واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


شعیب ثانیہ شادی اور میڈیا سرکس

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-04-10, 11:07 PM   #1
شعیب ثانیہ شادی اور میڈیا سرکس
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 26-04-10, 11:07 PM

انصار عباسی

کرکٹر شعیب ملک کا بہنوئی عمران ظفر آخر کار چیخ اٹھا کہ خداکے لیے میڈیا سرکس بند کرو۔ مگر میڈیا کو اس غریب کی یہ بات بھی اچھی نہ لگی اور تقریباً تمام پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینلز نے بولنا شروع کر دیا کہ عمران ظفر نے میڈیا کو ڈانٹ دیا۔ وہ غریب تو اس بات پر پریشان تھا کہ ٹی وی کیمرے اب ان کے گھروں اورخوابگاہوں میں گھس گئے ہیں مگر وہاں موجود کچھ صحافی کس ڈھٹائی کے ساتھ اس حقیقت سے منہ موڑ رہے تھے جبکہ میڈیا لمحہ بہ لمحہ شعیب ملک کے گھر کے اندر کی فلم مسلسل چلا رہا تھا۔ ان ٹی وی کیمروں نے تو ہوٹل کے کمرے اور حتیٰ کہ باتھ روم کی ویڈیوز بھی جاری کر دیں جہاں شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کو ٹھہرنا تھا۔ وہ دونوں بھی میڈیا کے اس دیوانگی سے پریشاں اور ہراساں نظر آ رہے تھے۔ ثانیہ مرزا توایک موقع پر رو پڑی جبکہ اس کی ماں دھکم پیل میں گر گئی۔ جب ٹی وی چینل دیکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد میڈیا کی اس دیوانگی سے تنگ آ چکی ہے تو نجانے جن پر گزر رہی ہے ان کا اصل میں کیا حال ہو گا۔ جب سے شعیب ثانیہ کی شادی کی خبرآئی ہے اس وقت سے الیکٹرانک میڈیا نے پوری قوم کو ایک ہیجان میں مبتلا کر دیا ہے۔ پاکستان کا کوئی بھی مسئلہ، بڑی سے بڑی خبر اور کسی بھی واقعہ کی آج شعیب ثانیہ اسٹوری سے زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ اسی دوران اُمہ کے ایک بڑے اور بین الاقوامی شہرت کے حامل مفکر اور اسلامک اسکالر ڈاکٹر اسرار احمد کی وفات بھی ہوئی مگر اس خبر کو الیکٹرانک میڈیا نے شعیب اور ثانیہ کی شادی کی وجہ سے وہ اہمیت دینے کی ضرورت نہ سمجھی جس کا وہ حق رکھتے تھے۔ بلا شبہ ایسے اسکالرز روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ الیکٹرانک میڈیا پر ایک ہی سین کو بار بار دکھا کر ایک ایسی کیفیت پیدا کر دی جاتی ہے کہ عام دیکھنے والا بھی ٹی وی چینل بدلنے یا بند کرنے پر مجبور ہونے لگا ہے۔ کبھی خوشی کی خبریں دی گئیں تو کبھی ایسے ایسے اسکینڈل نکالے گئے اور ان کو اس انداز سے پیش کیا جانے لگا جیسے میڈیا کی پوری کوشش ہو کہ یہ شادی نہ ہو سکے۔ ابھی عائشہ صدیقی اور شعیب ملک کی شادی کا مسئلہ حل ہی ہواتھا کہ شعیب ملک کی کچھ غیرملکی عورتوں کے ساتھ قابل اعتراض تصاویر دکھائی جانے لگیں۔ ان تصاویر کو دکھاتے وقت اس بات کا بھی احساس نہ کیا گیا کہ دیکھنے والوں کی اکثریت کا تعلق ایک ایسے ماحول سے ہے جہاں شرم و حیا کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ شعیب ثانیہ کی اس سب کے باوجود شادی ہو گئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا میڈیا اس بندھن کو قائم و دائم رہنے دیتا ہے کہ اپنی خبر اور سنسنی کی خاطر ان دونوں کا پیچھا کرتا رہے گا۔ شعیب ثانیہ کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس کو دیکھ کر مغربی میڈیا سے تعلق رکھنے والے ان Paparazzi( فوٹو گرافر، کیمرہ مین) کا خیال آتا ہے جن کی وجہ سے اور جن سے بھاگتے ہوئے برطانیہ کی لیڈی ڈیانا اور اس کے دوست ڈوڈی الفائد کو 1997ء میں فرانس میں اس ٹریفک حادثہ کا سامنا کرنا پڑا جس نے دونوں کی جان لے لی۔ پوری دنیا میں اس نوعیت کی صحافت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور نئے اصول وضع کئے گئے۔ مگر ہم شاید ابھی تک ان حدود کا تعین نہیں کر پا رہے جو ایک خبر، سنسنی اور پھر پاگل پن کے درمیان تفریق کے لئے ضروری ہے۔ جس طرح دہشت گردی کے واقعات کو دکھاتے ہوئے اب ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے لاشوں کو دکھانا بند کر دیا ہے اسی انداز میں کچھ دوسری خبروں میں سنسنی اور بے جا Repetition (بار بار دہرانا) کو روکنے کی ضرورت ہے۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز نے پاکستانی جیل میں قید سزا یافتہ ایک بھارتی جاسوس کشمیر سنگھ کی رہائی اور ہندوستان کے حوالے کئے جانے کی خبر کو اس انداز میں پیش کیا جیسا کہ کوئی بہت بڑا ہیرو جیل سے رہائی پا کر اپنے ملک واپس جا رہا ہے۔ تقریباً دو روز تک ٹی وی اسکرینز پر کشمیر سنگھ چھایا رہا۔ بار بار گھنٹوں تک اس کی جیل سے نکلتے ہوئے فلم دکھائی جاتی رہی۔ بھارت میں موجود اس کے گھر والوں کے انٹرویوز دکھائے گئے۔ کئی بار کشمیر سنگھ کو حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے دکھایا گیا اور یہ بھی بتایا گیا وہ مسلمان ہو چکا ہے۔ سر پر سفید ٹوپی پہنے کشمیر سنگھ جونہی اس وقت کے ایک پاکستانی وزیر کے ساتھ اپنے ملک ہندستان پہنچا تواس نے نہ صرف یہ اعلان کیا کہ وہ سکھ تھا، سکھ ہے اور سکھ رہے گا بلکہ اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اس کو جاسوسی کے لئے پاکستان بھیجا گیا تھا۔ یہ سب سن کر ہمارے میڈیا کی سٹی گم ہو گئی اور کچھ شرمندہ شرمندہ انداز میں یہ خبریں سرسری انداز میں چلائی گئیں۔ یہ ایک اور المیہ تھا کہ بھارتی جاسوس کی ایک ہیرو کی طرح پاکستان سے ہندوستان واپسی کے چند روز کے اندر اندر بھارتی جیل میں قید ایک پاکستانی کی لاش پاکستان کے حوالے کی گئی۔ اس پاکستانی قیدی کو تشدد کر کے مارا گیا تھا مگر اس واقعہ کی کوریج کو کشمیر سنگھ کی کوریج کے مقابلہ میں کوئی زیادہ اہمیت نہ ملی۔ یہی کچھ گزشتہ سال سوات سے متعلق مبینہ اس ویڈیو کیساتھ ہوا جس میں ایک لڑکی کو سرعام کوڑے مارتے ہوئے دکھایا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو یہ لکھ کر دیا کہ وہ ویڈیو جعلی تھی۔ یہی کچھ اس وقت کے کمشنر سوات نے لکھا اور کہا مگر اس متنازعہ فلم کو کئی روز کئی ہفتے چلایا جاتا رہا جیسا کہ وہ ایک اٹل حقیقت اور مکمل سچ پر مبنی تھی۔ حال ہی میں اس وڈیو کے جعلی ہونے کی پھر خبریں شائع ہوئیں اگرچہ ابھی اس کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا نے گزشتہ سات آٹھ سالوں میں عوام میں زبردست آگاہی پیدا کی اور پاکستان میں جمہوریت کی واپسی، کرپشن کے خاتمہ اور آزاد عدلیہ کے حصول کے لئے ایک ایسا کردار ادا کیا کہ عوام نے ڈراموں، فلموں اور غیرملکی چینلز کو دیکھنے کی بجائے اپنے ملک کے نیوز چینلز کو دیکھنا شروع کر دیا۔ مگرپاکستان کے موجودہ حالات کی بہتری، عوام کے مسائل اور نت نئے جنم لینے والے سیاسی اور سماجی بحرانوں کے حل کے لئے پاکستانی میڈیا کو ابھی بہت اہم کردار ادا کرنا ہے تاکہ لوگوں کی زندگیوں کو آسودہ حال بنایا جا سکے، کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکے، گڈگورننس کا حصول ممکن بنایا جا سکے، اداروں کو مضبوط بنایا جا سکے اور ایک ایسی جمہوریت کا نفاذ ممکن بنایا جا سکے جس کے ثمرات ایک مخصوص طبقہ اور چند خاندانوں کی بجائے عوام کو حاصل ہو سکیں۔ اس کے لئے میڈیا پر عوام کے اعتماد کا قائم رہنا نہایت ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو کہ عوام عمران ظفر کی طرح چیخ اٹھیں کہ خدا کے لیے میڈیا سرکس بند کرو۔

روزنامہ جنگ۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 284
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
rabab (26-04-10), حیدر (28-04-10), عبداللہ آدم (26-04-10)
پرانا 27-04-10, 12:01 AM   #2
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میڈیا صرف اور صرف لبرل ازم کو فروغ دے رہا ہے اور قوم کو تازہ ترین کے عذاب میں مبتلا کر کے نفسیاتی مریض بنایا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی اخلاقی حدود،کوئی ضابطہ اور قاعدہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن شعیب اور ثانیہ کو خود بھی تو شوق ہے پبلیسٹی کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔بھگتیں پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (28-04-10), اویسی (27-04-10), حیدر (28-04-10)
پرانا 28-04-10, 05:46 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جس میڈیا نے تیس لاکھ سے زائد افراد کو محض اپنے کاروبار کو چمکانے کی خآطر بے گھر کر دیا ہو، جس میڈیا نے اپنے آپ کو قائم رکھنے کی خاطر پوری مملکت پاکستان کو ہیجان میں اور جنگی حالات میں ڈال دیا ہو ، کیا اس میڈیا کو شیعب اور ثانیہ کی کوئی پرواہ ہوگی؟
عنقریب انکے درمیان اختلافات کی خبریں بھی انہی سکرینوں کی زینت بنیں گی
انشا اللہ اگلا آپریشن میڈیا کے خلاف ہوگا۔ وہ وقت دور نہیں انشا اللہ جب اس بے لگام گھوڑے کو لگامیں ڈالی جائیں گی۔
ابھی ہم کو اس سے سوات کا بدلہ لینا ہے انشا اللہ
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rabab (28-04-10), ھارون اعظم (28-04-10), عبداللہ آدم (28-04-10)
پرانا 28-04-10, 08:50 PM   #4
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لیکن اچھی بات یہ ہے کہ میڈیا کے کچھ نمائندے بھی اس طرز عمل کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (28-04-10)
جواب

Tags
فوٹو, کورٹ, ٹریفک, پاکستان, پاکستانی, پاگل, واقعات, وزیر, لڑکی, نیوز, نظر, مکمل, موجودہ, مقابلہ, ممکن, ماں, مسائل, آج, اللہ, تصاویر, جیل, حال, دوست, صحافت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عید میلاد النبی (تیسرا ایڈیشن)[ عادل سہیل ] نورالدین کتاب گھر 5 14-10-10 10:16 AM
سیلاب متاثرین کو عید سے پہلے امداد ملے گی۔۔۔۔ مگرکونسی عید سے پہلے جاویداسد خبریں 0 09-09-10 02:23 PM
سعودی عرب میں عید جمعہ کو ہو گی۔عیدکا چاند نظر نہیں‌آیا پاکستا ن کا چاند دیکھے گا جاویداسد خبریں 0 08-09-10 10:43 PM
جیو کی بندش اورمیڈیا پر پابندیوں کیخلاف لندن ، ٹیکساس ، نیویارک ، ٹورنٹو، بارسلونا،برمنگھم اور پاکستان کے مختلف شہروں میں مظاہرے عبدالقدوس خبریں 0 19-11-07 05:34 PM
پرنٹ میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ،کچھ مشکلات الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے ہیں،طارق عظیم خرم شہزاد خرم خبریں 0 14-11-07 02:03 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:53 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger