غصہ ایک ایسا اخلاقی مرض ہے کہ اگر فوری اور صحیح علاج نہ کیا گیا تو اس کا اثر باہمی نا اتفاقی ، حسد و کینہ ، بغض و نفرت ، گالی و گلوچ حتی کہ مارپیٹ ، قتل و خونریز ی ، طلاق اور مال و اولاد پر بد دعا کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ، اس لئے اپنے دین و ایمان پر حریص شخص کے لئے ضروری ہے کہ اس مرض کا علاج کرے ۔
واضح رہے کہ سب سے بہتر اور کامیاب وہ علاج ہے جس کی طرف اسلام نے رہنمائی کی ہے ، چنانچہ جب ہم نصوص شرع پر غور کرتے ہیں تو اس مرض کے بہت سے علاج کی طرف ہماری رہنمائی ہوتی ہے ، اختصار کے ساتھ وہ بعض علاج درج ذیل ہیں :
1-
اللہ اور اس کے رسول
کی اطاعت : یعنی ایک مومن یہ سوچے کہ اللہ اور اس کے رسول

نے غصہ آنے پر صبر سے کام لینے اور لوگوں کی غلطی کو معاف کردینے کا حکم دیا ہے ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :
اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے ( سورة فصلت : 34)
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسر قرآن حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ، اس سے مراد غصہ کے وقت صبر کرنا اور برائی کو معاف کرنا ہے ۔ [ صحیح بخاری معلقا ]۔
2- برے نتائج پر غور : غصہ کو پی جانے کا ایک بہترین علاج یہ ہے کہ دینی و دنیوی نتائج پر غور کرے کہ بسا اوقات ایک شخص غصہ میں ایسی بات کر جاتا ہے یا ایسی حرکت کا مرتکب ہوتا ہے جس سے اس کی دنیا و آخرت برباد ہوجاتی ہے ۔
3- ان اسباب سے پرہیز کرے جو غصہ بڑھاتے ہیں
4-
ان ثواب و اجر کو پیش نظر رکھے جو غصہ پی جانے کے عوض حاصل ہوتے ہیں
ا. اللہ و رسول کی محبت : اللہ کے رسول

نے بنو قیس کے ایک شخص سے فرمایا : تمہارے اندر دو ایسی عادتیں ہیں جنہیں اللہ اور اس کےرسول پسند کرتے ہیں ، برد باری اور سنجیدگی ۔ [ صحیح مسلم بروایت ابن عباس ] ۔ بردباری یعنی غصہ کی حالت میں انتقام کی طاقت کے باوجود صبر سے کام لینا ۔
ب. جنت میں داخلہ : ایک صحابی نے سوال کیا اے اللہ کے رسول مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے کہ اس پر عمل کرلوں تو مجھے جنت مل جائے ، آپ

نے فرمایا : غصہ نہ کرو تمہیں جنت میں داخلہ مل جائے گا ۔ [ الطبرانی الاوسط : بروایت ابو داود ] ۔
ت. اللہ کے غضب سے بچاو : ایک شخص نبی

سے سوال کرتا ہے کہ وہ کونسا عمل ہے جو مجھے اللہ کے غضب سے محفوظ رکھے آپ نے فرمایا : تم غصہ نہ کرو [ اللہ تعالی تم پر بھی غصہ نہ ہوگا ] [مسند احمد ]۔
ج. بہت بڑے اجر کا حصول : ارشاد نبوی ہے کہ : اللہ تعالی کے نزدیک غصہ کا گھونٹ پی جانے سے زیادہ اجر والا کوئی اور گھونٹ پینا نہیں ہے ۔ [ ابن ماجہ ]
ح. جنت کی حور : ارشاد نبی

جو شخص انتقام کی قدرت کے باوجود غصہ پی جاتا ہے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس شخص کو تمام مخلوقات کے سامنے بلا کر فرمائے گا کہ آج تم جنت کی جس حور کا انتخاب کرنا چاہو جاکر انتخاب کرلو ۔ [ ابو داود الترمذی ] ۔
5- ذکر الہی : جیسے " اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم " پڑھنا ۔ جیساکہ زیر بحث حدیث میں بیان ہوا ہے ۔
6- جس حالت پرہے اسے بدل دے : نبی

کا ارشاد ہے کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اگر وہ کھڑا ہوتو بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا ہوتو لیٹ جائے ۔ [ سنن ابو داود ] ۔ اور اگر مناسب سمجھے تو وہ جگہ چھوڑ کر ہٹ جائے ۔
7۔خاموشی : آپ

کا ارشاد ہے : سکھاو ، بشارت سناو اور سختی نہ دکھلاو { یہ بات آپ نے تین بار فرمائی } پھر دوبارہ فرمایا : اگر کسی کو غصہ آئے تو وہ خاموش ہوجائے ۔ [ مسند احمد ] ۔