واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


معاملہ ایک قتل کا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-12-11, 12:19 PM   #1
معاملہ ایک قتل کا
حیدر حیدر آف لائن ہے 16-12-11, 12:19 PM

فورم پر اس وقت یزید کے جنتی یا جہنمی ہونے کی بابت بحث چل رہی ہے۔
اس وقت اس تھریڈ کا براہ راست موضوع ماضی کے کسی شخص کو ڈسکس کرنا نہیں ہے بلکہ چند اہم نقاط کی تشریح حاصل کرنا ہے۔ کیونکہ ماضی کی شخصیات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ "وہ ایک ایسی امت تھی جو گزر گئی اس کے لیے وہ تھا جس کا اس نے کسب کیا اور تمہارے لیے وہ ہے جو تم کماؤ گے"

لیکن میرے ذہن میں جو نقاط ہیں میں ان کی تشریح ضرور چاہتا ہوں۔

1: اگر ہم قرآنی احکام و احآدیث کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی بے گناہ انسان کو قتل کرنے کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ حتیٰ کہ اس کو جہنم کا ہمیشہ کے لیے مستحق قرار دے دیا جاتا ہے۔اس پر اللہ کی ہمیشگی لعنت مسلط کر دی جاتی ہے (اگر وہ دنیا میں ہی اپنے جرم کی سزا نہیں بھگت لیتا)
2: اگر ہم قوانین اور عدالتی فیصلوں کامطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قتل کا ارتکاب کرنے والا اور قتل کا حکم دینے والا یا قتل میں مدد دینے والا سبھی کو ایک ہی کیٹیگری میں رکھا جاتا ہے۔

لیکن حیرانگی ہوتی ہے جب ہم چند اشخاص کو اس کیٹیگری سے خآرج کر دیتے ہیں۔ مثلاً یزید کا ہی معاملہ لے لیں ۔ بے شک اس نے قتل نہیں کیا۔ لیکن قتل کے اہم عوامل میں اس کا کردار موجود ضرور ہے۔ کہاں تو اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتے کے مر جانے کے خؤف سے عمر جیسا عظیم الشان خلیفہ تھر تھر کانپا کرتا تھا اور کہاں 70 سے زائد معصوم مسلمانوں اور خانہ رسول کے افراد کے قتل عام اور اس پر بھی حکمران کی ڈھٹائی۔


یہ بات اپنی جگہ تسلیم کہ ماضی اس قدر پیچیدگیوں میں اُلجھا ہوا ہے کہ سچ تک پہنچنا مشکل ہے اور سکوت اختیار کرنا ہی سب سے بہتر عمل ہے کیونکہ (وہ ایک ایسی امت تھی جو گزر گئی۔۔۔۔۔قرآن)۔
لیکن سکوت سے مراد یہ ہونی چاہیے کہ اگر ہم انکی برائیوں کی کھوج میں نہ رہیں تو ڈھونڈ ڈھانڈ کر انکی فضلیت بیان کرنے کی کوشش بھی نہ کریں۔
مثلاً یزید کے بارے میں یہ کہا جانا کہ اس پر وہ بشارت نبوی صادق آتی ہے کہ جو لشکر قسطنطنیہ پر حملہ کرے گا وہ مغٍفور ہے۔
یہی وہ بات آتی ہے جس پر میں کہا کرتا ہوں کہ "سکوت کے حامیان کی باتوں میں تضاد ہے"۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ سکوت اختیار کرو دوسری طرف وہ یزید کی فضیلتیں اور فضلیت بھی ایسی کہ جس سے اس کا مغفرت شدہ ہونا اور جنتی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ارے بابا جب کسی کے بارے میں اس قدر واضح بات ہو کہ وہ جنتی ہے تو پھر کاہے کا سکوت۔ کھل کر کہو کہ وہ جنتی ہے خواہ اس نے نواسہ رسول تو کیا پورے خاندان رسول کو قتل کر ڈالا ہو۔ خواہ اس نے پوری انسانیت کا قتل کر ڈالا ہو۔

میرا سوال پھر وہی ہے کہ
1: کیا کسی بے گناہ انسان اور خاص کر مظلوم مسلمان کو قتل کرنے والا یا قتل کا حکم دینے والا کسی طور بھی جنتی ہو سکتا ہے (اگر اس نے اپنے جرم کا کفارہ ادا نہ کیا ہو)؟
2: اگر قرآن کی سورۃ النسا کی آیت کو ہی لیں تو اس میں ہمیشگی جہنم کی وعید ہے۔ اس بارے میں کیا تاویل ہے؟
3: احادیث کی بات میں اس لیے نہیں کروں گا کہ اس میں روایات والی پخ خود احادیث کے حامی نکال لاتے ہیں۔ قتل ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں خود قران بار بار بولتا ہے۔ اس لیے مجھے یہ بتائیں جس نے قتل کیا ہو، جس نے قتل کا حکم دیا ہو، جس نے قتل میں مدد دی ہو اس کے بارے میں قرآن کہہ رہا ہے کہ وہ ہمیشگی جہنم میں ہے۔ اس کے برعکس کوئی بھی مسلمان ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1685
Reply With Quote
26 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-12-11), فیصل ناصر (16-12-11), ہادی (16-12-11), کنعان (16-12-11), ھارون اعظم (16-12-11), نورالدین (21-12-11), ننھا بچہ (16-12-11), نبیل خان (19-12-11), مون (16-12-11), موجو (16-12-11), ملک اظہر (16-12-11), ملک زوالفقار (04-01-12), مجرم (04-01-12), محمد یاسرعلی (17-12-11), مرزا عامر (16-12-11), wajee (16-12-11), احمد نذیر (16-12-11), تبتیلا انجم (21-12-11), حیدر Rehan (17-12-11), حسن قادری (21-12-11), رضی (08-01-12), شھزادباجوہ (21-12-11), شمشاد احمد (21-12-11), شعبان نظامی (06-01-12), طارق راحیل (18-12-11), عبداللہ حیدر (16-12-11)
پرانا 16-12-11, 12:28 PM   #2
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
احادیث کی بات میں اس لیے نہیں کروں گا کہ اس میں روایات والی پخ خود احادیث کے حامی نکال لاتے ہیں۔ قتل ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں خود قران بار بار بولتا ہے۔ اس لیے مجھے یہ بتائیں جس نے قتل کیا ہو، جس نے قتل کا حکم دیا ہو، جس نے قتل میں مدد دی ہو اس کے بارے میں قرآن کہہ رہا ہے کہ وہ ہمیشگی جہنم میں ہے۔ اس کے برعکس کوئی بھی مسلمان ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔
اور دوسروں کو منکر حدیث قرار دے کر کفر کے فتوے بھی جاری کر دیتے ہیں
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-12-11), فیصل ناصر (16-12-11), wajee (16-12-11)
پرانا 16-12-11, 03:27 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قتل کربلا کے بعد، سو سال بعد تک، کسی کتاب میں قتل کربلا کا ذکر ہی نہیں ہے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
اس وقت اس تھریڈ کا براہ راست موضوع ماضی کے کسی شخص کو ڈسکس کرنا نہیں ہے بلکہ چند اہم نقاط کی تشریح حاصل کرنا ہے۔ کیونکہ ماضی کی شخصیات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ "وہ ایک ایسی امت تھی جو گزر گئی اس کے لیے وہ تھا جس کا اس نے کسب کیا اور تمہارے لیے وہ ہے جو تم کماؤ گے"
لیکن میرے ذہن میں جو نقاط ہیں میں ان کی تشریح ضرور چاہتا ہوں۔
1: اگر ہم قرآنی احکام و احآدیث کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی بے گناہ انسان کو قتل کرنے کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ حتیٰ کہ اس کو جہنم کا ہمیشہ کے لیے مستحق قرار دے دیا جاتا ہے۔اس پر اللہ کی ہمیشگی لعنت مسلط کر دی جاتی ہے (اگر وہ دنیا میں ہی اپنے جرم کی سزا نہیں بھگت لیتا)
فورم پر اس وقت یزید کے جنتی یا جہنمی ہونے کی بابت بے بنیاد بحث چل رہی ہے، کیونکہ video ہونے کے باوجود یہ بھی بتانا مشکل ہے کہ بی بی کو کس نے قتل کیا ؟؟؟

امیر یزید ؒ کا کیسے بتا سکتے ہیں کہ قتل اس کی مرضی سے ہوا، کربلا کے بعد، سو سال بعد تک، کسی کتاب میں قتل کربلا کا ذکر ہی نہیں ہے !!! شک ہی شک !!!


’عقل کا پیالہ‘ شکوک و شبہات سے کیسے خالی ہو ؟

خلیفہ ثالث امیر المومنین عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ بن عفان اور کتب احادیث
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (21-12-11)
پرانا 16-12-11, 06:18 PM   #4
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسی لیئے تو کہتا ہوں کہ واقعہ کربلا کو صرف سیاسی مقصد کے لیئے نمک اور مرچ لگا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ اس واقعہ کا حقیقی علم آج کے انسان کو ہو ہی نہیں سکتا ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-12-11), فیصل ناصر (16-12-11)
پرانا 16-12-11, 06:43 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اس سارے واقعہ کربلا کی تائید یا تردید دو سیاسی جماعتوں کا سیاسی Propaganda ہے جو بعد میں مذہبی فرقہ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
اسی لیئے تو کہتا ہوں کہ واقعہ کربلا کو صرف سیاسی مقصد کے لیئے نمک اور مرچ لگا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ اس واقعہ کا حقیقی علم آج کے انسان کو ہو ہی نہیں سکتا ۔
اس سارے واقعہ کربلا کی تائید یا تردید دو سیاسی جماعتوں کا سیاسی Propaganda ہے، جو بعد میں مذہبی فرقہ بن گئیں !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-12-11, 06:47 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حیدر صاحب،
آپ کے اٹھائے گئے سوالات اہم ہیں۔ لیکن افسوس کہ اس جذباتی فضا میں‌ ان کے جوابات کی جانب نشاندہی کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں

لیکن حیرانگی ہوتی ہے جب ہم چند اشخاص کو اس کیٹیگری سے خآرج کر دیتے ہیں۔ مثلاً یزید کا ہی معاملہ لے لیں ۔ بے شک اس نے قتل نہیں کیا۔ لیکن قتل کے اہم عوامل میں اس کا کردار موجود ضرور ہے۔
محترم، بات یہ ہے کہ یزید نے نہ تو خود حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اور دیگر اہل بیت کو تکالیف پہنچائیں، نہ اس نے اس بات کا حکم ہی دیا تھا ۔ بلکہ تاریخی روایات سے یہ بھی ثابت ہے کہ اس نے اس واقعہ پر رضامندی کا اظہار بھی نہیں‌کیا تھا۔
اقتباس:
یزید نے کہا :’’خدا اس کوغارت کرے جس نے حسین ؓ کو قتل کیا ‘‘
نواسخ التاریخ: صفحہ ۲۷۸

اہل سنت کو چھوڑئیے ، اہل تشیع میں سے بھی بعض اعتدال پسند حضرات نے انصاف سے کام لیتے ہوئے اس بات کا یزید کے حق میں‌اعتراف کر رکھا ہے۔ اہل تشیع کے ایک عالم کی کتاب سے ملاحظہ ہوں یہ اقتباسات:

’’ صدہا باتیں طبع زاد تراشی گئیں۔ واقعات کی تدوین عرصہ دارز کے بعد ہوئی۔ رفتہ رفتہ اختلافات کی اس قدر کثر ت ہو گئی کہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کوسچ سے علیحدہ کرنا مشکل ہو گیا ابو مِخْنَفْ لوط بن یحییٰ ازدی کربلا میں خود موجود نہ تھا، اس لیے یہ سب واقعات انہوں نے سماعی لکھے ہیں لہٰذا مقتل ابو مِخْنَفْ پر پورا وثوق نہیں۔ پھر لطف یہ کہ مقتل ابو مِخْنَفْ کے متعدد نسخے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف البیان ہیں اوران سے صاف پایا جاتا ہے کہ خود ابو مخنف واقعات کو جمع کرنے والا نہیں بلکہ کسی اورشخص نے ا ن کے بیان کردہ سماعی واقعات کو قلمبند کیا ہے ۔ ۔ مختصر یہ کہ شہادت ِامام حسین ؓ کے متعلق تمام واقعات ابتدا سے انتہا تک اس قدر اختلاف سے پرہیں کہ اگر ان کو فرداً فردا ًبیان کیا جائے تو کئی ضخیم دفتر فراہم ہوجائیں …اکثر واقعات مثلاً:
اہل بیت پر تین شبانہ روز پانی کابند رہنا ،فوجِ مخالف کا لاکھوں کی تعداد میں ہونا ، شمر کاسینہ مطہر پربیٹھ کر سر جدا کرنا ، آپ کی لاشِ مقدس سے کپڑوں تک کا اتا ر لینا ، نعش مبارک کا سم اسپاں کئے جانا ، سر اوقات اہل بیت کی غارت گری ،نبی زادیوں کی چادریں تک چھین کر رعب جمانا وغیرہ وغیرہ…بہت ہی مشہور اور زبان زد خاص وعام ہیں حالانکہ ان میں سے بعض غلط،بعض مشکوک ،بعض ضعیف ،بعض مبالغہ آمیز اوربعض من گھڑت ہیں۔ (مجاہد اعظم ص ۱۷۸ مؤلف جناب شاکر حسین امروہی)

دوسرے مقام پر رقم فرماتے ہیں کہ:
’’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بعض واقعات جو نہایت مشہور اور سینکڑوں برس سے سُنّیوں اورشیعوں میں نسلاً بعد نسل منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں ،سرے سے بے بنیاد اوربے اصل ہیں ہم اس کو بھی مانتے ہیں کہ طبقہ علماء کے بڑے اراکین مفسرین ہویامحدثین ،مؤرخین یادوسرے مصنّفین ،متقدمین ہویا متأخرین ان کویکے بعد دیگرے بلا سوچے سمجھے نقل کرتے آئے ہیں۔ اوران کی صحت وغیر صحت کو معیارِ اصول پر نہیں جا نچا۔ اس تساہل وتسامح کا نتیجہ یہ ہوا کہ غلط اور بے بنیاد قصے عوام تو عوام خواص کے اذہان وقلوب میں ایسے راسخ اور استوار ہو گئے کہ اب ان کا انکار گویا کہ بدیہیات کاانکار ہے ۔ (مجاہد اعظم از شاکر حسین امروہی :ص ۱۶۴)

لہٰذا حیدر صاحب، بات یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت میں یزید کا کردار بالکل مشکوک ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ جو کچھ ان مورخین نے کہا ہے وہی درست ہے اور اسی پر ایمان لایا جائے۔ لیکن جس طرح دیگر تاریخی روایات سے یزید کا اس سانحہ کربلا سے راضی ہونا معلوم ہوتا ہے، اسی طرح درج بالا روایات سے یزید کا بری الذمہ ہونا بھی معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ ہی بتائیے کہ ایسی حالت میں سکوت نہ کریں تو کیا کریں؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
یہ بات اپنی جگہ تسلیم کہ ماضی اس قدر پیچیدگیوں میں اُلجھا ہوا ہے کہ سچ تک پہنچنا مشکل ہے اور سکوت اختیار کرنا ہی سب سے بہتر عمل ہے کیونکہ (وہ ایک ایسی امت تھی جو گزر گئی۔۔۔۔۔قرآن)۔
لیکن سکوت سے مراد یہ ہونی چاہیے کہ اگر ہم انکی برائیوں کی کھوج میں نہ رہیں تو ڈھونڈ ڈھانڈ کر انکی فضلیت بیان کرنے کی کوشش بھی نہ کریں۔
مثلاً یزید کے بارے میں یہ کہا جانا کہ اس پر وہ بشارت نبوی صادق آتی ہے کہ جو لشکر قسطنطنیہ پر حملہ کرے گا وہ مغٍفور ہے۔

یہی وہ بات آتی ہے جس پر میں کہا کرتا ہوں کہ "سکوت کے حامیان کی باتوں میں تضاد ہے"۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ سکوت اختیار کرو دوسری طرف وہ یزید کی فضیلتیں اور فضلیت بھی ایسی کہ جس سے اس کا مغفرت شدہ ہونا اور جنتی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ارے بابا جب کسی کے بارے میں اس قدر واضح بات ہو کہ وہ جنتی ہے تو پھر کاہے کا سکوت۔ کھل کر کہو کہ وہ جنتی ہے خواہ اس نے نواسہ رسول تو کیا پورے خاندان رسول کو قتل کر ڈالا ہو۔ خواہ اس نے پوری انسانیت کا قتل کر ڈالا ہو۔
محترم، بات یہ ہے کہ یزید کا جنتی ہونا ثابت نہیں کیا گیا تھا۔ بلکہ فقط اتنی بات کہی گئی ہے کہ جس طرح کی تاریخی روایات کو مان کر کچھ لوگ یزید کو ملعون و جہنمی قرار دینے پر تلے ہیں، اسی طرح کی تاریخی روایات کو اگر بلا سند مان لیا جائے تو یزید کا جنتی ہونا بھی ثابت ہے۔ لہٰذا یہ بات جب کہی جاتی ہے تو صرف الزامی جواب کے طور پر کہی جاتی ہے۔ ورنہ اگر قطعیت کے ساتھ یزید کا قسطنطنیہ کے پہلے جہادی لشکر میں شرکت ثابت ہو جائے تو بھلا ہم ایسے شخص کے بارے کیونکر سکوت کریں کہ جس کے بارے جنت کی بشارت رسول اللہ ﷺ بیان کر چکے ہوں؟ لیکن بشارت والی صحیح بخاری کی حدیث تو صحیح اور اپنے مفہوم پر قطعی الدلالت ہے۔ لیکن جہاں اس کا مصداق یزید کو قرار دینے یا نہ دینے کی بات آتی ہے تو پھر ہم شکوک و شبہات اور ہر طرح کی رطب و یابس تاریخی روایات کے آسرے پر ہوتے ہیں۔ جن سے حقیقتا ثابت کچھ بھی نہیں ہو پاتا۔ لہٰذا ہم نہ تو یزید کو ملعون قرار دینے والوں کی حمایت کرتے ہیں اور نہ اس کو جنتی باور کروانے والوں ہی کا ساتھ دیتے ہیں کہ اعتدال و انصاف کی راہ یہی ہے کہ اس کے بارے میں بس خاموشی اختیار کی جائے۔ اور اسے ملعون و دوزخی اور جنتی و امیر المومنین کہنے والوں کے بین بین رہا جائے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
میرا سوال پھر وہی ہے کہ
1: کیا کسی بے گناہ انسان اور خاص کر مظلوم مسلمان کو قتل کرنے والا یا قتل کا حکم دینے والا کسی طور بھی جنتی ہو سکتا ہے (اگر اس نے اپنے جرم کا کفارہ ادا نہ کیا ہو)؟
2: اگر قرآن کی سورۃ النسا کی آیت کو ہی لیں تو اس میں ہمیشگی جہنم کی وعید ہے۔ اس بارے میں کیا تاویل ہے؟
3: احادیث کی بات میں اس لیے نہیں کروں گا کہ اس میں روایات والی پخ خود احادیث کے حامی نکال لاتے ہیں۔ قتل ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں خود قران بار بار بولتا ہے۔ اس لیے مجھے یہ بتائیں جس نے قتل کیا ہو، جس نے قتل کا حکم دیا ہو، جس نے قتل میں مدد دی ہو اس کے بارے میں قرآن کہہ رہا ہے کہ وہ ہمیشگی جہنم میں ہے۔ اس کے برعکس کوئی بھی مسلمان ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔
اس بارے میں تو کوئی اہل علم ہی روشنی ڈالیں۔ میرے سطحی اور ناقص مطالعہ کی حد تک صرف مشرک اور کافر کے لئے دائمی جہنم ہے۔ باقی جو شخص توحید پر قائم رہا اس کے نامہ سیاہ میں کبیرہ گناہوں سے زمین و آسمان کا خلا بھی پر ہو جائے تو ایک مدت تک جہنم کی سزا ہے اور پھر جنت۔ اور اللہ کا فضل ہو تو معافی بھی مل سکتی ہے۔ (اللہ تعالیٰ ہم سیہ کاروں پر بھی اپنا خاص فضل و احسان کا معاملہ فرمائے اور جہنم کی ہولناکیوں سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین)۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-12-11), skjatala (16-12-11), نبیل خان (16-12-11), احمد نذیر (16-12-11), تبتیلا انجم (21-12-11), عبداللہ حیدر (17-12-11)
پرانا 16-12-11, 07:49 PM   #7
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,362
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قسطنطنیہ فتح کرنے والے لشکر میں یزید شامل نا تھا
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-12-11)
پرانا 16-12-11, 07:58 PM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

چونکہ موضؤع شیعہ بمقابلہ اہل سنت یا یزید کے جنتی یا جہنمی ہونے کا نہیں ہے ۔ اس لیئے اس بارے میں آنے والے مراسلہ جات ان اپروو کر رہا ہوں۔

موضوع ہے کہ اگر ایک شخص قتل کرتا ہے، یا قتل میں مدد دیتا ہے یا قتل کا حکم دیتا ہے ۔۔۔آیا کہ وہ مسلمان رہتا ہے کہ نہیں۔
یزید کا تذکرہ برسبیل تذکرہ آیا ہے۔ وہ اصل موضوع نہیں ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (16-12-11), فاروق سرورخان (07-01-12)
پرانا 16-12-11, 08:08 PM   #9
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
چونکہ موضؤع شیعہ بمقابلہ اہل سنت یا یزید کے جنتی یا جہنمی ہونے کا نہیں ہے ۔ اس لیئے اس بارے میں آنے والے مراسلہ جات ان اپروو کر رہا ہوں۔

موضوع ہے کہ اگر ایک شخص قتل کرتا ہے، یا قتل میں مدد دیتا ہے یا قتل کا حکم دیتا ہے ۔۔۔آیا کہ وہ مسلمان رہتا ہے کہ نہیں۔
یزید کا تذکرہ برسبیل تذکرہ آیا ہے۔ وہ اصل موضوع نہیں ہے۔
شہادت اور قتل میں فرق بھی واضح کریں، کیونکہ تذکرہ بر سبیل تذکرہ میں دوسری جانب شہادت ہے۔
skjatala آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-12-11, 08:12 PM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں پھر سبھی کو یاد دہانی کروا دوں کہ اصل موضوع "چونکہ موضؤع شیعہ بمقابلہ اہل سنت یا یزید کے جنتی یا جہنمی ہونے کا نہیں ہے ۔اور نہ ہی اس کی مذمت یا فضیلت کا ہئے" اس لیے اگر کوئی صاحب اس موضؤع میں اس نیت سے شریک ہوتے ہیں کہ وہ یزید کو برُا بھلا کہنے کے حق میں دلائل پیش کریں گے یا کوئی انکی فضیلتیں بیان کرنا چاہتے ہیں تو انکا مراسلہ بلا جھجھک ان اپروو کر دیا جائے گا۔

ہاں اگر کویئ اس بات کے تاریخی شواہد پیش کرنا چاہیے کہ قتل حسین میں یزید شامل تھا تو اس میں کویئ قباحت نہیں۔

@شکاری صاحب:

آپ اصل بات (یعنی قتل کے بارے میں قرآنی حکم) پر بات کرنے سے ہی انکاری ہو گئے ہیں۔ اب کیا بات کی جائے۔ باقی تمام معاملات میں تو ہر ممکن کوشش کر لی جاتی ہے۔ لیکن جہاں ایک صریح قرآنی حکم کی بات آ رہی ہے وہاں پر صاحبان علم کا کہہ کر جان چھڑوائی جا رہی ہے۔، یا کم از کم مجھے تو ایسا ہی محسوس ہوا ہے۔

بلاشک تاریخ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ یزید نے قتل حسین کا حکم جاری کیا تھا یا رضامندی کا اظہار کیا تھا۔
اگر اس تاریخی حقیقت کو مان لیا جائے کہ یزید رضامند نہ تھا اور اس بات کو بھی کہ وہ اس فعل پر برافروختہ ہوا تھا تو تاریخ یہ بھی بتا رہی ہے کہ اس نے اس فعل قبیح کو سرانجام دینے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ کیا ان کو سزائیں دی تھیں یا انکو ترقیاں دی گئی تھیں؟ مدینہ پر لشکر کشی کے مرتکبین کو کیا سزا دی گئی تھی؟ اور اگراس نے سزا نہیں دی تھی تو ایسا کرنے میں کیا مجبوری مانع تھی؟

جیسے شکوک و شبہات کے سائے یزید کے معاملے میں ہیں کُچھ ویسے ہی شکوک کے سائے بھٹو، مشرف، شجاعت، زرداری، و غیر ہم جیسے افراد بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-12-11), ملک زوالفقار (04-01-12), حیدر Rehan (17-12-11)
پرانا 16-12-11, 08:19 PM   #11
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : skjatala مراسلہ دیکھیں
شہادت اور قتل میں فرق بھی واضح کریں، کیونکہ تذکرہ بر سبیل تذکرہ میں دوسری جانب شہادت ہے۔
اصل میں ایسا ہے کہ جس کو ہم شہادت کہتے ہیں قرآن اس کو معروف الفاظ قتل سے ہی یاد کرتا ہے۔ اسی وجہ سے میں نے ایسا لکھا۔

اور ویسے بھی میرا مقصد ٹاپک کو یزید سے ہٹ کر جنرلائزڈ کرنا ہے تاکہ ہم اس کو آج کے معاشرے پر بھی منطبق کر کے دیکھیں۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (17-12-11)
پرانا 16-12-11, 08:26 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default حیدر صاحب، لگتا ہے کہ آپ کی میرے ساتھ کوئی دشمنی ہے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
ہاں اگر کویئ اس بات کے تاریخی شواہد پیش کرنا چاہیے کہ قتل حسین میں یزید شامل تھا تو اس میں کویئ قباحت نہیں۔
بلا شک تاریخ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ یزید نے قتل حسین کا حکم جاری کیا تھا یا رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

حیدر صاحب، لگتا ہے کہ آپ کی میرے ساتھ کوئی دشمنی ہے، جب یزید ؒ نے قتل ہی نہیں کروایا، بلکہ ایک تحقیق کے مطابق حسینؓ ایک جہاد میں پہلے ہی شہید ہو چکے تھے، تو آپ کا سوال ہی بے معنی ہے !!!


آپ اصل بات (یعنی قتل کے بارے میں قرآنی حکم) پر بات کرنے سے ہی انکاری ہو گئے ہیں۔ اب کیا بات کی جائے۔ باقی تمام معاملات میں تو ہر ممکن کوشش کر لی جاتی ہے۔ لیکن جہاں ایک صریح قرآنی حکم کی بات آ رہی ہے وہاں پر صاحبان علم کا کہہ کر جان چھڑوائی جا رہی ہے۔، یا کم از کم مجھے تو ایسا ہی محسوس ہوا ہے۔

جواب :: نہیں ایسا نہیں ہے !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-12-11, 08:39 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں

@شکاری صاحب:

آپ اصل بات (یعنی قتل کے بارے میں قرآنی حکم) پر بات کرنے سے ہی انکاری ہو گئے ہیں۔ اب کیا بات کی جائے۔ باقی تمام معاملات میں تو ہر ممکن کوشش کر لی جاتی ہے۔ لیکن جہاں ایک صریح قرآنی حکم کی بات آ رہی ہے وہاں پر صاحبان علم کا کہہ کر جان چھڑوائی جا رہی ہے۔، یا کم از کم مجھے تو ایسا ہی محسوس ہوا ہے۔
بھائی بات یہ ہے کہ یہ ایک نازک موضوع ہے۔ اس پر بات کرنے سے ڈر لگتا ہے۔ بہرحال، آپ کی تشفی کے لئے اسی موضوع پر ایک تفصیلی فتویٰ‌سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے جس کے بارے میں‌پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام نے توثیقی دستخط ثبت فرمائے ہیں:



تمام مسلمان محفوظ الدم ہیں، فقہی اصطلاح میں اسے ”محفوظ الدم“ اور ”مصون الدم“ بھی کہتے ہیں، یعنی بغیر کسی وجہ شرعی کے ان کا خون بہانا حرام ہے اوروہ شرعی وجوہ، جن کے سبب کسی مسلمان کا خون مباح ہوجاتا ہے، یہ ہیں:
(الف) یہ کہ کوئی مسلمان العیاذباللہ مرتدہوجائے ۔
(ب) کسی کوناحق قتل کرے ۔
(ج) شادی شدہ زانی ہو۔

ان وجوہات کے سوا مسلمان کو قتل کرنا حرام ہے۔ اورجومسلمان ان وجوہ میں سے کسی ایک کا ارتکاب کرلے، تو وہ پھر”محفوظ الدم“ نہیں رہتا، بلکہ ”مباح الدم“ ہوجاتا ہے، یعنی اس کی جان کی حرمت باقی نہیں رہتی، لیکن اس کے باوجوداس کو قصاص یا حدِشرعی میں قتل کرنا عوام کا کام نہیں ہے ،بلکہ یہ اسلامی حکومت کا منصب اور اس کی ذمہ داری ہے،قرآن مجید میں ہے:

ومَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہ جَھَنَّمُ خٰلِدًا فِیْھَا وَغَضِبَ اللہ عَلَیْہِ وَلَعَنَہ وَاَعَدَّ لَہ عَذَاباً عَظِیْمًا o
ترجمہ: ”جوشخص کسی مومن کو عمداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے اوراس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے اور(اللہ تعالیٰ نے) اس کیلئے عذابِ عظیم تیارکررکھا ہے“۔ (سورۃ النساء:93)

اس آیت کے تحت مومن کے قاتلِ عامد (یعنی دانستہ کسی ایسی جان کو ارادۂ قتل سے تلف کرنے والا ، جسے شریعت نے حرام و محفوظ قرار دیا ہے) کو آخرت میں جہنم کی دائمی سزا، اللہ تعالیٰ کے غضب اورعذابِ عظیم کا سزاوارقرار دیا گیا ہے۔ پھر اس پر مفسرین و فقہاء نے بحث کی ہے کہ آیا ”قتلِ عمد“کا مرتکب ابدی اوردائمی جہنم کی سزا کا حق دار ہے یا اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے، کیونکہ اگر یہ حکم مطلق اورقطعی ہے توبظاہر یہ قرآن کی اس آیت سے متعارض ہے کہ :

اِنَّ اللہ لَایَغْفِرُاَنْ یُّشْرَکَ بِہ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذَالِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ ط
ترجمہ:”اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ شریک ٹھہرانے کو تو(ہرگز) معاف نہیں فرماتا اور اس کے علاوہ دیگرگناہوں کو جس کیلئے چاہے معاف فرمادیتا ہے“۔ (النساء:4

تو اس استثناء کے عموم میں تو”قتلِ عمد“ بھی آتا ہے۔ چنانچہ ان دونوں آیات میں تطبیق کرتے ہوئے سورۂ النساء آیت نمبر93کی تفسیری بحث میں علامہ محمود آلوسی نے تفسیر ”روح المعانی“ میں لکھا ہے:اگراس آیت کو اپنے ظاہری مفہوم پر قائم رکھا جائے تو پھرمومن کے ”قاتلِ عامد“ سے مراد وہ قاتل ہوگا، جواسے حلال سمجھ کرقتل کرے، تو پھر تو ایسے شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے اور نہ یہ پھرمحلِ نزاع ہی ہے( کہ وہ دائمی طور پرجہنمی ہی ہے)، انہوں نے مزید لکھا کہ عکرمہ ، ابن جریج اورمفسرین کی ایک جماعت نے اس آیت میں ”متعمدًا“ کی تفسیر میں ”مستحلًا“کی قید لگائی ہے یعنی جو حلال جان کر”قتلِ عمد“کا ارتکاب کرے“،(روح المعانی،جلد:5،ص:117مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)۔

”عن عبداللہ بن مسعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لایحل دم امری مسلم یشہد ان لا الٰہ الا اللہ وانی رسول اللہ، الاباحدیٰ ثلث النفس بالنفس، والثیّب الزانی، والمارق لدینہ التارک للجماعۃ“
ترجمہ:”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ جومسلمان اس بات کی گواہی دیتا ہوکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اس کی جان لینا سوائے تین وجوہ کے حلال نہیں ہے، (ایک) جان کے بدلے میں جان(یعنی اس نے ناحق کسی کوقتل کیا ہو اورقصاص میں اس کی جان لی جائے)، (دوسری) شادی شدہ زانی اور(تیسری) جماعت (کی متفق علیہ راہ) کو چھوڑ کردین سے نکلنے والا(یعنی جومرتد ہوجائے)“،( مشکوٰۃبحوالہ صحیح بخاری وصحیح مسلم)۔

صحیح مسلم کتاب الایمان میں ہے:
عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سباب المسلم فسق وقتالہ کفر۔
ترجمہ:”حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا :مسلمان کوگالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے“،(صحیح البخاری رقم الحدیث:48، صحیح مسلم، رقم الحدیث:64)۔

اس حدیث کی شرح میں علامہ محی الدین ابوزکریا یحییٰ بن شرف الدین نووی لکھتے ہیں:
ترجمہ:” کسی کو ناحق قتل کرنے سے اہلِ حق کے نزدیک ایسا کفر لازم نہیں آتا، جس کے باعث وہ ملت اسلام سے خارج ہوجائے ، جیسا کہ ہم نے متعدد مقامات پر پہلے بھی بیان کیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ قتلِ ناحق کو حلال سمجھ کر اس کا ارتکاب کرے، تو کہا گیا ہے کہ حدیث کی تاویل میں کئی اقوال ہیں: ان میں سے ایک یہ ہے کہ (اگر کفرکو اپنے حقیقی اصطلاحی معنی پر محمول کیا جائے تو) اس سے مرادوہ شخص ہے،جوحلال جان کرقتلِ ناحق کا ارتکاب کرے“،(شرح نووی، جلد:1، ص:54)۔

لہٰذا شرعی طور پر کسی ”محفوظ الدم“ مسلمان کی جان کو حلال جان کر یا اِسے کارِثواب اورذریعۂ دخولِ جنت سمجھ کر(بغیر کسی شرعی جواز کے)قتل کرنا، تمام ائمہ کے نزدیک کفر ہے۔


مکمل فتویٰ‌ یہاں ملاحظہ کیجئے:
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
skjatala (16-12-11)
پرانا 16-12-11, 09:10 PM   #14
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ترجمہ:” کسی کو ناحق قتل کرنے سے اہلِ حق کے نزدیک ایسا کفر لازم نہیں آتا، جس کے باعث وہ ملت اسلام سے خارج ہوجائے ،
وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (النساء، 4 : 93)

ترجمہ:
اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے

میں نے جب ترجمہ قرآن پڑھا تھا تب مجھے "خالدا" کا مطلب "ہمیشہ ہمیشہ پڑھایا گیا تھا۔
یہ تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کوئی مسلمان ہو (خواہ کتنا ہی گناہگار)اور وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے۔

اسی طرح میں نے ایک حدیث پڑھی تھی اس کے مطابق ناحق قتل کرنے والا جہنم میں جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکے گا، حالانکہ جنت کی خوشبو 40 کوس کے فاصلے بھی بھی محسوس ہوتی ہے (یا جو بھی الفآظ تھے)

تو احادیث سے کیے جانے والے استدلال اور اس قرآنی حکم میں تو خاصا فرق نظر آتا ہے؟

نوٹ: میں فتاویٰ کو اہمیت ضرور دیتا ہوں ۔ لیکن ان پر ایمان لانا ضروری نہیں سمجھتا۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-12-11), فیصل ناصر (17-12-11), کنعان (18-12-11), ملک زوالفقار (04-01-12), حیدر Rehan (17-12-11)
پرانا 16-12-11, 09:17 PM   #15
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

حیدر صاحب، لگتا ہے کہ آپ کی میرے ساتھ کوئی دشمنی ہے، جب یزید ؒ نے قتل ہی نہیں کروایا، بلکہ ایک تحقیق کے مطابق حسینؓ ایک جہاد میں پہلے ہی شہید ہو چکے تھے، تو آپ کا سوال ہی بے معنی ہے !!!


آپ اصل بات (یعنی قتل کے بارے میں قرآنی حکم) پر بات کرنے سے ہی انکاری ہو گئے ہیں۔ اب کیا بات کی جائے۔

جواب :: نہیں ایسا نہیں ہے !!!
مجھے لگتا ہے کہ آپ کو یہ شبہ اپنے مراسلہ جات کو ان اپروو کئیے جانے کی وجہ سے ایسا محسوس ہوا ہے۔ صرف آپ کا ہی نہیں بلکہ مرزا عامر بھائی کا مراسلہ بھی ان اپروو کیا گیا ہے۔ حالانکہ میری اُن سے خؤب گاڑھی چھنتی ہے۔

میں مذہبی معاملات کے تھریڈز کو آف ٹاپک ہونے دینے کے سخت خلاف ہوں۔ اور ان تھریڈز کو ایک سیدھ میں رکھنے کے لیے از خؤد بغیر کسی سے مشاورت کے اقدام کرتا ہوں۔ غلطی ضرور ہو سکتی ہے مجھ سے کہ جس مراسلہ کو میں آف ٹاپک سمجھ رہا ہو، درحقیقت وہ عین ٹاپک پر ہی ہو۔ لیکن اس کو دشمنی یا جانبداری پر محمول کیے جانے پر میں افسوس ہی کر سکتا ہوں۔ اس لیے اگر مجھ سے ایسا ہو اور کوئی محسوس کرے کہ وہ عین ٹاپک پر ہی تھا تو مجھے پی ایم پر سمجھا دے۔ میں اپنی غلطی تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں محسوس کروں گا انشا اللہ۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-12-11), skjatala (16-12-11)
جواب

Tags
فورم, ہے۔, کوشش, گئی, یا, وقت, قرآنی, قران, نبوی, مسلمانوں, معلوم, اللہ, انسان, بے, جانے, جرم, حکم, خود, دے, دنیا, شخص, طور, عدالتی, عظیم, صادق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:13 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger