واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


عورت کے حقوق اور اسلام

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-03-11, 10:54 PM   #1
عورت کے حقوق اور اسلام
مہتاب مہتاب آن لائن ہے 26-03-11, 10:54 PM

عورت کے حقوق اور اسلام
اگر كسی خاندان ميں كسی صاحبِ ثروت شخص نے كبهی اپنی بيٹی كو جہيز كے طور پر كوئي موٹر سائيكل،كار،فريج،ٹي وی ، موبائل فون یا كوئي مويشی وغيره دئيے ہوں تو آج اسی خاندان كے ايک غريب فرد كيلئے يہ رسم اداكرنا ايک ايسي مجبوري هے كہ جسے وه ادا كرے تو اپنی جمع پونجي داؤ پر لگانی پڑے گي اور نہ كرے تو عزيز و اقارب كے طعنے سننے پڑيں گے اور يوں ايک غريب خاندان كی نوجوان لڑكي گهر ميں بيٹهے بيٹهے بوڑهي هو جاتی ہے كيونكہ باپ بيچاره اگر پراپرٹی بيچ كر بيٹی كو جہيز دے دے تو باقی گهر والوں كي گزر اوقات كيسے هو؟
يہ ايک سوال هے جو آج هر غريب كي بيٹی اس معاشره كے نو دولتيوں سے پوچهنا چاهتی هے كہ تمهيں دولت اس ليئے دی گئی كہ غريبوں كا مذاق اڑایا جائے ان سياستدانوں ، ايم پي اے ، ايم اين اے اور منسٹرز كي طرز زندگي كو ديكهئے ان كی بچياں تو ايچي سن كالج ، جی سی ،ايف سی كالج ، پنجاب گروپ آف كالجز آكسفورڈ اور لمز ميں پڑهيں،اور غريب کا بچہ سارادن محنت مزدوری كرے ، چنگ چی چلائے ، گاڑيوں كے شيشے صاف كرے اور چائے والے كے برتن دهوئے اور رات كو لوڈشيڈنگ كے سائے ميں جبكہ مٹی كے تيل كي قيمت آسمانوں كو چهو رهی هے اور وه بے چاره لالٹين جلانے سے بهی محروم هے اس نے اپنے مستقبل كے خوابوں كی چمكتی ہوئی تعبير كی كرنوں سے اپنے علاقہ كے گورنمنٹ سكول ميں جہاں سہوليات بهی ناکافی ہیں امتحان كی تياری كرتا هے اور عموماً بچياں گھر میں سارے معمولات اور ذمہ داریاں نبھاتی ہیں ، اگر کسی گاؤں میں رہتی ہیں تو بهينسوں كو چارا بهي ڈالنا هے ،گندم كي كٹائي كے موسم ميں والدين اور بهائيوں كا ہاتھ بهي بٹاتی هيں اور جب اسكی رخصتی كا دن آتا ہے تو اسے جہيز كے نام پر چند چيزيں دے كر اسكے والدين اور بهائيوں سے رخصت كر ديا جاتا هے ، اور وه بهن جو خود تكليف برداشت كر ليتی تهي مگر اپنے سب گهر والوں كے آرام كا خيال ركهتي تهي ،وه بہن جو اكثر خود بهوک برداشت كركے اپنے تمام بہن بهائيوں كوكهانا بهي بنا كر ديتي تھی اور كپڑے دهوتی اور گهر كي صفائی كرتی تھی اور اگر ان کی باتيں سننا پڑيں تو اُف نهيں كرتی اور وه بہن جس كو شريعت نے اسے باپ كي وراثت ميں شامل كيا تها آج اس معاشره كی نا انصافيوں نے اس سے وه حق بهی چهين ليا جو اﷲ تعالٰی اوراسكے رسول صلی اﷲ تعالٰی عليه وآلہ وسلم نے اسے ديا تها، بڑے بڑے خاندانوں كے لوگ حتٰی كہ ديندار گهرانے بهي اس معاملہ ميں كسی سے پيچهے نهيں كہ وه اپني بچيوں كو وراثت سے محروم ركهتے هيں اور اگر كوئي بہن اپنے حصہ كا تقاضہ كر دے تو پهر اسكے ساتھ قطع تعلق كر ليا جاتا هے ،جبكہ اﷲ تعالٰی كا ارشاد ہے" پهر اگرصرف لڑكياں هوں اگر چہ دو سے اوپر تو ان كو تركہ دو تهائی ،تو اگر ايك لڑكي هو تو اسكا آدها" (سوره النساء آيت١١) اسكے باوجود دیندار كہلوانے والے كيوں اتنا بڑا ظلم كركے اپنے آپ كو جہنم كا ايندهن بنا رهے هيں ؟ ايک طرف تو هم اسی عورت كا مقام ومرتبہ كچھ يوں بلند هوتا هوا ديكهتے هيں كہ پيغمبر خدا صلي اﷲ عليه و آله وسلم كا ارشادِ گرامئ قدر هے كہ " الجنة تحت اقدام الامهات" جنت ماں كے قدموں كے نيچے هے، اوردوسری طرف اسی عورت كو ہم وراثت سے محروم كركے نبی پاک صلی اﷲ تعاليٰ عليه وآله وسلم كے ساتھ كو ن سی محبت كا ثبوت دے رهے هيں؟
ہمیں چاہئے اپنے آپ كو اسلام كے مطابق ڈهاليں نہ يہ كہ آپ كی كوشش يہ هو كہ اسلام اسی طرح هو جائے جيسا آپ كا مزاج هے! كاش كہ هم نے يہ تو سوچ ليا هوتا كہ سركارِ دوعالم صلي اﷲ تعالٰی عليه وآله وسلم كی تشريف آوری سے پہلے اس عورت كا معاشرے ميں كيا مقام ومرتبہ تها اور آپ صلي ا ﷲ تعالٰی عليه وآله وسلم نے اس كو كتنی رفعتيں اور عظمتيں عطا فرمائي هيں ۔ ۔ ۔
__________________
اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو (جس کی بدولت تمہیں اس کا قُرب حاصل ہو ) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (المائدہ 35)
ندامت میں جھکے ہوئے سر سے اطاعت میں جھُکا ہوا سر بہتر ہے

 
مہتاب's Avatar
مہتاب
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
شکریہ: 873
1,314 مراسلہ میں 2,842 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 529
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
کنعان (06-04-11), عبداللہ آدم (06-04-11)
پرانا 06-04-11, 12:30 PM   #2
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
کمائي: 8,099
شکریہ: 1,347
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

Aap ka tajziya theek hy....na to mazhab is qadar bhari bharkam jahaiz ka paband krta hy....or nahi orat ko virasat k haq sy mehroom krta hy....ksi bhi msley ko hal krny k liye sb sy pehly us masley ki tashkhees zruri hoti hy....hmarey muashrey mein ye dono ruhjaanat hindu tehzeeb sy dr aai hein....or aisa hona bilkul qudrati baat hy....lekin is mein jo baat ghalat hy ...wo ye k hum ny haqaiq ko chupaaney ya wazih na krney ka jurm kia hy....ye hmara min-haisul-qoum ijtemaa'I jurm hy....jis ki wja sy in hindu'aana roosoom k khilaaf nafrat ko ujaaager nahi kr sky.....
Jb tak hum is haqiqat ka aankh khol k samna nahi karein gy k hindu hmarey liye kitney zehreely jzbaat rkhta hy....hindu ny 1947 mein kia kia....1971 mein kia kia....hum hindu asraat sy kabhi b peecha nahi chura skty......
mama_shalla آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-04-11, 01:39 PM   #3
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جہاں تک جہیز کی بات ہے ۔
اس میں صرف یہ بات کافی نہیں کہ لڑکی کے گھر والے اگر جہیز نا دیں تو لڑکی کو باتیں سننی پڑی گئ
اگر کم ظرف لوگوں کے گھر بیٹی دیں گے تو وہ جہیز لے کر بھی باتیں سنائیں گے ۔
اپنی لڑکی کی شادی کرتے وقت لڑکی والوں کی ترجیحات بھی کیا ہوتی ہیں کہ لڑکا اچھی نوکری کرتا ہو ، پیسے والے لوگ ہوں
اگر لڑکے کا تقویٰ اور گھر والوں کی شرافت کو ترجیح دی جائے تو جہیز دینے کے لیے اتنے پاپڑ بیلنے کی ضرورت ہی نا پڑے ۔
اس پوائنٹ پر بھی سوچیں ذرا ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
حیدر (07-04-11), راجہ اکرام (06-04-11), عبداللہ آدم (06-04-11)
پرانا 06-04-11, 02:21 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
سحر بہنا نے بہت ہی اہم نکتہ واضح کیا ہے
اگر صرف اسی بات پر عمل درآمد کویقینی بنایا جائے جو کہ ہم میں سے ہر ایک باآسانی بنا بھی سکتا ہے تو جہیز کی وجہ سے تباہ ہونے والے گھر اور ٹوٹتے تعلقات پر قابو پایا جا سکتا ہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (07-04-11)
پرانا 06-04-11, 02:31 PM   #5
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شریف لڑکے اب ہیں کہاں ؟؟

کچھ جاہل ہیں
کچھ نکمے رہ گئے
کچھ غریب ہیں
کچھ کے پاس نوکری نہی
کچھ کہ پاس اگر ہے تو اتنی تنخواہ نہی ہے کہ کسی ایک نئے فرد سہارا بنے
کچھ چرسی و نشہ باز بن گئے
جو بچے تھے وہ پارٹیوں میں چلے گئے
باقی رہے تو وہ شادی ہی نہی کرنا چاہتے یعنی وہ یہ نہی چاہتے کہ کوئی چخ چخ کرنے والی اجائے یعنی اس پاس سے ملے تجربے اتنے برے ہیں کہ کوئ بھی خاوند بنے کی ہمت نہی کررہا


لڑکےاب ہیں کہاں ؟؟
اب اگر کوئی ان باتوں کے سوا مل جائے تو بس کوشش کرتے ہیں کہ جلدی سے شادی طے ہوجائے بس اسی جلدی کا فائدہ وہ لڑکے والے آٹھاتے ہیں کہ اج کل لڑکے ملتے کہاں ہیں
دو چار لاکھ کا کچھ مانگ لیا تو کیا قیامت اجائے گی ؟
کیا اپنی بیٹی کے لیے اتنا بھی نہی کرسکتے ؟
کہاں پچاس سال کے بعد بیٹی کا حصہ دیں گئے ایک تو ہے بھی ایک حصہ اور وہ بھی نہی دے رہے ؟
کیا ہمارا بیٹا بے کار ہے جو ہم فری میں انھیں دے دیں
ایسی باتیں سوچنےکا موقع بھی خود لڑکیوں نے ہی دیا ہے کہ وہ لڑکے پر پورا قبضہ کرلیتی ہیں اور وہ لڑکا اپنے ماں باپ کی خوشیاں چھوڑ کر اپنے سسرال والوں کی خوشیوں کو ہی سب کچھ جاننے لگتا ہے بس دو ایک سال میں اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنے بچوں کا ہوجاتا ہے اور ماں بے چاری یہی سوچتی ہے کہ کچھ بچ جاتا تو اسی سے گزارا ہی کرلیتے یعنی جو اگر جہیزلے لیتے تو ہمیں وہ سامان خود نہ خریدنا پڑتا ہم نے کیوں اپنی کمائی اس پر لگا دی جو ہماری ہونا ہی نہی چاہتی تھی اور بیٹے کے ساتھ ساتھ ہماری چزیں بھی استعمال کرکے برباد کردیں اگر اپنی لے آتی تو شاید ہمیں صرف بیٹے کے چلے جانے کا ہی دکھ ہوتا ۔ ۔ ۔


مسلہ یہ ہے کہ یہاں سب ہی کچھ خراب ہے
لڑکیاں یعنی پھر جب بیوی آجاتی ہے تو دوسری شادی نہی کرنے دیتے یعنی پہلا تجربہ ہی اتنا خطرناک ہوجاتا ہے کہ دوسرے تجربے کا بیچارہ مرد سوچ بھی نہی سکتا یعنی وہ مرد جس میں وہ تمام باتیں نہی تھی جس سے اس کی شادی میں کوئی مسلہ ہوتا وہ بھی بے کار ہوجاتا ہے ۔ ۔ ۔

حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
حیدر (07-04-11), عبداللہ آدم (06-04-11)
پرانا 06-04-11, 02:44 PM   #6
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ریحان بھائی کا مشاہدہ بھی غیر حقیقی نہیں
اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل لڑکیوں کے رشتوں کا بہت مسئلہ ہے، اور اس کی وجہ بعض خاندانوں میں لڑکیوں کی بہتات ہے۔
ایسے میں جب کبھی رشتہ آئے تو لڑکی والے اپنا سب کچھ لوٹا کر بھی یہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح جلد از جلد معاملہ طے ہو جائے۔ اس کوشش میں بہت کچھ گنوانا پڑتا ہے۔
لیکن سچ یہ بھی ہے کہ ۔۔ اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہوتا۔ بیٹی گھر میں ہی عمر رسیدہ ہو رہی ہو تو والدین کے لئے پریشانی ہوتی ہے، کیوں کہ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ہماری بیٹی ہمارے جیتے جی اپنے گھر کی ہو جائے۔

اس صورتحال میں میرا خیال یہ ہے کہ سب سے پہلے ایک سے زائد شادیوں کے خلاف جو غلط نظریات ہیں ان کو ختم کیا جائے اور کوشش ہو کہ اگر لڑکا مناسب ہو اور قرائن سے یہ پتہ لگتا ہو کہ دو کو اچھی طرح سنبھال لے گا تو ایک سے زائد شادیوں کو فروغ دیا جائے۔ اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے (یاد رہے ۔۔۔ ہر ایرہ غیرہ دوسری شادی کے قابل نہیں ہوتا)۔۔۔
اس سے ایک طرف تعداد میں عدم توازن کنٹرول ہوگا تو دوسری جانب کم عمری میں بیوہ یا مطلقہ ہونے والی خواتین کے لئے بھی سہارا ملنا آسان ہو جائے گا۔

پھر جب تعداد معمول پر ہو گی، لڑکی والوں کی طرح لڑکے والوں کو بھی پریشانی ہو گی تو وہ پھر زیادہ مطالبات نہیں کریں گے۔

تاہم ۔ اپنے شریک سفر میں مال و دولت کے بجائے اور تقوی اور انسانیت دیکھی جائے تو جہیز یا دیگر مسائل کبھی بھی تعلقات کی خرابی کی وجہ نہیں بنیں گے۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
حیدر (07-04-11), عبداللہ آدم (06-04-11)
پرانا 06-04-11, 06:31 PM   #7
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

موضوع غیر متعلقہ من انا فی الحال!!!

والسلام علیکم و ڑحمۃ اللہ و برکاتہ
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (07-04-11)
پرانا 07-04-11, 12:29 AM   #8
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
کمائي: 8,099
شکریہ: 1,347
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Cool

Sb sy pehley to is tarah ka parhney sy jo mza kirkira ho rha hy us k liye ma'azrat....lite akser nai hoti....cell sy hi browsing ho rhi hy....Some thing is better than nothing....shirkat na hony sy jaisi kaisi shirkat hona hi behter hy....(A non-perfectionist thinking)
Mery khayal sy rishtey tey krty huey....or khaas tor pe bachi ka...kufu ki shart ko hi poora kr liya jaey to buht c qabahaton sy bchaa ja skta hy....mgr hmary haan jin paimaanon pe rishtey tey kiye jaty hein wo intihai khofnaak hein...maslan....parents apni rishtey.daari ki mzbooti k liye aapas me rishta tey kr lete hein....larkey ki nokri daikh k....larky ka baap bht acha shaks tha..
Is k ilaawa ksi rishtey ki jaanch partaal krna to buht hi ma'ayuub kaam samjha jata hy....
Jb rishtey ki bbunyaad hi aisy istawar ho gi to ...khaw jitna marzi jahaiz dy lein....sulook us pe munhasir nahi....
Khair thread ka topic ye tha k virasat or jahaiz ...or orat k huqooq...to virasat shar'I haq hy...jbkey jahaiz khud musalat.krda farz....
To
mama_shalla آف لائن ہے   Reply With Quote
mama_shalla کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (07-04-11)
پرانا 07-04-11, 12:39 AM   #9
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
کمائي: 8,099
شکریہ: 1,347
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Cool

Sirf kufu ki shrait hi poori kr li jaen to buht c qabahaton sy bcha ja skta hy....hmarey haan rishton ki chaan been krna b bura samjha jata hy....or is ko chota.pan samjha jata hy....jis k awaqib tmam umr wo do ya kai soorton me sirf aik hi insaan bardaasht krta hy....
Talaq k zimn me buht kuch kaha jata hy....shreef or sfaid.posh gharaney jo talaq maangney ka sochna b kufr samajhtey hein...is wja sy bhi zair.eitaab aa jaty hein k larkey waly jantey hein k larki her haal me her baat bardasht kry gi....
mama_shalla آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-04-11, 12:48 AM   #10
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
کمائي: 8,099
شکریہ: 1,347
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Cool

Sirf kufu ki shrait hi poori kr li jaen to buht c qabahaton sy bcha ja skta hy....hmarey haan rishton ki chaan been krna b bura samjha jata hy....or is ko chota.pan samjha jata hy....jis k awaqib tmam umr wo do ya kai soorton me sirf aik hi insaan bardaasht krta hy....
Talaq k zimn me buht kuch kaha jata hy....shreef or sfaid.posh gharaney jo talaq maangney ka sochna b kufr samajhtey hein...is wja sy bhi zair.eitaab aa jaty hein k larkey waly jantey hein k larki her haal me her baat bardasht kry gi....
mama_shalla آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-04-11, 09:20 AM   #11
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
Sirf kufu ki shrait hi poori kr li jaen to buht c qabahaton sy bcha ja skta hy
بالکل درست کہا آپ نے
اسلام کی تعلیمات سراپا رحمت ہیں، زندگی کو پرسکون اور آسان ترین بنا دیتی ہیں، لیکن بد قسمتی سے ہم ان پر عمل کرنے کو ترجیح ہی نہیں دیتے اور اپنے سر طرح طرح کی مصیبتیں لے لیتے ہیں۔
’’کفو‘‘ کی شرط کو اگر پورا کیا جائے تو بہت سے مسائل سلجھ سکتے ہیں۔ باقی کسر اس طرح پوری کی جا سکتی ہے کہ دین داری کو ترجیح دی جائے۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
حیدر (07-04-11), حیدر Rehan (07-04-11)
پرانا 07-04-11, 10:34 AM   #12
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
’’کفو‘‘ کی شرط کو اگر پورا کیا جائے تو بہت سے مسائل سلجھ سکتے ہیں
پھر تو جہیز مانگنا بھی "کفو" کی ہی ایک کڑی بنتا ہے کہ اس میں معلوم ہو جاتا ہے کہ اگلا فریق "کفو" ہے کہ نہیں۔ میرا خیال ہے کہ باقی تمام فرائض کو چھو کر "کفو" کی سنت کو پورا کرنا زیادتی ہے۔ پہلے تقویٰ پھر کفو۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 07-04-11, 10:39 AM   #13
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کفو پہلے اور دین داری بعد میں والا مسئلہ کس حد تک ہمارے معاشرے کو متاثر کر رہا ہے اس کا اندازہ خود ہماری مثال سے لگایا جا اسکتا ہے۔اس مثال سے یہ بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ دوسری معاشرت میں رہنے کے کیا مسائل ہوتے ہیں

مجھ سے بڑے بھائی کے لیے جب رشتہ کی تلاش ہو رہی تھی تو ایک گھرانہ جس میں ماشا اللہ سے بیٹیوں کی نعمت آپ کی بیان کردہ بات کے مطابق تھی۔ جب ان سے رشتہ مانگا تو یہ جواب ملا کہ ’’ اب ہماری بیٹیوں کے لیے بلوچ ہی رہ گئے ہیں‘‘۔ اُس بلوچ کی تو خیر شادی ہو گئی لیکن وہ لوگ جو "کفو" دیکھ رہے تھے اب تک بیٹیوں کو گھر میں بٹھائے ہوئے ہیں۔
کفو بہتر ہوتا ہے لیکن لازم نہیں۔ میرے خیال میں پہلے دین داری اور پھر جو کسر رہ جائے وہ کفو سے پوری کرنی چاہیے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
حیدر Rehan (07-04-11), عبداللہ آدم (08-04-11)
پرانا 07-04-11, 11:48 AM   #14
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
پھر تو جہیز مانگنا بھی "کفو" کی ہی ایک کڑی بنتا ہے کہ اس میں معلوم ہو جاتا ہے کہ اگلا فریق "کفو" ہے کہ نہیں۔ میرا خیال ہے کہ باقی تمام فرائض کو چھو کر "کفو" کی سنت کو پورا کرنا زیادتی ہے۔ پہلے تقویٰ پھر کفو۔
بھائی کفو مانگنے کر آزمانے والی شرط نہیں ہے
اس میں جو جو چیزیں ہیں وہ ویسے ہی سامنے ہوتی ہیں اور ہر دیدہ بینا رکھنے والا دیکھ سکتا ہے۔
اور تقوی کو یقینا پہلی ترجیح دینی چاہئے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-04-11, 12:17 AM   #15
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
کمائي: 8,099
شکریہ: 1,347
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Cool

کفو بہتر ہوتا ہے لیکن لازم نہیں۔ میرے خیال میں پہلے دین داری اور پھر جو کسر رہ جائے وہ کفو سے پوری کرنی چاہیے۔[/QUOTE]


Kuch arsa ho gya hy...kufu k bary mein parha tha...mjy jo concept samajh aya tha wo ye k....kufu ka matlab hota hy mutabiqat ya compatibility....aasaan lfzon mein .....aapas mein match hona....
Or ye mutabiqat ya match 5 ya 6 baaton mein zair-ghor lani chahiye....jin mein...shakl o soorat...aqal....taleem....maali haisiyat....khandani martaba...deendari....
To deen.dari mein fareeqain ka hum.palla hona bhi kufu hi ki aik shiq hy....
Hmary thread mein is hwaly sy ye baat ho rhi hy k shadi k waqt jahaiz dena larki ka haq hy....ya virasat mein sy hissa dena....
Or meeraas me sy hissa na diya jana orat ki haq.talfi hy....
To rishton ki bunyaad jahaiz ki istata'at ki bjaaey kufu hony pe munhasir honi chahiye....lekin meeraas mein sy orat ka haq ada na krna ghalat baat hy.....
mama_shalla آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
گھر, گئی, پاک, یا, لوگ, نام, موبائل, ماں, محبت, مطابق, آج, امتحان, اسلام, بے, ثبوت, حصہ, خدا, دی, رات, شخص, طور, عورت, علاقہ, عزيز, صاف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہمارے حکمران اور عوام؛ ڈاکٹر عبدالقدیرخان گلاب خان اپکے کالم 0 17-12-10 01:42 AM
عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی جاویداسد خبریں 2 21-09-10 08:12 PM
الطاف بھائی کا مارشل لاء کا مطالبہ اور عوام کی سوچ ۔ کیاعوام سیاستدانوں سے اکتا گئے ؟ جاویداسد خبریں 1 24-08-10 11:23 PM
عوج بن عوج کی عمر کتنی تھی؟ عرفان حیدر آئیے ذہانت آزمائیے 24 14-04-09 02:40 PM
’عوامی نمائندے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں‘ چاچا کمال خبریں 1 07-04-08 06:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:58 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger