| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
قرآن پاک میںارشاد ہے ’’اور سست نہ ہو جائو اور غم نہ کھائو (بلکہ ہمت بلند رکھو) اور (یقین رکھو کہ) تم ہی غالب رہو گے اگر تم صاحب ایمان ہو‘‘ (3-139) ۔ عوام کا حوصلہ اور جذبہ بلند الہ دین کے چراغ سے زیاہ فوری نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ اس کی قدر کی جائے۔ 1947ء میں قیام پاکستان کے موقع پر عوام میں یہ جذبہ پیدا ہوا تھا وہ کہتے تھے، اسلامی ملک بن چکا ہے اب یہاں بد دیانتی نہیں کرنی چاہئے۔ مہاجر ٹرین سے اترے، سٹیشن پر کوئی ٹکٹ چیک کرنے والا نہیں تھا۔ بعض نے از خود ٹکٹ کے پیسے ٹکٹ بابو کی کھڑکی کے سامنے رکھ دئیے مہاجرین کی آمد پر ایک گائوں میں ہندوئوں کا متروکہ مال اکٹھا کیا جا رہا تھا۔ ایک مزدور نے چھ یا آٹھ آنے لا کر رکھ دئیے کہنے لگا۔ ایک ہندو کے گھر سے تھوڑا سا آٹا لیا تھا، یہ اس کی قیمت ہے ۔ (سستا زمانہ تھا) مگر اس جذبہ سے کسی نے فائدہ نہ اٹھایا۔ سرکاری افسر اور سیاسی لیڈر اپنے آپ کو نہ بدل سکے۔ انہوں نے وہ لوٹ مچائی اور جور کا وہ بازار گرم کیا کہ عوام کا سارا جذبہ سرد پڑ گیا۔
1948ء میں جہاد کشمیر نے عوام کے اندر پھر وہی لہر پیدا کر دی، مگر حکومت نے عین اس وقت جب ہم نے فتح حاصل کر لی تھی جنگ بندی کر کے عوام کے سارے جذبے پر پانی پھیر دیا۔ کئی برس تک ہمیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے کھلونوں سے بہلایا گیا۔ بالاخر وہ سب ایک ایک کر کے ٹوٹ گئے۔ اور ساتھ ہی ہماری ساری امیدیں بھی 1965ء میں جب صدر ایوب نے کہا کہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے بزدل دشمن پر ٹوٹ پڑو تو قوم کا عزم پھر جوان ہو گیا ساری قوم اٹھ کھڑی ہوئی۔ جرائم پیشہ لوگوں نے برائی چھوڑ دی۔ کراچی سے پشاور تک ریلوے کی حفاظت لوگوں نے از خود رضاکارانہ طور پر کی۔ ہر محاذ پر دیگیں پکوا کر بھیجیں۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر پہرے دئیے۔ مگر ایک بار پھر بے محل جنگ بندی نے اس سارے جذبے کو کچل دیا۔ بعد میں تاشقند کے نامنصفانہ سمجھوتے نے اسی جذبے کو غیض و غضب میں بدل دیا اور اس کا رخ خود ایوب خاں کی طرف موڑ دیا۔ 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے المیہ نے قوم کے اندر انتقام کا جذبہ پیدا کیا لیکن اسے جان بوجھ کر سرد کیا گیا۔ ہمارے قیدی بھارت سے رہا ہو کر آئے تو ان کے دلوں میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی مگر کسی نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا۔ انکے ذریعہ سول اور فوج کے اندر محنت، دیانتداری اور فرض شناسی کے جذبات پیدا کر کے ساری قوم کو سیسہ پلائی دیوار بنایا جا سکتا تھا مگر اس وقت وہی شخص برسر حکومت تھا جس نے اپنے اقتدار کے لئے یہ سارا کھیل کھیلا تھا۔ اس نے اس جذبہ کو رنگ رلیاں منانے کی طرف لگا دیا۔ آج پھر ساری قوم عزم بلند سے اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ کیاموجودہ حکمران قوم کے اس جذبہ سے فائدہ اٹھائیں گے یا اسے بھی ضائع کر دیں گے؟
__________________
ہو حلقہ یاراں توبریشم کی طرح نرم رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 3 صارفین نے ابن آدم کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 392
کمائي: 4,951
ميرا موڈ:
شکریہ: 636
205 مراسلہ میں 387 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا لکھا ہے،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
|
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| فرض, پاک, پاکستان, قرآن, موقع, ایمان, اقوام متحدہ, اسلامی, زمانہ, شخص, غم, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| آہنی عزم | ابن آدم | عمومی بحث | 4 | 28-05-09 12:12 PM |
| عزم ، مسلسل محنت اور منزل | پاکستانی | اپکے کالم | 4 | 17-03-09 09:11 PM |
| عزم ، مسلسل محنت اور منزل | سیپ | پاک۔نیٹ پراجیکٹس | 2 | 21-01-09 09:20 PM |
| :::نظام کی تبدیلی اور ڈاکٹر عشرت العباد کا عزم,,,,گورنرشپ کے 5سال مکمل ::: | ابو کاشان | خبریں | 0 | 02-01-08 11:34 AM |
| صحافی تنظیموں نے میڈیا کی بندش اور ایمرجنسی کو مسترد کردیا، جدوجہد کا عزم | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 05-11-07 09:22 AM |