| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 492
|
||||
| 2 قاری/قارئین نے الجیلانی کا شکریہ ادا کیا | سیپ (31-10-11), شمشاد احمد (30-10-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
جیسے آپ اپنے بچوں سے ہی پیارکرتے ہیں، ان کی بھلائی کے لیے ہی دکھ سکھ جھیلتے ہیں، دوسروں کے بچوں کے لئے کیوں نہیں؟ جب کہ بچے سب کو پیارے لگتے ہیں،،، ِ؟
__________________
سارےسنم مسمارکر، بس اک خداسےپیاکر
رکھ کرنبی کو سامنے، آرائش کردار کر |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمدمبشرعلی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہندو کو پانی کا فرق کس لحاظ سے بتانا ہے دنیاوی فوائد کے حوالے سے یا اس پانی کے پس منظر کے حوالے سے ۔
اگر دنیاوی فوائد کے اعتبار سے آب زم زم کا فرق عام پانی سے بتانا ہے تو آب زم زم کا فائدہ یہ کہ اس کو پی کر کھانے کی ریکوایرمنٹ بھی پوری ہوجاتی ہے ۔ مطلب آب زم زم انسان کے کافی ہے اس کو پی کر کھانا کھانے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ یہ چیز عام پانی میں نہیں ہے ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کل کو آپ یہ سوال کر دیں گے کہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن ہے اور ہندووں کی رِگ وید دونوں میں کیا فرق ہے۔
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com |
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
دونوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کرالیں متبرک آبِ زم زم ہی ہے جبکہ گنگا جل گندہ اور ناپاک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ناپاکی کا ہندو سوچیں جب وہ گائے کو ماتا کہیں اور اس کا پــــ ۔۔۔ ب بھی متبرک جانتے ہوں
__________________
اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو (جس کی بدولت تمہیں اس کا قُرب حاصل ہو ) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (المائدہ 35) ندامت میں جھکے ہوئے سر سے اطاعت میں جھُکا ہوا سر بہتر ہے
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 10
کمائي: 354
شکریہ: 13
8 مراسلہ میں 21 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| الجیلانی کا شکریہ ادا کیا گیا | شمشاد احمد (30-10-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
لیبارٹری ٹیسٹ سے بڑھ کر عقل کیا تسلیم کرے گی؟؟
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
نقلی دلائل ہندو مان لے گا ؟؟
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبیداللہ عبید کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 10
کمائي: 354
شکریہ: 13
8 مراسلہ میں 21 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| الجیلانی کا شکریہ ادا کیا گیا | شمشاد احمد (30-10-11) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کچھ چیزیں عقلی ہوتی ہیں اور کچھ چیزیں توقیفی
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | شمشاد احمد (30-10-11) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | شمشاد احمد (30-10-11) |
|
|
#12 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن پر جواب دو لفظی نہیں بنتا بلکہ اس پر ہر زاویہ سے اس کے متعلق کچھ پہلوؤں کو بھی بتانا پڑتا ھے، اس سے سوال کرنے والے کو بھلے سمجھ نہ آئے مگر محفل میں کچھ ممبران ضرور آسانی سے سمجھ پاتے ہیں۔ مسلمان کے لئے آب زم زم متبرک ھے، ماننے والا کوئی مسئلہ نہیں۔ ہندو گنگا جمنا پانی کو مانتے ہونگے، اس پر بھی بات کریں گے۔ میرے خیال سے ہندو کو فرق بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، جیسے ہم ہندو کے برتن میں پانی نہیں پیتے ویسے ہی ہندو بھی ہمارے برتن میں پانی نہیں پیتے، اس پر تفصیلی لکھوں تو جواب بہت لمبا ہو جائے گا اس لئے آپکو پانی کے حوالہ سے مزید مختلف ویژن پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا جس پر آپکو بھی کچھ باتوں کا علم ہونا ضروری ھے۔ یہ کہنا کہ دونوں پانی ہیں تو پھر غسل کرنے سے پہلے والا بھی پانی ھے اور غسل کرنے کے بعد والا بھی پانی مگر دونوں پانی پیئے نہیں جا سکتے۔ سیویج میں بہنے والا بھی پانی ہی ھے مگر وہ پیا نہیں جاتا۔ --------------------------------- پہلے ہم آب زم زم پر بات کریں گے۔ یہ مقدس عبارت اسلام کیو۔اے میں کئے گئے ایک سوال کے جواب سے حاصل کی ھے، اس میں وہی حصہ لیا ھے جس کی یہاں ضرورت ھے۔ ذیل میں ہم آپ کے سامنے بیت اللہ کی تعمیر کا قصہ قرآن مجید اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی بیان کرتے ہیں اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے { اور جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے میرے رب تو اس جگہ کو امن و سلامتی والا شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ تعالی اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں پھلوں سے روزیاں عطا فرما ، اللہ تعالی نے فرمایا میں کافروں کو بھی تھوڑا بہت فائدہ دوں گا پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بے بس کر دوں گا اور یہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے ۔ ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کعبہ کی بنیادیں اور دیواريں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ ہمارے پروردگار ! تو ہم سے قبول فرما تو ہی سننے والا جاننے والا ہے ۔ اے ہمارے رب ! ہمیں اپنا مطیع اور فرمانبردار بنالے اور ہماری اولاد میں بھی ایک ایسی جماعت کو اپنی اطاعت گذار رکھ اور ہمیں اپنی عبادت سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما ، تو توبہ قبول کرنے والا اور رحم وکرم کرنے والا ہے ۔ اے ہمارے رب ! ان میں انہیں میں سے ایک ایسا رسول بھیج دے جو ان کے پاس تیری آيتیں پڑھے ، انہیں کتاب وحکمت سکھاۓ اورانہیں پاک کرے یقینا تو غلبہ والا اورحکمت والا ہے } البقرۃ ( 126 تا 129 ) ۔ اور ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے کچھ اس طرح فرمایا { اور جبکہ ہم ابراھیم علیہ السلام کو کعبہ کے مکان کی جگہ مقرر کر دی اس شرط پر کہ میرے گھر کو طواف ، قیام ، رکوع ، اور سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھنا ، اور لوگوں میں حج کی منادی کر دیں لوگ آپ کے پاس پاپیادہ بھی آئيں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پرب ھی وہ دور دراز کی تمام راہوں سے آئيں گے } الحج ( 26 - 27 ) ۔ کعبہ کی تعمیر کا قصہ سنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کچھ اس طرح ہے ، ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما ابراھیم اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہما السلام اور بیوی ھاجر رضي اللہ تعالی عنہ کے قصہ کی روایت بیان کرتے ہيں کہ ابراھیم علیہ السلام نے اپنی بیوی ھاجر اور دودھ پیتے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو مکہ میں بیت اللہ کے قریب اور زمزم کے اوپر ایک بڑے سے درخت کے نیچے لا کر چھوڑا اور ان کے پاس ایک پانی کا مشکیزہ اور کھجروں کے تھیلی رکھی جبکہ ان دنوں مکہ میں کوئ بھی نہ تھا اورنہ ہی پانی کا نام ونشان تھا ۔ جب ابراھیم علیہ السلام جانے کے لیے واپس مڑے تو ام اسماعیل ان کے پیچھے گئيں اور کہنے لگی اے ابراھیم آپ ہمیں اس وادی میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں جہاں پر نہ کوئ انسان اور نہ ہی کوئ چيز ہے تو ابراھیم علیہ السلام نے کوئ توجہ نہ دی ھاجر علیہ السلام نے کئ بار ان سے یہ پوچھا اور جب ابراھیم علیہ السلام نے توجہ نہ دی تو وہ کہنے لگيں کیا آپ کو اللہ تعالی نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ؟ تو ابراھیم علیہ السلام نے کہا کہ اللہ تعالی کا حکم یہی ہے ، ھاجر کہنے لگی پھر اللہ تعالی ہمیں ضائع نہيں کرے گا اور واپس اسماعیل علیہ السلام کے پاس آگئيں تو ابراھیم علیہ السلام چل پڑے اورجب گھاٹی کے پاس پہنچے جہاں سے وہ انہیں دیکھ نہیں سکتے تھے تو قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھاۓ اور یہ دعا مانگنے لگے اے ہمارے رب میں نے اپنی اولاد کو بے آب وگياہ وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس چھوڑا ہے ، اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز قائم کریں اور لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور انہيں پھلوں سے رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار ہوں ۔ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ بیٹے کو دودھ پلاتی رہی اور خود وہ پانی اور کھجوریں کھاتی رہی حتی کہ وہ پانی کا مشکیزہ ختم ہو گیا اب وہ بھی پیاس سے نڈھال ہوئيں اور بچہ بھی بھوکا رہنے لگا تو ماں نے دیکھا کہ بیٹا لوٹ پوٹ ہونے لگا ہے تو اسے دیکھا نہ گیا اور وہ سب سے قریبی پہاڑی صفا پر چڑھ دوڑي اور اوپر جاکر دیکھنے لگي کہ آیا کوئ نظر آتا ہے ۔ جب وہاں کوئ نظر نہ آیا تو وہاں سے نیچے اتری اور ایک مشقت کرنے والے کی طرح اپنا ایک پلو اوپر اٹھایا اور دوڑنے لگيں حتی کہ وادی کی دوسری جانب آ کر مروہ پہاڑي چڑھ کر ادھر ادھر دیکھا کہ آیا کوئ شخص نظر آتا ہے جب وہاں بھی کوئ نظر نہ آیا تو پھر صفا پر چڑھ گئيں اور اس طرح سات چکر لگاۓ ۔ ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفا مروہ کے درمیان یہ لوگوں کی سعی ہے اور جب ھاجر علیہا السلام نے مروہ پر دیکھا تو ایک آواز سنی تو اپنے آپ سے کہنے لگیں خاموش ، پھر غور سے سنا تو وہ آواز دوبارہ بھی سنائ دی تو وہ کہنے لگيں کہ تم نے آواز سنی ہے اگر تمہارے پاس کوئ مدد کرنے والا ہے تو انہوں نے اچانک زمزم والی جگہ پر ایک فرشتہ دیکھا جس نے اپنے پر یا ایڑی سے زمین کھو دی اور وہاں سے پانی نکل آیا تو اسماعلیل کی والدہ اسے پھیلنے سے روکنے لگيں اور اس کے ارد گرد مٹی اکٹھی کرنے لگیں اور اس سے مشکیزہ بھرنا شروع کر دیا تو وہ جتنا بھی اس سے لیتیں پانی اور تیزی سے فوارہ کی طرح ابلنا شروع ہو جاتا ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی ام اسماعیل علیہ السلام پررحم کرے اگر وہ زمزم کو اسی طرح چھوڑ دیتی اور اس سے اپنے چلو نہ بھرتیں تو زمزم کا پانی ساری زمین پر پھیل جاتا ، راوی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے زمزم خود بھی پیا اور اپنے بیٹے کو بھی پلایا تو فرشتہ کہنے لگا ڈرو نہیں تم ضائع نہيں ہو گے ، یقینا یہ بچہ اور اس کا باپ اس جگہ پر بیت اللہ کی تعمیر کریں گے اور اللہ تعالی اس کے اہل عیال کو ضائع نہیں کریں گے ، اور بیت اللہ زمین سے اونچا تھا سیلاب اس کی دائیں اوربائيں جانب سے گزر جاتا تھا ۔ اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ اسی حالت میں رہے اور کچھ مدت بعد وہاں سے جرھم قبیلہ کے لوگوں کا گزر ہوا اور انہوں مکہ کی نشیبی جانب پڑاؤ کیا اور وہاں پر ایک پرندہ دیکھا جو کہ فضامیں چکر لگا رہا تھا وہ آپس میں کہنے لگے یہ پرندہ تو پانی پر چکر لگاتا ہے اور اتنی مدت ہو گئ ہم یہاں سے گزرتے ہیں اور اس وادی میں پانی نہیں ہے لھذا انہوں نے ایک یا دو شخص روانہ کیے کہ وہ معاملہ کی خبر لائيں تو انہوں وہاں پانی دیکھا تو وہ وہاں آۓ تو اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کو پانی کے پاس موجود پایا وہ آ کر کہنے لگے کیا آپ کی اجازت ہے کہ ہم یہاں پر پڑاؤ کر لیں تو انہوں نے اجازت دی اور کہنے لگیں کہ پانی پر تمہارا کوئ حق نہیں ہو گا ، انہوں نے اس پر اتفاق کر لیا کہ ٹھیک ہے پانی پر ہمارا کوئ حق نہیں ۔ ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اسماعیل علیہ السلام کی والدہ جو کہ ایک مدت سے اکیلی رہ رہی تھی انسانوں سے الفت پیدا ہو چکی تھی وہ پالی جرھم قبیلہ نے وہاں پر پڑاؤ کیا اور اپنے گھر والوں کو بھی بلا لیا تو وہ بھی وہیں ان کے ساتھ رہنے لگے حتی کہ وہ اکٹھے رہنے لگے اور اسماعیل علیہ السلام جوان ہو گئے اور ان سے عربی زبان بھی سیکھ لی ، جب اسماعیل علیہ السلام جوان ہوۓ تو قبیلہ جرھم کو بہت اچھے لگنے لگے اس طرح انہوں نے اپنے قبیلہ کی ایک عورت سے ان کی شادی کر دی اس کے بعد اسماعیل علیہ السلام کی والدہ فوت ہو گئيں اور اسماعیل علیہ السلام کی شادی کر لینے کے بعد ابراھیم علیہ السلام اپنے ان چھوڑے ہوۓ اہل وعیال کا پتہ کرنے کے لیے آۓ ۔۔۔ پھر اس کے بعد ابراھیم علیہ السلام دوبارہ مکہ آۓ تو زمزم کے قریب ایک بڑے درخت کے پاس اسماعیل علیہ السلام اپنی کمان صحیح کر رہے تھے جب انہوں نے ابراھیم علیہ السلام کو دیکھا تو جس طرح باپ بیٹے اور بیٹا باپ کو ملتا ہے ملے پھر ابراھیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو کہنے لگے اے اسماعیل مجھے میرے رب نے ایک حکم دیا ہے جواب میں اسماعیل علیہ السلام کہنے لگے آپ کے رب نے جو حکم دیا ہے اسے پر عمل کریں ابراھیم علیہ السلام نے کہا کیا تو بھی اس میں میرا تعاون کرے گا اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا میں بھی آپ کا مکمل تعاون کروں گا ۔ ابراھیم علیہ السلام نے اونچی جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا کہ اللہ تعالی نے حکم دیا ہے کہ ہم یہاں پر بیت اللہ تعمیر کریں ، راوی بیان کرتے ہیں کہ اس وقت ابراھیم اور اسماعیل علیہما السلام نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھائيں اسماعیل علیہ السلام پتھر پکڑاتے اور ابراھیم علیہ السلام اس کی تعمیر کرتے حتی کہ دیواریں جب اونچی ہو گئيں تو یہ پتھر لایا گيا اور ابراھیم علیہ السلام اس پتھر پر کھڑے ہو کر دیواریں بناتے اور اسماعیل علیہ السلام پتھر پکڑاتے جاتے اور ساتھ ساتھ یہ دعا بھی کرتے جارہے تھے : اے ہمارے رب ہم سے قبول فرما بلاشبہ تو سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ دیواریں بناتے گۓ اور بیت اللہ کے ارد گرد چکر لگاتے ہوۓ یہ کہہ رہ رہے تھے : اے ہمارے رب ہمارا یہ عمل قبول فرما بلاشبہ تو سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3113 ) ۔ واللہ اعلم . الشیخ محمد صالح المنجد ------------------------- یہ خبر و تحقیق پرانی ھے مزید معلومات کے اٹیچ کر رہا ہوں ![]() ------------------------- گنگا یمنا پانی پر اگلے مراسلہ میں پیش کریں گے۔
__________________
|
|
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (03-11-11), ننھا بچہ (29-10-11), محمد عاصم (29-10-11), الجیلانی (30-10-11), احمد نذیر (31-10-11), بنت حوا (29-10-11), راجہ اکرام (29-10-11), رضی (29-10-11), سیپ (31-10-11), شمشاد احمد (30-10-11) |
| کمائي نے کنعان کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 31-10-11 | سیپ | very nice reply | 1 |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,139
کمائي: 12,572
شکریہ: 3,450
702 مراسلہ میں 1,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی تحریر ہے کنعان بھیا ۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے بنت حوا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
کنعان صاحب نے کافی بہتر جواب دیا ہے، اب صرف اتنا کہ
ہندؤں کا عقیدہ ہے کہ اس پانی میں نہانے سے پاپی سے پاپی بندہ بھی پاک ہوجاتا ہے، جبکہ اسلام میں ایسا عقیدہ آب زمزم سے منسوب نہیں ہے۔ بلکہ اس پانی میں ایسی تاثیر موجود ہے جو بیماروں کو شفاء دیتی ہے اور بھوکوں کو توانائی، گنگا جمنا کا پانی گندہ اور بعض جگہ پر بدبودار ہوتا ہے، جبکہ آب زمزم صاف شفاف اور خوشذائقہ ہوتا ہے۔ گنگا جمنا کا پانی بارش اور پہاڑوں پر پڑی برف کا ہوتا ہے اور جبکہ آب زمزم زمین کی گہرائیوں سے نکلتا ہے۔ اس بات کی تصدیق کافر لوگ بھی کرتے ہیں جیسا کہ کعنان صاحب نے ایک جاپانی سائنسدان کی تحقیقی رپورٹ لگائی ہے۔ تو کیا کوئی ایسی رپورٹ گنگا جمنا کے پانی کی پیش کرسکتا ہے؟ قیامت تک نہیں اور بھی کافی باتیں ہیں ان دونوں میں فرق کو واضح کرنے والی
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() گنگا یمنا کا پانی کیا ھے اوپر دی گئی تصاویر سے سمجھتے ہیں، بنگلہ دیش سمندر سائٹ سے جو پانی دریاؤں میں بہتا ھے ان دریاؤں کا نٹ ورک انڈیا میں بھی پھیلا ہوا ھے۔ دریاؤں کا نٹ ورکس جہاں سے بھی گزرتا ھے وہاں اس پر ان کو نام دئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اسی طرح اس نٹ ورکس کے ایک مقام سے دو الگ الگ روٹس ہیں جس میں سے ایک کا نام گنگا اور دوسرے کا نام یمنا ھے۔ دریا بنگال ہو، گنگا، یمنا، راوی، ستلج ، پنج آب، چناب یا راوی ہو سب دریاؤں کا پانی صاف ہوتا ھے، وضو ، غسل اور پینے کے قابل ہوتا ھے، میرے رائے کے مطابق دریا کا پانی کا مقابلہ تو گھر سے پانی سے بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ گھروں کے پانی کو سمندر، دریاؤں اور نامعلوم مقام سے ڈیسٹیلیشن پلانٹس کے ذریعے صاف شفاف کر کے گھروں میں ڈسٹریبیوٹ کیا جاتا ھے اور ضرورت پڑنے پر آرٹیفیشل انگریڈیئنٹ بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ اب بھی ایسے غیر ترقی یافتہ علاقے ہیں جہاں سے دریا بہتے ہیں اور حکومت کی طرف سے ڈسٹیلیشن پلانٹ سسٹم نہیں تو وہاں پر دریاؤں کے قریب رہنے والے لوگ دریائی پانی ہی استعمال کرتے ہیں۔ گنگا یمنا دریاؤں کے ساتھ اگر انڈیا کے کوئی مذھبی کنکشن ھے تو وہ ان کا ذاتی معاملہ ھے مگر اس کا مقدس ہونا کہیں سے بھی ثابت نہیں۔ خوامخواہ کی ضد پکڑ لیں تو بھی کوئی ثابت نہیں کر سکتا۔ دریا کا پانی ھے کہاں سے چل رہا ھے اور سب دریاؤں کا پانی کا ذائقہ بھی ایک جیسا ہی ہوتا ھے۔ پانی دو عنصر کا مجموعہ ھے ہائیڈروجن اور آکسیجن اس میں ہائیڈروجن کے دو مالکیول ہوتے ہیں اور آکسیجن کا ایک مالکیول ہوتا ھے۔ H2O اسے سائنسی طریقہ سے پلانٹ کی مدد سے بھی حاصل کیا جا سکتا ھے۔ ![]() ڈسٹلڈ واٹر مالیکیول ![]() ڈیڈ واٹر مالیکیول آب زم زم کا مالیکیول بھی پہلے مراسلہ میں دیکھ لیں فرق کیا ھے اندازہ خود ہی کر لیں۔ اب اجازت دیں |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| size, ہیں؟, ہیں،, ہندو, فرق, کیسے, گنگا, پیارے, پانی, لگتے, مانتا, مسلمان, اپنے, بھلائی, بیان, بچوں, بچے, جیسے, جانتا, جبکہ, دکھ, دونوں, دوسروں, زم, سکھ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|