واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


سائنس کی ایک کلاس...... امام ابن تیمیہ کے ساتھ!!!

Like Tree1Likes
  • 1 Post By عبداللہ حیدر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-04-11, 02:42 PM   #1
سائنس کی ایک کلاس...... امام ابن تیمیہ کے ساتھ!!!
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 07-04-11, 02:42 PM

متاع گم گشتہ

ذہنی غلامی کے کیچڑ میں لتھڑے ہوئے نام نہاد مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ:

محمد محمود مصطفی

تعلیمی اداروں، میں پڑھائی جانے والی درسی کتابوں میں علم وآگہی کے تمام سرچشمے یورپ سے نکلتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں ہمارے مسلم ممالک کا ہر گوشہ مغرب زدہ ہے خواہ تعلیم کا میدان ہو یا ثقافت کا بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ مغرب کی چاپلوسی کرنے والوں نے ان کا ہر گند درآمد کیا ہے اور مفید امور سے صرف نظر کرتے رہے ہیں۔

مرتبین نصاب درسی کتابوں میں یہی پڑھاتے لکھاتے رہے کہ زمین کے بیضوی ہونے کا انکشاف پرتگالی بحری سیاح فرڈی نینڈ میگلونFerdinand نے ١٥٢٠عیسوی میں کیا تھا ۔خطوط عرض بلد و طول بلد کا موجدمرکٹور گوھارڈوی اور انگلستانی موولیم بیر ہیں

قانون جاذبیت کاکلیہ نیوٹن Sir Issac Newtonنے ١٧٢٥ءمیں واضح کیا تھا ہمارے مدارس میں تو تعلیم کچھ اس طرح دی جاتی ہے اور اس طرف کسی کا تصور نہیں جاتا کہ زمین کا بیضوی ہونا ، قانون جاذبیت ، خطوط عرض بلدو طول بلد صدیوں سے دریافت ہوچکے ہیں آیئے امام ابن تیمیہ رحمتہ اﷲ علیہ کی درس گاہ ارضیات پر ایک سبق پڑھتے ہیں جو یقینا عصری مدرسین پر گراں ہوگا۔

امام ابن تیمیہ فتاوی جلد ٥ ص١٥٠ پر لکھتے ہیں علمائے ہیئت کا اس با ت پر اتفاق ہے کہ زمین کی شکل کروی ہے اور اسے پانی (سمندروں ) نے گھیر رکھا ہے ۔ زمین کا بیشتر رقبہ سمندر ہے او رخشکی کل زمین کا ١/٦یا اس سے کچھ زائد حصہ ہے[مراد ہے زمين ميں خشکي کا قابل آبادي حصہ] نیز پانی نے چہار اطراف سے گنبد کی شکل میں زمین کو گھیر رکھا ہے۔ زمین کے نیچے سوائے اس کے مرکز کے کچھ نہیں جو زمین کے وسط میں اس کی آخری حد کہلائی جاسکتی ہے۔ اس لیے زمین کے وسط کے لحاظ سے ہمارے لیے دوہی سمتیں بنتی ہیں بالائی اور زیریں یعنی مرکز ثقل سے اوپر یا نیچے مرکز ثقل کی جانب البتہ انسان کے لحاظ سے ہر سمتیں دو سے زیادہ ہوتی ہیں۔

پس زمین کی بالائی سمت وہ ہے جو سطح زمین کے اوپر کی جانب ہے او ر اس بالائی سمت کے بالمقابل زیریں سمت ہے اور وہ ہے سطح زمین کے نیچے کی سمت ۔ زمین کی آخری حد اس کا وسط ہے جو اس کا مرکز ثقل ہے اور اس میں قوت جاذبیت ہے ۔ مزید براں زمین کے گردا گرد فضائیں یا افلاک بھی دائروی ہیں اور ان کا دائروی ہونا قرآن و سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے کیو نکہ عربی زبان میں فلک گولائی کے لیے مستعمل ہے جیسا کہ قرآن مجید کی یہ آیت ہے وکل فی فلک یسبحون سب ایک ایک فلک (اپنے اپنے مدار ) میں تیر رہے ہیں[فلک عربی زبان میں ٹھیک فارسی کے چرخ اور گردوں کے معنی میں بولا جاتا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ فلک کوئی ایسی چیز نہیں جس میں تارے کھونٹیوں کی طرح جڑے ہوئے ہوں اور وہ خود انہیں لیے ہوئے گھوم رہا ہو بلکہ وہ ایک ایسی فضا ہے جس میں ہر کہکشاں اپنے اپنے مدار میں سرگرداں ہے] لفظ فلک کی تفیسر بیان کر تے ہوئے ابن عباس فرماتے ہیں جیسے چرخے کا چکر ہوتا ہے اس طرح عربی روز مرہ میں لڑکی کے جوان ہونے پر کہتے ہیں "تفلک ثدی الجاریہ" علم ہیئت اور ریاضی دان بھی فلک کو اسی معنی میں لیتے ہیں۔

امام ابن تیمیہ صفحہ ٤٦٨پر رقم طرا ز ہیں :زمین کی ابتدائے مشرق سے انتہائے مغرب کے درمیان ١٨٠نصف دائروی درجے ہیں اور ہر پندرہ درجے ایک اوسط گھڑی کی مقدار بنتے ہیں اور ایک اوسط گھڑی کی مقدار کا تعین یوں ہے کہ جو بارہ گھڑیا ں مل کر ایک اوسط رات یا ایک اوسط دن بناتی ہیں یعنی ایک اوسط دن یا رات بارہ گھڑیوں پر مشتمل ہوتا ہے

یہی وجہ ہے کہ مشرق میں بسنے والوں کے لیے سورج بنسبت مغرب میں بسنے والوں کے پہلے غروب ہوگا اور مشرقی خطے میں طلوع آفتاب بھی مغربی خطے سے ازاں بیشتر ہوتا ہے۔

ابتدائے مشرق اور انتہائے مغرب کے درمیان کی مقدار بارہ گھڑیاں یا کچھ زائد ہے جب سورج نصف النہار پر پوری آب وتاب سے چمک رہا ہوتا ہے تو سورج اپنے آگے اور پیچھے ہر دو جانب کو روشن کر دیتا ہے اور زمین کی دونوں جانب مشرق و مغرب میں اجالا ہوتا ہے جبکہ ہر دو جانب ٩٠درجے کی مقدار ہوتی ہے یعنی ٩٠درجے شرقی اور ٩٠درجے غربی روشن ہوتے ہیں کسی جگہ پر سورج کا ایک چکر مجموعی طور بارہ گھڑیوں پر مشتمل ہے چھ گھڑیاںاس جگہ کے مرکز سے مشرق میں گذرتی ہیں اور اتنی گھڑیاں مغرب میں اور یہی مقدار ایک اوسط دن کی ہے یعنی بارہ گھنٹے۔

جہاں تک انسانی آبادی کا تعلق ہے تو جاننا چاہیے کہ زمین کا شمالی نصف حصہ جنوبی حصے کی نسبت زیادہ آباد ہے درآں حالیکہ خط استوا سے شمالی قطب تک اتنے ہی نصف دائرے ہیں جتنے خط استواءسے قطب جنوبی تک اور ان خطوط کی باہمی نسبت یکساں ہے ان نصف دائروں کی قطبین سے متناسب نسبت کی بنا پر خط استواپر فلک کی حرکت پہیے کی مانند دائروی ہے لیکن قطبین پر یہی حرکت چکی کے پاٹ کی طرح اپنے محور کے لحاظ سے ثابت ہے اور زمین کے آبادی والے خطے کی حرکت تلوار کی پیٹی کی مانند ہے

ساٹھ سے کچھ اوپر نصف دائروی درجے زمین کے آباد حصے اور انسانی مسکن ہیں جو خشکی کا تقربیاً ١/٦ سے کچھ زائد علاقہ بنتا ہے۔

قرآن و حدیث صحابہ کرام، تابعین او رمتبع سنت علمائے کرام کے اقوال کی روشنی میں ہم نے ارضیا ت پر ایک اور مقام پر مفصل بحث کی ہے نیز فلک کے دائرہ ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے اس اجماع ہونے کا ذکر کئی علماءکرام نے کیا ہے جیسے امام احمد کے اصحاب کے دوسرے طبقہ کے ایک ممتا ز عالم ابو الحسن بن المنادی ہیں جنکی چار سو کے لگ بھگ تصنیفات ہیں ان کے علاوہ ابو محمد بن حزم اور ابوالفرح بن الجوزی نے بھی اس بات پر اجماع نقل کیا ہے

اوپر جو بحث گذری ہے اسے سامنے رکھ کر تم سمجھ سکتے ہو کہ جب مشرقی خطے کے پہلے ملک میں غروب آفتاب ہورہا ہوگا مغربی خطے کے آخری ملک میں وہ وقت طلوع آفتاب کا ہوگا۔

زمین پر سورج کی روشنی اس تناسب سے ہوتی ہے جس تناسب سے وہ سورج کے سامنے ہوتی ہے سورج اپنے آگے اور پیچھے زمین کے دونوں خطوں کو٩٠درجے کی نسبت سے روشن کرتاہے اور یہی وقت روشن ترین وقت ہوتا ہے یہی نسبت ہر اس ملک کی ہوتی ہے جہا ں طلوع آفتاب ہورہا ہوتا ہے جس طرح علم ریاضی سے درجات میں فرق کیا جاتا ہے اسی طرح گھڑیاں مختلف اوقات کے لحاظ سے ریاضی کے قاعدے پر پوری اترتی ہیں یعنی ہر علاقے میں پندرہ درجے کی مقدار ایک گھڑی کی ہوتی ہے۔

مغربی خطے میں مشرقی خطے کے برعکس جب زمین اور مغرب کی جانب ٩٠درجے ہوں وہ وقت مغرب میں غروب آفتاب کا ہے جس طرح مطلع (پورب) اور زمین میں جب ٩٠درجے ہوں وہ مشرق میں طلوع آفتاب کا وقت ہوتا ہے جب سورج عین درمیان میں ہمارے سروں پر چمک رہا ہوتا ہے اور ابھی زوال آفتاب نہیں ہوا ہوتا جوظہر کا وقت ہے اس وقت سورج مشرق اور مغرب کے لحاظ سے ٩٠درجے پر ہوتا ہے

شیخ الاسلام جلد ٦صفحہ ٥٤٨پر فرماتے ہیں :نصف فلک١٨٠درجے ہے ١٢٠درجے فلک کا١/٣ ٩٠ درجے فلک کا١/٤اور٦٠درجے فلک کا١/٦کے مساوی ہیں اور اسی تناسب سے مزید درجہ بندی ہوسکتی ہے

صفحہ ٥٦٠پر لکھتے ہیں:ذی روح افراد کے لحاظ سے سمتوں کی تعداد چھ بنتی ہے لیکن افلاک کے لحاظ سے صرف دوناقابل تغیر سمتیں یعنی مرکزثقل کے اردگر د بالائی سمت اور مرکز ثقل زیریں سمت ہے جبکہ کسی فرد کے آگے اگلی سمت اور اسکی پشت پر پچھلی سمت ، ایک جانب دائیں اور اس کے مقابل بائیں سمت، سرکے اوپر بالائی سمت اور پاؤں کی طرف زیریں سمت مل کر چھ سمتیں کہلاتی ہیں پور ی سطح زمین اور اس کا اوپر دراصل بالائی سمت ہے ۔ زمین پر بسنے والا کوئی بھی شخص زمین کے دوسری جانب کسی اور شخص کے نیچے نہیں ہوتا ۔ افلاک مرکز کے لحاظ سے بالائی جانب ہے ا س لیے نہ کوئی شخص فلک کے دائیں پہلو ہوتا ہے اور نہ بائیں پہلو ہوتا ہے


اس طرح قطب جنوبی کو قطب شمالی زیریں جانب نہیں کہا جاسکتا اور نہ اس کے برعکس۔

اسی جلد میں امام صاحب خطوط عرض بلد و طول بلد نکالنے کا کلیہ بھی بیان کرتے ہیں جس کی تفصیل مذکورہ جلد میں دیکھی جاسکتی ہے آگے چل کر وہ لکھتے ہیں اگر زمین کے بطن میں ہمارے پاؤں کی سمت سرنگ کھودی جائے اور سرنگ میں ایک پتھر چھوڑا جائے تو وہ مرکز ثقل پر پہنچ کر ٹھہر جائے گا۔ اسی طرح اگر زمین کی دوسری جانب اسی طرح کی سرنگ میں پتھر پھینکا جائے تو دونوں مرکز ثقل پر پہنچ کر ٹھہر جائیں گے او ر ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے نیچے نہیں ہوگا بلکہ دونوں پتھر بدستور مرکز سے اوپر فلک سے نیچے ہوں گے ۔ اب اگر پتھر کی بجائے دو انسان فرض کرلیے جائیں تو دونوں کے پیر مرکز ثقل کی جانب ہوں گے نہ تو کوئی کسی کے اوپر ہوگا اور نہ نیچے دونوں ہی مرکز ثقل سے اوپر اور فلک کے نیچے ہوں گے_

امام ابن تیمیہ کے مدرسے سے ایک پیریڈ پڑھنے کے بعد میں اس بات پر حیران و ششدر ہوں کہ ماہر ین نصاب درسی کتابیں تشکیل دیتے ہوئے دیانت داری کیوں نہیں برتتے ۔ کیا ان سے یہ حقائق اوجھل رہے ہوں گے ہر سائنسی کلیے اور ایجاد کے پیچھے انہیں یورپ کے کافرو ں کا چہر ہ ہی نظر آتا ہے

کیا اسے محض تاریخ اسلامی سے لا علمی برتنے کا الزام دیا جاسکتا ہے؟ بالفرض یہ تسلیم بھی کرلیا جائے تو کیا ماہرین نصاب کے لیے لا علم رہنا معقول بہانہ ہوسکتا ہے؟۔ کہیں لاشعور میں چھپا یہ احساس کمتری تو نہیں ؟ کیا انہیں حقائق کو توڑ مروڑ کر بیان کرنے کا بھاری معاوضہ دیا جاتا ہے

کیا امت محمدیہ او ر اسکے علمی سرمائے کے خلاف انکے دلوں میں بغض او ر عناد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے؟

کیا یہ ماہرین تعلیم یہودی منصوبوں پر کاربند فری میسن کے منصوبوں پر عملدرآمد تو نہیں کرتے؟ ۔

کیا یہ حضرات طوطے کی طرح رٹے رٹائے فقرے ہی دہراتے رہتے ہیں اوراپنی عقل و دانش سے آگاہ نہیں ہیں؟ مجھے یہ کہتے ہوئے انتہائی اذیت ہورہی ہے کہ یہ ساری باتیں ان حضرات پر صادق آتی ہیں

نبی آخر الزماں کی بعثت ہویا صلیبی جنگیں صنعتی انقلاب ہو یا جزیرہ العرب میں امریکی فوجوں کا پڑاؤ، مسلمانوں کے خلا ف یہود و نصاریٰ کا بغض و عناد اپنے اظہار کے لیے کوئی نہ کوئی ذریعہ ڈھونڈ لیتا ہے رواں صدی میں یہود و نصاریٰ نے جہاں مسلمانوں کی بیخ کنی کے لیے فوجی و سیاسی ذرائع استعمال کیے وہاں نفسیاتی اور ثقافتی جنگ سے بھی ہمہ وقت مسلح رہے ہیں یورپ کی تاریخ علمی خیانت ، دروغ گوئی اور سرقہ سے عبارت ہے اور ہر ایجاد و انکشاف اورسائنسی کلیات کے پیچھے انہیں تاریخ قدیم میں یونا ن کے فلاسفر اور تاریخ جدید میں یورپ کے سائنس دان دکھائی دیتے ہیں درمیان سے مسلمان اس "عقل و دانش "کے قافلہ سے یوں صفائی کے ساتھ نکال دیئے جاتے ہیں جےسے مکھن سے بال۔دشمن تو ایسی چالیں چلتا ہے افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمانوں کے نام نہاد دانش ور بھی یہی راگ الاپتے ہیں

تصور کیجئے جس امت کے نبی نے پوری دنیا کو ربانی پیغام پہنچانا ہو اس کی امت طبعی جغرافیے سے نابلد ہو او ر جن کا دین آفاقی ہو انہیں نظام شمسی تک سے آگہی نہ ہو جہاں یورپ کے لیے دریافتیں اگر مادی ترقی کی حرص لیے ہوئے ہیں وہاں مسلمانو ں کے لیے یہ عقیدے اور ایمان کا مسئلہ ہے مفسرین ہو ں یا محدثین ، فقہاءہوں یا مجتہدین، شریعت کی تعبیراور ابلاغ کے لیے ان علوم سے بہرہ مند ہونا فرض ہے مجموعی طور پر ان علوم کا حصول پوری امت پر فرض کفایہ ہے یہ امر محال ہے کہ لفظ ’فلک‘ یا’ بروج‘ جیسے الفاظ عربوں کے لیے معروف نہ ہوں اور ان کی توجیہہ کے لیے بیسویں اور اکیسویں صدی کے انکشافات کی ضرورت ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کبھی بھی انسانی علوم اور دریافتوں سے غافل نہیں رہے ہیں کیونکہ الدنیامزرعہ الاخرہ ہے نہ ہی کبھی دینی اور دنیاوی تعلیم میں دوئی پائی گئی ہے ، رمضان ، عیدیں ، حرمت والے مہینے ، حج اور قربانی ایسے مسائل اس بات کے متقاضی ہیں کہ چاند کے گھنٹے بڑھنے پر گہری نظر رکھی جائے۔ نماز ، سورج گرہن، یک مثل ، دو مثل سایہ ، زوال ، چاشت، صبح صادق ، صبح کاذب ، غروب آفتاب ، شفق ایسے امور ہیں جنہیں جانے بغیر اسلام کا ستون نماز ہی ادا نہیں ہوسکتی۔ قبلے کا تعین ، مسجد کی جہت، قسطنطنیہ یا ویٹی کن کی فتح، عزوہ ہند کی بشارت، عیسٰی کامقام نزول ، قوم عاد ، دیار ثمود، قوم حجر وغیرہ سب عقیدے کے بنیادی امور سے تعلق رکھتے ہیں لیکن مسلمانوں نے فلکیات اور ارضیات جیسے موضوعات پر اتنی محنت کی جتنی شریعت کے فہم کے لیے ضروری تھی یورپ کی طرح مادہ کبھی ان کا رب نہیں بنا جو تجربہ گاہ میں تیار ہونے والے کسی بھی نئے مرکب پر مکھیوں کی طرح بھنبھنانے لگتے ہیں کہ کیا یہ مرکب دوا بن کر پیسہ بنانے کی مشین بن سکتا ہے دوا نہیں تو کھاد ہی بن جائے کھاد نہیں تو خواہ نشہ ہی بن کر بک جائے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان ان علوم میں موٹی اور پیچیدہ اصطلاحات سے گریز کرتے ہیں جنہوں نے ہر علم کو طبقہ خواص کے لیے مخصوص کردیا ہے اور عام آدمی الجھ کر رہ گیا ہے

ً محولہ بالا اقتباسات میں آپ نے مسلمانوں کی آسان فہمی ملاحظہ فرمالی ہوگی کشش ثقل کے اصول کو کس سادہ انداز سے پتھر کی اشیاءسے تشبیہ دے کر سمجھایا ہے اور سب سے بڑھ کر جس احساس برتری سے ارضیات اور علم جغرافیہ کو شریعت اور عقیدے کا موضوع بنایا ہے و ہ اﷲ وحد ہ لاشریک پر ایمان لانے والے مسلمان او ر یورپ سے درآمد معلومات پر اترانے والے ناٹے دانش وروں کے فرق کو واضح کردیتی ہے یہی وجہ ہے کہ شیخ الاسلام ا س پر بار ہا اصرار کرتے ہیں کہ فلک کے دائرہ ہونے پر قرآن و سنت بھی دلالت کرتے ہیں۔ او ر اجماع امت بھی اور یہ تینوں بالا تفاق شریعت کے مصادر ہیں

مسلمانوں کی اپنی میراث بانجھ نہیں ہے کسی کی آنکھوں سے بینائی سلب ہوجائے تو اس کا کیا علاج ۔
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 380
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-04-11), فیصل ناصر (05-05-12), ننھا بچہ (07-04-11), محمدخلیل (07-04-11), محمدعدنان (08-04-11), مرزا عامر (08-04-11), مسٹر شیف (08-04-11), Zullu230 (07-04-11), آبی ٹوکول (07-04-11), حیدر (07-04-11), راجہ اکرام (07-04-11), سحر (07-04-11), طارق اقبال (09-04-11), عبدالقدوس (04-05-12), عبداللہ حیدر (07-04-11)
پرانا 07-04-11, 03:55 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دین کو سائنس کی کسوٹی پر پرکھنا ہی غلط ہے۔ سائنس آج کُچھ کہتی ہے کل کُچھ۔ جبکہ دین آفاقی اصولوں پر قائم ہوتے ہیں۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-04-11), فیصل ناصر (05-05-12), کنعان (07-04-11), ھارون اعظم (05-05-12), منتظمین (07-04-11), محمدعدنان (08-04-11), مرزا عامر (08-04-11), مسٹر شیف (08-04-11), Zullu230 (07-04-11), آبی ٹوکول (07-04-11), بلال اویسی (09-04-11), سحر (07-04-11), عبداللہ آدم (07-04-11), عبداللہ حیدر (07-04-11)
پرانا 07-04-11, 06:27 PM   #3
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
دین کو سائنس کی کسوٹی پر پرکھنا ہی غلط ہے۔ سائنس آج کُچھ کہتی ہے کل کُچھ۔ جبکہ دین آفاقی اصولوں پر قائم ہوتے ہیں۔
جی ہان بالکل درست فرمایا دین کو سائنس کی کسوٹی پر نہیں بلکہ سائنس کو دین کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ دین کہ تمام اصول آفاقی ہیں سو یہی وجہ ترجیح بھی ہے باقی یہاں بات دین اور سائنس کہ براہ راست تقابل کی نہیں ہورہی بلکہ ہنود و یہود سے متاثرہ اس ذہنیت کی ہورہی ہے کہ جسکو عالم اسلام میں سائنسی علوم سے بہرہ ور کوئی ملتا ہی نہیں۔
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-04-11), محمدعدنان (08-04-11), مرزا عامر (08-04-11), Zullu230 (07-04-11), بلال اویسی (09-04-11), طارق اقبال (09-04-11), عبداللہ آدم (08-04-11), عبداللہ حیدر (07-04-11)
پرانا 07-04-11, 06:31 PM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,108
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عبداللہ آدم
بہت بہت شکریہ شئیر کرنے کا۔۔
کیا مجھے کچھ حضرت امام رضا ّ کے بارے میں کچھ تفصیل دے سکتے ہیں۔۔ یا پھر ہمارے جو بارہ امام ہیں ان کے بارے میں یعنی کے سب کے بارے میں ہمیں‌اگاہ کر سکتے ہیں؟
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-04-11), عبداللہ آدم (07-04-11)
پرانا 07-04-11, 08:46 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,381
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی میں آپ سے دو سو فیصد اتفاق کرتا ہوں‌ یہ ہمارے ادھورے دانشور ہی ہیں جن کو خود نہیں پتہ کہ اسلام میں سائنس کا کیا مقام ہے بھائی آبی ٹوکول بھائی اور حیدر بھائی کی بات سے میں اتفاق نہیں‌کرتا کہ سائنس کے اصول بدلتے رہتے ہیں جو اصول مسلمان سائنس دانوں نے ہزار سال پہلے متعین کئے تھے وہ آج تک اسی طرح ہیں بلکہ اہل مغرب اس بات پر حیران ہیں کہ ان کو یہ اصول اتنے سہی طریق پر معلوم کیسے ہوئے ان کے پاس آخر ایسا کون سا علم تھا جس کی بنیاد پر انہوں نے ایسے علوم دریافت کئے اگر انسان کی دریافت کی بنیاد للہیت پر ہو تو یہ علوم لافانی بن جاتے ہیں وگر نہ روز ان میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے کیوں کہ یہ علوم نہیں صرف تکے ہوتے ہیں لگ گئے تو واہ واہ ورنہ ختم ہمارے پاس علوم کے وہ خزانے ہیں جن کا اہل مغرب کے پاس عشر عشیر بھی نہیں ہے کبھی موقع ملا تو انشا اللہ اس پر ایک تھریڈ لکھوں گا
M A Ansari آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (08-04-11), آبی ٹوکول (07-04-11), عبداللہ آدم (08-04-11)
پرانا 07-04-11, 10:21 PM   #6
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس مضمون میں اسلام کو سائنس پر پرکھنے کی نہیں بلکہ یہ بتانے کی کچھ حد تک کوشش کی گئی ہے کہ ہم اتنے بھی بے مایہ نہیں ہیں جتنے کہ باور کروائے جاتے ہیں!!!

ضرورت کچھ ہے تو ماضی کو دہرانے کی..............
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (08-04-11), Zullu230 (07-04-11), طارق اقبال (09-04-11)
پرانا 07-04-11, 11:11 PM   #7
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

زیادہ مناسب کچھ اس طرح ہوتا، ضرورت ہے ماضی کو دہرانے کی، حال سے لاپروائی کی اور مستقبل سے آنکھیں بند کرنے کی
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (08-04-11), Zullu230 (07-04-11), حیدر (08-04-11)
پرانا 07-04-11, 11:59 PM   #8
Senior Member

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,229
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہم نے اپنے اسلاف کی شاندار تاریخ کو بھلا دیا اور مغرب کی پیروی کا اپنا شعار بنا لیا اُن چیزوں میں جن کا ہماری ثقادت، معاشرت اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny.
Zullu230 آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (08-04-11), حیدر (08-04-11), طارق اقبال (09-04-11), عبداللہ آدم (08-04-11)
پرانا 08-04-11, 10:27 AM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماضی میں کچھ لوگوں نے صحیح کام کیا
اور کچھ لوگوں نے غلط کام کیا


صحیح لوگوں سے سیکھیں
اور غلط لوگوں سے بھی سیکھیں ( غلط کی پہچان )
اور پھر اپنے آپ کو دیکھیں ۔

امام ابن تیمیہ جو کر کے گزر گئے کیا ان کو ہم نے حال پر اپلائی کیا ۔
کیا اپنے موجودہ حال کی بنیاد پر ہم اپنے اچھے مستقبل کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔
یا صرف اسلاف گزشتہ کے کارنامے سے ہی خود کو بہلاتے رہیں گے ۔

ہمارے مبلغین حضرات دین کے لیے تھوڑا سا ٹائم مانگتے ہيں اور زندگی کا پورا ٹائم خراب کر دیتے ہيں ۔
اور دروس کے ذریعے مکمل برین وشنگ کردی جاتی ہے
سائنسی تحقیق کے متلاشی اسٹوڈنٹ کو چلّے کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نہ تو پورا ملا بن پاتا ہے
اور نہ سائنس دان ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (08-04-11), حیدر (08-04-11)
پرانا 08-04-11, 12:38 PM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نہیں ۔ اب آہستہ آہستہ تبدیلی آ رہی ہے۔ اب کرکٹر کو کرکٹر ہی رہنے دیا جاتا ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (08-04-11), عبداللہ آدم (08-04-11)
پرانا 08-04-11, 03:14 PM   #11
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
ماضی میں کچھ لوگوں نے صحیح کام کیا
اور کچھ لوگوں نے غلط کام کیا


صحیح لوگوں سے سیکھیں
اور غلط لوگوں سے بھی سیکھیں ( غلط کی پہچان )
اور پھر اپنے آپ کو دیکھیں ۔

امام ابن تیمیہ جو کر کے گزر گئے کیا ان کو ہم نے حال پر اپلائی کیا ۔
کیا اپنے موجودہ حال کی بنیاد پر ہم اپنے اچھے مستقبل کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔
یا صرف اسلاف گزشتہ کے کارنامے سے ہی خود کو بہلاتے رہیں گے ۔

ہمارے مبلغین حضرات دین کے لیے تھوڑا سا ٹائم مانگتے ہيں اور زندگی کا پورا ٹائم خراب کر دیتے ہيں ۔
اور دروس کے ذریعے مکمل برین وشنگ کردی جاتی ہے
سائنسی تحقیق کے متلاشی اسٹوڈنٹ کو چلّے کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نہ تو پورا ملا بن پاتا ہے
اور نہ سائنس دان ۔
السلام علیکم،
سائینس سٹوڈنٹ‌سے ملا بننے والوں کی تعداد آٹے میں‌نمک کے برابر ہے۔ لمحہ فکریہ دراصل یہ ہے کہ دوسرے لاکھوں سپوت بھی کوئی کارنامہ انجام دینے سے قاصر رہے ہیں حالانکہ ان پر اربوں‌روپے خرچ کیے جاتے ہیں اور ان کی اکثریت ملا کے سائے سے بھی دور پرورش پاتی ہے۔ پس ہر بات ملا پر ڈالنے کی بجائے حقیقی وجوہات کا سراغ‌لگانا چاہیے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (05-05-12), نورالدین (08-04-11), محمدعدنان (08-04-11), طارق اقبال (09-04-11), عبداللہ آدم (08-04-11)
پرانا 08-04-11, 03:31 PM   #12
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,726
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم،
سائینس سٹوڈنٹ ‌سے ملا بننے والوں کی تعداد آٹے میں ‌نمک کے برابر ہے۔
السلام علیکم!

محترم سائنس کا سٹوڈنٹ آپ کس کو کہتے ہیں جسے آپ نمک کے برابر سمجھ بیٹھے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (08-04-11), حیدر (09-04-11)
پرانا 08-04-11, 11:24 PM   #13
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جو اپنا "لچ" صرف کیمیا، الجروالمقابلہ اور اسی طرح طبیعات میں ہی "تلنے" کی کوشش کرے وہ سائنس کا سٹوڈنٹ ہوتا ہے!!!

نوت:: لچ اور تلنے کے معنی پی ایم کر کے معلوم کیے جا سکتے ہیں.
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (09-04-11), حیدر (09-04-11)
پرانا 09-04-11, 05:13 AM   #14
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,726
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

-------------------
-------------------

Last edited by کنعان; 09-04-11 at 06:11 AM.
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (09-04-11)
جواب

Tags
فری, فرض, کتابوں, گھڑیاں, قرآن, لڑکی, نماز, نظر, میراث, مجید, مسائل, مسجد, آبادی, آدمی, ایمان, الزام, انسان, اسلامی, حدیث, دریافت, رمضان, سائنس, عقل, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم! sahj مذہبی مسائل اور ان کا حل 44 09-03-11 01:22 AM
عورت - انجینئر کی نظر میں - خواتین سے معذرت کے ساتھ طاھر دلچسپ اور عجیب 8 10-09-09 02:49 AM
اگر دنیا خواتین کے ہاتھ میں ہو ابو عمار دلچسپ اور عجیب 73 06-09-09 01:04 AM
پاکستان کے فورم ساتھ کچھ تیکنیکی مسائل عرفان حیدر تجاویز اور شکایات 27 01-05-08 09:37 AM
::: تھائی لینڈ : باغیوں کے ساتھ جھڑپ میں تین فوجی ہلاک ::: ابو کاشان خبریں 0 26-12-07 03:56 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:50 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger