واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


طاقت مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل کر کب اور کیسے مغرب کو حاصل ہوئی؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-03-11, 05:33 PM   #1
طاقت مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل کر کب اور کیسے مغرب کو حاصل ہوئی؟
ناصحی ناصحی آف لائن ہے 27-03-11, 05:33 PM

جہاں کہیں بھی کوئی مسلمان اپنی قوم کی موجودہ خستہ حالی کا رونا رو رہا ہوتا ہے وہاں عام طور پر یہ ذکر بھی ملتا ہے کہ کسی دور میں ہم مغرب سے صرف جنگ کے میدان میں ہی نہیں دوسرے اہم میدانوں میں بھی صدیوں آگے تھے ۔کبھی کبھی کچھ لوگ مسلمانوں کی حالت کے اس الٹنے کی وضاحتیں بھی پیش کرتے ہیں لیکن اکثر یہ گھسی پھٹی اور افسانوی طرز کی ہوتی ہیں جو وقتی طور پر دل کو بہلانے کا بہانہ میسر کرتی ہیں۔

vws.jpg
یورپ میں وییانا کے محاصرے میں عثمانیہ سلطنت کی فوج کی ناکامی مسلمانوں کی طاقت کے زوال کا ابتدا تھی

کسی دور میں مسلمان بلکل ایک سپر پاور تھے مگر آہستہ آہستہ انہوں نے اپنی یہ حیثیت کھونا شروع کر دی اور آخر کاروہ مغرب سے بہت پیچھے رہ گئے۔ پچھلے تین سو سالوں سے مغرب مسلمانوں سے ہر بڑی جنگ جیتتا چلا آرہا ہے۔ آج دنیا میں امریکہ جیسی سپر پاور کے مقابلے کا کوئی اسلامی ملک نہیں۔ طاقت کی اس منتقلی کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟ وہ کونسی ایسی چیز تھی جس کے پانے سے یہ طاقت مغرب کو حاصل ہوگئ اورجس کے کھونے سےطاقت مسلمانوں کےہاتھوں سے نکل گئی اور جنگوں میں انکی شکستوں کا سلسہ شروع ہوگیا؟

v8.jpg

کیا مسلمانوں کی طرح اب مغرب کے زوال کا وقت بھی قریب آ چکا ہے؟ اگر دنیا پر مغرب کے غلبے کا دور ختم ہو گیا تو پھر کس کا دور شروع ہو سکتا ہے، چین کا، انڈیا کا یا دوبارہ مسلمانوں کا؟

__________________

 
ناصحی's Avatar
ناصحی
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 4326
Reply With Quote
16 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (07-04-11), mama_shalla (08-04-11), rabab (28-03-11), shafirajput (02-04-11), shafresha (27-03-11), کنعان (28-03-11), ھارون اعظم (27-03-11), نورالدین (28-03-11), محمدعدنان (08-04-11), مرزا عامر (27-03-11), اویسی (28-03-11), حیدر (31-03-11), رضی (03-04-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبدالقدوس (29-03-11), عبداللہ آدم (02-04-11)
پرانا 27-03-11, 09:17 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاکستان
مراسلات: 1,788
کمائي: 26,539
شکریہ: 937
1,285 مراسلہ میں 2,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبیداللہ عبید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ناسی وائز بھائی ایک عمدہ بحث کی ابتدا کی ہے آپ نے ۔ شکریہ

اور اس پر کافی بحث ہوچکی ہے ، ہنوز مزید کی گنجائش ہے
عبیداللہ عبید آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبیداللہ عبید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (28-03-11), نورالدین (28-03-11), ناصحی (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11)
پرانا 27-03-11, 11:58 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مسلمانوں کا دور کم از کا ایک صدی تک تو نہیں‌ آ سکتا ہے۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (28-03-11), نورالدین (28-03-11), حیدر (31-03-11), رضی (03-04-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبدالقدوس (29-03-11)
پرانا 28-03-11, 09:31 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاکستان
مراسلات: 1,788
کمائي: 26,539
شکریہ: 937
1,285 مراسلہ میں 2,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبیداللہ عبید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ہم تو ٹھہرے اجنبی مراسلہ دیکھیں
مسلمانوں کا دور کم از کا ایک صدی تک تو نہیں‌ آ سکتا ہے۔
خدا کی بنائی یہ دنیا نرالی ہے اور قدرت کے فیصلے بھی بسا اوقات انوکھے ہوتے ہیں، کوئی انہونی بھی ہوسکتی ہے ۔
عبیداللہ عبید آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبیداللہ عبید کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (07-04-11), shafirajput (02-04-11), shafresha (28-03-11), نورالدین (28-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11)
پرانا 28-03-11, 09:33 AM   #5
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا قدرت آسمان سے زمین پر اتر کر مسلمانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی پانی میں گھول کر پلا دے گئی؟
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (28-03-11), نورالدین (28-03-11), اویسی (28-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبدالقدوس (29-03-11)
پرانا 28-03-11, 10:17 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Thumbs down

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم خود ہی اپنی دنیا بگاڑ لیتے ہیں اور پھر بیٹھ کر روتے رہتے ہیں کہ
ہم پیچھے رہ گئے ۔

ابھی کچھ دن پہلے جیو کے پروگرام میں کسی صاحب کے یہ بھاشن سن کر ہنسی آگئی کہ کس طرح خود بہلا وے کے افیون میں گھول رہے ہيں
ان صاحب کا کہنا تھا کہ
جس طرح اللہ نے حضرت یوسف کو انتہائی تکلیف سے گزارا وہ صرف اس لیے کہ ان کو مصر کا حکمران بناتا ۔
اسی طرح ہم مسلمانوں پر اتنی مصیبتیں اسی لیے آ رہی ہيں کہ اللہ ہمیں دنیا پر حکمرانی کے لیے تیار کر رہا ہے ۔
واہ ۔ ۔ وا ہ ۔
ایک تو مسلمان پہلے ہی صوفی ازم ۔ تارک الدنیا ۔ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد وغیرہ کے چکر میں پیچھے رہ گئے ہيں
باقی کسر اس طرح کے ڈائیلاگ سے پوری ہو رہی ہے ۔
یوسف علیہ السلام کے قصے کے خود پر لاگو کرنے سے پہلے دونوں کا فرق ذہن میں نہیں رکھا ۔

یوسف علیہ السلام پر آزمائشیں آ ئی تو انہوں نے ہر غلط سے بچ کر دکھایا اور نیک راہ پر ہی رہے ۔

ہم مسلمان کیا کر رہے ہيں ۔ ہماری سوچ کیا ہے ۔
ایک غلط کر تا ہے تو اپنی فطرت سے کرتا ہے
باقی غلط کرتے ہيں تو اس لیے کرتے ہيں کہ وہ بھی تو کر رہا ہے ۔

دنیا بھی اللہ نے بنائی ہے بے شک آزمائش کے لیے ہے مگر ہے تو آخرت کے لیے ہی ۔
کیسے ترقی کریں ہم لوگ کہ بجائے اللہ کی دی ہوئی طاقت کا فائدہ اٹھانے کے دنیا سے بھاگتے ہيں
تارک الدنیا ہونے کو آخرت کی نجات سمجتھے ہوں ۔
افرادی قوت میں اضافہ کرنے کے بجائے جنسی تفریق کرتے ہوں ۔ جیسے کہ عورت فتنہ ہے ۔ اولاد غافل کر دیتی ہے ۔ وغیرہ
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (02-04-11), shafresha (28-03-11), فاروق سرورخان (04-04-11), ناصحی (29-03-11), منتظمین (28-03-11), مرزا عامر (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11)
پرانا 28-03-11, 10:52 AM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھا موضوع ہے اور یقینا ان وجوہات کا تعین بھی ضروری ہے جس کے باعث طاقت کا مرکز مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل کر غیروں کے ہاتھ جا لگا۔
دنیا پر حکمرانی کی پہلی شرط علم پر حکمرانی ہے۔ علم کے میدان میں جو سبقت لے گیا اس کو دنیا پر حکمرانی سے کوئی نہیں روک سکتا۔
اسی لئے اسلام کی پہلی وحی کا آغاز ہی ’’اقراء‘‘ سے ہوا تھا۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (08-04-11), shafirajput (02-04-11), shafresha (28-03-11), فاروق سرورخان (05-04-11), ھارون اعظم (28-03-11), نورالدین (28-03-11), منتظمین (28-03-11), مرزا عامر (01-04-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11)
پرانا 28-03-11, 11:16 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دنیا ، دین اور مذاہب کس طرح ساتھ ساتھ چل سکتے ہيں ۔ اور ان میں سے کون سی چیز ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔
اس موضوع پر جناب پروفیسر علی حسن مظفر صاحب کی کافی کتابیں مشہور ہيں ۔ جیسے قرآن کی فریاد ، روایات اصل دین نہيں ، وغیرہ
جن میں انہوں نے بڑے ہی چشم کشا انداز میں مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر روشنی ڈالی ۔
اور دوسروں پر بوجھ ڈالنے کے بجائے مسلمانوں کے اپنے اندر سے دستگی پر زور دیا ہے ۔
اور فرقوں اور مذاہب کو تنزلی کی وجہ قرار دیا ہے ۔

مگر فی الحال تو نصیع وائز بھائی کی طرف سے انتظار ہے ۔ کہ وہ اس موضوع پر کیا کہتے ہيں ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (02-04-11), shafresha (28-03-11), ناصحی (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبدالقدوس (29-03-11)
پرانا 28-03-11, 11:22 AM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام اور دیگر اقوام عالم کی ترقی کی بنیادی شرائط میں ایک فرق ہے جسے صدر الدین اصلاحی صاحب نے قرآنی آیات و احادیث کی روشنی میں کچھ یوں واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ کی راہ چلتے تو ہم ان کے اوپر زمین اور آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔(الاعراف۔۹۶)
اور جنہوں نے ایمان اور خدا پرستی کا راستہ اختیار کیا۔
فَآتَاهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْآخِرَةِ
تو اللہ نے انہیں دنیا کا بھی اجر دیا۔ اور آخرت کا بھی بہترین اجر عطا فرمایا (آلعمران۔ ۱۴۸)
ان متفقہ شہادتوں کی موجودگی میں کوئی وجہ نہیں کہ اسلام اور امت مسلمہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ ضابطہ اور فیصلہ بدل جاتا۔ چنانچہ دنیو ی فلاح کے بارے میں ٹھیک اسی طرح کا وعدہ اس امت سے بھی کیا گیا جیسا پہلوں سے کیا جاتا رہاہے۔ اور یہ ہر مرحلے میں کہا گیا۔ مکہ کے تاریک و صبر آزما دور میں بھی اور مدینہ کے پر خطر ماحول مں بھی ۔ انھیں بھی خطاب کیا گیا جو اسلام لا چکے تھے اور انہیں بھی جو ابھی دائرۂ اسلام میں نہ آئے تھے۔ چنانچہ مکہ میں قریش کو ایمان کی دعوت دیتے ہوئے اللہ کا ارشا دتھا:
وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا
اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور پھر اس کی طرف رجوع کرو تو وہ تمہیں زندگی کا اچھا سامان عطا فرماتا رہے گا۔ (ھود۔ ۳)
اور اللہ کے رسو ل (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ’’اگر تم میرا لا یا ہوا پیغام قبول کولو گے تو وہ دنیا میں بھی تمہاری خوش نصیبی کا باعث ہوگا او آخرت میں بھی۔ ‘‘اورایک موقع پر اپنے چچاابو طالب سے کہا تھا۔ ’’میں انہیں( یعنی قریش کو ) صرف ایک بات کی تلقین کرتا ہوں،ایسی بات کہ جس کی بدولت سارا عرب ان کا مطیع اور سارا عجم ان کا باج گذار ہو جائے گا۔‘‘ پھر اسی طرح ایمان لا چکنے والوں سے خطاب فرمایا گیا:
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا
تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عمل صالح کرتے ہیں اللہ کا ان سے وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین مںّ اقتدار عطا فرمائے گا جس طرح اس نے ان سے پہلے کے لوگوں کو اقتدار عطا فرمایا تھا اور ان کے لیے اس دین کی جڑیں بڑی مضبوط جمادے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے اور ان کی موجودہ حالتِ خوف کو حالتِ امن سے بدل دے گا۔ (النور۔ ۵۵)
گویا جس طرح اُخروی فلاح کے لیے ’’ایمان‘‘ اور’’ عمل صالح‘‘ ایک لازمی شرط ہے اسی طرح دنیوی فلاح و سعادت کے لیے بھی ’’ایمان ‘‘ اور عمل صالح‘‘ شرط اولین ہے ، اور اسی لیے مسلمانوں (امت مسلمہ) کا عروج و زوال اسی شرط پر موقوف ہے:

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
نہ تم پریشان ہو اور نہ خوف زدہ ،کامیابی تمہارے لیے ہے بشرطے کہ تم سچے مومن ہو جاؤ۔ (آل عمران۔ ۱۳۹)
ملت اسلامیہ کے لیے عروج و زوال کا یہ قانون دوسری قوموں سے بلکل مختلف ہے۔ دوسری قوموں کے لیے اللہ کا قانون تو یہ ہے کہ اگر وہ کچھ بنیادی قسم کی انسانی اخلاقیات اپنے اندر پیدا کر لیں اور ترقی کی ضروری مادی تدبیریں اختیار کر لیں تو اوپر اٹھ سکتی ہیں۔ لیکن جب امت مسلمہ کا معاملہ ہو تو صرف یہ چیزیں ترقی کا زینہ بننے کے لیے ہر گز کافی نہیں ہو سکتیں۔ کیوں کہ یہ امت اس دنیا میں اللہ کے دین کی علم بردار ، اور دوسرے قوموں کے سامنے حق کی گواہ ہے۔ دوسری کسی قوم کا منصب یہ نہیں ہے۔ منصب کا اختلاف قطعی طور پر حقوق اور ذمہ داریوں دونوں کا اختلاف چاہتا ہے اور اس اعتبار سے معاملے کے ضابطے بھی مختلف ہوں گے۔ دوسری قومیں اگر حق کا راستہ چھوڑ کر چلیں تو انصاف کہتا ہے کہ ان کا یہ جرم اتنا سخت اور قابل نفرت نہ ہوگا جتنا کہ امت مسلمہ کی طرف سے سرزد ہونے کی شکل میں ہو سکتاہے۔ اس لیے دوسری قوموں کو قدرت کی طرف سے اگر یہ رعایت ملی ہے کہ وہ خد اکی فرماں برداری اختیار کیے بغیر بھی پھل پھول سکتی ہیں اور امت مسلمہ کو نہیں ملی تو ایسا ہونا ہی چاہیے تھاجو اللہ کے خصوصی فضل سے سرفراز ہوا ہے اسے اس مخصوص فضلِ خدا وندی کی ناقدری کی شکل میں اس کے مخصوص عتاب کا سزا وار بھی بننا ہی پڑے گا۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (02-04-11), shafresha (28-03-11), ھارون اعظم (28-03-11), نورالدین (28-03-11), مرزا عامر (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبداللہ آدم (02-04-11), عبداللہ حیدر (29-03-11)
پرانا 28-03-11, 11:24 AM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

برائے مطالعہ مزید ملاحظہ ہو
’’فریضہ اقامت دین‘‘ از مولانا صدر الدین اصلاحی
’’اسلام ایک نظر میں‘‘ از مولانا صدر الدین اصلاحی
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (02-04-11), shafresha (28-03-11), ھارون اعظم (28-03-11), نورالدین (28-03-11), مرزا عامر (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبداللہ حیدر (29-03-11)
پرانا 29-03-11, 12:46 AM   #11
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,991
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یقینا ان وجوہات کا تعین بھی ضروری ہے جس کے باعث طاقت کا مرکز مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل کر غیروں کے ہاتھ جا لگا۔
بلکل ہمیں ضرور ان وجوہات کا تعین کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

سلطنت عثمانیہ مغرب کے مقابلے میں ایک سپر پاور تھی اور آج سے تقریباً تین سو سال پہلے اسکی طاقت عروج پر تھی اور 1683 میں ویئنا (Vienna) کے معاصرے میں شکست کھانے کے بعد نہ صرف اسکا زوال شروع ہوگیا تھا بلکہ اسکے نتائج مسلمان سلطنت کیلیے بالآخر مہلک اور مغرب کے عروج کیلیے فیصلہ کن ثابت ہوے تھے۔

ویئنا کا تصادم دونوں مسلمانوں اور مغرب والوں کیلیے ایک تاریخی اہمیت کا موڑ ثابت ہوا جہاں سے ان دونوں سولائزیشنوں (civilisations) نے دو مختلف راستے اختیار کیے جن سے ایک کی قسمت بنی تو دوسری کی بگڑی۔اگر ہم 1683 سے لیکر بیسویں صدی کے شروع میں سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ہونے تک کے اہم تاریخی حقائق کا جائزہ لیں تو ان وجوہات کا تعین کرنے کیلیے یہ عمل بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے تاہم یہ تعین objective جائزے کے بغیر ممکن نہیں ہو گا۔
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (29-03-11), ھارون اعظم (02-04-11), نورالدین (29-03-11), مرزا عامر (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبداللہ آدم (02-04-11)
پرانا 29-03-11, 09:29 AM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
سلطنت عثمانیہ مغرب کے مقابلے میں ایک سپر پاور تھی اور آج سے تقریباً تین سو سال پہلے اسکی طاقت عروج پر تھی اور 1683 میں ویئنا (Vienna) کے معاصرے میں شکست کھانے کے بعد نہ صرف اسکا زوال شروع ہوگیا تھا بلکہ اسکے نتائج مسلمان سلطنت کیلیے بالآخر مہلک اور مغرب کے عروج کیلیے فیصلہ کن ثابت ہوے تھے۔
لیکن اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہو گا کہ اس معرکے سے قبل مسلمانوں میں کیا خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں جو زوال سلطنت کو لازم قرار دیتی ہیں۔
صرف معرکے میں شکست کے بعد سنبھلا جا سکتا ہے لیکن اگر وہ خرابیاں پیدا ہو جائیں جن کے بعد حکومت کا حق سلب ہو جاتا ہے تو پھر ایک معرکے کی شکست پوری سلطنت کی شکست و زوال کا باعث بنتی ہے۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (02-04-11), نورالدین (29-03-11), مرزا عامر (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبداللہ حیدر (29-03-11)
پرانا 29-03-11, 09:30 AM   #13
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویانا کے اس محاصرے کی کچھ تفصیل بتائیں کہ اس کے مقاصد کیا تھا اور نتائج کس طرح‌ تاریخ کے دھارے کو موڑنے میں‌ اہم ثابت ہوئے
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبدالقدوس (29-03-11), عبداللہ آدم (02-04-11)
پرانا 29-03-11, 03:28 PM   #14
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,991
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
لیکن اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہو گا کہ اس معرکے سے قبل مسلمانوں میں کیا خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں جو زوال سلطنت کو لازم قرار دیتی ہیں۔
صرف معرکے میں شکست کے بعد سنبھلا جا سکتا ہے لیکن اگر وہ خرابیاں پیدا ہو جائیں جن کے بعد حکومت کا حق سلب ہو جاتا ہے تو پھر ایک معرکے کی شکست پوری سلطنت کی شکست و زوال کا باعث بنتی ہے۔
اور یہ بھی جاننا ضروری ہوگا کہ اس معرکے کے بعد ہمارے مغربی حریفوں میں کیا خوبیاں پیدا ہو گیں تھیں جن کی وجہ سے انکے عروج کو ایسی بلندی حاصل ہوئی جسمیں آجتک مسلسل اضافہ ہو رہا ہے!
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (02-04-11), نورالدین (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبداللہ حیدر (29-03-11)
پرانا 29-03-11, 03:32 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Nasiwise مراسلہ دیکھیں
اور یہ بھی جاننا ضروری ہوگا کہ اس معرکے کے بعد ہمارے مغربی حریفوں میں کیا خوبیاں پیدا ہو گیں تھیں جن کی وجہ سے انکے عروج کو ایسی بلندی حاصل ہوئی جسمیں آجتک مسلسل اضافہ ہو رہا ہے!
بالکل یہ جاننا بھی از حد ضروری ہے
اور پھر یہ بھی جاننا ضروری ہو گا کہ جب غلبہ و اقتدار مسلمانوں کے پاس تھا تو ان میں وہ خوبیاں کس حد تک پائی جاتی تھیں جن کی وجہ سے اس معرکے کے بعد مغرب نے ترقی کی
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (02-04-11), نورالدین (29-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبداللہ آدم (02-04-11)
جواب

Tags
ہوتا, ہے۔, ہے،, کوئی, کرتے, گئی, وقتی, لوگ, چین, موجودہ, ملک, منتقلی, مسلمان, مسلمانوں, آج, آغاز, امریکہ, اسلامی, جیسی, دل, دنیا, شروع, طور, صدیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
آگ کیسے ایجاد ہوئی؟ زارا گپ شپ 12 08-06-11 09:31 AM
پنجاب بینک سکینڈل میں ڈیل کب، کہاں اور کیسے ہوئی؟ گلاب خان خبریں 1 03-09-10 04:43 PM
آپکی عید کیسے گزری؟ Zullu230 گپ شپ 14 06-12-09 10:44 AM
آپ نے اپنی عید کیسے منائی؟ ھارون اعظم عمومی بحث 25 06-12-09 04:42 AM
Bokفائل کیسے اوپن ہو گی؟ محمدعمر Ask Experts ماہرین کی رائے 7 05-12-09 10:53 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:55 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger