واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


محب وطن پاکستانی کے نام؟؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-09-11, 01:12 AM   #1
محب وطن پاکستانی کے نام؟؟
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 13-09-11, 01:12 AM

((( تعصب خواہ وہ نسلی ہو، لسانی ہو یقومی، انسان سے کیا کیا کرواتا ہے..فی الوقت آپ لوگ اس تحریر کو ملاحظہ فرمائیں........پھر اس ڈھٹائی پر اور دیدہ دلیری پر دیوار میں سر ماریں یا نہ ماریں، کوئی فرق نہیں پڑتا((
عنیقہ ناز

میری نظر سے ایک اسٹیٹس گذرا کہ کراچی میں لبرل اور سیکولر جماعتوں نے یہ حشر کیا ہے اس وجہ سے قوم لبرلزم اور سیکولیرزم سے نفرت کرتی ہے۔ کراچی ملک کے جنوب میں واقع ہے اور ملک کے شمال میں مذہب پرست جماعتوں نے جو بہشت قائم کی ہے وہ ہمارے بھولے ساتھی کی نظر سے پوشیدہ ہے۔ شاید اس لئے کہ انہوں نے ابھی بہشت جانے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

کون ہے پاکستان میں لبرل اور سیکولر۔ عوامی نیشنل پارٹی یا پیپلز پارٹی ؟

پاکستان میں جناب صرف دو طاقتیں ہیں ایک قبائلی نظام کی پروردہ اور دوسری غیر قبائلی نظام کی پروردہ۔ ان میں سے اول الذکر اکثریت میں ہے اور موءخر الذکر اپنا ایک بہت کمزور وجود رکھتی ہے۔ جس پہ کبھی لبرلزم کی مہر لگائ جاتی اور کبھی سیکولیرزم کی۔

پاکستان کے ٹوٹ جانے کے بعد یعنی بنگلہ دیش بن جانے کے بعد باقی کے پاکستان کا نام بدلنا چاہئیے تھا۔ لیکن بہر حال اسے ایسے ہی رہنا دیا گیا۔

اس موجودہ پاکستان کی حدوں میں رہنے والی اقوام ایک قبائلی مزاج رکھتی ہیں۔ اسے کبھی مذہبی جماعتیں استعمال کرتی ہیں اور کبھی ان کی سیاسی جماعتیں۔ ان مذہبی جماعتوں یا ان سیاسی جماعتوں کے درپردہ مقاصد ہمیشہ ایک رہتے ہیں اور وہ یہ کہنظام چند ہاتھوں اور خاندانوں کے سامنے سر نگوں رہے۔ اور اسکی فلاح کے لئے انہیں کسی کے سامنے جوابدہ نہ ہونا پڑا۔ اس لئے اپنے روئیے میں اے این پی، پیپلز پارٹی یا جمعیت علمائے اسلام کچھ مختلف نہیں۔

کراچی باقی ماندہ ملک سے الگ کیوں لگتا ہے۔ اس لئے کہ یہاں لوگوں کی کثیر تعداد اس طبقے سے تعلق رکھتی ہے جو اس قبائلی نظام پہ یقین نہیں رکھتی بلکہ اس پہ تنقید کرتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تقسیم ہندوستان کے بعد سنٹرل انڈیا سے یہاں آکر آباد ہوئے۔ آباد اس لئے ہوئے کہ انہوں نے حدود پاکستان سے باہر آزادی کی جنگ لڑ کر حدود پاکستان کے اندر رہنے والی اقوام کو آزاد ملک کا تحفہ دیا۔ اور اسکے بعد یہ سمجھا کہ اب اس ملک پہ ہمارا بھی حق ہے۔ اپنے اس حق کی راہ ہموار کرنے کے لئے انہوں نے بھی مذہب کا سہارا لیا۔ اسلام ہمارے درمیان تعلق کی مضبوط وجہ ہے انہوں نے بیان کیا۔ وہ اسلام جو حدود پاکستان میں رہنے والی اقوام کی ترجیح اس وقت نہیں تھا۔ وہ تو اپنے چند سرداروں کی پسند نا پسند دیکھتے تھے۔ جب نیت درست نہ ہو تو کبھی اچھا نتیجہ نہیں نکلتا۔ کم سے کم تریسٹھ سال کے بعد اتنا تو تسلیم کرنا چاہئیے۔

کراچی کا مسئلہ لبرل ، سیکولر یا مذہب نہیں۔ قبائلی اور غیر قبائلی نظام کا ٹکراءو ہے۔

................................................

ایک پروپیگینڈہ یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ہم یعنی کراچی سے بنیادی تعلق نہ رکھنے والے کراچی میں امن اور استحکام چاہتے ہیں۔ میں اسے پروپیگینڈہ ہی سمجھتی ہوں۔ اس میں کوئ سچائ نظر نہیں آتی۔ اس لئے کہ جب مرزا صاحب یہاں کے مہاجروں کو بھوکے ننگے آنے والے لوگ قرار دیتے ہیں تو ان میں سے کوئ انکی تصحیح نہیں کرتا کہ ان بھوکے ننگے لوگوں نے آپکی ابتدائ اکنامکس چلائ تھی ، جب مرزا صاحب امن کمیٹی والوں کو اپنے بچے قرار دیتے ہیں اور انکے یہ لاڈلے شیر شاہ میں جا کر نہتے لوگوں کو فائرنگ کا نشانہ بنا کر زندگی سے محروم کر دیتے ہیں تو بھی وہ فاشسٹ قرار نہیں پاتے۔ حتی کہ خود انکی پارٹی کے نبیل گبول صاحب ایک ٹی وی انٹرویو میں کہتے ہیں کہ اس وقت لیاری میں کم از کم دو ہزار گھروں میں اسلحہ بڑی تعداد میں موجود ہے تب بھی انہیں پاکستان توڑنے کی سازش کرنے والوں میں شامل نہیں سمجھا جاتا۔ بلکہ ایک داد و تحسین کا سلسلہ ہے کہ تھمنے میں نہیں رہا۔ کیوں ایسا ہوتا ہے کہ پشتون رہ نما شاہی سید جب زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ فرماتے ہیں کہ کراچی کا تالا کسی کے پاس بھی ہو اسکی چابی ہمارے پاس ہے۔ کوئ اسکی مذمت نہیں کرتا کہ یہ پاکستان کی توڑنے کی سازش ہے۔ انیس سو چھیاسی اور دو سو گیارہ میں علی گڑھ کالونی اور قصبہ کالونی پہ حملہ کرنے والے فاشسٹ نہیں کہلاتے۔

ایسا فرق کیوں ہے؟

جب ایک زمین کو اپنا ساجھا سمجھنے والے قبائلی ایک دوسری زمین سے تعلق رکھنے والےغیر قبائلی سے ٹکراتا ہے تو ایک قبائلی کی ہمدردی دوسرے قبائلی کے لئے ہوتی ہے۔ ا
یک قبائلی اپنے آپکو اپنی زمین کا زیادہ وفادار سمجھتا ہے، وہ اپنے آپکو زیادہ زمین کا حاکم سمجھتا ہے۔
اس وقت وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اسے کس طرح بنیادی انسانی حقوق سے اسکے رہنما محروم رکھ رہے ہیں۔ اس زمین کے کسی گوشے کی اسے حاکمیت نصیب نہیں ۔

بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ کہیں اس کا قبیلہ طاقت کی اس جنگ میں کم نہ ثابت ہو۔ اس لئے کراچی میں سیکولر کہلانے والی اے این پی کے زیر سایہ مزہبی شدت پسند تحریک طالبان والے بھی ہنسی خوشی رہتے ہیں۔ اس لئے کراچی میں پنجاب کے رہنے والے اپنے قبائلی ساتھی پشتونوں کی ہر کمزوری سے صرف نظر کرتے ہیں، اسی لئے کراچی میں نہ صرف پنجابی پختون اتحاد نامی سیاسی جماعتیں بنتی ہیں بلکہ دہشت کی فضا کو ہموار رکھنے کے لئے پی پی اور اے این پی اتحاد بھی سامنے آتا ہے۔ یعنی بلوچ ، سندھی اور پٹھان اتحاد۔

پھر اسکے بعد لبرل اور سیکولر اور مذہب کا نکتہ اٹھانا کس کھاتے میں۔ ایک قبائلی ملک کے شمالی علاقوں میں مذہبی شدت پسندوں کے فاشزم کو پسندیدگی سے دیکھتا ہے۔ مگر وہی قبائلی ملک کے جنوبی حصوں می نام نہاد سیاسی فاشزم کا شور مچاتا ہے۔

نیت درست نہ ہو تو انجام درست نہیں ہوتا۔ ملک بننے کے تریسٹھ سال بعد بھی اس ملک کی حدوں میں رہنے والی اقوام یہ نہیں سیکھ سکیں۔ اس پہ دعوی ہے حب الوطنی اور غیرت مند ہونے کا۔ جو اپنی شکست سے نہ سیکھ سکے اسے بے غیرت کہا جاتا ہے۔ یقین نہ ہو تو کسی بھی لغت میں اٹھا کر دیکھ لیجئیے۔
جاوید چوہدری یہ بھی کہتے ہیں کہ کراچی بیروت بننے جا رہا ہے۔ ایک دفعہ پھر ان سے معذرت۔ پاکستان ایک لمبے عرصے سے بیروت بن چکا ہے تو کراچی کے بیروت بننے میں کیا مسئلہ۔

کیا کراچی کے حالات درست ہو پائیں گے۔ مستقبل قریب میں اس کا جواب ہے نہیں۔ قبائلی جنگیں سینکڑوں سال جاری رہتی ہیں۔ جب تک اسلحہ سرد نہ پڑ جائے اور لڑنے والے ہاتھ ختم نہ ہو جائیں یا کوئ اور بیرونی طاقت اس سے فائدہ نہ اٹھالے۔
جب تک اسلحہ کچھ قوموں کا زیور قرار پاتا رہے گا۔ ان حالات میں کوئ بہتری نہیں آنے والی۔ اسلحے پہ کون پابندی لگائے گا۔ مذہبی جماعتیں جو جہاد کی پرچاری ہیں یا پی پی اور اے این پی جیسی جماعتیں جنکے ثقافتی پس منظر میں اسلحے کی اہمیت آکسیجن جیسی ہے۔


اگر کوئ واقعی کراچی کے حالات بہتر کرنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے اوپر پابندی لگانی ہو گی۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اس ملک کے معاشی استحکام کے لئے کام کریں۔ موجودہ حالات میں اگر ہوش کے ساتھ دیکھیں تو کراچی میں سب سے زیادہ کس کا نقسان ہوا ہے۔ سندھی اور بلوچ اقوام تو ابھی اپنے ہونے نہ ہونے سے واقف نہیں۔ کراچی میں بسنے والے ان چالیس لاکھ پشتونوں کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ جو تعلیمی سطح پہ کم ترین ہیں، اور معاشی لحاظ سے کمزور۔ وہ یہاں سبزی بیچتے ہیں، چوکیداری کرتے ہیں، مالی بنتے ہیں ، ڈرائیوری کرتے ہیں ان مکی اکثریت روزانہ کی تنخواہ پہ کام کرتی ہے۔ جب کراچی بند ہوتا ہے، جب تندور بند رہتا ہے ، جب بازار میں کاروبار نہیں ہوتا تو سب سے زیادہ اس کمیونٹی کو نقصان ہوتا ہے۔ نسلی تعصب نے ان لوگوں کو کیا دیا ہے۔ ذوالفقار مرزا نے اگر تین سال میں تین لاکھ اسلحے کے لائیسنس دئیے تو کیا یہ لائیسنس سندھی اور بلوچی عوام کی تمام زندگی کا آسرا بن گئے۔ کیا یہ انکی نسلوں کی بقاء کی ضمانت بن گئے۔ یہاں میں ایم کیو ایم کا تذکرہ نہیں کر رہی کہ اسکے ووٹ بینک میں شامل لوگ ایک دفعہ نہیں کئ دفعہ تبدیلی کے عمل سے گذر چکے ہیں۔
اگر نسلی تعصب کو اسی طرح جواں رکھنا ہے تو استحکام پاکستان کو بھول جائیے۔ اور اپنے آپکو محب وطن کہنے سے گریز کریں۔

دوسری طرف یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے دہشت گرد تو آپ سے شاباش حاصل کریں اور دوسری جماعت کے دہشت گرد کو آپ فاشسٹ کہیں۔ اگر ایک قوم پہ آپکی پسندیدہ اقوام راکٹ لانچر لے کر حملہ آور ہو جائیں تو لازمی طور پہ وہ قوم مڑ کر کسی فاشسٹ سے ہی مدد لے گی یا آپکی منتیں سماجتیں کرے گی۔ آپ جو کسی ایسے واقعے کے ظہور پانے کے ہی قائل نہیں ہوتے۔
......................................
میں نصیحت کرنے کے عمل میں نہیں، نہ خواہش کرنے کی حالت میں۔ میں صبر سے بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرتی ہوں، اس میدان میں جہاں کھیل ، کھلاڑی اور تماش بینوں کے درمیان کچھ زیادہ فرق نہیں۔ اس افراتفری میں، میں احساس خوف سے باہر ہوں۔ اس لئے نہیں کہ میں افتخار عارف کی نظم بارہویں کھلاڑی کا بارہواں کھلاڑی ہوں۔ بلکہ اس لئے کہ اس کھیل کا اختتام میرے کہیں بعد ہے۔ قبائلی جنگیں بڑا خون بہا لیتی ہیں۔ ان میں صرف کسی نامعلوم کا نہیں میرا اور آپکا خون بھی شامل ہوگا۔

شوخی ءتحریر: محب وطن پاکستانی کے نام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 158
Reply With Quote
پرانا 13-09-11, 02:27 AM   #2
Senior Member
 
حسنین ایوب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 1,064
کمائي: 19,020
شکریہ: 1,708
625 مراسلہ میں 1,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میں نے تو جب سے ہوش سنبھالا ہے پاکستان میں زبان مذہب اور فرقہ واریت کی لڑائی ہی دیکھی ہے پتہ نہیں کیوں ہم لوگ غلط کو غلط نہیں کہتے شاید چپ کر کے دیکھتے رہنا ہماری عادت بن چکی ہے
حسنین ایوب آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, کراچی, پاکستان, پاکستانی, پسند, پسندیدہ, لوگ, نفرت, نظر, موجودہ, ممکن, انسان, اسلام, تحریر, جوابدہ, حال, خون, ذوالفقار, زندگی, سال, شور, طالبان, علی, صبر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہمارا پیارا پاکستان روبہ زوال کیوں ہے ؟؟ عبدالقدوس عمومی بحث 18 14-04-11 12:24 AM
استاد یا ۔۔ ؟؟ ۔۔پروفیسر افتخار بلوچ کی طالبات کو دھمکیاں راجہ اکرام عمومی بحث 7 04-11-10 02:32 PM
لینکس کے مختلف رنگ؟؟ عرفان حیدر لائینکس کارنر 3 03-07-10 04:28 AM
ہم د و2 بار مریں گئے ؟؟ اور دو2 بار زندہ ہونگے ؟؟ حیدر Rehan علوم قرآن کریم 30 22-12-09 03:08 PM
کیا پارلیمنٹ کیری لوگر بل کو مسترد کر سکتی ہے؟؟/؟؟ راجہ اکرام گپ شپ 9 11-10-09 06:35 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:10 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger