واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


مکاتب فکر ایک نعمت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-02-12, 08:50 AM   #1
مکاتب فکر ایک نعمت
حیدر حیدر آف لائن ہے 10-02-12, 08:50 AM

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : معظم مراسلہ دیکھیں
اگر میں ابھی تک صحیح سمجھا ہوں تو آپ کا تعلق بریلوی مکتبہ فکر سے ہے ، اگر غلط رائے ہو تو تصیح کر دیجئے گا۔
اب میری قرآن پاک کی تعلیم دیوبندی مدرسہ جامعہ قادریہ سے ہوئی، ایک دفعہ اتفاق سے مبارک مسجد اہلحدیث جمعہ پڑھا تب سے باقاعدگی سے جمعہ ادھر پڑھنے لگا ، گھر کے سامنے اکبر مسجد بریلویوں کی ہے وہاں روٹین کی آن آف نمازیں اور جمعہ بھی پڑھتا رہا۔
اب میری زندگی میں جتنی عبادات تھی سب ضائع؟؟ کیونکہ میں مختلف مکاتب فکر کے ہاں پڑھتا رہا؟؟
اور ذاتی طور سے مجھے نماز پڑھنے میں جو راحت محسوس ہوئی وہ مبارک مسجد میں ہوئی کیونکہ وہاں نماز پڑھائی جاتی تھی نا کہ دوسری جگہوں کی طرح فٹافٹ سورۃ کوثر اور سورۃ عصر پڑھ کے گزار دی جاتی۔
اور جتنے جمعہ میں نے بریلویوں کی مسجد میں پڑھے وہاں صرف ایک ہی موضوع ہے ۔۔۔ پیر ساب ، اللہ کے ولی اور ان کی قربت ۔۔۔بس یقین جانئیے گزشتہ 4 سالوں میں اس سے ہٹ کے کوئی موضوع نہیں سنا تو اس وجہ سے میں وہاں جانے سے کتراتا ہوں نا کہ کیونکہ وہ بریلوی ہیں اور میرے والد دیوبندی اور مجھے رغبت توحید پسندوں کی طرف ہے۔

کسی کو ۔۔۔۔۔ کہ دینا بہت آسان ہے میرے بھائی۔ اللہ کے سوا کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کون ۔۔۔۔ ہے یا تھا۔
لہذا خود کو اعلٰی درجہ کا مسلمان سمجھنے والا یہ جان رکھے کہ فائنل اللہ نے کرنا ہے اور جو اس سے ڈرے گا وہی کامیاب ہے انشاءاللہ
بہت خؤب معظم بھائی : اسی لیے میں کہا کرتا ہوں کہ کس انسان کو کیا بات بھا جائے اس بات کا علم صرف اللہ کو ہے۔

اچھا ابھی اللہ نے ایک بات مجھے سمجھائی ہے میں آپ کے ساتھ شئیر کرتا ہوں حالانکہ میں کوئی اور بات کرنے والا تھا۔

بھائی کبھی آپ لوگوں نے سوچا ہے کہ اسلام میں اس قدر زیادہ مکاتب فکر کیوں ہیں اور ان کا اسلام کو کیا فائدہ ہے؟ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ مسلمانوں کی اسلامی عبادات میں اس قدرفرق کیوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان تو ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتا ہے تو کوئی سینے پر ہاتھ باندھتا ہے۔ اسلامی مکاتب فکر (المعروف فرقہ جات) میں اس قدر تنوع کیوں ہے۔ کوئی پگڑی باندھے پھرتا ہے تو کوئی سر پر ٹوپی لینا بھی عار سمجھتا ہے۔ کوئی داڑھی کو بالشت بھر رکھتا ہے تو کوئی بغیر داڑھی کو اسلام ہی نہیں گردانتا۔ کوئی ہر نماز کے بعد "لا الہ الا اللہ" کا ورد کرتا ہے تو کوئی دعا بھی نہیں مانگتا۔ کوئی صوفی ازم کا پرچارک ہے تو کوئی صرف نماز ادا کر دینے کو ہی کافی سمجھتا ہے۔

اسلام کے ہر مکتبہ فکر میں اس قدر فرق کیوں ہے اور یہ فرق کیوں اسلام کے لیے عین نعمت ہے؟ اس بات کا جواب خود آپ کے مراسلے میں ہی موجود ہے۔ غور کیجیے ۔ اپنے اُس مراسلے کو ذہن میں رکھتے ہوئے میرے اس پیراگراف کو پڑھیے ، شاید آپ میرے مفہوم تک پہنچ جائیں

اقتباس:
ہاہاہا معظم بھائی ۔ ۔ ۔ مزے کی بات دیکھیں میں شاید پانچویں کلاس سے ہی دیو بندیوں اور اہل حدیث حضرات کے ہتھے چڑھا ہوا ہوں۔ کلاس چہارم یا پنجم میں تھا کہ جمعیت والوں نے اُچک لیا۔ باقاعدگی سے ہفتہ وار ان کے اجتماعات میں شرکت کرتا تھا۔ ششم جماعت میں ہوا تو ایک اہل حدیث (حالیہ جماعت الدعوۃ) نے ترجمہ قرآن پڑھانا شروع کر دیا۔ اسی نے نماز پڑھنا بھی سکھائ جو رفع یدین کے مطابق تھی۔ پھر کلاس ہفتم تا نہم ایک اور اہل حدیث صاحب (جماعت اسلامی) ہمیں ترجمہ قرآن پڑھاتے رہے۔ اس کے بعد بی ایس سی کے دور میں ایک اور اہل حدیث(جماعت اسلامی) مجھے ترجمہ قرآن پڑھاتے رہے۔

اصولی طور پر مجھے بھی آپ کی طرح اہل حدیث افراد کی مساجد میں راحت محسوس ہونی چاہیے تھی۔ لیکن میرے ساتھ بر عکس ہوا۔ میری ساری فکری تربیت اہل حدیث اور جماعت اسلامی والوں کے ہاتھوں ہوئی لیکن مجھے نماز پڑھنے کا مزا بریلویوں کی مسجد میں آتا ہے۔ جب وہ لوگ نماز کے بعد ورد کرتے ہیں تو ان کی آواز مجھے ایسا محسوس ہوتی ہے جیسے میرے بنجر اور سخت دل پر پانی کی پھوار پڑ رہی ہو، عجیب سی راحت محسوس ہوتی ہے۔ حالانکہ میں نے کبھی ان کے ساتھ ورد نہیں کیا۔ اسی طرح مجھے جماعت اسلامی والوں کے ساتھ مزا نہیں آتا بلکہ مجھے تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ نماز پڑھنے میں مزا آتا ہے۔ اسی لیے میں کہا کرتا ہوں کہ کس کو کیا بات پسند آ جائے اس کا علم صرف اللہ کو ہے
اصل میں ہر انسان کی فطرت مختلف ہوتی ہے۔ ہر انسان کی پسند نا پسند ، ترجیحات مختلف ہوتی ہیں ۔ اگر اسلام محض ایک ہی انداز و اطوار پر ہوتا تو بیشتر مسلمان اس میں خؤد کو "ان فٹ " محسوس کرتے ۔ اور ہر وقت راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش میں رہتے۔ لیکن چونکہ اسلام دین فطرت ہے ۔ ۔ ۔ اس لیے اسلام میں ہر انسان کی فطرت سمو دی گئی ہے۔

مختلف مکاتب فکر میں جمع شدہ لوگ درحقیقت اپنی فطرت کے لوگوں کے نزدیک ہوتے ہیں اور اسی میں ان کی تسلی ہوتی ہے۔ ورنہ اگر کسی انسان کو اس کے نا پسندیدہ فرد کے ساتھ وقت گزارنے پر مجبور کر دیا جائے تو وہ باغی ہو جاتا ہے۔ اس کے دل میں نفرتوں کے الاؤ اُبل پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم اگر تبلیغی جماعت والوں کے ہاتھوں مسلمان ہوتا ہے تو کوئی دعوت اسلامی والوں کے ہاتھوں مسلمان ہوتا ہے۔ کسی کو ڈاکٹر اسرار کی بات پسند آتی ہے اور وہ اسلام کی طرف مائل ہوتا ہے تو کسی کو اقوال امام باقر متاثر کر جاتے ہیں اور وہ مسلمان ہو جاتا ہے۔

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 720
Reply With Quote
24 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (10-02-12), rana ammar mazhar (26-02-12), shafirajput (12-03-12), skjatala (10-02-12), ہادی (10-02-12), پاکستانی (10-02-12), منتظمین (12-02-12), محمد یاسرعلی (10-02-12), محمدعدنان (18-02-12), مرزا عامر (10-02-12), معظم (10-02-12), آصف رضا (11-02-12), اجمل (10-02-12), احمد نذیر (10-02-12), بلال الراعی (10-02-12), بزم خیال (10-02-12), حیدر Rehan (10-02-12), رضی (11-02-12), زارا (10-02-12), سائل (13-03-12), سحر (10-02-12), شعبان نظامی (26-02-12), عبیدرضا (10-02-12), عبدالقدوس (10-02-12)
پرانا 10-02-12, 11:41 AM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلامُ علیکم!!

بجا فرمایابدربھائی۔ اِنسان کی سوچ، نظریات، پانس نا پسند اورترجیحات سب ایک دُوسرے سے مختلف ہیں لیکن افسوس ہم اپنی سوچ اورنظریات دوسروں اپلائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلاشُبہ مختلف مکاتب فکر میں موجود لوگ اپنی فطرت کے لوگوں کے نزدیک ہوتے ہیں اوراسی میں سکون محسوس کرتے ہں لیکن بعض اوقات اپنی فطرت کے برعکس ہم اپنی باتوں سے، اپنی way of thinking سے دُوسروں کو قائل کرنے کوشش کرتے ہیں جس سے وہ قائل تو نہیں ہوتا باغی ضرور ہوجاتا ہے ہم سے۔ بہت کم ہوتے ہیں جو کسی کی بات کو مثبت لیتے ہیں۔

اپنی سوچ ہم تک پہنچانے کا شُکریہ۔ جیتے رہیں۔
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (10-02-12), rana ammar mazhar (26-02-12), shafirajput (12-03-12), مرزا عامر (10-02-12), معظم (10-02-12), آصف رضا (11-02-12), بزم خیال (10-02-12), حیدر (10-02-12), حیدر Rehan (10-02-12), سحر (10-02-12), عبیدرضا (10-02-12)
پرانا 10-02-12, 12:50 PM   #3
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل میں ہر انسان کی فطرت مختلف ہوتی ہے۔ ہر انسان کی پسند نا پسند ، ترجیحات مختلف ہوتی ہیں ۔ اگر اسلام محض ایک ہی انداز و اطوار پر ہوتا تو بیشتر مسلمان اس میں خؤد کو "ان فٹ " محسوس کرتے ۔ اور ہر وقت راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش میں رہتے۔ لیکن چونکہ اسلام دین فطرت ہے ۔ ۔ ۔ اس لیے اسلام میں ہر انسان کی فطرت سمو دی گئی ہے۔

مختلف مکاتب فکر میں جمع شدہ لوگ درحقیقت اپنی فطرت کے لوگوں کے نزدیک ہوتے ہیں اور اسی میں ان کی تسلی ہوتی ہے۔ ورنہ اگر کسی انسان کو اس کے نا پسندیدہ فرد کے ساتھ وقت گزارنے پر مجبور کر دیا جائے تو وہ باغی ہو جاتا ہے۔ اس کے دل میں نفرتوں کے الاؤ اُبل پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم اگر تبلیغی جماعت والوں کے ہاتھوں مسلمان ہوتا ہے تو کوئی دعوت اسلامی والوں کے ہاتھوں مسلمان ہوتا ہے۔ کسی کو ڈاکٹر اسرار کی بات پسند آتی ہے اور وہ اسلام کی طرف مائل ہوتا ہے تو کسی کو اقوال امام باقر متاثر کر جاتے ہیں اور وہ مسلمان ہو جاتا ہے۔
اس کو اسلام کی وسعت کہتے ہیں ۔
بالکل یہی بات میرے دل میں اس وقت آئی تھی جب میں چہرے کے پردہ پر اختلافات کے موضوع پر علم حاصل کرنے کی کوشش کررہی تھی ۔
میں نے سوچا تھا کہ یہ اختلاف نا ہوتا اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے کے پردے کا حکم دے دیا ہوتا۔
ایسا حکم واضع طور پر ہوتا یا مسلمانوں میں کسی قسم کا اختلاف نا پایا جاتا تو ہماری زندگی کافی مشکل میں آجاتی ۔
اور اس حکم کے نا ماننے پر معافی کا کوئی راستہ نا ہوتا
لیکن اللہ کی رحمت ہے کہ اگر کوئی اتنی مشقت اٹھانے کی کیپبلیٹی نا رکھتا ہو تو اس کے لیے معافی کی گنجائش نکل آئے ۔
اسی طرح باقی معاملات زندگی ہیں جن میں واضع یا ایک حتمی حکم موجود نہیں یا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت اختیار کیا اور مختلف مکاتب فکر نے اپنا طرز عمل اختیار کیا۔
مسلمانوں کے درمیان اختلاف اللہ کی نعمت ہے ۔ یہ بات اگر مسلمانوں کو سمجھ آجائے تو ہمارے کافی مسائل ختم ہوجائیں۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-02-12), shafirajput (12-03-12), معظم (10-02-12), حیدر (10-02-12), رضی (11-02-12), زارا (10-02-12)
پرانا 10-02-12, 01:13 PM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مختلف مکاتب فکر
لڑائی کا گھر
ایکدوسرے پر کفر کے فتوے لگانے کا ٹھیکہ
مسلمانوں کی پسماندگی کا سب سے بڑا سبب
مذہبی مافیا کی اجارہ داری کی بنیاد
مسلمانوں کا مسلمانوں کے گلے کاٹنےے پر جنت کا سرٹیفیکٹ
جس کے باعث مسلمان 1400 سال سے دین کی ایک انٹرپٹیشن پر متفق نا ہوسکے

وقت نہیں ہے ابھی ورنہ اور بھی تعریفیں بیان کرتا
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-02-12), shafirajput (12-03-12), محمد یاسرعلی (10-02-12), مرزا عامر (10-02-12), آصف رضا (11-02-12), اجمل (10-02-12), بزم خیال (10-02-12), حیدر (10-02-12), حیدر Rehan (10-02-12), زارا (10-02-12), عبیدرضا (10-02-12), عبدالقدوس (10-02-12)
پرانا 10-02-12, 01:18 PM   #5
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
مختلف مکاتب فکر
لڑائی کا گھر
ایکدوسرے پر کفر کے فتوے لگانے کا ٹھیکہ
مسلمانوں کی پسماندگی کا سب سے بڑا سبب
مذہبی مافیا کی اجارہ داری کی بنیاد
مسلمانوں کا مسلمانوں کے گلے کاٹنےے پر جنت کا سرٹیفیکٹ
جس کے باعث مسلمان 1400 سال سے دین کی ایک انٹرپٹیشن پر متفق نا ہوسکے
مسلمانوں کے درمیان اختلاف اللہ کی نعمت ہے ۔ یہ بات اگر مسلمانوں کو سمجھ آجائے تو ہمارے کافی مسائل ختم ہوجائیں۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (11-02-12), rana ammar mazhar (26-02-12), فیصل ناصر (10-02-12), آصف رضا (11-02-12), حیدر (10-02-12), رضی (11-02-12)
پرانا 10-02-12, 01:37 PM   #6
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نماز کی ادائیگی گھر میں ہو ، بریلویوں کی مسجد میں یا اہل حدیث کی مسجد میں ( جمعہ کی نماز دو سال سے وہیں ادا کر رہا ہوں ) ، راحت نماز سے محسوس کرتا ہوں ۔ مسلکی مسجد میں پاؤں اس نیت سے اندر رکھتا ہوں کہ اللہ تعالی کے حضور نماز سے خوشنودی پانے کی تڑپ ہوتی ہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہم بریلوی ہیں لیکن ننھیال ددھیال میں دور دور تک کسی کا پیر نہیں ۔ اور نہ کسی کی مریدی میں کو ئی ہے ۔ مگر کچھ عرصہ پہلے ڈاکٹر فرحت ہاشمی کی پیروکار یہ فتوی دے گئیں کہ یہ وہ ہیں جو قبروں کو پوجتے ہیں ۔ بنیادی طور پر یہ ایک مائنڈ سیٹ اپ ہے ۔ جہاں مذہب اللہ تبارک تعالی تک رسائی کے لئے مسلک کی سیڑھی کو لازم گردانتا ہے ۔ آغاز اسلام اور اس کے بعد اشاعت اور ترویج کے ابتدائی دور میں جو اہم جز ہے وہ کردار ہے ۔ گفتار بعد میں آتا ہے ۔ یو ٹیوب بھرا پڑا ہے مخالفانہ تنقیدی مسلکی تقریروں سے ۔ نوجوان نسل کو اچھے مسلمان بننے کی ترغیب دلائی جائے نا کہ اپنے مسلک میں شامل کرنے کے لئے دوسرے پر اعتراضات کی بھرمار کر دی جائے ۔
ایک بے چین اور کرب میں مبتلا گورا نوجوان قرآن کو سمجھنے کے جنون میں کیوں مبتلا ہوا ۔ ایک گھنٹے میں اس نے ایک مسلمان جو نہ ہی توعالم تھا اور نہ ہی مولوی ۔ سے کیا سیکھا کہ وہ چند روز بعد یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ زندگی میں ایسا سکون اسے پہلی بار نصیب ہوا ہے ۔ تفصیل زائد از ضرورت ہو گی یہاں ۔
اللہ تبارک تعالی سے محبت کے لئے کسی مدرسے کی سند کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی سعودی عرب میں ہے وہاں کے حکمران کس مسلک سے ہیں سب جانتے ہیں ۔ مگر وہ صرف اللہ تعالی کا گھر ہے ۔ مگر اپنے اپنے ملکوں میں واپس پہنچتے ہی وہی فرقہ بند مساجد الگ الگ ہو جاتی ہیں ۔
اللہ تعالی ہمیں اچھا اور سچا مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-02-12), shafirajput (12-03-12), skjatala (10-02-12), فیصل ناصر (10-02-12), حیدر (10-02-12), رضی (12-02-12), سحر (10-02-12), عبیدرضا (10-02-12)
پرانا 10-02-12, 02:31 PM   #7
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسلامی محققین اپنی بصیرت کی بنا پر اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ تمام موجودات اپنے خالق سے ایک خاص رابطہ رکھتی ہیں ۔ اگر اس رابطہ کو خالق سے توڑ دیا جائے۔ تو پھر ان موجودات کا وجود ہی فنا کی نذر ہو جائے گا ۔ خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ” اے لوگو تم سب کے سب خدا کے محتاج ہو اور ( صرف ) خدا ہی (تمام لوگوں ) سے بے نیازاور حمد و ثنا کا مستحق ہے “

اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اپنے کو پہچاننا خدا کو پہچاننا ہے کیونکہ حقیقت وجود انسان بھی اس ذات غنی و حمید سے مربوط ہے ۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان اپنے کو پہچانے اور اس حقیقی رابطہ کو فراموش کر دے جو اس کے ا ور رب جلیل کے درمیاں موجود ہے ۔
لہٰذا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ” خدا کو بھولنا خود کو فراموش کرنے کے مترادف ہے“ جیسا کہ قرآن مجید اس چیز کی طرف اس آیہٴ شریفہ میں اشارہ کررہا ہے (اور ان لوگوں جیسے نہ ہوجاؤ جو خدا کو بھلا بیٹھے تو خدا نے انھیں ایسا کردیا کہ وہ اپنے آپ کو بھول گئے۔

انسان کو ان لوگوں جیسا نہیں ہونا چاہئے جنھوں نے خدا کو بھلا دیا کیونکہ قرآن خود ان کو جواب دیتا ہے کہ انھوں نے اپنی ہستی کو بھلا دیا ہے ۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ نمک کھائے اور نمک دان کو بھول جائے ؟!یہ ناشکری کی آخری حد ہے۔خالق و مخلوق کا رابطہ یہ وہ حقیقت ہے جس تک محققین دلیل و برہان کے ذریعہ پہنچے ہیں۔اور عرفاء سیر وسلوک کے ذریعہ کشف و شہود کی منازل کو طے کرنے کے بعد بصیرت کی نگاہوں سے اس رابطہ کا مشاہدہ کیا ہے۔جبکہ بہت سارے عام لوگوں نے بھی فطرت کی طرف رجوع کرکے اس حقیقت کو درک کیا ہے کہ انسانی وجود کا دارو مدار ہر لحاظ سے اسی بے نیازخدا سے رابطہ کے او پر قائم ہے ۔واضح ہے، کہ خدا کی پہچان انسان کے بدن میں ایک جنبہ روحی کی حیثیت سے تجلی اور خودنمائی کرتی ہوئی خدا کے سامنے فروتن و خاضع ہوتی ہے ۔اس لئے کہ تمام کی تمام شریعتیں اور عبادتیں مثلا نماز و روزہ اس لئے ضروری قرار دئے گئے ہیں کہ عقلاء فکر و تدبر سے اور عرفاء کشف و شھود سے اور ایک عام انسان ا پنی فطرت کی طرف رجوع کرکے خدا وند عالم کی بارگاہ میں سر بسجود ہو ۔ اسلام کا مقدس نظام گذشتہ شریعتوں کا خلاصہ ا ور نچوڑ ہے ۔

خود یہ نماز انسان کی حس اولیہ کو جلاء و روشنی بخشتی ہے، ہم اس کا احساس نہیں کرسکتے، کیونکہ نماز ایک عبادت توقیفی ہے۔ لہٰذا اسکی تمام خصوصیات کو خداوند عالم ہی جانتا ہے ۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-02-12), فیصل ناصر (10-02-12), حیدر (10-02-12), سائل (13-03-12), سحر (10-02-12)
پرانا 10-02-12, 03:00 PM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
مختلف مکاتب فکر
لڑائی کا گھر
ایکدوسرے پر کفر کے فتوے لگانے کا ٹھیکہ
مسلمانوں کی پسماندگی کا سب سے بڑا سبب
مذہبی مافیا کی اجارہ داری کی بنیاد
مسلمانوں کا مسلمانوں کے گلے کاٹنےے پر جنت کا سرٹیفیکٹ
جس کے باعث مسلمان 1400 سال سے دین کی ایک انٹرپٹیشن پر متفق نا ہوسکے

وقت نہیں ہے ابھی ورنہ اور بھی تعریفیں بیان کرتا
بڑا مسئلہ پتا ہے کیا ہے؟
کہ اعتراض کرنے والوں کے پاس اعتراض کا وقت تو نکل آتا ہے مگر جواب سُننے کا وقت نہیں ہوتا۔مثلا اب یہی دیکھ لیجیے کہ آپ نے بھی فتاویٰ جڑ تو دئیے ۔ ۔ ۔ لیکن اب ان کے جواب کے لیے آپ کے پاس وقت نہیں۔مکاتب فکر تو بُرے ہی اسی کام کے لیے، لیکن اپنے گریبان میں کون جھانکے۔

کبھی فُرصت ہو آپ کو ایک دو دن کی ۔ ۔ ۔ مکمل تب مجھے کہیے گا۔ تب اس موضوع پر بات کریں گے۔لیکن صرف میں اور آپ۔ اور وہ بھی اوپن فورم میں۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-02-12), shafirajput (12-03-12), skjatala (10-02-12), فیصل ناصر (10-02-12), آصف رضا (11-02-12), احمد نذیر (10-02-12), حیدر Rehan (10-02-12), عبداللہ حیدر (10-02-12)
پرانا 10-02-12, 03:53 PM   #9
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
مسلمانوں کے درمیان اختلاف اللہ کی نعمت ہے ۔ یہ بات اگر مسلمانوں کو سمجھ آجائے تو ہمارے کافی مسائل ختم ہوجائیں۔
ایسی نعمت کہ اگر ایک فرقے کا مولوی نماز جنازہ پڑھا دے تو دو
سرے مسلک کا مولوی نماز جنازہ پڑھنے والوں کا نکاح ہی منسوخ کر دے ۔ اس فرقہ واریت کی نعمت کے بارے میں اللہ تعالٰی کیا فرماتے ہیں

اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔۔۔۔۔۔ سورۃ اٰل عمران 103

بیشک جن لوگوں نے (جدا جدا راہیں نکال کر) اپنے دین کو پارہ پارہ کر دیا اور وہ (مختلف) فرقوں میں بٹ گئے، آپ کسی چیز میں ان کے (تعلق دار اور ذمہ دار) نہیں ہیں، بس ان کا معاملہ اﷲ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں ان کاموں سے آگاہ فرما دے گا جو وہ کیا کرتے تھےo سورہ انعام آیت 159

اسی کی طرف رجوع و اِنابت کا حال رکھو اور اس کا تقوٰی اختیار کرو اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے مت ہو جاؤo ان میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور وہ فرقوں میں بٹ گئے، ہر فرقہ اسی پر اِتراتا ہے جو اس کے پاس ہےo سورۃ روم 31 ، 32

اور انہوں( پچھلی قوموں) نے فرقہ بندی نہیں کی تھی مگر اِس کے بعد جبکہ اُن کے پاس علم آچکا تھا محض آپس کی ضِد کی وجہ سے، اور اگر آپ کے رب کی جانب سے مقررہ مدّت تک کا فرمان پہلے صادر نہ ہوا ہوتا تو اُن کے درمیان فیصلہ کیا جا چکا ہوتا، اور بیشک جو لوگ اُن کے بعد کتاب کے وارث بنائے گئے تھے وہ خود اُس کی نسبت فریب دینے والے شک میں ہیںo سورۃ شوریٰ آیت 14

1 اللہ کی رسی کیا ہے جو اس نے اتاری جسے مضبوط تھامنے کے بعد فرقہ بندی سے نجات مل سکتی ہے ؟؟ قران

2 جو لوگ دین کے مختلف فرقوں میں بٹ گئے اس کی وجہ کیا ہے ۔ اللہ کی طرف سے اتاری گئی کتاب کو ماننا لیکن عمل اپنے پادری کی بات پر کرنا ۔

3 فرقہ بندی کو اللہ نے شرک سے مشابہت دی ہے ۔ اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ہر فرقہ اپنی بات پر اڑا ہوا ہے ۔ باوجود ھدایت آ جانے کے

4 آج ہر فرقے کا ملا اپنی ہٹ دھرمی اور ضد بازی کی وجہ سے قوم کو گروہ در گروہ کر چکا ہے ۔ اس کا نتیجہ بالکل کھلی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے ۔ شدید ذلت اور رسوائی ۔
اور یہ جو اختلاف جیسی نعمت کی وجہ سے ذلت و رسوائی ہمیں نصیب ہوئی ہے اس کی واحد وجہ ہے قران کو ترک کرنا ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (10-02-12), shafirajput (12-03-12), skjatala (10-02-12), فیصل ناصر (10-02-12), محمد یاسرعلی (10-02-12), بلال الراعی (10-02-12), حیدر (11-02-12), شکاری (10-02-12), عبداللہ حیدر (10-02-12)
پرانا 10-02-12, 08:29 PM   #10
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,668
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کافی عرصہ سے میں قلعہ روات کی مسجد میں نماز پڑھ رہا ہوں آج جمعہ کے ٹائم میں بھی سوچ رہا تھا کہ دوستوں سے پوچھوں گا کہ یہ کیا ہے ہر جمعہ میں مولوی صاحب ایک ہی بات کہہ رہے ہوتے ہیں کہ بریلوی یہ کرتے ہیں وہ کرتے ہیں اور تو اور جماعت میں‌ جو آیات پڑھتے ہیں وہ بھی تبدیل نہیں‌کرتے بڑئے مستقل مزاج مولوی صاحب ہیں لیکن ایسا کیوں ہے ۔

ہم کسی بھی فرقے کو برا نہیں کہتے ہاں فرقہ واریت کے خلاف ضرور ہیں ہم کسی بھی مسجد میں نماز پڑھ لیتے ہیں چاہے بریلوی ہوں یا دیوبندی البتہ اھل تشیع اور اھل حدیث کی مساجد میں ایک ایک بار جمعہ پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے باقی نمازیں بہت کم ہی باجماعت پڑھنے ہوتی ہیں ۔
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب
https://www.facebook.com/groups/pak.net

دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (12-03-12), فیصل ناصر (10-02-12), مرزا عامر (12-02-12), حیدر (11-02-12), سحر (10-02-12)
پرانا 10-02-12, 09:11 PM   #11
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
بڑا مسئلہ پتا ہے کیا ہے؟
کہ اعتراض کرنے والوں کے پاس اعتراض کا وقت تو نکل آتا ہے مگر جواب سُننے کا وقت نہیں ہوتا۔مثلا اب یہی دیکھ لیجیے کہ آپ نے بھی فتاویٰ جڑ تو دئیے ۔ ۔ ۔ لیکن اب ان کے جواب کے لیے آپ کے پاس وقت نہیں۔مکاتب فکر تو بُرے ہی اسی کام کے لیے، لیکن اپنے گریبان میں کون جھانکے۔

کبھی فُرصت ہو آپ کو ایک دو دن کی ۔ ۔ ۔ مکمل تب مجھے کہیے گا۔ تب اس موضوع پر بات کریں گے۔لیکن صرف میں اور آپ۔ اور وہ بھی اوپن فورم میں۔
وقت نہیں ہے سے مراد اسوقت وقت نہیں تھا جب مراسلہ لکھا
اور
یہ تھریڈ بھی اپن فورم پر ہی ہے
آپ بسم اللہ کیجئے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (11-02-12)
پرانا 10-02-12, 09:17 PM   #12
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
ایسی نعمت کہ اگر ایک فرقے کا مولوی نماز جنازہ پڑھا دے تو دو
سرے مسلک کا مولوی نماز جنازہ پڑھنے والوں کا نکاح ہی منسوخ کر دے ۔ اس فرقہ واریت کی نعمت کے بارے میں اللہ تعالٰی کیا فرماتے ہیں

اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔۔۔۔۔۔ سورۃ اٰل عمران 103

بیشک جن لوگوں نے (جدا جدا راہیں نکال کر) اپنے دین کو پارہ پارہ کر دیا اور وہ (مختلف) فرقوں میں بٹ گئے، آپ کسی چیز میں ان کے (تعلق دار اور ذمہ دار) نہیں ہیں، بس ان کا معاملہ اﷲ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں ان کاموں سے آگاہ فرما دے گا جو وہ کیا کرتے تھےo سورہ انعام آیت 159

اسی کی طرف رجوع و اِنابت کا حال رکھو اور اس کا تقوٰی اختیار کرو اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے مت ہو جاؤo ان میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور وہ فرقوں میں بٹ گئے، ہر فرقہ اسی پر اِتراتا ہے جو اس کے پاس ہےo سورۃ روم 31 ، 32

اور انہوں( پچھلی قوموں) نے فرقہ بندی نہیں کی تھی مگر اِس کے بعد جبکہ اُن کے پاس علم آچکا تھا محض آپس کی ضِد کی وجہ سے، اور اگر آپ کے رب کی جانب سے مقررہ مدّت تک کا فرمان پہلے صادر نہ ہوا ہوتا تو اُن کے درمیان فیصلہ کیا جا چکا ہوتا، اور بیشک جو لوگ اُن کے بعد کتاب کے وارث بنائے گئے تھے وہ خود اُس کی نسبت فریب دینے والے شک میں ہیںo سورۃ شوریٰ آیت 14

1 اللہ کی رسی کیا ہے جو اس نے اتاری جسے مضبوط تھامنے کے بعد فرقہ بندی سے نجات مل سکتی ہے ؟؟ قران

2 جو لوگ دین کے مختلف فرقوں میں بٹ گئے اس کی وجہ کیا ہے ۔ اللہ کی طرف سے اتاری گئی کتاب کو ماننا لیکن عمل اپنے پادری کی بات پر کرنا ۔

3 فرقہ بندی کو اللہ نے شرک سے مشابہت دی ہے ۔ اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ہر فرقہ اپنی بات پر اڑا ہوا ہے ۔ باوجود ھدایت آ جانے کے

4 آج ہر فرقے کا ملا اپنی ہٹ دھرمی اور ضد بازی کی وجہ سے قوم کو گروہ در گروہ کر چکا ہے ۔ اس کا نتیجہ بالکل کھلی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے ۔ شدید ذلت اور رسوائی ۔
اور یہ جو اختلاف جیسی نعمت کی وجہ سے ذلت و رسوائی ہمیں نصیب ہوئی ہے اس کی واحد وجہ ہے قران کو ترک کرنا ۔
یہاں صرف اتنا کہوں گی مسلمانوں میں اختلاف اورفرقہ بندی میں فرق ہے ۔
جہاں تک حیدر کے مراسلے کو میں سمجھ سکی ہوں ۔ انہوں نے مختلف مکاتب فکر کے درمیان اختلاف پر روشنی ڈالی ہے
اور آپ سب یہاں فرقہ بندی پر بات کررہے ہیں ۔بہتر ہوگا پہلے ان دونوں میں فرق واضع ہوجائے
تو ذیادہ بات سمجھ آئے گی ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
آصف رضا (11-02-12), حیدر (11-02-12), حیدر Rehan (13-02-12), عبیدرضا (10-02-12)
پرانا 10-02-12, 09:20 PM   #13
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
مسلمانوں کے درمیان اختلاف اللہ کی نعمت ہے ۔ یہ بات اگر مسلمانوں کو سمجھ آجائے تو ہمارے کافی مسائل ختم ہوجائیں۔
بہن جی
مسلمانوں کے درمیان اختلاف اللہ کی نعمت ہے
کا کانسپیٹ یہ تھا کے جب اختلاف ہوگا تو فریقین دلائل ، تشریحات اور اجتہاد سے کسی بہر صورت ایک بہتر نتیجے پر پہنچیں گے ۔

یہ نتائج مسلمانوں کے لئے ایک رحمت ہی ہوتے

لیکن یہاں تو اختلاف کی بنیاد پر ایکدوسرے کے خون و ایمان کے پیاسے ہوئے جارہے ہیں
یہ کون سی رحمت ہے ؟

بہن جی یہاں تو اختلاف ہوتا ہے نہیں نکالا جاتا ہے
کیوں ؟
اسلئے کے
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
مذہبی مافیا کی اجارہ داری کی بنیاد
اس کے بغیر ناممکن ہے

Last edited by فیصل ناصر; 10-02-12 at 09:32 PM.
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
محمد یاسرعلی (10-02-12), مرزا عامر (12-02-12), آصف رضا (11-02-12), حیدر (11-02-12), حیدر Rehan (13-02-12), سحر (10-02-12)
پرانا 10-02-12, 09:26 PM   #14
Senior Member
 
معظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: ولایت
مراسلات: 2,539
کمائي: 66,987
شکریہ: 3,000
1,870 مراسلہ میں 4,776 بارشکریہ ادا کیا گیا
معظم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں معظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں معظم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم!

چونکہ تھریڈ میری ایک پوسٹ کے جواب میں لکھا گیا تو اس پر اپنا جواب پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ میری رائے میں ہر انسان کو اپنی پسند نا پسند ، رائے اور ترجیحات کے مطابق کام کرنے کی کھلی آزادی دی گئی ہے ، لیکن یہ آزادی عبادت کے بنیادی اراکین پر نہیں دی سکتی اور اس آزادی کے نتائج ہم آج مختلف تفرقات کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔ جو چیز فرائض میں‌داخل ہو جاتی ہے اس پر اپنی ترجیح کے مطابق عمل نہیں کرنا بلکہ جیسا حکم ملا ہے ویسا کرنا ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب کسی بھی سنن عمل کو فرائض کی فہرست میں لا کھڑا کیا جاتا ہے اور اس پر عمل نا کرنے والے کو کوسا جاتا ہے۔ مثال کے طور سے نماز کے بعد کلمہ کا ورد ایک اچھا عمل ہے، اگر آپ کو پسند ہے یا وقت ہے تو شرکت کریں لیکن اسے اگر نماز کا فرض حصہ بنا دیا جائے اور آپ سے کہا جائے کہ یہ عمل ہو گا تو نماز مکمل ہو گی وگرنہ نہیں ؟
اسی طرح رفع یدین کے بارے جتنا میں جانتا ہوں کہ احسن عمل ہے ، نا کرو تو گناہ نہیں کرنے پر ثواب ہے لیکن کیوں اسے فرض کی سی اہمیت دی جاتی ہے؟
ایسے مقام پر ترجیحات قابل عمل آ سکتی ہیں کیا؟ جب کوئی شے فرض نہیں تو اسے لازمی حصہ قرار دینا کہاں‌کا انصاف؟
__________________
اے اللہ! ان سنگین حالات میں ملکِ پاکستان کی حفاظت فرما۔ آمین ثم آمین
بزنس ایجوکیشن ایک تعلیمی بلاگ ، اب نئے انداز میں - http://bizedu.co.cc
معظم آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے معظم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-02-12), shafirajput (12-03-12), فیصل ناصر (10-02-12), مرزا عامر (12-02-12), ابونعیم (12-02-12), احمد نذیر (12-02-12), حیدر (11-02-12), سحر (10-02-12), عبیدرضا (10-02-12)
پرانا 10-02-12, 10:44 PM   #15
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
مذہبی مافیا کی اجارہ داری کی بنیاد
فیصل بھائی
مذہبی مافیا کو ذرا تفصیل سے بیان کریں گے کہ اس مافیا میں کون کون لوگ شامل ہیں ؟
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-02-12), فیصل ناصر (11-02-12), حیدر (11-02-12), حیدر Rehan (13-02-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:14 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger