| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 3661
|
||||
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,166
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اداس ساحل آپ کو پاک نیٹ کی فیملی کی جانب سے خوش آمدید آپ نے ایسے سوال کئے ہیںکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
سمندر نے سمندر ،دریا نے دریا جانا مجھے جسکا جتنا ظرف تھا اتنا ہی پہچانا مجھے |
|
|
|
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 1,087
کمائي: 19,171
شکریہ: 9,216
761 مراسلہ میں 1,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھائی جان سوال1 کا جواب: نہیں سوال 2 کا جواب: نہیں سوال 3 کا جواب: جی ہاں سوال 4 کا جواب: نہیں وجہ وجہ یہ ہے کہ کیا طالبان کے وجود میں آنے سے پہلے اس دنیا میں کوئی مسلمان نہیں تھا۔ کیا کوئی دین کی خدمت نہیں کر رہا تھا، کیا کوئی جہاد نہیں کررہا تھا۔ کیا کوئی مدارس میں تعلیم حاصل نہیں کر رہا ہے۔ جواب ہوگیا جی ہاں طالبان کے پیدا ہونے سے پہلے بھی اس دنیا میں اچھے مسلمان موجود تھے ۔ بلکہ ان سے تو تمام مسلمان ہی اچھے ہیں۔ دین کا کام بھی ہو رہا تھا۔ بس ایک چیز نہیں تھی وہ ہے مسلمانوں میں انتشار ، انکے پیدا ہونے سے مسلمان میں انتشار پیدا ہوا۔ ان لوگوں کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلمان کم ازکم سو سال مزید پیچھے چلے گے۔ آج یہ لوگو کہتے ہیں کہ " جدید دور کی تمام ترقی تمام ایجادات مسلمانوں کی کتب کی سے لیں گیں ہیں جو انگریزوں نے بغداد پر قبضہ کے وقت وہاں سے چوری کی تھی۔" مان لیتے ہیں اس بات کو۔ اس مطلب تو یہ ہوا کہ اس وقت کے مسلمان حکمران اور مسلمان عالم ان سے اچھے ہی تھے جہوں نے جدید سائنس پر کتب لکھی تحقیقی کام کیا۔ انکے مدارس آج کے مدارس سے اچھے ہی تھے نہ۔ جہاں ایسی جدید تعلیم دی جاتی تھی۔ مگر آج کے طالبان کہتا ہے کہ صرف قرآن پڑھو نماز پڑھو غار میں زندگی گزاو، انہی لوگوں کی وجہ سے ہم مزید سو سال پیچھے چلے گئے ہیں کیوں آج ہم اعلٰی تعلیم کے لیے باہر نہیں جا سکتے ہیں۔، مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں کے مدارس بھی تو انہوں نے اس قابل نہیں چھوڑے کے ان سے جدید تعلیم مل سکے ۔، تو جناب انکا طریقہ کار غلط ہے۔ عمل غلط ہے یہ خود بھی غلط ہیں۔ ہم مدارس میں بھی پڑھ چاہتے ہیں ہم دینی تعلیم بھی چاہتے مگر ساتھ ساتھ جدید تعلیم بھی۔ کیوں ملا کا کام دینی فروشی ہے یہ لوگ دین فروشی سے روزگار کمانے کے چکر میں رہتے ہیں مگر سب لوگوں کی ایسی سوچ نہیں۔ ہم دین تعلیم اپنی زندگی اور آخرت سنوارنے کی حاصل کرنی ہے اور اسی سے دوسروں کی زندگی بھی بدلنی ہے۔ مگر روزگار کمانے کی کیلئے جدید تعلیم اور ہنر حاصل کرنے ہیں اس تعلیم سے بھی ہم دوسروں کی بھلائی ہی کریں گے۔ یہ طالبان تو میڈیکل سائنس کی تعلیم کوبھی غلط کہتے یہ چاہتے ہیں کہ انسان پتھر کے زمانے میں واپس چلا جائے اور سیکسیک کر مر جائے۔ اسی لئے یہ لوگوں صرف دینی مدارس کی تعلیم پر ہی زور دیتے ہیں۔ پھر یہ لوگو کسی مدارسہ میں یا مسجد کی نماز پڑھا کر ہی روزی کماتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ انکے پاس دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیا کی جدید تعلیم بھی ہو۔ مگر دوسری طرف کچھ لوگوں کے پاس صرف جدید تعلیم ہے دینی تعلیم نہیں ہے۔ اس وجہ بھی یہی لوگ ہیں۔ اگر کوئی اپنے بچے کو انکے مدرسہ میں داخل کروا دیے تو اور پوری طرح انکے سپرد کردے تو وہ انجینیئر نہیں بن سکے گا صرف مولوی یا کوئی خود کش ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوچ کی ضروت ہے۔ میں صاحب علم نہیں ، مگر درد رکھتا ہوں
__________________
![]() باخدا دیوانہ باشد بامحمد ہوشیار!طالبان اور امریکہ کا ایک ہی مقصد ۔ مسلم کشی Last edited by اویسی; 08-06-10 at 11:11 AM. |
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,166
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اویسی بھائ کی بات سے متفق ہوں
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
الٹے سیدھے سوالات کرنے کی بجائے یہ جان لیں کہ
طالبان کون ہیں ؟؟؟ طالبان کا قصہ یہ ہے کہ یہ افغانستان کے دینی مدارس کے طلبہ تھے جنہوں نے سوویت یونین کے انخلا کے بعد اقتدار کے لئے مسلم تنظیموں کی رسہ کشی کو دیکھتے ہوئے مداخلت کی تھی اور اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔ چونکہ یہ طالبان اسلامی اجتماعیت کے قائل اور ہر اخلاقی برائی کے خلاف تھے، مغرب کی آبروباختہ تہذیب کو برداشت نہیں کرتے تھے اس لئے امریکہ ان کا دشمن بن گیا تھا۔ امریکی دشمنی میں شدت اُس وقت پیدا ہوئی جب طالبان نے بن لادن کو بغیر کسی ثبوت کے امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ امریکہ ابتداء میں تو طالبان کو القاعدہ کے ساتھ جوڑ کر چیخ پکار کرتا تھا۔ اب اس نے القاعدہ کی جگہ طالبان کو دے دی ہے اور طالبان کے نام پر تمام باعمل مسلمانوں کی کردار کشی کی عالمگیر مہم چلا رہا ہے۔ باعمل اور غیور مسلمانوں کے خلاف امریکہ کا یہ پروپیگنڈا اتنا طاقتور اور موثر ہے کہ دنیا کے اَن پڑھ اور سیدھے سادے عوام ہی نہیں تعلیم یافتہ اور منصب دار افراد بھی اس سے متاثر ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال ہندوستانی سپریم کورٹ کے جج مارکنڈے کاٹجو کا وہ ریمارک ہے جو انہوں نے ایک مسلم طالب علم کی ڈاڑھی کے مقدمہ میں دیا ہے ’’ہم اِس ملک میں طالبان نہیں چاہتے۔‘‘اور یہاں پاکستان میں بھی "اعلٰی تعلیم یافتہ"لوگ جو ہیں تو مسلمان ہی ان کو بھی امریکہ اور دوسرے کفار کی ہاں میں ہاں بلکہ مدعی سے زیادہ چستی دکھانے کا دماغی عارضہ ھوچکا ھے ، اور اب تو بات وہاں تک پہنچ چکی ھے کہ جس کا مظاہرہ اس تھریڈ میں کئے گئے سوالات کو ہی دیکھ لیں 1-کيا طالبان کا جہاد اسلام سپورٹ کرتا ہے؟ اس سوال کے کرنے سے پہلے اگر جناب ساحل صاحب یہ بتادیتے کہ موجودہ دور یا گزشتہ تمام ادوار کے کون کون سے جہاد ایسے ہیں جن کو یہ سمجھتے ہیں یا امریکہ یا تمام دنیا نے "جہاد" تسلیم کیا ھو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر موجودہ دور کے جہاد ، چاھے کشمیر ھو یا ، چیچنیا، بوسنیا ، عراق، فلسطین ، افغانستان کا ہی کیوں نہ ھو ، ایسا کوئی بھی جہاد نہیں ھوا جس کو کفار نے دھشتگردی یا فساد نہ کہا ھو ، تحریک پاکستان یا اس سے پہلے 1857 کی جنگ آذادی کو ہی دیکھ لیں ، اسمیں تو آپ کو بڑے بڑے نام نہاد مسلمان علامے تک جہاد کو فساد کہتے نظر آئیں گے۔ تو جناب ساحل صاحب آپ یہ بھی بتادیتے کہ آپ کی نظر میں کون سا جہاد ایسا ھے جس کو اسلام سپورٹ کرتا ھے؟؟ 2- کيا آپ اپنے بچوں کو طالبان کے مدرسوں ميں تعليم کے حامی ہيں؟ پہلے یہ تو بتادیں جناب کہ پاکستان میں کون کون سے اور کس کس مدرسے نے اعلان کیا ھے کہ ہمارہ نظام تعلیم طالبانی ھے ؟؟ یا پھر آپ ہر خالص دینی تعلیم دینے والے مدرسے کو طالبان کا مدرسہ سمجھتے ہیں؟ 3-کيا آپ اپنے بچوں کو اس مدرسے ميں بھيجيں گے جو طالبان کے زير اثر نہيں ہين؟ نشان دہی کردیتے آپ کہ کون کون سے مدرسے طالبان کے زیر اثر نہیں ہیں تو کچھ مجھے بھی سمجھ آجاتی کہ آپ کس کو طالبان نہیں سمجھتے؟ اور ایک سوال میری جانب سے کیا آپ اپنے بچے کو ایسے کالج یا اسکول میں بھیجیں گے جہاں سے قادیانیوں کو بھائی اور مسلمان کہنے والے تیار ھوتے ہیں؟ اور جہاں سے یہودیوں اور ھندؤں کو اپنا دوست بنانے والے دماغ تیار کئ جاتے ہیں؟ اور جہاں لڑکوں کو لڑکیوں کے برابر بٹھا کر بے حیائی کو زبردستی فروغ دیا جاتا ھے؟ 4-کيا طالبان مسلم امت کی ترقی ميں مدد کر رہے ہيں؟ ساحل صاحب طالبان امت مسلمہ کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ، ترقی کو ہی نہ دیکھیں، اور یہی اصل پوائنٹ ھے جو آج صرف ترقی کے دلدادہ اور کفریہ نقش و نگار سے متاثر لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا، بقول امریکہ اور امریکہ کے حامی سوچ رکھنے والوں کے طالبان جنگلی ہیں انسانیت کے دشمن ہیں وغیرہ ۔۔۔ تو جناب یہی چارجز جو طالبان پر لگائے جاتے ہیں ان سے زیادہ ظالم تو ھندستان کے فوجی ہیں جو 1948 سے 1998 تک کے اعداد و شمار کی رو سے 80000 سے زیادہ مسلمانوں کو شہید کرچکا ھے، خود امریکہ صرف ہیروشیما اور ناگا ساکی پر آگ برسا کر لاکھوں انسانوں کو قتل کرچکا ھے، اور یہود جنہوں نے ہمارے قبلہ اول پر آدھی صدی سے قبضہ کررکھا ھے اور کئی لاکھ مسلمانوں کو شہید کرچکا ھے ، اور اب تو جناب یہودی فوجی ، جوانوں اور بوڑھوں سے زیادہ عورتوں اور بچوں کو شہید کرتا ھے، اس کی بھی آپ کو سمجھ نہیں ھوگی کہ اسرائیل ایسا کیوں کرتا ھے؟ میں بتاتا ھوں آپ کو ، جناب اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی بچے پیدہ کرنے والی خواتین کو ہی ختم کردو ، نہ عورت ھوگی نہ مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ھوگا، اور بچوں کو اسلئے شہید کرتے ہیں کہ کل کو یہی بچے بڑے ھوکر ان کے سر کا درد بنیں گے اسلئے ان کو جوان ہی نہ ھونے دو۔ اور جناب کیا کہتے ہیں آپ بوسنیا میں لاکھوں مسلمانوں کے قاتلوں کے بارے میں ؟؟؟ اگر آپ ان مسلمانوں کو دیکھ لیتے امن کے دنوں میں، جب وہ کفریہ معاشرے کا حصہ بنے ھوئے تھے تو آپ کبھی بھی انہیں مسلمان نہ مانتے ، لیکن ان کے نام مسلمانوں والے تھے اور وہ زنہ کی بجائے نکاح کرتے تھے ، اور ان کے بوڑھے بزرگ کبھی کبھی اپنے جوانوں کو بتایا کرتے تھے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو نماذ پڑھتے ھوئے دیکھا ھے، لیکن اس کے باوجو انہیں کفر نے معاف نہیں کیا ، بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے سربیئن غنڈوں اور ان کے سرپرست اعلٰی امریکہ کو آپ مسلمانوں کا نجات دھندہ سمجھتے ہیں جب ہی تو اس کو ناکوں چنے چبوانے والے طالبان کے خلاف امریکہ کی منشاء کے مطابق زہر چھڑک رہے ہیں۔ میرا آپ کو مشورہ ھے کہ آپ ایک بار افغانستان چلے جاؤ اور جاکر وہاں کے طالبان سے ملاقات کرو اور ان کو جانچو کہ کیا وہ پکے مسلمان ہیں یا ہم جو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ترقی کو تلاش کرتے پھر رہے ہیں، اور ہر چمکنے والی چیز کو امریکہ کی مہربانی مان لیتے ہیں، ان کو جاکر دیکھو جن سے امریکہ جیسا بڑا شیطان عاجز ھے ،پھر ان کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کریں، اور ہاں یہ بات یاد رکھیں جناب ساحل صاحب یہ جو پاکستان میں طالبان کا نام استعمال کرنے والے لوگ ہیں ناں یہ طالبان کے ھتھے چڑھ گئے تو وہ ان سے خود ہی نمٹ لیں گے، یا پاکستان حکومت طالبان کو اجازت دے دے کہ وہ امریکہ سے بعد میں نمٹیں پہلے ان نام نہاد پاکستانی طالبان کا صفایہ کردیں۔ یقین مانو اگر ایسا کیا جائے ناںتو چند دن میں ہی یہ سارے نام کے طالبان غائب ھوجائیں گے، لیکن آپ کو یہ باتیں تب سمجھ آئیں گی جب آپ کی آنکھوں سے کفریہ لٹریچر کی پٹی اترے گی، کیونکہ پاکستان میں تمام قسم کی دھشتگردی مچانے والے لوگ امریکی آشیربادی ہیں ، کیا آپ کو کراچی جیسے بڑے شہر میں جند گھنٹوں کے اندر اندر 50 ، 60، افراد قتل کرنے والے دھشتگرد نہیں لگتے؟ اس کے خلاف کیوں آپریشن نہیں ھوتا؟ صرف ان علاقوں میں ہی آپریشن کیوں کرنا ضروری ھے جہاں سے مجاھدین افغانستان جاکر امریکی اور ناٹو فوجیوںکو جہنم پہنچاتے ہیں؟ ایسے ہی مجاھدین کو بدنام کرنے کی خاطر پاکستان میں دھشتگردی کا بازار گرم کیا گیا تھا اور ھے، بلیک واٹر ایم کیو ایم اور اے این پی اور اب تو مسلم لیگ بھی ان جیسے وطن اور دین فروش جب تک موجود ہیں اس وقت تک آپ کو اصل پکچر خود جاکر براہ راست ہی دیکھنا ھوگی ، بصورت دیگر آپ بی بی سی اور جیو اور اے آر وائی نیوز والوں کی جانب سے کی جانے والی برین واشنگ کے شکار ھوتے رہیں گے، اب آپ کہیں گے کہ میں افغانستان کیسے جاؤں ؟ تو بھائی نہیں جاسکتے وہاں تو یہاں ہی صحیح مسلمانوں کے ساتھ بیٹھا کریں ، دین کو سیکھیں ، اور دیکھیں کہ دین ہمیں کیا کہتا ھے اور ہم کیا کررہے ہیں دین ہمیں کہاں لے جانا چاھتا ھے اور ہم کہاں کو جارہے ہیں ، کیونکہ جب تک دیکھنے کا انداز اور سمجھنے کا طریقہ درست نہ ھو اس وقت تک کافروں کے چلائے ھوئے تیر سے بچنا مشکل ھے جب نظر ٹھیک ھوجاتی ھے تو ھر تیر صاف نظر آتا ھے جس سے بچنا آسان ھوجاتا ھے۔ شکریہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | arshad khan (18-06-10), shafresha (08-06-10), ھارون اعظم (08-06-10), نیلم خان (09-06-10), محمد عاصم (09-06-10), مرزا عامر (27-06-10), ایکسٹو (16-06-10), احمد بلال (08-06-10), حیدر (11-06-10), شیرازی (16-06-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 1,087
کمائي: 19,171
شکریہ: 9,216
761 مراسلہ میں 1,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تھا جسکا انتظاروہ ۔۔ ۔ ۔ ۔آگیا
آپ ہی انتظار تھا میں نے بھی یہ قصہ سنا تھا اور پڑھا بھی تھا اس قسم کےقصہ کہانی مارکیٹ میں عام مل جاتی ہیں۔ مگریہ بات صرف اور صرف قصہ کہانیاں ہی ہیں۔ اور یہ بات پوری دنیا جاتی ہے کہ "طالبان" اس وقت ایک فرقہ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ایک الگ مذہب کی شکل میں دنیا میں موجود ہیں۔ |
|
|
|
|
|
#7 | ||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
کو کافر کہا اور "جھوٹا نبی" کھڑا کیا تھا جس نے جہاد کو ہی حرام قرار دے دیا؟ اور گزشتہ نزدیکی دور (جب قادیانیوں کا کافر قرار دینے کی جدوجہد جاری تھی) میں تحریک ختم نبوت کے عروج کے وقت پاکستانی حکمران جو قادیانیوں کو کافر قرار دینا نہیں چاھتے تھے، انہوں نے ملک میں ایک نیا فتنہ ایک بدعتی ملا کی مدد سے کھڑا کروادیا تھا ،( اس واقع کی تفصیل میں نہیں جاتا سمجھداروں کے لئے اشارہ کافی،) تاکہ مسلمان آپس میں ہی لڑ پڑیں اور کافروں(قادیانیوں) کو کافر قرار دینے کی بات دب جائے، اور بدقسمتی سے اس وقت ایسا ہی ھواتھا، وقتی طور پر تحریک کو نقصان بھی پہنچا تھا، ایسے ہی اس وقت یعنی موجودہ جہاد افغانستان کے دوران بھی کفر اپنے پرانے ھتھیار اک بار پھر استعمال کررہا ھے تھوڑی سی مختلف صورتوں میں ، جیسے پہلے قادیانیوں کو طاقت میں لایا گیا اور مجدد پیدہ کروایا گیا ، لیکن اب اس نے منافقانا چالیں چلتے ہوئے مسلمانوں کی ہی ایسی زہن سازی کردی ھے جو بظاھر پکے مسلمان بنتے ہیں لیکن ان کے پکے پن کو دیمک لگ جاتی ہے ، جب ان کے سامنے جہاد کا نام بھی لیا جائے ، ان کے پیٹ میں مروڑ لڑنے لگ جاتے ہیں اور وہ باولوں کی طرح جہاد کے خلاف اور مجاھدین کے خلاف زہریلے جملے کہنے لگتے ہیں ، طالبان تو درحقیقت فریضہ جہاد تھامے آگے بڑھ رہے ہیں ، اپنے ملک پر قابض فوجوں سے مقابلہ کررہے ہیں ، اور اسلامی احکامات کے مطابق ان کی مدد کی خاطر دوسرے ممالک سے مجاھدین کی آمد کی طرح پاکستان سے بھی مجاھدین وہاں افغانستان جاتے ہیں اور پہلے بھی جاتے رہے ہیں، کافر فوجوں کو بھی یہی بات کھائے جارہی ھے کہ افغان مجاھدین جنہوں نے "طالبان" نام اپنایا ھوا ھے کو کمزور اور بدنام کیا جائے اور ایسا ان کاروائیوں کے بغیر نہیں ھوسکتا جو آج کل ہم پاکستان کے مختلف حصون میں ھوتی دیکھ رہے ہیں ، یعنی بے گناہ شہریوں کا قتل اور پھر کوئی بھی گمنام یا مقررا ایجنٹ اپنے آپ کو طالبان نمائندہ ظاھر کر کے ذمہ داری قبول کرتا ھے ، لیکن اصل طالبان کی جانب سے کی جانے والی تردید اور نشاندھی کو کسی بھی چینل اور اخبار کی زینت نہیں بننے دیا جاتا۔ یہی میڈیا وار کہلاتی ھے جسے کافر اپنے دشمن مجاھدین کے خلاف اب تک بڑی کامیابی سے استعمال کررہا ھے، اور اس کا شکار بڑی تعداد میں پاکستانی ہی بنے ھوئے ہیں جو لکیر کے فقیر کی طرح صرف ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر فتوے دیتے ہیں کہ فلاں مجاھد نہیں اور فلاں معرکہ جہاد نہیں ، سوچئے تو سہی کہ ڈرائنگ روم میں بیٹھے بیٹھے کون عالم بن سکتا ھے ؟ کہ وہ سارے جہان کے مجاھدین کو الگ مزھب قرار دیتا ھے؟ اور یہ کبھی بھی نہیں بتا سکتا کہ دنیا کے کس کونے میں جہاد ھو رہا ھے ؟ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری دور کے افضل ترین جہاد (جہاد ھند) کی نشاندھی کی تھی وہ کہاں ھوگا؟ یا کہاں ھورہا ھے؟ اور امریکہ سمیت تمام کافر قوتیں کیوں پاکستان اور افغانستان کے خلاف یہاں ھزاروں میل کا سفر کرکے پہاڑوں اور جنگلوں میں ٹکریں مار رہے ہیں ؟ کون سا ایسا عمل ھونے والا ھے جسے روکنے یعنی "پری ویمپٹ" کرنے کی فکر میں ہیں؟ شکریہ |
||
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | arshad khan (18-06-10), shafresha (08-06-10), ھارون اعظم (08-06-10), نیلم خان (09-06-10), مرزا عامر (27-06-10), ایکسٹو (16-06-10), احمد بلال (10-06-10), حیدر (11-06-10), شیرازی (16-06-10), طلحہ (08-06-10) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,143
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ساہج آپ نے خوب وضاحت کی ہے۔ بس انہیں سمجھنے کے لیے حلوے کی پلیٹ سے نظر ہٹانے کی ضرورت پڑتی ہے۔
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا | sahj (08-06-10), ھارون اعظم (08-06-10), نیلم خان (09-06-10), محمد عاصم (09-06-10), مرزا عامر (27-06-10), احمد بلال (10-06-10), حیدر (11-06-10), شیرازی (16-06-10), عبداللہ آدم (08-06-10) |
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
طالبان کی کچھ پالیسیوں مثلاً، لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، ایک ہی مسلک کی پابندی، طرز حکومت میں سختی جیسے معاملات پر ان سے کلی اتفاق نہیںکیا جاسکتا۔ لیکن بنیادی طور پر ان کا کام قابل تعریف ہے۔ کیونکہ ان کے دور میں افغانستان میںمثالی امن تھا۔ پوست کی کاشت ختم ہوگئی تھی۔ وار لارڈز کا اثر رسوخ ختم ہوگیا تھا۔ ان کی حکومت کے اراکین سادگی اور سچائی کے مثال تھے۔ ان خوبیوں کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔
البتہ پاکستان میں جن لوگوں کو طالبان کہا جاتا ہے، ان کے لئے میرے دل میںکوئی ہمدردی نہیں۔ اکثر واقعات میں مارے جانے والے یہ نام نہاد طالبان غیر مسلم ثابت ہوئے ہیں۔ جس سے اصل محرکات کا پتا چلانا کچھ بھی مشکل نہیں۔ لیکن یار لوگ ایک تیر سے دو شکار کرنے کے عادی ہیں۔ ایک طرف تو ایسے واقعات کی آڑ میں دینی مدارس اور جہاد کو نشانہ بنایا جارہا ہے، دوسری طرف ان کے خلاف کارروائی کے بہانے پر قبائلی علاقوں کو نشانہ بنا کر امریکی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کی جارہی ہے۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
سوال نمبر 1۔ کيا طالبان کا جہاد اسلام سپورٹ کرتا ہے؟
جواب: جی نہیں سوال نمبر 2۔ کيا آپ اپنے بچوں کو طالبان کے مدرسوں ميں تعليم کے حامی ہيں؟ جواب: کبھی نہیں سوال نمبر 3۔ کيا آپ اپنے بچوں کو اس مدرسے ميں بھيجيں گے جو طالبان کے زير اثر نہيں ہيں؟ جواب: شاید نہیں سوال نمبر 4۔ کيا طالبان مسلم امت کی ترقی ميں مدد کر رہے ہيں؟ جواب: ہرگز نہیں |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام عليکم!!!
کسی پوسٹ کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا ہر گز نہيں ہے، ہاں رائے کا اظہار کرنے کا حق سب کو ہے۔ ميں شکريہ ادا کرتا ہوں نيلم کا جن کا پيغام ہے کہ سوچوں کو پانی کی طرح شفاف رکھو۔ اويسی بھائی کا جن کے کومنٹس بہت مفيد ہيں۔ سہاج کا جنھوں نے اپنی رائے کا اظہار کيا۔ حقائق مبالغوں سے بہت کڑوے ہوتے ہيں۔ ميرا خیال ہے کہ اکثر لوگ مبالغہ آرائی ميں کجھ بھيانک حقيقتوں کو ديکھ نہيں پاتے۔ آپ لوگوں کا کيا خيال ہے؟ |
|
|
|
|
|
#12 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,166
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بے شک یہی رہنے دیں ![]() ً |
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم:
طالبان کا چڑھتا سورج زیادہ دور نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان شاءاللہ پھر آپ سب کو شاید سب سوالوں کے جواب عملا مل جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ دو نیم ان کی تھوکر سے صحرا و دریا سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
|
|
|
#14 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,166
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دو نیم ان کی تھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی بہت خوب
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 1,087
کمائي: 19,171
شکریہ: 9,216
761 مراسلہ میں 1,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میرے کہنے کا مطلب تھا کہ طالبان کے بارے میں لکھی گئی الف لیلیٰ کہانیاں مت سنائیں پوری دنیا کے مسلمان طالبان کا اصل چہرہ پہچانتے ہیں۔ اس لئے طالبان کی الف لیلیٰ پر شاید کوئی دو سو سال بعد یقین کر لے گا ؟ کہ شاید وہ اچھے لوگ تھے مگر اس دور کے ہر مسلمان انکے قردار سے واقف ہے انہوں نے کتنی مسجدوں پر خودکش حملہ کئے کتنے بے گناہ انسان اور خاص طور پر مسلمان شہید کیے ۔ یہ کونسا اسلام ، اسلام نے کہاں پر کہا ہے کہ مسلمان کو شہید کرو، اسلام نے کہاں پر کہا ہے کے بے گناہ انسانوں کے قتل کرو۔ قرآن میں تحریف نہیں تو اور کیا ہے، قرآن میں موجود لفظجہاد کو اپنی مرضی سے مسلمان اور بے گناہ انسانوں کے قتل عام کے لیے استعمال کرنا کہاں کا اسلام ہے؟ "اس بات کے جواب میں وہ پرانی دلیل مت دینا کہ خود کش حملہ امریکہ کروا رہا ہے۔ " ہاں بالکل امریکہ ہی کروا رہا ہے طالبان کے زریعہ ، کیونکہ ہر خود کش حملہ کی ذمہ داری طالبان ہی قبول کرتے آرہے ہیں، اگر وہ خود کش حملے نہیں کر رہے تو ذمہ داری کیوں قبول کرتے ہیں۔ بیت اللہ محسود نامی انڈین ایجنٹ توامریکہ میں ہونے والے ہر حملہ کی ذمہ داری پیشگی قبول لیتا تھا۔ امریکہ میں ایک نفسیاتی مریض نے ایک بار پر حملہ کیا تو اس کی ذمہ داری بھی بیت اللہ محسود نامی انڈین ایجنٹ نے قبول کرلی۔، بعد میں پتہ چلا وہ ایک نفسیاتی مریض تھا اکثر اس طرح کی کاروایاں کرتاتھا، اور بالآخر پکٹرا گیا۔ طالبان جو کچھ کر رہے ہیں وہ کہاں کا اسلام ہے ، جس وقت طالبان نے افغانستان پر اپنا کنٹرول کیا تو انہوں نے ایک اعلان کیا کہ اس ملک میں صرف وہی لوگ ہمارے ساتھ مل کر جہاد کرسکتے ہیں جو دیوبندی ہیں اور باقی لوگوں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا، ان میں خاص طور پر غیر مقلدین ایک جماعتیں شامل تھی ، لشکر طبیہ حزب المجادین، البدر، وغیرہ انکو صرف اس لے ملک سے نکل جانا کو کہا گیا کیونکہ یہ لوگ انکے مسلک سے تعلق نہیں رکھتے تھے،۔ "ارے ان طالبان سے تو وہی لوگ اچھے تھے جہوں نے صرف مسلمان ہونے کے ناطے انکی مدد کی تھی۔" مگر جب طالبان کے پاس علاقے آگئے تو انہوں نے آنکھیں بدل لیں۔ یہ ہے طالبان کی اصلیت ، مقصد صرف حکومت نہ کہ اسلام کی خدمت، اگر اسلام کی خدمت انکا مقصد ہوتا تو اپنے محسنوں کو ملک سے نہ نکالتے ، اسی لیے بعد میں جب امریکہ نے ان پر حملہ کیا تو ان جماعتوں نے ان کی کوئی مدد نہیں کی صرف جلسہ جلوس بھی نکالے، یہ بات تو ہمارے اپنے دیکھنے کی ہیں، |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کيا, کرتا, گے, پاک, یا, نہيں, ميں, مدد, مدرسوں, مدرسے, مسلم, مسلمان, اپنے, امت, اثر, اسلام, بچوں, ترقی, تعليم, جہاد, حامی, خوش, سپورٹ, طالبان, غار |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|