واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


عالمی اردو کانفرنس شکاگو2007

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-07-07, 09:26 AM   #1
عالمی اردو کانفرنس شکاگو2007
پاکستانی پاکستانی آف لائن ہے 24-07-07, 09:26 AM

کیا اردو کا رسم الخط دورِ جدید کے تقاضوں کا ساتھ دینے کا اہل نہیں رہا، اور کیا اسےتبدیل کر کے رومن کردینا چاہیئے؟ اس اردو زبان کو کیا فائدہ ہوگا اور کیا اس فائدے سے زبان کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی ہو سکتی ہے جو رسم الخط کی تبدیلی سے ہو سکتاہے؟



یہ وہ سوالات تھے جو پچھلے ہفتے شکاگو میں تیسری عالمی اردو کانفرنس کے موقعے پر اٹھائے گئے۔نیویارک سے نکلنے والے اخبار اردو ٹائمز کی سرپرستی میں ہونے والی یہ کانفرنس اس سے پہلے کینیڈا اور لندن میں ہو چکی ہے۔



کانفرنس میں گوپی چند نارنگ، امجد اسلام امجد، محسن احسان،اصغر ندیم سید، خلیق انجم،قمر علی عباسی، ڈاکٹر تقی عابدی، نعت گو امِ کلثوم اور دوسرے مشاہیرِ اردو نے شرکت کی۔



کانفرنس میں درجنوں مقالے پڑھے گئے جن میں اردو ادب اور زبان کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔



کانفرنس کے دوران ایک اہم نکتہ اٹھایا گیا کہ کیا اردو کا دائرہٴ اثر بڑھانے کے لیے اس کا رسم الخط بدلنے کی ضرورت ہے؟



جناب راجا انور نے رسم الخط بدلنے کی حمایت میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ترکی کی مثال دی اور کہا کہ رسم الخط بدلنے سے ترکی ادب اور زبان کو بڑا فائدہ ہوا اور یورپی باشندوں اور بیرونِ ملک مقیم ترکیوں کویہ زبان سیکھنے میں بڑی آسانی ہوئی۔



راجا انور نے کہا کہ رسم الخط بدلنے سے ترکی کو صرف اتنا ثقافتی نقصان پہنچا کہ نئی نسل اپنے بزرگوں کی قبروں کے کتبے پڑھنے سے محروم رہ گئی۔ تاہم انھوں نے کہ نکتہ پیش کیا کہ ویسے بھی دو نسلوں کے بعد قبروں کے کتبے کون پڑھتا ہے؟



بعض مقریرین نے رائے ظاہر کی کہ رسم الخط تو پہلے ہی تبدیل ہو چکا ہے اور انٹرنیٹ پر رومن اردو میں ای میلز بھیجی جا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اردو رسم الخط کمپیوٹر پر لکھنا بڑا مشکل ہے اوراس کا اب تک کوئی قابلِ قبول معیار سامنے نہیں آ سکا۔ اس لیے اردو زبان کو کمپیوٹر سے ہم آہنگ کرنے اور رسم الخط کے مسائل حل کرنے کاواحد طریقہ یہ ہے کہ رسم الخط بدل کر رومن کر دیا جائے۔



بھارت سے تعلق رکھنے والے بعض شرکا نے کہا کہ دیوناگری رسم الخط اختیار کرنے سے اردو کا اثر بہت بڑھ جائے گا، کیوں کہ بھارت میں دیوناگری رسم الخط پڑھنے والوں کی بہت بڑی تعداد ہے جب کہ اردو پڑھنے والے روز بہ روز کم سے کم ہوتے جارہے ہیں۔



اس موقعے پرراقمِ الحروف نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ رسم الخط بدلنے سے پہلے ہمیں بہت سی باتوں پر غور کرنا ہو گا۔ اردو زبان اور ادب کی صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے سب سے بڑے شاعر میر تقی میر کی کوئی مستند کلیات ابھی تک دستیاب نہیں ہے۔ یہی حال میر انیس کا ہے کہ ان کی مستندو معتبر کلیات ابھی تک مرتب نہیں کی جاسکی۔ جب ہمارے وسائل اور استعداد کا یہ عالم ہے تو پھر رسم الخط بدلنے کی صورت میں ہم اتنے وسائل اور ماہرین کہاں سے لائیں گے جو اردو رسم الخط میں موجود لاکھوں کتابوں کو کسی دوسرے رسم الخط میں منتقل کر سکیں۔



راقم نے دوسرا نکتہ یہ اٹھایا کہ رومن رسم الخط کی عالم گیر مقبولیت کا واحد سبب انگریزی زبان بولنے والی اقوام کی معاشی اور سیاسی برتری ہے۔ لیکن ان قوموں کا عروج کسی اعتبار سے بھی دائمی نہیں ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والی صدی میں چین امریکہ کو عالمی اقتدار کی گدی سے ہٹا کر خود اس پر براجمان ہو جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر اگلے سو ڈیڑھ سو برس بعد چینی زبان عالمی زبان بن گئی تو پھر ہمارا کیا بنے گا؟



اس اجلاس کے صدر جناب گوپی چند نارنگ نے بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے پر رسم الخط کی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے، تاہم کوئی اگر مقامی ضروریات پوری کرنے کے لیے اردو زبان کو کسی اور رسم الخط میں لکھتا ہے تو اس پر اعتراض نہیں کر نا چاہیئے۔



صاحبِ صدر نے کہا کہ بھارت میں اردو کی کتابیں دھڑادھڑ دیوناگری رسم الخط میں چھپ رہی ہیں۔ لیکن اس کی وجہ کسی ادارے کی طرف سے کی جانے والی کوششیں نہیں ہیں بلکہ ایسا منڈی کی طاقت کے باعث ہو رہا ہے کیوں کہ اردو ادب اور خاص طور پر اردو شاعری بھارت میں بہت مقبول ہے اور لوگ غالب، فیض، فراز وغیرہ کے کلام کو بہت شوق سے دیوناگری رسم الخط میں پڑھتے ہیں۔



اسی دوران انھوں نے یہ دل چسپ اطلاع بھی دی کہ اب تک ہندی زبان میں غالب کے کلام کی 28 شرحیں شائع ہو چکی ہیں۔


اس تمام بحث کا ماحصل یہی ہے کہ رسم الخط بدلنا اتنا آسان کام نہیں جتنا بظاہر نظر آتا ہے۔ رسم الخط میں قوموں کی تہذیب اور ثقافت بند ہوتی ہے۔ رسم الخط بدلنے سے ماضی سے رابطہ ٹوٹ جائے گا اور جن قوموں کا ماضی نہ ہو، ان کا مستقبل بھی نہیں ہوتا۔
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر

 
پاکستانی's Avatar
پاکستانی
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,292
شکریہ: 10,319
3,108 مراسلہ میں 7,466 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 504
Reply With Quote
پرانا 24-07-07, 08:43 PM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,192
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: عالمی اردو کانفرنس شکاگو2007

جناب بہت شکریہ شئیر کرنے کا

اور میرے خیال کو تو اردو کو ایسے ہی رہنا چاہئیے
کیا ہو ا اگر کمپیوٹر پہ اردو صحیح نہیں لکھی جاتی
کیا ہوا جو انڈیا میں اردو پڑھنے والوں میں کمی آرہی ہے

ارے با با ہم جو ہیں اور اردو کو کچھ نہیں‌ہوگا انشااللہ
__________________
----------
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فراز, کمپیوٹر, کتابوں, لوگ, لندن, چین, نظر, میر تقی میر, منتقل, مسائل, انگریزی زبان, انٹرنیٹ, امریکہ, اردو, اسلام, جواب, حل, حال, شکاگو, شاعری, علی, صحیح, صدی, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:56 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger