معروف و مقبول طنز و مزاح نگار
مشتاق احمد یوسفی کی مشہور تصنیف " آبِ گم" سے ایک دلچسپ اقتباس ملاحظہ فرمائیں :
***
بشارت کے ایک افسانے کا کلائمکس کچھ اس طرح تھا :
انجم آرا کی حسن آفرینیوں ، سحر انگیزیوں اور حشر سامانیوں سے مشام جان معطر تھا۔ وہ لغزیدہ لغزیدہ قدموں سے آگے بڑھی اور فرطِ حیا سے اپنی اطلسی بانہوں کو اپنی ہی دزویدہ دزویدہ آنکھوں پر رکھا۔ سلیم نے انجم آرا کے دستِ حنائی کو اپنے آہنی ہاتھ میں لے کر پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اس کی ہیرا تراش کلائی اور ساقِ بلوریں کو دیکھا اور گلنار سے لبوں پر ۔۔۔۔ چار نقطے ثبت کر دیے۔
بشارت گن کر اتنے ہی نقطے لگاتے جن کی اجازت اُس وقت کے حالات ، حیا یا ہیروئین نے دی ہو۔
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ اس زمانے میں انجمن ترقی اردو کے رسالے میں ایک مضمون چھپا تھا۔ اس میں جہاں جہاں لفظ "بوسہ" آیا ، وہاں مولوی عبدالحق نے ، بربنائے تہذیب اس کے ہجے یعنی "ب و س ہ" چھاپ کر اُلٹا اس کی لذت و طوالت میں اضافہ فرما دیا۔
یہاں ہمیں اُن کا یا اپنے حبیبِ لبیب کی طرزِ نگارش کا مذاق اُڑانا مقصود نہیں۔ ہر زمانے کا اپنا اسلوب اور آہنگ ہوتا ہے۔ لفظ کبھی انگرکھا ، کبھی عبا و عمامہ ، کبھی ڈنر جیکٹ یا فُولس کیپ ، کبھی پیر میں پائل یا بیڑی پہنے نظر آتے ہیں۔ اور کبھی کوئی مداری اپنی قاموسی ڈگڈگی بجاتا ہے تو لفظوں کے سدھے سدھائے بندر ناچنے لگتے ہیں۔
مولانا ابوالکلام آزاد اپنا سنِ پیدائش اس طرح بتاتے ہیں :
یہ غریب الدیارِ عہد ، ناآشنائے عصر ، بیگانۂ خویش ، نمک پروردۂ ریش ، خرابۂ حسرت کہ موسوم بہ احمد ، مدعو بابی الکلام 1888ء مطابق ذو الحجہ 1305ھ میں ہستیِ عدم سے اس عدمِ ہستی میں وارد ہوا اور تہمتِ حیات سے متہم۔
اب لوگ اس طرح نہیں لکھتے۔ اس طرح پیدا بھی نہیں ہوتے۔ اتنی خجالت ، طوالت و اذیت تو آج کل سیزیرین پیدائش میں بھی نہیں ہوتی۔
اسی طرح نوطرز مرصع کا ایک جملہ ملاحظہ فرمائیے :
جب ماہتابِ عمر میرے کا بدرجہ چہاردہ سالگی کے پہنچا ، روزِ روشنِ ابتہاج اس تیرہ بخت کا تاریک تر شبِ یلدہ سے ہوا ، یعنی پیمانۂ عمر و زندگانی مادر و پدرِ بزرگوار حظوظِ نفسانی سے لبریز ہو کے اسی سال دستِ قضا سے دہلا۔
کہنا صرف یہ چاہتے ہیں کہ : جب میں چودہ برس کا ہوا تو ماں باپ فوت ہو گئے۔ لیکن پیرایہ ایسا گنجلک اختیار کیا کہ والدین کے ساتھ مطلب بھی فوت ہو گیا۔
مرزا عبدالودود بیگ نے ایسے pompous style کے لیے سبکِ ہندی کی طرز پر ایک نئی اصطلاح وضع کی ہے:
طرز اسطوخودّوس
پسِ تحریر :
اس اقتباس کو پیش کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ۔۔۔۔ ہمارے بعض مخلص احباب اردو زبان و ادب کو نامانوس اصطلاحات کے دائرے میں مقید دیکھنے کے آرزومند ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ اردو زبان اسی طرح اپنی انفرادیت اور اپنا علیحدہ وجود برقرار رکھ سکتی ہے۔
احباب سے ادباً عرض ہے کہ ادبی و دقیق اصطلاحات کی تشکیل و ترویج ہرکس و ناکس کے بس کی بات نہیں اور نہ ہی کوئی زبان اپنی مخصوص اصطلاحات پر منحصر ہوتی ہے کہ اس کی بقا کا دارومدار بس انہی اصطلاحات پر قائم ہو۔
کوئی بھی زبان اسی صورت میں نشو و نما پاتی اور اپنا وجود قائم رکھتی ہے جب اس کے استعمال کندگان اس زبان کو درست طریقہ سے بولنا ، لکھنا اور پڑھنا سیکھیں (اور اپنی زبان کے تئیں احساس کمتری کا شکار بھی نہ ہوں)۔
اور کسی زبان کو صحیح طریقہ سے سیکھنے کے لئے سب سے پہلے اس کے بنیادی قواعد و ضوابط ، گرامر و املا کے اصول وغیرہ سے معقول واقفیت لازمی امر ہے۔
جب تک ہم میں سے ہر کوئی اردو کو درست طریقہ سے لکھنا اور پڑھنا سیکھ نہیں لیتا تب تک کے لئے ادق و نامانوس اصطلاحات کو فروغ دینے کی بات کرنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے بھینس کے آگے بین بجائی جائے !!