| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 685
|
||||
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
محترم بھائی، آپ اس مراسلہ سے کیا سمجھانا چاہتے ہیں اگر اپنا مختصر خلاصہ بیان فرما دیں تو شائد میں آپکی اس پر مزید کچھ مدد کر سکوں۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (19-02-11) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو کچھ عرض کیا گیا اس کی صحت پر پورا قرآن دلیل ہے ۔تاہم چونکہ سائل نے کتاب وسنت کی تصریحات کا مطالبہ کیا ہے ۔اس لئے محض چندآیاتِ قرآنی یہاں پیش کی جاتی ہیں:: 1 قرآن کی رُو سے اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے ،خلق اسی کی ہے ۔لہذا فطرۃً ’’اَمر‘‘کا حق (Right to rule) بھی صرف اسی کو پہنچتا ہے۔اس کے ملک (Dominion) میں اس کی خلق پر، خود اس کے سوا کسی دوسرے کا امر جاری ہونا اور حکم چلنا بنیادی طور پر غلط ہے۔ قُلِ اللَّـهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ۔ ’’کہواے اللہ!مالک الملک ،تو جس کو چاہے ملک دے اور جس سے چاہے چھین لے‘‘۔)آل عمران:۶ ۲( ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ۔ ’’وہ )اللہ ( تمہارا رب ہے ،ملک اُسی کا ہے‘‘۔)فاطر:۳ ۱( لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ۔ ’’بادشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں (Partner)ہے‘‘۔ )بنی اسرائیل :۱۱۱( فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ۔ ’’لہذا حکم اللہ بزرگ و برتر ہی کیلئے خاص ہے‘‘۔)المومن :۲۱( وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا۔ ’’اور وہ اپنے حکم میں کسی کو اپنا حصہ دار نہیں بناتا‘‘۔)الکہف (۲۶: أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ۔ ’’خبردار!خلق اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے‘‘۔)الاعراف:۴ ۵( يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِن شَيْءٍ ۗ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّـهِ۔ ’’لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا امر میںہمارا بھی کچھ حصہ ہے ؟کہہ دو کہ امر ساراکا سارا اللہ کے لئے مخصوص ہے‘‘۔)آل عمران (۱۵۴: ۔2 اس اصل الاصول کی بناء پر قانون سازی کا حق انسان سے بالکلیہ سلب کرلیا گیا ہے ۔کیونکہ انسان مخلوق اور رعیت ہے ،بندہ اور محکوم ہے اور اس کا کام صرف اس قانون کی پیروی کرنا ہے جو مالک الملک نے بنایا ہو۔اُس کے قانون کو چھوڑ کر جو شخص یا ادارہ خود کوئی قانون بناتا ہے،یا کسی دوسرے کے بنائے ہوئے قانون کو تسلیم کرکے اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، وہ ’’طاغوت‘‘ہے ،باغی اور خارج از اطاعت حق ہے،اور اس سے فیصلہ چاہنے والا اور اس کے فیصلے پر عمل کرنے والا بھی بغاوت کا مجرم ہے۔ وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَـٰذَا حَلَالٌ وَهَـٰذَا حَرَامٌ۔ ’’اور تم اپنی زبانوں سے جن چیزوں کا ذکر کرتے ہو ان کے متعلق جھوٹ گھڑ کر یہ نہ کہہ دیا کروکہ یہ حلال ہے (Lawful)اور یہ حرام (Un-lawful)‘‘۔ ) النحل: ۶ ۱۱( اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ۔ ’’جوکچھ تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف اتارا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے اولیائ )اپنے ٹھیرائے ہوئے کارسازوں (کی پیروی نہ کرو‘‘۔)الاعراف:۳( وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ۔ ’’اور جو اُس قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو ایسے تمام لوگ کافر ہیں‘‘۔)المائدۃ:۴۴( أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالا بَعِيدًا۔ ’’اے نبی!کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں اُس ہدایت پر ایمان لانے کوجو تم پر اور تم سے پہلے کے انبیاء پر اتاری گئی ہے اور پھر چاہتے ہیں کہ اپنے معاملہ کا فیصلہ ’’طاغوت‘‘سے کرائیں۔ حالانکہ انہیں حکم دیا گیاتھا کہ طاغوت سے کفر کریں )یعنی اس کے حکم کو تسلیم نہ کریں(‘‘۔(النساء:۶۰) ۔3 خداوند عالم کی زمین پر صحیح حکومت اورصحیح عدالت صرف وہ ہے جو اس قانون کی بنیاد پر قائم ہوجو اُس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے بھیجا ہے۔اسی کا نام خلافت ہے۔ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّـهِ۔ ’’اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ حکم الٰہی کی بنائ پر اس کی اطاعت کی جائے ‘‘۔)النساء:۴۶( إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّـهُ۔ ’’اے نبی ! ہم نے تمہاری طرف کتاب ِ برحق نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اُ س روشنی کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمہیں دکھائی ہے‘‘۔)النساء (۱۰۵: وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ إِلَيْكَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ۔ ’’اور یہ کہ تم ان کے درمیان حکومت کرو اس ہدایت کے مطابق جو اللہ نے اتاری ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور ہوشیار رہو کہ وہ تمہیں فتنہ میں مبتلا کرکے اُس ہدایت کے کسی جز سے نہ پھیر دیں جو اللہ نے تمہاری طرف نازل کی ہے.کیا یہ لوگ جاہلیت کی حکومت چاہتے ہیں ؟‘‘ )المائدۃ:۹۴۔۰۵( يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـه۔ ’’اے داؤد!ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ مقرر کیا ہے لہذا تم حق کے ساتھ لوگوں کے درمیان حکومت کرو اور اپنی خواہش نفس کی پیروی نہ کرو ورنہ اللہ کے راستہ سے وہ تم کو بھٹکا لے جائے گی‘‘۔)ص: (۲۶ 4 اس کے برعکس ہر وہ حکومت اور ہر وہ عدالت باغیانہ ہے جو خداوند عالم کی طرف سے اس کے پیغمبروں کے لائے ہوئے قانون کے بجائے کسی دوسری بنیاد پر قائم ہو۔بلا لحاظ اس کے کہ تفصیلات میں ایسی حکومتوں اور عدالتوں کی نوعیتیں کتنی ہی مختلف ہوں ،ان کے تمام افعال بے اصل اور باطل ہیں۔ان کے حکم اور فیصلہ کے لئے سرے سے کوئی بنیاد ہی جائز نہیں ہے۔حقیقی مالک الملک نے جب انہیں سلطان (Charter) عطاہی نہیں کیا تو وہ جائز حکومتیں اور عدالتیں کس طرح ہوسکتی ہیں۔ )چارٹر سے ہماری مراد یہ ہے کہ جو خدا کومالک الملک اور اپنے آپ کو اس کا خلیفہ )نہ کہ خود مختار (تسلیم کرے، پیغمبرکو اس کا پیغمبر اور کتاب کو اس کی کتاب مانے اور شریعت الٰہی کے تحت رہ کر کام کرنا قبول کرے،صرف ایسی ہی حکومت اور عدالت کو خداوند عالم کا چارٹر حاصل ہے ۔یہ چارٹرخود قرآن میں دیا گیا ہے کہ )اُحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ(’’لوگوں کے درمیان حکومت کرو اس قانون کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے‘‘حاشیہ سید مودودی۔ ((جاری ہے(( |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
مثلاً عدالتی نظام کفر کیسے ہوتا ھے۔ جبکہ ہر غلطی پر سزا مقرر ھے ایسا تو کہیں بھی نہیں عدالتی نظام میں کوئی غلطی کرے تو اسے کوئی تحائف پیش کئے جاتے ہیں۔ والسلام |
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (19-02-11) |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
او بھائی ایک مراسلہ لکھنے کے بعد اس جواب کا انتظار تو کیا کرو کاپی پیسٹ کی ضرورت نہیں جو جانتے ہو اس پر بات کرو میرے بھائی، جواب کے مطابق اگر کاپی پیسٹ کی ضرورت ہو گی تو وہ بھی کر لینا۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اوپر کا مضمون پڑا آپ نے؟؟؟
سید صاحب نے اسلام کے نظام عدالت کے علاوہ دوسرے کسی بی نظام کے بارے میں یہی واضح فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#8 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھائی میں نے اوپر کا مضمون بھی پڑھا ھے اور قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ بھی بہت مرتبہ پڑھا ہوا ھے، جب کوئی دھاگہ بنانا ہو تو پھر اس پر ڈبیٹ کرنے کے لئے بھی تیار رہنا ضروری ھے تاکہ آپ کیا سمجھانا چاہتے ہیں اسے کے مطابق بات کی جائے جو شائد ہم نہیں جانتے۔ خالی کتاب نقل کر دینے سے یا کسی کی تحریر نکل کر دینے سے آپ اپنی بات نہیں سمجھا سکتے۔ ترتیب سے چلیں اگر کچھ جانتے ہیں ورنہ میں باہر ہو جاتا ہوں اوپر کا جواب بھی دے کر۔ والسلام |
|
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (19-02-11) |
|
|
#9 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کیا مولانا مودودی صاحب کا ذمہ داری صرف کتابیں لکھنے کی تھی، وہ اپنی زندگی میں پاکستان میں اسلامی قانون نافذ کیوں نہیں کروا گئے اس کی بھی تو کوئی وجہ ہو گی۔ والسلام |
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
سر جی آپ کو کیا سمجھ نہیں آیا اس مضمون میں؟؟؟
اللہ کی حاکمیت میں کوئی ا کا شریک نہیں ہے اور بندوں میں سے جو بھی ایسا کرتا ہے یعنی قانون چلانے میں کسی کو بھی اس کا شریک تھہراتا ہے اس کے بارے میں :: اسلامی نقطۂ نظر سے ایسی عدالتوں کی حیثیت وہی ہے جو انگریزی قانون کی رُو سے اُن عدالتوں کی قرار پاتی ہے جو برطانوی سلطنت کی حدود میں ’’تاج‘‘کی اجازت کے بغیر قائم کی جائیں ۔ان عدالتوں کے جج،ان کے کارندے اور وکیل ،اور ان سے فیصلے کرانے والے جس طرح انگریزی قانون کی نگاہ میں باغی و مجرم اور بجائے خود مستلزم سزا ہیں ،اسی طرح اسلامی قانون کی نگاہ میں وہ پورا عدالتی نظام مجرمانہ وباغیانہ ہے جو بادشاہِ ارض و سما کی مملکت میں اس کے ’’سلطان‘‘کے بغیر قائم کیا گیا ہو،اور جس میں اس کے منظور کردہ قوانین کے بجائے کسی دوسرے کے منظور کردہ قوانین پر فیصلہ کیا جاتا ہو۔ایسا نظامِ عدالت جُرم مجسّم ہے ،اس کے جج مجرم ہیں ،اس کے کارکن مجرم ہیں اور اس کے جملہ احکام قطعی طور پر کالعدم ہیں ۔اگر ان کا فیصلہ کسی خاص معاملہ میں شریعت اسلامی کے مطابق ہو ،تب بھی وہ فی الاصل غلط ہے۔کیونکہ بغاوت اس کی جڑ میں موجود ہے ۔ |
|
|
|
| عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (20-02-11) |
|
|
#11 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ے
اقتباس:
یہی سمجھنے کے لئے ہی تو میں آپ سے محو گفتگو ہوں۔ بھائی میری عرب ممالک میں کونسا قانون ھے مثلاً سعودی عرب سے سے محترم ھے اس سے ہی کوئی مثال پیش کر دیں خارجیوں کے لئے الگ اور داخلیوں کے لئے الگ۔ والسلام |
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 818
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
بات کچھ سمجھ نہیں آئی کے اس پوری بحث میں سعودی عرب کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟؟؟۔۔۔ والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم آپکو سمجھ اس لئے نہیں آئی کیونکہ آپ صاحب مراسل نہیں ہیں اسی لئے نشانہ کا ذکر کر گئے۔ اگر آپ اس پر گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں تو سارے مراسلے پڑھ کر آپ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ شائد کچھ سمجھ سکیں یا سمجھا سکیں۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 818
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں جب ہی تو سعودی عرب کو نشانہ بنتے دیکھ کر سوچا کے پوچھا جائے۔۔۔ کےآخر سعودی عرب کی ہی بات کیوں کی گئی۔۔۔ حالانکہ یہاں پر ایران کی بات بھی کی جاسکتی تھی۔۔۔ اور پاکستان کی بات بھی کی جاسکتی تھی۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ جہاں تک شائد سمجھنے یا سمجھانے کی تو بات سے بات چلتی رہے گی تو سمجھتے بھی رہے گے اور سمجھاتے بھی۔۔۔ کیا خیال ہے لیکن اس سے پہلے میں چاہوں گا کے داخلیوں اور خارجیوں کے قانون کی جو بات آپ نے ارادی یا غیر ارادی طور پر کی ہے اس پر کچھ روشنی ڈالیں تاکہ موودی کے مضمون جو اقتباس لیا گیا ہے۔۔۔ اس کو صحیح سمت دی جائے۔۔۔ والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
جزاک اللہ خیر آپ شروع ہوں میں بھی ساتھ چلوں گا ساری روشنیاں ساتھ ساتھ چلیں گی۔ میں صاحب مراسل نہیں ہوں میں نے جو لکھنا تھا وہ لکھ دیا آپ میرے پہلے مراسلہ سے شروع ہو سکتے ہیں انتظار کروں گا۔ والسلام |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, چور, نظر, موجودہ, ممکن, اللہ, انسان, اسلام, بے نظیر, تحریر, جواب, جلد, حل, خدا, شوہر, شخص, طلاق, عورت, علوم, علم, عدالتی, عدالتیں, عدالتوں, غلطی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تعویز کی شرعی حیثیت | محمد عاصم | کفروشرک | 23 | 17-01-11 07:06 PM |
| مولود مروج کی شرعی حیثیت | sahj | عمومی بحث | 9 | 23-12-10 09:05 AM |
| خلافت و ملوکیت۔۔تاریخی و شرعی حیثیت | عبداللہ حیدر | کتاب گھر | 26 | 03-08-10 06:46 AM |
| جہیز کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ | علی عمران | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 24 | 24-02-09 01:59 AM |
| زرعی شعبہ کی اہمیت اور آئندہ انتخابات ؟,,,,معاشی حقائق…سکندر حمید لودھی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 29-10-07 10:23 AM |