واپس چلیں   پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


مُلائیت کی طبقاتی جان ،خرد دشمنی اور جہالت کے طوطے میں ہے

اس موضوع کے 33 جوابات دیےگئے ہیں اور اسے 350 مرتبہ دیکھا گیا ہے
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-05-09, 09:54 AM   #1
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 38
مراسلات: 4,097
کمائي: 59,916
شکریہ: 9,816
2,962 مراسلہ میں 7,209 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default مُلائیت کی طبقاتی جان ،خرد دشمنی اور جہالت کے طوطے میں ہے

مُلائیت کی طبقاتی جان ،خرد دشمنی اور جہالت کے طوطے میں ہے

پیارے قارئین درجِ ذیل تحریر جناب راجہ فتح خان کے قلم سے نکلی تلخ حقیقت ہے جو آج سنڈے کے جنگ میں‌جناب ارشاد احمد حقانی صاحب نے اپنے کالم میں‌ نقل کیں ہیں۔
اس کے مندرجات کی اہمیت کی وجہ سے میں اسے یہاں‌نقل کرنے کی جسارت کرہا ہوں، جناب ارشاد احمد حقانی صاحب اور جناب راجہ فتح خان سے پیشگی معذرت!

عظیم مذاہب ِ عالم کی تاریخ شاہد ہے کہ ہر مذہب رائج نظامِ پیداوار پر قابض حکمران اقلیت کی چیرہ دستیوں سے محنت کشوں کی عظیم ترین اکثریت کو نجات دلانے کا پروگرام لے کر آیا۔ مظلوموں نے اسے اپنا نجات دہندہ سمجھ کر جوق در جوق اپنایا اور حکمران طبقات نے ہمیشہ ان مذاہب کے بانیوں کی ایڑی اور چوٹی کے زور سے مخالفت اور مخاصمت کی۔ جب خطے کی اکثریت اس مذہب کی حلقہ بگوش ہو گئی تب جا کر حکمران طبقات نے اپنے طبقاتی مفاد کی خاطر اس مذہب کو اپنایا۔ شروع میں کچھ ہستیاں خود کو متعلقہ مذہب کی کماحقہ تعلیم کے لئے وقف کرتی رہیں جس میں طاق ہو کر مذہب کی تبلیغ اور درس و تدریس کا مقدس مشن اختیار کیا۔ تصنیف و تالیف ،مذہب کی تاویل اور تفسیر کو اپنے مذہبی دائرئہ فرائض میں شامل کیا اور آئندہ نسلوں کے لئے کتب رہنمائی کا ذریعہ بنیں۔ نظامِ پیداوار پر قابض گروہ اپنے حق حکمرانی سے رضاکارانہ طور پر کبھی دستبردار نہیں ہوتے کہ ان کے عیش و آرام کا سارا دار و مدار محنت کشوں کی ”حق ماری“ سے وابستہ ہوتا ہے۔ چنانچہ بانی ٴ مذہب اور ان کے مخلص ساتھیوں کے بعد حکمران طبقات اُس مذہب کو استعمال کر کے مذہبی سند کے ساتھ ہمیشہ اپنی ملوکیت قائم کرتے آئے ہیں۔ اس کے لئے بس انہیں مذہب کی علماء جماعت اور اس کے سربراہوں کی وفاداری خریدنی ہوتی ہے جو پہلے ہی اپنی مذہبی ”خدمات“ کے حوالے سے خود کو عوام میں مذہب کے بانی کے ”وارث“ منوا چکے ہوتے ہیں۔ چنانچہ ملوکیت اور ملائیت کا یہ اٹوٹ اور مقدس اتحاد صدیوں سے قائم چلا آ رہا ہے اور حقیقی جمہوریت سے پہلے تک یہ قائم و دائم ہی رہے گا۔ ملا، پادری، پنڈت اپنے ”ظل الٰہیوں“، ”دین کے محافظوں“ اَن داتاؤں اور سورج کے بیٹوں سے مذہبی ”خدمت“ کے زندہ ثبوت تعمیر کرا کے آئندہ نسلوں کے لئے بھی محترم بناتے رہتے ہیں۔ ان سے شاہی مسجدیں اور فیصل مسجدیں بنواتے ہیں۔ ٹاٹا اور برلا مندر بنواتے ہیں۔ چرچ اور پگوڈے ان کے نام سے تعمیر ہوتے ہیں۔ ملائیت کے قاضی اور مفتی اپنے ظل سبحانیوں کی ہر خواہش کو مذہب سے سند ِ جواز مہیا کر کے اسے عملی جامہ پہنانے میں زیر دست آلہ کار کا کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی اورنگ زیب نے اپنے بھائی کو قتل کرنا ہو تو ملائیت اس کی خواہش پر اسے ملحد قرار دے کر واجب القتل ہونے کا فتویٰ حاضر کر دیتی ہے۔ کوئی اکبر اعظم درجن بھر شادیاں کرنا چاہے تو علما باجماعت اس کو قرآنی سند کے ساتھ 20 شادیاں کر سکنے کے حق کا فتویٰ مہیا کر دیتے ہیں۔ کسی بھٹو سے جاگیریں چھن جانے کا خدشہ پیدا ہو جائے تو سینکڑوں ملا بمعہ مکے مدینے کے امامِ اعظم کے بھٹو کو کافر قرار دے دیتے ہیں اور بالآخر اسے قتل کرانے تک فوجی آمر کی حکومت میں شامل رہتے ہیں۔

اصل میں ملائیت کی طبقاتی زندگی خرد دشمنی کی ڈور سے بندھی ہوتی ہے۔ جہالت کی سرزمین پر ہی ملائیت وہم کی فصلیں اگاتی ہے اور اپنا حلوہ مانڈہ یقینی بناتی ہے اور مروجہ غلامانہ، قبائلی سرداری اور جاگیردارانہ نظام کے تسلسل میں مذہبی ونگ طاقتور نظریاتی ہتھیار ہے۔ ملائیت کے سارے مگرمچھ صرف جہالت کے تالاب ہی میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ اسی لئے ان کی دن رات کی کوشش ہوتی ہے کہ سارے معاشرے ہی کو گندے جوہڑ میں تبدیل کر دیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملائیت جدید علم کا داخلہ اپنے مذہبی اداروں میں ہمیشہ ممنوع رکھتی ہے اور ریاست پر اثر انداز ہو کر وہاں کے تعلیمی اداروں میں بھی اپنی پسند کا ملا دوست نصابِ تعلیم رائج کرواتی ہے۔ کوئی سرسید جدید تعلیم کے لئے عملی اقدام کرے تو ملائیت اسے نیچری ، کافر اور پادریوں کا ایجنٹ قرار دے کر مسلمانوں کو جدید تعلیم سے مذہب کے نام پر روکتی ہے۔
ہمارے ہاں جو تعلیمی ادارے بموں سے اڑائے جا رہے ہیں، ٹی وی اور ویڈیو شاپس جلائی جا رہی ہیں حتیٰ کہ پولیو کے قطرے پلانے والے سٹاف کو قتل کر دیا جاتا ہے تو یہ حقیقت میں ملائیت اپنی طبقاتی بقا کی آخری جنگ لڑ رہی ہے۔

جاہل اور وحشی ملا اس خوش فہمی میں ہے کہ وہ ملائیت کی فتح کے لئے آزادانہ طور پر خود یہ جنگ لڑ رہا ہے۔ پی این اے کی تحریک والے بھی لوگوں کو یہی باور کراتے تھے کہ یہ خالص قومی جمہوری تحریک ہے اور طالبان بھی اسی خودفریبی میں مبتلا تھے کہ وہ واقعی جہاد کر رہے ہیں اور روس کی شکست وہ آج بھی اپنا کارنامہ باور کرتے ہیں مگر حقیقت میں پی این اے اور طالبان دانستہ یا نادانستہ اپنے مربی آقاؤں کے ہاتھوں ان کے مقاصد کے لئے بے دریغ استعمال ہو رہے تھے جو سرمایہ کاری کر رہے تھے۔ پاکستان میں ملاؤں کی دہشت گردی کی اس تحریک کی پشت پر بھی وہ داخلی اور خارجی مفادات ہیں جو اس خطے پر بالادستی میں حصہ بقدر جثہ چاہتے ہیں اور اسی تناسب سے اپنے اپنے حصے کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں!
ملائیت ہمیشہ کی طرح موجودہ اور متوقع حکمران طبقات کے ہاتھوں استعمال ہو رہی ہے۔

سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کے (غلط) واقعہ پر ملائیت نے بحیثیت مجموعی اور مذہبی سیاسی جماعتوں نے مذمت کرنے سے انکار کر دیا خصوصاً جماعت اسلامی کے نئے امیر نے تو صاف انکار کر دیا حتیٰ کہ آپ کے ایک مشہور صحافی تو قرآنی آیتوں کے حوالے سے یہ ثابت کر رہے تھے کہ اس کی مذمت کرنا گناہ ہے۔ جاگیردارانہ اور قبائلی معاشروں میں عورت کی معاشرے میں حیثیت اس محاورے سے ہی ظاہر ہے کہ ”زن، زر اور زمین فساد کی جڑ“ گویا زر اور زمین کی طرح زن بھی اشیائے صرف ہے۔ استعمال کی چیز ہے۔ انسان نہیں بلکہ پیر کی جوتی سمجھی جاتی ہے۔ پھر اسے بلوچستان میں زندہ گاڑیں، سندھ میں گولی مارنے سے پہلے کتے اسے بھنبھوڑیں یا کاری قرار دے کر سینکڑوں قتل کی جاتی رہیں اور مردِ مومن کے دور میں انکے ننگے جلوس نکالے جائیں ملائیت ایک لفظ بھی کہنے کی جرأت نہیں کرتی۔ وراثت میں حصے سے محروم رکھنے کیلئے بھی جاگیرداروں کی مدد کو ملا ہی آتا ہے۔ قرآن سے شادی کرا کے کنواری بیوہ بنا دیتا ہے۔ غیرت کے نام پر بے شمار عورتیں قتل ہوتی رہتی ہیں ۔اس وقت غیرت کہاں چلی جاتی ہے جب باپ ایک معصوم بچی کو بوڑھے کے ہاتھ فروخت کرتا ہے اور ملا نکاح پڑھا دیتا ہے اور اس وقت پختون کی غیرت کس حال میں ہوتی ہے جب ایک خاوند جوئے میں اپنی بیوی ہار کر اپنی بیوی جیتنے والے کے حوالے کر دیتا ہے؟
ملائیت نے پادری کے فتوے سے یورپ میں ہزارہا عورتوں کو جادوگرنی قرار دے کر اذیت ناک موت مروایا۔ پنڈت خاوند کی میت کے ساتھ اس کی زندہ بیوی کو مذہب کے نام پر جلا کر مارتا رہا۔ ستی کی اس رسم میں مردہ خاوند کے ساتھ صرف اس کی بیوی زندہ جلائی جاتی تھی۔ مردہ عورت کے ساتھ زندہ مرد نہیں جلایا جاتا تھا کیونکہ مردوں کے اس معاشرے میں عورت کو ناقص العقل مانا جاتا ہے۔
اور ملا بدچلن عورت کو مذہب کے نام پر کوڑے مرواتا اور سنگسار کراتا ہے۔ مغربی ممالک میں جمہوریت نے وحشی پادری کا ریاست کے اقتدار میں حصہ ختم کر کے اس کے زہریلے دانت اکھاڑ پھینکے۔ بھارت میں پنڈت بی جے پی کی آڑ میں اپنی جنت رفتہ کی واپسی کے کبھی نہ پورے ہونے والے سہانے خواب دیکھتا ہی رہ جائے گا۔ دوسرے ہندو ملک نیپال میں بھی جمہوریت پنڈت کی اہمیت گھٹانے جا رہی ہے۔ صرف 57 مسلم ممالک کی ملائیت جمہوریت کو اسلام کے خلاف قرار دے کر عوام دشمن حکمران طبقات کی حکمرانی کو طول دینے کے جتن کر رہی ہے۔ مگر کب تک؟
(جاری ہے)
shafresha آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 3 صارفین نے shafresha کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
Arabian (29-06-09), فیصل ناصر (29-06-09), فرحان دانش (13-11-09)
پرانا 10-05-09, 02:55 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 7,447
کمائي: 36,968
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,061
3,809 مراسلہ میں 9,488 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 29-06-09, 12:45 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 7,447
کمائي: 36,968
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,061
3,809 مراسلہ میں 9,488 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی جاری ہے کہ بعد کچھ پوسٹ نہیں کیا اپ نے مکمل کرنے کے بعد دوبارہ سے سرورق پر پیش کریں۔
__________________
"یہ ضروری تو نہیں کہ ہم جن سے محبت کرتے ہیں ان کے ساتھ زندگی بھی بتا سکیں"
منتظمین آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 29-06-09, 01:11 PM   #4
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 38
مراسلات: 4,097
کمائي: 59,916
شکریہ: 9,816
2,962 مراسلہ میں 7,209 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

معف کیجیئے گا اسے مکمل کرنا تو بھول ہی گیا تھا۔ اپنی خطا پر معافی طلب کرتا ہوں:

تاریخ مسخ کرنے کی سعی لاحاصل سے تاریخ کا تو کچھ نہیں بگڑتا کہ حقائق بالآخر دو اور دوچار کی طرح دنیا کے سامنے آجاتے ہیں مگر حقائق میں جھوٹ کا طومار شامل کرکے تاریخ مسخ کرنے والوں کا ”جغرافیہ“ تاریخ نے اکثر بگڑتے دیکھا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے تاریخی حقیقت یہ ہے کہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم عمل میں آئی اور دو آزاد ملک وجود میں آئے یعنی مسلمان اکثریت پر مشتمل علاقے انڈیا سے الگ کرکے مسلمانوں کا ایک نیا اور آزاد ملک دنیا کے نقشے پر ابھر آیا۔ دو قومی نظریے کی بنیاد پر تقسیم ہند کا مطالبہ ہندوستان کے مسلمانوں کا مطالبہ تھا جسے بجا طور پر مطالبہٴ پاکستان کہا جاتا ہے جہاں تک "نظریہ پاکستان" کی بات ہے توپاکستان کی تاریخ میں یہ جھوٹ قیام پاکستان کے برسوں بعد ملائیت کی سازش اور جنرل شیر علی کے توسط سے شامل کرایا گیااورتعلیمی نصاب میں لازمی پڑھنا قرار دلوایا گیا۔ ملائیت نے پروپیگنڈے کے زور پر اس جھوٹے اورفرضی نظریہٴ پاکستان کو وہ بیل باور کرا لیا جس کے سینگ پر سرزمین پاکستان ٹکی ہوئی ہے۔
منہ بولتی تاریخی حقیقت یہ بھی ہے کہ ملائیت نے بحیثیت مجموعی مطالبہ پاکستان کی ایڑی چوٹی کا زور لگا کر مخالفت کی۔ کسی نے جناح کو ”کافراعظم“ کہا تو کسی مذہبی جماعت نے یہ کہ کر حمایت کرنے سے انکار کر دیا کہ اگر پاکستان بن گیا تو وہاں ”مسلمانوں کی کافرانہ حکومت“ ہوگی جس سے ہمیں کیا سروکار! اور آگے چل کر جب پاکستان بن گیا تو کشمیر کے لئے جہاد کو بھی حرام قرار دے دیا۔ ایک اوربڑی جماعت جس نے پاکستان بننے کے بعد دو صوبوں میں حکومت بنائی اور جس کا سربراہ آج بھی مرکزی حکومت میں شامل ہے یہ کہتے ہوئے ذرا بھی نہیں ہچکچاتا کہ شکر ہے ہم پاکستان بنانے کے ”گناہ“ میں شریک نہیں تھے! پاکستان کی تحریک میں ہر اول دستے کے قائدین اقبال، قائداعظم، سردار عبد الرب نشتر، سہروردی، مولوی فضل حق اور لیاقت علی خان سب بغیر داڑھی اور اکثر کلین شیو تھے۔ ان کے ذہن میں ایک جدید قومی ریاست کا واضح خاکہ تھا جس کے خدوخال قائداعظم کی 11اگست 1947ء کی تقریر میں بیان کر دیئے گئے تھے۔ قائداعظم کی یہ پوری تقریر انگریزی میں لفظ بہ لفظ آپ نے بعد کے برسوں میں اخبار جنگ میں چھاپی بھی تھی جو کہ ریکارڈ کاحصہ ہے۔
آپ پاکستان کی پہلی کابینہ کے وزراء کے نام دیکھ لیں۔ لیاقت علی خان وزیراعظم سر ظفر اللہ خان قادیانی، وزیر خارجہ، جوگندرناتھ منڈل وزیر قانون ہندو اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاست کو کسی کے عقیدے سے کوئی سروکار نہ تھا اور نہ ہونا چاہئے کہ تمام شہری علاقے، قومیت، نسل، زبان اور مذہب کے اختلاف کے باوجود ایک قوم ہوتے ہیں اور مساوی شہری حقوق رکھتے ہیں آپ کو یادہوگا کہ سرظفر اللہ وزیر خارجہ نے قائداعظم کی وفات پر سوگواروں میں موجودہوتے ہوئے قائد کے جنازے میں شرکت نہیں کی تھی کیونکہ ملائیت کے فتوؤں کی وجہ سے دوسرے فرقے قادیانیوں کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے۔ قادیانی بھی جواباً ان کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے۔ قائداعظم کا جنازہ نہ پڑھنے کے باوجود سرظفر اللہ وزارت خارجہ کے منصب پر فائز رہے اور مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ میں ان کی پرمغز تقریریں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ملائیت ہندو کو وزیر قانون بنانے اور قادیانی کو وزیر خارجہ بنانے پر چپ سادھے رہنے پر مجبور تھی اور قائداعظم کا جنازہ نہ پڑھنے پر بھی منقار زیر پر رہی کیونکہ پاکستان بنے ابھی سال بھر ہی ہوا تھا اور پاکستانیوں کے ذہن میں ملائیت کا پاکستان مخالف کردار تازہ تھا دوسرے ملائیت کے برخلاف قادیانیوں نے بحیثیت جماعت مطالبہ پاکستان کی اعلانیہ حمایت اس وقت کی جب جماعت اسلامی اپنے جلسوں میں گاندھی کوبلا کر ان سے تقریر کروا رہی تھی۔

قائداعظم کی وفات کے بعد آئین ساز اسبملی جس کے ممبران کی کل تعداد 56تھی جن میں مغربی پاکستان کے قریباً سارے ممبران کا تعلق جاگیردار اشرافیہ سے تھا۔ اس اسمبلی سے ”قرارداد مقاصد“ منظور کرا لی گئی اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ تھیوکریسی کے لئے پہلی اینٹ رکھ دی گئی اور اس ٹیڑھی بنیاد پر سیدھی عمارت بننے کا سوال ہی پیدا نہ ہوا کہ خشت اول چوں نہد معمار کج تاثریا می رود دیوارکج، تجربہ شدہ حقیقت ہے۔
ملائیت نے گھی کے چراغ جلائے اور مودودی صاحب نے فرمایا ”قرار داد مقاصد منظور ہونے سے ریاست نے کلمہ پڑھ لیا ہے“ مودودی صاحب سے ریڈیو پاکستان پر تقریریں کرائی جانے لگیں اور علماء کے منظور کردہ 22نکات کا پروپیگنڈہ کیا جانے لگا اور اس حقیقت کو چھپایا گیا کہ یہ 22نکات پاکستان بننے کے بعد منظور کئے گئے۔ تحریک پاکستان کے دوران تو پاکستان کو ناپاکستان اورقائداعظم کو انگریزوں کا ”ایجنٹ“ کہا گیا چاہے احرار نے کہا یا خاکسار نے کہا حتیٰ کہ قائداعظم کو قتل کرانے کے لئے قاتل بھی بھیجے گئے۔

مودودی صاحب کی ریڈیو پر تقریریں چونکہ ان کی اپنی سیاسی کشمکش حصہ سوئم سے متصادم تھیں اس لئے موخرالذکر کتاب کو چھپا دیا گیا۔ بہرحال ان کی ”اسلامی ریاست“ میں جماعت کا مسلمانوں کو ”مسلمان“ بنانے کا پروگرام واضح ہے کہ ایک سال کے اندرصحیح مسلمان بن جاؤ ورنہ خود کو غیر مسلم قرار دے کر دائرہٴ اسلام سے خود کو خارج سمجھ لو ذمّی ہو جاؤ۔

شاید ہی کوئی مذہبی فرقہ ہو جس نے باقی فرقوں کو اپنے فتوے سے کافر قرار نہ دے رکھا ہو۔ اس ”کافر سازی“ ہی کا نتیجہ ہے کہ آگے چل کر مساجد اور امام بارگاہوں کے در و دیوار عبادت گزاروں کے خون سے رنگیں ہونے لگے اور اب تو مزاروں کو بھی اڑایا جانے لگا ہے۔ جب ریاست کو مذہبی ریاست قرار دیا جائے گا تو لازماً وہاں کا اکثریتی فرقہ اپنے فہم کا اسلامی نظام نافذ کرے گاجو دوسرے فرقوں کے لئے قابل قبول نہ ہوگا جیسے جنرل ضیاء الحق نے زکوٰة نافذ کی تو دوسرے نمبر پر ایک بڑے فرقے نے اس پر عمل کرنے سے صاف انکار کر دیا اور آمر ضیاء اور اس کے حامی ملاؤں نے اس فرقے کو ”چھوٹ“ دے دی۔ معاشرے کے ارتقائی سفر نے یہ حقیقت ثابت کر دی کہ مذہب صرف انسانوں کا ہوسکتا ہے ریاست چونکہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں بلکہ ملحد شہریوں پربھی مشتمل ہوسکتی ہے اس لئے ریاست کا مذہب کی سر پرستی کی بجائے سیکولر ہونا ہی بہتر نتائج دیتا ہے۔
کہاں توقرارداد مقاصد کی منظوری سے پہلے ملک کا وزیر خارجہ قادیانی اوروزیرقانون ہندو! اور قرارداد مقاصد کی منظوری کے بعد پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنس دان کی لاش بھی باہر سے چپکے سے پاکستان لاکر دفنانی پڑتی ہے کہ قرارداد مقاصد کے مطابق بننے والے آئین کے تحت ریاست شہریوں کے عقیدے کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہوگئی کہ ریاست کا مذہب اسلام تھا جس نے ڈاکٹر عبد السلام کی جماعت کو ان کی مرضی کے خلاف ”غیر مسلم‘ قرار دے دیا تھا۔

ملائیت اور اس کی پالنہار حکمران اقلیت چونکہ ووٹ کے ذریعے کبھی بھی اقتدار حاصل نہیں کرسکتی اسی لئے یہ مذہب کے نام سے جمہوریت کی مخالفت کرتے ہیں۔ملائیت کا پسندیدہ نظام ملوکیت ہے اوربادشاہوں کو ”نصائح الملوک“ لکھ کر مشورے دیتے ہیں۔ ملائیت کے طفیل 57مسلم ممالک کا حکمران طبقہ اپنے ملکوں میں جمہوریت کا راستہ روکنے میں اب تک کامیاب ہے مگر کب تک!
ملائیت بحیثیت مجموعی ریاست اقتدار پر قابض ہونے کی تمنائی ہے۔ ملائیت کا پڑھا لکھا نظریات کی بھٹی میں تپ کر کندن بننے والا حصہ بہ زور ریاست پر قبضہ کرنے کے پروگراموں اور سازشوں پرعمل پیرا رہتا ہے مصر کے اخوان المسلمین ہوں یا ان کا پاکستانی ایڈیشن جماعت اسلامی یکساں پروگرام رکھتے ہیں۔ پاکستان میں آپ دیکھ لیں قادیانیوں کے خلاف جماعت کی مہم جس کے نتیجے میں پہلا قادیانی ڈاکٹر کوئٹہ میں قتل ہوا۔ 1953ء کو لاہور میں مارشل لاء ان کی نیک کوششوں کا ثمر تھا۔ یہ تو فوج کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش سے بھی باز نہیںآ ئے اور مودودی صاحب کا پمفلٹ ”قادیانی مسئلہ“ فوج میں تقسیم کرتے رہے۔ ان کی طلبا تنظیم کے مسلح تھنڈر سکویڈکس کو یاد نہیں اور مشرقی پاکستان میں ان کے الشمس اور البدر دستوں نے بنگالیوں کا کتنا خون بہایا ان کی طلباء تنظیم کے عہدے دار آج بھی یونیورسٹی میں عمران جیسے سماجی اور سیاسی شخص کو اغواء کرکے یرغمال بنانے سے باز نہیں آتے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ خالد شیخ جیسا مطلوب شخص ان کے ہاں سے گرفتا ر ہوتا ہے۔ جماعت آج بھی یہ کہنے کی جرأت کررہی ہے کہ مولانا صوفی محمد اور ان کا پروگرام ایک ہی ہے بس اختلاف طریق کار کا ہے! کیونکہ صوفی محمد ماشا اللہ جماعت کے سابق رکن ہیں اور صوفی محمد ہی کیا تحریک خلافت کے داعی جناب ڈاکٹر اسرار احمد (جوشیعوں کو غیر مسلم سمجھتے ہوئے بھی اتحادبین المسلمین کے علمبردار ہیں) بھی تو جماعت اسلامی کے سابق رکن ہیں۔ نام نہاد جہاد افغانستان ہو یا ان کا مرد مومن ضیا الحق یہ پی پی پی کے سرگرم کارکنوں کی فہرستیں بنا کر دیتی ہے۔ گرفتارکراتی، قید اور کوڑوں اور ان کی پھانسیوں پر مٹھائیاں بانٹتی ہے۔بڑا المیہ ہے کہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کا کھوج لگایا جائے توکھرا جماعت اسلامی ہی کی طرف جاتا نظر آتا ہے۔ پی این اے کی تحریک ہو، افغانستان کا ڈالر جہاد ہو یا صوبہ سرحد میں جاری ”نظام شریعت“ کا موجودہ جہاد، جماعت اسلامی خوش رہتی ہے۔ دین ملا فی سبیل اللہ فساد اسی کو کہتے ہیں۔

والسلام…راجہ فتح خان

Last edited by shafresha; 29-06-09 at 01:22 PM. وجہ: چند اعراب کی تصیح
shafresha آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
Arabian (29-06-09)
پرانا 29-06-09, 01:53 PM   #5
Administrator

 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,649
کمائي: 72,593
ميرا موڈ:
شکریہ: 4,311
2,299 مراسلہ میں 7,455 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ مضمون ملائیت سے ذیادہ جماعت اسلامی دشمنی پر مبنی لگ رہا ہے ۔ اور راقم نے ملائیت سے بغض کی وجہ سے اسلام کو بھی نہیں بخشا ۔
اس میں کہا گیا کہ ریاست کو سیکولر ہونا چاہیے
تو میرا ایک سوال ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست کا قیام کیا تو کیا وہ ریاست سیکولر تھی یا خلفہ راشدین کے دور میں ریاست سیکولر ۔ آپ کہیں گے یہ تو 1400 سال پرانا واقعہ ہے اس کا کیا ذکر تو آپ کے لیے عرض ہے کہ اس 1400 سال پرانے واقعے کی بدولت ہی آج ہم مسلمان ہیں ۔
پاکستان کا قیام ہو یا اس کے بعد کے واقعات کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں ہوسکتا ۔ ہم نے مانا بہت سوں سے غلطیاں ہوئی ۔ تو ان غلطیوں کو سدھارنے کے بجائے ہم ملاؤں کو روتے رہیں ۔ اور اسلام کو مورد الزام ٹھرائیں اور ریاست کو سیکولر بنانے کی کوشش کریں ۔ ویسے آج جو حکمران ہم پر قابض ہیں وہ کوئی ملا نہیں بلکہ سیکولر ہی ہیں اور امریکہ جاکر بھیک مانگنے اور عیاشی کرنے کو فخر سمجھتے ہیں
آخر میں صرف اتنا کہوں گی کہ ملاؤں سے بغض میں اسلام کے خلاف ہونے کے بجائے
پاکستان میں صحیح اسلام کے نفاذ کی کوشش کریں ۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 6 صارفین نے سحر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
shafresha (03-09-09), فیصل ناصر (29-06-09), راجہ اکرام (04-09-09), طاھر (03-09-09), عادل سہیل (04-09-09), عبداللہ حیدر (29-06-09)
پرانا 29-06-09, 01:59 PM   #6
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 38
مراسلات: 4,097
کمائي: 59,916
شکریہ: 9,816
2,962 مراسلہ میں 7,209 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سحر بہن جلد ہی آپ کو مدلل جواب دیا جائے گا، حالانکہ یہ میرا موقف نہیں ہے اور نہ ہی میری تحریر ہے مگر چوں کے میں اس تحریر کے بعض مندرجات سے اتفاق کرتا ہوں اس لیئے اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں کے آپ کے سوالوں کا جواب دوں۔
shafresha آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 2 صارفین نے shafresha کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
فیصل ناصر (29-06-09), سحر (30-06-09)
پرانا 29-06-09, 02:17 PM   #7
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 7,447
کمائي: 36,968
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,061
3,809 مراسلہ میں 9,488 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اب اس کو سرورق پر بھی اپلائی کر دیں۔
منتظمین آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 29-06-09, 04:43 PM   #8
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 38
مراسلات: 4,097
کمائي: 59,916
شکریہ: 9,816
2,962 مراسلہ میں 7,209 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

وہ تو پہلے ہی کرچکا ہوں جناب!
shafresha آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 29-06-09, 06:51 PM   #9
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 7,447
کمائي: 36,968
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,061
3,809 مراسلہ میں 9,488 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اپ نے جس باری پر کی تھی وہ باری اب گزر چکی ہے۔ اب اپ اس کو دوبارہ سرورق پر پیش کریں۔
منتظمین آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-09-09, 12:33 AM   #10
Senior Member
 
hasnan_1983's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 391
کمائي: 4,924
ميرا موڈ:
شکریہ: 635
205 مراسلہ میں 387 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
hasnan_1983 آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-09-09, 08:08 AM   #11
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 40
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,022
ميرا موڈ:
شکریہ: 952
1,399 مراسلہ میں 3,860 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
چوں کے میں اس تحریر کے بعض مندرجات سے اتفاق کرتا ہوں اس لیئے اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں کے آپ کے سوالوں کا جواب دوں۔
السلام علیکم،

شاہ فریشا سے خیالات کے اظہار کی درخواست ہے؟

والسلام

طاہر
طاھر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-09-09, 09:20 AM   #12
Senior Member
 
بدرالزمان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
عمر: 29
مراسلات: 4,454
کمائي: 18,284
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,887
1,795 مراسلہ میں 4,493 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

استغفراللہ۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح ہم لوگ محض کسی سے نا پسندیدگی یا کسی کی محبت میں حد سے گزر جاتے ہیں اور اسکے خلاف جھوٹ کے الزامات کا طومار کھڑا کر دیتے ہیں۔ یہ ہماری اندھی عقیدت یا دشمنی ہی ہوتی ہے کہ جو ہم کو حقیقت سے دور کر دیتی ہے۔ مندرجہ بالا مضمون اور مضمون نگار بد قسمتی سے اسی مسئلہ کا شکار دکھائی دیئے۔ ان سے یہ نہ ہو سکا کہ تاریخ کا بغور مطالعہ کر لیتے اور پھر غیر جانب دار رائے قائم کر لیتے۔ پھر تو انکو حق بجانت کہا جا سکتا تھا۔ ایک دو کتابیں پڑھ کر اور وہ بھی کسی خاص گروہ سے تعلق رکھنے والی اور پھر اگلے کا موقف جانے بغیر فتویٰ لگا دینا یہ تاریخ نگاری نہیں ہوتا، حماقت ہوتی ہے۔بلکہ اپنے ساتھ دشمنی ہوتی ہے۔بقول ڈاکٹر ذاکر نائیک کہ شری کرشن کی اسلام پر لکھی کتاب پڑھ کر اسلام کے بارے میں رائے قائم نہ کرو۔اسلام کے بارے میں رائے قائم کرنی ہی ہے تو اس کتاب کو پڑھو جو اللہ نے لکھی ہے یعنی قرآن۔۔ تو اگر مودودی پر الزامت پڑھ بھی لیے تو کم از کم ۔۔۔۔آپ ان الزامات کی تحقیق تو کر لیں۔۔ ۔ میں انشااللہ اس مضمون کے بارے میں اپنی رائے کا جلد اظہار کروں گا۔ لیکن فی الوقت یہی کہوں گا کہ اگر علامہ اقبال یہ کہہ دے کہ
" افغان کی غیرت دین کا ہے یہ علاج
کہ ملا کو انکے کوہ دمن سے نکال دو"
تو مندرجہ بالا حضرت فرمائیں گے کہ علامہ اقبال انسان تھے کوئی نبی نہیں کہ ان سے غلطی نہ ہوتی ۔ ۔ ۔۔ لیکن اگر وہی غلطی مودودی سے ہو جائے تو اس کے خلاف طوفان کھڑا کر دینا اور اسکی وضاحت تک نہ لینا(بلکہ اکثر اوقات ویسے ہی سفید سنے سنائے جھوٹ پر یقین کرنا جیسا کہ مندرجہ بالا مصنف نے بیان کیے ہیں) ۔ نہ جانے ہمارے اندر سے انصاف پسندی کہاں غائب ہو گئی ہے۔ کیا مودودی کے بارے میں یہی گمان نہیں کیا جا سکتا کہ وہ انسان تھا ۔۔۔۔فرشتہ نہیں کہ اس سے غلطی نہ ہو۔ قائد اعظم سے جو مرضی ہو جائے اسکی تاویل نکال لینا کہ یار اس وقت کا تقاضہ یہی تھا ۔۔۔۔لیکن مودودی کو بے گناہ رگڑے رہنا اور جھوٹ پر جھوٹ رکھتے رہنا۔
مودودی نے ان الزامات کے جاوابات دیتے دایتے ایک دن تنگ آ کر کہا تھا کہ
"میں نے ان لوگوں سے انتہائی سخت انتقام لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ایسا انتقام کہ انکی روحیں تک لرزتی رہیں گی۔ اور وہ انتقام یہ کہ میں نے اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں پیش کر دیا ہے۔ اب روز قیامت اللہ میرا اور انکا فیصلہ کرے گا اور ان سے ان کے الزامات کا ثبوت طلب کرے گا۔ تب میں دیکھوں گا کہ یہ لوگ کتنے پانی میں ہیں"

امید ہے کہ جو شخص اللہ کی عدالت میں اپنا مقدمہ بھیج چکا ہے ۔ ۔ ۔ تو اسکے مخالفین بھی اسکی نیتوں کے بارے میں اپنے ثبوت اللہ کی عدالت میں پیش کریں۔ بے شک اللہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
__________________
زندگی کیا ہے؟ پہلی سانس سے آخری ہچکی تک مسلسل کوشش
. . . . . . ایک دوڑ . . . . . ایک ضد . . . .
سب سے آگے نکل جانے کی' سب کچھ حاصل کر لینے کی ' جو نہ ملے اُسے چھین لینے کی۔
بدرالزمان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 4 صارفین نے بدرالزمان کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
shafresha (03-09-09), سحر (04-09-09), طاھر (04-09-09), عادل سہیل (04-09-09)
پرانا 03-09-09, 09:23 AM   #13
Senior Member
 
بدرالزمان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
عمر: 29
مراسلات: 4,454
کمائي: 18,284
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,887
1,795 مراسلہ میں 4,493 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم،

شاہ فریشا سے خیالات کے اظہار کی درخواست ہے؟

والسلام

طاہر
میں بھی شافریشہ بھائی سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے خیالات کا اطہار کریں۔ تاہم میں اتنا جانتا ہوں کہ جب ہم کسی اور کا مضمون پوسٹ کرتے ہیں تو در حقیقت ہم اس کے خیالات سے اتفاق ہی کر رہے ہوتے ہیں۔
بدرالزمان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
بدرالزمان کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (03-09-09)
پرانا 03-09-09, 09:58 AM   #14
Senior Member
 
بدرالزمان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
عمر: 29
مراسلات: 4,454
کمائي: 18,284
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,887
1,795 مراسلہ میں 4,493 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ صاحب کی پوسٹ کا پس منظر
مجھے راجہ صاحب کی پوسٹ پرھ کر ایک احساس جو ہوا وہ یہ کہ نہ تو انکی پوسٹ جماعت اسلامی کے خلاف تھی، نہ کسی اور عالم کے خلاف ۔ ۔ ۔ یہ در حقیقت اس سوچ کی آئینہ دار ہے کہ جس کے تحت مذہب اور حکومت کو الگ الگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یورپ میں انے والا انقلاب در حقیقت وہاں مذہب کی شکست تھی ۔ اس انقلاب کے بعد مذہب محض پوجا پاٹ کی حد تک رہ گیا۔ پوپ کو ویٹی کن سٹی میں ایک جگہ دے دی گئی کہ ادھر سکون سے رہیں۔ مذہب کا عمل دخل معاشرے سے ختم کر دیا گیا۔ یہی وہ Turning pointتھا کہ جس کے بعد مغربی معاشرہ دہریت و الحاد اور یہاں تک کہ موجودہ فحاشی و عریانی تک جا پہنچا۔
اسلام میں بھی خلافت راشدہ کے بعد سے مذہب اور حکومت کو جدا جدا کرنے کی کوششیں جاری رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علی کے بعد سے آنے والے تمام حکمران خلیفہ نہیں ملوک کہلائے۔ دین کو حکومت سے جدا کرنے کی کوششیں خلافت عباسیہ کے دور میں تیز تر ہو گئیں لیکن "ملائیت" اپنی کوششیں کرتی رہی ۔ ہندوستان میں آغاز سے ہی مذہب اور حکومت کو جدا جدا کر دیا گیا تھا۔ بادشاہ دین کے احکامات سے ماورا ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مغل سلطنت کے آگاز میں ہی دہریت کا ایسا طوفان اٹھا کہ اکبر نے دین الٰہئ ایجاد کر ڈالا۔ بادشاہ کو بھی اپنے ہر کام کے لیے کوئی نہ کوئی جواز چاہیے ہوتا ہے تاکہ عوام اور افواج میں بددلی نہ پھیلے تو اکثر بادشاہوں نے ملاؤؤں کی حرکات کو جواز بنا کر اپنی اسلام میں عدم دلچسپی کو استحکام بخشا، اکبر بادشاہ کے حواریوں کا بھی یہی استدلال تھا کہ وہ ملاؤؤں کے کرتوتوں کی وجہ سے بادشاہ ایسا کرنے پر مجبور ہوا۔ احمق ہوتے ہیں وہ لوگ جو ان تاویلوں پر بغیر غور کیے یقین کر بیٹھتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بادشاہ ملا کے کرتوتوں سے پریشان تھا تو پھر اس کو تو اسلام کو تجدید کرنے کی ضرورت تھی نہ کہ اسلام کو تباہ کرنے کی۔ بادشاہوں اور ملائیت دشمنوں کی بد قسمتی کہ تجدید دین کا فریضہ انہی ملائیت پسندوں نے نبھایا۔ حضرت الف ثانی، شاہ ولی اللہ ، مولانا سندھی وغیرہ کوئی حکمران نہ تھے۔لیکن انہوں نے دین کی خدمت بادشاہوں سے بڑھ کر ہی کی اور اپنا نام دنیا میں ہمیشہ کے لیے لکھوا گئے اور جن کا تذکرہ نہیں ملتا تو انکو تو اللہ کی طرف سے جزا ملنی ہی ہے۔ لیکن ان بادشاہوں کا کیا ہوا؟ کیا آج انکے کارنامے اظہر من الشمس نہیں؟
تو ملوکیت اور "ملائیت" کی یہ کشمکش آگاز کار سے ہی جاری ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے گروہ سے اپنے حامی توڑنے کی کوشش کرتے رہے۔ ملوکیت طاقت ور تھی ۔ ۔ ۔اس کے پاس پیسہ تھا۔۔۔۔ اسکو ضرورت تھی ایک ایسے اسلام کی کہ جو اسکی من مانی خواہشات و اقدامات کی یا تو تائید کرے یا پھر خاموش رہے۔ ملوکیت نے اپنی طاقت کے بل پر ملایئت میں سے ملا خیریدے اور ایسا انتشار برپا کیا کہ جس نے اسلام کی جڑیں کھوکھلی کر دیں۔ شاید میرا آرٹیکل پڑھنے والے یہ سوچیں کہ میں نے ملائیت کی حمایت میں ملوکیت پر حملہ کر دیا ہے تو ایسا نہیں ہے۔ یہ جو میں نے کہا ہے یہ ایک حقیقت ہے۔ اس کی مژال یا ثبوت یہ ہے کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان نام نہاد اسلام پسند حکمرانوں نے کبھی بھی خانقاہوں، درگاہوں، جھوٹے پیروں ، جھوٹے ولیوں، کی زیر نگرانی ہونےو الے جرائم پر کبھی گرفت نہیں کی۔ کبھی انکا تدارک کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ غیر اسلامی رسوامات و روایات کو ترویج دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسلام عجب چوں چوں کا مربہ بن کر رہ گیا ہے۔ ورنہ وہ بھی تو حضرت عمر تھے جو خلاف اسلام کوئی حرکت دیکھ لیتے یا انکو شبہ ہو جاتا تو وہ سب سے پہلے اسکا تدارک کرتے لیکن۔ ۔۔۔۔ کون نہیں جانتا آج کے مزاروں پر عرس کے پردے میں کیا کچھ نہیں ہو رہا۔لیکن حکومت اسکا تدارک کرنے کی کوشش نہیں کرتی کہ ان متبرک ہستیوں کے قبور کو غیر اخلاقی حرکات سے بچایا جائے۔/ ۔ ۔۔ ۔ لیکن اگر کوئی ملا حکومت پہر کوئی بات کر دے ۔ ۔۔ ۔ یا اس سے اختلاف کر دے تو اسکا حشر نشر کر دیا جاتا ہے۔ اس پر فوج کشی کر دی جاتی ہے۔ الزامات کی بوچھاڑ تو چھوٹی بات ہے/

ملوکیت کےاس رویے کے خلاف ہمیشہ سے تحریکیں جنم لیتی رہی ہیں۔ یزید کے خلاف حضرت حسین (رضی اللہ تعالیٰ)کی کوشش ہو یا ۔ ۔ ۔ اموی اور عباسی ملوکیت کے خلاف امام حنیفہ،امام مالک کی جدو جہد۔ انکو بھی ملوکیت نے اسی الزام سے نوازا تھا کہ یہ لوگ کار سرکار میں مداخلت کرتے ہیں۔ لیکن آج انہی ملاؤں کا نام زندہ ہے اور ان بادشاہوں کو یا تو لوگ جانتے نہیں یا پھر حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

ایوب خان نے ایک مرتبہ ایک مذہبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تم لوگ ہمارے کام میں مداخلت نہ کرو ویسے ہی جیسے ہم نے کبھی تمہارے کام میں مداخلت نہیں کی۔ یہ واضح سوچ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حکمران ہمیشہ سے مزہب کو حکومت سے جدا کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن کیا ایسا کرنا درست ہے ۔ تو میں علامہ اقبال کے ایک شہعر کا حوالہ دوں گا
"جو ہو دین جدا سیاست سے
تو رہ جاتی ہے چنگیزی"

اس چنگیزی کا مظاہرہ اگر آج تک کسی نے سلطنت پاکستان میں نہیں دیکھا تو اسکی آنکھوں اور سوچ پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہر آنے والا حکمران ایک نئی بر بریت کی تاریخ رقم کرتا ہے۔

(جاری ہے)
بدرالزمان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 3 صارفین نے بدرالزمان کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
shafresha (03-09-09), راجہ اکرام (04-09-09), عادل سہیل (04-09-09)
پرانا 03-09-09, 10:20 AM   #15
Senior Member
 
بدرالزمان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
عمر: 29
مراسلات: 4,454
کمائي: 18,284
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,887
1,795 مراسلہ میں 4,493 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اب میں راجہ صاحب کے کالم کا تجزیہ کروں گا

انہوں نے فرمایا کہ"عظیم مذاہب ِ عالم کی تاریخ شاہد ہے کہ ہر مذہب رائج نظامِ پیداوار پر قابض حکمران اقلیت کی چیرہ دستیوں سے محنت کشوں کی عظیم ترین اکثریت کو نجات دلانے کا پروگرام لے کر آیا۔"
اس تحریر سے کیا ان صاحب کے انداز فکر کا تجذیہ نہیں کیا جا سکتا؟ کیا واضح طور پر نظر نہیں آ رہا کہ موصوف سوشلسٹ نقطہ نظر کے حامی ہیں کہ جہاں ہار تان محنت کش پر آ کر ٹوٹتی ہے؟ کیا کوئی اسلام کو جاننے والا اس بات کی تائید کر سکتا ہے کہ اسلام بھی اسی مقصد کے لیے آیا تھا جو انہوں نے بیان کیا؟ کیا اسلام کا مقصد محض نظام پیداوار کو حکمران سے لے کر محنت کشوں میں تقسیم کر دینا تھا؟
یاد رکھیے گزشتہ 50 سال کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر گلی،ہر شہر،ہر ملک میں اسلامی تحریکوں کا مقابلہ سوشلسٹ تحریک سے ہوا ہے اور سوشلسٹ تحریکوں نے بہت برے طریقے سے مار کھائی ہے اور ہر جگہ سے پسپا ہوئے ہیں۔ اور یہ بھی یاد رکھیے کہ ان اسلامی تحریکوں کی قیادت یا ان میں جان پھونکنے والا لٹریچر انہی ملاؤؤں کی تحریروں سے آیا تھا جن کو یہ اپنے کالم میں مطعون کر رہے ہیں۔ اگر یقین نہیں آتا تو "آج ٹیلی ویژن" کی "بلیک باکس ڈاکیومینٹری" دیکھ لیں جو کہ مغرب کے نیو کون )NeoCons)نظریے پر تھی

پھر انہوں نے اورنگ زیب و دیگر بادشاہوں کے احوال بیان کر کے ملائیت کو مطعون کیا ہے
تو جناب ان سے کوئی پوچھے کہ اگر آپ ملاؤؤں کو برا کہہ رہے ہیں تو ساتھ میں ہی ان بادشاہوں کو بھی تو برا کہیں۔ اگر چند ملاؤؤں کی وجہ سے اپ تمام کو ایک عالموں کو ایک ہی فہرست میں ڈال رہے ہیں تو پھر آپ کو تو چند ظالم بادشاہوں کی وجہ سے تمام حکمرانوں کو برا کہنا پڑے گا۔ اس حاکموں میں تو آپ کے (نعوذ باللہ)خلفا راشدین بھی آ جئیں گے۔ تو انصاف کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ آپ چند افراد کی وجہ سے پوری قوم کو برا بھلا نہ کہیں۔ علما سو کی طرف اشارہ تو نبئی پاک بھی دے گئے تھے۔ لیکن علما حق بھی تو موجود ہوتے ہیں۔ اگر اموی اور عباسی دور کی بات کی جائے تو اس دور میں اما م حسین،امام مالک، امام حنیفہ ،نفس ذکیہ، زید بن علی، وغیرہ جید علما نے اسلام کا پرچم بلند رکھا۔ اگر مغل دور کی بات کی جائے تو اس دور میں مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ، مولانا سندھی و دیگر نے اپنی مساعی جاری رکھی۔ آپ چند ملاؤؤں کی وجہ سے سبھی کو کیوں برا بھلا کہہ رہے ہیں؟ اور یہ بھی یاد رکھیے کہ ان لوگوں نے بھی حکومتی رِٹ کو چیلنج کر دیا تھا۔ محمد شاہ رنگیلا نے تو شاہ ولی اللہ کو پھانسی پر چڑھا دینے کی کوشش کی تھی پھر خوف کی وجہ سے رک گیا تھا۔
مجھے اس راجہ صاحب کے آرٹیکل کا مقصد محض یہ لگتا ہے کہ اس قوم کا اعتبار اس کے رہے سہے علما پر سے بھی اٹھا دیا جائے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ملا محض مسجد تک محدود ہو جائے گا۔ اسلام ہر کسی کا ذاتی مسئلہ بن جائے گا۔ پھر ہمارا معاشرہ بھی اسی انارکی کا شکار ہو جائے گا جس کا سامنا آج مغرب کر رہا ہے۔ اور اسکی نشانیاں نظر آ بھی رہی ہیں۔ جب سے اس ملک میں "ملائیت" شکست پر شکست کھا رہی ہے ۔ ۔ ۔ اس ملک کا اخلاقی جنازہ نکلتا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کے بیانات سے لے کر، ملک میں ہونے والے تواتر سے عریاں سکینڈلز، اور اس لے کر میڈیا میں جاری فحاشی کا طوفان۔ اور اس پر عوام کی خاموشی۔۔۔یہ سب اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ ہم کس خوفناک گڑھہے میں گرنے والے ہیں۔

(جاری ہے)
بدرالزمان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 6 صارفین نے بدرالزمان کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
shafresha (03-09-09), فیصل ناصر (03-09-09), راجہ اکرام (04-09-09), سحر (04-09-09), طاھر (04-09-09), عادل سہیل (04-09-09)
جواب

Bookmarks

Tags
ہندو, فروخت, پیارے, پوسٹ, پاکستان, پسند, قرآنی, لڑکی, مکمل, موت, موجودہ, متوقع, معذرت, آج, اکبر, انسان, امیر, اسلامی, بھائی, تعلیم, خان, دوست, طالبان, عورت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ااپنی جان کے دشمن سےع ہمیں پیار کرنا ہے ایس اے نقوی میری ڈائری 0 24-02-09 04:51 PM
چیف جسٹس اور آزاد عدلیہ کی بحالی کے معاملے میں سیاستدانوں نے غداری کی ہے ،عمران خان زین خان خبریں 0 28-11-08 12:26 PM
پیٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام دشمنی ہے، اپوزیشن ارکان سینیٹ اسلام آباد (جن عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 07:44 AM
اسلام آباد(نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) امریکی نائب وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں ایمرجنسی ختم اور میڈیا پر عائد پا عبدالقدوس خبریں 0 19-11-07 06:19 PM
جان کب جائے گی، بلی جان جاتی ہے عبدالقدوس عمومی بحث 3 18-09-07 12:00 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:18 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO 3.3.0
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2010,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger