| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 839
|
||||
|
|
#2 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مراسلات: 20
کمائي: 521
شکریہ: 0
9 مراسلہ میں 14 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ نے اجھا نقطہ اٹھایا ہے۔ اب یہ ہمیں سوچنا ہے اگر ایسا ہو تو ہمیں ہر برے عمل پر خاموش رہنا چاہیے صرف یہ سمجھ کر کہ یہ تو اللہ کی مرضی تھی/ہے۔ میری جو مزہب کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات ہیں اس حساب سے ہمیں ہر برائی کو عملی طور پر روکنا چاہیے اور وہ بھی نہیں ممکن ہے تو کم از کم اس برائی کو دل میں برا سمجھنا چاہیے۔
اور ویسے ہم عام طور پر اللّھ سے دعا مانگتے ہیں کہ "ہمیں سیدھے راستے پر چلائے" تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ نہ کچھ انسان کے بس میں ضرور ہے حہاں پر برائی اور اچھائی میں تمیز کی جا سکتی ہے۔ ّ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے Bechain_Rooh کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (05-03-11), حیدر (05-03-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,506
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دراصل اللہ بندے کو لے کے بھی آزماتا ھے اور دے کے بھی آزماتا ھے جب اللہ دے کہ آزما رہا ھوتا ھے تو وہ آپکی شکر گزاری آزما رہا ھوتا اس حالت میں مخلوق اللہ کی ناشکری کرتی جاتی ھے کیونکہ اسے اللہ دیتا جاتا ھے اور ایک وقت آتا ھے اللہ سب کچھ لے لیتا ھے پھر آپ کے پاس کوئی اختیار نہیں رھتا تب لوگ یہ بات کہنا شروع کر دیتے ھیں سب کچھ اللہ کی مرضی سے ھوتا ھے آپ اللہ کی نعمتوں کو معاذ اللہ ٹھکراتے رھیں اور جب اللہ آپ کو لے کے آزمانے لگے تو بجائے اپنے اعمال پر نظر ثانی کرنے کہ قسمت اور تقد یر کے اوپر آخر میں بات ڈال دی جاتی ھے۔۔۔
اللہ ھمیں بہت شکر کرنے والا، صبر کرنے والا اور توبہ کرنے والا بنائے آمین۔۔۔ |
|
|
|
| shafirajput کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (05-03-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ،
اللہ تعالی نے واضح طور پر فرمادیا ہے کہ 53:39 وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى اور یہ کہ کچھ نہیں انسان کے لئے مگر وہ جس کی اس نے کوشش کی۔ اللہ تعالی نے انسان کو کوئی پہلے سے طے شدہ پروگرام نہیںدیا۔ آپ جس کچھ کے لئے کوشش کرتے ہیں وہی آپ کا مقدر ہے۔ خودکشی اللہ تعالی کا عمل نہیں۔ بندے کا عمل اور کوشش ہے۔ اسی طرح ہر اچھا اور برا کام جو بندہ کرتا ہے وہ بندے کا اپنا عمل ہے۔ نا کہ پہلے سے طے شدہ اللہ تعالی کا عمل؟؟؟ اللہ تعالی نے بندے کو اپنے اعمال پر مکمل عبور دیا ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کی قوت دی ہے۔ دیکھئے کہ بھلائی اللہ کی طرف سے پہنچتی ہے اور برائی آپ کے اپنے نفس سے آپ کو پہنچتی ہے۔ 4:79 مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولاً وَكَفَى بِاللّهِ شَهِيدًا جو پہنچتی ہے تم کو کسی قسم کی بھلائی سو وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور جو پہنچتی ہے تم کو کسی قسم کی بُرائی سو تمہارے نفس کی طرف سے ہے اور بھیجا ہے ہم نے تم کو (اے محمد) لوگوں کے لیے رسول بنا کر اور کافی ہے اللہ (اس بات پر) گواہ۔ تو پھر ایسا کیوں ہے کہ سب کہتے ہیںکہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے؟؟؟؟ اس کی وجہ فرمان الہی قرآن نہیں ہے۔ بلکہ سنی سنائی کہانیاں اور فلسفے ہیں۔ اگر کوئی مر جاتا ہے تو کیا یہ اللہ کی طرف سے ہے؟ درست۔۔۔۔ فطری موت اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ لیکن اگر موت میںبندے کا ہاتھ ہو جیسا کہ قتل یا خود کشی تو موت کی یہ وجہ اللہ تعالی نے ایک جرم اور گناہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی نے ایک نظام فطرت بنا دیا ہے۔ اس نظام فطرت کو ڈسٹرب کرنا یعنی ایک انسان کی زندگی ختم کرنا چاہے وہ قتل ہو یا خود کشی، اللہ تعالی کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ کیا انسان کے باقی اعمال اللہ تعالی کی مرضی سے ہوتے ہیں؟ اللہ تعالی نے اصول فطرت اور قانون فطرت بنا کر ، انسان کو علم دے کر پیدا کیا کہ کیا برا ہے اور کیا بھلا ہے۔ انسان کو یہ طے کرنے کا موقع بھی دیا کہ وہ کیا کرتا ہے۔ یہ آزادی ہی انسان کا امتحان ہے۔ لہذا اپنی مرضی اور نفس سے گناہ کرنا اور پھر یہ کہنا کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے درست نہیں۔ آپ اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے: 6:164 قُلْ أَغَيْرَ اللّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَلاَ تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَيْهَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ فرما دیجئے: کیا میں اﷲ کے سوا کوئی دوسرا رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر شے کا پروردگار ہے، اور ہر شخص جو بھی (گناہ) کرتا ہے (اس کا وبال) اسی پر ہوتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں ان (باتوں کی حقیقت) سے آگاہ فرما دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے امید ہے کہ اس سے بہت سارے سوالات کا جواب مل گیا ہوگا۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 05-03-11 at 03:23 PM. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (05-03-11), فیصل ناصر (06-03-11), کنعان (06-03-11), گلاب خان (02-04-11), مرزا عامر (05-03-11), ام حازم (09-03-11), ارشد کمبوہ (17-03-11), حیدر (05-03-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,506
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ خیر
جی مجھے جوابات قرآن سے ہی سمجھ آگئے تھے الحمداللہ میں بس لوگوں کو سمجھا نہیں پارہی یہ بات۔۔۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے shafirajput کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (05-03-11), حیدر (05-03-11) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مسئلہ گھوم پھر کر "مسئلہ تقدیر" کی طرف آ جائے گا۔ جس سے بات کرنے سے میں ذرا احتراض کرتا ہوں۔ کیونکہ میری کوئی ریسرچ نہیں ہے اس بارے میں۔
تاہم اس بارے میں اپنا خیال ایک سادہ سے انداز میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ انسان اختیارات اور بے اختیاری کا ایک حسین امتزاج ہے۔ کُچھ معاملات ایسے ہیں جو انسان کے لیے لازم کر دئیے گئے ہیں اور کسی طور ان سے نہیں ہٹا جا سکتا ۔ مثلاً موت۔ کُچھ معاملات ایسے ہیں جو انسان کے لیے لازم تو کر دئیے گئے ہیں لیکن انکا درجہ(لیول )اور اور انکا وقوع ہونا آپشنل کر دیا گیا ہے۔ مثلاً رزق، بیماری معاشرتی تعلقات وغیرہ۔ ان دونوں قسم کے معاملات تک پہنچنے کا طریقہ ایک تو لکھ دیا گیا ہے اور دوسرا انسان کے اختیار میں دے دیا گیا ہے۔ یعنی انسان کے سامنے ایک سے زائد آپشن آ جاتے ہیں اور اسکی مرضی ہے کہ وہ جس راہ کو بھی اختیار کر لے۔ پس اگر اُس نے جو راہ چُنی ہے وہ اللہ کی ہدایت یعنی اللہ کے احکامات کے مطابق کی ہے (یعنی اُس نے اپنی مرضی اور خواہش کو اللہ کی مرضی اور خواہش پر چھوڑ دیا ہے) تو اللہ کی مرضی لاگو ہو جاتی ہے ۔ بصورت دیگر ہماری مرضی لاگو ہو جاتی ہے اور ہم اپنے اعمال کے جواب دہ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً خود کشی کا معاملہ لے لیں۔ موت کا وقت لکھ دیا گیا ہے۔ انسان کے سامنے آپشن آ چُکے ہیں کہ یا تو وہ زہر کھا کر موت تک پہنچھ جائے یا پھر اللہ کی مرضی پر راضی ہو جائے۔ پس اگر وہ اپنی مرضی کرتا ہے تو گناہ گار ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ اپنی مرضی نہ بھی کرتا تو بھی ممکنہ طور پر یہی نتیجہ ہی نکلنا تھا۔ یعنی موت تک پہنچنا۔ مثلاً رزق کا معاملہ لے لیں۔ اللہ نے رزق انسان کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ اور جو انسان کو ملنا ہے وہ مل کر رہنا ہے۔ اب یہ انسان کی مرضی ہے کہ وہ چوری کر کے یہ رزق حاصل کرتا ہے اور اللہ کا معتوب ٹھہرتا ہے یا پھر وہ محنت مزدوری کر کے یہ رزق کماتا ہے اور بالاخر اللہ کا محبوب بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم انسانوں کے سامنے ہر وقت فیصلے کی گھڑی آتی رہتی ہے اور مختلف چوائسز آتی ہیں ۔ اللہ نے ہر انسان کے اندر ضمیر کی طاقت رکھ دی ہے جو اُسکو بتاتی رہتی ہے کہ کیا غلط ہے اور کیا ٹھیک۔ پس جو انسان حق کو تسلیم کر لیتا ہے وہ اپنی مرضی اور خواہش کو اللہ کی مرضی اور خواہش کے تابع کر دیتا ہے اور بعینہ وہی حاصل کرتا ہے جو بصورت دیگر بھی اسکو ملنا ہی تھا ۔لیکن اللہ کا معتوب بندہ بن کر۔ واللہ اعلم: میری رائے غلط بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ "محض رائے " ہے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,506
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ خیر۔۔۔
وہی بات جن چیزوں پہ آپ بااختیار ھیں اپنی مرضی سے فیصلہ کرنا اور پھر جب غلط فیصلے جو کہ انسانی خواھش کی وجہ سے ھو جاتے ھیں۔۔۔اسکے بعد وقت کا گزر جانا اور پھر وہ چیز کا حاصل نہ ھونا اسے یہ کہہ کہ نہیں تسلی کرنی چاہیے کہ اللہ کی مرضی تھی۔۔۔آپ نے اپنے فیصلہ کے اختیار سے گنوایا جو کچھ بھی گنوایا۔۔۔ تقدیر کے حوالے سے مجھے ڈاکٹر غللام مرتضٰی کی وضاحت بہت خو بصورت لگتی ھے YouTube - What is Fate? Dr Ghulam Murtaza (English Subtitled) اللہ ھمیں دین کی سمجھ عطا کرے آمین |
|
|
|
| shafirajput کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (08-03-11) |
|
|
#8 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,726
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
حیدر بھائی نے جو اپنی رائے سے کچھ باتیں پیش کی ہیں اس میں انہوں نے کچھ حصوں میں تقسیم کیا ھے جو کسی حد تک سمجھ میں آتی ہیں۔ فاروق بھائی نے بھی جو قرآن مجید کی آیات پیش کی ہیں جزاک اللہ مگر جو آپ نے اپنی تشریح پیش کی ھے اس کا وہ حصہ جو ریڈ کوٹ کیا ھے موت پر شائد میں سمجھ نہیں پا رہا کہ آپ اس میں کیا سمجھانا چاہ رہے ہیں، اس پر میں ایک آیت پیش کرتا ہوں۔ اس سے شائد کچھ اندازہ ہو جائے گا بہت عرصہ پہلے مجھے ایسا ہی ایک سوال بہت تنگ کرتا تھا اور اس کا جواب حاصل کرنے کے لئے میں نے الامارات میں بہت سے عرب علماء سے اسے جاننے کی کوشش کی مگر کسی سے بھی جواب نہیں مل پایا پھر ان دنوں مصر سے کچھ نئے لڑکے آئے تھے کیبل جوائنٹر ٹریڈ میں ان میں سے ایک صاحب علم سے بھی میں نے یہ سوال کیا کہ زندگی اور موت اللہ سبحان تعالی کے بس میں ھے مگر کچھ جادوگر کچھ پیسوں کی عوض اپنے جادو سے لوگوں کا تقصان پہنچاتے ہیں اور اس میں سب سے بڑا جادو یہ ھے کہ وہ جادو سے کسی کی جان بھی لے لیتے ہیں تو یہاں پر موت جادو سے ہوئی ............. جبکہ موت کا عمل خالص اللہ کے بس میں ھے۔ تو اس مصری نے مجھے یہ آیت پڑھائی اور پھر اس سے ہر بات سمجھائی۔ خیال رہے کہ جادو میں موت سب سے اوپر کا عمل ھے اور اس سے نیچے کے تمام جادوئی عمل آ جاتے ہیں۔ وَاتَّبَعُواْ مَا تَتْلُواْ الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولاَ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلاَ تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلاَ يَنفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُواْ لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاَقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْاْ بِهِ أَنفُسَهُمْ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ اور وہ (یہود تو) اس چیز (یعنی جادو) کے پیچھے (بھی) لگ گئے تھے جو سلیمان (علیہ السلام) کے عہدِ حکومت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے حالانکہ سلیمان (علیہ السلام) نے (کوئی) کفر نہیں کیا بلکہ کفر تو شیطانوں نے کیا جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اس (جادو کے علم) کے پیچھے (بھی) لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت (نامی) دو فرشتوں پر اتارا گیا تھا، وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے تھے یہاں تک کہ کہہ دیتے کہ ہم تو محض آزمائش (کے لئے) ہیں سو تم (اس پر اعتقاد رکھ کر) کافر نہ بنو، اس کے باوجود وہ (یہودی) ان دونوں سے ایسا (منتر) سیکھتے تھے جس کے ذریعے شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے، حالانکہ وہ اس کے ذریعے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اللہ ہی کے حکم سے اور یہ لوگ وہی چیزیں سیکھتے ہیں جو ان کے لئے ضرر رساں ہیں اور انہیں نفع نہیں پہنچاتیں اور انہیں (یہ بھی) یقینا معلوم تھا کہ جو کوئی اس (کفر یا جادو ٹونے) کا خریدار بنا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (ہوگا)، اور وہ بہت ہی بری چیز ہے جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانوں (کی حقیقی بہتری یعنی اُخروی فلاح) کو بیچ ڈالا، کاش! وہ اس (سودے کی حقیقت) کو جانتے سورت البقرۃ 2 آیت 102 تو جادو میں بھی اثر کا ہونا نہ ہونا اللہ سبحان تعالی کے اختیار میں ھے موت کا آنا چاہے گولی سے ہو، خود کشی سے ہو، حادثاتی و اچانک ہو، کسی کے جادو سے ہو موت کا وقوع ہونا اللہ سبحان تعالی کی طرف سے ہی ھے۔ حالانکہ وہ اس کے ذریعے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اللہ ہی کے حکم سے (قرآن) والسلام
__________________
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
الحمد للہ ، بہن جی کہ فاروق سرور صاحب کے جواب سے آپ کو بات سمجھ میں آ گٕئی ، ان کے مراسلے میں مقدر کی تحدید کے علاوہ تقریبا باقی باتیں آپ کے سوال کے جواب میں درست ہیں ، اب اگر آپ ان کی مزید وضاحت نہیں کر سکتیں تو اس کے میں کچھ مدد کرنے کی کوشش کرتا ہوں ، آپ کے سوال کا جواب کچھ اور انداز میں دینے کی کوشش کرتا ہوں کہ شاید اس طرح آپ کو مزید بہتر طور پر سمجھ کر دوسروں کو سمجھانے کا طریقہ میسر ہو جإئے ، ان شاء اللہ ، محترمہ بہن ، زیادہ بہتر اور مناسب تو یہ ہی ہے کہ آپ کے سوال کے جواب میں کافی سی تفصیلات بیان کی جائیں ، لیکن چونکہ زیادہ لمبی گفتگو اکثر یت کو بھاتی نہیں اور وہ بد دلی اور غیر حاضر دماغی سے ادھر ادھر سے کچھ پڑھ کر نا مکمل معلومات دماغ میں لیے جاتے ہیں ، جو فائدے کی بجائے نقصان کا سبب بنتا ہے ، اس لیے میں مختصر طور پر آپ کے سوال کے جواب میں کچھ بات کروں گا ، اگر کسی کو یہ بات چیت طویل یا بور محسوس ہو تو اس کے لیے خصوصی گذارش ہے کہ دل پر کچھ جبر کرتے ہوئے ، کچھ مجاھدہ ء نفس کرتے ہوئے ان معلومات کا بغور مطالعہ کیجیے ، کیونکہ یہ کوئی عام سا فقہی مسئلہ نہیں کہ چلو اس کی نہیں تو اس کی مان لو ، یہ مسئلہ ہمارے اسلامی عقائد کے بنیادی مسائل میں شامل ہوتا ہے ، کیونکہ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات و صفات کی پہچان سے متعلق ہے اوراللہ تبارکت و تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں کے بارے میں غلط فہمی کفر تک پہنچا دیتی ، اسی لیے لوگ اللہ تبارک و تعالی کی ذات و صفات پر الزامات لگاتے ہوئے سنائی دیتے ہیں ، جزاء و سزاء کا انکار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ، اللہ کے أمور اس کی مخلوق کے اختیار میں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ، اللہ کی سلطنت میں اس کے ساجھی اور وزیر و مشیر مقرر کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ، اور ، اور ، اور ، جی ، بہن جی ، آپ کے سوال میں ظاہر کیا گیا معاملہ کچھ الفاظ کے نا درست اور محدود لغوی مفہوم کی بنا پر الجھا سا لگتا ہے ، اِس میں ادنیٰ سے بھی شک کی گنجائش نہیں کہ پوری کی پوری کائنات میں کوئی معمولی سے معمولی ترین کام بھی اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کے چاہے بغیر اور اس کی اجازت کے بغیر واقع نہیں ہوتا ، حسنء ظن سے کام لیتے ہوئے یہ ہی کہا جانا چاہیے کہ اِس """چاہنے """ اور """اِجازت """کو اللہ کی """ مرضی """ یعنی """ رضا مندی """ کا نام دینا محض لغوی مفاہیم کی غلط فہمی ہے ، اور اسی غلط فہمی کی بنا پر بہت سے اشکالات اور سوالات پیدا ہوتے ہیں ، جن میں سے ایک سوال آپ نے کیا ہے ، خوب سمجھنے اور ایمان رکھنے کی بات ہے کہ انسان کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہ تو مکمل خود مختار بنایا ہے ، اور نہ ہی مجبورء محض ، جی بہن ، آپ کا خیال درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اُن کی زندگی کے اعمال اختیار اور مکمل کرنے کی قوت بھی دے رکھی اور ، اپنی بے عیب حِکمت سے اور اپنے بندوں پر رحمت و شفقت سے اپنی مشئیت اور ارادے کے مطابق جواُن کے لیے حلال و حرام مقرر فرمائے ہیں ،اپنے اعمال میں سے اللہ کی پسند اور نا پسند والےاعمال اور ان اعمال کے انجام کی بھی خوب خبربھی کر رکھی ہے ، دیکھیے ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بہت سی مخلوقات کو ، قوت اِرادہ ، اور اِرادوں پر عمل کی قوت عطاء کی ہے ، مخلوق ان عطاء کردہ قوتوں کے مطابق عمل کرتی ہے لیکن نتیجہ وہی ظاہر ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے ،اور جس کے واقع ہونے کی اللہ کی طرف سے اجازت ہوتی ہے ، ورنہ مخلوق توبہت کچھ چاہتی رہتی ہے ، لیکن وقوع پذیر صرف وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے ، عربی میں اِسی فعل ، اسی عمل """چاہنے """ کو """مشیئت """ کہا جاتا ہے ، جِس میں """ رضا مندی ، دوسرے الفاظ میں ، مرضی """ کی شمیولیت قطعا لازمی نہیں ، پس ہر عمل ، ہر فعل جو اس کائنات میں واقع ہوتا ہے وہ اللہ کی مشیئت سے ہوتا ہے ، اگر اللہ اس کا واقع ہونا نہ چاہے تو واقع ہو ہی نہیں سکتا ، لیکن کسی واقع ہونے والے عمل میں اللہ کی """ رضا مندی ، دوسرے الفاظ میں ، مرضی """ کا شامل ہونا یا نہ ہونا ایک الگ معاملہ ہے ، ::::::: پس یاد رکھیے کہ نیک عمل بھی اللہ کی مشیئت سے ہی ، اس کی اجازت سے ہی واقع ہوتے ہیں ، اور ان کے واقع ہونے میں اللہ کی """ رضا مندی ، دوسرے الفاظ میں ، مرضی """ شامل ہوتی ہے ،لہذا وہ اُن کے واقع ہونے پر خوش ہوتا ہے ، اور جو ان کو واقع کرنے کا سبب بنتے ہیں ، ان کی نیک نیتی ،یعنی اخلاص اور اتباعءِ سُنّت کے مطابق انہیں دُنیا اور آخرت میں بہترین اجر و ثواب سے بھی نوازتا ہے، اور جس کے لیے جتنا چاہے اتنا بڑھاتا ہے ، بالکل اسی طرح ، گناہ بھی اللہ کی مشیئت سے ہی واقع ہوتے ہیں ،اُس کی اجازت سے ہی واقع ہوتے ہیں، لیکن ان میں اللہ کی """ رضا مندی ، دوسرے الفاظ میں ، مرضی """ شامل نہیں ہوتی ،لہذا وہ اِن کاموں کے واقع ہونے پر ناراض ہوتا ہے ، اور ان کو واقع کرنے کا سبب بننے والوں کو دُنیا اور آخرت میں سزا و عذاب دے گا ، اور اپنی مکمل اور بے عیب حِکمت کے مطابق بسا اوقات دُنیا میں بھی طرح طرح کے عذاب میں مبتلا کرتا ہے ، ان معاملات کو اللہ سُبحانہ و تعالیٰ کے درج ذیل کلام مبارک سے سمجھیے ::: ((((( وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ::: تُم لوگ کچھ نہیں چاہ سکتے سوائے اُس کے جو اللہ تمام جہانوں کا رب چاہے)))))سورت التکویر /آیت 29، یعنی حتمی طور پر نفاذ صِرف اللہ کی مشیئت کا ہوتا ہے ، مخلوق میں سے کسی کی بھی مشیئت حتمی نفاذ کا اختیار نہیں رکھتی ، ا للہ تبارک و تعالیٰ کی اس صفت ، اور اس کے بارے میں اِس صحیح عقیدے کے دلائل قران و صحیح سُنّت مبارکہ میں با کثرت موجود ہیں ، اگر ضرورت ہوئی تو ان شاء اللہ اس کا ذِکر بھی کیا جائے گا ، یہیں پر یہ غور کیجیے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اُس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو حُکم کے ذریعے یہ حُکم دِیا ہے کہ جب ہم کسی کام کے کرنے کی بات کریں تو یہ کہیں کہ """ اِ ن شاء اللہ ، یعنی اگر اللہ نے چاہا تو """ جبکہ عام معمول کے کاموں میں یہ عجیب سی بات لگتی ہے کہ انسان کو جب اپنی استطاعت کے مطابق کسی کام کو کر گذرنے کا مکمل یقین ہوتا ہے تو پھر اس میں اِن شاء اللہ کی کیا بات ہوئی ، اس حُکم میں بھی ہمیں یہی تعلیم دی گئی ہے کہ مخلوق میں سے کسی کی مشیئت کا نفاذ نہیں ہوتا بلکہ مخلوق کے اعمال اللہ کی مشیئت کے مطابق نافذ ہوتے ہیں ، پس کہیں کوئی یہ خیال نہ رکھے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے ، دیکھیے ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہدایت یافتہ لوگوں کو پسند کرتا ہے ، لیکن وہی ہے جو جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے ، اللہ نے اپنی کتاب کو ہدایت بنا کر نازل فرمایا ہے لیکن جسے چاہتا ہے اسی کتاب کے ذریعے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسی کتاب کے ذریعے گمراہ کرتا ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ رحم کرنے والوں کو پسند کرتا ہے لیکن جسے چاہتا ہے رحم کرنے کی توفیق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے اس کے ظالمانہ کاموں کی تکمیل کے اسباب مہیا کرتا ہے ، یہ سب کیوں ہے !!!؟؟؟ اس سوال کا جواب اللہ کے اس فرمان میں بھی میسر ہے کہ (((((وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ::: تُم لوگ کچھ نہیں چاہ سکتے سوائے اُس کے جو اللہ چاہے بے شک اللہ بہت زیادہ (اور مکمل ترین )عِلم رکھتا ہے (اور مکمل بے عیب )حِکمت والا ہے)))))سورت الانسان /آیت 30، جی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خود اُن سے زیادہ جانتا ہے اور اپنی بے عیب حِکمت کے مطابق ان کے اعمال کی تکمیل کے لیے جو چاہتا ہے کرتا ہے ، (((((وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ::: اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے )))))سورت اِبراہیم/آیت27 ، اور جو کچھ وہ کرتا ہے اس سے سوال نہیں کیا جا سکتا (((((لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ::: اللہ جو کچھ کرتا ہے اس سے سوال نہیں کیا جائے گا بلکہ اِن (انسانوں)سے سوال کیا جائے گا))))) سورت الانبیاء /آیت23 ، پس میری بہن ، مخلوق کے افعال اللہ کی """ مشیئت یعنی اس کے چاہنے کے مطابق """ نافذ ہوتے ہیں ، اور اس چاہنے میں اس کی """ مرضی یعنی رضا مندی """ کا ہونا یا نہ ہونا ایک الگ معاملہ ہے ، الفاظ کا نا درست جگہ پر نا درست مفاہیم کے ساتھ استعمال غلط فہمی کا سبب ہے ، کسی گناہ کے واقع ہونے میں اللہ کی """ مرضی یعنی رضا مندی """ شامل نہیں ہوتی ، پس کسی گناہ کے وقوع پذیر ہونے کی صورت میں یہ نہیں کہا جانا چاہیے کہ """ جو اللہ کی مرضی """ یہ کہنا اللہ سبحانہ ُ و تعالیٰ کے کئی فرامین کا انکار بن جاتا ہے ، پس یہ کہنا چاہیے کہ """ جو اللہ نے چاہا ، جو اللہ کی مشیئت """ ایسے کہنے میں اللہ کی اس صفت کا اسی طرح اقرار ہوتا ہے جس طرح کہ اللہ نے اس کے بارے میں خبر فرمائی ہے ۔ پس گناہ گار اپنے گناہ کو اختیار کرنے اور اس کو مکمل کرنے میں اللہ کی دی ہوئی قوتوں کو صرف کرنے میں خود مختار ہوتا ہے ، لیکن اس کا گناہ اللہ کی """ مشیئت """ سے ہی واقع ہوتا ہے ، لیکن اللہ کی """ رضا """ کا حامل نہیں ہوتا ، اس لیے اسے اس کی سزا دینے کی خبریں دی گئی ہیں ، اور نیکو کار اپنی نیکی کو اختیار کرنے اور اس کو مکمل کرنے میں اللہ کی دی ہوئی قوتوں کو صرف کرنے میں خود مختار ہوتا ہے ، لیکن اس کی نیکی اللہ کی """ مشیئت """ سے ہی واقع ہوتی ہے ، لیکن اس میں اللہ کی """ رضا """ بھی شامل ہوتی ہے ، اس لیے اسے اجر و ثواب کی خبریں دی گئی ہیں ۔ ان شاء اللہ یہ معلومات آپ کے سوال کے جواب میں کفایت کرنے والی ہوں گی ، اگر مزید کوئی اشکال ہو تو ضرور سامنے لایے ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو ، ہر مسلمان کو اپنے رب کی ذات و صفات کی وہ پہچان کروائے جو اس نے خود اور اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ذریعے کروائی ہے اور ہمارے خود ساختہ افکار سے محفوظ رکھے ۔ و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
||
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (08-03-11), گلاب خان (02-04-11), مرزا عامر (09-03-11), ام محمد (12-03-11), ام حازم (09-03-11), حیدر (08-03-11), عبداللہ حیدر (09-03-11) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,506
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیراً اللہ آپ کے علم میں مزید اضافہ کرے آمین اللہ ھمیں بھی دین کی صحیح سمجھ عطا کرے اور عمل اور آگے بڑھانے کی توفیق دے آمین۔۔۔ بالکل اسی طرح ، گناہ بھی اللہ کی مشیئت سے ہی واقع ہوتے ہیں ،اُس کی اجازت سے ہی واقع ہوتے ہیں، لیکن ان میں اللہ کی """ رضا مندی ، دوسرے الفاظ میں ، مرضی """ شامل نہیں ہوتی ،لہذا وہ اِن کاموں کے واقع ہونے پر ناراض ہوتا ہے ، اور ان کو واقع کرنے کا سبب بننے والوں کو دُنیا اور آخرت میں سزا و عذاب دے گا ، اور اپنی مکمل اور بے عیب حِکمت کے مطابق بسا اوقات دُنیا میں بھی طرح طرح کے عذاب میں مبتلا کرتا ہے ، میں اسی بات کو سمجھانا چاہ رہی ھوتی۔۔۔اللہ ھمیں سمجھ عطا کرے آمین۔۔۔ باقی محترم بھائی صاحب اگر آپ کافی سی تفصیلات بھی لکھ دیں تو میرے علم میں اضافہ کا باعث بنے گا۔۔۔ اللہ آپ کو بہترین جزا دے آمین۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گناہ پر یہ جملہ صادق نہیں آتا۔ صرف نقصان پر صبر کےلیےھی یہ جملہ موزوں ھے۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (10-03-11), حیدر (08-03-11) |
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,726
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
گناہ انسان اپنی مرضی سے کرتا ھے اس پر بھی جو "دل" عطا کیا ہوا ھے وہ اسے اللہ کی طرف سے آگاہ کرتا ھے کہ یہ جو تو کرنے جا رہا ھے یہ کام غلط ھے اس سے بچو مگر اس کے باوجود بھی بندہ گناہ کرنے سے باز نہ آئے تو یہ اس کا ذاتی عمل ھے۔ یہ میری رائے ھے جو حروف آخر نہیں سمجھ آئے تو ٹھیک ھے ورنہ اسے رد کر دیں۔ والسلام |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تمام ساتھیوں کی طرف سے عمدہ مراسلات کا شکریہ
لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ شاید اس کا مفہوم بھی کچھ اسی طرح سے ہے کہ اچھے کام کرنے کی توفیق اور برائی سے بچنے کی توفیق اللہ کے حکم کے سوا حاصل نہیں ہو سکتی۔ اقتباس:
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (10-03-11) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کہہ, کرتے, کشی, ھیں, ھے, ھے؟, ھماری, لگتا, لوگ, مرضی, ایسا, اللہ, اختیار, بنا, بندے, با, بدی, بس, تے, جنت, حرام, خود, رد, سوال, سمجھا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ماڈرن کھوتا | عبدالقدوس | قہقہے ہی قہقے | 4 | 09-03-11 05:56 PM |
| اسلام زندہ ھوتا ہے ہر کربلا کے بعد | رضی | اپکے کالم | 9 | 19-12-10 03:20 PM |
| قادیانی کا پڑپوتا | sahj | خبریں | 3 | 14-01-10 05:45 PM |
| ایک اور کھوتا | محمد کاشف حبیب | قہقہے ہی قہقے | 1 | 26-01-09 08:45 AM |
| ہا سے ای ہا سے (کھوتا) | خرم شہزاد خرم | پنجابی چوپال | 2 | 16-08-07 11:07 PM |