن مسلم سائنسدانوں نے اپنی نمایاں ایجادات واختراعات کے ذریعے موجودہ سائنسی ترقی کی بنیاد رکھی وہ ”ملاّ“ ہی تھے‘ ہاں جب مرورِ زمانہ کے ساتھ اور خاص طور پر دنیا میں انگریزی نو آبادیاتی نظام کے قیام اور نئے مشینی دور کے آغاز کے بعد معاشرے میں ملاّ کا کردار محدود کردیا گیا اور اسے سائنس وٹیکنالوجی کی تعلیم کی بجائے دین کی بنیادی تعلیمات کے بچاؤ اور مسجد ومدرسے کے نظام کے قیام کی فکر کرنی پڑی تو سائنس وٹیکنالوجی کی تعلیم کا بیڑا اس ”روشن خیال‘ ترقی پسند وعقلیت پسند“ طبقے نے اٹھالیا‘ جس کا دعویٰ تھا کہ نظام تعلیم کو ”ملاّئیت“ سے پاک کرکے سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی کو بام عروج تک پہنچایا جائے گا‘ اس طبقے کو ہر دور کی دیسی بدیسی سرکار کی مکمل معاونت وسرپرستی حاصل رہی اور اگر صرف برصغیر کی حالیہ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو مسلمانوں کا پورا نظام تعلیم مکمل طور پر اسی طبقے کے ہاتھ میں رہاہے‘ اسی طبقے نے ”ملاّئیت“ کے خاتمے کی مہم میں انگریزوں کا بھی حتی المقدور ہاتھ بٹایا اور آج بھی یہی طبقہ مسلمانوں میں ”سائنسی طرز فکر“ پیدا کرنے کے لئے ”روشن خیالی“ کے امریکی ایجنڈے کو آگے بڑھارہاہے۔

اس وقت بھی نظام تعلیم کی لگام اسی کے ہاتھ میں ہے‘ لیکن ڈیڑھ سو سال سے زائد عرصے میں اس طبقے نے سائنسی میدان میں کتنی پیش رفت کی‘ کتنی ایجادات واختراعات کیں اور کتنے نمایاں سائنسی نظریات پیش کئے جو عالمی سطح پر اس کی سائنسی طرز فکر کی علامت ہو؟ کیا اس کا جواب صفر میں نہیں ہے؟ اب یہ طبقہ اپنی اس ناکامی کا سارا ملبہ ”ملاّ“ پر گرانے کی ایسی کوشش کررہاہے جیسے یہ ملاّ کے ہر ہر حکم کا بہت ہی پابند ہو اور ملاّ ہی نے اس کو سائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں مفید ایجادات وتجربات کرنے سے روکا ہو۔

”ملاّ“ نے فرنگی استعمار کے تسلط کے قیام کے بعد مسلمانوں کے دین اور ایمان کے تحفظ کے لئے دینی تعلیم کے احیاء کے جس محاذ کو سنبھالنے کا عہد کیا تھا‘ حالات کی تمام ترستم ظریفیوں اور وقت کی تمام ترناموافقتوں کے باوجود‘ وہ آج بھی اس محاذ اور مورچے پر ڈٹا ہوا ہے اور آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ اسلام کی بقاء وتحفظ کی جنگ میں یہ بے سروسامان ”ملاّ“ ہی سرگرم عمل نظر آتاہے‘ کفریہ طاقتیں اسی کو اپنا دشمن سمجھتی ہیں اور اسلام دشمن طاقتوں کو پوری اسلامی دنیا میں ”ملاّ“ کا خطرہ ہی اصل خطرہ نظر آتاہے‘ جس طبقے نے سائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں مغرب کا مقابلہ کرنے کے دعوے کئے تھے‘ وہ آج اس سارے منظر نامے سے غائب ہے۔ طرفہ تماشا دیکھئے کہ اس طبقے کے لوگ اب علماء سے سوال کرنے لگے ہیں کہ وہ دینی مدارس میں ہوائی جہاز‘ کمپیوٹر اور جدید آلات بنانا کیوں نہیں سکھاتے؟ حالانکہ یہ سوال اس طبقے کو اپنے آپ سے کرنا چاہئے کہ اس نے قوم کو انگریز کے نظام تعلیم کے تحت ترقی کے جو خواب دکھائے تھے‘ وہ ہنوز شرمندہٴ تعبیر کیوں نہ ہوسکے؟ ملاّ نے تو اسی وقت کہہ دیا تھا کہ انگریزی نظام تعلیم کا مقصد برصغیر میں فرنگی تہذیب کو پروان چڑھانے اور فرنگی اقتدار کو مستحکم کرنے کے لئے ایسے بابو اور کلرک پیدا کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے جو انگریزی حکومت کی مشینری کے لئے مقامی پرزوں کی ضرورت پوری کرسکیں‘ اس طبقے نے اس سے زیادہ اگر علمی وسائنسی میدان میں کوئی کارکردگی دکھائی ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے۔ بات صرف برصغیر تک محدود نہیں ہے‘ برطانوی نو آبادیات اور پوری اسلامی دنیا میں ”جدید ترقی پسند“ مہربانوں کی مہربانیوں سے یہی صورتحال رہی‘ جو اب تک قائم ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اگر تلاش کی جائے تو وہ ذہنی غلامی ہی ہے‘

مسلمان معاشروں میں ترقی‘ عقلیت پسندی اور تجدد کے نام پر مغرب کی ذہنی غلامی کے جراثیم اس قدر پھیلادیئے گئے کہ کسی میں سائنسی میدان میں مغرب سے مقابلہ کرنے کی سوچ ہی پیدا نہ ہوسکی‘ اس عرصے میں اسلامی دنیا میں اگر کچھ کام کے سائنسدان اور ماہرین پیدا بھی ہوئے تو وہ اس ذہنی مرعوبیت کی بناء پر مغربی ممالک جا بسے اور مغرب ہی کے آلہٴ کار بن گئے‘ تازہ عالمی منظر نامے میں ڈاکٹر محمد البرادی کی زندہ مثال سب کے سامنے ہے۔ اہل بصیرت مسلم مفکرین نے آج سے ایک صدی پہلے نشاندہی کر دی تھی کہ مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ ذہنی غلامی اور نظام تعلیم کی خرابی ہی ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا تھا:

”آج مسلمانوں کی ذہنی ترقی کو جس چیز نے روک رکھا ہے وہ صرف نصابِ تعلیم اور طرزِ تعلیم ہی ہے“۔

سچ یہ ہے کہ جب تک مسلمان مغرب کی ذہنی غلامی سے نجات حاصل نہیں کریں گے‘ سائنسی وفنی میدان میں ان کی ترقی ممکن نہیں ہے‘ کسی چیز کا مقابلہ تب ہی کیا جاسکتاہے جب کہ اپنے سامنے تشخص‘ حیثیت اور الگ وجود کا احساس ہو‘ خود سپردگی اور سپراندازی کے طرز عمل سے کسی طاقتور مد مقابل کی غلامی ضرور کی جاسکتی ہے‘ لیکن اس کے ساتھ ہمسری یا مقابلہ کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ ملاّ نے آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے بھی یہی بات کہی تھی اور آج بھی یہی کہتا ہے کہ سائنسی میدان میں جتنا ممکن ہو‘ آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے اور تمام جدید علوم وفنون میں مہارت حاصل کی جائے‘ لیکن اپنے دینی وملی تشخص‘ تہذیب وتمدن اور اسلام کی عطا کردہ آفاقی حریتِ فکر کی نعمت کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔ مولوی اگر سائنسی تحقیقات وایجادات میں کچھ شرعی‘ اخلاقی اور تہذیبی قیود کو ملحوظ رکھنے کی بات کرتا ہے تو کیا آج اس کی ضرورت عالمی سطح پر محسوس نہیں کی جارہی؟ آج امریکا جیسے ملک میں انسانی کلوننگ پر پابندی کیوں ہے؟ اور کیا یہ سائنس کو مطلق العنان چھوڑنے کا نتیجہ نہیں کہ آج سائنسی ترقی کے اپنے عروج پر پہنچنے کے باوجود بنی نوع انسان کی تباہی کے اسباب وذرائع‘ اس کی آسانی اور راحت کے اسباب وذرائع سے کہیں زیادہ ہوچکے ہیں اور ”ترقی یافتہ“ معاشروں میں اخلاقی تباہی اپنی انتہائی حدوں سے تجاوز کر چکی ہے۔ آج پوری دنیا کے حقیقت پسند حلقے اس بات کی ضرورت محسوس کررہے ہیں کہ سائنسی تحقیقات کو مسلمہ انسانی واخلاقی اقدار کے تابع رکھا جائے اور سائنس وٹیکنالوجی کو انسان کی تباہی کی بجائے اس کی فلاح وبہبود کے لئے استعمال کیا جائے‘ یہی بات ”ملاّ“ نے آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے اپنے ہاں کے روشن خیال ترقی پسندوں کو سمجھانے کی کوشش کی تھی‘ ورنہ یہ بات بھی کوئی راز نہیں کہ جدید سائنسی تحقیقات سے دنیا کے دیگر خود ساختہ مذاہب کو تو بہت خطرات در پیش ہوئے ہیں‘ اسلام آج کے سائنسی دور میں بھی ایک زندہ وجاوید حقیقت بن کر مغرب کے ”انتہائی ترقی یافتہ“ معاشروں میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہاہے‘ اس لئے سائنس کی ترقی سے اسلام اور اسلام کے محافظ ”ملاّ“ کو کوئی خطرہ نہیں ہے‘ اسلام کو اگر خطرہ ہے تو ان نام نہاد تجدد پرست دانشوروں سے ہے جو اپنی مخصوص افتاد طبع اور غلامانہ ذہنیت کی بنیاد پر مسلمانوں میں مایوسی اور قنوطیت پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں‘ اور مذہب کو گردن کا طوق سمجھ کر مسلمان نوجوانوں کو یہ طوق گلے سے اتار پھینکنے کے مشورے دے رہے ہیں۔

ان لوگوں کی پہچان یہ ہے کہ یہ زبردست خلط مبحث کے ماہر ہوتے ہیں اور بسا اوقات ان کو خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ”کالمی افلاطون“ بننے کے شوق میں کس قدر تضاد بیانی میں مبتلا ہورہے ہیں۔ مثلاً ایک نے لکھا کہ:

”مسلم دنیا میں ایک نامور سائنسدان ڈاکٹر عبد السلام پیدا ہوئے تو مولویوں نے اس پر بھی فتوے لگائے“۔

اندازہ لگایئے کہ بات کہاں سے کہاں لے جائی جارہی ہے‘ ان سے کوئی پوچھے کہ مولویوں نے ڈاکٹر عبد السلام کے کس سائنسی نظریئے پر کون سا فتویٰ لگایا تھا؟ فتویٰ تو قادیانی دجل پر لگاتھا اور یہ ڈاکٹر عبد السلام کی بدنصیبی تھی کہ وہ نہ صرف قادیانی تھا‘ بلکہ قادیانی خلیفہ سے براہِ راست مذہبی ہدایات بھی لیتا تھا۔ کمال ہے کہ سائنسی ترقی کے لئے مذہب سے چھٹکاراپانے کے لئے مثال بھی اس شخص کی پیش کی جارہی ہے جو کٹر مذہبی‘ بلکہ ایک بڑے بدمذہب گروہ کا چیلا تھا۔ڈاکٹر عبد القدیر خان کی مثال شاید اس لئے پیش نہیں کی گئی کہ وہ ”روشن خیالی“ کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتے اور ان پرنازل ہونے والے سرکاری عتاب کے یہ مہربان خود بھی قائل ہیں۔ خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ سائنس کے میدان میں مسلمانوں کی پسماندگی کا اصل سبب ملاّ یا مذہب نہیں‘ بلکہ وہ شکست خوردہ غلامانہ ذہنیت ہے جو مسلمانوں کو مغرب کی ذہنی غلامی سے آگے سوچنے ہی نہیں دیتی‘ امت مسلمہ کی سائنسی ترقی کے لئے اس ذہنیت سے نجات صاحل کرنا ضروری ہے۔

مولانامحمد شفیع چترالی؂ جامعہ بنوری ٹاؤن
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے

 
طاھر's Avatar
طاھر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 224
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-05-09), رضی (25-05-09)
پرانا 25-05-09, 03:33 AM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

طاہر بھائی
یہ تو ایک پھیلائی ہوئی رائے ہے ورنہ حقیقت اس سے بہت دور ہے آج ہماری پسماندگی کی اصل وجہ ہی دین سے دوری ہے اور مغربی معاشرے کی تقلید ہے ورنہ یہی مسلمان ایک شاندار علمی تاریخ رکھتے ہیں
کافی عرصہ پہلے کی یہ پوسٹ ملاحظہ کیجئے

مسلمان سائنسدان
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (25-05-09)
پرانا 25-05-09, 11:26 AM   #3
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

طاہر بھائی اسلام علیکم،
مجھے اس بات کی خوشی ہے کے یہ آپ کی تحریر نہیں‌ ہے اور یہ موقف اُس طبقے کی جانب سے آیا ہے جس پر "تنگ نظری" کا "الزام" عائد کیا جاتا ہے۔ ابھی تو مصروفیت ہے لیکن جلد ہی اس پر تبصرہ کروں گا۔ مذہبی حلقوں سے ایک طویل عرصے کی وابستگی کی بنا پر میں‌"شاید" ان لوگوں کو آپ سے ذیادہ بہتر سمجھتا ہوں۔

Last edited by shafresha; 25-05-09 at 06:47 PM.
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
طاھر (26-05-09)
پرانا 26-05-09, 02:59 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سب سے اہم بات یہ ہے کہ "علماء" علم سے مراد کونسا علم لیتےہیں؟ کیا ان کے نزدیک سائنس ایک علم ہے یا پھر اس کو انفرمیشن کے کھاتے میں ڈال کر بری الزمہ ہو جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس کے لیے ایک الگ سے موضوع بنانا مناسب رہے گا۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (26-05-09)
جواب

Tags
کمپیوٹر, کمال, پہچان, پاک, قدم, قرآن, لوگ, چین, مکمل, موجودہ, مقابلہ, ممکن, مسجد, معلوم, آوارگی, آج, ایمان, اسلام, اسلامی, اسلامی تاریخ, تلاش, جواب, راستہ, سائنس, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ان شخصیات میں سے کون سی شخصیت بننا پسند کریں گی آپ؟ سیپ عورت کہانی 9 03-11-11 04:34 PM
باجوڑ ایجنسی میں شرپسندوں نے 4 قبائلوں کو ذبح کر دیا ابن جلال خبریں 0 11-10-08 11:10 PM
سوات میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری ابو کاشان خبریں 0 14-01-08 01:41 AM
لوگوں کو پسند کا چینل دیکھنے کی آزادی دی جائے، سی پی این ای کراچی ( جنگ نیوز) ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد میڈیا اور جیو پر پابندیوں کو آج عبدالقدوس خبریں 0 07-12-07 08:27 AM
جمہوری عمل انتہا پسندوں کے ہاتھوں یر غمال نہیں بنے دوں گا،صدر پر ویز خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 08:59 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:50 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger