واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


فرانس کے لبرل طالبان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-01-10, 09:26 PM   #1
فرانس کے لبرل طالبان
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 28-01-10, 09:26 PM

فرانس میں ان عورتوں پر پابندی لگانے کی تجویز ہے جن کی تعداد ساڑھے چھ کروڑ کی آبادی میں صرف انیس سو ہے اور جو اپنی پسند کا لباس پہننے پر اصرار کرتی ہیں۔

پابندی لگانے والوں کو بھی ان کے سارے لباس پر نہیں صرف ان کے نقاب پر اعتراض ہے اور ان کا کہنا ہے کہ چہرہ چھپانا درست نہیں ہے۔

فرانس کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے یہ تجویز دی ہے کہ ہسپتالوں، سکولوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں نقاب پر پابندی لگا دی جائے اور جو اس پابندی کی خلاف ورزی کرے اس کے لیے فرانس میں رہائش اور شہریت کا حق ختم کر دیا جائے۔

بات ان انیس سو خواتین کی نہیں ہے جو چہرہ ڈھانپنے کو اپنی بنیادی آزادی اور لباس کا حصہ ہے۔

یہ پابندی کب لگے گی اور کیسی ہو گی یہ تو الگ بات ہے لیکن یہ بات ضرور ہے کہ فرانس ان انیس سو عورتوں کو یہ احساس دلانے میں ناکام رہا ہے کہ وہ چہرے پر نقاب ڈالے بغیر بھی اتنی ہی محفوظ ہیں جتنی کے وہ نقاب ڈال کر ہو سکتی ہیں۔

مزید یہ کہ حکومت مداخلت بے جا ہےکیونکہ مداخلت وہاں ہونی چاہیے جہاں مدد مانگی جائے۔

کہا یہ جا رہا ہے کہ مرد عورتوں کو نقاب ڈالنے یا پردہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ مگر اب تک ایک بھی عورت نے یہ شکایت نہیں کی۔


ایران اور افغانستان میں جو کام اسلام کے نام پر ہوا وہ فرانس میں ثقافت کے نام پر کیا جا رہا ہے

جب افغانستان میں طالبان نے عورتوں پر پابندیاں لگائیں تو اس کے خلاف پہلی آواز خود افغان عورتوں نے اٹھائی۔ بعد میں جب افغانستان پر امریکہ نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر حملہ کیا تو اسباب میں ایک سبب یہ بھی تھا۔

یہی صورت ایران میں ہوئی، حجاب اور چادر کے لیے حکومت کے دباؤ کے خلاف پہلا احتجاج ان عورتوں اور لڑکیوں نے ہی کیا جنہیں حجاب اور چادر پر مجبور کیا جا رہا تھا۔

اس میں سعودی عرب کا نام بھی آتا ہے۔ وہاں عورتوں نے اب تک خود پر ہونے والی مبینہ زیادتیوں کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی کہا جا سکتا ہے کہ وہاں زیادتی اس حد تک ہے کہ کوئی آواز تک نہیں اٹھاتا لیک تا حال یہ ایک مفروضہ ہی ہو گا۔

حجاب کے بعد نقاب کے معاملے پر فرانس میں ایک بار وہی صورتِ حال ہے جو افغانستان میں طالبان نے اور ایران میں آیت اللہ خمینی کے پیروکاروں نے پیدا کی۔

میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ نقاب اتروانے کے لیے ریاستی طاقت کا استعمال کرنے والوں کو برقعہ، چادر اور حجاب پہنانے کے لیے طاقت استعمال کرنے والوں سے الگ کیسے کیا جائے۔ وہ اگر اسلام کے نام پر کچھ کرتے ہیں تو یہ ثقافت کے نام پر کر رہے ہیں۔ وہ اگر اسلامی شدت پسند ہیں تو یہ لبرل شدت پسند۔

ظاہر ہے ہم اس پر کچھ نہیں کر سکتے لیکن فرانس کے زوال اور انفرادی آزادی کی موت پر گریہ تو کر ہی سکتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــ
بی بی سی-

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 148
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (28-01-10), سحر (28-01-10)
پرانا 28-01-10, 10:50 PM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہاں جی ہم کچھ کر تو نہیں سکتے لیکن اپنا احتجاج ضرور ریکارڈ کرواسکتے ہیں

آزادی اظہار کے علم برداروں کا اصل اور گھناؤنا چہرہ یہی ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (28-01-10)
جواب

Tags
پہلی, پسند, نام, موت, آبادی, آزادی, اللہ, امریکہ, اتنی, احتجاج, اسلام, اسلامی, استعمال, بے, تجویز, جائے, حال, حصہ, خواتین, خود, خلاف, طالبان, عورتوں, عرب, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:06 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger