| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 180
|
||||
| 8 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | مفتی (11-10-11), ملک اظہر (12-10-11), ملک زوالفقار (11-10-11), محمدخلیل (10-10-11), محمدعدنان (10-10-11), اجمل (10-10-11), حیدر (10-10-11), راجہ اکرام (10-10-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ
سوال : آپ نے جو آیات پیش کی ہیں ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے کی سزا کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے ۔ الجواب : میرے بھائی اگر قرآن سے ثبوت سے آپکی مراد یہ ہے کہ ہر شئے امر اور واقعہ کا قرآن میں صریحا بیان ہو تو میں معذرت خواہ اس طرح سے تو آدھے سے زیادہ اسلام سے ہم فقط قرآن کے نام پر ہی ہاتھ دھو بیٹھیں گے سو معاف کیجئے گا میں آپکی یہ خواہش کبھی بھی پوری نہ کرسکوں گا کیونکہ آپکو جو ثبوت قرآن سے جس طریقہ سے درکار ہے اور جس طرح سے درکار ہے خود یہ ثبوت آپکو قرآن بھی نہیں دے سکتا وگرنہ ثابت کرنے کو یہاں کیا نہیں کیا جاسکتا ؟؟؟؟؟میرے بھائی میرے اوپر والے مراسلہ پر اگر آپ نے غور کیا ہوتا تو میں نے عرض کردیا تھا کہ دین اسلام میں تمام کے تمام قوانین اللہ ہی کے بنائے ہوئے ہیں مگر بعض کا بیان قرآن و سنت میں بہت واضح ہے اور بعض کے لیے خود اسی قرآن و سنت کے اصولوں کے تحت اخذ و استنباط کے مختلف مراحل ہیں۔ اور ان میں اگر اختلاف کی گنجائش ہے تو اس کا تعلق اخذ و استنباط کے مراحل میں فقط فہم انسانی کے اعتبار سے ہے لہذا قرآن و سنت سے تمام تر قوانین فقط محکمات کی بنیاد پر نہیں اخذ کیئے جاتے بلکہ مختلف اصول ضوابط کی تحت اخذ کیئے جاتے ہیں اور وہ اصول ضوابط بھی خود قرآن و سنت سے ہی ماخوذ ہیں لہذا قرآنی اَحکام کا بیان و اِستنباط کہیں ’عبارۃُ النّص‘ سے ہوتا ہے اور کہیں ’اِشارۃُ النّص‘ سے، کہیں ’دلالۃُ النّص‘ سے ہوتا ہے اور کہیں ’اِقتضاء النّص‘ سے۔ کہیں اُس کا انداز ’حقیقت‘ ہے، کہیں ’مجاز‘، کہیں ’صریح‘ ہے، اور کہیں ’کنایہ‘۔ کہیں ’ظاہر‘ ہے، کہیں ’خفی‘، کہیں ’مجمل‘ ہے، اور کہیں ’مفسر‘۔ کہیں ’مطلق‘ ہے، کہیں ’مقید‘، کہیں ’عام‘ ہے اور کہیں ’خاص‘۔ اَلغرض قرآنی تعلیمات مختلف صورتوں اور طریقوں میں موجود ہیں۔ اُن میں اصل اَحکام (substantive laws) بھی ہیں اور ضابطہ جاتی اَحکام (procedural laws) بھی چنانچہ یہی وجہ ہے کہ فقہائے اِسلام نے تمام شعبہ ہائے حیات سے متعلق قوانین اور اُصول و ضوابط کا اِستخراج اصلاً قرآن ہی سے کیا ہے۔ سوال:آیات مذکورہ کا تعلق معاشرے میں بگاڑ سے ہے نہ کہ شخصی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اپنی ذات کے قصور تھے وہ سب معاف فرمادیئے تھے ۔ جہاں بات نظام کی تھی تو وہاں جہاد کیا تھا؟ الجواب : یہ بھی خوب کہی کہ ان آیات کا تعلق معاشرتی بگاڑ سے نہ کہ شخصی بگاڑ سے پہلے تو آپکا ان آیات کے ضمن میں معاشرتی اورشخصی بگاڑ کی تقسیم کرنا ہی مضحکہ خیز ہے اور دوسرے کیا آپ مجھے یہ بتلا سکتے ہیں کہ کس طرح کسی مسلمان اکثریتی یا اقلیتی معاشرے میں کوئی شخص توہین رسالت کا مرتکب ہوکر بھی معاشرے کو بگاڑ یا فساد فی الارض سے بچا سکے گا دوسرے لفظوں میں ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کسی معاشرے میں پیغبر اسلام کی توہین کہ باوجود بھی وہ معاشرہ کس طرح سے فساد فی الارض سے محفوظ رہ سکتا ہے اور ایسا کرنا دنیا کہ کس قانون کہ تحت فساد فی الارض کہ زمرہ میں نہیں آئے گا کیا آیا آپ کسی بھی معاشرے میں لوگوں کہ مذہبی جذبات کو مجروع کرکے یہ اس معاشرے میں امن و امان کہ داعی بن سکتے ہیں ؟؟؟؟' جہان تک بات ہے پیغمبر کہ خود اپنے ذاتی دشمنوں اور دشنام طرازوں کو معاف کردینے کی تو اس بات کا حق فقط ان کو ہی تھا ان کی ظاہری حیات طیبہ کے بعد امت میں سے کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کو خود سے معاف کردے بالکل اسی طرح کہ جس طرح بہت سے قوانین میں مدعی کو حق ہوتا ہے کہ وہ انصاف طلب کرے یا معاف کردے مگر کسی اور کو نہیں بلکہ پیغمبر کے لیے تو امتیوں پر اور بھی ذیادہ حق ہے بلکہ یہ پیغمبر کا حق ہے کہ ا سکے امتی اس کے حق کے لیے لڑیں۔ سوال: اس قانون میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس بات کا تعین نہیں کیا گیا کہ توہین رسالت آخر ہوتی کیا چیز ہے ۔ اور اس کا تعین کیا بھی نہیں جاسکتا - آپ کے خیال میں کسی کی طرف پاوں کر کے بیٹھنا بے ادبی ہے تو میں اسے کچھ بھی نہیں سمجھتا۔۔۔ الجواب : میرے بھائی توہین کا ادنٰی سا مطلب ہے ۔ ۔ حقارت ۔ توہین ۔ ذلت یعنی کسی کی تحقیر کرنا جسے انگریزی میں contempt کہتے ہیں ۔جہاں تک معاملہ ہے آداب اور بے ادبی کا تو عرض ہے کہ بے ادبی اور توہین میں لطیف سا فرق ہے ہر بے ادبی توہین نہیں ہواکرتی جبکہ ہر توہین بے ادبی بلاشبہ ہوتی ہے اور جہاں تک بات ہے میرے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو وہاں تو اللہ پاک نے بے ادبی کو بھی گستاخی گردانا ہے اور سخت وعید فرمائی چہ جائیکہ آپ توہین کی بات کرتے ہیں ؟ ہر معاملے میں قرآن قرآن کی رٹ لگانے والوں کو قرآن میں آداب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نظر نہیں آتے کہ کس طرح سے اللہ پاک مومنوں کو آداب رسول سکھلاتا ہے اور پھر اس پر تنبیہ کرتا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو اعمال کی ضبطگی کا مژدہ سناتا ہے یاد رہے اعمال کی ضبطگی تب ہی ہوتی ہے جب کفر لازم آئے ۔ ۔ سنئے قرآن اور سر دھنیئے ۔ ۔ ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۔ (البقرۃ 2: 104) اے ایمان والو! 'راعنا' نہ کہا کرو بلکہ 'انظرنا' کہا کرو اور توجہ سے بات کو سنا کرو۔ یہ انکار کرنے والے تو دردناک سزا کے مستحق ہیں۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے بغض رکھنے والے بعض یہودی اور منافقین آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو ظاہری احترام کو برقرار رکھتے ہوئے بھی ان کی یہ کوشش ہوا کرتی کہ وہ کسی طرح آپ کی شان میں بے ادبی کر سکیں سو وہ آپکی بارگاہ میں " راعنا " جو کہ عرب ڈکشنری میں ایک جائز مگر ذو معنی لفظ تھا کو بگاڑ کر بولتے (یاد رہے کہ اس لفظ کو ذرا لچکا کر بولا جائے تو یہ ایک اہانت آمیز لفظ بن جاتا تھا) اور یوں اس لفظ کا ذو معنوی استعمال کرتے تھے چناچہ بعض مخلص اور جانثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی گفتگو سنتے تو اگر کبھی کوئی بات سمجھ نہ پاتے تو آپ سے رعایت کی درخواست کرتے ہوئے یہی لفظ "راعنا "بول کر بات کو دوہرانے کے لئے عرض کرتے کہ ہماری رعایت کیجیئے مگر یاد رہے کہ ان صحابہ کرام کی نیت ہرگز بے ادبی یا توہین کی نہ ہوتی بلکہ ان کے تو وہم و گمان میں بھی اس لفظ کا ذو معنوی استعمال نہ تھا چناچہ وہ کبھی بھی اس لفظ کو لچکا کر نہ بولتے تھے ۔مگر پھر بھی اللہ پاک نے اہل ایمان کو اس " جائز" لفظ کے استعمال سے ہی روک دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ ایسے موقع پر 'انظرنا' یعنی ہم پر نظر فرمائیے کہہ کر آپ کی توجہ حاصل کریں۔ اور پھر اسی پر بس نہیں فرمایا بلکہ مزید تنبیہ فرماتے ہوئے اللہ پاک نے فرمایا کہ تمہیں ایسی نوبت ہی کیوں پیش آتی ہے کہ تم انظرنا یا راعنا کہہ سکو یعنی تم میرے محبوب کی بارگاہ میں فقط جسمانی طور پر موجود ہوتے ہو مگر توجہ کہیں اور ہوتی ہے خبرادر پہلے سے کان لگا کر سنا کرو تاکہ راعنا یا انظرنا کسی بھی لفظ کہ کہنے نوبت ہی نہ آسکے ۔ ۔ یوں اللہ پاک نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کہ آداب مومنوں کو سکھائے اور اس حکم کو اللہ تعالی نے قرآن مجید ک مستقل حصہ بنا دیا اس سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ پاک اپنے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی عزت و حرمت کے معاملے کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی جو حیثیت اللہ کے نزدیک ہے، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ضروری ہے آپ کی ذات والا صفات کا انتہائی درجے میں ادب و احترام کیا جائے اور کوئی ایسا لفظ نہ بولا جائے اور نہ ہی ایسا عمل کیا جائے جس سے آپ کی شان میں ادنی درجے کی بھی کسی بے ادبی کا شائبہ ہو چہ جائیکہ توہین یا گستاخی تو بہت دور کی بات ہے اسی طرح اللہ پاک نے بے شمار مقامات میں مومنوں کو آداب رسول سے آگاہ کیا کہیں آواز پست رکھنے کا کہہ کر تو کہیں رسول کے پکارنے کو عام انسانوں میں آپسی پکار سے جدا و ممتاز کرکے پکارنے کا کہہ کر ۔ ۔ ۔ ۔ رہ گئی آپ کی بات کہ آپ کو بڑوں کی طرف پاؤں کرکے بیٹھا بے ادبی نہیں لگتی تو میرے بھائی اس میں ہمارا یا قانون توہین رسالت کا کیا قصور ہے جایئے جاکہ کسی عام دیہاتی باشندے جو کہ کسی دور دراز دیہات سے ہو جسکی کوئی ظاہری تعلیم نہ ہو سے ہی اپنے بڑوں کا ادب سیکھئے کہ جو اپنے بڑوں کے ساتھ بھی چار پائی کی پائنتی ہی جانب بیٹھتا ہے اور اگر کہیں بائے دا وئے وہ "سرہانے " کی طرف بھی بیٹھا ہو اور اسکا کوئی بڑا اوپر سے آجائے تو وہ اٹھ کر پائنتی کی جانب خود بیٹھ جاتا ہے اور اپنے بڑے کو دوسری طرف تکیہ کی جانب جگہ دیتا برخلاف آپکے کہ آپ کسی بڑے کی طرف پاؤں کرکے بیٹھنے کو خلاف ادب نہیں سمجھتے ؟؟؟ یاد رہے یہ آپ کی سمجھ کا فرق ہے نہ کہ معیار ادب کا ۔ ۔ ۔ ۔ سوال: اس قانون میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس قانون پر آج تک عمل درامد نہیں ہوسکا ۔ مطلب یہ کہ بندر کے ہاتھ میں ناریل لگ گیا ہے اب سمجھ نہیں آرہی کہ اس کا کیا کرے ۔ الجواب: یہ بھی خوب کہی کہ گویا یہ بھی اس قانون ہی کا قصور ہے کہ اس قانون پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوسکا ؟؟؟؟'' مجھے لوگوں کی سمجھ نہیں آتی اگر جب اس قانون پر عمل ہونے جاتا ہے تو لوگ انسانیت کے نام پر روکنے کے لیے آجاتے ہیں اور اگر کسی وجہ اس قانون پر عمل نہ ہوسکے تو بھی اس پر قانون کو ہی مجرم سمجھنا شروع کردیتے ہیں یعنی نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن ۔ بھائی اگر کسی ریاست میں ریاستی کوتاہیوں کی وجہ سے کوئی قانون اپنی تنفیذ میں مؤثر نہیں تو اس میں قانون بیچارے کا کیا قصور ؟؟؟ قصور تو اس ریاستی ڈھانچے کا ہے کہ جس نے ا س قانون پر عمل درآمد کروانا ہوتا ہے ۔ سوال : میں یہ سمجھتا ہوں کہ کے کسی بھی شخص کے دین اسلام کو گالی دینے یا پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر تشنیع کرنے سے نہ ہی دین اسلام پر کوئی اثر پڑتا ہے اور نہ ہی معاذ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و مرتبت میں کوئی کمی آتی ہے!!! چاند کی طرف منہ کرکے تھوکنے والے کے اپنے منہ پر تھوک گرتا ہے! الجواب : تو آپ کیا سمجھتے ہیں میرے پیارے بھائی مجھ سمیت جتنے بھی مسلمان اس قانون توہین رسالت کی حمایت کرنے والے ہیں کیا انکا یہ عقیدہ (نعوذباللہ من ذالک)ہے کہ کسی کہ بھی توہین رسالت کرنے سے حقیقتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی کمی واقع ہوجاتی یا بالذات آپکی ذات مقدسہ کی توہین بالفعل واقع بھی ہوجاتی ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟ تو افسوس میرے بھائی کہ آپ کا کتنا غلط گمان ہے اوہ میرے پیارے بھائی اوہ خدا کے بندے بھلا مجھے بتاو تو سہی دنیا میں کسی ادنٰی سے ادنٰی (دینی علم رکھنے والے) والے مسلمان کا یہ عقیدہ ہو کہ لوگوں کہ توہین کرنے سے ہمارے پیارے آقا کی شان میں بالفعل اور حقیقتا کوئی کمی یا کجی واقع ہوتی ہو نعوذباللہ نہیں نہیں میرے بھائی ایسا نہ کسی کا عقیدہ ہے اور نہ ہی کوئی ایسا مانتا ہے میرے بھائی ایسا ہو بھی تو کیونکر ؟؟؟؟؟ کیا میرے اور آپکے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان (نعوذباللہ من ذالک الخرافات) ہم امتیوں کے بـڑھانے یا ہماری وجہ سے یا پھر کسی اور مخلوق کہ چاہنے سے بڑھی ہے جو کہ کسی بھی مخلوق کہ چاہنے سے کم ہوجائے گی ؟؟؟؟؟'' نہیں نہیں میرے بھائی انکی شان بڑھانے والا تو خود انکا خالق کریم ہے کہ جو انکو : وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ اور وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَى کی شانیں عطا فرماتا ہے اور انکو تمام تر مخلوق سے بے نیاز فرماتا ہے ۔ میرے بھائی قانون توہین رسالت کا اطلاق اس بنیاد پر نہیں ہوتا کہ کے کسی کے بھی میرے اور آپکے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے سے آپکی شان میں کوئی کمی یا حرج (معاذاللہ) واقع ہوجاتا ہے بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ کہ ایسا کرنے والے نے ظلم کیا اور ایک ایسا بدترین کلمہ کہا کہ جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچنے کہ ساتھ ساتھ تمام مخلوق اور تمام مومنین کو ایذاء پہنچی اور ایسا کہنے والے نے ایک ایسا عظیم فتنہ کا ارتکاب کردیا اور اس کا ایسا کرنا " الفتنۃ اشد من القتل " کہ مصداق تھا ۔ اس لیے نہیں کے اس نے وہ مجروح کلمات بول کر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں حقیقتا کوئی کمی واقعتا برپا کردی اور نہ ہی وہ ایسا کرسکتا اور نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے بلکہ ایں محال است یعنی یہ محال ہے۔ بلکہ اس لیے کہ اس نے جو اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اوراسکی دیگر تمام مخلوقات کی جو دل آزاری کی تھی اور جو فتنہ بپا کیا اس کا تقاضا یہی تھا کہ اس کو قتل کردیا جائے کیونکہ قتل فتنہ سے بحرحال بہتر ہے ۔۔ اور یہ بھی کہ کسی کا یہ حق نہیں بلکہ کسی کی یہ اوقات ہی نہیں کہ اللہ کہ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کہ بارے میں کچھ نازیبا الفاظ کہے لہذا اسکو جو سزا دی جاتی ہے وہ اس پر نہیں کہ اس کے ایسا کہنے سے کوئی امر واقع ہوجاتا ہے بلکہ اس لیے ہے کہ اس نے جو فعل کیا یعنی جو کلمات کہے ان کلمات کہ کہنے کی وجہ سے اس کو حدا قتل کیا جائے گا کہ اس نے وہ کلمات ادا کیئے تو کیئے کیوں ؟؟؟؟ جیسے کوئی کسی کو قتل کردیتا ہے تو وہ اگر اپنے اس فعل پر شرمندہ بھی ہو تب بھی اس کو اس فعل کے محض کرنے کی وجہ سے حدا قتل کیا جائے گا یہاں تک کہ جسکا اس نے حق مارا ہے وہ خود اسے معاف نہ کردے ۔ اسی بات کو ایک مثال کے زریعے سمجھاتا ہوں کہ جب کوئی بد طینت اور بدزبان شخص کسی کی ماں یا بہن کو گالی دیتا ہے تو جسکی ماں یا بہن کو وہ گالی دی جاتی ہے وہ اس لیے دوسرے پر نہیں چڑھ دوڑتا کہ اسکی ماں یا بہن کو جو گالی دی گئی اس کی مانںیا بہن حقیقت میں اس خرافات اور گندگی اور غلاظت کی مستحق تھیں یا مرتکب تھیں ؟؟؟ بلکہ اسکا غصہ کرنا یہ طبعی اور فطری امر ہے کہ اس کے ساتھ انسانی عزت و شرف کا معاملہ جڑا ہوا ہے اور جہاں تک بات ہے میرے اور آپکے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو آپکی عزت و حرمت پر تو ہم اور ہمارے ماں باپ کی کروڑوں جانیں فدا کوئی کون ہوتا ہے کہ آپکی طرف کسی ادنٰی سی بھی بے ادبی کی جسارت کرے اور ہم مسلم خاموش رہیں یہ نہ تو غیرت انسانی کا تقاضا ہے اور نہ ہی ایمانی غیرت کا ۔ لہذا ثابت یہ ہوا کہ گستاخ رسول کو قتل اس لیے نہیں کیا جاتا کہ اس کے ایسا کرنے سے نعوذباللہ من ذالک ہمارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں عملا یا حقیقتا کوئی کمی واقع ہوگئ ہے بلکہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ اس نے اپنی حد پار (cross) کی اور اللہ کی حدود کو توڑا کہ جسکے نتیجہ میں اللہ اور اسکے رسول اور اسکی تمام مخلوقات کو ایذاء پہنچائی سو اسکا یہی علاج تھا کہ خس کم جہاں پاک کردیا جائے ۔۔۔ سوال: اگر ایسا ہی ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقعے پر بڑے بڑے دشمنان اسلام اور پنی جان کے جانی دشمنوں اور خود کو ایذا پہچانے والے کو "لا تثریب علیکم الیوم" کہہ کر معاف فرمادیا؟ الجواب : میرے بھائی یاد رہے کہ جو بھی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اور آپکے حق میں سے ایک ایسے حق کی تخفیف کا مرتکب ہوتا ہے کہ جو شان یا جو حق اللہ پاک نے آپ کو عطا فرمایا اور عطا فرما کہ تمام مخلوقات سے بلند فرمایا لہذا اس کو اس حق میں کمی کرنے اور شان میں تخفیف کرنے کی کوشش کرنے کہ جرم میں حدا قتل کردیا جائے گا کیونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حق تلفی کرنے کا مجرم بنا کہ یہ جرم انتہائی سنگین ہے جہاں تک بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذات مبارکہ کی تو آپ کی ظاہری حیات مبارکہ میں یہ حق آپکو حاصل تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حق میں تخفیف کی کوشش کرنے والوں کو چاہیں بخش دیں یا پھر حدا قتل کردیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ حق ہر دو طرح استعمال فرمایا ہے لیکن آپ کے بعد اب امت میں سے کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق خود اپنی طرف سے یا کسی عدالت کی رو سے معاف کردے ۔ ۔ یاد رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رحمۃ اللعٰلمین ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر ایرہ غیرہ نتھو خیرہ کہ جسکا جو جی چاہے آپ کی شان میں بکتا پھرے شان رحمت للعٰلمینی اپنی جگہ برحق مگر اس شان کی پناہ (shelter)لیتے ہوئے کسی کو یہ حق بھی نہیں دیا جاسکتا کے چونکہ ہمارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کے لیے فقط رحمت ہی رحمت ہیں لہذا آپ جو چاہے انکی شان میں بکواس کرتے پھریئے ۔ ۔ ۔لاحول ولا قوۃ الا بااللہ سوال: ان آیات سے آپ "قتل مُرتد" ثابت کرنا چاہتے ہیں یا "گستاخاں رسول" کی سزا موت؟؟؟ جی ان آیات سے عبارۃ النص اور اشارۃ النص کی رو سے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا کا حکم بصورت قتل اخذ ہوتا ہے اور فقہاء نے کیا بھی ہے بلکہ تمام تر فقہاء انہی آیات سے متفقہ طور پر بالاجماع استدلال فرماتے ہیں اور اس پر آج تک امت میں سے کوئی ایک شخص بھی پیدا نہیں ہوا کہ جسکو اختلاف ہوا بجز آجکل کے ماڈرن دور میں کہ جہاں میڈیا کا دور دورہ ہے اور میڈیا کو چاتر قسم کی عورتیں بصورت این جی اوز اونر اور شاطر قسم کے ملاں بصورت غامدی و غیرہ میسر آگئے ہیں ۔نیز یاد رہے کہ اگر کوئی مسلم گستاخی رسالت کا مرتکب ہو تو وہ مرتد ہی ہوجاتا ہے ۔لہذا اس پر یہ قانون ہر دو طرح سے لاگو ہوگا ۔ سوال : کیوں کیا آجکل کے فقہا امت کا حصہ نہیں ؟ یعنی جس ٹائم لائن تک امت کے فقہا مرتد اور گستاخ رسول کی سزا قتل قرار دیتے تھے، اسوقت تک آپکے نزدیک وہ صحیح اسلام پر فائز۔ جونہی موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق اس "قانون" سے متعلق شبہات پیدا ہونا شروع ہوئے، فٹا فٹ آپکی سوئی یہاں اٹک گئی کہ نہیں یہ درست اسلام نہیں ۔ ۔ ۔۔ الجواب : بالکل ہیں سر جی کیوں نہیں ہیں ؟؟؟؟' مگر یہ کہ وہ فقہاء ہی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ آج کہ فقہاء میں سے کس جید فقیہ نے کہ جس کا امت میں کوئی ذاتی تشخص بھی ہو قانون توہین رسالت یا قتل مرتد کی سزا سے اختلاف کیا ہو اور اس جید فقیہ کا تعلق امت کے کس مکتب فکر سے ہے ؟؟؟؟؟ ۔ جہاں تک میری معلومات ہیں تو مسئلہ زیر بحث میں امت کے چاروں مسالک یعنی حنفی، مالکی ، شافعی اور حنبلی کے ساتھ ساتھ دیگر تمام مکاتب فکر یعنی سنی، شیعہ، وہابی ،دیوبندی اور اہل حدیث ،سلفی و مودودی وغیرہ سب کا اس بات پر اتفاق ہے یاد رہے میں نے فقیہ کہا ہے کہ وہ نام نہاد مذہبی اسکالر نہیں کہ جنکو میڈیا رپریزنٹ کرتا ہے اور مغرب ان پر مرتا ہے کہ وہ مغرب کا دم بھرتے ہیں ہے ۔ اور ہماری سوئی کہیں نہیں اٹکی فقہی مسائل کی اقسام ہوتی ہیں ان میں سے بعض کا حکم حالات کہ تحت بدل بھی جاتا ہے مگر ان فقہی مسائل کا ان بنیادی عقائد سے کیا جوڑ کہ جنکا قطعی ہونا بالاتفاق و اجماع امت سے ثابت ہو ۔ ۔ اور یہ امت کے بعض گروہوں کی خوب کہی بھیا زرا نام تو بتلایئے امت کے ان بعض گروہوں کا ؟؟؟؟؟' کہ آیا میرا اور آپ کا یا غامدی صاحب کا کسی مسئلہ میں مختلف فیہ ہونا آپ کے نزدیک بعض گروہوں کی تعبیر ہے ۔ ۔ ۔ ارے خدا کے بندے امت تو ننانوے اشاریہ نو فی صد اس مسئلہ پر متفق ہے آپ کن بعض گروہوں کی بات کرتے ہیں ؟؟؟؟ ۔ ۔۔ اور اب وہ شخص کیا ہی شخص ہوگا کہ جو کسی مسئلہ میں امت کہ ننانوے فیصدی کو چھوڑ کر ایسے بعض گروہوں کی پیروی ک بات کرے جو کہ امت کا محض یک فی صدی بھی نہیں ہیں ۔ ۔ ۔۔ اور میرے یہ بھی کہ میرے بھائی محض حالات کے بدل جانے سے کسی بھی قانون میں شبہات واقع نہیں ہوتے خاص طور پر ایسے قوانین جو کہ بالاتفاق اور قطعیت سے ثابت ہوں انکا کسی بھی دور میں غیر مؤثر ہوجانا ممکن نہیں کہ یہی اسلام کی شان ہے ۔ ۔ ۔ ۔اسلام جو اصول دیتا ہے ان میں ایسی لچک (flexibility)ہے کہ ان کے تحت ہر دور میں تمام تر قوانین کو نافذ العمل بنایا جاسکتا ہے اور یہ لچک اسلامی اصولوں کی روشنی کے تحت قانون کی تنفیذ میں مؤثر ہوتی ہے نہ کے قانون کو ختم کرکے کسی نئے قانون کو متعارف کروانے کی صورت میں مؤثر۔ سوال :یہی وہ چیز ہے جو امت مسلمہ کو کھائے جا رہی ہے۔ فقیہ جسکا وجود 800 صدی میں ہوا۔ اسکو بنیاد بنا کر مغربیوں نے تو اپنے نظام میں دور حاضر کے مطابق تبدیلیاں کر لیں، لیکن جو رول ماڈلز تھے، یعنی مسلمان وہ ابھی تک اسی بات پر قائم و دائم ہیں کہ فقہ 800 صدی کی حدود سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے۔ چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا، مرتد اور گستاخ رسول کی سزا قتل، زنا کی سزا کوڑے اور ہم جنسی کی سزا پتھر مار کر ہلاک کرنا سب کم از کم 1300 سال پرانے قوانین ہے۔ جنکا اگر آج کے معاشرے میں اطلاق کیا جائے تو 80 فیصد آبادی کے ہاتھ کٹے ہوں۔ 10 فیصد زنا کے ہاتھوں لتر کھارہی ہو۔ 5 فیصد ہم جنسی کے بعد عبرت کی موت مر چکے ہوں اور باقی ماندہ مرتد اور گستاخی رسول کی چھری تلے دبے ہوں Fiqh - Wikipedia, the free encyclopedia قانون کو وقت اور زمانہ کے حساب سے بدلنا پڑتا ہے۔ حضرت عمر کے زمانہ میں ایک وقت قہط آیا اور کسی نے کچھ راشن چرا لیا لیکن اسکا ہاتھ کاٹا نہ گیا کیونکہ یہ فعل مجبورا صارد ہوا تھا۔ مگر بقول آجکل کے علما کے ہر قسم کی چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے، بیشک عزر کوئی بھی ہو! الجواب : آپ سے کس نے کہہ دیا کہ فقہ کا وجود 800 سو سال سے ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟ فقہ تو میرے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کہ دور سے رائج چلی آرہی ہے آپ کہ دور مبارک میں آپکی موجودگی میں فقہاء صحابہ کرام تھے کہ جنکی فقہی رائے کو ترجیح دی جاتی تھی کہ جن میں خلفائے راشدین سر فہرست ہیں سو ایسے میں آپ کا فقہ کو 800 سو سال کی پیداوار کہنا عجب مضحکہ خیز ہے بات یہ ہے کہ فقہ کا رواج تو ابتدائے اسلام سے ہی ہوگیا تھا ہاں البتہ تدوین فقہ تدریجا ہوئی جن میں صحابہ کرام کہ بعد جید تابعین میں امام ابو حنیفہ اور امام مالک اور دیگر ائمہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا نام سر فہرست ہے ۔ ۔ رہ گیا آپ کا چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا اور زنا کی سزا کوڑے مارنا کو فقہی قوانین قرار دینا تو میرے پیارے پہلے قرآن و سنت میں واضح بیان کردہ حدود اور اخذ و استنباط کے زریعہ سے اخذ شدہ فقہی مسائل کہ درمیان فرق کرنا سیکھ لیجیئے پھر اس قسم کے مسائل میں اپنی رائے بھی دیجیئے گا ۔ ۔۔ چور کی سزا ہاتھ کاٹنا بطور حد قرآن پاک میں بیان ہوئی ہے یہ کسی فقیہ کے دقیق فہم کا شاخسانہ نہیں ہے البتہ ہاں فقیہ کا کام یہ ہے کہ کس قسم کے حالات اور کس قدر نصاب کی چور ی پر ہاتھ کاٹا جائے گا اور کون سا ہاتھ کاٹا جائے گا اور کتنا ہاتھ کاٹا جائے گا ان سب چیزوں کا تعین اخذ و استنباط کی صورت میں سنت مبارکہ سے بمطابق اپنے فہم کہ بطور اجتہاد کرے ۔ ۔ اور جہاں تک آپ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا ذکر کیا تو اولا تو وہ ایک استثنائی( EXCEPTIONAL ) صورتحال اور معاملہ ہے نیز تمام فقہاء کرام اس قسم کی صورتحال میں فتوٰی قول فاروقی پر ہی دیتے ہیں اور آج بھی ویسی صورتحال میں فتوٰی قول فاروقی پر ہی ہے لہذا اگر خود کا مطالعہ کمزور ہو تو بغیر پڑھے مستند فقہی ذخیرے پر الزام تراشی کہ بندہ اپنا مطالعہ وسیع کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ۔ ۔ رہ گیا آپ کا یہ طعنہ کے اسلامی سزاؤں کہ نفاذ سے ساری دنیا کے آدھے سے زیادہ لوگ ٹنڈے اور جو باقی بچ جائیں گے وہ حدود کی وجہ سے مقتول ہوجائیں گے تو یہ آپ کی سوچ اور زاویہ فکر کی نشانی ہے کہ آپ نے اس پہلو سے سوچا وگرنہ آپ اس انداز سے بھی سوچ سکتے تھے اسلامی سزاؤں کا سختی کے ساتھ نفاذ معاشرے میں جرائم کی روک تھام اور کمی کرنے میں مؤثر ثابت ہوسکتا ہے لہذا یہی وجہ و حکمت ہے کہ اسلام میں بعض معاملات میں سزائیں بظاہر سخت ہیں تاکہ لوگ عبرت پکڑیں جرم کے ارتکاب سے گریزاں رہیں ۔ ۔ باقی آپ کی اطلاع کے لیے یہ بھی عرض کردوں کہ ہر قسم کی چوری اور ہر نصاب کی چوری پر فقہاء ہاتھ کاٹنے کی قرآنی حد کا نفاذ نہیں کرتے بلکہ اس میں بھی نصاب اور مال کی اقسام کا تعین مال کی حفاظت کا کس قدر اہتمام تھا نیز کس جگہ سے کون سا مال کس طرح سے کتنی مقدار میں چرایا گیا اور ثبوت اور گواہ کون ہیں اور حالات و ماحول کیا ہے سب چیزوں کا خیال رکھ کر حد کو نافذ کیا جاتا ہے کہ کیونکہ فقہاء جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ شبہات میں حدود کو ٹالا کرو لہذا فقہاء اس حدیث کو بھی مدنظر رکھ کر حکم لگاتے ہیں اپنا مطالعہ دین اسلام کی بابت وسیع کیجئے اغیار کے پروپگینڈہ سے بچیئے اور دین اسلام کو طعنہ زنی سے محفوظ رکھئے اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے ۔ ۔ ۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہےےےےےےےےےےےےےےےےےےے Last edited by آبی ٹوکول; 11-10-11 at 01:01 AM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سوال: یہ واقعات کردار کشی ہیں نبی کی ۔
اس نبی کی جسکو اللہ نے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا وہ نبی خود پر کوڑا پھینکنے والے کی عیادت کو جاتا تھا کے " آج کوڑا نہیں پھینکا " کہیں وہ بوڑھی بیمار نا ہوگئی ہو وہ نبی جو اپنے سب سے پیارے چچا کا کلیجہ چبانے والی کو مسکرا کر معاف کرتا ہے وہ نبی جسکے لئے اللہ فرماتا ہے " تمہارے اخلاق کے کیا کہنے " وہ نبی جو یہودی کے جنازے پر غمگین ہوجاتا ہے وہ نبی جس نے ہم کو انسانیت اور صلہ رحمی کا درس دیا اے اللہ ہم کو نبی کے راستے اور طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرما الجواب :تو میرا آپ کے سے فقط ایک ہی سوال ہے کیا وہ آیات وعید جوکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے محض آواز بلند ہونے کی صورت میں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپس میں ایکدوسرے کی طرح محض پکارا جانے کی صورت میں یا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ڈکشنری میں ایک جائز لفظ "راعنا " بنیت احسن بولنے کی بھی صورت میں تمام تر اعمال کی ضبطگی اور کفر اور عذاب الیم کا مژدہ سناتی ہوں وہ کس کی کردار کشی ہیں آپکے نزدیک ؟؟؟ کیا اللہ پاک جو کہ رحمٰن و رحیم ہے اس کی شان رحیمی کا محض یہی تقاضا رہ گیا ہے کہ وہ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں محض آواز کے بلند ہوجانے پر ایسی سنگین سزا دے ؟؟؟؟؟ (نعوذ باللہ من ذالک ) کہ بندے کے تمام زندگی کے اعمال بھی غارت ہوجائیں اور بندے کو خبر بھی نہ ہو نتیجتا وہ بندہ خبر نہ ہونے کے باعث بنا توبہ کیئے ہی مر جائے اور نتیجتا کفر کی موت مرنے کی وجہ سے تمام عمر جہنم کی آگ کا ایندھن بنا رہے ؟؟؟؟ زرا بتلایئے مجھے ان آیات میں محض (بظاہر ) ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس قدر سنگین سزائیں کیا اسلام جو کہ دین فطرت و سلامتی ہے کہ خلاف آیا کہیں کوئی سازش تو نہیں ؟؟؟؟ وہ د ینکہ جسکا یہ دعوٰی ہے کہ وہ دین فطرت اور عقل سلیم کہ تمام تر تقاضوں کے عین مطابق دین ہے؟؟؟ ۔ ۔ ۔ کیا اس دین میں ایسا ہوسکتا ہے محض چند ایسے اعمال جو کہ بعض لوگوں کہ نزدیک تو شاید بے ادبی کےضمرےمیں بھی نہ آتے ہوں محض ان اعمال کی ہی وجہ سے بندہ کی عمر بھر کی کمائی اعمال کی ضبطگی کی صورت میں غارت کردی جائے اور پھر اس پر دعوٰی رحمان و رحیمیت کا ہو ؟؟؟ اور نیز اسلام کے دین فطرت ہونے کا بھی دعوٰی ہو ؟؟؟؟ نیز سلامتی والے دین کا بھی دعوٰی ہو ؟؟؟ نیز امن و آشتی والے دین کا بھی دعوٰی ہو ؟؟؟؟ ؟؟؟مجھے بتلایئے گا کہ کہیں ایسی تمام آیات کسی نے اسلام کو بدنام کرنے کی خاطر انتہائی چالاکی سے تو نہیں قرِآن میں داخل کردیں ؟؟؟ کہ جن ایات سے رب کا رحمان و رحیم ہونا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رحمت للعٰلمین ہونا ہی سوالیہ نشان بن گیا ہو مجھے بتلائیے گا ضرور ۔۔۔۔ سوال: صرف توہین رسالت پر قانون کو اسلامی ہونا چاہئے باقی جگہوں پر انگریزوں کے بنائے ہوئے قوانین آج تک ہم پر مسلط ہیں اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون" کا نعرہ بلند کرنے والوں کو فاسفورس بموں سے بھون دیا گیا یہاں کونسا قانون الہی لاگو کیا گیا تھا ذرا ہمیں بھی اس کا علم ہوجائے میرا سوال ابھی تک یہی ہے کیا تعزیرات پاکستان دفعہ 295C اللہ کا بنایا ہوا ہے یا انسانوں کا ؟ الجواب : بالکل نہیں پاکستان میں تمام کا تمام قانون اسلامی ہی ہونا چاہیے لیکن اگر خوش قسمتی سے ہی چند اسلامی قانون نافذ ہیں اور باقیوں کے نفاذ میں ابھی تعطل ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو اسلامی قانون پہلے سے تنفیذ شدہ ہیں ہم انکو غیر تنفیذ شدہ اسلامی قوانین کی بنیاد پر کالعدم قرار دے دیں اس کے برعکس ہم سب کو کوشش یہ کرنی چاہیے کہ ہم پاکستان میں تمام تر اسلامی قوانین کے نفاذ کی جدو جہد کریں نہ کہ چند معدودے جو اسلامی قوانین پہلے سے نافذ ہیں انکی اس بنیاد پر مخالفت کریں کہ باقی کونسا اسلامی قوانین یا آئیڈئل اسلامی معاشرہ ہے ہمارے ہاں۔۔۔اور جہاں تک بات ہے اللہ کی زمین پر اللہ کے قانونی کی بلندگی کا نعرہ بلندکرنے والوں کو فاسفورس بموں سے بھونے جانے کی تو ہم عرض کرتے ہیں کہ ظلم کیا گیا اور انتہائی ظلم کیا گیا اور اس ظلم میں جہاں ایک طرف اس وقت کے ظالم حاکم کا سب سے بڑا حصہ ہے وہیں من حیث القوم ہم سب کا بھی حصہ ہے مگر اس کے باوجود میرے بھائی میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی دلیل ہے کہ فلاں وقت پر ظلم ہوا لہذا اس بنیاد پر موجودہ دور میں درست قوانین کو کالعدم قرار دے دیا جائے ۔ ۔ جہاں تک بات ہے 295C کی تو بلاشبہ 295C تو انسانوں کا ہی بنایا ہوا ہے مگر اس میں جو سزا ہے وہ اخذ شدہ ہے قرآن و سنت سے لہذا نتیجہ یہ نکلا کہ 295سی تو انسانوں کا بنایا ہوا ہے جبکہ اس میں درج شدہ سزا جو ہے وہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بتلائی ہوئی ہے کہ جس پر آج تک تمام کی تمام امت متفق ہے اور جس پر شکوک و شبہات ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے پہلے تو یہ رونا رویا جاتا تھا کہ یہ مولوی سارے کے سارے ہمیشہ کسی ایک بات پر کبھی ایک نہیں ہوسکتے اب اگر چند مسائل میں ایک ہیں تو یہ جدیدیت کے علمبردار وہاں بھی افتراق و انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ سوال : بہت اچھی بات کہی آپ نے اب اگر انسان کے "اخذ کردہ" قانون پر کچھ دیگر انسان اپنے تحفظات کا اظہار کریں تو کیا کرنا چاہئے ؟ ایک ضمنی سوال کیا انسانوں کا بنایا ہوا ہے 73 کا آئین بھی اسلامی ہے اور قرآن و سنت سے اخذ کیا گیا ہے ؟ الجواب: بجا فرمایا آپ نے کہ اگر انسانی فہم سے اخذ شدہ کسی قانون پر انسانوں میں سے بعض کو اختلاف ہو تو پھر کیا کیا جائے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تو اس کے لیے عرض یہ ہے کہ اس کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ کسی بھی قانون پر اعتراض کرنے والوں کی اپنی ذاتی حیثیت کیا ہے؟؟؟؟؟؟ آیا وہ علم و فضل کے بالکل اسی مرتبہ کمال پر فائز ہیں کہ جو مرتبہ ( کمال علمی ) انھے کسی بھی قانون پر تنقید کرنے کے لیے لازم ہے یا پھر آیا وہ محض اعتراض برائے اعتراض کرنے والے وہ چند عناصر ہیں کہ جنکے اختلاف کی اصل بنیاد کوئی" علمی تحقیق " یا پھر انکا "منصب علمی " نہیں بلکہ محض انکا اپنا ذاتی فہم و عقل ہیں ۔ اول :- اگر پہلی صورت ہو یعنی مذکورہ قانون پر اعتراض کرنے والے خود بھی اس لائق ( یعنی مجتہد) ہوں کے انکی رائے کسی بھی قانون کو بحیثیت لاء تسلیم کرنے یا نہ کرنے میں کسی خصوصی اہمیت کی حامل ہو تو پھر یہ دیکھا جائے گا کہ ایسے افراد اپنی آراء میں دوسروں سے کس قدر ممتاز ہیں نیز یہ کے وہ اپنی آراء کی بنیاد پر اس پوری مقننہ میں کوئی انفرادی وجود بحیثیت اقلیت (منفرد) کے رکھتے ہیں یا انکی رائے جمہور (اکثریت ) کی رائے ہے اگر انکی رائے اقلیت یعنی انفرادی حیثیت کی حامل ہو تو پھر انکے اجتھاد اور انکی رائے کا احترام تو کیا جائے گا مگر انکی رائے کو بطور قانون نافذ نہیں کیا جائے گا یعنی انکے رائے پر کوئی قانون سازی نہیں کی جائے گی یہی جمہوری اصول ہے بلکہ اس کے مقابلہ میں اکثریت یعنی اجتماعی (جمہور کی ) رائے کو بصورت قانون کسی بھی سلطنت میں نافذ کیا جائے گا یہی تمام دنیا کا قانون ہے اور یہی عقل کا تقاضا ہے جبکہ اس کے برعکس خلاف عقل ہے ۔ دوم :- رہ گئے وہ ایسے افراد جو کہ کسی بھی قانون پر اعتراض کرنے والے ہیں کہ جنکی اپنی ذاتی حیثیت اس سے زائد کچھ نہیں کہ محض انکی اپنی ذاتی عقل و فہم انکو کسی بھی قانون کی مسلمہ حیثیت تسلیم کرنے سے روکتی ہے تو پھر معاف کیجئے گا میرے بھائی اس طرح کے لوگوں کے شبہات کی کوئی علمی حیثیت نہیں اور نہ ہی انکو کوئی اہمیت دینا چاہیے کیونکہ اگر محض " انسانی عقلی تفاوت " کو ہی بنیاد بنا کر دنیا کی قانون سازی میں بنیادی محرک مان لیا جائے تو معاف کیجئے گا پھر تو اس عقلی تفاوت کے نتیجہ میں دنیا کا کوئی بھی قانون نافذ العمل نہ رہ سکے گا اور نہ ہی دنیا میں کسی قسم کی کوئی قانون سازی ہوسکے گی کیونکہ اللہ پاک نے ہر شخص کو جدا جدا عقلی صلاحیتیں دے کر پیدا کیا ہے نیز خود مجرد عقل کا مختلف لوگوں میں مختلف فیہ ہونا ہی مختلف مسائل میں موجب اختلاف ہے بلکہ میں تو اس حد تک کہتا ہوں کہ خود مجرد عقل ہی اختلاف کی پہلی بنیاد ہے سو پھر کیسے آپ اس دنیا میں کسی بھی قانون کی اولا تدوین اور پھر ثانیا تنفیذ کرسکتے ہیں ؟؟؟؟؟ سو اس مثال کو یوں بھی سمجھئے کہ اگر کوئی عامی کسی ڈاکٹر سے اس کے تجویز کردہ نسخہ پر محض اپنی عقل کی بنیاد پر اختلاف کرئے گا تو اس علم طب سے بے بہرہ شخص کے اختلاف کو ایک کوالیفائڈ ڈاکٹر کے مقابلے میں ایک دیوانے کی بڑ ہی سمجھا جائے گا اگرچہ اس علم طب سے بے بہرہ شخص کو اختلاف کا حق تو ہوگا مگر اس کے اختلاف کو لائق التفات اس وقت تک ہرگز نہیں سمجھا جائے گا جبکہ تک اس کے اختلاف کے پیچھے کوئی ٹھوس حقائق کارفرما نہ ہوں۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ اب آتا ہوں آپکے ضمنی سوال کی طرف ۔۔ کیا انسانوں کا بنایا ہوا ہے 73 کا آئین بھی اسلامی ہے اور قرآن و سنت سے اخذ کیا گیا ہے ؟ ۔ ۔ تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ تہتر کے آئین کی قانونی حیثیت کا تعین اس اعتبار سے تو قرآن و سنت سے نہیں کیا جاسکتا کہ یہ سارے کا سارے آئین براہ راست قرآن و سنت سے اخذ شدہ ہے سو اس اعتبار سے تو یہ اسلامی نہیں مگر ساتھ ہی ساتھ یہ ہے کہ آپ اسے غیر اسلامی یا اسلام کے خلاف یا مخالف قانون بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ تہتر کہ آئین میں جس چیز کو مرکزی حیثیت حاصل ہے وہ یہ ہے کہ اس ملک پاکستان میں اس تہتر کے آئین (قانون) کی روشنی میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بن سکتا لہذا اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو چونکہ 73 کے آئین کا بنیادی مرکزی نقطہ اسلام کی ہی تابعداری ہے نتیجتا اس خاص اعتبار سے آپ اسے اسلامی بھی کہہ بھی سکتے ہیں ۔ ۔ دوسرے لفظوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ دین اسلام جو کہ ایک عالمگیر دین ہے اس کے بنیادی اصول و قواعد کے اندر اتنی وسعت و لچک ہے کہ تمام دنیا کے انسان ہر زمانے میں انھی اصولوں (دین) پر قائم رہ کر ہر طرح کے ماحول و معاشرہ کے لیے قانون سازی کرسکتے ہیں اور انکی کی گئی وہ قانون سازی اپنی بنیاد کے اعتبار سے اسلامی اور اخذ و استنباط کے اعتبار سے انسانی کہلائے گی ۔اور اگر وہ قانون سازی اپنی مجموعی حیثیت میں کسی بھی اسلامی اصول سے نہ ٹکراتی ہو تو اسے بلاشبہ اسلامی کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں سوال: یہ سوال تو بعد میں پیدا ہوتا ہے کے اعتراض کرنے والے یا ڈیفینڈ کرنے والے کی علمی حیثیت کیا ہے ؟ فلحال تو مختصر سا جواب چاہئے کے انسان کے "اخذ کردہ" قانون پر کچھ دیگر انسان اپنے تحفظات کا اظہار کریں تو کیا کرنا چاہئے ؟ الجواب :نہیں میرے بھائی یہی تو ہم سب کی غلط فہمی ہے کہ یہ سوال بعد میں نہیں بلکہ پہلے پیدا ہوتا ہے کسی بھی علم و فن پر نقد و جرح کرنے والے کی علمی حیثیت کا تعین پہلے ہوگا لہذا اگر ناقد اس مخصوص فیلڈ یعنی شعبہ علم کے مبادیات سے واقف نہیں تو پھر ناقد کی تنقید کو فقط عقلی بنیاد پر ہی رد کیا جائے گا ۔ آپ اگر ہمارا مراسلہ بنظر غائر مطالعہ فرماتے تو آپ پر یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے کہ ہم نے آپکی بات کا جواب ہر دو طرق سے دے دیا تھا یعنی اگر ناقد ان علوم سے بے بہرہ ہے کے جو علوم اس مخصوص شعبہ کے لیے لازم ہیں یا پھر جو علوم کسی بھی مسئلہ پر تنقید کرنے کے لیے مبادیات کی حیثیت رکھتے ہوں تو پھر ناقد کی بات کو اولا تو قابل توجہ ہی نہیں گردانا جائے گا یہاں تک کے وہ کوئی ایسی عقلی دلیل قائم نہ کرلے کے جسکا جواب دینا لازم ہو نیز دوسرے طریق سے یوں کہاگر کسی ایک مسئلہ میں اخذ و استنباط کے مراحل میں مجتھدین کا اجتہادی اختلاف واقع ہوجائے تو پھر جو صورت قابل قبول ہوگی وہ یہی ہے کہ اکثریتی فقہاء یعنی جمہور کے مسلک کو ترجیح دی جائے اور اقلیت کا مؤقف مسئلہ کی نازکیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یا تو ٹوٹلی رد کردیا جائے یا پھر جس قسم کا مسئلہ ہو اس کا خیال رکھتے ہوئے عوام کو گنجائش دے دی جائے لہذا یہی قانون بطور اصول " فقہ " میں بھی رائج ہے ۔ جبکہ مسئلہ زیر بحث میں آج تک کسی مجتھد کا اختلاف کسی بھی فقہی ذخیرے میں نہیں آیا کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا قتل ہے ۔۔ ۔ اور دوسرے یہ کے اگر آپ کسی بھی مسئلہ میں فقط ہر قسم کے لوگوں کی اختلافی سوچ کو ہی اگر بنیاد بنا لیں اور اسے ایک قاعدہ و اصول تصور کرلیں تو پھر اس دنیا میں کسی بھی مسئلہ کا عقلی اعتبار سے متفقہ حل موجود نہ ہوگا کیونکہ انسانی عقول کا مختلف لوگوں میں مختلف فیہ ہونا ایک مسلمہ امر ہے لہذا ہر انسان اپنی اپنی سمجھ و فہم کے مطابق سوچتا اور رائے دیتا ہے لہذا کسی بھی مسئلہ میں یہ ہرگز نہیں دیکھا جاتا کہ اس سے فلاں فلاں لوگوں یا طبقہ فکر نے اختلاف کیا ہے لہذا وہ مسئلہ یا قانون نافذ العمل نہیں رہا ۔۔۔ کسی مسئلہ میں لوگوں کا مختلف فیہ ہونا ہرگز قاعدہ و قانون نہیں بن سکتا کیونکہ اختلاف دنیا کہ ہر مسئلہ میں پایا جاتا ہے حتٰی کے سائنس جو کہ مشاہدہ و تجربہ پر بیس کرتی ہے خود اس کے بعض مسلمات پر بھی آج تک اختلاف مشھور رہا ہے اور چلا آیا ہے اور ہوتا رہے گا ۔ سوال: ایک ہی پیرے میں آپ نے دو متضاد باتیں کردی ہیں خیر جی ہم آپ کے پرانے بیانات و آخری پیرے میں کی گئی وضاحت کی روشنی میں اس کو اسلامی قرار دے دیتے ہیں کیا آپ مطمئن ہیں ؟ الجواب: ہم نے کوئی دو مختلف باتیں نہیں کیں ہر قاری کے سامنے روشن ہے اور یہ اپنی اپنی سمجھ کی بات ہے کہ آپ کو آپ کے فہم نے یہ روشن کیا کہ میری باتوں میں تضاد ہے لیکن حقیقتا ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ ۔ آپ نے 73 کے آئین کا اسلامی اور غیر اسلامی ہونا دریافت کیا تھا تو میں نے سادہ سے لفظوں میں یہ کہہ دیا کہ چونکہ وہ قانون اپنی تمام تر شقوں کے ساتھ اپنی مجموعی حییثت میں قرآن و سنت میں بیان نہیں ہوا یعنی مذکور نہیں ہوا سو اس لحاظ سے تو اسے اسلامی نہیں کہا جائے گا مگر دوسری جہت اور اعتبار کے لحاظ سے اس قانون کا جو مرکزی و بنیادی نقطہ ہے وہ چونکہ اسلام ہی کی پیروی میں ہے اور قرآن و سنت کی بالا دستی کو تسلیم کرتا ہے سو اس لحاظ سے وہ غیر اسلامی بھی نہیں لہذا دستور کو اس لیے اسلامی نہیں کہا جائے گا کہ دستور اپنی موجودہ شکل میں بحیثیت مجموعی سارے کا سارا قرآن و سنت سے براہ راست ماخوذ ہے جبکہ دوسری طرف محض اس وجہ سے اسے غیر اسلامی بھی نہیں کہا جائے گا کیونکہ اس میں قرآن و سنت کو سپریم لاء تسلیم کرتے ہوئے اس کے منافی کسی بھی قسم کی قانون سازی کی ممانعت موجود ہے۔ سو اس اعتبار سے قرآن و سنت کو مرکزی حیثیت حاصل ہونے کی جہت و اعتبار سے آئین بلاشبہ اسلامی بھی ہے ۔ ۔ سوال: سوال : انسان کے "اخذ کردہ" قانون پر کچھ دیگر انسان اپنے تحفظات کا اظہار کریں تو کیا کرنا چاہئے ؟ جواب : اس پر اعتراضرکھنے والے کی بات کو سن کر قانون کا ازسرنو جائزہ لینا چاہئے ۔ ۔ لگتا ہے آپ کو اس جواب سے ڈر لگ رہا تھا الجواب: میرے بھائی ہمیں اس سوال کے اس جواب سے کوئی ڈر نہیں لگ رہا جو کہ آپ نے دیا اور جو کہ پہلے سے ہی آپ کے ذہن میں تھا ۔ ۔ ۔ میرے بھائی ہم نے آپکے سوال کا جو جواب دیا وہ آپ کے سوال کا ایسا جواب تھا کہ جس کے بعد کسی نئے سوال کے پیدا ہونے کا کوئی امکان ہی باقی نہ بچتا تھا ۔ ۔ جیسا کہ آپ نے اپنے سوال کا جو جواب دیا ہے اس جواب کو پانے کہ بعد بھی اس مسئلہ میں سرگرداں لوگوں کی تسلی نہیں ہوتی اور وہ لوگ جاننا چاہیں گے کہ ٹھیک ہے ہم مان لیتے ہیں کہ پھر اس قانون کا از سر نو جائزہ (چاہے اس کے از نو جائزہ لینے کی جائز وجوہات ہوں یا نہ ہوں ) لے لینا چاہیے مگر کیا اس جواب سے آپ کے اٹھائے گئے پہلے سوال کی تمام تر پہلوؤں کی تشفی ہوگئی ؟؟؟ نہیں بلکہ اس پر پھر سوال وارد ہوا کہ اس از سر نو جائزہ لینے کہ بعد بھی اگر لوگ یا کمیٹی یا مقننہ کسی متفقہ نتیجہ پر نہ پہنچ سکی تو پھر کیا ہوگا ؟؟؟ تو میرے بھائی اس کے لیے بھی تو وہی طریقہ کار اختیار کرنا پڑے گا کہ جو ہم نے عرض کیا اول تو جن لوگوں کو اعتراض ہے ان کے اس اعتراض کرنے کو بنیاد بناتے ہوئے کتنے ایسے لوگ ہوں گے جو اس حق میں ہونگے کہ کسی متفقہ قانون کا از سرے نو جائزہ لیا جانا چاہیے اول تو ایسے لوگ تلاش کرنا ہی دشوار ہوگا اگر آٹے میں نمک کہ برابر بھی ایسے لوگ میسر نہ آسکیں تو پھر کیا ہوگا ؟؟؟ سردست چلو مان بھی لیا کہ ایک اقلیت کے کہنے پر ایک متفقہ قانون کا از سر نو جائزہ لیا جانا چاہیے تو اگر ایسے کسی مسئلہ پر اگر کوئی مقننہ بیٹھ بھی جائے گی تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ جو لوگ قانون میں کسی مجوزہ ترمیم کے حق میں ہیں ان کی بات مان ہی لی جائے گی اور انکی بات کو اکثریتی حمایت بھی میسر آسکے گی لیکن اگر ایسا ہوجائے یعنی مجوزین ترمیم کو اکثریتی حمایت مل جائے تو تب ہمیں کوئی اختلاف نہیں کہ پھر بلاشبہ اس اکثریتی رائے کو قانون کا حصہ بنادیا جائے ۔ ۔۔ ۔ سو جواب تو وہی ہوا جو ہم نے دے دیا تھا کہ اگر کسی مسئلہ پر اختلاف ہوجائے تو فقط اختلاف ہوجانے کی ہی بنیاد پر ہی کسی مسئلہ کا از سر نو جائزہ نہیں لیا جائے گا بلکہ اس سے پہلے اعتراض کرنے والوں کو اپنے اعتراض کی سنوائی کے لیے ایک سالڈ گراؤنڈ درکار ہوگی اور وہ سالڈ گراؤنڈ کسی متفقہ قانون کی بابت فقط چند اشخاص کی بدولت حاصل نہیں ہوتی۔ سوال : 73 کے "اسلامی" آئین کی کے تحت پارلیمنٹ ہی وہ واحد ادارہ ہے جو اس قانون کو دیکھ سکتا ہے اور یہ حق بھی "اسلامی "پارلیمنٹ کا ہے کے وہ اعتراض کرنے والے کا کرائیٹیریا طے کرے ۔ ۔ پھر اب احتجاج کا کیا جواز بنتا ہے گردنیں کٹادیں گے اور جوانیاں لٹادینے کے نعرے کس لئے ؟ ضمنی سوال ۔ ۔ ۔ ۔ 73 کے "اسلامی"آئین میں 19ویں"اسلامی " ترمیم ہونے جارہی ہے تو ذرا احتجاج کرنے والے یہ بھی بتادیں 18 مرتبہ اس "اسلامی " قانون کو ازسرنو ترتیب دینے پر کیوں احتجاج نہیں کیا گیا ؟ اس وقت گردنیں کیوں نہیں کٹوائی گئیں ؟ الجواب:جس قانون کی بابت ہمارا اور آپکا نزاع ہے اس قانون پر اولا غور کرنے اور ثانیا ترمیم کرنے کا حق پارلیمنٹ کو نہیں ہے بلکہ پارلیمنٹ اس قانون پر اگر کوئی نظر ثانی کرنا چاہے گی بھی تو اسکو ریفر کرے گی اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب کیونکہ وہاں اس بات کہ اہل لوگ بیٹھے ہیں کہ ان مسائل پر غور و فکر کرسکتے ہیں نہ کہ پارلیمنٹ بذات خود لہذا اگر کسی اسلامی قانون میں کوئی ایسا سقم ہو جو کہ انسانی فہم و استنباط کی بدولت وجود میں آکر اس قانون کی تنفیذ میں مشکلات پیدا کررہا ہو تو اس قانون سے سُقم کی دوری کے لیے پارلیمنٹ اس قانون کو اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب ریفر کرے گی اور پھر وہ اسلامی نظریاتی کونسل اس قانون سے اس سے سُقم کی دوری کے لیے اپنی سفارشات مرتب کرکے پارلیمنٹ کو لوٹا دے گی اور پھر پارلیمنٹ کا کام اس قانون کی تنفیذ کے حوالہ سے بحث کرنا ہوگا ۔ ۔ یاد رہے کہ قانون توہین رسالت میں موت کی جو سزا مقرر ہے وہ بطور حد کے ہے اور حد کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں تبدیل کرسکتی کہ وہ اللہ کی حدود ہیں مگر آپ لوگ اس قانون سے اس سزا کو ہی ختم کردینے کا مطالبہ کررہے ہیں جو کہ کسی طور ممکن نہیں ہے ۔ اور یہ حد اس قانون کا ایسا بنیادی حصہ ہے کہ جسکی بطور حد تخریج خود قرآن پاک سے قطعی الثبوت و ظنی الدلالت معنٰی میں جبکہ سنت سے ظنی الثبوت قطعی الدلدلت معنٰی میں اور امت کے تواتر عملی کے اعتبار سے قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت معنٰی میں ہوئی ہے ۔ ۔ رہ گیا آئین و پارلیمنٹ کا اس بابت کردار تو میرے بھائی آئین تو وہ قانونی دستاویز ہے کہ جو کہ کسی بھی مملکتی ادارے کو نظم و نسق اور عدل و انصاف سے چلانے کے لیے قانونی و بنیاد فراہم کرتی ہے لہذا ایک بار پھر یاد رہے کہ پاکستان کی ریاست کے آئین میں قرآن و سنت کو مرکزی اور سپریم لاء کی حیثیت حاصل ہے نتیجتا ملک پاکستان کا آئین ریاست میں کسی بھی غیر اسلامی یا اسلام شکن قانون کو جواز مہیا کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ ۔ جہاں تک بات ہے آئین میں ترامیم کی تو میرے بھائی آئین بالذات (حقیقت میں) کوئی قرآن یا حدیث تو نہیں کہ جس میں کسی قسم کی کسی بھی ترمیم کی قطعی گنجائش نہ ہو بلکہ آئین ملکی ادارے کو نظم و نسق سے چلانے والی ایسی قانونی دستاویز ہے کے جسکا براہ راست تعلق نظم و نسق کے ان اصولوں پر مبنی ہے جو کہ کسی بھی مملکت کو چلانے کے لیے قانونی و سیاسی بنیادیں فراہم کرتے ہیں اور جس سے ایک فلاحی مملکت کا وجود نمو پاتا ہے۔ لہذا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں طے کیئے جانے والے تمام کے تمام اصول و قواعد قرآن و سنت کے مرکزی ،مستقل اور ان مٹ (ان مٹ سے یہاں میری مراد ایسا قانو ن ہے کہ جس میں کبھی بھی ترمیم کی گنجائش نہ ہو) اصول کے تابع ایسے چھوٹے چھوٹے اصول و ضوابط ہیں جو کہ خالصتا انسانی فہم و استنباط کا نتیجہ ہیں اور ان میں ان بڑے اصول (یعنی قرآن و سنت) کے زیر اثر رہتے ہوئے کبھی بھی ترمیم و تبدیلی کی گنجائش باقی رہتی ہے ۔ لہذا آئین کی ہر اس شق میں تبدیلی یا ترمیم ہوسکتی ہے جو کہ عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کو بدلتے ہوئے حالات میں عدل و انصاف سے چلانے کے لیے ممد و معاون ثابت ہوسکے مگر آئین میں ایسی کوئی ترمیم کبھی بھی کوئی بھی مقننہ یا عدالت نہیں کرسکتی کہ جس کہ زریعے قرآن و سنت کی بالا دستی پر حرف آتا ہو لہذا آئین کی ہر ترمیم اسلام کی چھتر چھایا کہ نیچے ہی ہوگی اور اگر کوئی قرآن و سنت کو سپریم لاء نہ سمجھتے ہوئے آئین میں کسی ایسی ترمیم کا تقاضا کرے کہ جس سے قرآن و سنت سے انحراف ہو تو ایسی کسی بھی ترمیم کی گنجائش تو کیا اس کے بارے میں سوچنا بھی حرام ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور اب آتے ہیں آپکئ ضمنی سوال کی طرف ۔ ۔میرا خیال ہے کہ اس سوال کا جواب بھی اوپر آگیا لیکن پھر بھی عرض کردوں گے آئین کی مختلف شقوں میں ترمیم قرآن و سنت میں ترمیم ہرگز نہیں کہلاتی اور نہ ہی آئین میں قرآن و سنت سے غیر متصادم کوئی بھی ترمیم کرنا قرآن و سنت کے منافی ہے بلکہ اسلام فلاحی ریاست کہ قیام کے لیے ہرجائز کام کو جائز طریقے سے رواج دینے کی حمایت کرتا ہے کیونکہ میں پہلے بھی کہہ چکا کہ اسلام کے بنیادی اصول جو کہ اصل ماخذ ہیں دین کا یعنی قرآن و سنت وہ اپنے اندر بغیر کسی تغیر و تبدل و ترمیم کے اس قدر لچک رکھتے ہیں کہ ایک اسلامی فلاحی ریاست اپنا آئین و منشور اس قرآن و سنت کی چھتر چھایا میں بناتے ہوئے ہر بدلتے دور کا ساتھ دے سکتی ہے۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے Last edited by آبی ٹوکول; 11-10-11 at 12:44 AM. |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم !
نوٹ : ا س مراسلہ کا تمام کا تمام متن ایک ہی بھائی کے مختلف سوالات کو بار بار دہرانے کی وجہ سے انھی سوالات کی کچھ پرانی اور کچھ نئی وضاحتوں پر مبنی ہے تو ہوسکتا ہے کچھ اذہان کو بار بار ریپیٹ کیے گئے دلائل کو پڑھ کر کوفت ہو سو پیشگی معذرت کا طلب گار ہوں۔ سوال :بھئی چالاکی کو تو ہم اپ کی مان گئے پورے کے پورے مدعے کو مشکل اصطلاحات اور لفاظی کے جال میں الجھا کر جانے کون سی بات کہاں پہنچادی کچھ دیر پہلے کہتے ہیں یہ انسان کا بنایا قانون ہے اب کہتے یہ حدود اللہ کی قائم کردہ ہیں شکر ہے بھائی آپ نے ہماری کسی چیز کو تو مانا خواہ آپ اسے چالاکی ہی تعبیر کریں ۔خیر نہیں میرے بھائی یہ کوئی چالاکی ولاکی نہیں تھی بہت سے سوالات ایسے ہوتے ہیں کہ جن کا جواب بالکل سیدھا سا نہیں ہوتا جہاں تک بات ہے مشکل اصطلاحات کی تو میں نہیں سمجھتا کہ اس فورم پر یہ اصطلاحات کوئی نئی ہیں یہاں بہت سے ایسے حضرات ہیں جو مجھ سے زیادہ ان اصطلاحات سے واقف ہیں لہذا وہ کبھی بھی کسی کو بھی کسی بھی اصطلاح کا چالاکی سے غلط استعمال نہیں کرنے دیں گے یہ اوپن فورم ہے اگر میں نے کوئی اصطلاح غلط استعمال کی ہے یا اس کے استعمال سے بات کو الجھایا ہے تو آپ سمیت تمامی افراد کو یہ حق بخوبی حاصل ہے کہ وہ اس کی نشاندی کرسکتے ہیں اور اس کا درست اور ٹھیک ٹھیک استعمال کرکے قارئین پر یہ واضح کرسکتے ہیں کہ ہم نے کہاں ڈنڈی ماری ہے خیرررررررررر۔۔۔ دیکھئے اوپر اور غور کیجئے کہ ہم نے کہاں ایسا کہا ہے کہ دین میں قانون انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں ۔ ہم نے تو واضح کردیا کہ دین میں قانون سازی کا حق فقط اللہ پاک کو ہے لہذا اللہ پاک نے جو قانون واضح نصوص کے زریعے بتلادیئے ہیں انکو حدوداللہ کہا جاتا ہے باقی رہ گئے وہ مسائل جو کہ گردش زمانہ کے تحت بدلتے ہوئے حالات کا تقاضا ہوتے ہیں ان پر ضمنی قانون سازی کے لیے تعزیرات کے تحت انسانوں کو اصل قانون یعنی قرآن و سنت کہ تحت ہی اختیار دیا گیا ہے وہ بذریعہ اجتھاد اپنی رائے اخذ کریں لہذا ایک طرح سے وہ بھی اسلامی ہی ہوئے ۔ ۔۔ اس ضمن اور اس کے طریقہ کار کے لیے اوپر ہمارے تمام مندرجات کا بغور مطالعہ فرمایئے ہم نے اس میں ان ضمنی قوانین کے اخذ و استنباط پر بھی مختصر روشنی ڈالی تھی جیسا کہ درج زیل اقتباس ہے اقتباس: میرے اوپر والے مراسلہ جو کہ فیصل ناصر بھائی کہ جواب میں تھا اگر غور کیا ہوتا تو میں نے عرض کردیا تھا کہ دین اسلام میں تمام کے تمام قوانین اللہ ہی کے بنائے ہوئے ہیں مگر بعض کا بیان قرآن و سنت میں بہت واضح ہے اور بعض کے لیے خود اسی قرآن و سنت کے اصولوں کے تحت اخذ و استنباط کے مراحل ہیں کہ جن میں اگر اختلاف کی گنجائش ہے تو اس کا تعلق اخذ و استنباط کے مراحل میں فہم انسانی کے اعتبار سے ہے لہزا قرآن و سنت سے تمام تر قوانین فقط محکمات کی بنیاد پر نہیں اخذ کیئے جاتے بلکہ مختلف اصول ضوابط کی تحت اخذ کیئے جاتے ہیں اور وہ اصول ضوابط بھی خود قرآن و سنت سے ہی ماخوذ ہیں لہذا قرآنی اَحکام کا بیان و اِستنباط کہیں ’عبارۃُ النّص‘ سے ہوتا ہے اور کہیں ’اِشارۃُ النّص‘ سے، کہیں ’دلالۃُ النّص‘ سے ہوتا ہے اور کہیں ’اِقتضاء النّص‘ سے۔ کہیں اُس کا انداز ’حقیقت‘ ہے، کہیں ’مجاز‘، کہیں ’صریح‘ ہے، اور کہیں ’کنایہ‘۔ کہیں ’ظاہر‘ ہے، کہیں ’خفی‘، کہیں ’مجمل‘ ہے، اور کہیں ’مفسر‘۔ کہیں ’مطلق‘ ہے، کہیں ’مقید‘، کہیں ’عام‘ ہے اور کہیں ’خاص‘۔ اَلغرض قرآنی تعلیمات مختلف صورتوں اور طریقوں میں موجود ہیں۔ اُن میں اصل اَحکام (substantive laws) بھی ہیں اور ضابطہ جاتی اَحکام (procedural laws) بھی چنانچہ یہی وجہ ہے کہ فقہائے اِسلام نے تمام شعبہ ہائے حیات سے متعلق قوانین اور اُصول و ضوابط کا اِستخراج اصلاً قرآن ہی سے کیا ہے۔ ۔۔۔ پھر اس کے بعد آپ نے اپنے سوال کا رخ تعزیرات پاکستان دفعہ 295C۔ کی جانب موڑا اور اپنے مراسلہ نمبر 53 میں فرمایا کہ ۔میرا سوال ابھی تک یہی ہے کیا تعزیرات پاکستان دفعہ 295C اللہ کا بنایا ہوا ہے یا انسانوں کا جسکے جواب میں ہم نے اپنے مراسلہ نمبر 54 میں عرض کی کہ ۔ ۔ جہاں تک بات ہے 295C کی تو بلاشبہ 295C تو انسانوں کا ہی بنایا ہوا ہے مگر اس میں جو سزا ہے وہ اخذ شدہ ہے قرآن و سنت سے لہذا نتیجہ یہ نکلا کہ ۔۔295C انسانوں کا بنایا ہو اور اس میں درج شدہ سزا اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بتلائی ہوئی کہ جس پر آج تک تمام کی تمام امت متفق ہے اور جس پر شکوک و شبہات ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے پہلے تو یہ رونا رویا جاتا تھا کہ یہ مولوی کسی ایک بات پر کبھی ایک نہیں ہوسکتے اب اگر چند مسائل میں ایک ہیں تو یہ جدیدیت کے علمبردار وہاں بھی افتراق و انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ پھر اسکے بعد آپ نے اپنے سیدھے سے سوالات کو زرا اور ٹوئسٹ کرتے ہوئے مندرجہ زیل دو سوال داغے اور فرمایا کہ ۔ آپکا مراسلہ 55 بہت اچھی بات کہی آپ نے اب اگر انسان کے "اخذ کردہ" قانون پر کچھ دیگر انسان اپنے تحفظات کا اظہار کریں تو کیا کرنا چاہئے ؟ ایک ضمنی سوال کیا انسانوں کا بنایا ہوا ہے 73 کا آئین بھی اسلامی ہے اور قرآن و سنت سے اخذ کیا گیا ہے اب یہاں آپ نے بات کسی سپیسفک قانون کی نہیں کی بلکہ مطلقا انسانی فہم کی تو جس پر ہم نے اس کے فورا بعد عرض کی کہ ۔ ۔ بجا فرمایا آپ نے کہ اگر انسانی فہم سے اخذ شدہ کسی قانون پر انسانوں میں سے بعض کو اختلاف ہو تو پھر کیا کیا جائے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تو اس کے لیے عرض یہ ہے کہ اس کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ کسی بھی قانون پر اعتراض کرنے والوں کی اپنی ذاتی حیثیت کیا ہے؟؟؟؟؟؟ آیا وہ علم و فضل کے بالکل اسی مرتبہ کمال پر فائز ہیں کہ جو مرتبہ ( کمال علمی ) انھے کسی بھی قانون پر تنقید کرنے کے لیے لازم ہے یا پھر آیا وہ محض اعتراض برائے اعتراض کرنے والے وہ چند عناصر ہیں کہ جنکے اختلاف کی اصل بنیاد کوئی" علمی تحقیق " یا پھر انکا "منصب علمی " نہیں بلکہ محض انکا اپنا ذاتی فہم و عقل ہیں ۔ جب آپ نے کسی بھی قانون کو سپیسفک کیئے بغیر مطلقا انسانی فہم پر دیگر انسانوں کے تحفظات کا سوال اٹھایا تو ہم بھی اس کا جواب مطلقا ایک طریقہ کار کی وضاحت میں دیا ۔ ۔ ۔ پھر اسکے بعد آپکے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے ہم نے عرض کی کہ ۔ ۔کیا انسانوں کا بنایا ہوا ہے 73 کا آئین بھی اسلامی ہے اور قرآن و سنت سے اخذ کیا گیا ہے ؟ ۔ ۔ تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ تہتر کے آئین کی قانونی حیثیت کا تعین اس اعتبار سے تو قرآن و سنت سے نہیں کیا جاسکتا کہ یہ سارے کا سارے آئین براہ راست قرآن و سنت سے اخذ شدہ ہے سو اس اعتبار سے تو یہ اسلامی نہیں مگر ساتھ ہی ساتھ یہ ہے کہ آپ اسے غیر اسلامی یا اسلام کے خلاف قانون بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ تہتر کہ آئین میں جس چیز کو مرکزی حیثیت حاصل ہے وہ یہ ہے کہ اس ملک پاکستان میں اس تہتر کے آئین (قانون) کی روشنی میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بن سکتا لہذا اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو چونکہ 73 کے آئین کا بنیادی مرکزی نقطہ اسلام کی ہی تابعداری ہے لہزا اس اعتبار سے آپ اسے اسلامی بھی کہہ بھی سکتے ہیں ۔ ۔ اب آپ ہی بتلایئے کہ آپ کے مزکورہ بالا تمام سیدے سادھے سوالات کیا اتنے ہی سیدھے سادھے تھے کہ ان کے جوابات کا تقاضا بھی وہی ہوتا ۔ ۔ ۔ ہم نے آپ کے اس سوال کہ ۔ ۔ ۔اب اگر انسان کے "اخذ کردہ" قانون پر کچھ دیگر انسان اپنے تحفظات کا اظہار کریں تو کیا کرنا چاہئے اس سوال ککا جواب دیتے ہوئے آپکو سمجھانا چاہا کہ کسی بھی قانون پر فقط اعتراض کو ہی اس قانون میں ترمیم کا تقاضا نہیں سمجھ لینا چاہیے پہلے اس بات کا تعین کرلینا چاہیے کہ اعتراض کیا ہے؟ اور کرنے والے کون ہیں؟ اور انکی حیثیت کیا ہے ؟؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دنیا مین جتنی بھی قانون سازی ہوئی اس میں سب عامی شریک ہیں؟ یا پھر وہ تمام کی تمام قانون سازی چند اداروں کی مرہون منت ہے کہ جس میں مخصوص لوگ کہ جو اس کے اہل ہوں فقط وہی شامل ہوسکتے ہیں ۔ اعتراض تو گورے قتل کے بدلے قتل کے قانون پر بھی کرتے ہیں جو کہ قرآن کا اٹل فیصلہ ہے لہذا یہی وجہ ہے اکثر مغربی ممالک مین قتل کی سزا قتل نہیں ہے تو پھر کیا کیا جائے اس انسانی اعتراض کو بنیاد بنا کر اس خدائی قانون میں ترمیم نہ کرلی جائے ۔ ۔ جبکہ آپ کا دوسرا جو سوال تھا کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آیا واقعی وہ اتنا سیدھا سادہ سوال تھا اس کا سیدھا سادہ جواب ہی ہونا چاہیے تھا تو آپ ہی بتلائیے کہ اس کا سیدھا سادہ جواب کیا ہے ؟؟؟ آپ یقینا یہ ہی کہیں گے کہ ائین انسانوں کا بنایا ہو ہے لہذا اس میں ترمیم جائز ہے اور یہی اس سوال کا سیدھا سا جواب ہے ۔ ۔ ۔۔ ۔ تو میرے بھائی ہم کو کب اس جواب سے اعتراض ہے مگر مسئلہ تو جب پیدا ہوتا کہ جب آپ لوگ آئین میں جو کہ انسانوں کا بنایا ہوا قانون ہے ترامیم کے جواز کو بنیاد بنا کر حدود اللہ میں بھی ترامیم کی راہ نکالتے ہیں اور یوں آئین اور قرآن وسنت کے قوانین کو باہم خلط ملط کرکے غلط نتیجہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ میرے بھائی جب تک آئین پاکستان میں نافذ نہیں تھا پاکستان تب بھی اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ایک ایسا اسلامی ملک تھاکہ جسکی اکثریتی عوام اس ملک مین اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی تھی اور جب آئین وجود میں آگیا تو تب اس کے بعد بھی جو جو اسلامی قوانین اس آئین کا حصہ بنتے چلے گئے وہ اس آئین کا حصہ بننے کے اعتبار سے تو نئے تھے مگر اصلا وہی پرانے قوانین تھے جو کہ 1400 سو سال سے چلے آرہے ہیں کسی بھی آئین میں کسی بھی اسلامی قانون کا کسی بھی تعزیری دفعہ کہ تحت داخل ہونا اسکو کوئی نیا قانون نہیں بنا دیتا یاد رہے کہ توہین رسالت کی سزا قرآن و سنت کہ نصوص سے قتل ہے بغیر قبولیت توبہ کے کہ یہ ارتداد سے بھی بڑا جرم ہے اور یہ سزا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور سے لیکر آج تک امت میں تواتر سے چلی آرہی ہے اور آج تک امت میں کسی فرد واحد کو بھی اس پر اعتراض نہیں رہا سوائے آج کل کے ترقی یافتہ اور روشن خیالی کے دور کے اس میں بہت سے روشن خیال پیدا ہوگئے ہیں کہ جو اس دور کا فتنہ عظیم ہیں جو کہ مسلمانوں سے انکی قیمتی متاع یعنی ایمان جو کہ نام ہے سرا سر محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ بھی چھین لینا چاہتے ہیں لہزا آپ ان لوگوں کی باتوں مین نہ آئیے گا میرے بھائی ۔ ۔ ۔ پھر یاد رکھ لیں کہ تعزیرات پاکستان میں توہین رسالت کی سزا کا بطور حد شامل ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ یہ قانون انسانوں کا بنایا ہوا ہے یہ فقط اس بات کی دلیل ہے کہ آج سے پہلے یہ حد آئین پاکستان کا حصہ نہیں تھی اب 295 سی کے تحت یہ سزا جو پہلے سے قرآن و سنت سے ثابت تھی پاکستان کہ تعزیری قانون کا حصہ بھی بن گئی لہزا 295 سی سے پاکستان کی تعزیری قوانین میں تو بطور تعزیر اضافہ ہوا مگر حدود اللہ میں کوئی اضافہ ہرگز نہیں ہوا ۔ ۔ سوال :کبھی کہتے ہیں اعتراض کا حق ایرے غیرے کو نہیں جب ہم کہتے ہیں بھائی یہ فیصلہ قانون بنانے والوں پر چھوڑ دو تو وہ بھی منظور نہیں چلو بھائی کسی بھی فورم پر اسکا ازسرنو جائزہ تو لے لو پھر فیصلہ برقرار رکھنے کا ہو یا ترمیم کا لیکن یہاں تو اس بات کو ہی "گناہ عظیم " سمجھایا جارہا ہے الجواب :جی بالکل کسی بھی ملک میں کسی بھی قانون پر اعتراض کا حق تو ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو ہوسکتا ہے مگر اس کے اعتراضات کے ضمن میں ایسا التفات جو کہ قانون ساز ادارے کو نئی قانون سازی پر مجبور کردے تو ایسا ہونا چند وجوہات کے ساتھ ہی خاص ہوگا ۔کیونکہ دنیا میں تمام قوانین اصول و ضوابط و قواعد کے تحت ہی تشکیل پاتے ہیں اور کسی بھی قسم کی قانون سازی کا عمل مقننہ کرتی ہے نہ کہ کوئی ایرہ غیرہ لہذا اگر عوام کسی قانون سے متاثر ہوں تو وہی مقننہ اس قانون کا ہر اعتبار سے جائزہ لے گی کہ آیا عوام کی شکایات درست یا جائز ہیں ؟؟ آیا قانون میں فی الحقیقت کوئی ُسقم ہے یا پھر قانون کی تنفیذ عام( GENERAL APPLICATION ) میں کوئی مسئلہ ہے وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ ۔ اور ہم نے کب کہا کسی بھی قانون کا فیصلہ قانون بنانے والوں پر نہ چھوڑو ؟؟؟ بلکہ ہم تو اسی بات کی حمایت کررہے ہیں کہ اگر آج لوگوں کو اس قانون سے کوئی مسئلہ تو پھر وہ اس قانون پر اپنی جائز شکایات مقننہ کو بھیجیں وہ مقننہ اس قانون پر نظر ثانی کے لیے اسے اسلامی نظریاتی کونسل میں بھیجے گی مگر پہلے کوئی ٹھوس اعتراضات تو سامنے آئیں کہ جس سے اس قانون پر نظرثانی کا کوئی سالڈ گراؤنڈ مہیا ہوسکے وگرنہ فقط یہ کہہ دینا کہ ہمیں اعتراض ہے یہ قانون ظالمانہ ہے یا جانبدرانہ ہے یا اسلام کے عف و درگذر کے خلاف ہے اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رحمۃ اللعالمینی پر حرف آتا ہے ہرگز لائق التفات نہیں ۔ ۔ ۔ سوال : اقلیت کیا پاکستان کے شہری نہیں ہیں ؟ پھرتو ان کے قتل عام کا فتوی بھی جاری کر ہی دیں نا رہے بانس نا بجے بانسری میں تو آجتک یہی سمجھتا تھا مسلم ممالک میں رہنے والی اقلیت کے حقوق کا تحفظ اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہی ہوتی لگتا ہے یہ بھی ایک غلط فہمی ہی تھی بالکل اقلیتیں پاکستانی شہری ہیں اور کیوں نہیں ہیں میرے بھائی مگر کیا اقلیت کی حقوق کے تحفظ کا یہ مطلب ہے کہ انکو جرائم کرنے کی کھلی چھٹی دے دی جائے اقلیت کی بات تو آپ سب تب کریں کہ جب یہ قانون کسی مسلمان کو وہی سزا نہ دیتا ہو جوکہ اقلیت کو دے رہا ہے ۔ ۔ ۔بالکل مسلمان ملکوں میں رہنے والے ذمی اور معاہد اقلیتوں کے حقوق کی تحفظ کی زمہ داری اسلامی ریاست کی ہوتی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں ہوتا کہ کوئی اقلیتی گروہ یا کوئی منفرد کسی بھی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی سنگین جرم کا ارتکاب کریں تو ہم اس وقت اس کے اقلیتی حقوق کا رونا رونا شروع کردیں جرم جو بھی کرئے اس سزا تو ملے گی یا اقلیت ہو یا اکثریت ۔ ۔۔ سوال:"حقوق نسواں بل" کا جواب حضرت یوں دیتے ہیں کے" اسلام کے بنیادی اصول جو کہ اصل ماخذ ہیں دین کا یعنی قرآن و سنت وہ اپنے اندر بغیر کسی تغیر و تبدل و ترمیم کے اس قدر لچک رکھتے ہیں کہ ایک اسلامی فلاحی ریاست اپنا آئین و منشور اس قرآن و سنت کی چھتر چھایا میں بناتے ہوئے ہر بدلتے دور کا ساتھ دے سکتی ہے" یہی بدلتے دور کی لچک "توہین رسالت " کے قانون پر حد بن جاتی ہے جس کی طرف دیکھنا بھی حرام ہے الجواب :آپ کو غلط فہمی ہے حقوق نسواں بل چونکہ فل وقت موضوع کا حصہ نہ تھا بلکہ یہ مستقل طور پر ایک الگ مضمون کا متقاضی تھا کہ جس پر میری معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں سو اسی لیے میں نے اسکو چھوا تک نہیں میرے جس جواب جو آپ نے حقوق نسواں بل سے متعلق سمجھ لیا ہے اس میں ایسی کوئی بات نہیں بلکہ وہ اس بات کا جواب تھا کہ اسلام کے جو بنیادی اصول و قوانین ہیں یعنی قرآن و سنت وہ ہر قسم کی ترمیم سے پاک ہیں اور وہ ہر زمانہ اور ہر دور میں اپنی اصلی ہیت میں رہتے ہوئے سب ادوار کو شامل ہیں لہذا ان سے بغیر کسی تغیر و تبدل کے ہر دور میں ضمنی اجتھادی قانون سازی کا حق (مجتھد) مسلمانوں کو حاصل ہے جو کہ ان دونوں کہ زیر اثر ہوگی اور یہ اصل میں لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے اس ممکنہ سوال کا جواب تھا کہ اگر آئین میں جو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین ہے اور ایک اعتبار سے اسلامی ہی ہے اگر اس میں ترامیم ہوسکتی ہیں تو پھر قرآن و سنت میں کیوں نہیں؟؟؟ تو اس ممکنہ پیدا شدہ سوال کا جواب دیتے ہوئے ہم نے عرض کردی تھی کہ قرآن و سنت وہ بنیادی اصول ہیں جو کہ اپنی ہیئت و کیفیت و بناوٹ میں مستقل و اٹل ہیں لہذا ان سے بغیر کسی تغیر و تبدل سے استفادہ کرتے ہوئے ضمنی قانوں سازی کی جاسکتی ہے جیسا کہ آئین بھی ایک ایسی ضمنی قانون سازی ہے جو کہ قرآن و سنت کے اٹل اصولوں کے تحت بطور اجتھاد کسی بھی اسلامی فلاحی مملکت کو چلانے کے لیے ہوسکتی ہے ۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سوال : اگر کوئی غیر مسلم آج اپنی کسی کتاب میں ، یا اپنے کسی قول میں یا اپنی کسی تحریر میں یا اپنے کسی عمل سے یا ظاہر کرتا ہے کہ " محمد (صلی اللی علیہ وسلم) (نعوذ باللہ) پاگل تھے، دیوانے تھے، جادوگر تھے" تو کیا یہ توہین رسالت کے ذمرے میں آئے گا؟
الجواب: آپکے اٹھائے گئے سوالات کہ مختصر ترین جوابات کہ ساتھ حاضر خدمت ہوں اوپر جو عبارت آپ نے نقل کی وہ بلا شبہ قانون توہین رسالت کی زد میں آتی ہے اگر ایسا کہنے یا کرنے یا لکھنے والا کسی اسلامی ریاست کا باشندہ ہے تو پھر اسلامی ریاست کا کام ہے کہ اس پر توہین رسالت کا مقدمہ قائم کرکے کہ اس کو کیفر کردار تک پہنچائے اور اگر ایسا فعل شنیع کرنے والا کسی غیر مسلم ملک کا باشندہ ہے تو پھر وہ مسلمانوں کے لیے مباح الدم ہے لیکن مین سمجھتا ہوں کہ موجودہ دور میں امت مسلمہ کی جو حالت اس ضمن میں امت کو ایک تو اپنا تشخص اور اثرو رسوخ پوری دنیا میں بڑھانا چاہیے اور دوسری طرف غیر اسلامی ریاستوں سے ایسے معاہدات قائم کرنے چاہیں کہ جنکے زریعے وہ غیر اسلامی ریاستیں اس قسم کے افعال کو روکیں نیز اس ضمن مین تمام اسلامی ممالک کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہوکر کوئی مناسب قانون سازی بھی کرنی چاییے کہ جس سے ساری دنیا کو پریشرائز کیا جاسکے ۔ ۔ سوال: اگر کوئی غیر مسلم آج اُٹھ کر یہ کہہ دیتا ہے کہ "محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) (معاذاللہ) جھؤٹے تھے" تو کیا یہ توہین رسالت کے ذمرے میں آ جائے گا؟ اور اگر کوئی غیر مسلم اُٹھ کر کہہ دے کہ (نعوذ باللہ) قرآن جھوٹا ہے، غلط ہے، اس میں نقائص ہیں، یہ جھوٹ کی تعلیم دیتا ہے، یہ تشدد پر اُبھارتا ہے اور ثبوت میں بظاہر من گھڑت سی دلیلیں پیش کرے تو کیا وہ توہین قرآن کا مرتکب ہو گا؟ الجواب : بلاشبہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک عیب کو منسوب کرنا ہے اور یہ سب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آتا ہے اور اس پر بھی حد لگے گی ۔ ۔ ۔ طریقہ کار وہی اوپر والا ہوگا ۔ ۔ بلاشبہ یہ توہین قرآن ہوگی مگر اس کے لیے بھی پاکستان کے تعزیری قانون میں اسلامی نظائر کو سامنے رکھتے ہوئے مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہوگی ۔ مزید دو سوالات : کسی اور نبی کی توہین کے بارے میں کوئی قانون کیوں نہیں ہے؟ اللہ کا رتبہ نبی سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ اللہ کی توہین کے بارے میں کوئی قانون کیوں نہیں ہے۔ اور اگر ہے تو آج تک اُس پر عمل کیوں نہیں ہوا یا سامنے کیوں نہیں آیا؟ الجواب : جہاں تک میں نے پڑھا ہے اور میرا مطالعہ ہے تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ اسلامی فقہی تاریخ میں ایسے نظائر موجود ہیں کہ جن میں اللہ اور اسکے رسول اور کتاب اللہ کے ساتھ ساتھ دیگر تمام انبیاء کی توہین پر بھی سزائے موت کا حکم لگایا گیا ہے مگر بد قسمتی سے پاکستان کے تعزیراتی قانون میں ان امور کی جدا جدا نشاندہی نہیں کی گئی میں اپنے آئندہ آنے والے چند مراسلات میں کوشش کروں گا کہ امور کی نشاندہی تاریخ اسلام سے کسی مستند دستاویز سے حاصل کرکے کرسکوں ۔ ۔ ۔ سوال: کسی جرم کی سزا اس جرم سے بڑھ کر نہیں ہونا چاہئیے؟ الجواب: بالکل بجا فرمایا کہ کسی بھی جرم کی سزا اس سے بڑھ کر نہیں ہونی چاہیے لہذا ہر اعتبار سے سوچا اور سمجھا جائے تو کائنات کی معزز ترین ہستیوں یعنی انبیاء کرام کی گستاخی سے بڑا شاید ہی کوئی جرم ہو کیونکہ یہ وہ مبارک ہستیاں کہ اللہ کا مبارک کلام ان کے درجات کو بلند فرماتا ہے اور انکی عزت و عصمت کی پاکیزگی کا چرچا کرتا ہے اللہ پاک نے ان سب کو تمام انسانیت سے افضل پیدا فرمایا اور انکی عظمت و عصمت کو سب پر فائق فرما کہ ان کی عزت اور حرمت کا پاس تمام انسانوں پر فرض فرمایا لہذا ان میں سے کسی ایک کی بھی ادنٰی سی بھی گستاخی درحقیقت انکو عظیم تر بنانے والی ہستی (خدا) کی شان میں طعن ہے اور اللہ پاک کہ ان ہستیوں کو بخشی ہوئی عزت و عظمت و رفعت و پاکیزگی کو چیلنج کرنا ہے نیز اسکی بنائی ہوئی اس عظیم مخلوق (انبیاء کرام) کو کم تر جاننا درحقیقت اس (اللہ ) کو (معاذ اللہ) کم تر جاننا ہے لہذا اس کائنات میں گستاخی رسول سے بڑا جرم شاید ہی کوئی اور ہو کیونکہ اگر ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و عصمت ہی کا پاس نہ رکھ سکیں تو پھر ساری کی ساری الہامی تعلیمات داؤ پر لگ جاتی ہیں وہ رسول جو واسطہ ہے اللہ اور اسکے بندوں کے درمیان جب وہ واسطہ ہی متنازعہ بنانے کی کوشش کی جائے تو پھر اس واسطے سے آنے والی تعلیمات جو کہ بذریعہ وحی آتی ہیں ان پر کب اعتبار رہتا ہے ۔۔ سچ کہا آپ نے کہ کسی بھی جرم کی سزا اس سے بڑھ کر نہیں ہونی چاہیے توہین رسالت کی سزا کا تو یہ تقاضا تھا کہ جس قدر یہ جرم سنگین ہے ،اسکی سزا قتل سے بڑھ کر کچھ ایسی اذیت ناک ہوتی ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کوئی اور ایسی قبیح حرکت کا سوچ بھی نہ سکتا ،گستاخ کے جرم کی سنگینی اور شقاوت کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو قتل تو ایسے بد بخت کے لیے فی الفور رہائی اور سستے داموں میں چھوٹنا ہے مگر چونکہ ہم اس معاملے میں شریعت کے پابند ہے کہ شرع میں اس کی سزا یہی ہے سو حکمت اسی پر مصر ہوئی کہ ایسے ظالم کا خاتمہ ہی کردیا جائے تاکہ اس کہ زندہ رہنے سے اس کے بھیانک جرم کے اثرات کے پھیلنے کا جو خدشہ ہم وقت لگا رہنا تھا اس سے باقی انسانیت کو فی الفور نجات مل جائے ۔ توہین رسالت کے مجرم کے لیے تو قتل بہت ہی چھوٹی سزا ہے اگر اسکے جرم سے اس کا تقابل کیا جائے تو بہت ہی کم سزا ہے کیونکہ اسکا جرم اتنا بڑا اور سنگین ہے کہ اس کی جتنی بھی سزا دی جائے وہ کم ہے ۔۔ ۔ سوال : جذباتی طور پر سوچا جائے تو اللہ تعالی کی شان میں گستاخی کرنے والا ، عیسی علیہ السلام کے رب کی شان میں گستاخی کرنے والا بھی ہے۔ پھر عیسی علیہ السلام ہی نہیں وہ تمام انبیاء جو --- مسلمان ملک ---- کے --- مسلمانوں --- کی کتب میں موجود ہیں۔ ان کی شان میں گستاخی کیو ں روا رکھی جائے؟؟؟ الجواب : بلاشبہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرنے والے کی دنیاوی سزا نصوص ِ شرعیہ اور مذاہب عالم کی رو سے صرف اور صرف” سزائے موت ہے“ اس پر جمہور علماء امت کا اجماع واتفاق ہے‘ اس اجماع واتفاق کو ہمارے قانون ساز اداروں (ایوانِ زیریں وایوانِ بالا) دونوں نے پوری قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے متفقہ طور پر قبول کیا ہے۔ چناچہ اس ضمن میں محمد اسماعیل قریشی اپنی مشھور زمانہ کتاب ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قانون توہین رسالت میں رقم طراز ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ اس 298 -الف ۔ ۔تعزیرات پاکستان کہ اضافہ سے صرف امہات المومنین ،اہل بیت، خلفائے راشدین یا اصحاب رسول کی بے حرمتی اور انکی شان میں گستاخی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا تھا لیکن خود اس مقدس ترین ہستی، جس سے نسبت کی وجہ سے انھیں یہ مرتبہ حاصل ہوا ، انکی جناب میں گستاخی ،اہانت ،توہین ۔تنقیص ،طعنہ زنی،بہتان تراشی جیسے سنگین اور ناقابل معافی جرم کے بارے میں کوئی سزا تجویز نہیں ہوئی ،اس لیے اس کوتاہی اور کمی (omission) کو پورا کرنے کے لیے سال 1984 ء میں راقم کی طرف سے شریعت پٹیشن نمبر 1 سال 1984ء فیڈرل شریعت کورٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان ،صدر پاکستان اور گورنرہائے پاکستان کے خلاف دائر کی گئی ۔ ۔۔ اس شریعت پٹیشن کا فیصلہ ابھی محفوظ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں " عاصمہ جہانگیر " نامی خاتون نے بالواسطہ گستاخی کی ، جس پر محترمہ آپا نثار فاطمہ نے راقم کے مشورہ سے توہین رسالت کی سزا سزائے موت کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا ، جو فوجداری قانون (ترمیمی)ایکٹ نمبر3 سال 1986 ءکی صورت میں منظور ہوا ،جسکی رو سے تعزیرات پاکستان میں 295-سی کا اضافہ کیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ چونکہ توہین رسالت کے متذکرہ بالا بل میں اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا ،بطور حد کے سزائے موت کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اس میں سزائے موت کے متبادل سزا، عمر قید ،جو دفعہ 295-سی میں رکھی گئی ،وہ قرآن و سنت کی منافی تھی، اس لیے راقم نے دوبارہ اس دفعہ سے " عمر قید " حذف کرنے کا مطالبہ بذریعہ شریعت پٹیشن کردیا کہ توہین رسالت کی سزا بطور "حد" صرف سزائے موت مقرر ہے اور حد میں کسی قسم کی کمی یا بیشی نہیں کی جاسکتی ۔یہ شریعت پٹیشن فیڈرل شریعت کورٹ نے اپنے فیصلہ 30 اکتوبر 1990ء کے زریعہ منظور کرلی اور قرار دیا کہ اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا بطور حد صرف سزائے موت ہے ۔ فیڈرل شریعت کورٹ نے توہین رسالت کا یہ فیصلہ صدر پاکستان کو ارسال کردیا تھا کہ 295-سی تعزیرات پاکستان میں ترمیم کرکے "عمر قید" کے الفاظ 30 اپریل 1991ء تک حذف کردیئے جائیں ورنہ اس تاریخ سے "عمر قید" کے الفاظ اس دفعہ سے غیر مؤثر ہوجائیں گے ۔ اس فیصلہ میں حکومت پاکستان کو مزید ہدایت کی گئی کہ اس دفعہ میں ایک اور شق کا اضافہ کیا جائے کہ جسکی رو سے دوسرے تمام انبیاء کی اہانت کی سزا بھی سزائے موت مقرر کی جائے ۔ سوال: وجہ میں بھی سقم موجود ہے۔اگر آنکھ کا بدلہ آنکھ، کان کا بدلہ کان، ہاتھ کا بدل ہات ، جان کا بدلہ جان وغیرہ ہے تو پھر بات کا بدلہ جان کیسے ہوگیا؟ کہاں تو قتل بھی خون بہاسے معاف ہوسکتا ہے اور یہاں گستاخی کی سزا موت؟؟ یہ سزا بھی غیر منطقی ہے۔ اس قانون میںترمیم کی ضرورت ہے ، الجواب: وجہ میں کوئی سقم موجود نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ آنکھ کا بدلہ آنکھ بالکل درست لیکن یہاں بات کا بدلہ موت نہیں بلکہ ایک ایسے سنگین جرم کا بدلہ موت طے کیا گیا ہے کہ اس کا بدلہ موت سے بھی بڑھ کر کچھ ہوتا تو بھی کم تھا جس بات کے بدلے کو آپ موت قرار دے رہے ہیں وہ بات آپ کے یا میرے بارے میں نہیں کہی جاتی کہ جس بات کا بدلہ موت ہونا خلاف عقل ہوتا بلکہ یہ وہ بات دیدہ درہنی کا موجب بنتی ہے ان برگزیدہ ہستیوں کی شان میں کہ جن کی طہارت اور پاکیزگیوں کی گواہیاں اللہ کے قرآن میں موجود ہیں اور جنکو علو و مرتبت خود خالق کائنات نے عطا فرمائی لہذا ان ذوات مقدسہ کی ادنٰی سی بھی بے ادبی خود خالق کائنات پر اعتراض اور ا سکے نازل کیے گئے نظام کے خلاف بغاوت ہے اور بغاوت کی سزا تو دنیا کے تمام ممالک میں واضح طور پر کیا رائج ہے آپ جانتے ہی ہیں ۔ ۔ ویسے اگر عقل اور منطق کی رو سے بھی دیکھا جائے تو ہمیں اپنے مخالف کا جنگ کرنا یا اس کا ہم کو مارنا پیٹنا اتنا دکھ نہیں پہنچاتا کہ جتنا اگر وہ ہماری کردار کشی کرئے اس پر غصہ آتا ہے یہ انسانی نفسیات ہے کہ یہ معاشرے کے دیئے گئے دھکے کی وجہ سے پہاڑ سے گرنا تو گوارا کرسکتی ہے مگر وہ انسان خود اسی معاشرے کی نظروں میں بھی گر جائے یہ اسے (انسانی نفسیات کو) کبھی گوارا نہیں ہوتا یعنی ہم لوگ اپنے جسم پر تو زخم کھا سکتے ہیں مگر اپنی عزت نفس کو مجروح ہوتا ہرگز نہیں دیکھ سکتے لہذا کہاں ہم جو اپنی عزت نفس کا مجروح ہونا نہیں برداشت کرپاتے اور کہاں کائنات کی وہ بلند پرواز ہستیاں کے جو اس کائنات میں خالق کائنات کی خاص چنیدہ ہیں کہ اس کا پیغام ہمیں انہی کی وساطت سے ملا انکی عزت و عظمت و ناموس کے تو کیا ہی کہنے ۔ ۔ ۔ لہزا اس قانون میں اس سزا کا سزائے موت ہونا کے حوالہ سے تو کسی ترمیم کی گنجائش نہیں ہاں البتہ اگر اس قانون کی تنفیذ کے حوالہ کچھ پیچیدگیاں ہیں تو ان کے لیے بلاشبہ 295 -سی میں ترمیم کرکے اس قانون کو زیادہ اعتبارات سے مؤثر بنایا جاسکتا ہے ۔ سوال: اس جرم کی سزا کو تمام مذاہب کے لئے ہونے والی گستاخی کے تناظر میں دیکھا جائے اور فیصلہ کیا جائے کے اگر دو یا چار مسیحی گواہی دیتے ہیں کہ زید نے حضرت عیسی کی شان مین گستاخی کی ہے تو کیا زید کی گردن کاٹدی جائے؟ انصا ف شرط ہے اے صاحب الطافِ خصوصی ۔۔۔۔۔۔ الجواب : بلا شبہ اسلام تمام مذاہب کے آداب اور انکے مذہبی عقائد کے احترام کا حکم دیتا ہے مگر کسی بھی دوسرے مذہب کی توہین کے لیے قانون سازی اول اسلام کی ذمہ داری نہیں۔چاہے وہ مذہب الہامی ہو یا غیر الہامی ہاں البتہ الہامی مذاہب کے تناظر میں وہ ہستیاں جوکہ مسلمانوں اور انکے درمیان مشترک ہیں جیسے یہود و نصاری کی طرف آنے والے انبیاء و رسل تو انکی توہین پر قانون سازی بلاشبہ اسلام میں پہلے سے ہی موجود ہے ۔ رہ گئے ان مذاہب کہ دیگر عقائد و معاملات تو انکا اسلام فقط احترام کرے گا مگر انکی اہانت پر خود سے اولا کوئی قانون سازی نہیں کرے گا الا یہ کہ کسی اسلامی ریاست میں کوئی ایسا استثنائی کیس سامنے آجائے کہ جس پر ذمیوں کے حقوق کے احترام میں کسی تعزیری دفعہ کا نفاذ کرنا ضروری ٹھرے ۔ رہ گئے ہندو مت اور اس قسم کے دیگر خود ساختہ مذاہب جو کہ غیر الہامی مذاہب کے قبیل سے ہیں تو اسلام انکے عقائد کے احترام کا تو حکم دیتا ہے مگر ان کی توہین کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کرتا ہاں وہ اگر چاہیں تو اپنے ملکوں میں شوق سے اپنے بھگوانوں کی تحفظ ناموس کے قانون متعارف کروائیں ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ۔ ۔ ۔۔ سوال : مثلا ابھی آسیہ بی بی والے کیس کو دیکھ لیں، آسیہ کی مذکورہ گستاخی کا کوئی بیان ہی نظر نہیںآ رہا ہے!!!! آخر اُس عورت نے ایسا کیا کہا اور کیا ہے کہ اُسے کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہو گیا ہے؟؟؟ اور اگر ایسا نا کیا گیا تو ہم سب کسی عذاب کے مستحق ہوں گے!!!! الجواب: آپ نے بار بار یہ سوال اٹھایا کہ آسیہ بی بی نے ایسا کیا کہا جو لوگ اس کے درپے ہوگئے وہ کیا الفاط تھے جو کہ توہین رسالت کے ضمرے میں آتے ہیں نیز ابھی تک یہ نہیں بتلایا گیا کہ آسیہ کا بیان کیا تھا وغیر وغیرہ ؟؟؟؟ تو میرے بھائی عرض ہے کہ اس قسم کے معاملات کہ جن سے لوگوں کہ مذہبی جذبات مجروع و مشتعل ہوتے ہوں وہ عام فورمز یا میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم پر کھلے عام (openly) نہ تو ڈسکس ہوتے ہیں اور نہ ہی انکی تشہیر کی جاتی ہے کیونکہ اس سے پھر عامۃ الناس کہ جذبات کے بھڑکنے کا خدشہ ہوتا کہ جس سےخدشہ نقص امن اور فساد فی الارض جیسے مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں جو کہ کسی بھی ریاست کے لیے انتہائی خطرناک ہوتے ہیں۔ لہذا اس قسم کے مسائل میں کیا یہ جاتا ہے کہ اگر بعض ایسے نقاط پر گفتگو کرنا لازم بھی ہو تو اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ لوگوں کہ جذبات بھڑکنے سے بچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ محفوظ راستہ اختیار کیا جائے لہذا اس کے لیے قاعدہ یہ مقرر کرلیا جاتا ہے کہ ان اشتعال انگیز الفاظ کو بار بار ہر فورم ہر نہ دہرایا جائے اور باالخصوص ہم میں سے کوئی بھی میڈیا پرسن جو کہ غلامان رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہو اسے اگر اس موضوع پر کسی بھی فارم آف میڈیا میں کچھ کہنا پڑے تو وہ ان سنگین الفاظ کو اپنے قلم سے دہرانے کو بھی سوء ادب جانتا ہے اور حتی المقدور کوشش کرتا ہے کہ ان الفاظ کے دوہرانے سے سے اجتناب کرے چہ جائیکہ کہیں ناگزیر ہوجائے تو نقل کفر، کفر نا باشد کی مثال نقل کردے اور ویسے بھی میرے بھائی آسیہ کے الفاظ کا میڈیا پر نشر نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ اس نے کوئی جرم ہی نہیں کیا ہوگا بلکہ وہ اس بات کی دلیل ہے کہ میڈیا اس قسم کے معاملات میں محتاط رویہ جان بوجھ کر رکھ رہا تاکہ ایسے قبیح الفاظ سن کر عامۃ المسلمین کے جذبات اشتعال میں نہ آجائیں ۔ ۔ ۔ اسی سلسلے میں روزنامہ نوائے وقت کی مورخہ 4 دسمبر کی اشاعت میں قدرے کچھ تفصیل ملی ہیں وہ آپکے ساتھ شئر کرتا ہوب شاید آپکی تشفی کا ساماں یہاں سے میسر ہوسکے کہ آسیہ کے ساتھ پاکستان کی عدالتوں میں کوئی ظلم ہرگز نہیں ہورہا ۔ ۔ فضل حسین اعوان " تحفظ ناموس رسالت قانون میں تبدیلی و ترمیم ناممکن " کے عنوان کے تحت روزنامہ نوائے وقت کی مورخہ 4 دسمبر ، 2010 کی اشاعت میں رقم طراز ہیں کہ ۔ ۔۔۔۔۔ اٹانوالی کی آسیہ کا معاملہ انسانی حقوق کا ہوتا تو اسلام سے بڑا کوئی مذہب انسانی حقوق کا علمبردار نہیں۔ دین حق کے پیروکار اور انسانیت کے محسن حضور علیہ السلام کے نام لیوا آسیہ کی مدد کو پہنچ جاتے۔ ایک خاتون پر ظلم تو دور کی بات اس کی طرف اٹھنے والی انگلی بھی حضور کے امیتوں کےلئے ناقابل برداشت ہے۔ یہاں تو ایک خاتون کی جان داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اب کچھ لوگ آسیہ کو پھانسی کے پھندے سے اتار لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ تو اس قانون کا ہی خاتمہ چاہتے ہیں جس کے تحت آسیہ کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ کیا یہ لوگ جذبہ صادق کے تحت ایسا کر رہے ہیں۔ ان کو انسانی حقوق نے ایسا کرنے پر آمادہ کیا یا یہ دین میں جدت پسندی کو درلانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہ تو طے ہے دین اسلام میں رہنا ہے تو خود کو اس کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔ دین کو اپنی خواہشات کے مطابق قطعاً قطعاً نہیں بدلا جا سکتا۔ اگر کسی کے اندر یہ احساس جاگزیں ہو گیا ہے کہ اسے مسلمان گھرانے کے اندر پیدا نہیں ہونا چاہئے تھا تو وہ اس کا ازالہ اور مداوا آج بھی کر سکتا ہے۔ دین اسلام چھوڑ جائے۔ دین چھوڑنے کے بعد معمولی سی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ اپنے سر کی صورت میں۔ آئیں میدان میں اور اپنے باطن کا کھل کر اظہار فرما دیں۔ آسیہ کا معاملہ صرف پانی تک محدود نہیں۔ پانی کی بات ہوتی ہے تو ہم مسلمانوں کے دل پسیج جاتے ہیں ہمیں واقعہ کربلا یاد آجاتا ہے۔ کوئی مسلمان کسی دوسرے انسان کو پیاسا نہیں دیکھ سکتا ہے۔ آسیہ کو کسی نے پانی پینے سے منع نہیں کیا۔ وہ مسلمان خواتین کے ساتھ کھیت میں فالسہ توڑ رہی تھی اس نے مسلمان خواتین کو پانی پلانا چاہا تو انکار پر آگ بگولا ہو گئی۔ پانی نہ پینے کی وجہ آسیہ کا عیسائی اور دیگر خواتین کا مسلمان ہونا تھا۔ آسیہ نے اس موقع پر جو کچھ کہا وہ تھانہ صدر ننکانہ صاحب میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں موجود ہے۔ یہ ایف آئی آر میرے سامنے ہے۔ آسیہ نے جو کچھ کہا وہ لکھنے سے قلم لرزاں ہے۔ اس نے حضور علیہ السلام کی بیماری انتقال اور حضرت خدیجہ سے نکاح کے بارے میں انتہائی گستاخانہ اور توہین آمیز ریمارکس دئیے۔ ملعونہ نے شان رسالت میں جو کچھ کہا میں نے زندگی میں ایسا پہلی بار پڑھا یا سنا ہے۔ جو مسلمان ہونے کے باوجود آسیہ کی وکالت کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ آسیہ نے کیا کہا؟ اگر معلوم نہیں تو ایف آئی آر منگوا کر پڑھ لیں۔ محترمہ طیبہ ضیا بھی! معززین اور ایس پی شیخوپورہ سید محمد امین کی موجودگی میں آسیہ نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی 19جون 2009ءکو آسیہ پر مقدمہ درج ہوا اس کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب نے 11 نومبر 2010ءکو ملزمہ کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ گورنر صاحب جیل میں جا کر آسیہ سے ملے اور کہا کہ ان کی تحقیق کے مطابق آسیہ بے گناہ ہے۔ جس مقدمے کے فیصلے میں ڈیڑھ سال لگ گیا گورنر نے ایک دن کی تحقیق سے اسے غلط قرار دیکر اپنے فیصلے کو مبنی برحقیقت قرار دے دیا کیوں نہ فوری اور سستے انصاف کیلئے مقدمات گورنر صاحب کو ریفر کر دئیے جایا کریں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ اور وکلاءاس پر غور فرمائیں۔ فوری سستے انصاف کے خواہش مند مدعی براہ راست گورنر صاحب سے رجوع کر لیا کریں۔ گورنر صاحب نے تحفظ ناموس رسالت قانون کو کالا قانون قرار دیا ان کی دیکھا دیکھی مغربی ممالک کی پروردہ این جی اوز نے بھی تحفظ ناموس رسالت قانون کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا۔ کئی ”پھپھے کٹنی“ قسم کی عورتوں نے اپنے جیسی کے توسط سے تحفظ ناموس رسالت قانون میں تبدیلی کا بل بھی قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا۔ پاکستان میں اگر کسی بات پر اتفاق ہے تو عظمت ناموس رسالت پر۔ ”توہین رسالت کی سزا موت ہے“ اس سے کسی مسلمان کو اختلاف نہیں۔ اس قانون کا خاتمہ تو کجا اس میں تبدیلی پر بات سننے پر بھی مسلمان تیار نہیں یہ پارلیمنٹ میں بھی لے جایا گیا تو حشر این آر او جیسے بل سے بھی بھیانک ہو گا۔ ویسے بھی بابر اعوان نے کہہ دیا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے تحفظ ناموس رسالت قانون میں تبدیلی و ترمیم نہیں ہو سکتی۔ ہمیں بابر اعوان کی صلاحیتوں پر مکمل بھروسا ہے۔ انہوں نے تو سوئس کیسز اوپن نہیں ہونے دئیے ان کیسز میں قوم تو کیا خود ان کا اپنا ضمیر بھی ان کے ساتھ نہیں۔ تحفظ ناموس رسالت پر تو پوری قوم چند شطونگڑوں اور شطونگڑیوں کے سوا ان کے ساتھ ہے اور پھر پارلیمنٹ میں بھی محبان رسول بیٹھے ہیں۔ قوم فکر نہ کرے۔ ناموس رسالت قانون ختم ہو گا نہ اس میں تبدیلی ہو گی۔ بالفرض ایسا ہو گیا تو ایسا کرنے والے غازی علم دینوں کی غیرت کو خود آواز دیں گے ۔ ۔ سوال: اس سے قطع نظر ۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔۔ آج بھی کوئی نہیں جانتا کہ آسیہ بی بی نے کہا کیا تھا۔ اگر آپ قادیانیوں کے نبی کو جھوٹا قرار دیتے ہیں تو آپ اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے ہیں ؟اس لئے کہ یہ آپ کے ملک کا قانون ہے۔ ؟؟؟؟ الجواب : آسیہ نے کیا کہا ہے اور کیا نہیں کہا اس کا فیصلہ کرنے کے لیے ملک میں عدلیہ کا نظام موجود ہے اگر اس نے کچھ غلط نہیں کہا تو بھی کورٹ فیصلہ کرے گی اور اگر اس نے کچھ ایسا غلط کہا تو بھی اس کا فیصلہ کورٹ کو کرنے دیں اور برائے مہربانی بہت ہوچکا اب اس قانون توہین رسالت کو آسیہ بی بی سے نہ جوڑا جائے آسیہ آسیہ آسیہ کی رٹ چھوڑ کر اب وقت آگیا ہے کہ اگر واقعتا اس قانون پر آپ لوگوں کے کوئی عقلی شبہات ہیں تو وہ یہاں پیش کیجیئے تاکہ اگر کسی قسم کا کوئی سُقم اس قانون کی تنفیذ میں رہتا ہو تو اسے نکال باہر کیا جائے ۔ ۔ جہاں تک بات ہے قادیانیوں کے نبی کی جھوٹا ہونے کی تو عرض ہے کہ اسے (یعنی مراز قادیانی کو) ہم اس لیے جھوٹا نہیں کہتے کے پاکستان کا قانون اسے جھوٹا یا کافر قرار دیتا ہے بلکہ اسے ہم اس لیے جھوٹا کہتے ہیں قرآن و سنت اسے جھوٹا کہتے ہیں لہذا جب تک پاکستان کے قانون میں قادیانیوں کو کافر نہیں کہا گیا تھا اس سے پہلے بھی آج بھی اور قیامت تک کے لیے وہ جھوٹا تھا ہے اور رہے گا نیز اس پر عقل اور نقل دونوں سے بے شمار دلائل و شواہد موجود ہیں۔ سوال: لیکن آپ کیوںبھول جاتے ہیںکہ دوسرے فرقے ، مذاہب، جیسے ہندو مت، عیسائی اور یہودی آج بھی آپ کے نبی کو سچا نبی قرار نہیںدیتے۔ جی؟ یہ تو ان کا ایمان ہے۔۔۔۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ جناب آپ کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے تو ان کا جواب انکار میں ہوگا۔ نعوذباللہ۔۔۔ یہ ان کے ایمان کے عین مطابق ہے۔ اگر وہ نبی اکرم کو سچا نبی مانتے تو آج مسلمان نا ہوتے ؟؟؟؟؟ کیا آپ ایک شخص کو صرف اس کے اپنے مذۃب پر ایمان رکھنے کے جرم میں سزا دے سکتے ہیں؟ الجواب : جی نہیں ہم کسی شخص کو محض اس کے عقیدے یا ایمان کی وجہ سے سزا نہیں دے سکتے اور نہ ہی اسلام میں اسکی اجازت ہے بلکہ اسلام کا تو کُھلا اعلان ہے کہ کسی بھی دین کو اختیار کرنے میں کسی پر بھی کوئی جبر نہیں ہے رہ گئی آپکی یہ عقلی دلیل تو اس کا قانون توہین رسالت سے کوئی ربط نہیں کیونکہ توہین رسالت یہ نہیں کہ لوگ اپنے اپنے ایمان و عقیدہ کے تقاضا میں اپنے مذہب کو سچا اور دیگر مذاہب کو اسلام سمیت جھوٹا جانیں بلکہ توہین رسالت اس سے الگ ہٹ کر ایک تخصیصی(specific)مسئلہ ہے ۔ پہلی تو بات یہ ہے کہ ہمیں کسی غیر مسلم سے یہ پوچھنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں کہ اس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے یا نہیں کیونکہ ایسا پوچھنا ہی خلاف عقل بات ہے اور کوئی بد عقل ہی ہوگا جو کہ کسی غیر مسلم کہ جسکا غیر مسلم ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نبی رحمت پر ایمان نہیں رکھتا سے پوچھے کہ تم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہو یا نہیں ۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ دیگر مذاہب کہ لوگوں کا اپنے ایمان اور عقیدہ کے مطابق یہ نظریہ ہے کہ ان کا دین سچا اور انکے علاوہ باقی دین جھوٹے ہیں تو عرض ہے کہ اس میں بھی ان لوگوں کو اپنے ایمان کے تقاضا کہ مطابق ایسا سوچنے کی بالکل اجازت ہے کیونکہ یہ انکا تقاضا ایمان ہے اور اسلام اس پر کوئی قدغن نہیں لگاتا لہذا وہ اپنے ایمان اور تقاضا ایمان کہ مطابق اسلام سمیت دیگر تمام مذاہب کو بلا شبہ غلط اور جھوٹا سمجھتے رہیں اس سے نہ تو اسلام کی توہین ہوتی ہے نہ ہی قرآن اور صاحب قرآن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی،کیونکہ یہ بات انکے عقیدے کا تقاضا ہونے کی حیثیت سے انکے ایمان کے ساتھ ملزوم تھی کہ وہ ایسا سوچیں لہذا وہ ایسا ہی سوچیں گے اور سمجھیں گے ۔ پھر عرض کردوں کہ جہاں تک بات ہے توہین رسالت کی تو اسکا تعلق کسی کے ایمان اور عقیدے کے تقاضا کہ مطابق اسلام اور پیغمبر اسلام کو غلط یا جھوٹا سمجھنے سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ کو ممتاز (specify)کرتے ہوئے آپ کی ذات پر طعن و تشنیع کرنے سے ہے جو کہ کسی بھی دین کا نہ تو تقاضا ہے اور نہ ہی ایمان کا حصہ ۔ ۔۔ ۔ جیسے ہم دین اسلام کے پیرو ہیں اور ہم ہندو مت کو جھوٹا اور خود ساختہ دین سمجھتے ہیں اور ایسا ہی ہمارا ایمان ہے مگر ہمارے ایمان کا یہ تقاضا نہیں کہ ہم ہندو مت کے عقائد یا ان کی معتبر ہستیوں کی توہین کریں اور نہ ہی ہمارا دین ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے دین میں ایمان کا تقاضا فقط یہ ہے کہ فقط دین اسلام کو ہی سچا دین جانا اور مانا جائے اور اسکے علاوہ باقی تمام ادیان کی نفی کرتے ہوئے انھے باطل سمجھا جائے مگر اس کے لیے ڈھنڈورا پیٹنے کا کوئی تقاضا نہ تو کبھی اسلام نے کیا اور نہ ہی ہے ہاں جہاں تک بات ہے تبلیغی پوائنٹ آف ویو کی تو اس کے لیے بھی اصول ہیں کہ لوگوں کو عقل کی بنیاد پر ان کے عقائد کا خود ساختہ ہونا با احسن طریقہ سے واضح کیا جائے نہ کہ انکے جھوٹے خداؤں کا محض جھوٹا جھوٹا کہنے کی رٹ لگائی جائے اور ویسے بھی اس قسم کے کاموں کے لیے مختلف پلیٹ فارمز ہیں کہ جن پر ان کے اہل لوگ ہی جاکر یہ تبلیغ کرسکتے ہیں جیسے تقابل ادیان کا ایک پلیٹ فارم موجود ہے کہ وہاں پر ایسے قابل حضرات جو کہ دین کی بنیاد کو بھی جانتے ہوں اور دیگر ادیان پر بھی انکی اسٹڈی ہو وہ جاکر تبلیغ کا فریضہ انجام دیں اور یوں اسلام کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ اسلام کے متعلق لوگوں کی غلط فہمیاں بھی دور کریں جیسا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کا یہ اسپیشل سبجیکٹ ہے اور وہ اپنا یہ کام بخوبی نباہ بھی رہے اور ان سے پہلے احمد دیدات بھی تھے وغیرہ ۔ ایک بار پھر عرض کردوں کا کسی کا اپنے ایمان و عقیدہ کے تقاضا کے مطابق دین اسلام کو جھوٹا اور باطل سمجھنا اور بات ہے جبکہ کسی کا اسپیشلی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ کو ٹارگٹ کرتے ہوئے آپ کی طرف کسی عیب کو منسوب کرنا ایک الگ بات ہے دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ویسے بھی اپنے عقیدہ کے مطابق دوسروں کا غلط سمجھنے کے لیے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ دوسروں کے غلط ہونے کا ڈھنڈورا بھی پیٹا جائے نیز یہ بھی کہ کسی کو اپنے ایمان کہ تقاضا کہ مطابق غلط سمجھنا اور بات ہے جبکہ اس کو جھوٹا کہنا اور بات ہے کیونکہ کہنے میں اکثر تخصص (specify) کرنا پڑتا ہے کہ کس اعتبار سے آپ دوسرے کو کیا کہہ رہے ہیں جبکہ سمجھنے کے لیے کسی تخصیص(specification) کی ضرورت ہی نہیں ۔ لہذا اگر کوئی اپنے دین کے تقاضا کہ مطابق دین اسلام اور پیغمبر اسلام کو (معاذاللہ) غلط سمجھے گا تو اس کا یہ عمل توہین نہیں ہوگا کیونکہ یہ اس کا اپنے دین پر ایمان کا تقاضا تھا لیکن اگر کوئی سپیسیفائی کرکے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار و اخلاق کے حوالہ سے آپکی طرف جھوٹا ہونے کی نسبت کرئے تو ایسا کرنا اسکے دین و ایمان کا تقاضا ہرگز نہ تھا لہذا یہ سراسر توہین رسالت کے ضمرے میں آتا ہے ۔ سوال: کیا آپ قادیانیوں کے نبی کو جھوٹا کہنے کے جرم میں قتل کئے جاسکتے ہیں؟ اگر کسی ملک میں قادیانی بڑھ گئے تو کیا آپ ان کو یہ حق دیں گے؟ الجواب : دیکھئے قادیانی اور دیگر غیر مسلموں کا معاملہ جدا جدا ہے قادیانی چونکہ دین اسلام کی ہی ایک بنیادی نص کو کاٹ کر مرتدین کی صف میں شامل ہوئے ہیں نیز وہ بہت سے اسلامی شعار کا استعمال بھی کرتے ہیں جیسے کہ قرآن و سنت وغیرہ تو ان کے معاملے میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ چونکہ ان کے اور ہمارے دلائل کا بنیادی ماخذ ایک ہی یعنی قرآن و سنت تو ہم انکے جھوٹے نبی کو ہر دو طریق یعنی نقل و عقل دونوں سے جھوٹا ہی کہیں گے نقل سے میری مراد قرآن و سنت اور عقل کو تو سب جانتے ہی ہیں سو آپ پلیز بار بار قادیانیوں کو اس مسئلہ میں نہ گھسیٹے ۔ ۔ ۔والسلام |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فورم, فورمز, فارم, فرض, پیارے, پاکستان, پسند, قرآن, قران, نظر, موت, موجودہ, ممکن, ماں, مجید, اللہ, الزام, اسلام, بچوں, جیل, جرم, خواتین, خدا, دوست, عورت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| جعلی پیر کا خاتون پر تشدد،کپڑے پھاڑ دیے‘متاثرہ خاتون کا خود سوزی کا اعلان | ابن جلال | خبریں | 21 | 06-06-11 08:45 PM |
| ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم,,,,لاؤڈ اسپیکر…ڈاکٹرعامرلیاقت حسین | آبی ٹوکول | عمومی بحث | 2 | 31-03-11 08:11 PM |
| ججوں کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی ہوسکتی ہے، سپریم کورٹ | گلاب خان | خبریں | 1 | 03-02-11 05:15 AM |
| ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عِزت و تعظیم و توقیر ::: | عادل سہیل | عقیدہ رسالت | 1 | 22-06-10 12:55 PM |