واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


عقل اور شعور ۔ ۔ ۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-12-11, 04:51 PM   #1
عقل اور شعور ۔ ۔ ۔
mama_shalla mama_shalla آف لائن ہے 13-12-11, 04:51 PM

انسان پر اللہ تعالی کے بےبہا احسانات ہیں۔ جن کا شکریہ ادا کرنا انسان کی بساط سے باہر ہے۔ بہت سی صورتوں میں انسان کو نوازا گیا ہے مگر ایک نعمت ایسی ہے جس کی وجہ سے انسان دیگر نعمتوں کا احساس کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
یہ 'عقل اور شعور' کی نعمت ہے ۔
شعور ہی کی وجہ انسان اللہ تعالی کے نظام پر غور کرنے کی صلاحیت پاتا ہے۔ وہ اللہ کی عطا کی گئی بےشمار نعمتوں کا ادراک کرتا ہے۔ کائنات کے نظام کی ہمواریت پہ غور کرتا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کاریگری دیکھتا ہے۔

عقل اور شعور کی یہ نعمت انسانوں میں امتیاز کا سبب ہے۔
ہدایتِ کامل،قرآنِ پاک میں اہلِ عقل اور سمجھ رکھنے والوں کو خصوصیت سے مخاطب کیا گیا ہے، جو اِس بات کا ثبوت ہے عقل، شعور، آگہی اور تدبر کی بنیاد پر کچھ انسان فوقیت رکھتے ہیں۔

مثال کے طور پہ:
سب لوگ کھانا کھاتے ہیں، کچھ کھانے کو دن بھر کے معمول کا حصہ سمجھتے ہیں، اِن کے لئے کھانا اِسی قدر اہم ہے کہ بھوک مٹانے کو کافی ہو ، ذائقے کی تمیز اور پرکھ سے بھی آزاد، کھانے کا وقت ہوا، کھانا کھالیا،
عادتاً یاد رہا تو الحمد للہ کہہ دیا ورنہ خیر ۔۔۔

ایک اور قبیل کے لوگ حسبِ مزاج اور حسبِ طلب مین میخ نکالنے کے عادی ہوتے ہیں، پسندیدہ چیز ہو، پکوائی اچھی ہو، ذائقے کا دھیان، عمدہ اور مہنگی چیز کھا کر نفسیاتی تسلی محسوس کرتے ہیں، کسی عزیز کو کھانے کی دعوت دینے میں خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں۔

ایک قسم ہے جس کے کھانے والے نے کھانے کے دوران کھانے کی تیاری کو سوچا، ہر نوالے میں مصالحہ جات کا ذائقہ محسوس کیا، خوشبو اور پیشکش کے طریقے کو مدّنظر رکھا، برتنوں کی ترتیب اور رنگوں کو ملاحظہ کیا۔

ایک اور ندارد درجہ ہے جنہوں نے ہر نوالے کی لذّت کو محسوس کرکے اِحساسِ تشکر محسوس کیا، پسندیدہ کھانے پر رب کی احسان مندی مانی جس نے پسندیدہ شے تک رسائی نصیب کی، اُس سے لذت اُٹھانے کے اسباب مہیا کئے۔
اِس گروہ کے شخص نے سوچا کہ کتنے ہی لوگ من چاہی خوراک حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، یا اگر قدرت رکھتے ہیں تو وہ چیز اُس کے لئے باعثِ تکلیف ہے، معالج نے منع کر رکھی ہے، معالج کا تذکرہ نہ بھی ہو تو وہ خود جانتا ہے کہ یہ شے کھانے سے اُسے کیا عارضہ ہوگا۔
وہ شخص اس حقیقت کا شعور کرتا ہے کہ من چاہی لذیذ خوراک تو اہلِ جنت کے خصوصی اعزاز میں شامل ہےجو اُس کو زمین پر میسر ہوگئی۔ یہ شخص کھانے سے اُٹھتا ہے تو رب کی بندگی سے لبریز ہے، ہر نوالہ جو اُس نے چبایا تو اپنے دل میں رب سے رابطہ پیدا ہوتا پایا۔

سب نے کھانا ہی کھایا مگر محسوسات کا یہ فرق عقل اور دانش کے فرق کے اعتبار سے تھا۔ ہر طبقے نے اپنی عقل کے معیار کے مطابق سوچا۔

سوال یہ ہے کہ :
کیا عقل اور شعور کا عطا ہوجانا اِتمامِ نعمت ہے ؟
یا اگر عقل اور اِدراک ہو مگر انسان اُس عقل کے اِظہار، بیان اور استعمال سے قاصر ہو، اسباب اور ساتھ موافق نہ ہو ۔ ۔ ۔تو بھی اُس شعور کا محض عطا ہونا کافی ہوگا ؟

 
mama_shalla's Avatar
mama_shalla
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
شکریہ: 1,347
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 243
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے mama_shalla کا شکریہ ادا کیا
compaq (14-12-11), Miss Khan (16-12-11), shafirajput (16-12-11), skjatala (15-12-11), فیصل ناصر (15-12-11), مرزا عامر (13-12-11), مسٹر شیف (14-12-11), wajee (13-12-11), بزم خیال (26-02-12), زارا (15-12-11), سحر (15-12-11), عبداللہ آدم (20-02-12), عروج (13-12-11)
پرانا 15-12-11, 02:40 PM   #2
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
کمائي: 8,099
شکریہ: 1,347
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سوال یہ ہے کہ :
کیا عقل اور شعور کا عطا ہوجانا اِتمامِ نعمت ہے ؟
یا اگر عقل اور اِدراک ہو مگر انسان اُس عقل کے اِظہار، بیان اور استعمال سے قاصر ہو، اسباب اور ساتھ موافق نہ ہو ۔ ۔ ۔تو بھی اُس شعور کا محض عطا ہونا کافی ہوگا ؟
mama_shalla آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-12-11, 07:10 PM   #3
Senior Member
 
حسنین ایوب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 1,064
کمائي: 19,020
شکریہ: 1,708
625 مراسلہ میں 1,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسنین ایوب آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-12-11, 01:12 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,506
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : mama_shalla مراسلہ دیکھیں
ایک اور ندارد درجہ ہے جنہوں نے ہر نوالے کی لذّت کو محسوس کرکے اِحساسِ تشکر محسوس کیا، پسندیدہ کھانے پر رب کی احسان مندی مانی جس نے پسندیدہ شے تک رسائی نصیب کی، اُس سے لذت اُٹھانے کے اسباب مہیا کئے۔
اِس گروہ کے شخص نے سوچا کہ کتنے ہی لوگ من چاہی خوراک حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، یا اگر قدرت رکھتے ہیں تو وہ چیز اُس کے لئے باعثِ تکلیف ہے، معالج نے منع کر رکھی ہے، معالج کا تذکرہ نہ بھی ہو تو وہ خود جانتا ہے کہ یہ شے کھانے سے اُسے کیا عارضہ ہوگا۔
وہ شخص اس حقیقت کا شعور کرتا ہے کہ من چاہی لذیذ خوراک تو اہلِ جنت کے خصوصی اعزاز میں شامل ہےجو اُس کو زمین پر میسر ہوگئی۔ یہ شخص کھانے سے اُٹھتا ہے تو رب کی بندگی سے لبریز ہے، ہر نوالہ جو اُس نے چبایا تو اپنے دل میں رب سے رابطہ پیدا ہوتا پایا۔

سب نے کھانا ہی کھایا مگر محسوسات کا یہ فرق عقل اور دانش کے فرق کے اعتبار سے تھا۔ ہر طبقے نے اپنی عقل کے معیار کے مطابق سوچا۔


سوال یہ ہے کہ :
کیا عقل اور شعور کا عطا ہوجانا اِتمامِ نعمت ہے ؟
یا اگر عقل اور اِدراک ہو مگر انسان اُس عقل کے اِظہار، بیان اور استعمال سے قاصر ہو، اسباب اور ساتھ موافق نہ ہو ۔ ۔ ۔تو بھی اُس شعور کا محض عطا ہونا کافی ہوگا ؟
عمدہ ماشاء اللہ لا قوتہ الا باللہ۔۔۔۔

اسں طرح ہو اگر تو اتمام نعمت ہی ہے۔۔۔ورنہ تو شعور کافروں میں بھی ہے۔۔۔
__________________
رب میرا اللہ، دین میرا اسلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے نبی ھیں۔۔۔!!
shafirajput آف لائن ہے   Reply With Quote
shafirajput کا شکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla (19-02-12)
پرانا 19-02-12, 09:52 AM   #5
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
کمائي: 8,099
شکریہ: 1,347
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ميں نے ايک سوال آپ کے سامنے ركها تها کہ :

"کیا عقل اور شعور کا عطا ہوجانا اِتمامِ نعمت ہے ؟
یا اگر عقل اور اِدراک ہو مگر
انسان اُس عقل کے
1- اِظہار،
2- بیان اور
3- استعمال سے قاصر ہو،
4- اسباب اور
5- ساتھ موافق نہ ہو ۔ ۔
تو بھی اُس شعور کا محض عطا ہونا کافی ہوگا؟"

كيا سوال مزيد واضح كرنے كى ضرورت ہے؟
mama_shalla آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہوتا, ہے۔, گئی, پہ, پاک, پسندیدہ, وقت, لوگ, مطابق, اللہ, انسان, بندگی, ثبوت, حصہ, خود, دل, شخص, طور, طلب, عقل, عمدہ, عادی, عزیز, غور, صلاحیت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سی آئی اے پاکستانی عوام کے اجتماعی شعور سے زیادہ طاقتور نہیں عارف اقبال خبریں 1 18-04-11 11:22 PM
عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی جاویداسد خبریں 2 21-09-10 08:12 PM
الطاف بھائی کا مارشل لاء کا مطالبہ اور عوام کی سوچ ۔ کیاعوام سیاستدانوں سے اکتا گئے ؟ جاویداسد خبریں 1 24-08-10 11:23 PM
عوج بن عوج کی عمر کتنی تھی؟ عرفان حیدر آئیے ذہانت آزمائیے 24 14-04-09 02:40 PM
’عوامی نمائندے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں‘ چاچا کمال خبریں 1 07-04-08 06:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:56 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger