| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 270
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,221
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محکمہ صحت اور ٹوبیکو کنٹرول ریسرچ کا کہنا ہے کہ شیشہ کا کش لگانا اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا کہ سگریٹ پینا خطرناک ہے۔ تازہ ترین ریسرچ کے مطابق ایسے لوگوں میں کاربن مونو آکسائیڈ کا لیول سگریٹ نوشوں کی نسبت چار سے پانچ گنا تک زیادہ ہو سکتا ہے اور کاربن مونو آکسائیڈ کا اونچا لیول دماغ کے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ریسرچ کی ابتدا اس وقت ہوئی جب اس سال کے آغاز میں ایک حاملہ عورت جس نے دوران حمل یہ سمجھ کر سگریٹ نوشی چھوڑی کہ بچے کو اس کا نقصان ہو سکتا ہے اور اپنی عادت پورا کرنے کے لئے شیشہ کا استعمال شروع کر دیا اس کے خون میں کاربن مونو آکسائیڈ کی مقدار زیادہ پائی گئی۔ محکمہ ہیلتھ نے ٹوبیکو کنٹرول ریسرچ کے ساتھ مل کر اس پر تحقیق کی تو پتہ چلا کہ شیشہ سگریٹ کی نسبت چار سو سے چار سو پچاس گنا زیادہ نقصان دہ ہے۔ ڈاکٹر ہیلری ویئرنگ ڈائریکٹر سنٹر فار ٹوبیکو کنٹرول ریسرچ کا کہنا ہے کہ وہ یہ نتائج جان کر بے حد فکرمند ہیں کیونکہ جگہ جگہ کھلے ہوئے شیشہ بارز ان نوجوانوں میں بے حد مقبول ہیں جو سگریٹ نوشی کو نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ شیشہ عربی طرز کا حقہ ہے کہ گرم پانی اور پائپ کے ذریعے تمباکو کو کوئلہ کے ذریعہ جلاتا ہے اور جس کا دھواں بھرپور کش کے ذریعہ اندر کی جانب کھینچا جاتا ہے۔ محکمہ صحت کے ریجنل مینجر پال ہوپر کے مطابق اس تحقیق نے برطانیہ میں شیشہ کے استعمال کو صحت کے لئے بڑا ایشو بنا دیا ہے کیونکہ اس سے قبل عام لوگ شیشہ کو تمباکو نوشی ہی نہیں گردانتے تھے جبکہ این ایچ ایس سٹاپ سموکنگ کے قاسم چوہدری کا کہنا ہے کہ اس نقصان سے قطع نظر یہ ایک انفیکشن کا مسئلہ بھی ہے کیونکہ بے احتیاطی اور عدم صفائی کے باعث شیشہ کے استعمال سے ایک دوسرے کو ٹی بی جیسے خطرناک جراثیم منتقل ہو سکتے ہیں۔
__________________
http://farhandanish.blogspot.com
http://farhandanish.tk |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 612
کمائي: 11,119
شکریہ: 130
384 مراسلہ میں 965 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
"شیشہ بارز" عربی کا لفظ ھے جسے اردو میں حقہ کہتے ہیں۔
حقہ کی بیس پیتل کی ہوتی ھے، جس میں پانی کی ایک مقدار ہوتی ھے اور اس میں ایک خاص لکڑی کے دو پائپ داخل ہوتے ہیں، تمباکو والا پائپ پانی میں ڈوبا ہوا ہوتا ھے اور منہ کے حصہ والا پائپ پانی کی سطح سے اوپر ہوتا ھے۔ ایک مٹی کی بڑی چلم ہوتی ھے جس میں کچھ کوئلوں کے ساتھ تمباکو کی ایک مقدار شامل ہوتی ھے۔ حقہ پینے والا جب سموک کھینچتا ھے تو دھوئیں کے اندر تمام زیریلے مادے پانی میں فلٹر ہوتے ہیں اور دھوئیں کے اندر کچھ حصہ انسانی جسم میں داخل ہوتا ھے۔ دنیا عرب میں حقہ کو شیشہ بارز کہتے ہیں، اس کی بناوٹ کم حجم اور خوبصورت ہوتی ھے، اس کی بیس چھوٹی سی ہوتی ھے اور بیس سے لے کر چلم تک کا حصہ شیشہ کا ہوتا ھے اس کی چلم مٹی کی بھی ہوتی ھے اور جو کہ بہت ہی چھوٹی سی ہوتی ھے جس پر ایک ہی کوئلہ کے ساتھ تمباکو سے کام چلایا جاتا ھے۔ منہ والے حصہ زیادہ تر ربر پائپ کا ہوتا ھے۔ انگلینڈ میں جو بڑے شہر ہیں ان میں شیشہ بارز عرب ریسٹورنٹس میں پایا جاتا ھے مگر سب نہیں صرف وہی جن کے پاس اس کے لئے جگہ کا الگ احتمام ہوتا ھے، اس کے علاوہ اور کہیں بھی اس کا وجود نہیں۔ انگلینڈ میں سگرٹ نوشی پر آفسیز، تمام پبلک سیکٹرز، ہوٹل و ریسٹورنٹس، پر پابندی ھے۔ کسی بھی فرم کا ڈائریکٹر بھی سگریٹ نوشی کے لئے بلڈنگ چھوڑ کر باہر کھڑا سگریٹ پیتا ہوا آسانی سے دیکھا جا سکتا ھے۔ یہاں الکوحل سستی ھے اور سگریٹ مہنگا ھے۔ 'شیشہ' دمے کے مرض میں اضافے کا باعث نوجوانوں میں ’شیشہ‘ پینے کے بڑھتے ہوئے رجحان سے دمے کے مرض میں اضافہ ہو رہا ہے جو طبی ماہرین کے مطابق صرف ایک ’’ابتدائی نقصان‘‘ ہے کیونکہ آگے چل کر یہی نشہ پھیپھڑوں کے سرطان اور دل کے امراض سمیت کئی تکالیف کا باعث بن سکتا ہے۔ طبی ماہرین اور سرکاری عہدیداروں نے نوجوان نسل میں ’شیشہ‘ پینے کےبڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سگریٹ نوشی سے کہیں زیادہ نقصان دہ تمباکو کا یہ ذائقےدار نشہ خصوصاً نوجوانوں میں دمے سمیت سانس کی دیگر بیماریوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں امراض اطفال کے ماہر ڈاکٹر جواد جلیل نے کہا کہ فضائی آلودگی اور دوسرے عوامل کے ساتھ ساتھ ’شیشہ‘ کا بڑھتا ہوا استعمال اس کے عادی افراد کو دمے کی طرف دھکیل رہا ہے اوراُن کے ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کی عمریں پندرہ سال یا اس سے کم ہیں۔ طبی ماہرین کے اندازوں کے مطابق اس وقت پاکستان میں دمےکے مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد کم از کم ایک کروڑہو سکتی ہے۔ تاہم اس بارے میں سرکاری طور پر مصدقہ اعداد وشمار دستیاب نہیں۔ وفاقی وزارت صحت کے انسداد تمباکو نوشی ونگ سے منسلک ڈاکٹر ضیاء الدین بھی مانتے ہیں کہ نوجوانوں میں ’شیشہ‘ پینے کے بڑھتے ہوئے رجحان سے دمے کے مرض میں اضافہ ہو رہا ہے جو ان کے مطابق صرف ایک ’’ابتدائی نقصان‘‘ ہے کیونکہ آگے چل کر یہی نشہ پھیپھڑوں کے سرطان اور دل کے امراض سمیت کئی تکالیف کا باعث بن سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک گھنٹہ ’شیشہ‘ پینے کا نقصان دو سو سگریٹ پینے کے برابر ہے۔ انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ نئی نسل کی اکثریت ’شیشہ‘ سے جڑے سنگین خطرات سے آشنا نہیں اس لیے وہ اسے مضر صحت تصور نہیں کرتی۔ حکومتی عہدیدارریستورانوں میں ’شیشہ‘ کی دستیابی کو انسداد منشیات قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں اوراس ضمن میں مالکان کوانتباہی خطوط بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ انسداد تمباکو نوشی ونگ کے ڈاکڑ ضیاء نے بتایا کہ وفاقی سطح پر ’شیشہ‘ گھروں کے خلاف مہم شروع کی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو پانچ ہزار سے ایک لاکھ تک جرمانے کے علاوہ کم از کم تین ماہ قید یا پھر دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اب یہ صوبائی حکومتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ہاں شیشہ گھروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں۔ تاہم سرکاری دعوؤں کے باوجود دوسرے بڑے شہروں کی طرح دارالحکومت اسلام آباد میں مختلف مقامات پرنوجوانوں کے غول کے غول ’شیشہ‘ سے لطف اندوز ہوتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے زبیرافتحار کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگرچہ بظاہر یہ ممنوع لگتا ہے لیکن کسی بھی ہوٹل پر باآسانی دستیاب ہوتا ہے
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گزشتہ دنوں جب شوگران جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں دکانوں پر حقہ نُما خوبصورت چیز پڑی ہوئی تھی۔ اُس سے قیمت پوچھی تو کہنے لگا 400 روپے گھنٹا۔ سُن کر جھٹکا لگا ۔ معلومات لینے پر انکشاف ہوا کہ یہ ہے وہ مشہور عالم شیشہ۔
میں یہ سوچ کر ہنسا کہ پہلے جو کام پینڈووں کا تصور کیا جاتا تھا، اب شیشے کے ماڈرن نام سے امیروں کو بھی اس علت میں مبتلا کر دیا گیا ہے ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | سام (28-07-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,238
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شیشے کے نام سے میں ایران میں واقف ہوا تھا، اور پھر بہت مزے سے ہر رات پیتے رہے، یہ حقے کی طرح کا ہوتا ہے، لیکن اس میں تمباکو کی جگہ مالٹے یا کسی اور پھل کو فلیور ہوتا ہے، سنا ہے یہ صحت کیلے مضر بھی ہے، اس سے وہی دھواں اڑتا ہے جو ایک عام حقے سے اڑتا ہے لیکن اس کی بو اسی فلیور کی ہی ہوتی ہے، اس میں ایک عام حقے کی طررح چنگاریاں بھی ڈالی جاتی ہے، ایران میں بہت مشہو ر ہے، تقریبا ہر ہوٹل میں حقے کا بندوست ہے وہاں ہر اور ہر رات کو لوگ وہاں شیشا پینے آتے ہیں، امارات میں بھی ہے، کہی کہی پر آپ کو شیشا ملے گا۔ لیکن میں کھبی ادھر نہیں گیا۔
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا مت سوچو ! |
|
|
|
| عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا | سام (28-07-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,238
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہوتی, کوئی, کنٹرول, کم, پیس, نوشی, نام, نظر, منتقل, معلومات, اشتیاق, بھائی, بے, بآسانی, تفصیلات, خون, دوست, دستیاب, سال, شیشہ, عورت, عادت, عدم, عربی, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|