واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


شہرِ اقبال و فیض!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-08-10, 11:31 AM   #1
شہرِ اقبال و فیض!
shafresha shafresha آف لائن ہے 25-08-10, 11:31 AM

ایک ہفتے کی چھٹی گزار کر گھر آیا تو معلوم ہوا کہ سیالکوٹ میں میرے گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر دو نوجوان بھائیوں کی بھرے مجمع میں المناک ہلاکت نے دنیا بھر میں طوفان برپا کیا ہوا ہے۔

گھر پر فون کیا تو بہن نے بتایا کہ یہ خبر تو پرانی ہو چکی ہے۔ میرے والد البتہ پریشان تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ایک رشتہ دار نے کہا کہ جٹوں اور کشمیریوں کی آپس میں لڑائی کا نتیجہ ہے۔

مجھے دو نوجوان بھائیوں کی موت کا تو بہت دکھ ہے ہی مگر اس سے بھی زیادہ دکھ اس معاشرے کی موت کا ہے جو ٹرالی سے زمین پر گرتی ہوئی لاشوں کے مسخ شدہ چہروں کی تصاویر انتہائئ قریب جا کر بنا رہا تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اقبال اور فیض کے شہر سیالکوٹ میں اب انسان نہیں بلکہ صرف درندے ہی بستے ہوں۔

ماضی میں سیالکوٹ میں ایسی درجنوں ہلاکتیں ہوئیں جن پر ماورائے عدالت قتل کا الزام لگا اور ایسے واقعات ہوئے جہاں لاشوں کو سر عام بازاروں میں پھرایا گیا

ہندوؤں کی معتبر کتاب مہا بھارت میں سیالکوٹ کا وجود چھ ہزار سال پرانا ہے۔ مگر اس طرح کی درندگی کی مثال ان ہزاروں برسوں میں تو نہیں ملتی۔ چودہ منٹ کی اس دردناک وڈیو نے ابھی سر چکرا کے رکھ دیا ہے۔ نہ سو سکا نہ سمجھ میں آیا کہ کیا ہو رہا ہے پاکستان میں۔

صنعتی شہر میں کہا جاتا ہے کہ بعض اداروں کے مالکان کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ پولیس مقابلوں کے ’سپیشلسٹ‘ ایس ایچ او اس شہر میں تعینات کیے جائیں۔ ماضی میں سیالکوٹ میں ایسی درجنوں ہلاکتیں ہوئیں جن پر ماورائے عدالت قتل کا الزام لگا اور ایسے واقعات ہوئے جہاں لاشوں کو سر عام بازاروں میں پھرایا گیا۔

خبر سننے کے بعد مجھے سب سے پہلے ستائیس سالہ حافظ محمد عمران شہزاد نامی مقامی صحافی کی جان کی فکر لاحق ہوئی۔ اصل حقائق جاننے کے لیے حافظ عمران کو کال کی جو سارے واقعہ کا چشم دید گواہ ہے۔

اپنے سکول کے ایک مرحوم استاد یاد آ رہے ہیں جوقادیانیوں سے نفرت کرنے والے طالب علموں کو سبق یاد نہ کرنے پر رعایت برتتے تھے

اپنے کیمرے کی آنکھ سے اس درندگی کو فلم بند کرنے والا مقامی رپورٹر وکیمرہ مین حافظ عمران اب تک ٹھیک طرح سو بھی نہیں سکا اور اوپر سے ملنے والی دھمکیوں نے اس کی والدہ اور بہن بھائیوں کا مسلسل خون خشک کیا ہوا ہے اور کیوں نہ ہو۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب سن دو ہزار دو میں سیالکوٹ میں ایک مقامی صحافی جعفر خان کو ٹھیک اسی دن جب ڈینیئل پرل کا قتل ہوا اس کی حاملہ بیوی کے سامنے قتل کیا گیا تھا جسے بعد میں مبینہ طور پر ’پولیس مقابلے‘ کا رنگ دیا گیا۔

حافظ عمران اور ایک دوسرے رپورٹر بلال خان کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر فوٹیج ضائع کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ میں اور دوسرے مقامی صحافی ان نوجوانوں کی زندگیوں کے بارے میں بڑے فکرمند ہیں۔

جہالت، ظلم اور فرقہ واریت کی کئی داستانیں میں نے بطور رپورٹر سیالکوٹ میں دیکھی تھیں جن میں قادیانیوں کے گھروں کو آگ لگا کر معصوم انسانوں کو زندہ جلانے سے لے کر عیسائیوں کے قتل بھی شامل ہیں مگر اس طرح کی المناک مثال نہیں ملتی۔

میں نے بچپن سے لے کر آج تک اس شہر کی دیواروں نفرت، فرقہ واریت، شیعہ کافر، مرزائی واجب القتل، چلو چلو یہاں چلو اور وہاں چلو کے نعروں کے علاوہ کوئی کام کی چیز نہیں پڑھی ہے۔

ہماری دادی اماں جو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی وادی سے آ کر اس تجارتی شہر میں آباد ہوئی تھیں کہتی ہیں کہ اتنا بڑا ظلم تو انہوں نے بٹوارے کے دوران بھی نہ دیکھا تھا

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب بابری مسجد پر حملہ ہوا تھا تو کچھ مذہبی جنونیوں نے نوجوانوں کو دن دیہاڑے بھارت کی چیک پوسٹ پر خالی ہاتھ حملہ کرنے پر آمادہ کر لیا تھا جس کے نتیجے میں کچھ مارے بھی گئے تھے۔

کینیڈا میں مقیم ایک سعودی قوانین کے حامی پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور نے یہ بھاشن دیا کہ اس خبر کو اچھالنے سے عوام کو شعور ملے گا۔ انہوں نے اس کو مکمل طور پر ’تعلیمی وڈیو‘ قرار دیا ہے۔

مجھے اپنے سکول کے ایک مرحوم استاد یاد آ رہے ہیں جوقادیانیوں سے نفرت کرنے والے طالب علموں کو سبق یاد نہ کرنے پر رعایت برتتے تھے۔ ہماری دادی اماں جو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی وادی سے آ کر اس تجارتی شہر میں آباد ہوئی تھیں کہتی ہیں کہ اتنا بڑا ظلم تو انہوں نے بٹوارے کے دوران بھی نہ دیکھا تھا۔

اس واقع کے ملزمان کو سزا ملے نہ ملے مگر شہر کے اندر لوگ ’ریلیکس‘ ہیں اور زندگی کو معمول کے مطابق گزار رہے ہیں۔ ایک دوست نے بتایا کہ ایسا لگتا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

رحمان ملک کے بیان کے بعد سے سیالکوٹ میں ہمارے ہمسایوں کا پندرہ سالہ لڑکا اس انتظار میں ہے کہ کب قاتلوں کو لٹکایا جائے گا تاکہ وہ اپنے نئے سیل فون پر لٹکتی لاشوں کی وڈیو بنا کر یو ٹیوب پر لوڈ کر سکے

پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ اس واقعے کے ملزمان کو بھی اسی جگہ لٹکایا جائے گا جہاں پر مقتول بھائیوں کو وحشیانہ تشدد کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

لیکن سزا کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ہر طرف سے لٹکا دینے اور بالکل وہی سلوک کرنے کی باتیں پریشان کن ہیں۔ محترم وزیر کا اس طرح کا بیان دینا نئی بات نہیں۔ ویسے بھی رحمان ملک کا تعلق بھی سیالکوٹ سے ہے۔

رحمان ملک کے بیان کے بعد سے سیالکوٹ میں ہمارے ہمسایوں کا پندرہ سالہ لڑکا اس انتظار میں ہے کہ کب قاتلوں کو لٹکایا جائے گا تاکہ وہ اپنے نئے سیل فون پر لٹکتی لاشوں کی وڈیو بنا کر یو ٹیوب پر لوڈ کر سکے۔

لاشیں، جنگلی جانور، کیمرے، سیل فون، نفرتیں، قتل اور یہ سب۔ میں ان خیالوں میں گم تھا کہ کشتی میں سفر کرنے والی ایک بوڑھی خاتون نے مجھ سے پوچھا کہ ’تم کہاں سے آئے ہو؟‘۔ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا جنگل(جہاں جانور کیمرے والے فون استعمال کرتے ہیں)۔


نوٹ: مندرجہ بالا مضمون کینیڈا میں مقیم صحافی محسن عباس کا ہے جو اُنہوں نے اپنے آبائی شہر سیالکوٹ میں سر عام بھرے مجمع میں دو نوجوانوں کے قتل پر لکھا اور بی بی سی اُردو میں‌شائع ہوا ہے!
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!

 
shafresha's Avatar
shafresha
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 301
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-08-10), کنعان (26-08-10), نورالدین (26-08-10), ناصحی (26-08-10), منتظمین (25-08-10), محمدخلیل (26-08-10), مرزا عامر (26-08-10), عارف اقبال (25-08-10), عبدالقدوس (26-08-10)
پرانا 26-08-10, 02:05 AM   #2
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,991
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں نے آرٹیکل کو بی بی سی کی اردو سائٹ پر پڑھ تھا اور پاک نیٹ پر لگانے ارادہ تھا مگر آپ نے مجھے بیٹ کر دیا۔ اسمیں میں بہت سی باتیں قابل غور اور بار بار پڑھنے کے قابل ہیں

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
میں نے بچپن سے لے کر آج تک اس شہر کی دیواروں نفرت، فرقہ واریت، شیعہ کافر، مرزائی واجب القتل، چلو چلو یہاں چلو اور وہاں چلو کے نعروں کے علاوہ کوئی کام کی چیز نہیں پڑھی ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ اس واقعے کے ملزمان کو بھی اسی جگہ لٹکایا جائے گا جہاں پر مقتول بھائیوں کو وحشیانہ تشدد کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

رحمان ملک کے بیان کے بعد سے سیالکوٹ میں ہمارے ہمسایوں کا پندرہ سالہ لڑکا اس انتظار میں ہے کہ کب قاتلوں کو لٹکایا جائے گا تاکہ وہ اپنے نئے سیل فون پر لٹکتی لاشوں کی وڈیو بنا کر یو ٹیوب پر لوڈ کر سکے

لاشیں، جنگلی جانور، کیمرے، سیل فون، نفرتیں، قتل اور یہ سب۔ میں ان خیالوں میں گم تھا کہ کشتی میں سفر کرنے والی ایک بوڑھی خاتون نے مجھ سے پوچھا کہ ’تم کہاں سے آئے ہو؟‘۔ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا جنگل(جہاں جانور کیمرے والے فون استعمال کرتے ہیں)
۔
__________________
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
کنعان (26-08-10), مرزا عامر (26-08-10), عبدالقدوس (26-08-10)
پرانا 26-08-10, 02:13 AM   #3
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں

اپنے سکول کے ایک مرحوم استاد یاد آ رہے ہیں جوقادیانیوں سے نفرت کرنے والے طالب علموں کو سبق یاد نہ کرنے پر رعایت برتتے تھے


لاشیں، جنگلی جانور، کیمرے، سیل فون، نفرتیں، قتل اور یہ سب۔ میں ان خیالوں میں گم تھا کہ کشتی میں سفر کرنے والی ایک بوڑھی خاتون نے مجھ سے پوچھا کہ ’تم کہاں سے آئے ہو؟‘۔ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا جنگل(جہاں جانور کیمرے والے فون استعمال کرتے ہیں)۔
1- یقیننا ایسےقابل استاد کے شاگرد بھی جنونیت اور نالائقی میں بہت ترقی کر گئے ہونگے۔

2- جنگل یہ لفظ صرف سیالکوٹ ہی کے لئیے مخصوص کیوں؟ کیمرے والے فون تو پاکستان کے ہر جنگل میں استعمال کئے جا رہے ہیں-
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (26-08-10), ناصحی (26-08-10), عبدالقدوس (26-08-10), عبداللہ آدم (26-08-10)
پرانا 26-08-10, 05:33 AM   #4
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قصاص تو یہی ہوتا ہے کہ....................جیسا کیا...........ویسی ہی بھرو بھی..............

اس تناظر میں رحمان ملک کی بات ٹھیک ہے..................اور پھر اس دکھی ماں کا کلیجہ کیسے تھنڈا ہوگا؟؟؟؟

کیا صرف لٹکا دینے سے؟؟؟؟؟؟؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ قرآن نے اس سے بھی اندوہناک اور ہولناک سزا مقرر کی ہے...........

إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُواْ أَوْ يُصَلَّبُواْ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلاَفٍ أَوْ يُنفَوْاْ مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
Tahir ul Qadri
بیشک جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں (یعنی مسلمانوں میں خونریز رہزنی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں) ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا پھانسی دیئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں یا (وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یاقید) کر دیئے جائیں۔ یہ (تو) ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے


اب اس صورحال میں آُ دیکھ لیں کونسی سزا مناسب ہے؟؟؟؟؟؟؟

صرف قتل............یا ھاتھ پاؤں کاٹنا.................

لیکن قرآن کو پوچھتا کون ہے سزا دیتے وقت...............یہ تو محض رنضان میں ثواب کمانے کی چیز ہے اور بس.............
آئین و قانون تو 1973 اور 1931 کا ہمیں کافی ہیں...............
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-08-10), ھارون اعظم (27-08-10), نورالدین (26-08-10), مرزا عامر (26-08-10), سحر (26-08-10)
پرانا 26-08-10, 09:52 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ملاء کو حدود آرڈی نینس لکھنے کے لئے دیا تو ان ملاؤں‌نے --- امت کے اجماع --- کے نام پر سورۃ‌ الطلاق کی پہلی آیت کومنسوخ شدہ قرار دیا۔۔ اس لئے کہ اللہ تعالی کا فرمان، قرآن، طلاق یافتہ عورتوں‌کو گھر کا مالک بنانے کی ہدایت کرتا ہے اور اس کو حدود اللہ قرار دیتا ہے۔

اللہ تعالی کے اصل اور درست الفاظ میں‌دیکھئے کہ کیا یہ بھی حدود اللہ ہے یا نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ یہ حدود اللہ ، پاکستان کے حدود آرڈی نینس کا حصہ نہیں۔ اپنے ملاء سے پوچھئے۔

پاکستان کا حدود آرڈی نینس
The Hudood Laws

65:1 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا
اے نبی! (مسلمانوں سے فرما دیں جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو اُن کے طُہر کے زمانہ میں انہیں طلاق دو اور عِدّت کو شمار کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، اور انہیں اُن کے گھروں سے باہر مت نکالو اور نہ وہ خود باہر نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کر بیٹھیں، اور یہ اللہ کی (مقررّہ) حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، (اے شخص!) تو نہیں جانتا شاید اللہ اِس کے (طلاق دینے کے) بعد (رجوع کی) کوئی نئی صورت پیدا فرما دے

صرف اس لئے کہ اللہ تعالی طلاق یافتہ عورت کو اس کے بچوں کے ساتھ رہنے کا حکم دیتے ہیں۔ کہ کہیں یہ مکان اس عورت کا نہ ہوجائے ۔ لہذا اپنی خوہشاتکی پیروی میں پورا کے پورا قانون ہی غائب کردیا

اس کے بعد کہتے ہیں کہ اس ملک میں‌ ملاؤں کی نگرانی میں فرد واھد کی حکومت بنائیں گے جس کی مشاورتی کونسل ملاء‌ہونگے ۔ اس نظام کو نظام خلافت کہا جائے گا۔ اس میں من پسند قوانین بنیں‌ گے۔ جو کچھ پسند نہیں‌اس کو "امت کے اجماع‌" کی وجہ ء‌ عظیم کو روشنی میں ترک کردیا جائے گا۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (26-08-10)
پرانا 26-08-10, 11:57 AM   #6
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق سرور صاحب
کیسی باتیں کررہے ہیں آپ ۔
یہ ایک طلاق کا معاملہ ہے ،اس طریقےسے طلاق دیتا کون ہے ہمارے معاشرے میں‌
اور اگر ایک طلاق کے بعد عدت تک عورت کو گھر میں رہنے کو کہا گیا ہے
تاکہ عورت اور مرد میں صلاح ہوجایے ۔
لیکن جب عدت گذر جایے اور عورت اور مرد صلاح نا کریں تو عورت کو کچھ دے دلا کر رخصت کردو ۔
بھی ہے
گھر عورت کا ہوگا ، یہ کہاں لکھا ہے ۔
آپ کونسی بات کہاں ملا رہے ہیں
ہمارے معاشرے میں تو رواج ہی ایک بار تین بار طلاق دینے کا ہے
جو کھلی اللہ کی نافرمانی ہے
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-08-10), فاروق سرورخان (26-08-10), مرزا عامر (26-08-10), عبداللہ آدم (26-08-10)
پرانا 26-08-10, 01:41 PM   #7
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

زرداری یا گیلانی ملا ہوں تو ان سے پوچھیں بھی کہ نافذ کیوں نہیں کرتے ہو....................

کرے جو بھی................نام ملا کا.....................

ویسے فاروق صاحب آج کل آپ کو اجماع سے خاص انس کیوں ہو گیا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

شاید یہ واحد چیز ہے جسے آپ عقلیات کے زور پر رد بھی نہیں کر سکتے اور بدل بھی نہیں سکتے............

خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-08-10), فاروق سرورخان (26-08-10)
پرانا 26-08-10, 05:44 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عبداللہ آدم صاحب۔

زرداری اور گیلانی قانون نہیں بناتے۔ ان کا کام صرف موجودہ قانون کو نافذ‌کرنا ہے۔

حدود آرڈی نینس واحد آرڈینینس ہے جو ملاء‌ نے بنایا تھا۔ اپنے نام نہاد علم کی بدولت۔ جس میں سب کچھ ہے بس فرمان الہی کے مطابق حدود نہیں ہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ برسر عام قتل کیا ہماری عدالتوں‌ کی ایماء‌پر ہوتے ہیں؟ یا پھر ان "عالم ملاؤں" ‌کے جمعے کے خطبے اس فساد کی ترغیب سے بھرے ہوتے ہیں؟

قرآن کو رد کرنے کے لئے کبھی اجماع امت کا کبھی نام نہاد خلاف قرآن روایتوں‌کا سہارا لیا جاتا ہے۔

بنیادی بات ہے ہمارے مزاج اور مائینڈ سیٹ‌کی۔ ملا ء ہم کو سکھاتا اور پڑھاتا ہی لاقانونیت ہے۔ کہ جہاں‌بھی موقع ملے لوگوں کو قتل کرکے کر فساد فی الارض اللہ کرو۔ خود مفتی بن جاؤ اور قانون بنالو، خود قاضی بن جاؤ اور فیصلہ کردو اور خود ہی سزا بھی دے دو۔ وہ بھی صرف شبہ پر۔

حدود اللہ کو کس طرح پامال کیا ہے ہمارے ملاء نے اس کی کوئی مثال نہیں‌ملتی۔ یہ طالبانی نکتہ نظر ایسا ہے کہ اس کی ہم سب کو مل کر مخلافت کرنی چاہئیے۔ یہ قرانی تعلیم نہیں‌کہ خود سے کسی کو قتل کردیا جائے۔

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 26-08-10 at 05:47 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-08-10), مرزا عامر (26-08-10)
پرانا 26-08-10, 05:50 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
فاروق سرور صاحب
کیسی باتیں کررہے ہیں آپ ۔
یہ ایک طلاق کا معاملہ ہے ،اس طریقےسے طلاق دیتا کون ہے ہمارے معاشرے میں‌
اور اگر ایک طلاق کے بعد عدت تک عورت کو گھر میں رہنے کو کہا گیا ہے
تاکہ عورت اور مرد میں صلاح ہوجایے ۔
لیکن جب عدت گذر جایے اور عورت اور مرد صلاح نا کریں تو عورت کو کچھ دے دلا کر رخصت کردو ۔
بھی ہے
گھر عورت کا ہوگا ، یہ کہاں لکھا ہے ۔
آپ کونسی بات کہاں ملا رہے ہیں
ہمارے معاشرے میں تو رواج ہی ایک بار تین بار طلاق دینے کا ہے
جو کھلی اللہ کی نافرمانی ہے
سحر بہن، اس موضوع پر ایک الگ دھاگہ کھول لیتے ہیں۔ یہاں‌صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ جن لوگوں‌نے حدود آرڈینینس لکھا وہ سب مذہبی سکالرز تھے اور صاف صاف ایک حدود اللہ کو چھپا گئے۔ یہ حد کیا کہتی ہے اس پر بات الگ موضوع میں۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (26-08-10), سحر (26-08-10)
پرانا 26-08-10, 05:57 PM   #10
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق بھائی اگر آپ مراسلات میں احتیاط کریں تو اچھا نا ہوگا
"ملاء " لفظ کا اسطرح استعمال لوگوں کو شدت کی طرف مائل کرتا ہے
انہیں" ملاء" میں سے وہ لوگ بھی ہیں جن کی تشریحات پر آپ مطمئن بھی ہیں

آپ خود تو شدت پسندی کے خلاف بات کرتے ہیں
لیکن کیا آپ کے مراسلوں میں ملاء کے خلاف شدت پسندی نہیں پائی جاتی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-08-10), ھارون اعظم (27-08-10), مرزا عامر (26-08-10), ام طلحہ (27-08-10), عبداللہ آدم (26-08-10)
پرانا 26-08-10, 10:46 PM   #11
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
فاروق سرور صاحب
کیسی باتیں کررہے ہیں آپ ۔
یہ ایک طلاق کا معاملہ ہے ،اس طریقےسے طلاق دیتا کون ہے ہمارے معاشرے میں‌
اور اگر ایک طلاق کے بعد عدت تک عورت کو گھر میں رہنے کو کہا گیا ہے
تاکہ عورت اور مرد میں صلاح ہوجایے ۔
لیکن جب عدت گذر جایے اور عورت اور مرد صلاح نا کریں تو عورت کو کچھ دے دلا کر رخصت کردو ۔
بھی ہے
گھر عورت کا ہوگا ، یہ کہاں لکھا ہے ۔
آپ کونسی بات کہاں ملا رہے ہیں
ہمارے معاشرے میں تو رواج ہی ایک بار تین بار طلاق دینے کا ہے
جو کھلی اللہ کی نافرمانی ہے
حلالے کے رواج کو تو آپ بھول ہی گئیں وہ بھی تو عام ہوتا جا رہا ہے۔ املا کی غلطی کی معذرت ۔ اس پر الگ تھریڈ ہونا چاہئیے ۔ اس تھریڈ میں جنگل کی گفتگو مناسب ہے
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (26-08-10)
پرانا 26-08-10, 11:13 PM   #12
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پاکستان کو جنگل کہنے والے خود کونسا جنت میں بیتھے ہیں.......................

عامر صآحب یورپ کے..........غلیظ رجحانات پر کبھی بات کی ہے آپ نے؟؟؟؟
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-08-10), مرزا عامر (26-08-10)
پرانا 26-08-10, 11:16 PM   #13
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
پاکستان کو جنگل کہنے والے خود کونسا جنت میں بیتھے ہیں.......................

عامر صآحب یورپ کے..........غلیظ رجحانات پر کبھی بات کی ہے آپ نے؟؟؟؟
آپ نے کبھی ایسا موقع ہی نہیں دیا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-08-10), ناصحی (28-08-10)
جواب

Tags
فرقہ واریت, پولیس, پوسٹ, پاکستان, پاکستانی, یو ٹیوب, واقعات, وزیر, لوگ, نفرت, مکمل, موت, مسجد, معلوم, آج, الزام, انسان, استاد, بچپن, تصاویر, خون, خان, خبر, دوست, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:53 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger