واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


مفتی اعظم آگرہ کا سگا پوتا ہوں، ۔۔۔۔الطاف

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-10-09, 09:33 AM   #1
مفتی اعظم آگرہ کا سگا پوتا ہوں، ۔۔۔۔الطاف
sahj sahj آف لائن ہے 22-10-09, 09:33 AM

مفتی اعظم آگرہ کا سگا پوتا ہوں، میری باتوں کو غلط رنگ دیا جارہا ہے، میں نے تو صرف یہ کہا تھا کہ قادیانیوں کو غیرمسلم پاکستانی کی حیثیت سے رہنے کا حق دیا جائے، انہیں اپنے عقائد کے مطابق عبادت کرنے اور عزت سے رہنے کا حق ہے‘‘۔ یہ وضاحتی بیان ایم کیو ایم کے لندن والے قائد پیرمغاں الطاف حسین کا 11 ستمبر کے اخبارات میں چھپا۔ اِس سے قبل 9 ستمبر کو کراچی میں منعقدہ علماء، مشائخ اور سکالرز کے پروگرام سے اپنے مواصلاتی خطاب میں الطاف حسین نے کہا تھا کہ ’’قادیانیوں کو حکومت نے غیرمسلم قرار دے دیا ہے تو اب انہیں پاکستان میں غیرمسلموں کی طرح رہنے کا حق بھی دو... میرا مطلب یہ ہے کہ قادیانیوں کو عیسائی، ہندو اور سکھوں کی طرح شہری تسلیم کریں جو اِس کی مخالفت کرتے ہیں تو پھر وہ عیسائی ، بدھ مت اور ہندو ازم کے ماننے والے ممالک سے تعلقات ختم کریں۔ قارئین محترم ایم کیو ایم کے لندن والے قائد کے مختلف بیانات کی یہ چند جھلکیاں جو آپ کے سامنے پیش کی ہیں تو اِس کی وجہ یہ ہے تاکہ آپ کو اندازہ ہوسکے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیت علماء پاکستان اور دیگر مذہبی جماعتوں کے علماء، قائدین اور سکالرز اگر الطاف حسین سے معافی مانگنے کا مطالبہ کررہے ہیں تو اِس کے پیچھے کیا راز چھپا ہوا ہے... ’’مفتی اعظم آگرہ کے سگے پوتے‘‘ کو پہلے تو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں اور قادیانیوں میں فرق کیا ہے؟ عیسائیوں، یہودیوں، ہندوؤں یا سکھوں نے اپنے آپ کو آج تک کبھی نہ مسلمان ظاہر کیا اور نہ مسجدوں کو اپنی عبادت گاہیں قرار دیا اور نہ ہی مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی نعوذباللہ نبوت کو منسوخ قرار دے کر کوئی نیا جعلی نبی کھڑا کرنے کی کوشش کی ... یہودی، عیسائی، ہندو، سکھ اپنے آپ کو پاکستان میں اقلیت سمجھتے ہیں اور اکثریتی مذہب اسلام کے ماننے والوں کا احترام کرتے ہیں... بقیہ ساری غیرمسلم اقلیتیں آئین پاکستان کا احترام بھی کرتی ہیں... لیکن قادیانی جوکہ خود کو ’’احمدی‘‘ کہلاتے ہیں... وہ سرے سے اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت سمجھنے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے... بلکہ اُلٹا صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کو کافر اور غیرمسلم تصور کرتے ہیں... قادیانی کلمہ مسلمانوں والا پڑھتے ہیں لیکن محمدرسول اللہ سے مراد نعوذباللہ مرزا قادیانی لیتے ہیں... قادیانی اپنی عبادت گاہوں کی شکل مسجدوں کی طرح بناتے ہیں... قرآن مقدس میں تحریف کرکے مسلمانوں کے قرآن کو ماننے کا ناٹک رچاتے ہیں... قادیانی پیغمبرِ اسلام اورمقدس ہستیوں کی گستاخی کو اپنے عقیدے کا حصہ سمجھتے ہیں، دراصل قادیانی کوئی فرقہ، کوئی عقیدہ یاکسی مذہب کا نام نہیں ہے بلکہ قادیانیت فرنگی سامراج کے خودکاشتہ اُس فتنے کا نام ہے... کہ جس کو فرنگی کی طرف سے جہاد مقدس کو ختم کرنے یا کم ازکم مشکوک بنانے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کا مشن سونپا گیا تھا... چنانچہ قادیانیوں نے اپنے گورے آقاؤں کے اِس مشن کو پورا کرنے کیلئے مسلمانوں میں فرقہ وارانہ آگ بڑھکانے کے ساتھ ساتھ رسول رحمتﷺ اور دیگر اسلام کی مقدس شخصیات کی توہین وتنقیص کا نہ صرف یہ کہ سلسلہ جاری رکھا بلکہ دنیا بھر کے کافروں کی حمایت اور سرپرستی میں مملکت خداداد پاکستان کیخلاف بھی ریشہ دوانیاں جاری رکھیں... یہی وجہ ہے کہ 1953ء میں مسلمانوں نے ہر قسم کی فرقہ واریت کو جھٹکتے ہوئے قادیانیوں کے خلاف زبردست احتجاجی تحریک برپا کرڈالی... 53ء کی تحریک میں اُس وقت کے قادیانی نواز حکمرانوں نے ہزاروں عشاق رسول کو شہید کر ڈالا، رسول رحمت کی ختم نبوت کے سینکڑوں پروانے معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیئے گئے... بے شمار مسلمانوں کو گرفتار کرلیا گیا... 1974ء میں جب ربوہ اسٹیشن کا سانحہ پیش آیا کہ جس میں قادیانیوں نے دہشت گردی کامظاہرہ کرتے ہوئے مسلمان طلباء کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی ... جب قادیانیوں کی پیغمبر اسلام، اسلام کی دیگر مقدس شخصیات، مسلمانانِ پاکستان اور سرزمین پاکستان کیخلاف توہین وتنقیص، ریشہ دوانیاں اور سازشیں حد سے بڑھ گئیں تو پھر اسلامیانِ پاکستان کا پیمانہ صبر بھی لبریز ہوگیا چنانچہ 1974ء میں پاکستان میں قادیانیوں کیخلاف ایک ایسی زبردست عوامی تحریک اُٹھی کہ بالآخر وقت کے حکمرانوں کو قادیانیت جیسے ناسور کو قومی اسمبلی کے فلور پر زیربحث لانا پڑا اور قومی اسمبلی نے 13 دن تک قادیانی اور لاہوری گروپ کے سربراہوں کو مکمل دفاع کاموقع دیا مگر قادیانی اور لاہوری گروپ کے نمائندے ان 13 دنوں میں اپنا رسول رحمت کی امت سے کسی قسم کاکوئی تعلق بھی ثابت نہ کرسکے... چنانچہ 7 ستمبر 1974ء کو شام 4 بجے قومی اسمبلی کا ایک فیصلہ کن اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور وزیرقانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کے ترمیمی بل کی منظوری کا اعلان کیا... اور یوں فرنگی سامراج کا لگایا ہوا یہ پودا کہ جس کی تمام تر سرپرستی لندن کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے یہودی بھی کررہے تھے... آئین اور قانون کی رو سے اُمت محمدیہ کے باغی قرار دے کر کینسر کے اِس پھوڑے کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ملتِ اِسلامیہ سے جدا کردیا... بعدازاں 1984ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کی رو سے قادیانی کسی بھی شعائر اسلامی کو استعمال نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان کی عبادت گاہ کو مسجد کا نام دیاجاسکتا ہے... سوال یہ ہے کہ 90 سالہ طویل ترین جدوجہد اور ہزاروں شہادتوں کے بعد جس قادیانی مسئلے کو مسلمانوں نے حل کروایا... مفتی اعظم آگرہ کا پوتا الطاف حسین اِس تاریخ سے ناواقف کیوں ہے؟ کیا واقعی الطاف حسین اس قدر سادہ ہیں کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ قادیانی اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت تسلیم کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہورہے... بلکہ آج بھی قادیانی بڑی ڈھٹائی ،مکاری اور عیاری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے آپ کو احمدی مسلمان ظاہر کرتے ہیں... کیا مفتی اعظم آگرہ کا پوتا پاکستان میں کسی ایک بھی ایسے قادیانی شخص یا گھرانے کا نام قوم کو بتا سکتا ہے کہ جو قادیانی اپنے آپ کو عیسائی، ہندو یا سکھ کے برابر سمجھنے کیلئے تیار ہو...؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پیرمغاں الطاف حسین قادیانیوں پر زور ڈالتے کہ جب پاکستان کے آئین کی رو سے وہ کافر اور غیرمسلم ہیں تو وہ پاکستان میں غیرمسلموں کے حقوق کو انجوائے کریں لیکن وہ تو الٹا علماء کرام اور مسلمانوں کو کہہ رہے ہیں کہ قادیانیوں کو غیرمسلم پاکستانی کی حیثیت سے جینے کا حق دیا جائے... قادیانیوں سے غیرمسلم پاکستانی کی حیثیت سے جینے کا حق چھینا کس نے ہے؟ اس کی وضاحت بھی لندن کے پناہ گزین کو کردینی چاہئے تھی... اگر الطاف حسین بار بار یہ وضاحت کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں ’’ کہ وہ شخص مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جو ختم نبوت پر کامل یقین نہ رکھے‘‘ تو انہیں یہ بھی پتا ہونا چاہئے کہ جو شخص یا گروہ پیغمبر رحمت کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرنے کے بعد بھی اپنے آپ کو مسلمان ثابت کررہا ہو... پاکستان کے آئین اور قانون کی رو سے کافر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو غیرمسلم تسلیم کرنے کیلئے تیار نہ ہو اُس کی سزا اسلام اور پاکستان کے قانون میں کیا ہے... اور وہ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ عیسائی اور ہندو میں بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ ہندو اور سکھ تو صرف کافر اور غیرمسلم ہیں لیکن قادیانی وہ لعنتی اور ناپاک گروہ ہے کہ جن کو مرتد کہا جاتا ہے اور اگر پاکستان میں کبھی بھی کوئی اسلامی حکومت قائم ہوئی تو اس وقت مرتد کی شرعی سزا جو اسلام نے بتائی ہے وہ ضرور لاگو ہوکر رہے گی... آج اگر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سمیت تمام مسالک کے علماء اور مسلمانانِ پاکستان الطاف حسین کیخلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں تو مفتی اعظم آگرے کے پوتے کو اِس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ آخر اِس کی کیا وجہ ہے... ؟الطاف حسین کی جماعت ایم کیو ایم ہر انتخابات میں لاکھوں کروڑوں ووٹ حاصل کرکے اسمبلیوں میں پہنچتی رہی ہے ’’پیرمغاں‘‘ کو اِس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ ان کروڑوں ووٹروں میں قادیانیوں کے ووٹ کتنے تھے؟ کیا یورپ کی گود میں بیٹھ کر قادیانیوں کی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ اُن کے اِس طرح کے بیانات سے کراچی کے کروڑوں مسلمان ووٹروں کی توہین ہورہی ہے... یہ بات یاد رکھنا نہایت ضروری ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے سسر جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی حکومت نے قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کا جو سنہری کارنامہ سرانجام دیا تھا وہ یقیناًقیامت تک لائق تحسین کہلائے گا... ہزارہ سے تعلق رکھنے والے نامور عالم دین اور سیاست دان حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ بھٹو کو برا مت کہا کرو ممکن ہے کہ اُس کا قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے کا فیصلہ اُس کی بخشش کاذریعہ بن جائے... یہ بات بھی میں آج ریکارڈ کا حصہ بنانا چاہتا ہوں انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق گزشتہ مہینوں امریکہ سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایک وفدنے جب ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور انہیں بلوچستان کے عوام سے معافی مانگنے پر خراج تحسین پیش کرنے کے بعد یہ کہا کہ جناب صدر آپ کے سسر بھٹو نے جو قادیانیوں کے ساتھ زیادتی کی تھی اور انہیں غیرمسلم اقلیت قرار دیا تھا کیا ہی اچھا ہو کہ آپ قادیانیوں سے بھی معافی مانگ کر وہ قانون ختم کردیں تو جناب زرداری نے جواب میں کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا یہی تو ایک کارنامہ ہے کہ جس نے انہیں آج تک زندہ رکھا ہوا ہے، میں کون ہوتا ہوں کہ اُن کے اِس کارنامے کو منسوخ کرسکوں‘‘... اور یہ ہے بھی حقیقت۔ ختم نبوت پاکستان کے 16 کروڑ عوام اور دنیا میں بسنے والے اربوں مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان کا مسئلہ ہے... ختم نبوت ،قرآن اور احادیث سے ثابت شدہ وہ عظیم مسئلہ ہے کہ جس پر کوئی بھی غیرت مند مسلمان کسی قسم کا بھی کمپرومائز نہیں کرسکتا... لندن کے پیرمغاں کی ذاتی مجبوریاں ہوسکتی ہیں چونکہ اُنہوں نے گوروں کے دیس میں پناہ لے رکھی ہے... قادیانی اسرائیل کا سکہ ہوسکتے ہیں... قادیانی لندن، امریکہ اور انڈیا کا مسئلہ ہوسکتے ہیں کیونکہ قادیانی پیداوار اور نمک خوار ہی ان کفریہ طاقتوں کے ہیں... اور انہی کفریہ طاقتوں کی ضرورت ہے کہ کسی بھی قیمت پر پاکستان میں حکومتی سطح پر قادیانیوں کا اسلام تسلیم کروائیں ...لیکن قادیانی پاکستانی مسلمانوں یا امت مسلمہ کا کبھی بھی مسئلہ نہ پہلے تھے نہ آج ہیں اور نہ آئندہ بن سکتے ہیں... اُمت مسلمہ اِس بات پر کمیٹڈ ہے کہ قادیانی رسول رحمت کی ختم نبوت کے باغی اور ڈاکو ہونے کی بنیاد پر مرتد ہیں... اور لندن والے ایم کیو ایم کے قائد جتنا زیادہ قادیانیوں کی مظلومیت کی آڑ میں اُن کی حمایت کریں گے تو صرف پاکستان ہی نہیں پوری اُمت مسلمہ میں اُن کی حیثیت کیا رہ جائے گی، اُنہیں یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہئے ... باقی کسی بھی غیرت مند مسلمان کے جیتے جی ختم نبوت کے کسی باغی کو مسلمانوں کی صفوں میں کسی قیمت پر بھی گھسنے نہیں دیا جائے گا، پاکستان کے مسلمان قادیانیوں کو ہر وہ حق دے چکے ہیں جو کہ آئین اور قانون نے اُنہیں دیا ہوا ہے البتہ قادیانیوں کو بھی چاہئے کہ وہ آئین اور قانون کی بغاوت کرکے مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ مارنے سے گریز کریں۔


(محمد بن قاسم)
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 137
Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (22-10-09)
جواب

Tags
ہندو, فرقہ واریت, کارنامے, کراچی, پاکستانی, وزیراعظم, قرآن, لندن, مکمل, ممکن, آج, ایمان, اللہ, امریکہ, اسلام, جواب, حل, دیس, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, زندگی, زرداری, سیاست, عبادت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کہہ نہ سکوں، کتنا پیار محمدعدنان ویڈیوز 6 04-09-11 02:48 AM
پاکستان کے لیے کام کرنے پر شرمندہ ہوں، ڈاکٹر عبد القدیر خان طلحہ عمومی بحث 10 17-08-10 09:55 AM
وزیر اعلیٰ بھوتانی کا بلوچستان کیلئے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا اعلان عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 10:04 AM
سابق وکٹ کیپرزکی مدد سے خامیاں دورکرنے کے لیے کوشاں ہوں، کامران اکمل عبدالقدوس کرکٹ 0 28-10-07 10:25 AM
ہر میچ کے بعد سیکھنے کی کوشش کررہا ہوں، مورکل خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 26-10-07 10:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:13 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger