واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


قبائیلی محب وطن ہیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-09-09, 02:02 PM   #1
قبائیلی محب وطن ہیں
sahj sahj آف لائن ہے 27-09-09, 02:02 PM

قبائلی ، محب وطن ہیں

وطن عزیز ، پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا رقبہ تقریباً 27220 مربع ک م پر مشتمل ہے ۔ ان علاقہ جات میں کم و بیش 45 لاکھ کے قریب قبائلی لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ یہ سارا علاقہ سات ایجنسیوں پر مشتمل ہے ۔ جو شمال سے جنوب کی طرف افغانستان اور پاکستان کے ایریاز میں موجود ہیں ۔ ان کے نام یہ ہیں ۔

باجوڑ ، مہمند ، خیبر ، کزئی ، کرم ، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان ۔ 1947ءمیں جب پاکستان وجود میں آیا تو قبائلیوں نے انگریزوں کے ساتھ کئے گئے تمام معاہدے ختم کر دئیے ۔ پاکستان بننے پر قبائلی بہت خوش ہوئے ۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ اپنے الحاق کی منظوری بھی دے دی لیکن شرط یہی تھی کہ ان کی حکمرانی کا طرز وہی رہے گا جو کئی ہزار سالوں سے وہاں چل رہا ہے ۔ ہمارے محبوب قائد محمد علی جناح رحمہ اللہ نے ان کی اس شرط کو قبول فرما لیا اور فرمایا یہ ہمارے سرحدی محافظ ہیں ۔ بانی پاکستان کا تدبر کام آیا اور ہمارے دشمن روس کا ہمیں کوئی خطرہ نہ رہا ، اس کے علاوہ بھارتی ریشہ دوانیوں سے بھی ہمیشہ کیلئے نجات ملی ۔ پاک و ہند کی پہلی جنگ 1947-48 میں محب پاکستان قبائلی محافظ ڈنڈے سوٹے لے کر کشمیر پہنچ گئے تھے اور ہندوستان سے کشمیر کے اس حصے کو آزاد کرانے میں مدد کی جس کو آج ” آزاد کشمیر “ کہا جاتا ہے ۔ روس کے ساتھ جہاد کے حوالے سے جو 1979ءتا 1991ءسرزمین افغانستان پر ہوتا رہا ۔ قبائلیوں نے ہی مسلم امہ کے جہادیوں کو اپنا قطعہ ارض نہ صرف ” لانچنگ پیڈ “ کے طور پر دے دیا تھا ۔ بلکہ اس جہاد میں شریک ہو کر قربانیوں کی داستان رقم کی ۔

40 لاکھ قبائلیوں نے اپنی غربت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے 40 لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی اور انہیں پاکستان میں داخلے کی ہر آسانی پیدا کی ۔ طالبان کی حکومت کا قیام 1996 ءمیں افغانستان میں عمل میں آیا تو قبائلیوں کے طالبان کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات قائم ہوئے ۔ قبائلی لوگ طالبان کی طرح بڑے سچے اور پکے مسلمان ہیں ۔ ان کی غیرت و حمیت گوارا نہیں کرتی کہ مغربی تہذیب و ثقافتِ اسلام کو مکدر و متعفن کر دے اور نہ ہی وہ دشمنانِ اسلام کا اپنے اوپر تسلط و غلبہ پسند کرتے ہیں ۔ دشمنان اسلام خصوصاً امریکہ و برطانیہ راسخ العقیدہ مسلمانوں کو پسند نہیں کرتے ۔ وہ جہاد اسلام سے زبردست خائف ہیں ۔ یہی وجہ ہے 11/9 کا بہانہ تراش کر پہلے افغانستان اور پھر عراق پر طاغوتی طاقتوں نے حملہ کر دیا ۔ جبکہ 11/9 کا فعل سب کچھ مسلم امہ کے بدترین دشمن اسرائیل کا کیا دھرا تھا ۔ شومئی قسمت وطنِ عزیز کے سربراہان بھی دشمنِ دین کے اتحاد میں شامل ہوگئے ۔ عرصہ نو سال سے ہمارے قبائلی علاقوں میں مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جا رہا ہے ۔

18 فروری 2008ءکو پاکستان میں نئی حکومت کو اس لیے بھاری مینڈیٹ ملا کہ وطن عزیز کے تمام مسائل محب وطن قبائلیوں سمیت خوش اسلوبی سے طے پائیں گے ۔ اسی لیے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے پہلے بیانات اور قوم سے خطاب میں یہی یقین دہانی کرائی کہ ہم سرحدی علاقے کے ازخود معاملات استوار کریں گے ۔ کسی بیرونی طاقت کو یہاں مداخلت کی اجازت نہیں ہوگی ۔ مگر اپنے امریکی دورے میں امریکی صدر بش کی ڈکٹیشن کے پیش نظر قبائلی سرداروں سے مشاورت کرنے سے روک دیا گیا اور کہا گیا کہ ان سے اسلحہ سے نپٹا جائے یہی وجہ ہے کہ امریکی صدارت کے امیدوار ” بارک او باما “ نے اپنے کابل کے دورہ کے دوران بڑے تیکھے لہجہ میں پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے سرحدی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کے شدت پسند عناصر پر کنٹرول کرے ۔ امریکی میڈیا میں یہ خبریں چھپ رہی ہیں کہ وہ پاکستان کے سرحدی علاقوں پر خود حملہ کر دے گا ۔ افسوس پاکستان تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا اعزاز حاصل کر چکا ہے ۔

اور اب اسی اتحادی پر بارود کی بارش برسانے کے لیے امریکہ پر تول رہا ہے ۔ حالانکہ یہ جنگ ہماری نہیں ، ہم تو کولن پاؤل کے ٹیلی فون پر فدویانہ طور پر اس میں شامل ہوگئے ۔ سینکڑوں اپنے فوجی افسران جن میں جرنیل بھی شامل ہیں ، ہزاروں شہری خواتین اور بچوں سمیت اس جنگ کی نذر کر چکے ہیں ۔ مذاکرات کے ذریعے اس جنگ کو روکا جا سکتا ہے ۔ پاکستان کے یہ غیور اور جری قبائل اپنے تشخص کی حفاظت کرنا جانتے ہیں ، محب وطن قبائلیوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آج سے تقریبا 25 سو سال پہلے 5 سو قبل مسیح میں جب وسط کی آریا قوم نے بھارت پر یلغار کی تو انہوں نے انہی قبائل کو استعمال کیا تھا ۔ یوں تو 712ءعیسوی میں ہمارے مایہ ناز جرنیل محمد بن قاسم رحمہ اللہ کے ذریعہ ہندوستان میں شمع اسلام روشن ہوئی تھی ۔ قبائلی علاقوں میں اسلام کی مشعل 960ءمیں اس وقت روشن ہوئی تھی جب محمود غزنوی رحمہ اللہ قبائلی علاقوں سے گزر کر موجودہ پنجاب میں داخل ہوئے تھے اور لاہور میں اسلام کا پھریرا لہرایا تھا ۔ 1206ءمیں محمد غوری رحمہ اللہ اسلامی علم کو اسی راستے دہلی تک لے گئے ۔ اسی طرح 13 ویں اور 14ویں صدی عیسوی میں چنگیز خاں اور امیر تیمور بھی ایشائی وسطی ریاستوں سے اٹھ کر ہمارے قبائلی علاقوں سے ہوتے ہوئے ہندوستان میں داخل ہوئے تھے ۔ ان تمام اسلامی لشکروں کو ہندوستان میں داخل کرنے والا یہی قبائلی ہر اول دستہ ثابت ہوئے ۔ اسی طرح مغلیہ خاندان کے بانی ظہیر الدین بابر کی اگر قبائلی مدد نہ کرتے تو ہندوستان میں اس کا داخلہ بھی ممکن نہ ہوتا ۔ بابر مرحوم نے تو یوسف زئی قبیلے کی خاتون سے شادی بھی کی تھی تا کہ قبائلیوں سے اچھے مراسم قائم ہو سکیں ۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلمان حملہ آوروں کی ہندوستان میں آمد کے بارے یہ قبائلی انکی مدد تو کرتے رہے لیکن کسی حملہ آور کو یہ اجازت نہیں دی گئی کہ وہ ان پر اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرے ۔ ظہیرالدین بابر ساری مدد دینے کے باوجود قبائلیوں کو ٹیکس ادا کرنے پر مجبور نہ کر سکا ۔ اس کے بعد اکبر ، جہانگیر ، شاہ جہاں کسی کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ انہیں اپنی سلطنت میں شامل کرسکیں ۔ 1739ءمیں فارس کا بادشاہ ، نادر شاہ بھاری تاوان دے کر اپنا لشکر یہاں سے گزار سکا ۔ احمد شاہ ابدالی نے پانی پت کے میدان میں مرہٹوں کو شکست دے دی مگر قبائلیوں کو زیر نہ کر سکا ۔ 1799 تا 1839ءرنجیت سنگھ نے بھی پورا زور لگایا لیکن وہ اپنے عنانِ حکومت کو پشاور بنوں لائن سے آگے نہ لے جاسکا ۔ انگریز نے روسی یلغار کو روکنا چاہا مگر افغانستان میں داخلہ کے لیے قبائلی پٹی کے استعمال کی جرات انہیں بھی نہ ہوسکی ۔

اس وقت صورت حال بڑی گھمبیر ہے ، امریکی پالیسی کے پیش نظر افغانستان میں موجودہ طالبان سمیت قبائلی مکینوں اور پاکستانی مسلمانوں کو امریکہ سے زبردست نفرت ہو چکی ہے ۔ پاکستان کا یہ قبائلی علاقہ دنیا میں پسماندہ ترین علاقہ ہے ۔ جہاں نہ کوئی صنعت ہے ، نہ بنک ، 7670 افراد کے لیے ایک ڈاکٹر ہے ۔ تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ یہاں کے تقریباً تین ہزار دیہاتوں کے ہر گھر کے بچے بھوک سے بلکتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ان کی غیرت ، بہادری اور جذبہ حریت میں ذرہ بھر لغزش نہیں آئی ۔ امریکی پانچ سو کلو گرام وزنی گولے آسمان سے ان پر برسا رہے ہیں ۔ وہ ان گولوں کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔

پاکستان جس کا وہ حصہ ہیں وہ تو امریکی حملہ آوروں کی مدد کرتا ہے نہ صرف مدد بلکہ سکیورٹی فورسز سے اپنے ہی مسلمانوں کو تہہ تیغ کر رہا ہے ۔ ہم نے کسی کی جنگ میں شریک ہو کر اپنے قبائلی بھائیوں کو اپنا دشمن بنا لیا ہے ۔ ہمارے حکمران کو امریکہ جیسے چالباز اور مفاد پرست بھیڑئیے سے تعلقات پر نظرثانی کرنا ہوگی ۔ امریکہ وہی ہے جس نے ہمیں ہر مقام پر دھوکہ دیا ۔ 1971ءمیں جب بھارت کی افواج ہم پر یورش کر رہی تھیں تو امریکہ نے ہمیں بحری پٹرے کی آمد کا دلاسا دیا لیکن اندر کھاتے وہ بھارت سے مل کر پاکستان کو درلخت کر رہا تھا ۔ امریکہ نے گریٹر بلوچستان کے نام سے ہمارے صوبے میں شورش بپا کرا رکھی ہے ۔ اب اس نے بھارت سے ایٹمی تعاون کا معاہدہ کر لیا ہے جبکہ ہمیں وہ ناقابل بھروسہ کہہ کر ہماری تذلیل کر رہا ہے ۔ ایسی صورت میں ہم اس جنگ سے نکل جائیں تو یہ محب پاکستان خود ہماری سرحدوں کی حفاظت کرنے کو تیار ہیں


مولانہ احمد نور
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 96
Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, پاکستانی, پسند, وزیراعظم, لوگ, نفرت, نظر, موجودہ, مقابلہ, ممکن, مسائل, مشعل, آج, اکبر, اللہ, امیر, امریکہ, اسلام, اسلامی, بچوں, خواتین, طالبان, علی, صدارت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:07 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger