|
سیاسی بدنصیبی کی رکی ہوئی سوئی… چوراہا … حسن نثار

13-11-11, 11:15 AM
مبارک ہو کہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا بالکل ہی ”ذاتی شاہین“ یعنی ان کا پوتا ولید اقبال بھی قصر سلطانی کا گنبد چھوڑ کر تحریک انصاف کی چٹانوں پر بسیرے کا فیصلہ کر چکا۔ ولید کی سیاسی ولادت کے موقع پر عمران خان نے اہل پاکستان کو اک اور خوشخبری بھی سنائی کہ عنقریب بہت سے ہیوی ویٹس تحریک انصاف کو جوائن کرنے والے ہیں تو میرے لئے اس میں کوئی خبر نہیں تھی کہ سنو بالنگ (SNOW BALLING) کا وہ عمل جو سستی سے شروع ہوا… بتدریج رفتار پکڑتا جائے گا۔ ادھر جہانگیر ترین، اسحاق خاکوانی اینڈ کمپنی بھی ٹیک آف کے لئے تیار ہے۔ چند ہفتے قبل عمران خان کے ہوشربا جلسہ سے پہلے جہانگیر ترین اور خاکوانی صاحب ”بیلی پور“ تشریف لائے تو ان کا خیال تھا کہ اصل شرفا کا اک تگڑا گروپ بنا کر تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد یا الحاق وغیرہ کر لیا جائے جبکہ میرا خیال تھا کہ سیدھے سادے تحریک کو جوائن کر لیں لیکن شاید کچھ ٹیکنیکل مسائل کا سامنا ہے بہرحال کان جدھر سے بھی پکڑ لیں بات ایک ہی ہے… باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے یہ کہہ کر جی خوش کر دیا کہ متوسط طبقہ کے نوجوان کسی بھی پرچم تلے جمع ہوں ایک ہی بات ہے کہ اصل مقصد ”سٹیٹس کو“ میں تبدیلی ہے اور وہ تحریک انصاف کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ باقیوں کی حالت خراب اور قابل رحم ہے کہ وہ بونگیوں پر اتر آئے ہیں۔ عمران خان اثاثے ڈیکلیئر کرنے کی نہیں… ”اصلی اور حقیقی اور مکمل“ اثاثے ڈیکلیئر کرنے کی بات کر رہا ہے جو ان سب کی سیاسی موت کے مترادف ہے لیکن یہ لوگ ”سوال گندم جواب چنا“ کی طرح بے تکی بات کرتے ہیں کہ عمران خان ملکی قانون سے واقف نہیں کیونکہ ہر سیاستدان کو اثاثے لازماً ڈیکلیئر کرنے پڑتے ہیں سو ہمارے قارئین بلکہ ”مالکان“ نے بھی یہ ”رسم“ پوری کر رکھی ہے۔ انگریزی میں اس طرح کی مسخ شدہ منطق کو ”بل شٹ“ کہتے ہیں۔ بندگان خدا! اصل اثاثے کہاں ہیں؟ کہ ان کا تو عشر عشیر بھی کوئی ڈیکلیئر نہیں کرتا لیکن میک اپ زدہ ہر مکروہ چہرہ آج نہیں تو کل ضرور بے نقاب ہو گا کہ یہ وقت کی آواز ہی نہیں تقاضا بھی ہے اور جب یہ بے نقاب ہوں گے، عوام کی حالت قابل دید ہو گی۔
”زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو“… ہر زبان پر ان کے لئے نفرت کے سوا کچھ نہیں جو ان سیاسی نو ٹنکیوں اور بہروپیوں نے بڑی ہی محنت سے کمائی ہے۔ یہ سب جو ہو رہا ہے، عمران خان کا کرزمہ نہیں ان بے وقوفوں کے اپنے کرتوت ہیں جو 2011 میں بھی عوام کو ”سیٹزن“ نہیں ”سبجیکٹس“ … ”شہری“ نہیں ”رعایا“ کے طور پر ٹریٹ کرنا چاہتے تھے۔ ان کی تجاوزات سے لے کر طمطراق تک لوگ ان کے منہ پر دے ماریں گے کہ یہ ”انٹر نیٹ نسل“ اور ”میڈیا جنریشن“ تمہارے ہوٹروں اور روٹوں کی دھجیاں اڑا کر رکھ دے گی۔ بات عمران خان کی کرشماتی شخصیت کی ہوتی تو یہ کرشمہ … سولہ سال پہلے آج سے کہیں زیادہ تھا کہ ورلڈ کپ بھی تازہ تھا اور کینسر ہسپتال بھی بہت نیا نیا لیکن لوگ سیاسی حوالہ سے اپنے غیر متنازعہ ہیرو کی طرف قطعاً متوجہ نہیں ہوئے تو اب سولہ سال بعد خلق خدا کے دل کس طرح پھر گئے؟ کچھ بھی نہیں سوائے اس کے کہ یہ لوگ بہت ہی بری طرح ایکسپوز ہو گئے ہیں… ان سب کی اوقات کھل کر سامنے آ گئی کہ یوں بھی مصنوعی محبتوں اور جعلی رشتوں کا ساتھ اس سے زیادہ لمبا ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ نوکریوں، پلاٹوں اور دیگر سیاسی رشوتوں کی بھرمار زیادہ سے زیادہ ایک نسل کو ہی زیر باد کر سکتی ہے… اب جس نسل کا سامنا ہے ان کے گلے میں طوق ہیں نہ پیروں میں ”ذاتی احسانات“ کی بیڑیاں نہ پرانے تعلقات کی ہتھکڑیاں کہ ڈھائی پونے تین عشروں پر محیط ظالم وقت بہت کچھ تبدیل کر چکا لیکن ان سیاسی بدنصیبوں کی سوئیاں وہیں پھنسی ہوئی ہیں جب چمڑے کے سکے چلتے تھے، پسینہ گلاب تھا، خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے، الٹے بانس بریلی کو بھجوائے جاتے تھے، مٹی چھوتے ہی سونا ہو جاتی تھی، طاقت ور ترین ”لوگوں“ کی بھرپور مدد اور مفت مشورے تھوک کے حساب سے دستیاب تھے، کھیتی ہری تھی گائے گابھن تھی، بلی گردوں کی تسبیح کرتی تھی، کھانے کے گال اور نہانے کے بال چھپے رہتے تھے، حجرا مجرا ساتھ ساتھ چلتا تھا، گدھے گدھوں کو کھجلایا کرتے تھے، مفت کے گھوڑوں کے دانت بھی گنے جاتے تھے، چھانگا مانگا جمہوری پکنک سپاٹ ہوتا تھا، ٹھنڈا لوہا گرم لوہے کو کاٹ رہا تھا، پتھروں پر جونکیں چپکا دی جاتی تھیں، جب کنواں بکتا تھا کنویں کا پانی نہیں بکتا تھا، جب کچی سرسوں سے تیل اور کھل برآمد ہوتی تھی، جب چوہوں سے بلیوں کا شکار کھیلا جاتا تھا، جب حاکم کے تین اور شحنہ کے نو ہوتے تھے، جب ڈیڑھ اینٹ کی ڈیوڑھی میں پنڈی والوں نے نقارے بجوا دیئے تھے، جب اونٹ سستا اور اس کی رسی مہنگی ہوتی تھی، جب روزی اور روزے کا فرق مٹا دیا گیا تھا، جب مچھلی ڈوب رہی تھی اور لوہا تیر رہا تھا، جب جمہوریت کو لہو سے زیادہ جونک لگائی گئی تھی، جب پکے گھڑوں پر بھی مٹی لگتی تھی، ہتھیلی پر سرسوں کیا سندر بن جیسے جنگل اگا دیئے جاتے تھے، جب صندل کی لکڑی سے چولہے جلائے جا رہے تھے… وہ دن بیت گئے وہ وقت گزر گیا لیکن سیاسی بدنصیبوں کی سوئیاں بدستور وہیں پھنسی ہوئی ہیں۔ ان لوگوں نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے تو ”تیسری قوت“ پھر سے دو قوتوں تک محدود ہو جائے گی جو جمہوریت کے لئے بہت بڑا المیہ ہو گا کیونکہ انیس بیس، اٹھارہ بیس، پندرہ بیس کے فرق کے ساتھ تین سیاسی قوتوں کی موجودگی بہت ضروری ہے۔ ن لیگ میں ضرورت سے زیادہ بڑا ڈینٹ پڑ گیا تو یہ جمہوریت کے لئے نیک شگون ہرگز نہ ہو گا… کیسے؟ پھر کبھی تفصیلاً عرض کروں گا۔
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
|
محمدخلیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|