واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


غصہ اور دکھ....... چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-03-11, 12:08 PM   #1
غصہ اور دکھ....... چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 23-03-11, 12:08 PM

دو دن ہو گئے قرآن کو جلے ہوئے اور ہم......................

2006 سے 2001 تک............حرمت رسول کے نام پر دھوں دار تقریریں مس کر گھر جانے کی طرح............اب جانے کتنے ہی مہینے قرآن کی حرمت کے نام پر اپنی گدیاں جمانے والوں کی مجلسیں سجانے کے بعد اپنے گھروں میں کواب خرگوش لوٹتے رہیں گے................

تف ہے ایسی زندگی پر..................

کاش اج کا دن دیکھنے کے لیے میں کم از کم زندہ نہ ہوتا.......................اللہ مجھے ایمان والی موت دے کر اٹھا لیتا...............

کیا کیا ہے پچھلے 5 سالوں میں حرمت رسول اور حرمت قرآں کے نام پر کروڑوں روپے احتجاجی مظاہروں میں اڑا دینے والوں نے؟؟؟

ان سے تو گلہ ہی کیا کرنا جنہوں نے آج تک یہ نعرہ لگایا ہی نہیں ................. دکھ،غصہ اور تکلیف تو ان پر ہے جنہوں نے برے بڑے دعوے لیے لیکن کیا کچھ نہیں!!!

حرمت رسول کی سزا صرف موت ثابت کرنے پر تو ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن............. ایک بھی سنجیدہ کوشش کی کہ ان کتوں کو اس روئے زمین پر نہ چھوڑا جائے جو رجنوں مرتبہ میرے آقا کے کارٹون بڑئے فخر سے چھاپ چکے ہیں؟؟؟ کیوں آخر کیوں؟؟؟ کیا مظاہرے ہی حرمت رسول کاحق ادا کر دیتے ہیں ؟؟... آج بھی تحریک حرمت رسول نے بڑی تمکنت سے ایک مرتبہ پھر مظاہروں کا علان کیا ہے.........کیا مذاق ہے یہ.....

آج تیسرا دن ہے قرآن کو جلے ہوئے............ اور یہ لوگ اگلے تین سال بھی یہی کچھ کرنے میں گزار دیں گے................ کوئی افسوس سا افسوس ہے کوئی غصتے کی انتہا ہے جو ان بہروپیوں پر مجھے آ رہا ہے............. جب تم کچھ کر نہیں سکتے تو عوام کو جذباتی کیوں کرتے ہو......... عامر چیمہ ایک تھا نا.......... دنیا نے دیکھا کی اپنی سی کر گزرا!!

اور یہ بات کون نہیں جانتا کہ اس ملک میں اسلامی تحریکوں کے ترکش میں ایسے ایسے تیر پائے جاتے ہیں کہ دنیا کے کسی کونے میں انہیں حکم دیا جائے تو اوہ جان کی بازی لگا کر اسے پورا کرتے ہیں...... جہاد کا ایک پورا کلچر اور فنامنا یہاں نمو پاتا رہا ہے اور اب بھی موجود ہے.......... یہ سب کچھ کیا ڈھول بجانے کے لیے ہے؟؟؟


اس سے آگے کون سا مقام آئے گا جب عملی اقدامات کیے جائیں گے؟؟؟ کشمیر وافغآن میں جہاد کی صدائیں بلند کرنے والے قرآں سے کوئی تعلق رکھتے ہیں کیا؟؟؟ نبی سے کوئی رشتہ ہے ان کاِ؟؟ پھر نبی اور قرآن کے دشمن اس زمین کے اوپر کیوں دندنا رہے ہیں؟؟؟

کہاں ہیں القائدہ اور طالبان؟؟؟؟ کہاں ہیں لشکر طیبہ جیش محمد حزب المجاھدیں البدر اور لا تعدار ٹکڑوں میں بٹے مجاھد گروہ؟؟؟

لعنت ہے ایسی مصلحتوں پر......................ایسی حکمت عملیوں پر جو ہمارے سامنے 5 سال تک نبی کی حرمت اور اب قرآن کا تقدس پامال ہوتے دیکھتی رہے لیکن عمل کی طرف کوئی قد م نہ اٹھانے دے.

شاید غلطی اپنی ھی ہے.............. اتنی بڑی بڑی امیدیں لگانی ہی نہیں چاہیں .....!!!

بہت سوں کو ہمیشہ کی طرح میری زبان تلخ لگے گی لیکن کوئی بتلائے کہ کیا یہ سب کچھ غلط ہے؟؟؟
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 226
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-03-11), موجو (23-03-11), طاھر (24-03-11)
پرانا 23-03-11, 01:11 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلامُ علیکم

ابھی تو آپکی زُبان تلخ ہوئی ہے وہ دن دُور نہیں جب ہماری خاموشی سے ہمارے زندگی تلخ ہوجائے گی۔ میں نے آج تک نہیں سُنا کہ کسی مُسلمان نے ایسی کوئی حرکت کی ہو جس سے دیگرمذاہب والوں کو تکلیف پہنچیں لیکن وہ لوگ کس شانِ بے نیازی سے یہ گھناونا کام کرتے ہیں کہ ہم دو دن احتجاج کرکے پھر آرام سے گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں۔

گر آج نہ اُٹھائی آواز تو جان لینا اے لوگو!
وہ آوازپھرنہ اُٹھا سکوگے جودل تک پہنچے

حرمت رسول کی سزا صرف موت ثابت کرنے پر تو ایڑی چوٹی کا زور لگایاجاتا ہے لیکن اب تک ایک بھی سنجیدہ کوشش کی کہ انکو ان حرکات سے باز رکھا جائے۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی پھرسرورکائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کارٹون نہ صرف فخر سے بنائے بلکہ انکوباقاعدہ چھاپا گیالیکن ہم خاموش رہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دُشمن، اسلام کے دُشمن فخر سے نہ صرف دندناتے پھر رہے ہیں بلکہ وقتاً فوقتاً اپنے ناپاک عزائم کو سامنے لاتے ہیں۔ ہماری یہ خاموشی ہماری کمزوری کو ظاہرکرتی ہے کہ ہم آج اتنے کمزورہو چُکے ہیں کہ عملاً کچھ نہیں کر سکتے۔ درحقیقت کرنے کو ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن اُس کیلئے عزم چاہئے، حوصلہ چاہئے تاکہ ان جیسوں کوبتا سکیں انکامُنہ توڑ جواب دے سکیں۔

حق و باطل جان کر بھی گر مُسلمان خاموش ہو رہا
وہ مُسلمان انسان کیا جو زندہ رہ کر بھی بیہوش رہا
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-03-11), عبداللہ آدم (23-03-11)
پرانا 23-03-11, 01:18 PM   #3
Senior Member
 
موجو's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 436
کمائي: 9,696
شکریہ: 1,642
321 مراسلہ میں 944 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم بھائی آپ کے جذبات قابل قدر ہیں۔ اس کے جواب میں ہم کچھ نہیں کرسکتے تو قرآن سے اپنا تعلق مضبوط ضرور کرسکتے ہیں اس میں فی الحال جان جانے کا خطرہ ہ نہیں ہے ہاں جب اس پر عمل کی باری آئے گی تو پھر خطرہ ہے۔ اور یہ لوگ جو یہ کام کررہے ہیں تو جنگ کا حربہ ہے ہم سب جانتے ہیں کہ جنگ میں جہاں ہتھیار ٹکراتے ہیں وہیں ایک دوسرے کی سپلائی لائن بھی کاٹنے کی کوششیں ہوتی ہیں۔ وہیں ذہنی طورپر نقصان پہنچانے کے لیے پروپیگنڈا بھی کیا جاتا ہے افواہیں پھیلائی جاتی ہیں۔ ہمارے دشمنوں کے نزدیک یہ بڑا مؤثر ہتھیار ہے قرآن وہاں جلنے کے جواب میں اپنی دکانیں جلاتے ہیں سارا دن سڑکوں پر اور ٹی وی پر ٹاک شوز میں وقت ضائع کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں جو فائدے وہ حاصل کرنا چاہ رہے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔
اپنے دین سے برگشتہ کرنا
دینی معاملات میں حساسیت کو کم کرنا اور رفتہ رفتہ اس کو ختم کردینا
بے بسی اور غصہ کا احساس دلانا
ہم عوام کے لیے اس کاجواب قرآن اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتے کو مضبوط کرنا ہے جس کا جہاں تک بس چلے وہاں تک اللہ اور اس کے رسول کا پیغام پہنچانا۔
ویسے مجھے یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے اخبارات ان واقعات کو کوریج کیوں دیتے ہیں؟ ان کے اپنے مقاصد ہیں ہیں یا انہی والے ہیں؟
__________________
قولوا لناس حسنا (لوگوں سے اچھی بات کہو(
موجو آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے موجو کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-03-11), عبداللہ آدم (23-03-11)
پرانا 23-03-11, 01:29 PM   #4
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : موجو مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ویسے مجھے یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے اخبارات ان واقعات کو کوریج کیوں دیتے ہیں؟ ان کے اپنے مقاصد ہیں ہیں یا انہی والے ہیں؟
وعلیکم السلام

اخبارات ان واقعات کو کوریج اپنے مُفاد کیلئے دیتے ہیں۔ اگراخبارات ان واقعات کو کوریج نہ دیں تواُن اخبارات کو خریدے گا کون؟ اور کوئی نہ خریدے تو نُقصان کسکاہوگا؟ لہذٰا وہ اپنے فائدے کو سامنے رکھ کر چلتے ہیں اور ان کاموں میں زرد صحافت پیش پیش ہے۔

بات یہی ہے کہ اسطرح عوام اپنے اصل مقصد سے ہٹ جاتی ہیں اورمظاہرے شروع ہو جاتے ہیں جبکہ اِن مظاہروں سے کئی گنا بہترہے کہ ایک ایسی متحد تنظیم تیار کی جائے جوہر طرح کے حالات سے ذہنی طور پر نبردآزما ہونے کیلئے تیار ہو۔ اللہ ہم سب کا حامی ہو۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (24-03-11), shafresha (24-03-11), موجو (23-03-11)
پرانا 24-03-11, 12:58 AM   #5
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
کمائي: 8,100
شکریہ: 1,348
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

احتجاج بھی اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب وہ جن کو متوجہ کرنے کے لئے کیا جارہا ہو وہ نوٹس کریں
وہ تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
آج دشمنانِِِِِ اسلام کو یہ جرات اِس لئے ہوئی کہ وہ صدیوں سے اس کی تیاری کر رہے تھے ۔
مسلمان میں کینہ ہو تو وہ منافق کے زمرے میں شمار ہوتا ہے جبکہ کفر ہر دم حسد اور حقد کا شکار رہتا ہے ۔ اسی حسد کی وجہ سے " مغضوب علیھم" اور "ضالین" ایسے اقدامات کرنے میں مصروف رہتے ہیں جن سے امت ِمسلمہ گمراہ ہو ، خسارے میں جائے ، جگ ہنسائی ہو ، دل آزاری ہو ۔ ۔ ۔
اور ایسا کرنے سے پہلے کفر ہمیشہ مخالف کو زیر کرتا ہے تاکہ اُس کو اپنے کئے کا خمیازہ نہ بھگتنا پڑے ۔
آج کفر ہر طرح مسلمان کی صفوں میں گھس چکا ہے اور ہم مقروض ۔ ۔ ۔ صدائے احتجاج بلند کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔ ۔ ۔
mama_shalla آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے mama_shalla کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-03-11), عبداللہ آدم (24-03-11), عروج (24-03-11)
پرانا 24-03-11, 11:38 PM   #6
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میرا مدعا یہ تھا کہ صدائے احتجاج کافی نہیں ہے............ جو لوگ بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں انہیں عملا بھیہ کچھ تو کرنا چاہیے.............. صرف " لیلیوں" اور جلسوں کے علاوہ!!!
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, کوشش, کلچر, گھر, قرآن, لوگ, نام, موت, ملک, آج, ایمان, اللہ, اتنی, اسلامی, بازی, حکم, دیکھا, دیں, دنیا, زندگی, عوام, عامر, غلطی, غصہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اف اتنا غصہ سیپ بچوں کا تعارف 1 17-03-11 06:20 PM
غصہ کنٹرول کرنے کاطریقہ زارا گپ شپ 8 25-01-11 09:42 PM
غصہ اور برداشت آبی ٹوکول اپکے کالم 27 24-12-10 11:53 AM
دل ٹوٹے ٹوٹے ہو گیا :پرویز مشرف جاویداسد خبریں 11 05-12-10 03:24 PM
مولانا کا غصہ محمد الیاس قہقہے ہی قہقے 0 20-04-08 07:42 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:05 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger