| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||||
|
||||||
|
مناظر: 720
|
||||||
| 24 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (10-02-12), rana ammar mazhar (26-02-12), shafirajput (12-03-12), skjatala (10-02-12), ہادی (10-02-12), پاکستانی (10-02-12), منتظمین (12-02-12), محمد یاسرعلی (10-02-12), محمدعدنان (18-02-12), مرزا عامر (10-02-12), معظم (10-02-12), آصف رضا (11-02-12), اجمل (10-02-12), احمد نذیر (10-02-12), بلال الراعی (10-02-12), بزم خیال (10-02-12), حیدر Rehan (10-02-12), رضی (11-02-12), زارا (10-02-12), سائل (13-03-12), سحر (10-02-12), شعبان نظامی (26-02-12), عبیدرضا (10-02-12), عبدالقدوس (10-02-12) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلامُ علیکم!!
بجا فرمایابدربھائی۔ اِنسان کی سوچ، نظریات، پانس نا پسند اورترجیحات سب ایک دُوسرے سے مختلف ہیں لیکن افسوس ہم اپنی سوچ اورنظریات دوسروں اپلائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلاشُبہ مختلف مکاتب فکر میں موجود لوگ اپنی فطرت کے لوگوں کے نزدیک ہوتے ہیں اوراسی میں سکون محسوس کرتے ہں لیکن بعض اوقات اپنی فطرت کے برعکس ہم اپنی باتوں سے، اپنی way of thinking سے دُوسروں کو قائل کرنے کوشش کرتے ہیں جس سے وہ قائل تو نہیں ہوتا باغی ضرور ہوجاتا ہے ہم سے۔ بہت کم ہوتے ہیں جو کسی کی بات کو مثبت لیتے ہیں۔ اپنی سوچ ہم تک پہنچانے کا شُکریہ۔ جیتے رہیں۔
__________________
![]() |
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (10-02-12), rana ammar mazhar (26-02-12), shafirajput (12-03-12), مرزا عامر (10-02-12), معظم (10-02-12), آصف رضا (11-02-12), بزم خیال (10-02-12), حیدر (10-02-12), حیدر Rehan (10-02-12), سحر (10-02-12), عبیدرضا (10-02-12) |
|
|
#3 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بالکل یہی بات میرے دل میں اس وقت آئی تھی جب میں چہرے کے پردہ پر اختلافات کے موضوع پر علم حاصل کرنے کی کوشش کررہی تھی ۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ اختلاف نا ہوتا اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے کے پردے کا حکم دے دیا ہوتا۔ ایسا حکم واضع طور پر ہوتا یا مسلمانوں میں کسی قسم کا اختلاف نا پایا جاتا تو ہماری زندگی کافی مشکل میں آجاتی ۔ اور اس حکم کے نا ماننے پر معافی کا کوئی راستہ نا ہوتا لیکن اللہ کی رحمت ہے کہ اگر کوئی اتنی مشقت اٹھانے کی کیپبلیٹی نا رکھتا ہو تو اس کے لیے معافی کی گنجائش نکل آئے ۔ اسی طرح باقی معاملات زندگی ہیں جن میں واضع یا ایک حتمی حکم موجود نہیں یا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت اختیار کیا اور مختلف مکاتب فکر نے اپنا طرز عمل اختیار کیا۔ مسلمانوں کے درمیان اختلاف اللہ کی نعمت ہے ۔ یہ بات اگر مسلمانوں کو سمجھ آجائے تو ہمارے کافی مسائل ختم ہوجائیں۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (26-02-12), shafirajput (12-03-12), معظم (10-02-12), حیدر (10-02-12), رضی (11-02-12), زارا (10-02-12) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مختلف مکاتب فکر
لڑائی کا گھر ایکدوسرے پر کفر کے فتوے لگانے کا ٹھیکہ مسلمانوں کی پسماندگی کا سب سے بڑا سبب مذہبی مافیا کی اجارہ داری کی بنیاد مسلمانوں کا مسلمانوں کے گلے کاٹنےے پر جنت کا سرٹیفیکٹ جس کے باعث مسلمان 1400 سال سے دین کی ایک انٹرپٹیشن پر متفق نا ہوسکے وقت نہیں ہے ابھی ورنہ اور بھی تعریفیں بیان کرتا
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 12 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (26-02-12), shafirajput (12-03-12), محمد یاسرعلی (10-02-12), مرزا عامر (10-02-12), آصف رضا (11-02-12), اجمل (10-02-12), بزم خیال (10-02-12), حیدر (10-02-12), حیدر Rehan (10-02-12), زارا (10-02-12), عبیدرضا (10-02-12), عبدالقدوس (10-02-12) |
|
|
#5 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (11-02-12), rana ammar mazhar (26-02-12), فیصل ناصر (10-02-12), آصف رضا (11-02-12), حیدر (10-02-12), رضی (11-02-12) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نماز کی ادائیگی گھر میں ہو ، بریلویوں کی مسجد میں یا اہل حدیث کی مسجد میں ( جمعہ کی نماز دو سال سے وہیں ادا کر رہا ہوں ) ، راحت نماز سے محسوس کرتا ہوں ۔ مسلکی مسجد میں پاؤں اس نیت سے اندر رکھتا ہوں کہ اللہ تعالی کے حضور نماز سے خوشنودی پانے کی تڑپ ہوتی ہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہم بریلوی ہیں لیکن ننھیال ددھیال میں دور دور تک کسی کا پیر نہیں ۔ اور نہ کسی کی مریدی میں کو ئی ہے ۔ مگر کچھ عرصہ پہلے ڈاکٹر فرحت ہاشمی کی پیروکار یہ فتوی دے گئیں کہ یہ وہ ہیں جو قبروں کو پوجتے ہیں ۔ بنیادی طور پر یہ ایک مائنڈ سیٹ اپ ہے ۔ جہاں مذہب اللہ تبارک تعالی تک رسائی کے لئے مسلک کی سیڑھی کو لازم گردانتا ہے ۔ آغاز اسلام اور اس کے بعد اشاعت اور ترویج کے ابتدائی دور میں جو اہم جز ہے وہ کردار ہے ۔ گفتار بعد میں آتا ہے ۔ یو ٹیوب بھرا پڑا ہے مخالفانہ تنقیدی مسلکی تقریروں سے ۔ نوجوان نسل کو اچھے مسلمان بننے کی ترغیب دلائی جائے نا کہ اپنے مسلک میں شامل کرنے کے لئے دوسرے پر اعتراضات کی بھرمار کر دی جائے ۔
ایک بے چین اور کرب میں مبتلا گورا نوجوان قرآن کو سمجھنے کے جنون میں کیوں مبتلا ہوا ۔ ایک گھنٹے میں اس نے ایک مسلمان جو نہ ہی توعالم تھا اور نہ ہی مولوی ۔ سے کیا سیکھا کہ وہ چند روز بعد یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ زندگی میں ایسا سکون اسے پہلی بار نصیب ہوا ہے ۔ تفصیل زائد از ضرورت ہو گی یہاں ۔ اللہ تبارک تعالی سے محبت کے لئے کسی مدرسے کی سند کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی سعودی عرب میں ہے وہاں کے حکمران کس مسلک سے ہیں سب جانتے ہیں ۔ مگر وہ صرف اللہ تعالی کا گھر ہے ۔ مگر اپنے اپنے ملکوں میں واپس پہنچتے ہی وہی فرقہ بند مساجد الگ الگ ہو جاتی ہیں ۔ اللہ تعالی ہمیں اچھا اور سچا مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (26-02-12), shafirajput (12-03-12), skjatala (10-02-12), فیصل ناصر (10-02-12), حیدر (10-02-12), رضی (12-02-12), سحر (10-02-12), عبیدرضا (10-02-12) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
اسلامی محققین اپنی بصیرت کی بنا پر اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ تمام موجودات اپنے خالق سے ایک خاص رابطہ رکھتی ہیں ۔ اگر اس رابطہ کو خالق سے توڑ دیا جائے۔ تو پھر ان موجودات کا وجود ہی فنا کی نذر ہو جائے گا ۔ خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ” اے لوگو تم سب کے سب خدا کے محتاج ہو اور ( صرف ) خدا ہی (تمام لوگوں ) سے بے نیازاور حمد و ثنا کا مستحق ہے “
اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اپنے کو پہچاننا خدا کو پہچاننا ہے کیونکہ حقیقت وجود انسان بھی اس ذات غنی و حمید سے مربوط ہے ۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان اپنے کو پہچانے اور اس حقیقی رابطہ کو فراموش کر دے جو اس کے ا ور رب جلیل کے درمیاں موجود ہے ۔ لہٰذا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ” خدا کو بھولنا خود کو فراموش کرنے کے مترادف ہے“ جیسا کہ قرآن مجید اس چیز کی طرف اس آیہٴ شریفہ میں اشارہ کررہا ہے (اور ان لوگوں جیسے نہ ہوجاؤ جو خدا کو بھلا بیٹھے تو خدا نے انھیں ایسا کردیا کہ وہ اپنے آپ کو بھول گئے۔ انسان کو ان لوگوں جیسا نہیں ہونا چاہئے جنھوں نے خدا کو بھلا دیا کیونکہ قرآن خود ان کو جواب دیتا ہے کہ انھوں نے اپنی ہستی کو بھلا دیا ہے ۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ نمک کھائے اور نمک دان کو بھول جائے ؟!یہ ناشکری کی آخری حد ہے۔خالق و مخلوق کا رابطہ یہ وہ حقیقت ہے جس تک محققین دلیل و برہان کے ذریعہ پہنچے ہیں۔اور عرفاء سیر وسلوک کے ذریعہ کشف و شہود کی منازل کو طے کرنے کے بعد بصیرت کی نگاہوں سے اس رابطہ کا مشاہدہ کیا ہے۔جبکہ بہت سارے عام لوگوں نے بھی فطرت کی طرف رجوع کرکے اس حقیقت کو درک کیا ہے کہ انسانی وجود کا دارو مدار ہر لحاظ سے اسی بے نیازخدا سے رابطہ کے او پر قائم ہے ۔واضح ہے، کہ خدا کی پہچان انسان کے بدن میں ایک جنبہ روحی کی حیثیت سے تجلی اور خودنمائی کرتی ہوئی خدا کے سامنے فروتن و خاضع ہوتی ہے ۔اس لئے کہ تمام کی تمام شریعتیں اور عبادتیں مثلا نماز و روزہ اس لئے ضروری قرار دئے گئے ہیں کہ عقلاء فکر و تدبر سے اور عرفاء کشف و شھود سے اور ایک عام انسان ا پنی فطرت کی طرف رجوع کرکے خدا وند عالم کی بارگاہ میں سر بسجود ہو ۔ اسلام کا مقدس نظام گذشتہ شریعتوں کا خلاصہ ا ور نچوڑ ہے ۔ خود یہ نماز انسان کی حس اولیہ کو جلاء و روشنی بخشتی ہے، ہم اس کا احساس نہیں کرسکتے، کیونکہ نماز ایک عبادت توقیفی ہے۔ لہٰذا اسکی تمام خصوصیات کو خداوند عالم ہی جانتا ہے ۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (26-02-12), فیصل ناصر (10-02-12), حیدر (10-02-12), سائل (13-03-12), سحر (10-02-12) |
|
|
#8 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کہ اعتراض کرنے والوں کے پاس اعتراض کا وقت تو نکل آتا ہے مگر جواب سُننے کا وقت نہیں ہوتا۔مثلا اب یہی دیکھ لیجیے کہ آپ نے بھی فتاویٰ جڑ تو دئیے ۔ ۔ ۔ لیکن اب ان کے جواب کے لیے آپ کے پاس وقت نہیں۔مکاتب فکر تو بُرے ہی اسی کام کے لیے، لیکن اپنے گریبان میں کون جھانکے۔ ![]() کبھی فُرصت ہو آپ کو ایک دو دن کی ۔ ۔ ۔ مکمل تب مجھے کہیے گا۔ تب اس موضوع پر بات کریں گے۔لیکن صرف میں اور آپ۔ اور وہ بھی اوپن فورم میں۔
|
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (26-02-12), shafirajput (12-03-12), skjatala (10-02-12), فیصل ناصر (10-02-12), آصف رضا (11-02-12), احمد نذیر (10-02-12), حیدر Rehan (10-02-12), عبداللہ حیدر (10-02-12) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سرے مسلک کا مولوی نماز جنازہ پڑھنے والوں کا نکاح ہی منسوخ کر دے ۔ اس فرقہ واریت کی نعمت کے بارے میں اللہ تعالٰی کیا فرماتے ہیں اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔۔۔۔۔۔ سورۃ اٰل عمران 103 بیشک جن لوگوں نے (جدا جدا راہیں نکال کر) اپنے دین کو پارہ پارہ کر دیا اور وہ (مختلف) فرقوں میں بٹ گئے، آپ کسی چیز میں ان کے (تعلق دار اور ذمہ دار) نہیں ہیں، بس ان کا معاملہ اﷲ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں ان کاموں سے آگاہ فرما دے گا جو وہ کیا کرتے تھےo سورہ انعام آیت 159 اسی کی طرف رجوع و اِنابت کا حال رکھو اور اس کا تقوٰی اختیار کرو اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے مت ہو جاؤo ان میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور وہ فرقوں میں بٹ گئے، ہر فرقہ اسی پر اِتراتا ہے جو اس کے پاس ہےo سورۃ روم 31 ، 32 اور انہوں( پچھلی قوموں) نے فرقہ بندی نہیں کی تھی مگر اِس کے بعد جبکہ اُن کے پاس علم آچکا تھا محض آپس کی ضِد کی وجہ سے، اور اگر آپ کے رب کی جانب سے مقررہ مدّت تک کا فرمان پہلے صادر نہ ہوا ہوتا تو اُن کے درمیان فیصلہ کیا جا چکا ہوتا، اور بیشک جو لوگ اُن کے بعد کتاب کے وارث بنائے گئے تھے وہ خود اُس کی نسبت فریب دینے والے شک میں ہیںo سورۃ شوریٰ آیت 14 1 اللہ کی رسی کیا ہے جو اس نے اتاری جسے مضبوط تھامنے کے بعد فرقہ بندی سے نجات مل سکتی ہے ؟؟ قران 2 جو لوگ دین کے مختلف فرقوں میں بٹ گئے اس کی وجہ کیا ہے ۔ اللہ کی طرف سے اتاری گئی کتاب کو ماننا لیکن عمل اپنے پادری کی بات پر کرنا ۔ 3 فرقہ بندی کو اللہ نے شرک سے مشابہت دی ہے ۔ اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ہر فرقہ اپنی بات پر اڑا ہوا ہے ۔ باوجود ھدایت آ جانے کے 4 آج ہر فرقے کا ملا اپنی ہٹ دھرمی اور ضد بازی کی وجہ سے قوم کو گروہ در گروہ کر چکا ہے ۔ اس کا نتیجہ بالکل کھلی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے ۔ شدید ذلت اور رسوائی ۔ اور یہ جو اختلاف جیسی نعمت کی وجہ سے ذلت و رسوائی ہمیں نصیب ہوئی ہے اس کی واحد وجہ ہے قران کو ترک کرنا ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (10-02-12), shafirajput (12-03-12), skjatala (10-02-12), فیصل ناصر (10-02-12), محمد یاسرعلی (10-02-12), بلال الراعی (10-02-12), حیدر (11-02-12), شکاری (10-02-12), عبداللہ حیدر (10-02-12) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
کافی عرصہ سے میں قلعہ روات کی مسجد میں نماز پڑھ رہا ہوں آج جمعہ کے ٹائم میں بھی سوچ رہا تھا کہ دوستوں سے پوچھوں گا کہ یہ کیا ہے ہر جمعہ میں مولوی صاحب ایک ہی بات کہہ رہے ہوتے ہیں کہ بریلوی یہ کرتے ہیں وہ کرتے ہیں اور تو اور جماعت میں جو آیات پڑھتے ہیں وہ بھی تبدیل نہیںکرتے بڑئے مستقل مزاج مولوی صاحب ہیں لیکن ایسا کیوں ہے ۔
ہم کسی بھی فرقے کو برا نہیں کہتے ہاں فرقہ واریت کے خلاف ضرور ہیں ہم کسی بھی مسجد میں نماز پڑھ لیتے ہیں چاہے بریلوی ہوں یا دیوبندی البتہ اھل تشیع اور اھل حدیث کی مساجد میں ایک ایک بار جمعہ پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے باقی نمازیں بہت کم ہی باجماعت پڑھنے ہوتی ہیں ۔
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب https://www.facebook.com/groups/pak.net دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() اور یہ تھریڈ بھی اپن فورم پر ہی ہے آپ بسم اللہ کیجئے |
|
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (11-02-12) |
|
|
#12 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جہاں تک حیدر کے مراسلے کو میں سمجھ سکی ہوں ۔ انہوں نے مختلف مکاتب فکر کے درمیان اختلاف پر روشنی ڈالی ہے اور آپ سب یہاں فرقہ بندی پر بات کررہے ہیں ۔بہتر ہوگا پہلے ان دونوں میں فرق واضع ہوجائے تو ذیادہ بات سمجھ آئے گی ۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مسلمانوں کے درمیان اختلاف اللہ کی نعمت ہے کا کانسپیٹ یہ تھا کے جب اختلاف ہوگا تو فریقین دلائل ، تشریحات اور اجتہاد سے کسی بہر صورت ایک بہتر نتیجے پر پہنچیں گے ۔ یہ نتائج مسلمانوں کے لئے ایک رحمت ہی ہوتے لیکن یہاں تو اختلاف کی بنیاد پر ایکدوسرے کے خون و ایمان کے پیاسے ہوئے جارہے ہیں یہ کون سی رحمت ہے ؟ بہن جی یہاں تو اختلاف ہوتا ہے نہیں نکالا جاتا ہے کیوں ؟ اسلئے کے اس کے بغیر ناممکن ہے Last edited by فیصل ناصر; 10-02-12 at 09:32 PM. |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | محمد یاسرعلی (10-02-12), مرزا عامر (12-02-12), آصف رضا (11-02-12), حیدر (11-02-12), حیدر Rehan (13-02-12), سحر (10-02-12) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم!
چونکہ تھریڈ میری ایک پوسٹ کے جواب میں لکھا گیا تو اس پر اپنا جواب پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ میری رائے میں ہر انسان کو اپنی پسند نا پسند ، رائے اور ترجیحات کے مطابق کام کرنے کی کھلی آزادی دی گئی ہے ، لیکن یہ آزادی عبادت کے بنیادی اراکین پر نہیں دی سکتی اور اس آزادی کے نتائج ہم آج مختلف تفرقات کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔ جو چیز فرائض میںداخل ہو جاتی ہے اس پر اپنی ترجیح کے مطابق عمل نہیں کرنا بلکہ جیسا حکم ملا ہے ویسا کرنا ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب کسی بھی سنن عمل کو فرائض کی فہرست میں لا کھڑا کیا جاتا ہے اور اس پر عمل نا کرنے والے کو کوسا جاتا ہے۔ مثال کے طور سے نماز کے بعد کلمہ کا ورد ایک اچھا عمل ہے، اگر آپ کو پسند ہے یا وقت ہے تو شرکت کریں لیکن اسے اگر نماز کا فرض حصہ بنا دیا جائے اور آپ سے کہا جائے کہ یہ عمل ہو گا تو نماز مکمل ہو گی وگرنہ نہیں ؟ اسی طرح رفع یدین کے بارے جتنا میں جانتا ہوں کہ احسن عمل ہے ، نا کرو تو گناہ نہیں کرنے پر ثواب ہے لیکن کیوں اسے فرض کی سی اہمیت دی جاتی ہے؟ ایسے مقام پر ترجیحات قابل عمل آ سکتی ہیں کیا؟ جب کوئی شے فرض نہیں تو اسے لازمی حصہ قرار دینا کہاںکا انصاف؟
__________________
اے اللہ! ان سنگین حالات میں ملکِ پاکستان کی حفاظت فرما۔ آمین ثم آمین بزنس ایجوکیشن ایک تعلیمی بلاگ ، اب نئے انداز میں - http://bizedu.co.cc |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے معظم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (26-02-12), shafirajput (12-03-12), فیصل ناصر (10-02-12), مرزا عامر (12-02-12), ابونعیم (12-02-12), احمد نذیر (12-02-12), حیدر (11-02-12), سحر (10-02-12), عبیدرضا (10-02-12) |
|
|
#15 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |