((آج بعد از فجر ایک درس قرآن اٹینڈ کیا ہے جو ڈاکٹر عبد الرحمٰن مکی صاحب نے ارشاد فرمایا.مکی صاحب جماعۃ الدعوہ کے شعبہ امور خارجہ کے مدیر ہیں اور اج کل سیلاب زدگان کی مدد کے لیے سندھ کے ذمہ دار ہیں.بیسک تھیم انہی کا ہے البتہ کئی جگہ میں نے بات کو واضح کرنے کے لیےمثالیں شامل کر دی ہیں ((
ا
اللہ قرآن میں دو جگہ پر آنے والی تکالیف اور مصائب کا ذکر فرماتے ہیں لیکن دونوں جگہ پر انداز مختلف ہے::
سب سے پہلے سورہ البقرہ مین ارشاد ہے کہ:
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں
یہاں پر سختیاں اور تکالیف اہل ایمان پر آزمائش کے طور پر زکر ہوئی ہیں،جیسا کہ احادیث میں بھی اتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بندے کے ایمان کے مطابق اس پر ازمائش آتی ہے،اور اپ صلی اللہ علیہ و سلم پر 3 سال تک شعب ابی طالب کی آزمائش جاری رہی.
دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں::
أَوَلاَ يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لاَ يَتُوبُونَ وَلاَ هُمْ يَذَّكَّرُونَ
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال میں ایک بار یا دو بار مصیبت میں مبتلا کئے جاتے ہیں پھر (بھی) وہ توبہ نہیں کرتے اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں
التوبہ:126
یہاں پر "فتنہ" کا لفظ اللہ کی طرف سے پکڑ کے لیے استعمال ہوا ہے،اور یہ اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوتی ہے اپنے بندوں کے لیے کہ وہ نافرمانیوں سے باز آ جائیں.
اب ہم اگر زرا سی توجہ کریں تو یہ بات بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ آج ہم جن حالت کا شکار ہیں وہ دوسری آیت کریمہ سے متعلق معلوم ہوتے ہیں.باخصوص پچھلے چند سالوں سے ہر سال کوئی نہ کوئی خدائی وارننگ ضرور ہمیں جھنجوڑتی ہے کہ ہم ہوش میں اجائیں،جس کی واضح مثالیں اس پہلے 2005 کے زلزلے سے اس سیلاب تک ہر سال ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں.
اور یہ خدائی وارننگ اس لیے ہوتی ہے کہ ہم توبہ کر لیں اور نصیحت پکڑ لیں کہ اللہ ہی ہر چیز پر مالک قادر ہے تو اس کے حق میں نافرمانیوں سے باز آ جائیں::
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ
فرما دیجئے: وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے (خواہ) تمہارے اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر کے آپس میں بھڑائے اور تم میں سے بعض کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ دیکھئے! ہم کس کس طرح آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ یہ (لوگ) سمجھ سکیں
اللہ نے عذاب کے نہ دینے کی دو وجوہات بتائی ہیں::
وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ
اور (درحقیقت بات یہ ہے کہ) اللہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ان پر عذاب فرمائے درآنحالیکہ (اے حبیبِ مکرّم!) آپ بھی ان میں (موجود) ہوں، اور نہ ہی اللہ ایسی حالت میں ان پر عذاب فرمانے والا ہے کہ وہ (اس سے) مغفرت طلب کر رہے ہوں
اب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تو ہم میں نہیں ہیں،تو
انفرادی اور اجتماعی استغفار ہی واحد ذریعہ ہے کہ اللہ کے عذاب ہم پر سے ٹل جائیں.آج سیلاب کو ایک مہنہ ہونے کو ہے اور حالت یہ ہے کہ اور سے اور علاقے زیر اب آرہے ہیں،اور رمضان کا مہنہ اس پر مستزاد ہے،لیکن ہم لوگ نہ تو انفرادی سطح پر اور نہ ہی اجتماعی سطح پر مائل بہ توبہ ہو رہے ہیں.
خلیفہ ھارون الرشید کا حاجب بیان کرتا ہے کہ ایک دفعہ بغداد میں اتنی تیز اندھی آئی کہ سارا بغداد تنکوں کی طرح لرزنے لگا،گھروں کی چھتیں اڑنا شروع ہو گئیں اور آندھی تھی کہ تھمنے کا نام نہ لے رہی تھی،حاجب(سیکرٹری( کہتا ہے میں ھارون کے محل کی طرف دوڑا جو کچھ فاصلے ہر تھا کہ اسے خبر دوں کی بغداد کی یہ حالت ہے تو میں نے اسے بہت تلاش کیا لیکن محل میں وہ کہیں نہ مل.پھر مجھے ایک خاص گوشے کا خیال آیا تو میں نے آخری امید پر وہاں دیکھا : کیا دیکھتا ہوں کہ خلیفہ سجدے میں پڑا دعا و مناجات میں مصروف ہے.........اتنی دیر سجدے میں گزر گئی کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں خلیفہ فوت ہی تو نہیں ہو گیا ہے،میں قریب ہوا تو وہ ہچکیوں سے ہل رہا تھا اور کہ رہا تھا کہ::
یا للہ!اگر یہ عذاب میرے گناہوں کی وجہ سے ہے تو ھارون اس وقت تیری بارگاہ میں حاضر ہے،تو اسے اٹھا لے اور بغداد کو بچالے....!!!
آج ہمارے حکمران اس "قدرتی آفت" سے بیرونی امداد کی مدد سے "نمٹنے" کی باتیں کر رہے ہیں...اور اللہ سے استغفار کی بجائے بانکی مون کے دورے پر پھولے نہیں سما رہے....اور من حیث القوم ہم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں شریک ہیں جو درحقیقت صلیب کی اسلام کے خلاف جنگ ہے....لاکھوں افغان معصوموں کے خون کی ایک ایک بوند نچوڑنے میں ہمارا کلیدی کردار ہے...صلیبی لشکر کی سپلائی کے تمام روٹ ہمارے ملک میں ہیں اور ہم زیادہ سے زیادہ ایک ٹھندی آہ بھر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں...عذاب کیوں نہ آئیں،
یہ تو اللہ کا عفو و درگزر ہے کہ اس نے بڑے بڑے شہروں کو شاید مزید مہلت دے دی ہے،لیکن ہم جانتے ہیں ہمارے اعمال جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کے لوگوں سے کہیں بدتر ہیں.....اور مہلت کے بعد انے والا عذاب کہیں زیادہ سخت ہوا کرتا ہے...!!!
ایسے حالات میں ہمیں اسوہ نبوی کی اشد ضرورت ہے.....مضر اور ربیع قبیلہ کے لوگ اپنے علاقہ میں آنے والے قحط سے تنگ آ کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے تو ان کے لباس پھٹے ہوئے اور زبانیں باہر ارہی تھیں،نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو آذان کے لیے کہا.انہوں نے اذان دی تو صحابہ بھاگتے ہوئے مسجد نبوی میں آگئے کہ یہ وقت تو نہیں ہے اذان کا تو کوئی خاص بات ہے.دیکھا تو ایک طرف اقا علیہ السلام کھڑے ہیں اور دوسری طرف متاثرین.......
راوی صحابی کہتے ہیں کہ تھورڑی ہی دیر میں مسجد نبوی میں کھجوروں ،غلے اور کپڑوں کاڈھیر لگ گیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم ابھی بھی مزید کے لیے کہہ رہے ہیں!! اب انصاریوں نے ایک دوسرے کی طرف کن اکھیوں سے دیکھا اور اپنے اپنے گھروں کی طرف چلےگئے .واپس آئے تو سونے کی خالص اشرفیوں سے بھرے تھیلے ان کے ساتھ تھے اور ایک انصاری اتنی وزنی بوری لا رہا تھا کہ وہ اس سے اٹھائی نہیں جا رہی تھی........!!!
اتقوا النار ولو بشق تمرہ
لوگو اگ سے بچ جاؤ بھلے کھجور کا کچھ حصہ ہی کیوں نہ ہو.
لیکن ان نامساعد حالت میں بھی امید کے چراغ جالانےوالے خون جگر سے انہیں روش رکھے ہوئے ہیں،سیلاب کے سلسلے میں امیر محترم نے میری ذمہ داری سندھ میں لگائی ہے،چند ایک واقعات آپ کے سامنے رکھتا ہوں تاکہ یہ بھی پتہ چل سکے کہ ساری امت ہی نہین سوئی ہوئی
اللہ نے اس امت خیر کبھی بھی ختم نہیں فرمائی.
1::ہمیں کراچی میں لیہ سے فون آرہے تھے کہ کشتی کی اشد ضرورت ہے اور ہم نے اللہ کی توفیق سے اس کے لیے رقم بھی ارینج کر لی تھی جو قریبا اڑھائی لاکھ تھی.ہماری معلومات یہی تھیں کہ اتنے میں مل جائے گی. اب جب بھائی کو کشتی لینے بھیجا تو اس نے بتایا کہ اب یہان کشتی ساڑھے چار لاکھ سے کم دینے پر راضی نہیں ہیں، اب میں ہکا بکا تھا کہ یا اللہ ادھر سے ڈیمانڈ اتنی شدید ہے اور ادھر ظالموں نے کیا کرنا شروع کر دیا ہے!!!اسی پریشانی کاذکر میں ایک بھائی سے کر رہا تھا کہ پاس ہی ایک بالکل ان نان ادمی یہ سب کچھ سن رہا تھا،
وہ تھوڑا سا آگے ہوا اور کہنے لگا
""آپ دو کشتیاں لوڈ کروا لیں،پیسے میں دوں گا"" ......
نہ تو اس کی داڑھی تھی اور نہ ہی وہ ہماری جماعت کا رکن تھا....میں اس کا منہ دیکھتا رہ گیا کہ اس نے کتنی آسانی سے 9 لاکھ روپے فورا پیش کر دیے ہیں.
اس کا ایک دوست اس سے کہنے لگا کہ میرا کوئی واقف ہے وہاں وہ کم کر دے گا تو اس نے کہا
""چھوڑو یار پیسوں کا کیا کرنا،کسی کی جان بچ جائے گی تو قیامت کو شاید اللہ ہماری خلاصی کر دے""
2::اسی طرح اندرون سندھ خوراک بھجوانے لگے تو ایک بھائی نے کہا کہ میں چاولوں کا اتنا عطیہ مزید دوں گا،تو میں جھنجلایا ہوا سا تھا میں نے اسے کہہ دیا کہ چاول نہیں چاہیں!!!دراصل سندھی لوگ چاول اس طرح نہیں کھاتے جس طرح ہم پنجابی کھاتے ہیں اور ویسے بھی یہ اگست کا مہینہ ہے تو پیاس لگتی ہے چاولوں کے بعد اور پانی کی شدید قلت پہلے سے ہے........
اب وہ شخص فورا بولا کہ چاول نہیں تو کیا چاہیے؟میرے منہ سے غیر ارادی طور پر نکلا کہ روٹی،وہ فورا بولا کہ
""اپ انتظام فرمائیں میں ان شاء اللہ ایک لاکھ روٹی اپنے بھائیوں کے لیے بھجواؤں گا"" اب اسے بتایا کہ بھائی روٹی خراب ہو جائے گی سوکھ جائے گی تو وہ فورا چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد ایا تو اس کے ہاتھ مین دو تھیلے تھے،کہنے لگ:
""ان میں نان ہیں،یہ 5 دن تک خراب نہیں ہوں گے اور تازہ رہیں گے،روزانہ کے حساب سے اپ ڈیمانڈ دیتے جائین میں 15 ہزار اور ضرورت ہوئی تو 20 ہزار نان انشاء اللہ روزانہ ذمے لیتا ہوں""
3::اندرون سندھ ایک شخص تین دن ہمارے ساتھ رہا اور جب ہم واپس کراچی پہنچے تو ایک بھائی نے مجھے بتایا کہ یہ شخص کروڑوں مین نہیں ہے،مطلب اس سے بھی زیادہ ہے!!! میں نے اس سے پوچھا کہ آپ یہ کیوں کر رہے ہیں تو کہنے لگا میرا بیٹا اس کام میں شریک ہونے آپ کے رضا کاروں کے ساتھ چلا گیا ہے اور وہ روزانہ وہاں سے اپنی ماں کو فون کرتا ہے کہ مام یہ نہیں ہے اور وہ بھی نہیں ہے،
اور ابھی تک لوگوں کو شلٹر نہیں ملا اور لوگ اب بھی پیاسے ہیں....اس کی والدہ اپنے سارے حلقے سے سامان اکٹھا کرتی ہے اور میں لے لے کر وہاں پہنچتا ہوں!!
اور حالت یہ تھی کہ تین دن سے اس نے کپڑے نہیں بدلے تھے....!
4::شالیمار چوک پر کیمپ میں موجود نوجوان سے میں ے پوچھا کہ کل کتنی امداد بھجوا چکے ہو تو اس نے مجھے بتایا کہ
صرف اس کیمپ سے 82 ٹرک بھیجے جا چکے ہیں........1
اس لیے
امیدوں کو بلند رکھیں،حوصلے پست نہ ہونے دیں، اور مایوسیوں کو جھٹک دیں، ہاں خود سے اتنا ضرور سوال کر لیں کہ میں نے اس میں کتنا حصہ ڈالا ہے اور کتنا میں کر سکتا ہوں اور کتنا میں نے اور کا سوچا ہے!!!بے شک اللہ ہی اہل ایمان کا "مولٰی اور حامی و ناصر ہے.
اللہ سے دعا توبہ استغفار کریں اور ساتھ ہی ساتھ ہر کوئی اپنی استطاعت سے بڑھ کر اس کام میں اپنا حصہ ڈالیں کہ رمضان میں ویسے بھی نفل کا ثواب فرض اور فرض کا ثواب بے حد و حساب بڑھ جاتا ہے،اور اللہ سے دعا کریں کہ ہم کمزور ہیں ہم پر رحم فرما اور اپنے عذاب کو ہم پر سے دور فرما دے،
ھذا ما عندی و ما علینا الا البلاغ
.................................................. ..............
نوٹ::
فلاح انسانیت فاؤنڈیشن جماعۃ الدعوہ کا ذیلی ادارہ ہ جو ریلیف کا تمام اپریشن چلا رہا ہے.