واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


شیشہ نوشی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-07-11, 04:15 PM   #1
شیشہ نوشی
سام سام آن لائن ہے 27-07-11, 04:15 PM

شیشہ نوشی کےبارےمیں معلومات درکارہیں۔کیااسمیں شیشہ پیس کرپیاجاتاہےیایویہی یہ نام مشہورہوگیاہے؟پچھلےدنوں میرااس بارےمیں اشتیاق بڑھ رہاتھاکہ ایک دوست نےبتایاکہ اس میں الکحل ہوتی ہے۔اگرایسی بات ہےتوشیشہ بآسانی دستیاب کیوں ہے؟اورسگریٹ یاحقےکےمقابلےمیں اسکےنقصانات کم ہیں یازیادہ؟اگر کوئی بھائی یابہن تفصیلات سےآگاہ ہیں تومیری بےخبری دورکرکےثواب کمائیں۔

سام
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,219
شکریہ: 2,343
915 مراسلہ میں 2,335 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 270
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-07-11), حیدر (28-07-11)
پرانا 27-07-11, 04:53 PM   #2
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,221
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

محکمہ صحت اور ٹوبیکو کنٹرول ریسرچ کا کہنا ہے کہ شیشہ کا کش لگانا اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا کہ سگریٹ پینا خطرناک ہے۔ تازہ ترین ریسرچ کے مطابق ایسے لوگوں میں کاربن مونو آکسائیڈ کا لیول سگریٹ نوشوں کی نسبت چار سے پانچ گنا تک زیادہ ہو سکتا ہے اور کاربن مونو آکسائیڈ کا اونچا لیول دماغ کے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ریسرچ کی ابتدا اس وقت ہوئی جب اس سال کے آغاز میں ایک حاملہ عورت جس نے دوران حمل یہ سمجھ کر سگریٹ نوشی چھوڑی کہ بچے کو اس کا نقصان ہو سکتا ہے اور اپنی عادت پورا کرنے کے لئے شیشہ کا استعمال شروع کر دیا اس کے خون میں کاربن مونو آکسائیڈ کی مقدار زیادہ پائی گئی۔ محکمہ ہیلتھ نے ٹوبیکو کنٹرول ریسرچ کے ساتھ مل کر اس پر تحقیق کی تو پتہ چلا کہ شیشہ سگریٹ کی نسبت چار سو سے چار سو پچاس گنا زیادہ نقصان دہ ہے۔ ڈاکٹر ہیلری ویئرنگ ڈائریکٹر سنٹر فار ٹوبیکو کنٹرول ریسرچ کا کہنا ہے کہ وہ یہ نتائج جان کر بے حد فکرمند ہیں کیونکہ جگہ جگہ کھلے ہوئے شیشہ بارز ان نوجوانوں میں بے حد مقبول ہیں جو سگریٹ نوشی کو نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ شیشہ عربی طرز کا حقہ ہے کہ گرم پانی اور پائپ کے ذریعے تمباکو کو کوئلہ کے ذریعہ جلاتا ہے اور جس کا دھواں بھرپور کش کے ذریعہ اندر کی جانب کھینچا جاتا ہے۔ محکمہ صحت کے ریجنل مینجر پال ہوپر کے مطابق اس تحقیق نے برطانیہ میں شیشہ کے استعمال کو صحت کے لئے بڑا ایشو بنا دیا ہے کیونکہ اس سے قبل عام لوگ شیشہ کو تمباکو نوشی ہی نہیں گردانتے تھے جبکہ این ایچ ایس سٹاپ سموکنگ کے قاسم چوہدری کا کہنا ہے کہ اس نقصان سے قطع نظر یہ ایک انفیکشن کا مسئلہ بھی ہے کیونکہ بے احتیاطی اور عدم صفائی کے باعث شیشہ کے استعمال سے ایک دوسرے کو ٹی بی جیسے خطرناک جراثیم منتقل ہو سکتے ہیں۔
__________________
http://farhandanish.blogspot.com
http://farhandanish.tk
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-07-11), مرزا عامر (27-07-11), wajee (27-07-11), حیدر (28-07-11), سام (27-07-11)
پرانا 27-07-11, 05:12 PM   #3
Senior Member
 
زبیرافتحار's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 612
کمائي: 11,119
شکریہ: 130
384 مراسلہ میں 965 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

"شیشہ بارز" عربی کا لفظ ھے جسے اردو میں حقہ کہتے ہیں۔

حقہ کی بیس پیتل کی ہوتی ھے، جس میں پانی کی ایک مقدار ہوتی ھے اور اس میں ایک خاص لکڑی کے دو پائپ داخل ہوتے ہیں، تمباکو والا پائپ پانی میں ڈوبا ہوا ہوتا ھے اور منہ کے حصہ والا پائپ پانی کی سطح سے اوپر ہوتا ھے۔ ایک مٹی کی بڑی چلم ہوتی ھے جس میں کچھ کوئلوں کے ساتھ تمباکو کی ایک مقدار شامل ہوتی ھے۔ حقہ پینے والا جب سموک کھینچتا ھے تو دھوئیں کے اندر تمام زیریلے مادے پانی میں فلٹر ہوتے ہیں اور دھوئیں کے اندر کچھ حصہ انسانی جسم میں داخل ہوتا ھے۔

دنیا عرب میں حقہ کو شیشہ بارز کہتے ہیں، اس کی بناوٹ کم حجم اور خوبصورت ہوتی ھے، اس کی بیس چھوٹی سی ہوتی ھے اور بیس سے لے کر چلم تک کا حصہ شیشہ کا ہوتا ھے اس کی چلم مٹی کی بھی ہوتی ھے اور جو کہ بہت ہی چھوٹی سی ہوتی ھے جس پر ایک ہی کوئلہ کے ساتھ تمباکو سے کام چلایا جاتا ھے۔ منہ والے حصہ زیادہ تر ربر پائپ کا ہوتا ھے۔

انگلینڈ میں جو بڑے شہر ہیں ان میں شیشہ بارز عرب ریسٹورنٹس میں پایا جاتا ھے مگر سب نہیں صرف وہی جن کے پاس اس کے لئے جگہ کا الگ احتمام ہوتا ھے، اس کے علاوہ اور کہیں بھی اس کا وجود نہیں۔

انگلینڈ میں سگرٹ نوشی پر آفسیز، تمام پبلک سیکٹرز، ہوٹل و ریسٹورنٹس، پر پابندی ھے۔ کسی بھی فرم کا ڈائریکٹر بھی سگریٹ نوشی کے لئے بلڈنگ چھوڑ کر باہر کھڑا سگریٹ پیتا ہوا آسانی سے دیکھا جا سکتا ھے۔
یہاں الکوحل سستی ھے اور سگریٹ مہنگا ھے۔

'شیشہ' دمے کے مرض میں اضافے کا باعث

نوجوانوں میں ’شیشہ‘ پینے کے بڑھتے ہوئے رجحان سے دمے کے مرض میں اضافہ ہو رہا ہے جو طبی ماہرین کے مطابق صرف ایک ’’ابتدائی نقصان‘‘ ہے کیونکہ آگے چل کر یہی نشہ پھیپھڑوں کے سرطان اور دل کے امراض سمیت کئی تکالیف کا باعث بن سکتا ہے۔

طبی ماہرین اور سرکاری عہدیداروں نے نوجوان نسل میں ’شیشہ‘ پینے کےبڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سگریٹ نوشی سے کہیں زیادہ نقصان دہ تمباکو کا یہ ذائقےدار نشہ خصوصاً نوجوانوں میں دمے سمیت سانس کی دیگر بیماریوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں امراض اطفال کے ماہر ڈاکٹر جواد جلیل نے کہا کہ فضائی آلودگی اور دوسرے عوامل کے ساتھ ساتھ ’شیشہ‘ کا بڑھتا ہوا استعمال اس کے عادی افراد کو دمے کی طرف دھکیل رہا ہے اوراُن کے ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کی عمریں پندرہ سال یا اس سے کم ہیں۔

طبی ماہرین کے اندازوں کے مطابق اس وقت پاکستان میں دمےکے مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد کم از کم ایک کروڑہو سکتی ہے۔ تاہم اس بارے میں سرکاری طور پر مصدقہ اعداد وشمار دستیاب نہیں۔

وفاقی وزارت صحت کے انسداد تمباکو نوشی ونگ سے منسلک ڈاکٹر ضیاء الدین بھی مانتے ہیں کہ نوجوانوں میں ’شیشہ‘ پینے کے بڑھتے ہوئے رجحان سے دمے کے مرض میں اضافہ ہو رہا ہے جو ان کے مطابق صرف ایک ’’ابتدائی نقصان‘‘ ہے کیونکہ آگے چل کر یہی نشہ پھیپھڑوں کے سرطان اور دل کے امراض سمیت کئی تکالیف کا باعث بن سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک گھنٹہ ’شیشہ‘ پینے کا نقصان دو سو سگریٹ پینے کے برابر ہے۔ انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ نئی نسل کی اکثریت ’شیشہ‘ سے جڑے سنگین خطرات سے آشنا نہیں اس لیے وہ اسے مضر صحت تصور نہیں کرتی۔

حکومتی عہدیدارریستورانوں میں ’شیشہ‘ کی دستیابی کو انسداد منشیات قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں اوراس ضمن میں مالکان کوانتباہی خطوط بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

انسداد تمباکو نوشی ونگ کے ڈاکڑ ضیاء نے بتایا کہ وفاقی سطح پر ’شیشہ‘ گھروں کے خلاف مہم شروع کی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو پانچ ہزار سے ایک لاکھ تک جرمانے کے علاوہ کم از کم تین ماہ قید یا پھر دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اب یہ صوبائی حکومتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ہاں شیشہ گھروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں۔

تاہم سرکاری دعوؤں کے باوجود دوسرے بڑے شہروں کی طرح دارالحکومت اسلام آباد میں مختلف مقامات پرنوجوانوں کے غول کے غول ’شیشہ‘ سے لطف اندوز ہوتے دیکھے جاسکتے ہیں۔
زبیرافتحار آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے زبیرافتحار کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (27-07-11), حیدر (28-07-11), راجہ اکرام (27-07-11), سام (27-07-11)
پرانا 27-07-11, 09:55 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگرچہ بظاہر یہ ممنوع لگتا ہے لیکن کسی بھی ہوٹل پر باآسانی دستیاب ہوتا ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
حیدر (28-07-11), سام (28-07-11)
پرانا 27-07-11, 10:03 PM   #5
Senior Member
 
زبیرافتحار's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 612
کمائي: 11,119
شکریہ: 130
384 مراسلہ میں 965 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شراب بھی ممنوع ہے لیکن کسی بھی ہوٹل پر باآسانی دستیاب ہوتی ہے
زبیرافتحار آف لائن ہے   Reply With Quote
زبیرافتحار کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (28-07-11)
پرانا 28-07-11, 10:08 AM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گزشتہ دنوں جب شوگران جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں دکانوں پر حقہ نُما خوبصورت چیز پڑی ہوئی تھی۔ اُس سے قیمت پوچھی تو کہنے لگا 400 روپے گھنٹا۔ سُن کر جھٹکا لگا ۔ معلومات لینے پر انکشاف ہوا کہ یہ ہے وہ مشہور عالم شیشہ۔
میں یہ سوچ کر ہنسا کہ پہلے جو کام پینڈووں کا تصور کیا جاتا تھا، اب شیشے کے ماڈرن نام سے امیروں کو بھی اس علت میں مبتلا کر دیا گیا ہے
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
سام (28-07-11)
پرانا 28-07-11, 10:20 AM   #7
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,238
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شیشے کے نام سے میں ایران میں واقف ہوا تھا، اور پھر بہت مزے سے ہر رات پیتے رہے، یہ حقے کی طرح کا ہوتا ہے، لیکن اس میں تمباکو کی جگہ مالٹے یا کسی اور پھل کو فلیور ہوتا ہے، سنا ہے یہ صحت کیلے مضر بھی ہے، اس سے وہی دھواں اڑتا ہے جو ایک عام حقے سے اڑتا ہے لیکن اس کی بو اسی فلیور کی ہی ہوتی ہے، اس میں ایک عام حقے کی طررح چنگاریاں بھی ڈالی جاتی ہے، ایران میں بہت مشہو ر ہے، تقریبا ہر ہوٹل میں حقے کا بندوست ہے وہاں ہر اور ہر رات کو لوگ وہاں شیشا پینے آتے ہیں، امارات میں بھی ہے، کہی کہی پر آپ کو شیشا ملے گا۔ لیکن میں کھبی ادھر نہیں گیا۔
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا
مت سوچو !
عدنان دانی آن لائن ہے   Reply With Quote
عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا
سام (28-07-11)
پرانا 28-07-11, 10:27 AM   #8
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,238
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

۔
photo0406.jpg
عدنان دانی آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہوتی, کوئی, کنٹرول, کم, پیس, نوشی, نام, نظر, منتقل, معلومات, اشتیاق, بھائی, بے, بآسانی, تفصیلات, خون, دوست, دستیاب, سال, شیشہ, عورت, عادت, عدم, عربی, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:54 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger