| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1685
|
||||
| 26 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (16-12-11), فیصل ناصر (16-12-11), ہادی (16-12-11), کنعان (16-12-11), ھارون اعظم (16-12-11), نورالدین (21-12-11), ننھا بچہ (16-12-11), نبیل خان (19-12-11), مون (16-12-11), موجو (16-12-11), ملک اظہر (16-12-11), ملک زوالفقار (04-01-12), مجرم (04-01-12), محمد یاسرعلی (17-12-11), مرزا عامر (16-12-11), wajee (16-12-11), احمد نذیر (16-12-11), تبتیلا انجم (21-12-11), حیدر Rehan (17-12-11), حسن قادری (21-12-11), رضی (08-01-12), شھزادباجوہ (21-12-11), شمشاد احمد (21-12-11), شعبان نظامی (06-01-12), طارق راحیل (18-12-11), عبداللہ حیدر (16-12-11) |
|
|
#2 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
امیر یزید ؒ کا کیسے بتا سکتے ہیں کہ قتل اس کی مرضی سے ہوا، کربلا کے بعد، سو سال بعد تک، کسی کتاب میں قتل کربلا کا ذکر ہی نہیں ہے !!! شک ہی شک !!! ’عقل کا پیالہ‘ شکوک و شبہات سے کیسے خالی ہو ؟ خلیفہ ثالث امیر المومنین عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ بن عفان اور کتب احادیث
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
|
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (21-12-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسی لیئے تو کہتا ہوں کہ واقعہ کربلا کو صرف سیاسی مقصد کے لیئے نمک اور مرچ لگا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ اس واقعہ کا حقیقی علم آج کے انسان کو ہو ہی نہیں سکتا ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (16-12-11), فیصل ناصر (16-12-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس سارے واقعہ کربلا کی تائید یا تردید دو سیاسی جماعتوں کا سیاسی Propaganda ہے، جو بعد میں مذہبی فرقہ بن گئیں !!!
|
|
|
|
|
|
#6 | ||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حیدر صاحب،
آپ کے اٹھائے گئے سوالات اہم ہیں۔ لیکن افسوس کہ اس جذباتی فضا میں ان کے جوابات کی جانب نشاندہی کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اقتباس:
اقتباس:
اہل سنت کو چھوڑئیے ، اہل تشیع میں سے بھی بعض اعتدال پسند حضرات نے انصاف سے کام لیتے ہوئے اس بات کا یزید کے حق میںاعتراف کر رکھا ہے۔ اہل تشیع کے ایک عالم کی کتاب سے ملاحظہ ہوں یہ اقتباسات: ’’ صدہا باتیں طبع زاد تراشی گئیں۔ واقعات کی تدوین عرصہ دارز کے بعد ہوئی۔ رفتہ رفتہ اختلافات کی اس قدر کثر ت ہو گئی کہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کوسچ سے علیحدہ کرنا مشکل ہو گیا ابو مِخْنَفْ لوط بن یحییٰ ازدی کربلا میں خود موجود نہ تھا، اس لیے یہ سب واقعات انہوں نے سماعی لکھے ہیں لہٰذا مقتل ابو مِخْنَفْ پر پورا وثوق نہیں۔ پھر لطف یہ کہ مقتل ابو مِخْنَفْ کے متعدد نسخے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف البیان ہیں اوران سے صاف پایا جاتا ہے کہ خود ابو مخنف واقعات کو جمع کرنے والا نہیں بلکہ کسی اورشخص نے ا ن کے بیان کردہ سماعی واقعات کو قلمبند کیا ہے ۔ ۔ مختصر یہ کہ شہادت ِامام حسین ؓ کے متعلق تمام واقعات ابتدا سے انتہا تک اس قدر اختلاف سے پرہیں کہ اگر ان کو فرداً فردا ًبیان کیا جائے تو کئی ضخیم دفتر فراہم ہوجائیں …اکثر واقعات مثلاً: اہل بیت پر تین شبانہ روز پانی کابند رہنا ،فوجِ مخالف کا لاکھوں کی تعداد میں ہونا ، شمر کاسینہ مطہر پربیٹھ کر سر جدا کرنا ، آپ کی لاشِ مقدس سے کپڑوں تک کا اتا ر لینا ، نعش مبارک کا سم اسپاں کئے جانا ، سر اوقات اہل بیت کی غارت گری ،نبی زادیوں کی چادریں تک چھین کر رعب جمانا وغیرہ وغیرہ…بہت ہی مشہور اور زبان زد خاص وعام ہیں حالانکہ ان میں سے بعض غلط،بعض مشکوک ،بعض ضعیف ،بعض مبالغہ آمیز اوربعض من گھڑت ہیں۔ (مجاہد اعظم ص ۱۷۸ مؤلف جناب شاکر حسین امروہی) دوسرے مقام پر رقم فرماتے ہیں کہ: ’’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بعض واقعات جو نہایت مشہور اور سینکڑوں برس سے سُنّیوں اورشیعوں میں نسلاً بعد نسل منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں ،سرے سے بے بنیاد اوربے اصل ہیں ہم اس کو بھی مانتے ہیں کہ طبقہ علماء کے بڑے اراکین مفسرین ہویامحدثین ،مؤرخین یادوسرے مصنّفین ،متقدمین ہویا متأخرین ان کویکے بعد دیگرے بلا سوچے سمجھے نقل کرتے آئے ہیں۔ اوران کی صحت وغیر صحت کو معیارِ اصول پر نہیں جا نچا۔ اس تساہل وتسامح کا نتیجہ یہ ہوا کہ غلط اور بے بنیاد قصے عوام تو عوام خواص کے اذہان وقلوب میں ایسے راسخ اور استوار ہو گئے کہ اب ان کا انکار گویا کہ بدیہیات کاانکار ہے ۔ (مجاہد اعظم از شاکر حسین امروہی :ص ۱۶۴) لہٰذا حیدر صاحب، بات یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت میں یزید کا کردار بالکل مشکوک ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ جو کچھ ان مورخین نے کہا ہے وہی درست ہے اور اسی پر ایمان لایا جائے۔ لیکن جس طرح دیگر تاریخی روایات سے یزید کا اس سانحہ کربلا سے راضی ہونا معلوم ہوتا ہے، اسی طرح درج بالا روایات سے یزید کا بری الذمہ ہونا بھی معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ ہی بتائیے کہ ایسی حالت میں سکوت نہ کریں تو کیا کریں؟ اقتباس:
اقتباس:
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65] |
||||
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (16-12-11), skjatala (16-12-11), نبیل خان (16-12-11), احمد نذیر (16-12-11), تبتیلا انجم (21-12-11), عبداللہ حیدر (17-12-11) |
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
قسطنطنیہ فتح کرنے والے لشکر میں یزید شامل نا تھا
|
|
|
|
| عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (16-12-11) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چونکہ موضؤع شیعہ بمقابلہ اہل سنت یا یزید کے جنتی یا جہنمی ہونے کا نہیں ہے ۔ اس لیئے اس بارے میں آنے والے مراسلہ جات ان اپروو کر رہا ہوں۔
موضوع ہے کہ اگر ایک شخص قتل کرتا ہے، یا قتل میں مدد دیتا ہے یا قتل کا حکم دیتا ہے ۔۔۔آیا کہ وہ مسلمان رہتا ہے کہ نہیں۔ یزید کا تذکرہ برسبیل تذکرہ آیا ہے۔ وہ اصل موضوع نہیں ہے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | skjatala (16-12-11), فاروق سرورخان (07-01-12) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں پھر سبھی کو یاد دہانی کروا دوں کہ اصل موضوع "چونکہ موضؤع شیعہ بمقابلہ اہل سنت یا یزید کے جنتی یا جہنمی ہونے کا نہیں ہے ۔اور نہ ہی اس کی مذمت یا فضیلت کا ہئے" اس لیے اگر کوئی صاحب اس موضؤع میں اس نیت سے شریک ہوتے ہیں کہ وہ یزید کو برُا بھلا کہنے کے حق میں دلائل پیش کریں گے یا کوئی انکی فضیلتیں بیان کرنا چاہتے ہیں تو انکا مراسلہ بلا جھجھک ان اپروو کر دیا جائے گا۔
ہاں اگر کویئ اس بات کے تاریخی شواہد پیش کرنا چاہیے کہ قتل حسین میں یزید شامل تھا تو اس میں کویئ قباحت نہیں۔ @شکاری صاحب: آپ اصل بات (یعنی قتل کے بارے میں قرآنی حکم) پر بات کرنے سے ہی انکاری ہو گئے ہیں۔ اب کیا بات کی جائے۔ باقی تمام معاملات میں تو ہر ممکن کوشش کر لی جاتی ہے۔ لیکن جہاں ایک صریح قرآنی حکم کی بات آ رہی ہے وہاں پر صاحبان علم کا کہہ کر جان چھڑوائی جا رہی ہے۔، یا کم از کم مجھے تو ایسا ہی محسوس ہوا ہے۔ بلاشک تاریخ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ یزید نے قتل حسین کا حکم جاری کیا تھا یا رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ اگر اس تاریخی حقیقت کو مان لیا جائے کہ یزید رضامند نہ تھا اور اس بات کو بھی کہ وہ اس فعل پر برافروختہ ہوا تھا تو تاریخ یہ بھی بتا رہی ہے کہ اس نے اس فعل قبیح کو سرانجام دینے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ کیا ان کو سزائیں دی تھیں یا انکو ترقیاں دی گئی تھیں؟ مدینہ پر لشکر کشی کے مرتکبین کو کیا سزا دی گئی تھی؟ اور اگراس نے سزا نہیں دی تھی تو ایسا کرنے میں کیا مجبوری مانع تھی؟ جیسے شکوک و شبہات کے سائے یزید کے معاملے میں ہیں کُچھ ویسے ہی شکوک کے سائے بھٹو، مشرف، شجاعت، زرداری، و غیر ہم جیسے افراد بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور ویسے بھی میرا مقصد ٹاپک کو یزید سے ہٹ کر جنرلائزڈ کرنا ہے تاکہ ہم اس کو آج کے معاشرے پر بھی منطبق کر کے دیکھیں۔ |
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (17-12-11) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
حیدر صاحب، لگتا ہے کہ آپ کی میرے ساتھ کوئی دشمنی ہے، جب یزید ؒ نے قتل ہی نہیں کروایا، بلکہ ایک تحقیق کے مطابق حسینؓ ایک جہاد میں پہلے ہی شہید ہو چکے تھے، تو آپ کا سوال ہی بے معنی ہے !!! آپ اصل بات (یعنی قتل کے بارے میں قرآنی حکم) پر بات کرنے سے ہی انکاری ہو گئے ہیں۔ اب کیا بات کی جائے۔ باقی تمام معاملات میں تو ہر ممکن کوشش کر لی جاتی ہے۔ لیکن جہاں ایک صریح قرآنی حکم کی بات آ رہی ہے وہاں پر صاحبان علم کا کہہ کر جان چھڑوائی جا رہی ہے۔، یا کم از کم مجھے تو ایسا ہی محسوس ہوا ہے۔ جواب :: نہیں ایسا نہیں ہے !!! |
|
|
|
|
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
تمام مسلمان محفوظ الدم ہیں، فقہی اصطلاح میں اسے ”محفوظ الدم“ اور ”مصون الدم“ بھی کہتے ہیں، یعنی بغیر کسی وجہ شرعی کے ان کا خون بہانا حرام ہے اوروہ شرعی وجوہ، جن کے سبب کسی مسلمان کا خون مباح ہوجاتا ہے، یہ ہیں: (الف) یہ کہ کوئی مسلمان العیاذباللہ مرتدہوجائے ۔ (ب) کسی کوناحق قتل کرے ۔ (ج) شادی شدہ زانی ہو۔ ان وجوہات کے سوا مسلمان کو قتل کرنا حرام ہے۔ اورجومسلمان ان وجوہ میں سے کسی ایک کا ارتکاب کرلے، تو وہ پھر”محفوظ الدم“ نہیں رہتا، بلکہ ”مباح الدم“ ہوجاتا ہے، یعنی اس کی جان کی حرمت باقی نہیں رہتی، لیکن اس کے باوجوداس کو قصاص یا حدِشرعی میں قتل کرنا عوام کا کام نہیں ہے ،بلکہ یہ اسلامی حکومت کا منصب اور اس کی ذمہ داری ہے،قرآن مجید میں ہے: ومَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہ جَھَنَّمُ خٰلِدًا فِیْھَا وَغَضِبَ اللہ عَلَیْہِ وَلَعَنَہ وَاَعَدَّ لَہ عَذَاباً عَظِیْمًا o ترجمہ: ”جوشخص کسی مومن کو عمداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے اوراس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے اور(اللہ تعالیٰ نے) اس کیلئے عذابِ عظیم تیارکررکھا ہے“۔ (سورۃ النساء:93) اس آیت کے تحت مومن کے قاتلِ عامد (یعنی دانستہ کسی ایسی جان کو ارادۂ قتل سے تلف کرنے والا ، جسے شریعت نے حرام و محفوظ قرار دیا ہے) کو آخرت میں جہنم کی دائمی سزا، اللہ تعالیٰ کے غضب اورعذابِ عظیم کا سزاوارقرار دیا گیا ہے۔ پھر اس پر مفسرین و فقہاء نے بحث کی ہے کہ آیا ”قتلِ عمد“کا مرتکب ابدی اوردائمی جہنم کی سزا کا حق دار ہے یا اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے، کیونکہ اگر یہ حکم مطلق اورقطعی ہے توبظاہر یہ قرآن کی اس آیت سے متعارض ہے کہ : اِنَّ اللہ لَایَغْفِرُاَنْ یُّشْرَکَ بِہ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذَالِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ ط ترجمہ:”اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ شریک ٹھہرانے کو تو(ہرگز) معاف نہیں فرماتا اور اس کے علاوہ دیگرگناہوں کو جس کیلئے چاہے معاف فرمادیتا ہے“۔ (النساء:4 ![]() تو اس استثناء کے عموم میں تو”قتلِ عمد“ بھی آتا ہے۔ چنانچہ ان دونوں آیات میں تطبیق کرتے ہوئے سورۂ النساء آیت نمبر93کی تفسیری بحث میں علامہ محمود آلوسی نے تفسیر ”روح المعانی“ میں لکھا ہے:اگراس آیت کو اپنے ظاہری مفہوم پر قائم رکھا جائے تو پھرمومن کے ”قاتلِ عامد“ سے مراد وہ قاتل ہوگا، جواسے حلال سمجھ کرقتل کرے، تو پھر تو ایسے شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے اور نہ یہ پھرمحلِ نزاع ہی ہے( کہ وہ دائمی طور پرجہنمی ہی ہے)، انہوں نے مزید لکھا کہ عکرمہ ، ابن جریج اورمفسرین کی ایک جماعت نے اس آیت میں ”متعمدًا“ کی تفسیر میں ”مستحلًا“کی قید لگائی ہے یعنی جو حلال جان کر”قتلِ عمد“کا ارتکاب کرے“،(روح المعانی،جلد:5،ص:117مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)۔ ”عن عبداللہ بن مسعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لایحل دم امری مسلم یشہد ان لا الٰہ الا اللہ وانی رسول اللہ، الاباحدیٰ ثلث النفس بالنفس، والثیّب الزانی، والمارق لدینہ التارک للجماعۃ“ ترجمہ:”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ جومسلمان اس بات کی گواہی دیتا ہوکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اس کی جان لینا سوائے تین وجوہ کے حلال نہیں ہے، (ایک) جان کے بدلے میں جان(یعنی اس نے ناحق کسی کوقتل کیا ہو اورقصاص میں اس کی جان لی جائے)، (دوسری) شادی شدہ زانی اور(تیسری) جماعت (کی متفق علیہ راہ) کو چھوڑ کردین سے نکلنے والا(یعنی جومرتد ہوجائے)“،( مشکوٰۃبحوالہ صحیح بخاری وصحیح مسلم)۔ صحیح مسلم کتاب الایمان میں ہے: عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سباب المسلم فسق وقتالہ کفر۔ ترجمہ:”حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا :مسلمان کوگالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے“،(صحیح البخاری رقم الحدیث:48، صحیح مسلم، رقم الحدیث:64)۔ اس حدیث کی شرح میں علامہ محی الدین ابوزکریا یحییٰ بن شرف الدین نووی لکھتے ہیں: ترجمہ:” کسی کو ناحق قتل کرنے سے اہلِ حق کے نزدیک ایسا کفر لازم نہیں آتا، جس کے باعث وہ ملت اسلام سے خارج ہوجائے ، جیسا کہ ہم نے متعدد مقامات پر پہلے بھی بیان کیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ قتلِ ناحق کو حلال سمجھ کر اس کا ارتکاب کرے، تو کہا گیا ہے کہ حدیث کی تاویل میں کئی اقوال ہیں: ان میں سے ایک یہ ہے کہ (اگر کفرکو اپنے حقیقی اصطلاحی معنی پر محمول کیا جائے تو) اس سے مرادوہ شخص ہے،جوحلال جان کرقتلِ ناحق کا ارتکاب کرے“،(شرح نووی، جلد:1، ص:54)۔ لہٰذا شرعی طور پر کسی ”محفوظ الدم“ مسلمان کی جان کو حلال جان کر یا اِسے کارِثواب اورذریعۂ دخولِ جنت سمجھ کر(بغیر کسی شرعی جواز کے)قتل کرنا، تمام ائمہ کے نزدیک کفر ہے۔ مکمل فتویٰ یہاں ملاحظہ کیجئے: |
|
|
|
|
| شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا | skjatala (16-12-11) |
|
|
#14 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ترجمہ: اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے میں نے جب ترجمہ قرآن پڑھا تھا تب مجھے "خالدا" کا مطلب "ہمیشہ ہمیشہ پڑھایا گیا تھا۔ یہ تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کوئی مسلمان ہو (خواہ کتنا ہی گناہگار)اور وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے۔ اسی طرح میں نے ایک حدیث پڑھی تھی اس کے مطابق ناحق قتل کرنے والا جہنم میں جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکے گا، حالانکہ جنت کی خوشبو 40 کوس کے فاصلے بھی بھی محسوس ہوتی ہے (یا جو بھی الفآظ تھے) تو احادیث سے کیے جانے والے استدلال اور اس قرآنی حکم میں تو خاصا فرق نظر آتا ہے؟ نوٹ: میں فتاویٰ کو اہمیت ضرور دیتا ہوں ۔ لیکن ان پر ایمان لانا ضروری نہیں سمجھتا۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (16-12-11), فیصل ناصر (17-12-11), کنعان (18-12-11), ملک زوالفقار (04-01-12), حیدر Rehan (17-12-11) |
|
|
#15 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں مذہبی معاملات کے تھریڈز کو آف ٹاپک ہونے دینے کے سخت خلاف ہوں۔ اور ان تھریڈز کو ایک سیدھ میں رکھنے کے لیے از خؤد بغیر کسی سے مشاورت کے اقدام کرتا ہوں۔ غلطی ضرور ہو سکتی ہے مجھ سے کہ جس مراسلہ کو میں آف ٹاپک سمجھ رہا ہو، درحقیقت وہ عین ٹاپک پر ہی ہو۔ لیکن اس کو دشمنی یا جانبداری پر محمول کیے جانے پر میں افسوس ہی کر سکتا ہوں۔ اس لیے اگر مجھ سے ایسا ہو اور کوئی محسوس کرے کہ وہ عین ٹاپک پر ہی تھا تو مجھے پی ایم پر سمجھا دے۔ میں اپنی غلطی تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں محسوس کروں گا انشا اللہ۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (16-12-11), skjatala (16-12-11) |
![]() |
| Tags |
| فورم, ہے۔, کوشش, گئی, یا, وقت, قرآنی, قران, نبوی, مسلمانوں, معلوم, اللہ, انسان, بے, جانے, جرم, حکم, خود, دے, دنیا, شخص, طور, عدالتی, عظیم, صادق |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|