واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


قراءت سبعہ متواترہ کا حکم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-01-12, 05:58 PM   #1
قراءت سبعہ متواترہ کا حکم
gazali gazali آف لائن ہے 13-01-12, 05:58 PM

سوال: قراءت سبعہ متواترہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس کی تعلیم وتعلم صرف بطور فن کے ہے یا فرض ،واجب اور سنت ومستحب ہے؟ ایک عالم صاحب کا کہنا ہے کہ قراءت سبعہ کی حیثیت صرف ایک فن کی ہے ،امید کہ مدلل ومفصل بحوالہ کتب معتبرہ جواب سے نوازیں گے۔
جواب:شاطبی وقت حضرت علامہ المقری القاری فتح محمد پانی پتی اعمیٰ نوراللہ مرقدہ نے اپنی کتاب ''عنایات رحمانی شرح شاطبی'' جلد اول صفحہ 63 میں قراءت متواترہ کی شرعی حیثیت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے ، فرماتے ہیں ۔ قراءت سبعہ یا عشرہ کے اختلافات کا یاد کرنا یہ تمام امت پر واجب علیٰ الکفایہ ہے ،اگر بعض حضرات ان کے جاننے والے موجود ہوں ، یا بعض ایک قراءت کے حافظ ہوں ،اور بعض دوسری کے تو یہ واجب سب کے ذمہ سے ادا ہو جائے گا ،ورنہ سب گنہ گار ہوں گے۔
اسی طرح مصر کے شیخ القراء علامہ علی محمد ضباع اپنی لتاب ''ارشاد المرید '' جو شاطبیہ کی مختصر اور محققانہ شرح ہے ،صفحہ 3 پر تحریر فر ماتے ہیں ۔'' وحکمہ الوجوب الکفائی تعلما وتعلیما ''یعنی علم قراءت کا حکم یہ ہے کہ اس کا سیکھنا اور سکھانا واجب علیٰ الکفایہ ہے ۔
ماضی قریب کے ماہر فن قاری مولانا المقری ظہیر الدین صاحب معروفی اعظمی اپنی کتاب ''احیاء المعانی'' میں لکھتے ہیں :قراءت سبعہ متو اترہ کی دینی علوم وفنون میں جو عظمت اور اہمیت حاصل ہے ، وہ محتاج بیان نہیں ،اس کا پڑھنا پڑھانا فی زماننا بہر ضروری ہے ۔ والللہ اعلم با الصواب ۔
تنبیہ: واجب کا اطلاق فرض پر بھی ہوتا ہے ،ان مذکورہ عبارت میں بھی واجب سے فر ض مراد ہے ۔ ( فتاوی ریاض العلوم جلد دوم)
__________________
ہندوستان کا پہلا اردواسلامی فورم ‌http://www.algazali.org

gazali
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 241
شکریہ: 97
163 مراسلہ میں 441 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 93
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے gazali کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-01-12), عبداللہ آدم (13-01-12)
پرانا 13-01-12, 06:30 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پاکستان میں عوام کے پاس پورا قرآن نہیں ہے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : gazali مراسلہ دیکھیں
ماضی قریب کے ماہر فن قاری مولانا المقری ظہیر الدین صاحب معروفی اعظمی اپنی کتاب ''احیاء المعانی'' میں لکھتے ہیں :قراءت سبعہ متو اترہ کی دینی علوم وفنون میں جو عظمت اور اہمیت حاصل ہے ، وہ محتاج بیان نہیں ،اس کا پڑھنا پڑھانا فی زماننا بہر ضروری ہے ۔ والللہ اعلم با الصواب ۔
تنبیہ: واجب کا اطلاق فرض پر بھی ہوتا ہے ،ان مذکورہ عبارت میں بھی واجب سے فر ض مراد ہے۔ ( فتاوی ریاض العلوم جلد دوم)

پاکستان میں عوام کے پاس سات سات قرآن نہیں ہیں، تو کیا ان کے پاس پورا قرآن نہیں ہے، یا پورے قرآن کا علم نہیں ہے، جیسا کہ شیعہ کا مبینہ عقیدہ ہے ؟؟؟
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
قراءت, سات قرآن


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تابوت۔ ۔ ۔ ۔ توبہ توبہ توبہ۔ ۔ ۔ ۔ پیاسا دلچسپ اور عجیب 7 10-05-11 05:49 PM
توشاعرہے زارا ویڈیوز 2 03-02-11 06:19 PM
ہمارے تمام مسائل کا حل ”توبہ“ میاں شاہد اسلام اور عصر حاضر 3 19-08-08 03:41 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:08 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger