واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


سزا رجم اورغامدی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-12-10, 11:35 PM   #1
سزا رجم اورغامدی
ابن آدم ابن آدم آف لائن ہے 20-12-10, 11:35 PM

سزا رجم اورغامدی اول



محترم ساتھیوں:السلام علیکم۔ زنا کاری ایک قبیع فعل ہے جس کے لئے اللہ نے سو کوڑے کی سزا مقرر کی ہے مگر صر ف اس شخص کے لئے ہے جو غیر شادی شدہ ہو شادی شدہ شخص کے لئے شریعت نے رجم (یعنی پتھر مارکر ہلاک کرنا)کی سزا مقرر کی ہے اس کی کیاوجہ ہے وہ ہم بعد میں بیان کریں گے پہلے ہم ان حضرات کے دلائل کا جائزہ لیتے ہیں جو اس سزا رجم کا انکار کرتے ہیں اور اس کے بارے میں صحیح روایات پر بھی اعتراض کرتے ہے ۔سزا رجم کا انکار کرنے والوں میں امین احسن اصلاحی جنھوں نے تدبرالقرن میں اس کا انکار کیا ہے اور اب ان کے شاگرد جاوید احمد غامدی نے بھی اس سزا کا نکار کیا ہے جو غامدی صاحب کی کتاب برھان میں موجود ہے اب ہم ان دلائل کا جائزہ لیتے ہیں جو غامدی صاحب نے اپنے موقف کی دلیل کے طور پر دئیے ہیں۔

پہلی دلیل : غامدی صاحب اپنی کتاب برھان میں قرآن اور سنت کے باہمی تعلق میں کہتے ہیں جن معاملات میں قرآن مجید نے کوئی حکم یا قاعدہ بیان فرمایا ہے تو ان کے بارے میں یہ بات بالکل قطعی ہے کہ سنت نہ قرآن مجید کے کسی حکم اور کسی قاعدے کو منسوخ کر سکتی نہ کسی نوعیت کا تغیر وتبدل کر سکتی ہے سنت کو یہ اختیار قرآن مجید نے نہیں دیا ہے اس کے برعکس قرآن کہتا ہے کہ رسول قرآن کی لفظ اور معنی میں کوئی ترمیم و اضافہ نہیں کر سکتا ہے وہ اس بات کا پابند ہے کہ جو کلام اس کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے دوسروں تک پہچانے کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی ہر حالت میں اس کے احکام کی پیروی کرے۔ آیت: قُلْ مَا یَکْونُ لِیْ اَنْ اُبَدِّلَہ مِنْ تِلْقَآئیِ نَفْسِیْ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰی ِالَیَّ اِنِّیْ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْم عَظِیْم ہ (سورہ یونس آیت15 ) ترجمہ:'' کہہ دو میںیہ حق نہیں رکھتا کہ اس قرآن میں ترمیم کر دوںمیں تو اس چیز کا پیرو ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔'' اس کے بعد یہ کہتے ہیں کہ اب صرف یہ بات رہ جاتی ہے کہ سنت قرآن کی تبیین کر سکتی ہے اور اس کے لئے بالعموم یہ آیت پیش کی جاتی ہے ۔ وَ َانْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ہ (سورہ النحل آیت ٤٤ ) ترجمہ:''اور ہم نے تم پر یہ زکر اتارا ہے تاکہ تم لوگوں پر اس چیز کو واضح کر دو جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے ۔'' اور اس تبیین کے لغوی مفہوم کی وضاحت میں گرامر کی بحث کلام عرب کے اشعار اور امام شاطبی کے اقوال نقل کئے ہیں اس کے بعد تبیین کی تعریف میں کہتے ہیں تبیین کسی کلام کے متکلم کے مدعا کا اظہار ہے جسے دوسروں تک پہنچانے کے لئے وہ اس کلام کو ابتداء وجود میں لایا تھا۔ یہی مفہوم ہے جس کے لئے ہم اپنی زبان میں شرح بولتے ہیں شرح بس شرح ہے ہر شخص جانتا ہے کہ اس لفظ کا اطلاق کسی ایسی ہی بات پر کیا جا سکتا ہے جس کے بارے میں آپ ثابت کر سکیں کہ وہ فی الواقع اس کلام کے متکلم کا منشا ہے جس کی طرف آپ وہ بات منسوب رہے ہیں تو اسے محض آپ کے اس ارشاد کی بنا پر تسلیم نہیں کر لیا جائے گا ہر عاقل آپ سے مطالبہ کرے گا کہ اپنے قول کی دلیل بیان فرمایئے وہ آپ سے پوچھے گا کہ جو کچھ آپ متکلم کی طرف کیا اس کے الفاظ اپنے لغوی مفہوم کے اعتبار سے اس پر دلالت کرتے ہیں یا اس کے جملوں کی نحوی تقاضا یہی ہے جو آپ بیان فرمارہے ہیں کیا جملوں کے سیاق و سباق کی دلالت سے آپ نے یہ معنی اخذ کئے ہیں آپ کسی کلام سے متعلق کسی بات کو شرح یا تنیین قرار دینا چاہتے ہیں تو اپنے قول کو ثابت کرنے کے لئے ان دلائل میں سے ایک دلیل پیش کرنی ہوگی اس طرح کی کسی دلیل کے بغیر کوئی بات نہ شرح ہے نہ تبیین شرح اور تبیین کے الفاظ اپنے معنی ہی کے اعتبار سے اس دلیل کے متقاضی ہیں اس لئے بعض اہل تحقیق نے تبیین کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ بیان وہ دلیل ہے جو صحیح استدلال کے ذریعے سے اس چیز کے علم کے حصول تک پہنچاتی ہے جس پر وہ دلالت کر تی ہے۔اس بحث سے بات واضح ہو جاتی ہے کہ تبیین توبس متکلم کے فحوی کا اظہار ہے جو ابتدا ہی سے اس کے کلام میں موجود ہوتا ہے کسی کلام کے وجودمیں آنے کے بعد جو تغیر بھی اس کلام کی طرف منسوب کیا جائے گا آپ اسے بیان یا تبیین نہیں قرار دے سکتے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں علماء اصول میں جن کی نگاہ اس حقیقت پر رہی انھوں نے تبیین کی تعریف میں یہ بات واضح کر دی امام بزدوی نے علم اصول پر اپنی کتاب میں شمس الائمہ کی تعریف نقل کی ہے ۔بیان کا اطلاق اس شے پر کیا جاتا ہے جس کے ذریعے سے اس شے کا ابتا ہی سے کلام میں موجود ہونا ظاہر ہو جاتا ہے رہا وہ تغیر جو کلام کے وجود میں آنے کے بعد کیا جائے تو وہ نسخ ہے اسے بیان قرار نہیں دیا جاسکتا ۔(اصول البزدوی) ) لفظ تبیین کے معنی اس کی تعریف اور اس کے حدود کی تعین کے بعد ان یہ بات کسی پہلو سے مبہم نہیں رہی ہے کہ سنت کو جو منصب قرآن نے خود اپنے متعلق عطا فرمایا ہے وہ شارح کا منصب ہے شارح کی حیثیت سے سنت قرآن کے مضمرات کو کھولتی ہے اس کے عموم و خصوص کو بیان کرتی ہے اس کے مقتضیات کو واضح کر تی ہے علماء اصول میں سے جن لوگوں کو اللہ نے تفقہ فی الدین دیا ہے انھوں نے سنت کے معاملے میں یہی بات کہی ہے امام احمد بن حنبل سے متعلق روایت ہے فضل بن زیاد کہتے ہیں احمد بن حنبل سے حدیث ان السنت قاضیۃ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا میں یہ کہنے کی جسارت نہیں کر سکتا کہ سنت کتاب اللہ پر قاضی ہے سنت تو کتاب کی شرح و تفسیر کرتی ہے سنت قرآن کی کسی بات کو منسوخ نہیں کر سکتی ہے قرآن کو صرف قرآن منسوخ کر سکتا ہے۔(جامع بیان العلم ابن عبدالبر۲/۲۳۴ ) امام شاطبی نے الموافقات میں نقل کیا ہے کہ سنت کے کتاب پر قاضی ہونے کے یہ معنی نہیں ہے کہ اسے کتاب پر مقدم ٹھیرایا جائے اور کتاب کو اس کے مقابلے میں چھوڑ دیا جائے وہ کتاب کی مراد ہوتا ہے گویا سنت میں بیان کیا جاتا ہے وہ کتاب سے مراد ہوتا ہے گویا سنت احکام کتاب کے معانی کے لئے شرح و تفسیر کی حیثیت رکھتی ہے اور یہی بات قرآن کی آیت لتبین للناس میں واضح کی گئی ہے ۔اس کے بعد امام نے قطع ید کے معنی مال مسروق کی مقدار اور حرز وغیرہ شرائط کا حوالہ دیتے ہوئے مزید وضاحت کی ہے کہ سنت کی یہ تشریح در حقیقت آیت کا مفہوم و مدعا ہے ہم یہ نہیں کہیں گے کہ سنت نے یہ احکام قرآن کے علاوہ دیئے ہیں جس طرح کہ امام مالک یا کوئی مفسر کسی آیت یا حدیث کے معنی بیان کرتا ہے اور ہم اس کے معنی کے مطابق عمل کرتے ہیں تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے فلاں مفسر کے قول کے مطابق عمل کیا ہے اس کے بجائے ہم یہی کہیں گے کہ ہمارا اللہ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق ہے یہی معاملہ قرآن کی ان تمام آیات کا ہے جن کی تبیین سنت نے کی ہے لہذا سنت کے کتاب اللہ پر قاضی ہونے کے معنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ کتاب اللہ کی شرح ہے (۷/۴٧)اس کے بعد انھوں نے نسخ القران بالسنۃ کے رد میں وحی متلو اور غیر متلو کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وحی خفی کسی طرح بھی قرآن میں کسی طرح کا تغیر اور تبدل نہیں کر سکتی اور وحی خفی کبھی قرآن کا حصہ نہیں بن سکتی وہ سنت ہی رہتی ہے اور قرآن اللہ اور اس کے رسولوں کی طرف منسوب ہر چیز کے لئے فرقان اور زمین پر اللہ کی میزان ہے اور اس کی دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں۔ اللہ الذی انزل الکتاب بالحق و المیزانترجمہ:اللہ ہی ہے جس نے حق کے سا تھ کتاب اتاری یعنی میزان نازل کی۔دوسری دلیل کے رد میں کہتے ہیں تبیین کا اختیار جس آیت میں بیان ہوا وہ ہے کہ اور ہم نے تم پر یہ زکر اتارا ہے تاکہ تم لوگوں پر اس چیز کو واضح کر دو جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے (سورہ النحل آیت۴۴ ) تدبر کی نگاہ سے دیکھئے اس میں فعل تبین اپنے مفعول ما نزل الیھم کی طرف متعدی ہو کر آیا ہے اس صورت میں اس کے معنی نہ مجرد وضاحت کے ہیں نہ اسے یہاں اسے کے مفعول ما نزل الیھم یعنی قرآن کے بارے میں وضاحت کے معنی میں لیا جا سکتا ہے عربیت کی رو سے اب اس کے معنی یہی ہوں گے کہ تم لوگوں کے لئے اس کی وضاحت کرو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کی وضاحت اور قرآن کے بارے میں وضاحت میں زمین آسمان کا فرق ہے اختیار اگر قرآن کے بارے میں وضاحت کا ہے تو اس کی کوئی آیت منسوخ یا اس کا کوئی مدعا جو اس کے الفاظ سے ثابت ہے متغیر کردیا گیا ہے لیکن وضاحت کے معنی بس شرح ہی کے ہو سکتے ہیں اور شرح کے بارے میں ہم لکھ چکے ہیں شرح بس شرح ہے سنت اور قرآن کے باہمی تعلق کے بعد سورہ نور آیت۲ کی اس آیت کو دیکھئے اَلزَّاِنیَۃ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْ کُلَّ وَاحِد مِّنْھُمَا مِائَۃ جَلْدَة وّلَا تَاْخُذْ کُمْ بِھِمَا رَاْفَۃ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ ِباللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلْیَشْہَدْ عَذَابَھُمَا طَآئِفَۃ مِّنَ الْمُوْمِنِیْنَ

ترجمہ :''زانی مرد اور زانیہ عورت ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارواور تم لوگوں کو ان دونوں پر اللہ کے معاملہ میں ذرا رحم نہ آنا چاہئے اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور دونوں کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو حاضر رہنا چاہئے۔'' زنا کی اس سزا کو فقہا کنوارے پن کے ساتھ خاص کرتے ہیں اور شادی شدہ کے لئے رجم کی سزا تجویزکرتے ہیں جس کی دلیل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال پیش کرتے ہیں فقہا کی رائے اگر مان لی جائے تو اس آیت کی تاویل میں دو باتیں کہی جا سکتی ہیں ایک الزنیۃالزانی سے قرآن کی مرادصرف کنواری زانیہ اور کنوارہ زانی ہے قرآن نے اس میں شادی شدہ کو شامل نہیں کیانبی صلی اللہ علیہ وسلم بس اس آیت کی تبیین فرمائی اور وہ مدعا جس پرخود اس آیت پر دلالت کرتے ہیںاپنے افعال و اقوال سے واضح کر دیااور دوسری یہ کہ شادی شدہ کو اس آیت کے دائرہ اختیار سے خارج کر دیا اس طرح قرآن کا وہ مفہوم جو اس کے اپنے الفاظ سے ثابت ہے اسے متغیر کر دیاجہاں تک دوسری بات کا تعلق ہے تو ہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ سنت قرآن کے مفہوم میں کسی طرح کا تغیر نہیں کر سکتی ہے اور رہی پہلی بات یعنی کہ اسے قرآن کے الفاظ کی مراد شرح قرار دیا جائے تو ہم پورے اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ عربی زبان کے اسالیب بیان میں اس کی کوئی گنجایش نہیں ہے لغت قرآن سے واقف کوئی شخص اس بات کا تصور بھی نہین کر سکتا کہ الزنیۃ و الزانی کے الفاظ سے مراد لئے جا سکتے ہیں آیت کے الفاظ اپنے لغوی مفہوم کے اعتبار سے اس کی نفی کرتے ہیں جملے کی ترکیب و تالیف اس سے ابا کرتی ہے کلام کے سیاق و سباق کو اسے قبول کرنے سے انکار ہے عرف و عادت کی بنا پر اسے متکلم کی منشا قرار نہیں دیا جا سکتا قاضی عقل بالصراحت اس کے عدم جواز کا فتوی دیتے ہیں غرض کسی طرح سے اسے قرآن کے مدعا کی شرح و تبیین قرار دینا ممکن نہیں ہے اس کے بعد غامدی صاحب نے ان روایا ت پر تنقید کی ہے جو رجم کی سزا کے بارے میں بیان ہوئی ہیں ہم ان روایا ت پر تبصرہ بعد میں کریں گے پہلے ہم غامدی صاحب کے دلائل کا جائزہ لیتے ہیں جو انھوں نے اپنے موقف کے حق میں دیئے ہیں ۔

دلائل غامدی کا جائزہ

السنت قاضیۃ کا اصل مفہوم: اس عنوان کے تحت ہم غامدی صاحب کی اس خیانت کو واضح کریں گے جو ان کی عادت میں شامل ہے غامدی صاحب نے السنت قاضیۃ کے بارے میں امام شاطبی اور امام احمد بن حنبل کے اپنے من پسند اقوال نقل کیے ہیں جس سے متکلم کی منشاء واضح نہیں ہوتی ہے کہ بیانِ مقصودکیا ہے اگر ہم امام شاطبی کی الموفقات کا سنت اور قرآن کے باہمی تعلق کے حوالے سے پوری طرح مطالعہ کریں تو یہ بات نکھر کر سامنے آتی ہے کہ امام شاطبی ،امام احمد بن حنبل اور ابن عبدالبر نے سنت کو قرآن کا شارح قرار دیا ہے اور اس بارے میں یہ اعتماد ظاہر کیا ہے کہ سنت جو بھی بیان کرتی ہے وہ قرآن کی شرح ہے اور اس شرح کو اپنی عقل پر پرکھنے کی کوشش نہیں کی ہے اور نہ کوئی اصول اس طرح کا واضح کیا ہے جس سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہو کہ سنت نے جو تشریح قرآن مجید کی فرمائی ہے اسکو اپنی عقل کی بنیادپر یہ کہہ کر رد کردیا جائے کہ اس بات سے متکلم کی منشاء واضح نہیں ہوتی ہے اب ہم یہاں امام شاطبی کی الموفقات سے چند اقتسابات نقل کر رہے جس سے آپ پر یہ بات بھی مکمل طور پر عیاں ہو جائی گی جوبات غامدی صاحب نے امام شاطبی اور احمد بن حنبل کے حوالے سے اوپر نقل کی ہے کہ دراصل ان حضرات کا مقصود کیا ہے ۔امام شاطبی رقمطراز ہیں فان السنۃ علی کثرتھا و کثرة مسائلھا انما ھی بیان الکتاب کما سیتی شرحۃ ان شاء اللہ تعالی و قد قال اللہ تعالی(وَ َانْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ (سورہ النحل آیت۴۴) وفی الحدیث ( ما من نبی من الانبیاء الا اعطی من الایات ما مثلہ امن علیہ البشر و انما کان اوتیۃ و حیا او حاہ اللہ الی فرجو ان اکون اکثرھم تابعا یوم القیمۃ) وانما الذی اعطی القرن وام السنۃ فبیان لہ واذا کان کذلک فالقرں علی اختصار ہ کلیات تعلم ان الصلاة و الزکاة والجھاد والشباہ ذلک لم تبین جمیع احکامھا فی القرآن انما بیتھا السنۃ و کذلک العادیات من الانکحۃ والعقود والقصالص والحدود وغیرھا ۔ اور اس کے بعد آگے رقمطراز ہیں لما ثبت فی الشریۃ من المسائل و القوعد موجوة فی القرآن و انما وجد فی السنۃ و یصدق ذلک مافی (الصحیح) من قولہ علیہ الصلوة والسلام ( انہ قال الا انی اوتیت الکتاب و مثلہ معہ الر یوشک رجل شبعان علی اریکتہ یقول علیکم بھذا القران فما وجدتم فیہ من حلال فاحلوہ وما وما وجدتم فیہ من حرام فحرموہ الا لایحل لکم الحمار الاھلی ولا کل ذی ناب من السبع سنن ابوداؤد ) و ھذا ذم ومعناہ اعتمادء السنۃ وصححنۃ قول اللہ تعالی(یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم فان تنازعتم فی شی ء فردوہ الی اللہ و الرسول ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاخر سورہ النساء ٥٩) قال معمون ابن مھران :الرد الی اللہ الی کتابہ و الرد الی رسول الی سنۃ ومثلہ (وما کان لمومن ولامومنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لھم الخیرة من امرھم ومیعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضللا مبیناسورہ احزاب 36)ان سنۃ یوخذ بھا کل انھا بیان کتاب اللہ لقولہ ( وَ َانْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ہ (سورہ النحل آیت ٤٤) فھی احد قسمھا فالقسم الآخر ذیادہ علی حکم الکتاب کتحریم نکاح المراة علی عمتھا او خلتھا ، تحریم الحمر الاھلیۃ ،وکل ذی ناب من السباع(الموفقات کتاب الدلة الشرعیۃ ص688-691 ) ترجمہ'': سنت نے الکتاب(قرآن) کے بہت سے مسائل کی وضاحت کی ہے اور ان شاء اللہ اس کی ہم تشریح بیان کریں گے اللہ تعالی فرماتا ہے ( اور ہم نے تم پر یہ زکر اتارا ہے تاکہ تم لوگوں پر اس چیز کو واضح کر دو جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے ) اور حدیث میں آتا ہے ( مجھے دیا گیا ہے آیات اور اس جیسی ایک اور چیز جوکسی نبی کو نہیں دیا گیا ) اس دیاگیا سے مراد قرآن اور (اس جیسی ) سے مراد سنت ہے جو اس کی تبیین کرتی ہے اور اسی طرح قرآن نے اختصار کے ساتھ تمام کلیات کی تعلیم دی جیسے نماز،زکوة اور جہاد اور اس سے مشابہ جس کی پوری وضاحت قرآن نے نہیں کی ہے اس کی وضاحت سنت نے بیان کی ہے اسی طرح نکاح کے حدود و قواعد اور قصاص اور حدود (کے قوانین بھی سنت نے بیان کیے ہیں ) اور اس کے بعد آگے رقمطراز ہیںکہ اور قرآن میں شریعت کے مسائل اور قواعد موجود نہیں ہیں اور یہ صرف سنت میں موجود ہیں اور اس کی تصدیق یہ صحیح حدیث کرتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(خبردار ہو تحقیق دیا گیا ہوں میں کتاب یعنی قرآن اور اس کے مثل اور بھی تم خبردار ہ جاؤ قریب ہے جو ایک پیٹ بھرا آدمی اپنے چھسپر کھٹ پر پڑا ہوا کہے گا تم اس قرآن ہی کو اختیار کرو اور جو قرآن میں حلال پاؤ اس کو تو حلاجانو اور جو قرآن میں حرام پاء بس اس کو حرام جانو سن رکھو اہلی گدھا تمہارے حلال نہیں ہے اور نہ ہر دانت والے درندہ ) اور اس کے معنی یہ کہ سنت پر اعتماد ہونا چاہئے(یعنی سنت جو بھی بیان کرے اس کو قرآن کی تبیین ہی ماننا چاہئے) اور اللہ نے فرمایا(اے وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور اور جو تم میں جو حکم والے ہوں پھر اگر تم کسی بات میں اختلاف ہو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹادو اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو) معمون ابن مھران کہتے ہیں کہ اللہ کی طرف لوٹانے سے مراد کتاب(قرآن ) کی طرف لوٹانا ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹانے سے مراد سنت ہے اور اس کی مثال یہ ہے اللہ نے فرمایا (اور کسی مسلمان مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا یاد رکھو اللہ تعالی اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہی میں پڑے گا) اورقرآن کی تمام تبیین (تفصیل و تشریح) سنت سے اخذ کی جاتی ہے (اس کے لئے )قرآن میں بیان ہواہے ( اور ہم نے تم پر یہ زکر اتارا ہے تاکہ تم لوگوں پر اس چیز کو واضح کر دو جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے) پس یہ اس( تبیین) کی ایک قسم ہے اور دوسری قسم وہ ہے جو سنت نے زائد احکام دیئے ہیں مثلا ایک نکاح میںلڑکی اور اس کی پھوپھی کو جمع کرنا یا اسی طرح خالہ اور بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا اہلی گدھے کوحرام کرنا اورتمام پنجہ والے پرندوں کو حرام کرنا۔ '' اب یہ بات قارئین پر روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ السنۃ قاضیۃ سے علماء محقین کا مقصودصرف یہی ہے کہ قرآن میں جو بھی بات اختصار کے ساتھ بیان ہوئی ہے سنت نے اس حوالے سے جو بھی بیان کیا ہے وہ قرآن کی تبیین اور وضاحت ہی سمجھی جائے گی جس کے لئے ہی امام شاطبی نے سنت پر اعتماد ہونا چاہئے (یعنی سنت جو بھی بیان کرے اس کو قرآن کی تبیین ہی ماننا چاہئے) کا لفظ اپنی کتاب الموفقات کے حوالے سے نقل کیا ہے اسی لئے سنت میں جو قرآن کی تبیین اور تشریح بیان ہوئی ہے اسے صرف اپنی عقلی دلیل اور عربی زبان کے قواعد پر رد نہیں کیا جاسکتا رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے شارح ہیں اورجنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مسلمہ مرتبے سے انکار کیا وہ گمراہ ہو گئے جیسے ( غلام احمدپرویز) جن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا کہ یہ قرآن ہے اور مجھ پر اللہ کی طرف سے اس کا نزول ہوا ہے تو اسے تو مان لیا اور وہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس قرآن کی تشریح تبیین اور عموم اور خصوس بیان کر تے ہیں تو اسے محض اپنے عقلی دلائل اور عربی زبان کے قواعد کی بنیاد پر رد کر دیا جاتا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ جن پر قرآن نازل ہوا وہ تو اس کے عربی قواعد نہ سمجھ سکے(معاذاللہ) اور آج چودھویں صدی میں ایک غیر عرب کو اس کے قواعد سمجھ آ گئے اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا اللہ کے نذدیک کیامرتبہ ہے ۔ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ(سورہ النساء آیت 80)ترجمہ :'' جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی یقینا اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔'' یہ آیت نص صریح ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت دراصل اللہ ہی کی ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ علماء محققین اور تفقہ فی الدین والے لوگوں نے کبھی سزا رجم کا انکار نہیں کیا کیونکہ انہوں نے قرآن کو نہ اپنی عقل پر اور نہ عربی گرامر کے قواعد سے سمجھنے کی کوشش کی ہے اور نہ اس کی بنیاد پر رجم کا انکار کیا ہے ہے کیونکہ یہ تمام حضرات سنت سے قرآن کی تبیین اور تخصیص کے قائل ہیں تبیین کی صحیح تعریف کو باخوبی پہچاتے تھے جس کا بیان ہم نے امام شاطبی ہے حوالے سے اوپر نقل کیا ہے اور ان تمام حضرات کے رجم کے متعلق اقوال ہم آئندہ نقل کریں گے اب ہم پہلے یہ معلوم کرتے ہیں کہ قرآن میں اگر کوئی قطعی حکم بیان ہو تو سنت جو اس کی تشریح بیان کرتی ہے تووہ کیا صحابہ کرام اور تابعین اور سلف صالحین اور علماء محققین کے نزدیک کیا وہ تغیر یا تبدل ہے جیسا غامدی صاحب کہتے ہیں یا صرف اس کی تشریح مانی جا تی ہے ۔قرآن میں چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا بیان ہوئی ہے ۔ وَالسَّارِقُ وَالسَّرِقَۃ فَاقْطَعُوْا اَیْدِیَھُمَا جَزَ آ ئً بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللَّہِ وَاللَّہُ عَزِیْزحَکِیْم (سورہ المائدہ آیت 38 ) ترجمہ:'' چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹ دو یہ بدلہ جو انہوں نے کیا یہ تنبیہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ قوت اور حکمت والا ہے ۔'' ا س آیت کے حوالے سے غامدی صاحب رقمطراز ہیں کہ اس آیت میں السارق ان کی صفت کے طور پر بیان ہوا ہے اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تبیین فرمائی ہے کہ تین درہم سے کم پر ہاتھ نہ کاٹے جائیں ۔مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ نے قطعی حکم دیا ہے کہ چور کے ہاتھ کاٹ دو اور غامدی صاحب نے جو فرمارہے ہیں کہ السارق یہاں صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے اس سے مراد عادی چور ہوتے ہیں چوری جن کا پیشہ ہو مگر اگر ایک شخص پہلی بار چوری کرے اور تین درہم سے زیادہ ہے تو کیا اس کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے کیونکہ پہلی بار سے یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ عادی چور ہے یا نہیں ہے اب اس بارے میں یہی کہا جائے گا کہ اس کے بھی ہاتھ کاٹے جائیں گے کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تخصیص فرمائی ہے اور سنت کا مطالعہ کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹے ہیں اب ہم اس بات سے کیا مراد لیں گے کہ کیا سنت نے قرآن میں تغیر کیا ہے یا اس کے حکم میں تبدل کیا ہے کیونکہ قرآن نے چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے چاہے دس روپے چوری کرے چاہے دولاکھ روپے چوری کرے اب اگر کسی صاحب عقل سے اس سزا کے بارے میں بیان کیا جائے تو ضرور یہ کہے گا کہ اگر ایک مجبور آدمی دو روٹی چرا لیتا ہے تو اس کے بھی ہاتھ کاٹے جائیں گے اور ایک شخض ہزاروں روپے اپنی عیاشی کے لئے چوری کرے تو اس کے بھی ہاتھ کاٹے جائیں یہ کیسا قانون ہے اس وقت ہم یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تشریح فرمائی ہے کہ تین درہم سے کم پر ہاتھ نہ کاٹے جائیںاورصحابہ کرام میں سے حضرت عمر ،حضرت عثمان ،حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہم بھی یہی فرماتے تھے تو نہ انھوں نے اس کو تغیر وتبدل نہیں سمجھاہے اس لئے کہ وہ تبیین کے مفہوم اچھی طرح جانتے تھے اور اب ہم اس تبیین کے معنی صحابہ کرام سے اور تابعین سلف صالحین اور علماء محققین سے جانتے ہیں جس پر غامدی صاحب نے ایک مفصل بحث کی ہے ۔
سزا رجم اورغامدی اول | صراط الہدی

سزا رجم اورغامدی حصہ دوم | صراط الہدی

سزا رجم اورغامدی حصہ سوم | صراط الہدی

سزا رجم اورغامدی حصہ چہارم | صراط الہدی
__________________
صراط الھدیٰ فورم
www.siratulhuda.com
اردو یونیکوڈ تحریر میں بنیادی دینی ، اخلاقی و اصلاحی تعلیمات اور سائینس و انفارمیشن ٹکنالوجی کی نفع مند معلومات کی ترسیل کا مرکز

 
ابن آدم's Avatar
ابن آدم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,100
شکریہ: 3,391
830 مراسلہ میں 2,404 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 195
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ابن آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (05-12-11), shafresha (21-12-10), حیدر (23-12-10), عبداللہ آدم (21-12-10), غلام مجتبی جان (21-12-10), غلام خان (21-12-10)
پرانا 21-12-10, 08:52 AM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

منکرین رجم میں‌احسن اصلاحی یا جاوید احمد غامدی ہی نہیں‌ شامل نہیں‌یہ فہرست طویل ہے بھائی!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (05-12-11), نورالدین (23-12-10), ابن آدم (21-12-10), حیدر (23-12-10), غلام مجتبی جان (21-12-10), غلام خان (21-12-10)
پرانا 21-12-10, 02:01 PM   #3
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مثلا؟؟؟؟؟؟؟؟؟

امام ابو حنیفہ؟؟

امام شافعی؟؟

امام مالک؟؟

امام احمد؟؟

ابن تیمیہ؟؟

امام غزالی؟؟

امام رازی؟؟

امام ابن کثیر؟؟

امام قرطبی؟؟

مولانا احمد رضا؟؟

شیخ محمد بن عبد الوہاب؟؟

مولان اشرف علی؟/

کون کون سے بڑے نام اس میں شامل ہیں؟؟کوئی وضاحت فرما دے


والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (05-12-11), ابن آدم (22-12-10), حیدر (23-12-10)
پرانا 23-12-10, 02:46 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں نے "اتفاق سے" غامدی کی کتاب برہان پڑھی تھی کافی عرصہ قبل۔ اب تو اسکی یادیں ذہن سے دھندھلا گئی ہیں تاہم اتنا ضرور یاد ہے جس کا مفہوم میں مندرجہ ذیل پیرا میں بیان کرتا ہوں
"کبھی بھی کسی مصنف کے مضمون کے بارے میں رائے محض اسکے مضمون کے اقتباسات سے نہیں کرنی چاہیے۔میں نے بھی اسکا مضمون پڑھا تھا تاہم "اپنی رائے تبدیل نہ کرتے ہوئے بھی" مجھے اسکی مضمون میں منافقت نظر نہیں آئی تھی"

غامدی صاحب کا جو سخت گیر موقف ہے وہ امین احسن اصلاحی صاحب کا بھی تھا اور شاید اس سے ملتا جُلتا موقف مودودی صاحب کا بھی تھا۔ میرے خیال میں مودودی صاحب بھی سنگساری کی سزا کو قرآن سے ثابت کرنے میں تذبذب رکھتے تھے۔لیکن چونکہ اُنکا میدان کار مناظرہ جُوئی نہیں تھا اس لیے اس موضوع پر مجھے انکا کوئی تفصیلی مضمون نہیں مل سکا۔

تاہم پھر یاد دلا دوں میں یہ کہہ رہا ہوں کہ "میرے خیال میں۔ ۔ ۔ ۔ "
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (05-12-11), فیصل ناصر (23-12-10)
جواب

Tags
پسند, قواعد, قرآن, چور, مکمل, ممکن, مجید, معلوم, آج, آدمی, ایمان, اللہ, اشعار, ترمیم, تعلیم, حکم, حدیث, حضرات, شاگرد, شخص, عورت, عقل, صحابہ, صرف, صراط


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
::::: شادی شدہ زانی کی سزا سنگساری ہے ::::: عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 147 21-11-11 11:32 PM
”یہ سزا ہے یا جزا“ جاویداسد خبریں 2 03-12-10 06:09 PM
بدکاری کی سزا میاں شاہد اسلامی نظریہ حیات 2 07-04-09 01:59 AM
سزا جون ایلیاء Real_Light جون ایلیا 2 22-02-09 03:04 AM
لو میرج کی سزا وسیم قہقہے ہی قہقے 3 05-01-09 05:23 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:50 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger