واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


عورتوں کا عالمی دن

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-03-09, 03:22 PM   #1
عورتوں کا عالمی دن
ALIA ALIA آف لائن ہے 09-03-09, 03:22 PM

عورتوں کا عالمی دن
ایسے دن کئی بار آئے اور آ کر چلے گئے
مگر عورتوں کے مقدر کا ستارہ معاشرے کے سیاہ بادلوں میں ہی چھپا رہا
کھبی اگر کسی عورت نے چمکتا ستارہ بننے کی گستاخی کی بھی تو اسکا انجام شہاب ثاقب سے مختلف تو نہیں ہوا
عورت کو زمانے کی گرد نے کم مگر اپنے خود پرستی کی گرد نے زیادہ گرد آلود کیاہے
کیا کوئی عورت کو اسکی کھوئی ہوئی توقیر واپس دلا پائے گا
کیاعورت اپنے حقیقی منصب کو پہچان کر اس پر براجمان ہونے کی سعی اور کوشش کرے گی؟
کیا وہ مرد کو الزام دینے سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا پسند کرے گی ؟
کیا اپنے گھر کو بچانے کے لیے اپنوں کو اپنا بنانے کو کوشش؟
کیا شوہر کے لیے راحت و محبت کا ساز ۔ ۔ ۔؟
اپنے اور پرائے بچوں کے لیے شجرِ سایہ دار۔ ۔ ۔ ۔؟
بنے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
اگر بنے گی تو پھر سب اسکے اپنے بن جائیں گے

ALIA
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 55
شکریہ: 65
34 مراسلہ میں 76 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 395
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ALIA کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-08-09), مرزا عامر (06-08-10), احمد بلال (27-08-10), عبداللہ آدم (27-08-10), غلام خان (27-08-10)
پرانا 09-03-09, 03:27 PM   #2
Senior Member
 
راجہ صاحب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عورتوں کا عالمی دن

گنوائیں کیسے ان کی قربانیاں ، وفائیں
لیل و نہار ان کے ہم آہ کیا بتائیں
اے کاش زندگی میں سکھ پائیں ، چین پائیں
یہ بیٹیاں‌، یہ بہنیں ، یہ بیویاں ، یہ مائیں
راجہ صاحب آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا
ALIA (09-03-09), sahj (04-08-09), مرزا عامر (06-08-10), ام غزل (11-03-09), احمد بلال (27-08-10), عبداللہ آدم (27-08-10)
پرانا 11-03-09, 12:45 PM   #3
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 55
کمائي: 899
شکریہ: 65
34 مراسلہ میں 76 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عورتوں کا عالمی دن

کیا عورت کی دادرسی عورت کرے گی
ALIA آف لائن ہے   Reply With Quote
ALIA کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (11-03-09)
پرانا 11-03-09, 01:57 PM   #4
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عورتوں کا عالمی دن

عورت کی داد رسی اگر عورت کرے تو ہمارے معاشرے کے بہت سارے مسائل شروع ہونے سے پہلے ہی دم توڑ دیں۔۔۔مثال کے طور پر۔۔۔۔
ساس بہو کا رشتہ ، نند بھابھی کا رشتہ،دیورانی اور جیٹھانی کا رشتہ، غرض عورت عورت کی دشمن ہے تو مرد کا معاشرہ کیسے عورت کی داد رسی کرے جب عورت خود اپنی داد رسی نہیں‌کرتی۔۔۔۔۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
ALIA (04-08-09), احمد بلال (27-08-10), عبداللہ آدم (27-08-10)
پرانا 11-03-09, 02:21 PM   #5
Senior Member
 
راجہ صاحب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عورتوں کا عالمی دن

تبدیلی کا عمل ہمیشہ اپنی ذات سے شروع کرنا پڑتا ہے
شاید ہمیں دیکھ کر دوسرے بھی اپنی اصلاح کریں
راجہ صاحب آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا
ALIA (04-08-09), sahj (04-08-09), ام غزل (11-03-09), احمد بلال (27-08-10), عبداللہ آدم (27-08-10)
پرانا 04-08-09, 03:14 PM   #6
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 55
کمائي: 899
شکریہ: 65
34 مراسلہ میں 76 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عورت ایک پہیلی
کھبی ہجوم تو کبھی اکیلی
ALIA آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ALIA کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (04-08-09), مرزا عامر (06-08-10), احمد بلال (27-08-10)
پرانا 06-08-10, 09:33 PM   #7
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 55
کمائي: 899
شکریہ: 65
34 مراسلہ میں 76 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عورت محبوبہ بھی اور عجوبہ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
ALIA آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-08-10, 10:09 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ماشاءاللہ بہت خوب

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ALIA مراسلہ دیکھیں
عورتوں کا عالمی دن
ایسے دن کئی بار آئے اور آ کر چلے گئے
مگر عورتوں کے مقدر کا ستارہ معاشرے کے سیاہ بادلوں میں ہی چھپا رہا
کھبی اگر کسی عورت نے چمکتا ستارہ بننے کی گستاخی کی بھی تو اسکا انجام شہاب ثاقب سے مختلف تو نہیں ہوا
عورت کو زمانے کی گرد نے کم مگر اپنے خود پرستی کی گرد نے زیادہ گرد آلود کیاہے
کیا کوئی عورت کو اسکی کھوئی ہوئی توقیر واپس دلا پائے گا
کیاعورت اپنے حقیقی منصب کو پہچان کر اس پر براجمان ہونے کی سعی اور کوشش کرے گی؟
کیا وہ مرد کو الزام دینے سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا پسند کرے گی ؟
کیا اپنے گھر کو بچانے کے لیے اپنوں کو اپنا بنانے کو کوشش؟
کیا شوہر کے لیے راحت و محبت کا ساز ۔ ۔ ۔؟
اپنے اور پرائے بچوں کے لیے شجرِ سایہ دار۔ ۔ ۔ ۔؟
بنے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
اگر بنے گی تو پھر سب اسکے اپنے بن جائیں گے
میرے خیال میں ان امور پر عورت دھیان دیں تو حقیقت میں اس کا دن عالمی ۔۔۔۔۔ شگری
غلام خان آف لائن ہے   Reply With Quote
غلام خان کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 27-08-10, 10:36 AM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عورتون کے متعلق یہ نص پسندآنے پر آپ تمام کی نظر کر رہاہوں : شگری

حقوق نسواں کے نام پر خاندانی نظام کو تباہ وبرباد کیا جارہا ہے

خاندانی نظام نسل انسانی کی بقاء کا ضامن ہے،عقیدہ اورماں اس نظام کی اساس ہے،مگر آج حقوق نسواں کے نام پر خاندانی نظام کو تباہ و برباد کیا جارہاہے،مغرب نے عورت کو آزادی کے سنہرے خواب دکھاکر ان کا استحصال کیا جبکہ اسلام نے عورت کوحقیقی تحفظ فراہم کیا، اسلام ہی عورت کو اس کے حقیقی اورجائز حقوق دے سکتا ہے۔ ان خیالات کااظہار مختلف مکاتب فکر کے اسکالرز، قانون دان،علمائے کرام، مصنفین اوراہل علم نے وومن اینڈ فیملی کمیشن کے تحت مقامی ہوٹل میں'' سماجی تبدیلیاں، عوامل اثرات اورممکنہ حل،، کے زیر عنوان منعقدہ دو روزہ کنونشن کے پہلے روز مختلف سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کنونشن سے رفاع یونیورسٹی کے ڈاکٹر عطاء الرحمن،اسلامک یونیورسٹی پاکستان کے ڈاکٹر مولانا عبیداللہ خان، جامع اشرفیہ لاہور کے مفتی شاہد احمد عبید، اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی کے راشد نسیم، جماعت اسلامی حلقہ خواتین پاکستان کی سیکریٹری ڈاکٹررخسانہ جبیں، وومن اینڈ فیملی کمیشن پاکستان کی صدر سمیحہ راحیل قاضی، شیخ زید اسلامک سینٹر کی پروفیسر جہاں آراء لطفی، کراچی یونیورسٹی کی اسماء منظور، معروف مصنفہ انیسہ سلیم،وومن اینڈ فیملی کمیشن سندھ کی صدر عطیہ نثار، وومن کمیشن کی ڈاکٹر فرح اسلم، نائلہ اقتدار اوردیگرنے خطاب کیا۔کانفرنس کامقصد سماجی تبدیلیوں کے عوامل کی نشاندہی کرنا اور اسکے ممکنہ حل کی جانب پیش قدمی اور مثبت انداز فکر رکھنے والے افرادکو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔

مولانا محمد عبیداللہ نے کہاکہ اسلام انسان کی خواہشوں کو دباتا نہیں بلکہ جائز طریقوں سے اس کی تکمیل کرنا چاہتا ہے،معاشرے میں نیکی اوربدی کا رجحان پایا جاتا ہے اورانسان بعض اوقات حالات کی وجہ سے برائی کی طرف مائل ہوجاتا ہے،شریعت نے ان دونوں قسم کے افرادکی تکمیل کی ہے برے لوگوںکو کس طرح برائی سے نکالا جائے تاکہ ان کی دنیاوی زندگی جہنم نہ بن جائے اس لئے شریعت میں نکاح کے ساتھ ساتھ طلاق بھی رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام میں سب سے زیادہ فیملی لاز کو اہمیت دی گئی ہے، اسلام میں بس میں بیٹھے دو لوگوںکے درمیان تعلق بنانے کو نکاح نہیں کہا گیا بلکہ نکاح کو ایک ادارہ بنایا گیا ہے جس میں زوجین کے ساتھ ساتھ والدین گواہ ہوں گے اور اس کا اعلان کیا جائے گا نکاح دراصل اعلان کا نام ہے خفیہ معاہدے کا نہیں۔

ڈاکٹر رخسانہ جبیں نے کہاکہ موجودہ حالات میں خاندانی نظام کی تباہی اللہ کی ہدایت کو فراموش کرنا اوربنیادی قدروں سے رو گردانی ہے، آج منظم انداز میں خاندانی نظام کو تباہ کرنے، اسلامی اقدار و روایات کی دھجیاں بکھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے، انہوں نے کہاکہ خاندان وحی الہی کے تحت وجود میں آنے والا پہلا ادارہ ہے، اور تقویٰ اسلامی معاشرے کی قوت نافذ اور نفس کامحاسب ہے۔ مستحکم خاندانی بنیادوں میں اخلاقی اقدار کی ترویج، سماجی و معاشی تحفظ اوراس میں افرادکی ضروریات کی تکمیل اورجذبہ ایثار کو قربان چڑھانا ہے، حقوق کبھی بھی چھیننے سے نہیں ملتے بلکہ فرائض کو اداکرنے سے ملتے ہیں، انہوں نے کہاکہ خاندان کے دومستحکم ستون عقیدہ اورماں ہیں،ماں نسل انسانی کی پہلی درسگاہ ہے اورجو خاندان کو ہر طرح کے حوادث سے محفوظ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام میں عورت کا مرتبہ بلند رکھا گیا ہے، جب کہ یورپی ممالک اوردیگر ممالک میں عورت تنزلی کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہے، عورت خاندان کا مرکز ہے، بچے اس کامستقبل و اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ افسوس کامقام ہے کہ تحریک حقوق نسواں کے ذریعے خاندان کے وجود کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جارہا ہے، اخلاقی بے راہ روی،مرد کا آزادانہ اختلاط اورمادہ پرستی کی لہر کو اجاگر کیا جارہا ہے، ضرورت اس امرکی ہے کہ اسلام جو خاندانی نظام کا بہترین ضامن ہے اس کی پاسداری کی جائے۔ڈاکٹر عطاء الرحمن نے کہاکہ انسانیت نے برسوں کی تحقیق کے بعد جو اصول و ضوابط بنائے ہیں اورجن نتائج پر پہنچی ہے،نبی اکرمۖ کی سنت میں وہ بہت پہلے سکھایا اور رائج کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ابتدائی وحی بھی پاکی اور صفائی کے احکامات لے کر نازل ہوئی۔ اسماء منظور نے کہاکہ جنسی تعلیم کیلئے بچوں کو ٹارگٹ گروپ میں رکھنا انتہائی نقصان دہ ہے، اس لئے کہ وقت سے پہلے اس طرح کی تعلیم بچوں کے اخلاق اورکردار پر بہت منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ انہوں نے مختلف ممالک کے اعدادوشمار بھی پیش کئے جن میں ایک مختصر سا جائزہ سامنے آیا کہ جن ممالک میں جنسی تعلیم دی گئی وہاں قبل از وقت استقرار حمل اور دوسرے جرائم کی شرح میں کس قدر اضافہ ہوا۔

سمحیہ راحیل قاضی نے کہاکہ اسلام کا خاندانی نظام سراسر انسانیت کی فلاح کو مد نظر رکھ کر استوار کیا گیا ہے، اسلام کا خاندانی نظام،نسل انسانی کی بقائ،عصمت کا تحفظ، صلہ رحمی، اسلامی اقدارکی ترویج کی خاطر بنایا گیا ہے اور اس کی اساس عقیدہ اورماں ہے۔ ڈاکٹر فرح اسلم نے پریزنٹیشن کے ذریعے ان عوامل پرروشنی ڈالی جو عورتوں کی تولیدی سہولت کو متاثر کرتے ہیں، اوران کے حل کیلئے تدابیر بھی ڈسکس کیں۔ انیسہ سلیم نے کہاکہ پرنٹ میڈیا کے استعمال کیلئے خواندگی ایک لازمی شرط ہے جب الیکٹرانک میڈیا اس سے مبرا ہے، الیکٹرانک میڈیا کو جب بھی ہم استعمال کرتے ہیں توہمارے دل و دماغ اس سے متاثر ہوتے ہیں، یہ منفی اورمثبت رجحان پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ انفرادی سطح پر والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خاندان میں دیکھے جانے والے پروگرامات پرنظر رکھیں اور بچوں کومنفی سرگرمیوں سے دور کرنے کیلئے صحت مندانہ تفریح فراہم کریںکیونکہ جبر کے ذریعے میڈیا کے اثرات کو نہیں روکاجاسکتا۔مفتی شاہد عبید نے کہاکہ اسلا م میں مرد کو طلاق کا اختیار تو دیا گیا ہے مگر کڑی شرائط کے ساتھ فقہائے کرام نے بیک وقت تین طلاقوں کو تین قرار دیا ہے، امام ابو حنیفہ،امام مالک کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاق دینا حرام ہے، صرف لعان کے مقدمے میں تین طلاقیں بیک وقت دینا جائز ہے۔انہوں نے کہاکہ اللہ کو نکاح بہت زیادہ پسند ہے جب کہ شیطان کو طلاق۔انہوں نے کہاکہ عیسائیوں میں طلاق کا وجود ہی نہیں جب کہ یہودیوں میں ہزارطلاقیں بھی جائز ہیں۔ خلع کیلئے شوہر کاراضی ہونا یا موجود ہونا ضروری ہے،نفقہ کی عدم ادائیگی میں قاضی کو تنسیخ کا حق حاصل ہے۔

راشد نسیم نے کراچی کی سطح پر کروائے گئے طلاق کی وجوہات پر مشتمل سروے پیش کرتے ہوئے کہاکہ امریکا میں ہر 100میں سے 54.4فیصد، برطانیہ میں 42.6 فیصد،شادیاں ٹوٹتی ہیں،جبکہ شادیوں کا رجحان کم ہوتا جارہا ہے۔ کراچی میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق 82 فیصد طلاق مشترک خاندان میں ہوئی 98 فیصد مرد و خواتین تعلیم یافتہ تھے اور 75 فیصد گریجویٹ تھے۔25 فیصد چار سو گز یا بڑے مکانات والے تھے، 1-2 فیصد پردہ دار خواتین تھیں، 100 میں 66 فیصد ایسے ہیں کہ لڑکا اورلڑکی ساتھ رہنے پر تیار ہیں لیکن خاندان والے نہیں چاہتے۔ 43 فیصد خاندان مزاج کی وجہ سے ٹوٹتا ہے،24 فیصد مرضی کی شادیاں ختم ہوتی ہیں، 29 فیصد میں شک اور بد اعتمادی کا عنصر رہا۔ ملازمت پیشہ خواتین کا احساس برتری 2 فیصد شامل ہے۔90-95 فیصد میڈیا کے اثرات محسوس ہوئے،62 فیصد میں باورچی خانے کامسئلہ تھا۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا تقویٰ کی غیر موجودگی میں بڑا موثر کردار ادا کرتا ہے۔پروفیسرجہاں آراء لطفی نے کہاکہ خاندان میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اس کے استحکام کیلئے کام کرتے ہیںنکاح نفسیاتی اورجنسی سکون کا سبب بنتا ہے اوریہ معاشرتی استحکام کی اثاث اور عورتوںکے حقوق کامحافظ ہے۔عطیہ نثار نے کہاکہ اسلام ہی عورتوںکے حقوق کامحافظ ہے،مغرب نے عورت کو صرف انکی آزادی اورخودمختاری کے سبزباغ دکھائے اورمعاشرے میں اسے بے توقیر کردیا۔ انہوں نے کہاکہ وومن اینڈ فیملی کمیشن سماجی تبدیلیوں کے عوامل اورمعاشرے پرپڑنے والے اثرات اور اس کے ممکنہ حل کیلئے دوروزہ کنونشن منعقد کیا ہے اورہمیں امید ہے کہ اس کنونشن کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عورت کے حقوق کے چند ٹھیکے دار ہیں جو ان کی آزادی کی بات کرتیں ہیں : ان کی خدمت میں:
* عورت سب سے پہلے (ماں) عورت (بہن ) عورت (بیوی ) عورت ( بیٹی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ان کے حقوق اور مقام ان مناصب اور مرتبوں کے ساتھ منسلک ہیں
جب وہ ماں کے روپ میں ہوں تب الجنہ تحت اقدام الامھات) جب وہ بہن کے روپ مین ہون تو (خولہ بنت ازور ۔۔۔۔) اور جب زوجہ کے روپ میں ہوں تو ( من صلت خمسھا وصامت شھرھا واطاعت بعلھا۔۔۔۔۔) اور اسی طرح پھر مسلم معاشرہ وجود مین اتا ہے اور انہی کے کوکھ سے نکلے اجیال ملک اور قوم کی دل سے خدمت بھی کرتے ہیں، آج کل جو کچھ ہورہاہے یہ سب اسلام سے دوری بچوں کی تربیت نہ ہونا اور اپنے اپ کو مغربی دنیا کے نقش قدم پر چلانے کی کوشش مین ھم اپنا تشخص بھی ہوچکے ہیں ، کسی کمپنی یا بینک ہی کی مثال لے لیں کونٹر پر بیٹھی محترمہ کے لباس دیکھکر شاید شیطان بھی شرما جائے، اللہ ھم سب کو دین کی فھم عطاکریں اور اس کی تعلیمات کو اپنانے کی توفیق دیں آمین۔
شگری
غلام خان آف لائن ہے   Reply With Quote
غلام خان کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (06-09-10)
جواب

Tags
کوشش, کراچی, گھر, پہلے, پہچان, پاکستان, پسند, چین, محبوبہ, محبت, مسائل, معاشرہ, الزام, انجام, بچوں, خواتین, خود, دیں, زندگی, شوہر, عورت, عورتوں, عالمی, عجوبہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مجاھدین کے خلاف ہندو عورتوں کی فوج ALI-OAD خبریں 1 31-12-10 02:55 PM
میڈیا اور عورتوں کی نمائش عبداللہ آدم عمومی بحث 2 04-11-10 12:57 PM
عورتوں کی نسبت مرد Wahid Mahmood دلچسپ اور عجیب 1 29-12-09 11:28 AM
عورتوں / لڑکیوں کا دماغ محمدعدنان گپ شپ 28 06-10-09 06:54 PM
حاملہ عورتوں کے لئے متلی اور قے سے بچاو کے طریقے پاکستانی شعبہ طب 0 24-08-07 07:53 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:58 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger