واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


عقل و دانش

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-11-11, 07:26 PM   #1
عقل و دانش
اداس ساحل اداس ساحل آف لائن ہے 30-11-11, 07:26 PM

عقل و دانش

یہ عقل و دانش کیا ہے؟ کیا انسان کی تخلیق اس عقل و دانش کو بروہے کار لانے کے لیے کی گئی تھی؟ جب حضرت انسان کی تخلیق اللہ ذوالجلال نے فرمائی تو اس کی وجہ کیا اللہ کی ان نعمتوں کا شکر بجا لانا تھا جو اللہ ذوالجلال نے اس کائنات کے لیے عطاء فرمائی تھی یا پھر اللہ کو ایسے نائب کی ضرورت تھی جو ان نعمتوں کا استعمال کرتا اور اپنے رب کی قدرت پر سبحان اللہ کا ورد کرنے کی ایک کڑی تھی۔
میرے خیال میں سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ اللہ نے انسان کو عقل سلیم سے نوازا اور اس ہی وقت سے انسان اپنے عقل و دانش کے جوہر دکھاتا رہا۔ آج کا انسان پھولے نہیں سماتا ہوگا جب اس زمانے کا قدیم انسان ان جوہرات کو دیکھتا، تو اسے ایک بار ضرور یہ شک ہوتا کہ شاید ان کمالات کے پیچھے کسی انسان کا ہاتھ نہیں ہے۔
لیکن اس کے بر عکس آج کا ترقی یافتہ انسان آج کے انسان کو دیکھے جو کہ ترقی یافتہ نہیں ہے تو اسے شاید اپنے اوپر رشک سا محسوس ہو کہ میں شاید عقل و دانش میں اس انسان سے آگے ہوں جو کہ عقل و دانش کے ہوتے ہوئے بھی اس کا صحیح استعمال نہیں کر سکا، اور شاید یہ ہی سوچ اس کو طاقتور سے طاقتور بناتی گئی۔ یعنی کہ انسان کی تقیسم ایک ہی دور میں کچھ ایسی ہوئی کہ ایک طاقتور ہوتا چلاء گیا اور ایک کمزور سے کمزور ہوتا چلا گیا۔

طاقتوری اور کمزوری بھی انسانی پہلو کی ایک شق ہیں اور اس میں کمزور ہمیشہ محکوم ہوتا ہے اور طاقتور عام طور پر حاکم ہوتا ہے۔ قدرت کا بھی شاید یہ ہی طریقہ ہے، روش ہے۔ طاقتور تو ہمیشہ ہی غالب رہتا ہے ، بات کرتے ہیں مغلوب کی، کمزور کی ، اور بے بس کی۔ بے بس سے مراد وہ طاقت ہے جس کے ہوتے ہوئے بھی اس کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ہمدریاں اور توجہ ذیادہ تر کمزور کے لیے ہی ہوتی ہے اور اگر نہ ہو تو ان کی بھیک مانگی جاتی ہے۔

تجزیہ سب سے پہلے اپنے ارد گرد کے ماحول اور اس کے اثرات سے شروع کیا جاتا ہے۔ نیز اردگرد کے ماحول میں ان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے ، بلکہ معاشرت ان ہی لوگوں سے قائم و دائم ہیں جنھیں ہم وطن، ہم مزہب، ہم زبان، رشتے دار ، دوست یا احباب کہا جاتا ہے۔ اس ہی معاشرت میں کبھی کبھی ایسے بحث و مباحثے سے دوچار ہونا پڑتا ہے ، جہاں پر احساسات نہ چاہتے ہوئے بھی عقل کی درستگی کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔

کئی بار ایسا ہوا، کتنے واقعات ایسے ہوئے کہ گفتگو شاید عقل سے دامن چھڑا لیتی ہے۔ صرف آنکھوں سے دیکھا ہی زیر لب آ جاتا ہے اور بغیر اللہ کی عطاء کی ہوئی صلاحیت کے استعمال کے، افراد کچھ سے کچھ کر بیٹھتے ہیں۔ ساری کی ساری تعلیم اور تربیت دھری کی دھری رہ جاتی ہے اور تمام کے تمام حقائق اور ثبوت بھی باکل ناکارہ سے ہو جاتے ہیں۔
__________________
نہیں ہوں پر میں قائل شدت پسندی کا
میں ترے عشق کی آخری حد چاہتا ہوں


اداس ساحل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 147
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (30-11-11), مفتی (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 08:07 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,612
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,520 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کئی بار ایسا ہوا، کتنے واقعات ایسے ہوئے کہ گفتگو شاید عقل سے دامن چھڑا لیتی ہے۔ صرف آنکھوں سے دیکھا ہی زیر لب آ جاتا ہے اور بغیر اللہ کی عطاء کی ہوئی صلاحیت کے استعمال کے، افراد کچھ سے کچھ کر بیٹھتے ہیں۔ ساری کی ساری تعلیم اور تربیت دھری کی دھری رہ جاتی ہے اور تمام کے تمام حقائق اور ثبوت بھی باکل ناکارہ سے ہو جاتے ہیں۔

بہت خوب
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-11-11, 10:28 PM   #3
Senior Member
 
مفتی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 540
کمائي: 7,068
شکریہ: 489
308 مراسلہ میں 689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت عمدہ شیئرنگ ہے شکریہ
مفتی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-11-11, 11:30 PM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

زندگی سراب ہے ایک دھوکہ ہے
سب مایا جال ہے
دنیا کی جن لذتوں کے لئے لوگ ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش ہے لیکن اس کے باطن میں دھوکہ اور زوال ہی زوال ہے جیسے ایک ناگن دیکھنے میں حسین لیکن زہر ہلاہل
آج کل کی مادہ پرست دنیا کی بات کی جائے تو دھو کہ دے کر یا دھوکہ کھا کر ہی ایک انسان دو قدم آ گے بڑھ سکتا ہے
دراصل زندگی ہی ایک دھوکہ ہے جو ایک چٹیل میدان کی طرح نظر آرہی ہے مگر اس کی سطح پر نظر نہ آنے والے بے شمار نشیب و فرازہیں ۔یہ نشیب و فراز پڑھنے میں ہم اپنی ساری عمر کھپا دیتے ہیں مگر آخر پر یہی بات ابھر کر آجاتی ہے کہ زندگی کے یہ شام و سحر،یہ رنگ وروپ،یہ مسرتیں و شادمانیاں،یہ لہو ولعب ،یہ آب و گل ،یہ باغ و بہار،یہ کوہ و دمن،یہ درہم و دینار،یہ جاہ و حشمت،یہ شعر و سخن ،یہ نغمہ و ساز،یہ کشف وکرامات،۔۔۔۔سب محض ایک دھوکہ ہے۔لہٰذاگہری نگاہ اور گہری سوچ رکھنے والوں کو یہ ماننے میں شاید کوئی تامل نہیں ہو گا کہ زندگی ایک فریب ہے،دھوکہ ہے ،ِایک خواب ہے،پانی کا ایک بلبلہ ہے۔جس دنیامیں ہم رہ رہے ہیں وہ تو ایک سراب ہے جس میں تڑپ زیادہ ہے اور تشفی کم
جب توپ و تفنگ،گولہ و بارود اور ٹینک اور بمبار جہازوں سے کام نہ بن پڑا توانسان نے سب سے مہلک ہتھیار آزما لیا جسے استہزا، دھوکہ یا فریب کہتے ہیں۔
یہ ہتھیار استعمال کرنے میں زیادہ محنت کی ضرورت بھی نہیں پڑ تی ہے۔بس دھوکہ دینے والا مکار اور چرب زبان ہو اور دھوکہ کھانے والا سادہ لوح ہو
شاہ کہتا ہے
کتنے چہرےدن بھر دھوکہ دیتے ہیں
کتنی آنکھیں دن بھر دھوکہ کھاتی ہیں
کتنے دل ہر روز نئی ویرانی سےبھر جاتے ہیں
مر جاتے ہیں
لیکن تو
سب کچھ دیکھتا رہتا ہے خاموشی سے


سب دھوکہ ہے
سب مایا جال ہے
سب سراب ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-11-11, 11:47 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فیصل صاحب بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-11-11, 11:59 PM   #6
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اداس ساحل مراسلہ دیکھیں
عقل و دانش
قدرت کا بھی شاید یہ ہی طریقہ ہے، روش ہے۔ طاقتور تو ہمیشہ ہی غالب رہتا ہے ، بات کرتے ہیں مغلوب کی، کمزور کی ، اور بے بس کی۔ بے بس سے مراد وہ طاقت ہے جس کے ہوتے ہوئے بھی اس کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ہمدریاں اور توجہ ذیادہ تر کمزور کے لیے ہی ہوتی ہے اور اگر نہ ہو تو ان کی بھیک مانگی جاتی ہے۔
آپ کی بات سے اختلاف ہے۔ طاقتور ہمیشہ غالب نہیں رہتا۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب کمزوروں کو دیوار سے لگایا گیا تو طاقتور اپنے قلعوں اور محلوں میں بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ انسانی تاریخ اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہوتا, کار, گئی, پہلے, وقت, واقعات, آج, اللہ, انسان, استعمال, بے, توجہ, تعلیم, ثبوت, دیکھا, دوست, رشتے, شروع, طور, طاقتور, عقل, غالب, صلاحیت, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:56 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger