واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


لیل و نہار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-05-09, 11:27 AM   #1
لیل و نہار
ابن آدم ابن آدم آف لائن ہے 06-05-09, 11:27 AM

سورۃ الفرقان میں فرمایا ’’اور وہی ذات (پاک) ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنیوالا بنایا‘‘ جو چاہے تو اس سے نصیحت حاصل کرے یا چاہے تو شکر گزاری (کی زندگی) اختیار کرے۔‘‘ سورہ الملک میں فرمایا ’’ جس نے پیدا کیا موت و حیات کو تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون احسن عمل کرتا ہے‘‘۔ اقبال اپنی مشہور نظم مسجد قرطبہ میں لکھتے ہیں…؎
سلسلہ روز و شب نقش گر حادثات
سلسلہ روز و شب اصل حیات و ممات
سلسلہ روز و شب تار حریر دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات
سلسلہ روز و شب ساز ازل کی فغاں
جس سے دکھاتی ہے ذات زیروبم ممکنات
تو ہو اگر کم عیار، میں ہوں اگر کم عیار
موت ہے تیری برأت، موت ہے میری برأت
سلسلہ روز و شب سے تاریخ کے واقعات ظہور میں آتے ہیں اور یہی حیات و ممات کا مقصد ہے۔ سلسلہ روز وشب سے اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ‘ خلاقی، رحمت، ربوبیت، مغفرت، جباری، قہاری، ظہور میں آتی ہیں۔ سلسلہ روز و شب انسان کی قوت عمل کیلئے امکانات پیدا کرتا ہے‘ سلسلہ روز وشب کائنات کی کسوٹی ہے، جس سے افراد اور اقوام کی پرکھ ہوتی ہے‘ انکی قیمت متعین ہوتی ہے جو قوم اس کسوٹی پر پوری نہیں اترتی، وہ تباہی کے غار میں اتر جاتی ہے‘ ہمیں بلحاظ قوم اور بلحاظ افراد تاریخ کی اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ ماضی کی معلومات میں گم رہنا اورحال و مستقبل کے حقائق سے گریز کرنا مردوں کا کام نہیں۔ ہمیں اپنے اعمال پر نظر رکھنی چاہئے اور اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہم نے وہ مقصد پا لیا ہے، جس کیلئے پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اسلامی مملکت محض رسوم کا نام نہیں۔ اس سے مراد سن ہجری کے آغاز میں قائم ہونیوالی پہلی اسلامی مملکت کا رنگ اپنانا ہے اور اسکا رنگ اللہ تعالیٰ کا رنگ تھا۔ وہ اللہ والے تھے اللہ تعالیٰ اور انکے رسول پاک کی محبت انکے رگ وپے میں رچی ہوتی تھی اور صرف اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے رسول مقبول کی خوشنودی انکا مقصود تھی۔ زرومنصب کے بتوں کے پرستار نہیں تھے۔پہلی اسلامی مملکت کا طرہ امتیاز اعلیٰ اخلاق تھے۔ وہ اخلاقی لحاظ سے ’’اشراف‘‘ (ارسٹو کریٹ) تھے ۔ اقبال نے اسی نظم کے ایک بند میں بندہ مومن کاراز بھی آشکار کیا ہے اسکے دنوں کی تپش اور اسکی شبوں کی گداز کی بات کی ہے اسکا مقام بلند اور خیال عظیم بتایا ہے۔ اسکے سروروشوق اور نازونیاز کی بات کی ہے اسکے ہاتھ کو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اور خود اسے بندہ مولا صفات کہا ہے اور آخر میں فرمایا…؎
نقطہ پرکار حق مرد خدا کا یقیں
اور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجاز
__________________
صراط الھدیٰ فورم
www.siratulhuda.com
اردو یونیکوڈ تحریر میں بنیادی دینی ، اخلاقی و اصلاحی تعلیمات اور سائینس و انفارمیشن ٹکنالوجی کی نفع مند معلومات کی ترسیل کا مرکز

 
ابن آدم's Avatar
ابن آدم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,100
شکریہ: 3,391
830 مراسلہ میں 2,404 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 139
Reply With Quote
جواب

Tags
پاک, پاکستان, پرستار, واقعات, نظر, موت, محبت, مسجد, اللہ, انسان, اسلامی, اعلیٰ, خدا, رات, زندگی, عالم, غار, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:09 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger