واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


شادی ایک مذہبی فریضہ یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نمائشی شو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-10-09, 08:14 AM   #1
شادی ایک مذہبی فریضہ یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نمائشی شو
ڈاکٹرنور ڈاکٹرنور آف لائن ہے 17-10-09, 08:14 AM

شادی ایک مذہبی فریضہ یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نمائشی شو

شادی ۔۔۔۔ شادی ۔۔۔۔
خانہ آبادی۔۔۔
ہر مذ ہب میں شادی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے - اسلام میں شادی حکم خداوندی کے ساتھ ساتھ سنت رسول بھی ہے۔
اسلام شادی کو معاشرے کی بنیا د کا پہلا پتھر قرار دیتا ہے ۔ اور قران میں بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ شادی، میاں بیوی کے تعلقات، اور طلاق جیسے معاملات کو بیان کیا گیا ہے۔
شادی جہان ایک مذہبی فریضہ ہے وہیں ایک اہم ذمہ داری بھی ہے۔
ایک مر د یا ایک عورت شا دی کے معاشرے میں عملی کردار ادا کرنے کی ابتدا کرتے ہیں۔
چنانچہ ضروری ہے کہ شادی سے پہلے ہی ہر دو افراد کو ان تمام ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ کیا جائے جو ایک معاشرے کا فعال رکن بننے کی حیثیت سے ان پر نا فذ ہوتی ہیں۔

ہمارے ماحول میں شادی اب ایک مذہبی فریضے سے زیا دہ ایک نمائشی پروگرام اور ایک نام نہادثقافتی شو بن کر رہ گئی ہے - اسکے پیچھے ایک مکمل تاریخ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برصغیر پاک وہند کا علاقہ اسلام کی روشنی آنے سے پہلے بہت سارے من گھڑت مذاہب کی آماجگا ہ
رہاہے ۔ جن میں سر فہرست ہندو مت ہے۔ ہندو مت بنیادی طور کچھ رسومات اور کچھ توہمات کا ملغوبہ ہے- شادی کے حوالے سے جہیز کا معاملہ سر فہرست ہے۔ ہندووں میں وراثت کے جو قوانین ہیں- ان میں خواتین کو بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے۔ تاہم اس خامی کو جہیز کی روائت سے درست کرنے کی کو شش کی گئی ہے۔ چنانچہ ہندو معاشرے میں ایک لڑکی کے والدیں اسے وراثت میں حصے کے بجائے جہیز کی شکل میں متبادل دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔
اسی طرح لڑکی کے قریبی عزیز اقارب کو ایک نام نہاد رسم کے تحت لڑکی کو جہیز کیلئے حصہ ڈالنے کا پابند بنا یا گیا ہے۔ جسے مختلف علاقوں مختلف نام دیے گئے ہیں ۔ مثلا ننھال کا دین، دوھیال کا دین وغیرہ۔
شادی پر فضول اور بے معنی رسموں کے ذریعے اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے کی لت بھی اسی ہیندوانہ معاشرے کی روائت ہے۔
چونکہ برصغیر میں لڑکی لڑکے کے آزادانہ ملاپ کو صدیوں پہلے سے قابل مذمت سمجھا جا تا تھا لہذا شادی کو لڑکی لڑکے آزادانہ اختلاط کا ذریعہ بھی بنایا گیا۔ اور شادی میں کچھ ایسی رسموں کا اضافہ کیا گیا جس میں ہردو جنس براہ راست شریک ہو سکے۔ اس میں میں مختلف علاقوں میں مختلف انداز اور مختلف ناموں کے ساتھ رسوم ملتی ہیں لیکن مقصد سب کا ایک ہی ہے۔
شادی پر ڈھول اور ناچ گانا بھی اہم رسم شمار کی جا تی ہے-اس میں پیسے کے ضیاع کو قابل فخر رسم سمجھا جاتا۔ ڈھول باجے بجانے والوں اور ناچ گانا کرنے والوں پر پیسے لٹانا اسی جاہلانہ معاشرےکی نفسیاتی احساس کمتری کا مظہر ہے۔

جہیز بنانا تو پھر بھی سمجھ میں آتا ہے۔ مگر خصوصی طور ایک دن مخصوص کرکے جہیز کی نمائش کرنا بھی صدیوں پرانی رسم ہے ۔ یہ رسم جہاں نام نہاد احساس تفاخر بلکہ تکبر کی نمائندہ ہے وہیں غریب افراد کی دل شکنی کا با عث بھی ہے۔
اسی طرح جہیز مانگ کر لینا، اپنی مطالباتی فہرست دلہن کے والدین کر پیش کرنا اور انکی مالی حیثیت سے بڑھ کر جہیز مانگنا انسانیت کی توہین ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اسے معمولی بات سمجھا جا تا ہے۔یہ روائت بھی تاریخ نے دی ہے۔
اپنی حیثیت سے بڑھ کر بارات بنا کر دلہن کے گھر جانا، ویلیں دینا، اور راستوں میں ناچ گانا، ہلڑبازی کرنا کسی مہذب معاشرے میں رائج نہیں ۔ مگر ہمارے ہاں اسے شادی کا جزو لاینفک گردانا جاتا ہے۔

ولیمہ بھی ایک نمائشی رسم بنا دیا گیا ہے۔ یہاں بھی زیادہ سے زیادہ افراد کو مدعو کرنا، ہوٹلوں میں کھانے کا انتظام کرنا، کھانے کے دوران بے جا بے صبری ، ہلڑبازی، اور کھانے کا ضیا ع جیسی چیزیں ولیمہ کی تقریب کی اسلامی روح سے قطعا مماثلت نہیں رکھتیں۔
بات شادی تک محدود نہیں۔ شادی کے بعد بھی فضول رسومات کی ایک لمی فہرست ہے۔ جو خصوصی طور پر لڑکی کے والدین کو معا شی لحاظ مزید کمزور کرتی ہے۔

دیکھا جائے تو موجودہ رسم و رواج کے سا تھ شادی لڑکی کے والدین کیلئے انکے معاشی قتل کے مترادف ہے۔

مجھے سمجھائیے ہماری شادیوں میں سوائے نکاح کے کونسی چیز اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہے؟

 
ڈاکٹرنور's Avatar
ڈاکٹرنور
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 152
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
Abdul Monem Riaz (20-10-09), فاروق سرورخان (17-10-09), ام طلحہ (20-10-09), رانا امر (17-10-09), سحر (18-10-09)
پرانا 17-10-09, 08:17 AM   #2
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میری یہ تحریر پہلے ایک اور جگہ پر چھپ چکی ہے اسی فورم پر۔
تاہم وہاں موڈریٹر کی سہمولت کی وجہ سے کھل کر بات نہیں ہو سکتی تھی
مین نے انتظامیہ سے گذارش کی تھی کہ اسے دوسرے جگہ پر شفٹ کیا جائے تاہم کافی انتظار کے بعد بھی یہ نہ ہوا
اب میں اسے آپ کے سامنے پیش کر رہاہوں۔۔
تاکہ آپ کی رائے جانی جاسکے
شکریہ
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
Abdul Monem Riaz (20-10-09), ام طلحہ (20-10-09), رانا امر (17-10-09)
پرانا 17-10-09, 02:43 PM   #3
Senior Member
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,383
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہاں‌میں نے شایددیکھی تھی اور تبصرہ بھی کیا تھا، لیکن بعد میں وہ کہیں‌گم ہو گیا سارا دھاگہ
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-10-09, 11:55 PM   #4
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ ہمارا المیہ ہے
ہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرسکے کہ ہم کو ہندوانہ طور طریقوں پر چلنا ہے یا اسلام پر چلنا ہے ۔
ہم ان رسموں پر چلتے چلتے اسلام کیا انسانیت کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
Abdul Monem Riaz (20-10-09), ڈاکٹرنور (20-10-09)
پرانا 19-10-09, 08:11 AM   #5
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : یاسر عمران مرزا مراسلہ دیکھیں
ہاں‌میں نے شایددیکھی تھی اور تبصرہ بھی کیا تھا، لیکن بعد میں وہ کہیں‌گم ہو گیا سارا دھاگہ
جی ہاں درست کہا
اسی لئے اسے اوپن فورم میں لایا ہوںکہ کھل کر بات ہو
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-10-09, 09:48 AM   #6
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ان جہلا کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ اگر ہم نے انہی کی تقلید کرنی ہوتی تو ملک آزاد کیوں کرایا جاتا۔ آنکھیں بند کر کے انہی کے پیچھے چلنا ہوتا تو ہماری اپنی پہچان کیا ہے۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
Abdul Monem Riaz (20-10-09), ڈاکٹرنور (20-10-09)
پرانا 20-10-09, 10:02 AM   #7
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 19
کمائي: 687
شکریہ: 273
18 مراسلہ میں 47 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ڈاکٹر نور صاحب،
آپکا شکریہ کے آپنے میرے خونِ دِل سے لکھے کو پسند کیا۔ فی زمانہ تو یہ بھی جہاد ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو ایک سچا پاکستان دے دیں۔آپ کی تحریر پے کیا لکھوں مگر جلد حالِ دل ضرور لکھوں گا۔
دعاگو
Abdul Monem Riaz آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Abdul Monem Riaz کا شکریہ ادا کیا
ڈاکٹرنور (20-10-09), ام طلحہ (20-10-09)
جواب

Tags
فورم, ہندو, کوشش, گذارش, پاک, قران, لڑکی, مکمل, موجودہ, انتظامیہ, اسلام, اسلامی, بیوی, تحریر, حکم, خواتین, خصوصی, شادی, طلاق, عورت, علاقہ, عمران, عزیز, غریب, صدیوں


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:52 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger