واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


عمران خان کا دھرنا....کچھ اور پہلو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-05-11, 11:39 AM   #1
عمران خان کا دھرنا....کچھ اور پہلو
فرحان دانش فرحان دانش آف لائن ہے 01-05-11, 11:39 AM

مصنف رﺅف طاہر بشکریہ وماخذ: نوائے وقت
لنک
دانشورانِ شہر کے ساتھ اس نشست میں لیاقت بلوچ سے عمران خان کے دھرنا میں شرکت سے متعلق استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا، اعجاز چوہدری نے اس کے لئے باقاعدہ دعوت دینے منصورہ آنا تھا لیکن ہمیں انتظار ہی رہا۔ (پھر ہنستے ہوئے) ریمنڈ ڈیوس کے خلاف احتجاج میں تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جماعت الدعوہ کا اشتراک شاید کسی زور آور کو ناگوار گزرا ہو اور اب یہی چیز جماعت سے گریز کا سبب بن گئی ہو۔ لیاقت صاحب کا دعویٰ تھا کہ کئی اور کاموں کی طرح پاکستان میں لانگ مارچ اور دھرنا سیاست بھی جماعت اسلامی ہی نے متعارف کرائی تھی۔ اس پر ہمیں 1996ءکے وسط میں، کرپشن کے خلاف قاضی صاحب کا دھرنا یاد آیا، جب راولپنڈی میں پولیس کے ساتھ تصادم میں جماعت کے 2 کارکن بھی جاں بحق ہو گئے تھے لیکن ہر نیک کام میں کیڑے نکالنے (بلکہ کیڑے ڈالنے) والے اس موقع پر بھی باز نہ آئے۔ حالانکہ یہ محض اتفاق تھا کہ یہی وہ دن تھے جب فاروق لغاری (مرحوم) کے ایوان صدر اور بے نظیر صاحبہ کے پرائم منسٹر ہاﺅس میں کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی تھی۔ جناب صدر حکومت کی برطرفی کا فیصلہ کر چکے تھے اور اس کے لئے ساز گار ماحول کا انتظار تھا۔ ”نااہل، کرپٹ اور سیکورٹی رسک“ حکومت سے نجات کے لئے ایوانِ صدر کو اسٹیبلشمنٹ کی تائید بھی حاصل تھی۔ ان ہی دنوں جناب صدر کے ساتھ قاضی صاحب کی ملاقات کی خبر بھی آئی تھی۔ ایوان صدر کے کسی غیر ذمہ دار ترجمان نے جس کی تصدیق لیکن خود قاضی صاحب نے اس کی بھرپور تردید کر دی تھی۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا، کیونکہ ڈرون حملوں کے خلاف ہمارا کاز مشترک ہے اس لئے مرکزی سطح پر تو نہیں، لیکن مقامی طور پر جماعت ضرور اس میں شرکت کرے گی (علامتی شرکت)۔ اور پھر ٹی وی سکرینوں پر جماعت کے صوبائی امیر سینیٹر پروفیسر ابراہیم خان سٹیج پر، عمران خان کے ساتھ نظر تو آئے، لیکن تحریک انصاف والوں کا کہنا ہے کہ وہ جن دو اڑھائی سو کارکنوں کے ساتھ آئے تھے، تقریر کے بعد ان ہی کے ساتھ واپس چلے گئے۔
ڈرون حملوں کے خلاف پوری قوم یک آواز ہے، یہ بلاشبہ ایک قومی کاز ہے چنانچہ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اس کے لئے دیگر جماعتوں کی قیادت سے بھی باقاعدہ رابطہ کرنا چاہیے تھا تاکہ اس موقع پر عوامی جذبات اور قومی احساسات کا تاریخی اظہار ہوتا لیکن خان نے اسے اپنی مقبولیت اور سیاسی طاقت کا اظہار کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی اس کے لئے پنجاب اور خیبر پی کے میں کئی روز سے مہم جاری تھی۔ تو کیا وہ اپنی سیاسی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کر پائے؟ (جاری ہے)
میڈیا میں خان کے پروموٹر کی شہرت رکھنے والے کالم نگار کے مطابق، خان کو 40 ہزار افراد کی توقع تھی، لیکن شرکاءکی تعداد کے جو تخمینے لگائے جا رہے ہیں، وہ تین سے دس ہزار کے لگ بھگ ہیں، جبکہ تحریک انصاف کے ایک صداقت شعار رہنما نے اسے فون پر بتایا کہ رات کو، جب موسم ٹھنڈا ہو گیا تھا، شرکاءکی تعداد آٹھ ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ ایک سینئر مبصر کے خیال میں شرکاءمیں 60 فیصد وہ تھے جو قبائلی علاقوں سے آئے تھے، تو کیا خان پورے پنجاب اور خیبر پی کے سے صرف تین، ساڑھے تین ہزار لوگوں کو نکال پایا؟ حالانکہ ہمارے دوست فاضل کالم نگار تو اپنے ہر کالم اور ٹاک شو میں خان کی مقبولیت کے غبارے میں ہوا بھرتے رہتے ہیں اور خیبر پی کے میں تو ان کی مقبولیت کو بے حد و حساب بتاتے ہیں۔ ایک رائے یہ ہے، خاصی معقول اور صائب رائے، کہ کسی لیڈر یا جماعت کی مقبولیت کا حقیقی پیمانہ تو انتخابات ہی ہوتے ہیں اور اس حوالے سے حقائق یہ ہیں کہ1997ءکے الیکشن میں، جب تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کی بیشتر نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے اور خان خود بھی کوئی درجن بھر نشستوں سے امیدوار تھے، ملک بھر میں تحریک کے ووٹوں کی مجموعی تعداد (متناسب نمائندگی کی صورت میں) اسے ایک نشست بھی نہیں دلا سکتی تھی۔
اکتوبر2002ءکے الیکشن میں جب دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت جلاوطن تھی، ڈکٹیٹر کی سرپرستی کے باوجود خان صاحب صرف اپنی ایک نشست نکال پائے۔ 2008ءکے عام انتخابات کا انہوں نے بائیکاٹ کیا لیکن ضمنی انتخابات کے میدان میں کود پڑے۔حلقہ55 (راولپنڈی) میں ان کے امیدوار کو صرف سوا تین ہزار ووٹ ملے۔ (حالانکہ عام انتخابات میں، آزاد امیدوار کے طور پر اس نے دس، بارہ ہزار ووٹ حاصل کر لئے تھے) یہاں مسلم لیگ (ن) کے شکیل اعوان کو 61 ہزار اور شیخ رشید کو ایوانِ صدر اور پیپلزپارٹی کی بھرپور حمایت کے ساتھ تقریباً 40 ہزار ووٹ ملے۔ لاہور کے حلقہ 123کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کے میاں حامد معراج کو 14 ہزار ووٹ ملے۔ ان میں عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کا کتنا حصہ تھا اور میاں حامد معراج کی برادری اور ان کے مرحوم والد کے طویل سیاسی کیریئر کا کتنا حصہ؟ یہاں مسلم لیگ (ن) کے پرویز ملک نے 40 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے۔ لاہور میں صوبائی اسمبلی کے جس ضمنی انتخاب کو خان کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی مقبولیت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، یہاں بھی مسلم لیگ (ن) جیتی، البتہ خان کے امیدوار نے بھی یہاں قابل ذکر تعداد میں ووٹ حاصل کئے(شاید سولہ، سترہ ہزار)۔ اس کے لئے خود خان نے گلی گلی مہم چلائی۔ انہیں چھوٹی چھوٹی کارنر میٹنگز سے خطاب میں بھی عار نہ تھی۔ یہاں ان کے امیدوار 2002ءکا قومی اسمبلی کا الیکشن پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر جیتے تھے اور بے وفائی کرکے مشرف کے ”پیٹریاٹ“ ہو گئے۔ 2008ءکے الیکشن میں گھر بیٹھے رہے۔ صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کے امیدوار بنے تو انہیں پیپلز پارٹی کی بھرپور تائید حاصل تھی۔ ان کے سسر ملک کرامت علی کھوکھر2008ءکے الیکشن میں (پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر) یہاں دوسرے نمبر پر تھے اور اب وہ اپنے داماد کو مکمل سپورٹ کر رہے تھے۔ ہمیں یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ مسلم لیگ (ن) جیت تو گئی لیکن اس کے حق میں پہلے جیسا جوش و خروش نظر نہیں آیا جس کے اسباب پر مسلم لیگ کی قیادت کو یقینا غورو خوض کرنا چاہیے۔ ہمیں یاد نہیں پڑتا کہ ان چند نشستوں کے سوا تحریک انصاف نے کسی اور ضمنی انتخاب میں قسمت آزمائی کی ہو۔
کہا جاتا ہے اور اس میں حقیقت بھی نظر آتی ہے کہ خان کی اصل مقبولیت نوجوانوں میں ہے۔ اس موقع پر ہمیں مولانا امین اصلاحی (مرحوم) سے منسوب ایک بات یاد آتی ہے۔ کسی نے مولانا سے پوچھا، آپ نے جماعت اسلامی کیوں چھوڑ دی حالانکہ یہ انسان کو عقل اور شعور دیتی ہے؟ مولانا نے جواب دیا، جی ہاں! اور جب عقل آ جاتی ہے تو آدمی جماعت کو چھوڑ دیتا ہے۔ تو کیا خان کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ جب نوجوان ووٹ دینے کی عمر کو پہنچتے ہیں تو وہ خان کے ووٹر نہیں رہتے۔
بعض نکتہ چینوں کے خیال میں، ڈرون حملے تو ایک عرصے سے ہو رہے ہیں۔ زرداری، گیلانی حکومت کے ان تین برسوں میں تو ان کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ گئی، تو پھر خان کو ان کا خیال اب کیوں آیا؟ وہ اسے آرمی چیف جناب اشفاق پرویز کیانی کے اس تندوتیز بیان سے بھی جوڑتے ہیں جو انہوں نے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے فوراً بعد قبائلی جرگے پر ڈرون حملے پر دیا۔ ڈرون حملوں کے خلاف یہ پاکستانی سپہ سالار کا پہلا بیان تھا۔ اور اب تو آئی ایس آئی اور امریکی سی آئی اے میں اعصابی کشمکش محاذ آرائی میں بدل چکی ہے۔ پس پردہ معاملات جو بھی ہوں، اس قومی کاز پر پوری قوم کو اتحاد و اتفاق کا بھر پور مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کاش! عمران خان بھی پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ اور اپنی طاقت (؟) کے مظاہرے کی بجائے سب کو ساتھ لیکر چلنے کا اہتمام کرتے۔
............
__________________
http://farhandanish.blogspot.com
http://farhandanish.tk

 
فرحان دانش's Avatar
فرحان دانش
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 510
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (01-05-11), آبی ٹوکول (01-05-11), حیدر (01-05-11), عبداللہ آدم (01-05-11)
پرانا 01-05-11, 02:02 PM   #2
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے آج تک سمجھ میں نہیں آسکا یہ کیسے کوڑ مغز دانشور ہیں جو کہ بکے ہوئے ووٹوں کی تعداد سے انسان کی کامیابی اور ناکامی کا حساب لگاتے ہیں ان کو آج تک یہ اندازہ نہیں ہوسکا کہ اگر عمران کو ووٹ کم پڑتے ہیں تو یہ عمران کی ناکامی نہیں بلکہ اس بے حس اور بے شعور قوم کی ناکامی ہے کیا یہ قوم اتنی بے حس ہوچکی ہے کہ اس قوم کو ایک مشترکہ کاز کہ لیے نکالنا عمران پر ہی لازم تھا یا یہ اسکی زمہ داری تھی ؟؟؟؟ یا پھر خود اس قوم کا اپنا فریضہ اولیں ؟؟؟ ایک ایسی بے حس اور بے شعور قوم کہ جسکا مطمع نظر فقط اسکا اپنا پیٹ ہو کہ جسے ایک صدائے گمراہ کن کی بازگشت یعنی " سب سے پہلے پاکستان " نے مجموعی طور پر اپنے ایسے حصار میں جکڑ رکھا ہو کہ پھر اسکا لازم نتیجہ سب سے پہلے میں اور میرا پیٹ ٹھرتا ہے لہزا کبھی اسکی سوچ اسکے پیٹ سے آگے نہ بڑھ سکی ۔ ۔ ۔ ۔
اس قوم کہ ایسے ووٹ کہ جن میں اپنے ذاتی مفادات کو تمام تر قومی مفادات پر ترجیح حاصل ہو ایسے ووٹ جو تھانہ کچہری کلچر سے تحفظ کی بنیاد پر ڈالے جاتے ہوں ایسے ووٹ جو برادری ازم کہ نام پر ڈالے جاتے ہوں اسیے ووٹ جو وڈیرہ شاہی اور پیری مریدی کہ دھونس میں ڈالے جاتے ہوں ایسے ووٹ کہ جو صوبائیت اور نسلی تفاخر اور لسانیت کی بنیاد پر ڈالے جاتے ہوں ایسے ووٹ جو کہ قتل و غارت گری کی بلیک میلنگ سے ڈلوائے جاتے ہوں وہ ووٹ بھلا کب کسی کی مقبولیت اور اخلاص کی ترجمانی کرسکتے ہیں اللہ وہ وقت جلد لائے جب میرے ملک کو ایسے نام نہاد دانشوروں تجزیہ نگاروں سے چھٹکارہ ملے ۔ آمین
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (01-05-11), کنعان (01-05-11), مرزا عامر (01-05-11), حیدر (01-05-11), عبداللہ آدم (01-05-11), عبداللہ حیدر (01-05-11)
پرانا 01-05-11, 02:19 PM   #3
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس سوہني جمہوريت سے ميں تو ويسے ہي متنفر ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ كبھي كبھي لوگوں سے اس كے حسن و جمال كي باتيں سن سن كر لمحہ بھر كے لئے سوچتا ہوں۔۔۔ تو دل كرتا ہے كہ اس كي راہ ميں بچھ جاؤں ملر جب اپنے احساس جذبات اورعلم و عقل اور تجربات كي نظر سے ديكھتا ہوں۔۔۔ تو جب تك ديكھتا رہوں اس سے نفرت بڑھتي ہي جاتي ہے۔۔۔۔۔

ليكن اگر كبھي اس پر دل آ گيا تو سوچتا ہوں عمران كا ساتھ دوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ميں اس كو نہيں‌جانتا۔۔۔۔ اس كي جماعت كي پاليسيوں كو نہيں سمجھتا۔۔۔۔ مجھے نہيں معلوم كہ اس كے‌پاس وہ وژن اور افرادي قوت ہے جو اس نا ہنجار قوم كو سنبھال سكے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ليكن بس دل كرتا ہے كبھي كبھي۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ليكن جب ديكھتا ہوں كہ وہ خود اس سوہني 21ويں صدي كي جمہوريت كا ديوانہ ہے تو ڈر كر پيچھے ہٹ جاتا ہوں۔۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
فرحان دانش (01-05-11), کنعان (01-05-11), ھارون اعظم (01-05-11), مرزا عامر (01-05-11), آبی ٹوکول (01-05-11), حیدر (01-05-11), عبداللہ حیدر (01-05-11)
پرانا 01-05-11, 02:32 PM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,108
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بکواس لکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ایک عالم ہزار جاہلوں سے بہتر ہوتا ہے اور اکیلا ایک سچا انسان عمران خال کروڑوں لوٹو سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔۔۔
جس بندے نے یہ آرٹیکل لکھا ہے ایک چاہل انسان ہے۔۔۔
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (01-05-11), مرزا عامر (01-05-11), آبی ٹوکول (01-05-11), حیدر (01-05-11), شمشاد احمد (01-05-11)
پرانا 01-05-11, 03:13 PM   #5
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

افففففففففففففف شكر ہے اللہ كا
ميں سمجھا ناظم اعلي صاحب مجھ پر برس پڑے
توبہ توبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑوں كا ڈانٹ كا رعب ہي عجيب ہوتا ہے۔۔۔۔۔ ميں تو كرسي سے اٹھ گيا تھا ۔۔۔ شكر ہے آخري سطر بھي پڑھ لي۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (01-05-11), محمدخلیل (01-05-11), مرزا عامر (01-05-11), حیدر (01-05-11), عبداللہ آدم (01-05-11), عبداللہ حیدر (01-05-11)
پرانا 01-05-11, 04:01 PM   #6
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لیاقت بلوچ صاحب ! کیا یہ شادی کا دعوت نامہ تھا جو اس کے بغیر شرکت کرنا حرام تھا!!!

سپلائی لائن پر صرف ایک ہفتہ کا حقیقی دھرنا حالات کو تبدیل کر سکتا ہے.......................لیکن علامتی نہ ہو،
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (01-05-11), آبی ٹوکول (01-05-11)
پرانا 01-05-11, 04:56 PM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دل جلے ہیں سبھی دل جلے ہیں
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (01-05-11), عبداللہ آدم (02-05-11), عدنان دانی (01-05-11)
پرانا 01-05-11, 04:59 PM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
بکواس لکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ایک عالم ہزار جاہلوں سے بہتر ہوتا ہے اور اکیلا ایک سچا انسان عمران خال کروڑوں لوٹو سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔۔۔
جس بندے نے یہ آرٹیکل لکھا ہے ایک چاہل انسان ہے۔۔۔
یہی بات لوگ عمران کے بارے میں کہتے ہیں
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (01-05-11)
پرانا 01-05-11, 05:10 PM   #9
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
یہی بات لوگ عمران کے بارے میں کہتے ہیں
بات لوگوں کہ کہنے کی نہیں لوگ تو پتا نہیں کیا کیا کہتے ہیں کبھی جاکے سیاسی فورمز وزٹ کیجیئے اور پھر خدا کی پناہ تلاش کیجیئے گا اس پڑھی لکھی " باشعور " قوم سے خیر میرے بھائی بات سینس کی ہے عمران میں یقینا بہت سی خامیاں ہونگی اور اس نے کئی سیاسی غلطیاں بھی کی ہونگی مگر اس کہ اخلاص پر تو کم از کم شبہ نہیں کیا جاسکتا موجودہ دور میں مجھے تو واحد ایک وہی شخص نظر آتا ہے کہ جس کا دامن کرپشن سے پاک بھی ہے اور جو اپنے افعال میں قوم سے مخلص بھی نظر آتا ہے نیز اس میں جہالت کی ان اتھاہ گہرائیوں میں گری ہوئی اس قوم کو بیڑہ اٹھانے کا جذنہ بطور صدق بھی دکھائی پڑتا ہے باقی واللہ اعلم وھو عليم بذات الصدور ۔۔۔۔
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (01-05-11), مرزا عامر (01-05-11), شمشاد احمد (02-05-11), عبداللہ آدم (02-05-11)
پرانا 01-05-11, 05:16 PM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

برادرم عابد
مشرف نے جو انٹرویو دیا تھا اس کے بارے میں وہ سنا ہے؟
یہ بھی اس گنگا میں اشنان کرنے کے لئے نہ صرف تیار بلکہ بیتاب تھا لیکن ضرورت سے زیادہ پاؤں پھیلا دیئے جس کی وجہ سے اس سعادت سے محروم رہا۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (01-05-11), آبی ٹوکول (01-05-11), شمشاد احمد (02-05-11)
پرانا 01-05-11, 05:21 PM   #11
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
برادرم عابد
مشرف نے جو انٹرویو دیا تھا اس کے بارے میں وہ سنا ہے؟
یہ بھی اس گنگا میں اشنان کرنے کے لئے نہ صرف تیار بلکہ بیتاب تھا لیکن ضرورت سے زیادہ پاؤں پھیلا دیئے جس کی وجہ سے اس سعادت سے محروم رہا۔
مشرف کا مصدق آپ بن رہے ہیں ؟؟؟؟ حیرت ہے میں مشرف جیسے قبیح اور مردہ ضمیر شخص سے عمران جیسے روشن ضمیر کی زبان پر کیوں نہ اعتبار کروں ؟؟؟؟
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل (01-05-11)
پرانا 01-05-11, 05:23 PM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مشرف واقعی قابل اعتبار نہیں ۔۔۔ لیکن یہ فطری بات ہے کہ جب انسان چاروں طرف سے گھرا ہو اور چڑچڑی سی حالت میں ہو تو بہت کچھ سچ بتا دیتا ہے ۔۔ یہ اس دور کا انٹرویو ہے بھائی اور بہت کچھ سچ ہے اس میں
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (01-05-11), آبی ٹوکول (01-05-11)
پرانا 01-05-11, 05:33 PM   #13
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
مشرف واقعی قابل اعتبار نہیں ۔۔۔ لیکن یہ فطری بات ہے کہ جب انسان چاروں طرف سے گھرا ہو اور چڑچڑی سی حالت میں ہو تو بہت کچھ سچ بتا دیتا ہے ۔۔ یہ اس دور کا انٹرویو ہے بھائی اور بہت کچھ سچ ہے اس میں
مشرف پر اعتبار کی میرے بھائی آپ کوئی ٹھوس دلیل نہیں دے سکے مشرف کہ اقوالات کو محض فطرت کا شاخسانہ قرار دینا قرین قیاس نہیں در ایں حال کہ جس حالت میں ایسی فطرت سے انسان کو سابقہ پڑتا ہے وہ حالت اصل میں کبھی مشرف پر گزری ہی نہیں کہ مشرف کا آنا اور جانا سب باقاعدہ ڈیل سے تھا کہ جسکا مصدق این آر او ہے لیکن اگر بفرض محال تسلیم کر بھی لیا جائے کہ عمران نے کچھ پاؤں زیادہ پھیلا کر بھیک میں کچھ مانگا تھا تو سوچنے والی بات یہ ہے کہ وہ ایسا کیا تھا اس کی تفصیلات کیا تھیں ؟ کہ جس پر مشرف انکاری ہوا جبکہ امر واقعہ جو کہ امر مشھور ہے وہ یہ ہے کہ مشرف خود اسے وزات عظمٰی دینا چاہتا تھا اور ذاتی طور پر عمران کو پسند بھی کرتا تھا پھر ایسے شخص کہ مطالبات کو پورا کرنا مشرف کے لیے کونسا جوئے شیر لانے کہ مترادف تھا کہ جسے موصوف خود پسند بھی کرتے ہوں سوچنے اور کہنے دونوں کو بہت کچھ ہے مگررررررر
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-05-11, 05:58 PM   #14
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ سچ ہے کہ سب ڈیل تھا لیکن یاد رکھیں کہ جو اقتدار کا لالچی ہو اور واپس آنے کے لئے بےتاب ہو لیکن حالات مسلسل مخالف ہوتے جائیں تو ایسا ہوتا ہے۔۔ اور اے پی ایم ایل کے اعلان سے قبل جو کچھ اس پر بیت رہی تھی اور جو اس کی حالت تھی وہ آپ نے بخوبی دیکھی ہو گی۔

اور یہ سچ ہے کہ مشرف خود عمران کو پسند کرتا تھا اور اس کی وجہ تھی۔ کیوں کہ یہ نو بیاہتا تھا سیاست کی بارات میں اس طرح کے لوگ جلد اوپر آنے کے لئے تھوڑے پر بھی راضی ہو جاتے ہیں۔ مشرف نے یہی سوچ کر ڈوری ڈالی تھی اور کپتان صاحب اس میں پھنس بھی گئے تھے لیکن مشرف کا اندازہ تھوڑا غلط نکلا
مشرف کا خیال تھا کہ کچھ ہی سیٹوں پر کام چل جائے گا لیکن عمران بابو نے اتنی سیٹیں مانگ لی تھیں جتنی وہ آئندہ بیس سالوں میں بھی نہیں لے سکتا ۔۔

بس پھر ان کی ٹھن گئی آپس میں اور اب تک ٹھنی ہوئی ہے
اور عمران کو پتہ تھا کہ قاف لیگ کی حکومت کے دور میں عوامی مقبولیت کے لئے سب سے اہم کارڈ مشرف کی مخالفت ہے، سو وہ اس نے کھیلا
پھر اس نے سوچا کہ لوگ الطاف کے بہت خلاف ہیں چلو یہ پتہ کھیلتے ہیں مشہوری کے لئے ۔۔ وہ بھی کھیلا لیکن کچھ نہ ملا ۔۔ کیوں کہ سیر کے آگے بھی سوا سیر تھا
اور اب تو خود فون کرتا ہے الطاف بھائی کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر کیوں ؟/

عابد بھائی ۔۔۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ نسبتا بہتر ہے لیکن جس طرح بڑھا چڑھا کر اس کو پیش کیا جا رہا ہے وہ بھی درست نہیں
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (01-05-11)
پرانا 01-05-11, 06:18 PM   #15
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
یہ سچ ہے کہ سب ڈیل تھا لیکن یاد رکھیں کہ جو اقتدار کا لالچی ہو اور واپس آنے کے لئے بےتاب ہو لیکن حالات مسلسل مخالف ہوتے جائیں تو ایسا ہوتا ہے۔۔ اور اے پی ایم ایل کے اعلان سے قبل جو کچھ اس پر بیت رہی تھی اور جو اس کی حالت تھی وہ آپ نے بخوبی دیکھی ہو گی۔
میرے بھائی کسی شخصیت کہ گردو پیش کہ حالات کا نفسیاتی تجزیہ کرنا اور پھر اس نفسیاتی تجزیہ کو کسی امر میں بطور سبب یا علت کہ پیش کرنا کبھی بھی حتمی اور قطعی نتائج کو برآمد نہیں کرتا خصوصا جب آپ ایسا تجزیہ کسی امر میں بطور ثبوت کہ پیش کررہے ہوں ۔ ۔ ۔

اقتباس:
اور یہ سچ ہے کہ مشرف خود عمران کو پسند کرتا تھا اور اس کی وجہ تھی۔ کیوں کہ یہ نو بیاہتا تھا سیاست کی بارات میں اس طرح کے لوگ جلد اوپر آنے کے لئے تھوڑے پر بھی راضی ہو جاتے ہیں۔ مشرف نے یہی سوچ کر ڈوری ڈالی تھی اور کپتان صاحب اس میں پھنس بھی گئے تھے لیکن مشرف کا اندازہ تھوڑا غلط نکلا
مشرف کا خیال تھا کہ کچھ ہی سیٹوں پر کام چل جائے گا لیکن عمران بابو نے اتنی سیٹیں مانگ لی تھیں جتنی وہ آئندہ بیس سالوں میں بھی نہیں لے سکتا ۔۔
آپ کہ اس نقطہ کی اولین بناید مفروضہ اور ثانیا مشرف کا بولا گیا جھوٹ ہے سو قطعی حجت نہیں عمران کہ اخلاص کو داغدار کرنے میں ۔ ۔ ۔ ۔


اقتباس:
بس پھر ان کی ٹھن گئی آپس میں اور اب تک ٹھنی ہوئی ہے
اور عمران کو پتہ تھا کہ قاف لیگ کی حکومت کے دور میں عوامی مقبولیت کے لئے سب سے اہم کارڈ مشرف کی مخالفت ہے، سو وہ اس نے کھیلا
پھر اس نے سوچا کہ لوگ الطاف کے بہت خلاف ہیں چلو یہ پتہ کھیلتے ہیں مشہوری کے لئے ۔۔ وہ بھی کھیلا لیکن کچھ نہ ملا ۔۔ کیوں کہ سیر کے آگے بھی سوا سیر تھا
اور اب تو خود فون کرتا ہے الطاف بھائی کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر کیوں ؟/
اس کہ دو جواب پہلا کہ مبنی بر مفروضہ احوالات کو کسی حتمی نتیجہ کہ طور پر پیش کرنا یقینا درست نہیں خصوصا جبکہ آپ کو انکی قطعیت تو درکنار خود ظنیت پر بھی شبہ ہو ۔ ۔ دوم الطاف کو فون کرنے کی مجھے حقیقت نہیں معلوم اور اگر کیا بھی گیا ہے اسے گناہ عظیم تصور نہیں کیا جانا چاہیے ایم کیو ایم سے تمام تر اختلافات کہ باوجود ان کہ وجود کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں اور اچھا سیاست دان وہی ہے جو کہ نظریات کی بیس پر اپنے انفرادی تشخص کو قائم رکھتے ہوئے بجائے انضمام کہ بعض معاملات میں اشتراک کی صورت کو اپنائے ۔ ۔ ۔ بحرحال ایم کیو ایم سے اتحاد ملکی سیاسی حالات کہ تناظر میں محال نہیں اور نہ ہی کوئی شجر ممنوعہ ہے اگر عمران اپنے پرنسپل اسٹینڈ پر رہتے کوئی فون الطاف کو کرلیا ہے تو اس سے اس کی نظریات کی تبدیلی کا عندیہ جاننا درست نہیں ۔ ۔ ۔ ۔
اقتباس:
عابد بھائی ۔۔۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ نسبتا بہتر ہے لیکن جس طرح بڑھا چڑھا کر اس کو پیش کیا جا رہا ہے وہ بھی درست نہیں
اسی بات کا میں بھی قائل ہوں والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
pakistan, پولیس, پاکستان, پاکستانی, نظر, مکمل, متعارف, معراج, آدمی, انسان, امیر, احتجاج, اسلامی, بے نظیر, جواب, خلاف, خان, خبر, دوست, رات, سیاست, عقل, علی, عمران خان, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:58 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger