| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 4326
|
||||
| 16 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (07-04-11), mama_shalla (08-04-11), rabab (28-03-11), shafirajput (02-04-11), shafresha (27-03-11), کنعان (28-03-11), ھارون اعظم (27-03-11), نورالدین (28-03-11), محمدعدنان (08-04-11), مرزا عامر (27-03-11), اویسی (28-03-11), حیدر (31-03-11), رضی (03-04-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبدالقدوس (29-03-11), عبداللہ آدم (02-04-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
ناسی وائز بھائی ایک عمدہ بحث کی ابتدا کی ہے آپ نے ۔ شکریہ
اور اس پر کافی بحث ہوچکی ہے ، ہنوز مزید کی گنجائش ہے |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبیداللہ عبید کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مسلمانوں کا دور کم از کا ایک صدی تک تو نہیں آ سکتا ہے۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبیداللہ عبید کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (07-04-11), shafirajput (02-04-11), shafresha (28-03-11), نورالدین (28-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11) |
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا قدرت آسمان سے زمین پر اتر کر مسلمانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی پانی میں گھول کر پلا دے گئی؟
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم خود ہی اپنی دنیا بگاڑ لیتے ہیں اور پھر بیٹھ کر روتے رہتے ہیں کہ
ہم پیچھے رہ گئے ۔ ابھی کچھ دن پہلے جیو کے پروگرام میں کسی صاحب کے یہ بھاشن سن کر ہنسی آگئی کہ کس طرح خود بہلا وے کے افیون میں گھول رہے ہيں ان صاحب کا کہنا تھا کہ جس طرح اللہ نے حضرت یوسف کو انتہائی تکلیف سے گزارا وہ صرف اس لیے کہ ان کو مصر کا حکمران بناتا ۔ اسی طرح ہم مسلمانوں پر اتنی مصیبتیں اسی لیے آ رہی ہيں کہ اللہ ہمیں دنیا پر حکمرانی کے لیے تیار کر رہا ہے ۔ واہ ۔ ۔ وا ہ ۔ ایک تو مسلمان پہلے ہی صوفی ازم ۔ تارک الدنیا ۔ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد وغیرہ کے چکر میں پیچھے رہ گئے ہيں باقی کسر اس طرح کے ڈائیلاگ سے پوری ہو رہی ہے ۔ یوسف علیہ السلام کے قصے کے خود پر لاگو کرنے سے پہلے دونوں کا فرق ذہن میں نہیں رکھا ۔ یوسف علیہ السلام پر آزمائشیں آ ئی تو انہوں نے ہر غلط سے بچ کر دکھایا اور نیک راہ پر ہی رہے ۔ ہم مسلمان کیا کر رہے ہيں ۔ ہماری سوچ کیا ہے ۔ ایک غلط کر تا ہے تو اپنی فطرت سے کرتا ہے باقی غلط کرتے ہيں تو اس لیے کرتے ہيں کہ وہ بھی تو کر رہا ہے ۔ دنیا بھی اللہ نے بنائی ہے بے شک آزمائش کے لیے ہے مگر ہے تو آخرت کے لیے ہی ۔ کیسے ترقی کریں ہم لوگ کہ بجائے اللہ کی دی ہوئی طاقت کا فائدہ اٹھانے کے دنیا سے بھاگتے ہيں تارک الدنیا ہونے کو آخرت کی نجات سمجتھے ہوں ۔ افرادی قوت میں اضافہ کرنے کے بجائے جنسی تفریق کرتے ہوں ۔ جیسے کہ عورت فتنہ ہے ۔ اولاد غافل کر دیتی ہے ۔ وغیرہ
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (02-04-11), shafresha (28-03-11), فاروق سرورخان (04-04-11), ناصحی (29-03-11), منتظمین (28-03-11), مرزا عامر (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11) |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھا موضوع ہے اور یقینا ان وجوہات کا تعین بھی ضروری ہے جس کے باعث طاقت کا مرکز مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل کر غیروں کے ہاتھ جا لگا۔
دنیا پر حکمرانی کی پہلی شرط علم پر حکمرانی ہے۔ علم کے میدان میں جو سبقت لے گیا اس کو دنیا پر حکمرانی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اسی لئے اسلام کی پہلی وحی کا آغاز ہی ’’اقراء‘‘ سے ہوا تھا۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (08-04-11), shafirajput (02-04-11), shafresha (28-03-11), فاروق سرورخان (05-04-11), ھارون اعظم (28-03-11), نورالدین (28-03-11), منتظمین (28-03-11), مرزا عامر (01-04-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
دنیا ، دین اور مذاہب کس طرح ساتھ ساتھ چل سکتے ہيں ۔ اور ان میں سے کون سی چیز ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔
اس موضوع پر جناب پروفیسر علی حسن مظفر صاحب کی کافی کتابیں مشہور ہيں ۔ جیسے قرآن کی فریاد ، روایات اصل دین نہيں ، وغیرہ جن میں انہوں نے بڑے ہی چشم کشا انداز میں مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر روشنی ڈالی ۔ اور دوسروں پر بوجھ ڈالنے کے بجائے مسلمانوں کے اپنے اندر سے دستگی پر زور دیا ہے ۔ اور فرقوں اور مذاہب کو تنزلی کی وجہ قرار دیا ہے ۔ مگر فی الحال تو نصیع وائز بھائی کی طرف سے انتظار ہے ۔ کہ وہ اس موضوع پر کیا کہتے ہيں ۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (02-04-11), shafresha (28-03-11), ناصحی (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبدالقدوس (29-03-11) |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام اور دیگر اقوام عالم کی ترقی کی بنیادی شرائط میں ایک فرق ہے جسے صدر الدین اصلاحی صاحب نے قرآنی آیات و احادیث کی روشنی میں کچھ یوں واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ کی راہ چلتے تو ہم ان کے اوپر زمین اور آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔(الاعراف۔۹۶) اور جنہوں نے ایمان اور خدا پرستی کا راستہ اختیار کیا۔ فَآتَاهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْآخِرَةِ تو اللہ نے انہیں دنیا کا بھی اجر دیا۔ اور آخرت کا بھی بہترین اجر عطا فرمایا (آلعمران۔ ۱۴۸) ان متفقہ شہادتوں کی موجودگی میں کوئی وجہ نہیں کہ اسلام اور امت مسلمہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ ضابطہ اور فیصلہ بدل جاتا۔ چنانچہ دنیو ی فلاح کے بارے میں ٹھیک اسی طرح کا وعدہ اس امت سے بھی کیا گیا جیسا پہلوں سے کیا جاتا رہاہے۔ اور یہ ہر مرحلے میں کہا گیا۔ مکہ کے تاریک و صبر آزما دور میں بھی اور مدینہ کے پر خطر ماحول مں بھی ۔ انھیں بھی خطاب کیا گیا جو اسلام لا چکے تھے اور انہیں بھی جو ابھی دائرۂ اسلام میں نہ آئے تھے۔ چنانچہ مکہ میں قریش کو ایمان کی دعوت دیتے ہوئے اللہ کا ارشا دتھا: وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور پھر اس کی طرف رجوع کرو تو وہ تمہیں زندگی کا اچھا سامان عطا فرماتا رہے گا۔ (ھود۔ ۳) اور اللہ کے رسو ل (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ’’اگر تم میرا لا یا ہوا پیغام قبول کولو گے تو وہ دنیا میں بھی تمہاری خوش نصیبی کا باعث ہوگا او آخرت میں بھی۔ ‘‘اورایک موقع پر اپنے چچاابو طالب سے کہا تھا۔ ’’میں انہیں( یعنی قریش کو ) صرف ایک بات کی تلقین کرتا ہوں،ایسی بات کہ جس کی بدولت سارا عرب ان کا مطیع اور سارا عجم ان کا باج گذار ہو جائے گا۔‘‘ پھر اسی طرح ایمان لا چکنے والوں سے خطاب فرمایا گیا: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عمل صالح کرتے ہیں اللہ کا ان سے وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین مںّ اقتدار عطا فرمائے گا جس طرح اس نے ان سے پہلے کے لوگوں کو اقتدار عطا فرمایا تھا اور ان کے لیے اس دین کی جڑیں بڑی مضبوط جمادے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے اور ان کی موجودہ حالتِ خوف کو حالتِ امن سے بدل دے گا۔ (النور۔ ۵۵) گویا جس طرح اُخروی فلاح کے لیے ’’ایمان‘‘ اور’’ عمل صالح‘‘ ایک لازمی شرط ہے اسی طرح دنیوی فلاح و سعادت کے لیے بھی ’’ایمان ‘‘ اور عمل صالح‘‘ شرط اولین ہے ، اور اسی لیے مسلمانوں (امت مسلمہ) کا عروج و زوال اسی شرط پر موقوف ہے: وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ نہ تم پریشان ہو اور نہ خوف زدہ ،کامیابی تمہارے لیے ہے بشرطے کہ تم سچے مومن ہو جاؤ۔ (آل عمران۔ ۱۳۹) ملت اسلامیہ کے لیے عروج و زوال کا یہ قانون دوسری قوموں سے بلکل مختلف ہے۔ دوسری قوموں کے لیے اللہ کا قانون تو یہ ہے کہ اگر وہ کچھ بنیادی قسم کی انسانی اخلاقیات اپنے اندر پیدا کر لیں اور ترقی کی ضروری مادی تدبیریں اختیار کر لیں تو اوپر اٹھ سکتی ہیں۔ لیکن جب امت مسلمہ کا معاملہ ہو تو صرف یہ چیزیں ترقی کا زینہ بننے کے لیے ہر گز کافی نہیں ہو سکتیں۔ کیوں کہ یہ امت اس دنیا میں اللہ کے دین کی علم بردار ، اور دوسرے قوموں کے سامنے حق کی گواہ ہے۔ دوسری کسی قوم کا منصب یہ نہیں ہے۔ منصب کا اختلاف قطعی طور پر حقوق اور ذمہ داریوں دونوں کا اختلاف چاہتا ہے اور اس اعتبار سے معاملے کے ضابطے بھی مختلف ہوں گے۔ دوسری قومیں اگر حق کا راستہ چھوڑ کر چلیں تو انصاف کہتا ہے کہ ان کا یہ جرم اتنا سخت اور قابل نفرت نہ ہوگا جتنا کہ امت مسلمہ کی طرف سے سرزد ہونے کی شکل میں ہو سکتاہے۔ اس لیے دوسری قوموں کو قدرت کی طرف سے اگر یہ رعایت ملی ہے کہ وہ خد اکی فرماں برداری اختیار کیے بغیر بھی پھل پھول سکتی ہیں اور امت مسلمہ کو نہیں ملی تو ایسا ہونا ہی چاہیے تھاجو اللہ کے خصوصی فضل سے سرفراز ہوا ہے اسے اس مخصوص فضلِ خدا وندی کی ناقدری کی شکل میں اس کے مخصوص عتاب کا سزا وار بھی بننا ہی پڑے گا۔ |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (02-04-11), shafresha (28-03-11), ھارون اعظم (28-03-11), نورالدین (28-03-11), مرزا عامر (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبداللہ آدم (02-04-11), عبداللہ حیدر (29-03-11) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
برائے مطالعہ مزید ملاحظہ ہو
’’فریضہ اقامت دین‘‘ از مولانا صدر الدین اصلاحی ’’اسلام ایک نظر میں‘‘ از مولانا صدر الدین اصلاحی |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (02-04-11), shafresha (28-03-11), ھارون اعظم (28-03-11), نورالدین (28-03-11), مرزا عامر (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبداللہ حیدر (29-03-11) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,991
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سلطنت عثمانیہ مغرب کے مقابلے میں ایک سپر پاور تھی اور آج سے تقریباً تین سو سال پہلے اسکی طاقت عروج پر تھی اور 1683 میں ویئنا (Vienna) کے معاصرے میں شکست کھانے کے بعد نہ صرف اسکا زوال شروع ہوگیا تھا بلکہ اسکے نتائج مسلمان سلطنت کیلیے بالآخر مہلک اور مغرب کے عروج کیلیے فیصلہ کن ثابت ہوے تھے۔ ویئنا کا تصادم دونوں مسلمانوں اور مغرب والوں کیلیے ایک تاریخی اہمیت کا موڑ ثابت ہوا جہاں سے ان دونوں سولائزیشنوں (civilisations) نے دو مختلف راستے اختیار کیے جن سے ایک کی قسمت بنی تو دوسری کی بگڑی۔اگر ہم 1683 سے لیکر بیسویں صدی کے شروع میں سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ہونے تک کے اہم تاریخی حقائق کا جائزہ لیں تو ان وجوہات کا تعین کرنے کیلیے یہ عمل بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے تاہم یہ تعین objective جائزے کے بغیر ممکن نہیں ہو گا۔ |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا | shafresha (29-03-11), ھارون اعظم (02-04-11), نورالدین (29-03-11), مرزا عامر (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبداللہ آدم (02-04-11) |
|
|
#12 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
صرف معرکے میں شکست کے بعد سنبھلا جا سکتا ہے لیکن اگر وہ خرابیاں پیدا ہو جائیں جن کے بعد حکومت کا حق سلب ہو جاتا ہے تو پھر ایک معرکے کی شکست پوری سلطنت کی شکست و زوال کا باعث بنتی ہے۔ |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (02-04-11), نورالدین (29-03-11), مرزا عامر (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبداللہ حیدر (29-03-11) |
|
|
#13 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ویانا کے اس محاصرے کی کچھ تفصیل بتائیں کہ اس کے مقاصد کیا تھا اور نتائج کس طرح تاریخ کے دھارے کو موڑنے میں اہم ثابت ہوئے
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبدالقدوس (29-03-11), عبداللہ آدم (02-04-11) |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,991
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (02-04-11), نورالدین (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبداللہ حیدر (29-03-11) |
|
|
#15 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور پھر یہ بھی جاننا ضروری ہو گا کہ جب غلبہ و اقتدار مسلمانوں کے پاس تھا تو ان میں وہ خوبیاں کس حد تک پائی جاتی تھیں جن کی وجہ سے اس معرکے کے بعد مغرب نے ترقی کی |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (02-04-11), نورالدین (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبداللہ آدم (02-04-11) |
![]() |
| Tags |
| ہوتا, ہے۔, ہے،, کوئی, کرتے, گئی, وقتی, لوگ, چین, موجودہ, ملک, منتقلی, مسلمان, مسلمانوں, آج, آغاز, امریکہ, اسلامی, جیسی, دل, دنیا, شروع, طور, صدیوں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| آگ کیسے ایجاد ہوئی؟ | زارا | گپ شپ | 12 | 08-06-11 09:31 AM |
| پنجاب بینک سکینڈل میں ڈیل کب، کہاں اور کیسے ہوئی؟ | گلاب خان | خبریں | 1 | 03-09-10 04:43 PM |
| آپکی عید کیسے گزری؟ | Zullu230 | گپ شپ | 14 | 06-12-09 10:44 AM |
| آپ نے اپنی عید کیسے منائی؟ | ھارون اعظم | عمومی بحث | 25 | 06-12-09 04:42 AM |
| Bokفائل کیسے اوپن ہو گی؟ | محمدعمر | Ask Experts ماہرین کی رائے | 7 | 05-12-09 10:53 PM |