واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


عورت کو معاشرے میں یکساں مواقع فراہم کرنے کی ضرورت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-05-09, 02:57 PM   #1
عورت کو معاشرے میں یکساں مواقع فراہم کرنے کی ضرورت
ایس اے نقوی ایس اے نقوی آف لائن ہے 23-05-09, 02:57 PM

عورت کو معاشرے میں یکساں اور بہتر مواقع فراہم کئے بغیر کوئی بھی مذہب معاشرہ ترقی یافتہ نہین سب سکتا اور عورت کی تعلیم اور بہتر تربیت معاشرے میں خوبصورت نکھار لانے اور ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے میں معاون اور مددگار ہو سکتی ہے جب کوئی معاشرہ یا ریاست معرض وجود میں آتا ہے تو سب سے پہلے اسکی ترقی اور بہتری کےلئے جن امور کی طرف توجہ پڑ جاتی ہے بدقسمتی سے ہمارے معاشرے مین سب سے زیادہ عورت ہر طرح کی محرومی سے دوچار ہے مگر وہ پھر بھی اپنے‌حقوق اور فرائض سے بے ضرر ہے وہ روز ظلم و زیادتی کا شکار ہوتی ہے مگر چند لمحے نہیں لگتے اور وہ پانے اوپر ہونے والے ظلم اور امتیازی سلوک کو بھول جاتی ہے بعض اوقات تو انہیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ انکے ساتھ کتنی بڑی نا انصافیاں ہو جاتی ہیں مگر ہھر بھی مسکرا کر اپنی زندگیکو دوسرے لمحے جینے لگتی ہیں یہاں یہ بات واضح کردوں کہ جس طرھ عورت کو اپنے حقوق کا ادراک نہین ہے وہیں انہین اپنے فرائض کی بہتر طور پہر ادائیگی کا شعور بھی نہین ہے ہم معاشرے میں عورت کی طرف سے پہلے والی برائیوں کا اھاطہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ عورت ہی کافی حد تک اپنے مسائل کو بڑھانے کی‌ذمہ دار ہے اور جب بھی مرد اس سے بحث میں پھنس جاتا ہے تو وہ اپنے بچائو کےلئے اس دروازے کو کھولتا ہے کہ گھر میں آ کر ساس بہو کی لرائی ہے تو وہ عورتوں کا مسلئہ ہے بچے نافرامان ہین تو ماں کی تربیت اچھی نہین ہے غرض یہ کہ ہر برائی کا ذمہ دار عورت کو ہی ٹھہرا دیا جاتا ہے اور پھر اسکے آگے اس بحث کو ختم کرنا پرتا ہے کہ شاید عورت ہی ذمہ دار ہے ان برائیوں کی،
مرد آرام سے ان سب سے آزاد ہو جاتا ہے۔
کب تک ہم اپنے حقوق کو نہین جانیں گے اپنے فرائض کی ادائیگی کو بہتر نہین بنائیں گے معاشرے کی بہتری اور فرائض کی ادائیگی دونوں ایک دوسرے سے مشروط ہیں جب عورت اپنے فرائض کو بہتر طور پر جانتے ہوئے اپنے گھریلو اور روز مرہ کے باہر کے معمولات طے کرتی ہے تو اسکی ادائیگی پوری ایمانداری اور نیک نیتی سے ادا کرے تو وہ معاشرے کی رنگینیوں کو مزید نکھار دیتی ہے اور اگر وہ گھر کی ذمہ داری کو پورا کئے بغیر باہر نکلتی ہے اور باہر اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتی ہے تو وہ معاشرے کےلئے مزید مسائل جنم دے رہی ہے وہ خواتین جو دنیا میں رول ماڈل کے طور پر جانی و مانی جاتی ہیں وہ اپنا آپ خود منواتی ہین جو ان کے بہتر فرائض کی ادائیگی پر منحصر ہوتا ہے کہتے ہیں کہ انسان کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے بالکل اٹل ہے ماں اپنے بچوں کو جب وہ چیزوں کو جاننے لگتے ہیں چیزوں میں تمیز پیدا کرتے ہیں اس وقت ماں کا کردار اس بچے کے اندر بہترین صلاحیتیوں کو اجاگر کر سکتا ہے اور یہہ تب ہی ممکن ہے جب ماں مثبت طرز عمل اور اچھے طور طریقوں سے مذہبی اور اخلاقی اعتبار سے بچوں کو تربیت دیتی ہے
اور بچے کو دیکھتی ہے کہ وہ کس چیز کی طرف رجحان کو پروان چڑھا رہا ہے آیا اس کی سوچ درست سمت پروان چڑھ رہی ہے یا پھر اسکی سوچ غلط طرف بھٹک رہی ہے اس وقت ماں اپنے بچے کو سمجھتی ہے اور اگر بچہ درست سمت میں اپنا دماغ لے جارہا ہے تو اسکو مزید تقویت پہنچاتی ہے اور اگر بھٹک رہا ہے تو اسکو اچھائی اور برائی میں فرق بتاتی ہے اور اسکا ردعمل درست راستے کی طرف چلنے سے اچھائی اور بہتری کی طرف بچے کی فطرت میں مثبت کردار کو پروان چڑھاتا ہے اور اسے پراعتماد بناتا ہے اس ہی کی بدولت وہ بچہ بڑا ہو کر معاشرے میں اہم رول ادا کرتا ہے اور پھر معاشرے کی بہتری کا سبب بنتا ہت اور وہی عورت معاشرے کی بہتری اور تعمیر میں نمایاں طور پر کردار ادا کرتی ہے جو اپنے بچوں کو اچھی سوچ دے کر معاشرے کا کار آمد شہری بناتی ہے
یہ اس وقت ہی ممکن ہو سکتا ہے جب ماں اپنے بچوں کو بنا کسی امتیاز کے اچھی تعلیم اور تربیت دے
یوں وہ اپنے اوپر ہونے والے مطالم اور تلخیوں کو بھی ختم کر دیتی ہے جن مسائل سے آج کی عورت برسرپیکار ہے ان بند دروازوں کو عورت اپنی اہمیت اور حیثیت کے ساتھ اس وقت ہی کھول سکتی ہے جب وہ ماں کے روپ میں اپنے ہی نہین بلکہ بہن بیوی اور بیٹی کے فرائض کی ادائیگی کو بھی سمجھے اور معاشرے میں ایک ایسا انقلاب برپہ کرے کہ عورت اور مرد دونوں معاشرے کی تعمیر و ترقی میں برابر کردار ادا کر سکیں اور دونوں ایک دوسرے کا احتارم کریں اور اسکے لئے پہلی اینت عورت کو ہی رکھنی ہے تاکہ وہ آئندہ آنے والی نسلوں کو ایک ایسی مضبوط عمارت دے سکے جس میں سب تحفظ ،سکون ،اطمنیان اور فرائض کی ادائیگی باحسن و خوبی ادا کر سکیں اور ایک ایسے معاشرے کی تکیمل کریں جو مضبوط ،اسلامی،اخلاقی ،تہزیب یافتہ اومہذب ہو اور صیح معنوں میں اپنی تہذیب اور ثقافتی اور اسلامی ترقی یافتہ معاشرہ ہونے کو ثبوت دیں یہ سب ناممکن نہیں بس صرف تھوڑا سمجھنے کی بات ہے حکومت کو بھی چاہیئے کہ وہ خواتین کے مثبت کردار کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے ادارے بنائے جہاں انہین ترقی کے پورے پورے مواقع حاصل ہوں
اللہ ہم کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے

تحریر مکمل ہو چکی ہے جاری ہے والے الفاظ ختم کرنے یاد نہیں رہے جس پر شرمندہ ہوں

Last edited by ایس اے نقوی; 23-05-09 at 05:36 PM..

 
ایس اے نقوی's Avatar
ایس اے نقوی
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 324
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (23-05-09), فاروق سرورخان (24-05-09), yashaka (25-05-09), ام غزل (25-05-09), رضی (23-05-09), عرفان حیدر (25-05-09)
پرانا 23-05-09, 07:50 PM   #2
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہ جی بالکل ٹھیک کہا آپ نے میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔ معاشرے میں عورت کا بہت بڑا کردار ھوتا ہے اس بات سے ہم انکار نہیں کرسکتے
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (23-05-09), ام غزل (26-05-09), شازل (24-05-09)
پرانا 24-05-09, 01:11 AM   #3
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ نے تو پورے معاشرے کی تمام ذمہ داری عورت پر ہی ڈال دی
بیوی کی تربیت کی ذمہ داری شوہر کے اوپر ہے ۔ اسی لیے شوہر کو بیوی کا قوام یا ذمہ دار بنایا ہے ۔ یہی بیوی پھر ماں بن کر اپنی اولاد کی تربیت میں اپنے شوہر کا ساتھ دیتی ہے۔
اولاد کی تربیت کی ذمہ داری بھی باپ کے اوپر ہے
حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے
باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے اس میں سب سے بہتر اچھی تعلیم و تربیت ہے
اس حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں والدین کا ذکر نہیں صرف والد کا ذکر ہے۔
میں عورت کی ذمہ داریوں کے خلاف نہیں بلکہ عورت مرد کی معاون و مددگار ہے اصل ذمہ داری مرد کی ہے
مرد کو بیوی کی تربیت بھی کرنی ہے اور اولاد کی بھی
اس کی بہت سادہ سی وجہ ہے کہ زندگی کا تجربہ عورت سے ذیادہ مرد کو ہوتا ہے ۔ مرد دنیا میں نکلتا ہے ۔ ذیادہ لوگوں سے ملتا ہے اس کے پاس علم حاصل کرنے کے ذیادہ مواقع ہوتے ہیں۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-05-09), فاروق سرورخان (24-05-09), yashaka (25-05-09), ایس اے نقوی (24-05-09), ام غزل (25-05-09), رضی (24-05-09), شازل (24-05-09)
پرانا 25-05-09, 10:45 AM   #4
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرے خیال سے تو عورت اور مرد مل کر ایک معاشرہ بناتے ہیں جتنی ذمہ داری ایک مرد کی گھر اور بچوں ک ی کفالت اور پرورش کی ہے اتنی ہی ایک عورت کی بھی ہے ، ہمارا مذہب مرد کو تلقین کرتا ہے کیونکہ وہ ہمارا کفالت کار ہے ، وہ ہمارے لئے محنت کرتا تو ہی ہم اور ہمارے بچے معاشرے میں بہترین زندگی گزارتے ہیں‌ ، ایک بچے کی تربیت میں ذیادہ تر ماں کا حصہ اس لئے ہوتا ہے کیونکہ اللہ نے مرد سے ذیادہ ماں‌کے دل میں بچے کیلئے محبت اور انس پیدا کیا ہے ، یہ ایک فطرت ہی ہے کہ بچہ ماں میں ذیادہ محبت کا متلاشہ ہوتا ہے ، باپ سے اس کا پیار اس حد تک نہیں جاتا جس حد تک ماں کیلئے وہ جذبات ہوتے ہیں ، اٍسی طرح جب بچہ عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے باپ کی رہنمائی حاصل کرتا ہے اور باپ کے نقشٍ قدم پر چلتا ہوا ذمانے کی سختیوں اور قدروں کا مقابلہ کرنے کے قابل بن پاتا ہے ۔
انجم بھائی بہت ہی اچھا اور وسیع موضوع ہے جس پر ہر کوئی اپنا نقطہ نظر بیان کرسکتا ہے ۔
تصیح کی طلبگار
امٍ غزل
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (25-05-11), سحر (25-05-09)
پرانا 25-05-09, 12:48 PM   #5
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,019
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بے شک درست فرمایا آپ نے‌غزل میں آپ کی تمام باتوں کی تائید کرتا ہوں
اور آپ کا شکریہ میں مزید چند دن عورت کے موضوع پر ہی لکھوں گا اسکے بعد کوئی اور موضوع شروع کروں گا تمام احباب کا شکریہ
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-05-09), ام غزل (26-05-09)
پرانا 25-05-09, 01:29 PM   #6
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہ جی عورت کی متوقع آمد کے ساتھ آپ کا عورت کے موضوع پر اتنا لکھنا معنی خیز ہے
کہیں‌ بھابھی(ہونے والی) کو آپکی آئی ڈی اور پاک نیٹ کی خبر تو نہیں پہنچ گئی

تھریڈ پر تبصرہ بعد میں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (25-05-09), ام غزل (26-05-09)
پرانا 25-05-09, 01:29 PM   #7
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہ جی عورت کی متوقع آمد کے ساتھ آپ کا عورت کے موضوع پر اتنا لکھنا معنی خیز ہے
کہیں‌ بھابھی(ہونے والی) کو آپکی آئی ڈی اور پاک نیٹ کی خبر تو نہیں پہنچ گئی

تھریڈ پر تبصرہ بعد میں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (25-05-09), سحر (25-05-09)
پرانا 25-05-09, 02:10 PM   #8
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,019
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
شاہ جی عورت کی متوقع آمد کے ساتھ آپ کا عورت کے موضوع پر اتنا لکھنا معنی خیز ہے
کہیں‌ بھابھی(ہونے والی) کو آپکی آئی ڈی اور پاک نیٹ کی خبر تو نہیں پہنچ گئی

تھریڈ پر تبصرہ بعد میں
بھائی عورت کا موضوع بڑا مشکل موضوع ہے اور ہونے والی کو نہیں پتہ اور یقین جانو کہ مجھے اپنی ہونے والی کا ابھی تک خود سے پتہ نہیں ہے کہ کیسی ہے اور کیا نیٹ بھی یوز کرتی ہے کہ نہیں اور تھریڈ پر تبصرہ کا انتظار رہے گا
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-05-09), ام غزل (26-05-09)
جواب

Tags
color, پاک, قدم, نظر, مکمل, ممکن, ماں, متوقع, محبت, مسائل, معاشرہ, آج, اللہ, انسان, بہترین, بچوں, تحریر, تعلیم, خواتین, خلاف, خبر, زندگی, عورت, غزل, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی جاویداسد خبریں 2 21-09-10 08:12 PM
الطاف بھائی کا مارشل لاء کا مطالبہ اور عوام کی سوچ ۔ کیاعوام سیاستدانوں سے اکتا گئے ؟ جاویداسد خبریں 1 24-08-10 11:23 PM
عورت ۔ ۔ ۔ مرد کی زندگی میں عدنان دانی عمومی بحث 6 18-01-10 09:35 PM
اسلام میں عورت کا مقام رانا امر اسلام اور معاشرہ 0 18-11-09 03:08 PM
’عوامی نمائندے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں‘ چاچا کمال خبریں 1 07-04-08 06:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:58 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger