واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


موجودہ عدالتی نظام کی شرعی حیثیت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-02-11, 10:17 PM   #1
موجودہ عدالتی نظام کی شرعی حیثیت
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 19-02-11, 10:17 PM

السلام علیکم::

حآکمیت الہیہ اسلام کے اہم ترین موضوعات مین‌شامل ہے اور اس زمین پر اس زمین کے مالک کی بادشاہی اس کے قانون کو نافذ العمل بنا کر ہی ممکن ہے!!!

پچھلے کچھ عرصے میں توہین رسالت اور ناموس رسالت کا ایشوشاتمین کی ہرزہ سرائیوں اور فدائیوں کی فداکاریوں کے طفیل کافی زبان زد عام رہا ہے۔۔۔۔۔اور اسی سلسلے میں قوانین اور ان کے نفاذ کے طریق کار پرپاک نیٹ پر بھی بہت بات ہو چکی ہے۔۔۔۔۔

اسی سلسلے میں‌ایک پہلو ہمارا یہ ""انسان ساختہ"" قوانین پر انصار کرتے عدالتی نظام کا بھی ہے۔۔۔۔۔۔اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟؟ اور اسلام اپنے ""پیرالل"" ایسے نظام کو کس طرح ""کیٹیگرائز"" کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اسی سب کچھ کا جواب سید مودودی رحمہ کے اس بے نظیر فتوی میں دیا گیا ہے جو ایک مسلمان سائل کے محدود سے سوال کے جواب میں دیا گیا لیکن جناب سید نے اس میں اس باب کی تمام جوانب کا اجمالا احاطہ فرما دیا ہے۔۔۔۔

تو ملاحظہ فرمائیں بصیرت مودودی سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
((عبد اللہ آدم((



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
ہمارے پاس دہلی سے ایک صاحب نے ایک مطبوعہ استفتاء بھیجا ہے ۔جس کا موضوع بجائے خود نہایت اہم ہے اور اس لحاظ سے اس کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ہمارے اکابر اس مسئلہ کو غیر شرعی طریقہ پر حل کرنے کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ذیل میں استفتاء اور اس کا جواب درج کیا جاتا ہے۔

السوال::
ماہرین علوم اسلامیہ و مفتیانِ شرع متین سے حسب ذیل سوالوں کا مدلل جواب کتاب و سنت کی اور فقہ کی روشنی میں جلد مطلوب ہے:

1:: اگر کوئی غیر مسلم حاکم یا غیر مسلم ثالث و پنچ مسلمان مردو عورت کے نکاح کو اسلامی احکام کے مطابق فسخ کردے ،یا غیر مسلم حاکم یا غیر مسلم ثالث و پنچ عورت پر مرد کا ظلم ثابت ہوجانے کی صورت میں مرد کی طرف سے عورت کو طلاق دے دے ،جیساکہ بعض صورتوںمیں مسلمان قاضی کو یہ حق حاصل ہے، تو کیا نکاح فسخ ہوجائے گا ؟اور عورت پر طلاق واقع ہوجائے گی ؟اور عورت کو شرعاً یہ حق حاصل ہوجائے گا کہ وہ غیر مسلم کے فسخ کردہ نکاح اور ایقائے طلاق کو شرعاً درست سمجھ کر بعد عدت یا جیسی صورت ہو، دُوسرے مسلمان مرد سے نکاح کرسکتی ہے ؟

2:: اگر سوال مذکورۃ الصدر کو جواب نفی میں ہو۔یعنی شرعاً غیر مسلم کے حُکمِ فسخِ نکاح یا ایقائے طلاق کے بعد بھی وہ عورت شوہر اوّل کی زوجیت میں باقی رہتی ہے ،تو اس صورت میں جو عورت دوسرے مرد سے نکاح کرلے گی،اور دوسرے مرد کو یہ علم بھی ہو کہ اس عورت نے غیر مسلم حاکم یا غیر مسلم ثالث و پنچ کے ذریعے سے طلاق حاصل کی ہے ،تو وہ نکاح باطل و فاسد ہوگا یا نہیں ؟اور دوسرے مرد سے نکاح کے باوجود اس عورت کا دوسرے مرد سے زن وشوہر کے تعلق رکھنا حرام ہوگا یا نہیں ؟اور دونوں شرعاً زنا مرتکب سمجھے جائیں گے یا نہیں ؟
3:: اور دوسرے مرد سے نکاح باطل ہونے کی صورت میں جب اس دوسرے مرد سے کوئی اولاد ہوگی تو وہ ولد الحرام ہوگی یا نہیں ؟اور یہ اولاد اس دوسرے مرد کے ترکے سے محروم ہوگی یا نہیں ؟

مہربانی فرماکر ان سوالوں کے جواب نمبر وار مدلل تحریر فرمائیے۔الخ

الجواب::

اس سوال میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ صرف غیر مسلم حاکم یا غیر مسلم ثالث و پنچ کے بارے میں سوال کیاگیا ہے ،حالانکہ سوال یہ کرنا چاہیے تھا کہ جو عدالتی نظامِ خدا سے بے نیاز ہوکر انسان نے خود قائم کرلیاہو اور جس کے فیصلے انسانی ساخت کے قوانین پر مبنی ہوں ،اس کو خداکا قانون جائز تسلیم کرتا ہے یا نہیں ؟اس کے ساتھ ضمنی غلطی یہ بھی ہے کہ سوال صرف فسخ و تفریق کے معاملات کے متعلق کیاگیا ہے حالانکہ اصولی حیثیت سے ان معاملات کی نوعیت دوسرے معاملات سے مختلف نہیں ہے۔

صرف نکاح و طلاق کے معاملات میں نہیں ،بلکہ جملہ معاملات میں غیرا سلامی عدالت کا فیصلہ اسلامی شریعت کی رُو سے غیر مسلم ہے۔اسلام نہ اُس حکومت کو تسلیم کرتا ہے جو اصل مالک الملک،یعنی اللہ سے بے تعلق ہوکر آزادانہ خود مختار انہ قائم ہوئی ہو ،نہ اُس قانون کو تسلیم کرتا ہے جو کسی انسان یا انسانوں کی کسی جماعت نے بطور خود بنالیا ہو ،نہ اُس عدالت کو حقِ سماعت و فصلِ خوصو مات کو تسلیم کرتا ہے جو اصل مالک و فرمانروا کے ملک میں اس کی اجازت (Sanction)کے بغیر اس کے باغیوں نے قائم کرلی ہو۔

اسلامی نقطۂ نظر سے ایسی عدالتوں کی حیثیت وہی ہے جو انگریزی قانون کی رُو سے اُن عدالتوں کی قرار پاتی ہے جو برطانوی سلطنت کی حدود میں ’’تاج‘‘کی اجازت کے بغیر قائم کی جائیں ۔ان عدالتوں کے جج،ان کے کارندے اور وکیل ،اور ان سے فیصلے کرانے والے جس طرح انگریزی قانون کی نگاہ میں باغی و مجرم اور بجائے خود مستلزم سزا ہیں ،اسی طرح اسلامی قانون کی نگاہ میں وہ پورا عدالتی نظام مجرمانہ وباغیانہ ہے جو بادشاہِ ارض و سما کی مملکت میں اس کے ’’سلطان‘‘کے بغیر قائم کیا گیا ہو،اور جس میں اس کے منظور کردہ قوانین کے بجائے کسی دوسرے کے منظور کردہ قوانین پر فیصلہ کیا جاتا ہو۔ایسا نظامِ عدالت جُرم مجسّم ہے ،اس کے جج مجرم ہیں ،اس کے کارکن مجرم ہیں اور اس کے جملہ احکام قطعی طور پر کالعدم ہیں ۔اگر ان کا فیصلہ کسی خاص معاملہ میں شریعت اسلامی کے مطابق ہو ،تب بھی وہ فی الاصل غلط ہے۔کیونکہ بغاوت اس کی جڑ میں موجود ہے ۔

بالفرض اگر وہ چور کا ہاتھ کاٹیں ،زانی پر کوڑے یا رجم کی سزا نافذ کریں ،شرابی پر حد جاری کریں ،تب بھی شریعت کی نگاہ میں چور اور زانی اور شرابی اپنے جرم سے اس سزا کی بنائ پر پاک نہ ہوں گے ،اور خود یہ عدالتیں بغیر کسی حق کے ایک شخص کا ہاتھ کاٹنے یا اس پر کوڑے یا پتھر برسانے کی مجرم ہوں گی۔ کیونکہ انہوں نے خدا کی رعیت پر وہ اختیارات استعمال کیے جو خدا کے قانون کی رُو سے ان کو حاصل نہ تھے۔


ان عدالتوں کی یہ شرعی حیثیت اس صورت میں بھی علیٰ حالہٰ قائم رہتی ہے جبکہ غیر مسلم کے بجائے کوئی نام نہاد مسلمان ان کی کُرسی پر بیٹھا ہو۔خدا کی باغی حکومت سے فیصلہ نافذ کرنے کے اختیارات لے کر جو شخص مقدمات کی سماعت کرتا ہے اور جو انسان کے بنائے ہوئے قانون کی رُو سے احکام جاری کرتا ہے ،وہ کم از کم جج کی حیثیت سے تو مسلمان نہیں ہے بلکہ وہ خود باغی کی حیثیت رکھتا ہے ،پھر بھلا اس کے احکام کالعدم ہونے سے کس طرح محفوظ رہ سکتے ہیں؟

) ترجمان القرآن۔اگست۱۹۴۰ء۔بحوالہ حقوق الزوجین ازامام ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ)

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 685
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
کنعان (19-02-11), ھارون اعظم (19-02-11), یاسر عمران مرزا (20-02-11)
پرانا 19-02-11, 10:47 PM   #2
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم!

محترم بھائی، آپ اس مراسلہ سے کیا سمجھانا چاہتے ہیں اگر اپنا مختصر خلاصہ بیان فرما دیں تو شائد میں آپکی اس پر مزید کچھ مدد کر سکوں۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 19-02-11, 10:53 PM   #3
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جی اس میں اس عدالتی نظام کو نظام کفر سمجھانے کی سعی کی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! !
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (19-02-11)
پرانا 19-02-11, 11:07 PM   #4
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو کچھ عرض کیا گیا اس کی صحت پر پورا قرآن دلیل ہے ۔تاہم چونکہ سائل نے کتاب وسنت کی تصریحات کا مطالبہ کیا ہے ۔اس لئے محض چندآیاتِ قرآنی یہاں پیش کی جاتی ہیں::

1 قرآن کی رُو سے اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے ،خلق اسی کی ہے ۔لہذا فطرۃً ’’اَمر‘‘کا حق (Right to rule) بھی صرف اسی کو پہنچتا ہے۔اس کے ملک (Dominion) میں اس کی خلق پر، خود اس کے سوا کسی دوسرے کا امر جاری ہونا اور حکم چلنا بنیادی طور پر غلط ہے۔

قُلِ اللَّـهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ۔
’’کہواے اللہ!مالک الملک ،تو جس کو چاہے ملک دے اور جس سے چاہے چھین لے‘‘۔)آل عمران:۶ ۲(


ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ۔
’’وہ )اللہ ( تمہارا رب ہے ،ملک اُسی کا ہے‘‘۔)فاطر:۳ ۱(

لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ۔
’’بادشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں (Partner)ہے‘‘۔ )بنی اسرائیل :۱۱۱(

فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ۔
’’لہذا حکم اللہ بزرگ و برتر ہی کیلئے خاص ہے‘‘۔)المومن :۲۱(

وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا۔
’’اور وہ اپنے حکم میں کسی کو اپنا حصہ دار نہیں بناتا‘‘۔)الکہف (۲۶:

أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ۔
’’خبردار!خلق اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے‘‘۔)الاعراف:۴ ۵(

يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِن شَيْءٍ ۗ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّـهِ۔
’’لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا امر میںہمارا بھی کچھ حصہ ہے ؟کہہ دو کہ امر ساراکا سارا اللہ کے لئے مخصوص ہے‘‘۔)آل عمران (۱۵۴:

۔2 اس اصل الاصول کی بناء پر قانون سازی کا حق انسان سے بالکلیہ سلب کرلیا گیا ہے ۔کیونکہ انسان مخلوق اور رعیت ہے ،بندہ اور محکوم ہے اور اس کا کام صرف اس قانون کی پیروی کرنا ہے جو مالک الملک نے بنایا ہو۔اُس کے قانون کو چھوڑ کر جو شخص یا ادارہ خود کوئی قانون بناتا ہے،یا کسی دوسرے کے بنائے ہوئے قانون کو تسلیم کرکے اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، وہ ’’طاغوت‘‘ہے ،باغی اور خارج از اطاعت حق ہے،اور اس سے فیصلہ چاہنے والا اور اس کے فیصلے پر عمل کرنے والا بھی بغاوت کا مجرم ہے۔


وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَـٰذَا حَلَالٌ وَهَـٰذَا حَرَامٌ۔
’’اور تم اپنی زبانوں سے جن چیزوں کا ذکر کرتے ہو ان کے متعلق جھوٹ گھڑ کر یہ نہ کہہ دیا کروکہ یہ حلال ہے (Lawful)اور یہ حرام (Un-lawful)‘‘۔ ) النحل: ۶ ۱۱(

اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ۔
’’جوکچھ تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف اتارا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے اولیائ )اپنے ٹھیرائے ہوئے کارسازوں (کی پیروی نہ کرو‘‘۔)الاعراف:۳(

وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ۔
’’اور جو اُس قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو ایسے تمام لوگ کافر ہیں‘‘۔)المائدۃ:۴۴(
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالا بَعِيدًا۔
’’اے نبی!کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں اُس ہدایت پر ایمان لانے کوجو تم پر اور تم سے پہلے کے انبیاء پر اتاری گئی ہے اور پھر چاہتے ہیں کہ اپنے معاملہ کا فیصلہ ’’طاغوت‘‘سے کرائیں۔ حالانکہ انہیں حکم دیا گیاتھا کہ طاغوت سے کفر کریں )یعنی اس کے حکم کو تسلیم نہ کریں(‘‘۔(النساء:۶۰)

۔3 خداوند عالم کی زمین پر صحیح حکومت اورصحیح عدالت صرف وہ ہے جو اس قانون کی بنیاد پر قائم ہوجو اُس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے بھیجا ہے۔اسی کا نام خلافت ہے۔

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّـهِ۔
’’اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ حکم الٰہی کی بنائ پر اس کی اطاعت کی جائے ‘‘۔)النساء:۴۶(

إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّـهُ۔
’’اے نبی ! ہم نے تمہاری طرف کتاب ِ برحق نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اُ س روشنی کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمہیں دکھائی ہے‘‘۔)النساء (۱۰۵:

وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ إِلَيْكَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ۔
’’اور یہ کہ تم ان کے درمیان حکومت کرو اس ہدایت کے مطابق جو اللہ نے اتاری ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور ہوشیار رہو کہ وہ تمہیں فتنہ میں مبتلا کرکے اُس ہدایت کے کسی جز سے نہ پھیر دیں جو اللہ نے تمہاری طرف نازل کی ہے.کیا یہ لوگ جاہلیت کی حکومت چاہتے ہیں ؟‘‘ )المائدۃ:۹۴۔۰۵(

يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـه۔
’’اے داؤد!ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ مقرر کیا ہے لہذا تم حق کے ساتھ لوگوں کے درمیان حکومت کرو اور اپنی خواہش نفس کی پیروی نہ کرو ورنہ اللہ کے راستہ سے وہ تم کو بھٹکا لے جائے گی‘‘۔)ص: (۲۶

4 اس کے برعکس ہر وہ حکومت اور ہر وہ عدالت باغیانہ ہے جو خداوند عالم کی طرف سے اس کے پیغمبروں کے لائے ہوئے قانون کے بجائے کسی دوسری بنیاد پر قائم ہو۔بلا لحاظ اس کے کہ تفصیلات میں ایسی حکومتوں اور عدالتوں کی نوعیتیں کتنی ہی مختلف ہوں ،ان کے تمام افعال بے اصل اور باطل ہیں۔ان کے حکم اور فیصلہ کے لئے سرے سے کوئی بنیاد ہی جائز نہیں ہے۔حقیقی مالک الملک نے جب انہیں سلطان (Charter) عطاہی نہیں کیا تو وہ جائز حکومتیں اور عدالتیں کس طرح ہوسکتی ہیں۔

)چارٹر سے ہماری مراد یہ ہے کہ جو خدا کومالک الملک اور اپنے آپ کو اس کا خلیفہ )نہ کہ خود مختار (تسلیم کرے، پیغمبرکو اس کا پیغمبر اور کتاب کو اس کی کتاب مانے اور شریعت الٰہی کے تحت رہ کر کام کرنا قبول کرے،صرف ایسی ہی حکومت اور عدالت کو خداوند عالم کا چارٹر حاصل ہے ۔یہ چارٹرخود قرآن میں دیا گیا ہے کہ )اُحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ(’’لوگوں کے درمیان حکومت کرو اس قانون کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے‘‘
حاشیہ سید مودودی۔

((جاری ہے((
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-02-11, 11:13 PM   #5
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم!

مثلاً عدالتی نظام کفر کیسے ہوتا ھے۔ جبکہ ہر غلطی پر سزا مقرر ھے ایسا تو کہیں‌ بھی نہیں عدالتی نظام میں کوئی غلطی کرے تو اسے کوئی تحائف پیش کئے جاتے ہیں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 19-02-11, 11:17 PM   #6
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم!

او بھائی ایک مراسلہ لکھنے کے بعد اس جواب کا انتظار تو کیا کرو کاپی پیسٹ کی ضرورت نہیں جو جانتے ہو اس پر بات کرو میرے بھائی، جواب کے مطابق اگر کاپی پیسٹ کی ضرورت ہو گی تو وہ بھی کر لینا۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-02-11, 11:20 PM   #7
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اوپر کا مضمون پڑا آپ نے؟؟؟

سید صاحب نے اسلام کے نظام عدالت کے علاوہ دوسرے کسی بی نظام کے بارے میں یہی واضح فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-02-11, 11:32 PM   #8
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
اوپر کا مضمون پڑا آپ نے؟؟؟

سید صاحب نے اسلام کے نظام عدالت کے علاوہ دوسرے کسی بی نظام کے بارے میں یہی واضح فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم!

بھائی میں نے اوپر کا مضمون بھی پڑھا ھے اور قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ بھی بہت مرتبہ پڑھا ہوا ھے، جب کوئی دھاگہ بنانا ہو تو پھر اس پر ڈبیٹ کرنے کے لئے بھی تیار رہنا ضروری ھے تاکہ آپ کیا سمجھانا چاہتے ہیں اسے کے مطابق بات کی جائے جو شائد ہم نہیں جانتے۔ خالی کتاب نقل کر دینے سے یا کسی کی تحریر نکل کر دینے سے آپ اپنی بات نہیں سمجھا سکتے۔ ترتیب سے چلیں اگر کچھ جانتے ہیں ورنہ میں باہر ہو جاتا ہوں اوپر کا جواب بھی دے کر۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 19-02-11, 11:34 PM   #9
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو کچھ عرض کیا گیا اس کی صحت پر پورا قرآن دلیل ہے ۔تاہم چونکہ سائل نے کتاب وسنت کی تصریحات کا مطالبہ کیا ہے ۔اس لئے محض چندآیاتِ قرآنی یہاں پیش کی جاتی ہیں::

1 قرآن کی رُو سے اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے ،خلق اسی کی ہے ۔لہذا فطرۃً ’’اَمر‘‘کا حق (Right to rule) بھی صرف اسی کو پہنچتا ہے۔اس کے ملک (Dominion) میں اس کی خلق پر، خود اس کے سوا کسی دوسرے کا امر جاری ہونا اور حکم چلنا بنیادی طور پر غلط ہے۔

قُلِ اللَّـهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ۔
’’کہواے اللہ!مالک الملک ،تو جس کو چاہے ملک دے اور جس سے چاہے چھین لے‘‘۔)آل عمران:۶ ۲(


ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ۔
’’وہ )اللہ ( تمہارا رب ہے ،ملک اُسی کا ہے‘‘۔)فاطر:۳ ۱(

لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ۔
’’بادشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں (Partner)ہے‘‘۔ )بنی اسرائیل :۱۱۱(

فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ۔
’’لہذا حکم اللہ بزرگ و برتر ہی کیلئے خاص ہے‘‘۔)المومن :۲۱(

وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا۔
’’اور وہ اپنے حکم میں کسی کو اپنا حصہ دار نہیں بناتا‘‘۔)الکہف (۲۶:

أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ۔
’’خبردار!خلق اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے‘‘۔)الاعراف:۴ ۵(

يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِن شَيْءٍ ۗ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّـهِ۔
’’لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا امر میںہمارا بھی کچھ حصہ ہے ؟کہہ دو کہ امر ساراکا سارا اللہ کے لئے مخصوص ہے‘‘۔)آل عمران (۱۵۴:

۔2 اس اصل الاصول کی بناء پر قانون سازی کا حق انسان سے بالکلیہ سلب کرلیا گیا ہے ۔کیونکہ انسان مخلوق اور رعیت ہے ،بندہ اور محکوم ہے اور اس کا کام صرف اس قانون کی پیروی کرنا ہے جو مالک الملک نے بنایا ہو۔اُس کے قانون کو چھوڑ کر جو شخص یا ادارہ خود کوئی قانون بناتا ہے،یا کسی دوسرے کے بنائے ہوئے قانون کو تسلیم کرکے اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، وہ ’’طاغوت‘‘ہے ،باغی اور خارج از اطاعت حق ہے،اور اس سے فیصلہ چاہنے والا اور اس کے فیصلے پر عمل کرنے والا بھی بغاوت کا مجرم ہے۔


وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَـٰذَا حَلَالٌ وَهَـٰذَا حَرَامٌ۔
’’اور تم اپنی زبانوں سے جن چیزوں کا ذکر کرتے ہو ان کے متعلق جھوٹ گھڑ کر یہ نہ کہہ دیا کروکہ یہ حلال ہے (Lawful)اور یہ حرام (Un-lawful)‘‘۔ ) النحل: ۶ ۱۱(

اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ۔
’’جوکچھ تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف اتارا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے اولیائ )اپنے ٹھیرائے ہوئے کارسازوں (کی پیروی نہ کرو‘‘۔)الاعراف:۳(

وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ۔
’’اور جو اُس قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو ایسے تمام لوگ کافر ہیں‘‘۔)المائدۃ:۴۴(
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالا بَعِيدًا۔
’’اے نبی!کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں اُس ہدایت پر ایمان لانے کوجو تم پر اور تم سے پہلے کے انبیاء پر اتاری گئی ہے اور پھر چاہتے ہیں کہ اپنے معاملہ کا فیصلہ ’’طاغوت‘‘سے کرائیں۔ حالانکہ انہیں حکم دیا گیاتھا کہ طاغوت سے کفر کریں )یعنی اس کے حکم کو تسلیم نہ کریں(‘‘۔(النساء:۶۰)

۔3 خداوند عالم کی زمین پر صحیح حکومت اورصحیح عدالت صرف وہ ہے جو اس قانون کی بنیاد پر قائم ہوجو اُس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے بھیجا ہے۔اسی کا نام خلافت ہے۔

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّـهِ۔
’’اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ حکم الٰہی کی بنائ پر اس کی اطاعت کی جائے ‘‘۔)النساء:۴۶(

إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّـهُ۔
’’اے نبی ! ہم نے تمہاری طرف کتاب ِ برحق نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اُ س روشنی کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمہیں دکھائی ہے‘‘۔)النساء (۱۰۵:

وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ إِلَيْكَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ۔
’’اور یہ کہ تم ان کے درمیان حکومت کرو اس ہدایت کے مطابق جو اللہ نے اتاری ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور ہوشیار رہو کہ وہ تمہیں فتنہ میں مبتلا کرکے اُس ہدایت کے کسی جز سے نہ پھیر دیں جو اللہ نے تمہاری طرف نازل کی ہے.کیا یہ لوگ جاہلیت کی حکومت چاہتے ہیں ؟‘‘ )المائدۃ:۹۴۔۰۵(

يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـه۔
’’اے داؤد!ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ مقرر کیا ہے لہذا تم حق کے ساتھ لوگوں کے درمیان حکومت کرو اور اپنی خواہش نفس کی پیروی نہ کرو ورنہ اللہ کے راستہ سے وہ تم کو بھٹکا لے جائے گی‘‘۔)ص: (۲۶


4 اس کے برعکس ہر وہ حکومت اور ہر وہ عدالت باغیانہ ہے جو خداوند عالم کی طرف سے اس کے پیغمبروں کے لائے ہوئے قانون کے بجائے کسی دوسری بنیاد پر قائم ہو۔بلا لحاظ اس کے کہ تفصیلات میں ایسی حکومتوں اور عدالتوں کی نوعیتیں کتنی ہی مختلف ہوں ،ان کے تمام افعال بے اصل اور باطل ہیں۔ان کے حکم اور فیصلہ کے لئے سرے سے کوئی بنیاد ہی جائز نہیں ہے۔حقیقی مالک الملک نے جب انہیں سلطان (Charter) عطاہی نہیں کیا تو وہ جائز حکومتیں اور عدالتیں کس طرح ہوسکتی ہیں۔

)چارٹر سے ہماری مراد یہ ہے کہ جو خدا کومالک الملک اور اپنے آپ کو اس کا خلیفہ )نہ کہ خود مختار (تسلیم کرے، پیغمبرکو اس کا پیغمبر اور کتاب کو اس کی کتاب مانے اور شریعت الٰہی کے تحت رہ کر کام کرنا قبول کرے،صرف ایسی ہی حکومت اور عدالت کو خداوند عالم کا چارٹر حاصل ہے ۔یہ چارٹرخود قرآن میں دیا گیا ہے کہ )اُحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ(’’لوگوں کے درمیان حکومت کرو اس قانون کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے‘‘
حاشیہ سید مودودی۔

((جاری ہے((
السلام علیکم!

کیا مولانا مودودی صاحب کا ذمہ داری صرف کتابیں لکھنے کی تھی، وہ اپنی زندگی میں پاکستان میں اسلامی قانون نافذ کیوں نہیں کروا گئے اس کی بھی تو کوئی وجہ ہو گی۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-02-11, 11:47 PM   #10
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سر جی آپ کو کیا سمجھ نہیں آیا اس مضمون میں؟؟؟

اللہ کی حاکمیت میں کوئی ا کا شریک نہیں ہے اور بندوں میں سے جو بھی ایسا کرتا ہے یعنی قانون چلانے میں کسی کو بھی اس کا شریک تھہراتا ہے اس کے بارے میں ::


اسلامی نقطۂ نظر سے ایسی عدالتوں کی حیثیت وہی ہے جو انگریزی قانون کی رُو سے اُن عدالتوں کی قرار پاتی ہے جو برطانوی سلطنت کی حدود میں ’’تاج‘‘کی اجازت کے بغیر قائم کی جائیں ۔ان عدالتوں کے جج،ان کے کارندے اور وکیل ،اور ان سے فیصلے کرانے والے جس طرح انگریزی قانون کی نگاہ میں باغی و مجرم اور بجائے خود مستلزم سزا ہیں ،اسی طرح اسلامی قانون کی نگاہ میں وہ پورا عدالتی نظام مجرمانہ وباغیانہ ہے جو بادشاہِ ارض و سما کی مملکت میں اس کے ’’سلطان‘‘کے بغیر قائم کیا گیا ہو،اور جس میں اس کے منظور کردہ قوانین کے بجائے کسی دوسرے کے منظور کردہ قوانین پر فیصلہ کیا جاتا ہو۔ایسا نظامِ عدالت جُرم مجسّم ہے ،اس کے جج مجرم ہیں ،اس کے کارکن مجرم ہیں اور اس کے جملہ احکام قطعی طور پر کالعدم ہیں ۔اگر ان کا فیصلہ کسی خاص معاملہ میں شریعت اسلامی کے مطابق ہو ،تب بھی وہ فی الاصل غلط ہے۔کیونکہ بغاوت اس کی جڑ میں موجود ہے ۔
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (20-02-11)
پرانا 20-02-11, 12:05 AM   #11
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ے
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
سر جی آپ کو کیا سمجھ نہیں آیا اس مضمون میں؟؟؟

اللہ کی حاکمیت میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور بندوں میں سے جو بھی ایسا کرتا ہے یعنی قانون چلانے میں کسی کو بھی اس کا شریک تھہراتا ہے اس کے بارے میں ::


اسلامی نقطۂ نظر سے ایسی عدالتوں کی حیثیت وہی ہے جو انگریزی قانون کی رُو سے اُن عدالتوں کی قرار پاتی ہے جو برطانوی سلطنت کی حدود میں ’’تاج‘‘کی اجازت کے بغیر قائم کی جائیں ۔ان عدالتوں کے جج،ان کے کارندے اور وکیل ،اور ان سے فیصلے کرانے والے جس طرح انگریزی قانون کی نگاہ میں باغی و مجرم اور بجائے خود مستلزم سزا ہیں ،اسی طرح اسلامی قانون کی نگاہ میں وہ پورا عدالتی نظام مجرمانہ وباغیانہ ہے جو بادشاہِ ارض و سما کی مملکت میں اس کے ’’سلطان‘‘کے بغیر قائم کیا گیا ہو،اور جس میں اس کے منظور کردہ قوانین کے بجائے کسی دوسرے کے منظور کردہ قوانین پر فیصلہ کیا جاتا ہو۔ایسا نظامِ عدالت جُرم مجسّم ہے ،اس کے جج مجرم ہیں ،اس کے کارکن مجرم ہیں اور اس کے جملہ احکام قطعی طور پر کالعدم ہیں ۔اگر ان کا فیصلہ کسی خاص معاملہ میں شریعت اسلامی کے مطابق ہو ،تب بھی وہ فی الاصل غلط ہے۔کیونکہ بغاوت اس کی جڑ میں موجود ہے ۔
السلام علیکم!

یہی سمجھنے کے لئے ہی تو میں آپ سے محو گفتگو ہوں۔
بھائی میری عرب ممالک میں کونسا قانون ھے مثلاً سعودی عرب سے سے محترم ھے اس سے ہی کوئی مثال پیش کر دیں خارجیوں کے لئے الگ اور داخلیوں کے لئے الگ۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-02-11, 12:52 PM   #12
Member
اجنبی
 
حرب بن شداد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 818
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
بات کچھ سمجھ نہیں آئی کے اس پوری بحث میں سعودی عرب کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟؟؟۔۔۔
والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
حرب بن شداد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-02-11, 02:22 PM   #13
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

محترم آپکو سمجھ اس لئے نہیں آئی کیونکہ آپ صاحب مراسل نہیں ہیں اسی لئے نشانہ کا ذکر کر گئے۔ اگر آپ اس پر گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں تو سارے مراسلے پڑھ کر آپ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ شائد کچھ سمجھ سکیں یا سمجھا سکیں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-02-11, 03:55 PM   #14
Member
اجنبی
 
حرب بن شداد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 818
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔

گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں جب ہی تو سعودی عرب کو نشانہ بنتے دیکھ کر سوچا کے پوچھا جائے۔۔۔ کےآخر سعودی عرب کی ہی بات کیوں کی گئی۔۔۔ حالانکہ یہاں پر ایران کی بات بھی کی جاسکتی تھی۔۔۔ اور پاکستان کی بات بھی کی جاسکتی تھی۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ جہاں تک شائد سمجھنے یا سمجھانے کی تو بات سے بات چلتی رہے گی تو سمجھتے بھی رہے گے اور سمجھاتے بھی۔۔۔ کیا خیال ہے لیکن اس سے پہلے میں چاہوں گا کے داخلیوں اور خارجیوں کے قانون کی جو بات آپ نے ارادی یا غیر ارادی طور پر کی ہے اس پر کچھ روشنی ڈالیں تاکہ موودی کے مضمون جو اقتباس لیا گیا ہے۔۔۔ اس کو صحیح سمت دی جائے۔۔۔

والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
حرب بن شداد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-02-11, 04:15 PM   #15
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

جزاک اللہ خیر آپ شروع ہوں میں بھی ساتھ چلوں گا ساری روشنیاں ساتھ ساتھ چلیں گی۔ میں صاحب مراسل نہیں ہوں میں نے جو لکھنا تھا وہ لکھ دیا آپ میرے پہلے مراسلہ سے شروع ہو سکتے ہیں انتظار کروں گا۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, چور, نظر, موجودہ, ممکن, اللہ, انسان, اسلام, بے نظیر, تحریر, جواب, جلد, حل, خدا, شوہر, شخص, طلاق, عورت, علوم, علم, عدالتی, عدالتیں, عدالتوں, غلطی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تعویز کی شرعی حیثیت محمد عاصم کفروشرک 23 17-01-11 07:06 PM
مولود مروج کی شرعی حیثیت sahj عمومی بحث 9 23-12-10 09:05 AM
خلافت و ملوکیت۔۔تاریخی و شرعی حیثیت عبداللہ حیدر کتاب گھر 26 03-08-10 06:46 AM
جہیز کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ علی عمران مذہبی مسائل اور ان کا حل 24 24-02-09 01:59 AM
زرعی شعبہ کی اہمیت اور آئندہ انتخابات ؟,,,,معاشی حقائق…سکندر حمید لودھی خرم شہزاد خرم خبریں 0 29-10-07 10:23 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:14 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger